Baaghi TV

Tag: بجلی

  • بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع

    اسلام آباد: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اور درخواست نیپرا میں جمع کروادی جس سے صارفین پر 8 ارب 71 کروڑ روپے کا بوجھ بڑھے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین پر 8 ارب71 کروڑ روپے کے مزید بوجھ ڈالے جانے کی تیاری کرلی گئی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے وصولیوں کے لیے نیپرا میں درخواست کردی، درخواست رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی گئی، پہلی سہہ ماہی کے لیے کیپسٹی چارجز کی مد میں 8 ارب 6 کروڑ، ڈسکوز کی آپریشنز اور مینٹیننس کی مد میں 1 ارب 25 کروڑ روپے جبکہ سسٹم چارجز اور مارکیٹ آپریشنز فیس کی مد میں 1 ارب 65 کروڑ روپے کی درخواست کی گئی ہے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) دستاویز کے مطابق بجلی ترسیلی و تقسیمی نقصانات کی مد میں سوا 2 ارب روپے کی بچت ہوئی، اتھارٹی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر 20 نومبر کو سماعت کرے گی، سماعت کے بعد منظوری کی صورت میں اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔

    مصری فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 پائلٹ جاں بحق

    آئی پی ایل 2025 پلئیرز ڈرافٹ رواں ماہ جدہ میں ہوگا

    امریکی انتخابات: ریما نےاپنا ووٹ کاسٹ کر دیا

  • 2.8کی شرح سے ترقی کریں گے تب بھی بجلی مہنگی ہوگی،وزیرتوانائی

    2.8کی شرح سے ترقی کریں گے تب بھی بجلی مہنگی ہوگی،وزیرتوانائی

    اسلام آباد: وزیرتوانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ 2.8کی شرح سے ترقی کریں گے تب بھی بجلی مہنگی ہوگی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک کی تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر اویس لغاری نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 10 سال تک بجلی کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی اور آئندہ 10 سال میں بجلی کی قیمت مزید ناقابل بردا شت ہوسکتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے مستقبل کے درآمدی بجلی منصوبے کاسا کو مہنگا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دعا کریں افغانستان میں کاسا کا انفرا اسٹرکچر نہ لگ سکے ورنہ کاسا منصوبے کی مہنگی بجلی کی قیمت کون ادا کرے گا؟ ہم آئی پی پیز معاہدوں میں کچھ نہیں کرسکتے تھے مگر آئی پی پیز مالکان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اپنا منافع قربان کیا۔

    کیپٹو پاور پلانٹس کے حوالے سے اویس لغاری کا کہنا تھاکہ کیپٹو پاور پلانٹس کو مرحلہ وار گیس کم کی جائے گی اور آئی ایم ایف شرط کو ذمہ داری سے پوراکیاجائے گا جب کہ سولر نیٹ میٹرنگ کیلئے ریگولیشنز اور پرائسنگ میکینزم تبدیل کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوام نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ پر جا رہے ہیں، ریگولیشنز اور پرائسنگ کو ریشنالائز کیے بغیر سولر سے عوام کو نہیں روک سکتے، مئی جون میں تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اظہار دلچسپی کی درخواستیں آئیں گی۔

  • پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی تیاریاں جاری

    پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی تیاریاں جاری

    پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی تیاریاں جاری ہیں۔

    چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ فائو کے لیے پہلے کنکریٹ پورنگ کا اغاز رواں سال دسمبر میں ہوگا ،تعمیراتی کام کے آغاز سے تکمیل تک 84 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 5 کا سنگ بنیاد گذشتہ سال 14 جولائی 2023 کو رکھا گیا تھا،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک میں 6 ایٹمی بجلی گھروں سے 3530 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت چشمہ اور کراچی میں نیوکلیئر پاور کمپلیکس کام کر رہے ہیں،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 4 یونٹ جبکہ کراچی میں 2 یونٹ کام کر رہے ہیں،کراچی نیوکلیئر پاور پروجیکٹ کے یونٹ کے 2 اور کے 3 سے 2200 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے،چشمہ میں چار یونٹ سے مجموعی طور پر 1330 میگا واٹ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے،چشمہ کے مقام پر سی ون اور سی ٹو یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 650 میگاواٹ ہے،سی 3 اور سی 4 یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 680 میگا واٹ ہے،سی فائیو 1200 میگا واٹ صلاحیت کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر ہوگا،کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے دونوں یونٹ چین کے اے سی پی 1000 ڈیزائن پر مبنی ہیں،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے موجودہ چاروں یونٹ پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہیں،سی فائیو جنریشن تھری کا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہو گا

    ترجمان پی اے ای سی کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن بجلی گھروں کی ری فیولنگ آؤٹیج ملکی افرادی قوت سے کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اپنے نیوکلیئر پاور پلانٹس کی ریفیولنگ آؤٹیج کا کام مقامی افرادی قوت سے کراکے قیمتی زر مبادلہ بھی بچا رہا ہے،پاکستان کے تمام ایٹمی بجلی گھر آئی اے ای کے سیف گارڈز میں ہیں،2023 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے اپنی توانائی کی قومی ضرورت کا 17.2 فیصد ایٹمی پاور پلانٹس سے حاصل کیا،ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو ایٹمی پاور پلانٹس جیسے زیرو ایمیشن والے توانائی ذرائع کی ضرورت ہے۔نیوکلیئر پاور پلانٹس سے بجلی انتہائی کم قیمت یعنی تقریباً 15 روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ جس میں فیول کی لاگت صرف ڈیڑھ روپے قریب ہے۔

    واضح رہے کہ چین اور پاکستان نے چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رکھے ہیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ چشمہ 5نیوکلیئر پاور پلانٹ معاہدہ ایک اور سنگ میل ہے، اس معاہدے سے پاکستان چین معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا۔12 سو میگاواٹ جوہری پاور پلانٹ معاہدہ ایک اور سنگ میل ہے، اس معاہدے سے پاکستان چین معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا، چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ 1200 میگاواٹ صلاحیت کا حامل ہے، منصوبے کی کل لاگت 400 ارب ڈالر ہے، گزشتہ حکومت نے اس منصوبے کو سردخانے میں ڈال دیا تھا۔

    واضح رہے کہ چشمہ 3 کا افتتاح دسمبر 2016 اور چشمہ 4 کا افتتاح ستمبر 2017 میں ہوا تھا۔

    دورے کو زیادہ سے زیادہ سود مند بنائیں گے،سعودی وزیر سرمایہ کاری

    سعودی حکومت کا تعاون تاریخی، ملکی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے: عبدالعلیم خان

    سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری کا پاکستان کے ساتھ 27 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    ایس آئی ایف سی کے تعاون سے سعودی وزارت سرمایہ کاری کے وفد کا تیسرا دورہ پاکستان

    سرمایہ کاروں کے لیے ریڈ کارپٹ بچھائیں گے۔مصدق ملک

    پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کےلیے پرعزم ہیں،سعودی وزیر سرمایہ کاری

    آرمی چیف سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

  • وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،
    وفاقی کابینہ نے پہلے مرحلے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دے دی ،معاہدہ ختم ہونے سے بجلی صارفین کو سالانہ 60 ارب اور ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی،کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی کےلئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ذاتی طور پر بے پناہ کوششیں کیں، اُن کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ میرے لئے تازہ اور نیا تجربہ ہے، میں بہت حوصلہ محسوس کر رہا ہوں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستانی معیشت استحکام کی جانب سے گامزن ہوگئی ہے۔ بیرونی ممالک سے آنیوالی سہ ماہی ترسیلات 8.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جس کیلئے بیرون ممالک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں۔ سعودی عرب پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کر رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے ذریعہ ایسی رفارمز کررہے ہیں جس سے پاکستان سرمایہ کاری کیلئے محفوظ اور سب سے زیادہ منافع بخش سرمایہ کاری کی منزل بنے گا۔

    دیگر آئی پی پیز سے معاہدوں پر بتدریج نظرثانی کر کے بجلی ٹیرف کم کریں گے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریدنے کے معاہدے ختم کر رہے ہیں، بجلی صارفین کو سالانہ 60 ارب اور ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی،5 آئی پی پیز مالکان نے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی، 5 آئی پی پیز نے رضاکارانہ طور پر ان معاہدوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا، ان 5 آئی پی پیز نے عوامی ریلیف کے شروعات میں کلیدی کردار ادا کیا، مجھ سمیت پوری کابینہ ان آئی پی پیز مالکان کے شکر گزار ہیں، دیگر آئی پی پیز سے معاہدوں پر بتدریج نظرثانی کر کے بجلی ٹیرف کم کریں گے، سہ ماہی ترسیلات ریکارڈ رہی ہیں، سہ ماہی ترسیلات میں اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے،عام آدمی نے مہنگائی سمیت بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا، صبر و تحمل سے مشکلات جھیلنے پر عوام کے شکر گزار ہیں، مشکلات ختم نہیں ہوئیں، نہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، ماضی میں سنگدل حکمران نے کہا مہنگائی سے میرا سروکار نہیں،پاکستان آگے بڑھ رہا ہے اور ہمیں یہ سفر تیزی کے ساتھ طے کرنا ہے، 7 ماہ میں جو مسائل اور چیلنجز درپیش تھے بطور ٹیم ان کا سامنا کیا، بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ تک کے گھریلوں صارفین کو ریلیف دیا گیا،ہ پنجاب میں حکومت نے 500 یونٹ تک کے بجلی صارفین کو 2 ماہ تک ریلیف فراہم کیا، حکومت عوام کی مشکلات سے باخبر ہے، نواز شریف نے بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے کوشش کی اور بار بار تلقین کی،اللہ تعالی کے فضل ہے کہ جو مہنگائی 32 فیصد پر تھی وہ آج 6.7 فیصد پر آچکی ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے منشور میں 2025-26 تک مہنگائی کم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسکو ہم نے 2024 میں ہی پورا کردیا ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • وزیراعظم کا بجلی چوری میں ملوث تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم

    وزیراعظم کا بجلی چوری میں ملوث تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی چوری میں ملوث تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں حکومت کی جانب سے ملک کے توانائی شعبے کی اصلاحات کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور خرید کے لیے ایک انڈ پینڈ نٹ ملٹی پلیئر مارکیٹ بنانے کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں کابینہ کمیٹی نے انڈپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کی تشکیل کی اصولی منظوری دے دی، جس کی کابینہ سے توثیق لی جائے گی، آئی ایس ایم او کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے رجسٹر کیا جائے گا۔

    پانچ آئی پی پیز نے معاہدے ختم کرنے کی دستاویزات پر دستخط کردیئے

    آئی ایس ایم او حکومت کے ملک میں بجلی کے واحد خریدار کے کردار کو بتدریج ختم کر کے بجلی کی مارکیٹ کو ملٹی پلیئر انڈپینڈنٹ مارکیٹ میں تبدیل کر دے گا، اس ادارے کے ذریعے پاکستان میں بجلی کی ایک مؤثر اور شفاف مسابقتی مارکیٹ قائم کی جائے گی۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ اس نظام سے بجلی کے صارفین کو تقسیم کار کمپنیوں کے علاوہ دیگر سپلائرز سے بجلی خریدنے کی سہولت فراہم ہو سکے گی، اس ادارے سے کم سے کم لاگت کی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جا سکے گی آئی ایس ایم او کے قیام سے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے اور بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی، آئی ایس ایم او کے بورڈ میں بجلی کے شعبے کے ماہرین کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات نہ کرانے پر سیکریٹری داخلہ اور …

    وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان کے بجلی شعبے کی اصلاحات کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں، بجلی شعبے میں چوری اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے اقدامات تیز اور مؤثر بنائے جائیں، بجلی چوری میں ملوث تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے، بجلی شعبے کی اصلاحات اور چوری کے سدباب کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔

    سینٹرل سلیکشن بورڈ کے اجلاس میں گریڈ 20 اور 21 میں افسران کو ترقی دی جائے گی، تمام سروس گروپس کے افسران کے ڈیٹا طلب کرلیا گیا،اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں کو مراسلہ ارسال کر دیا، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز، این آر او، ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کاروائی کا پوچھا گیا ہے، ترقی کے لیے ٹرینگ کورس کی رپورٹ بھی مانگی گئی ہے۔

    جامعہ کراچی، ڈاکٹر زاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی سند دینے کی منظوری

  • جماعت اسلامی کا 29 ستمبر کو مُلک گیر دھرنے کا اعلان

    جماعت اسلامی کا 29 ستمبر کو مُلک گیر دھرنے کا اعلان

    جماعت اسلامی نے ایک دفعہ پھر 29 ستمبر کو ملک گیر دھرنے دینے کا اعلان کر دیا

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف نااہلی،کرپشن ہے اور بوجھ عوام پر ہے، پاکستانی قوم ناجائز بل ادا نہین کرے گی، چند لوگوں کی لوٹ مار کا عوام نقصان اٹھا رہی ہے، جماعت اسلامی حق دو عوام کو تحریک لے کر چل رہی ہے، آج نئے مرحلے کا اعلان کر رہے ہیں، یہ تحریک عوام کو بنیادی حقوق دلانے کی تحریک ہے، بجلی کے بلوں، گیس کی قیمتوں، پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دلانا ہے، یہ وہ تحریک ہے جو صرف مطالبات نہیں کر رہی ہے، بلکہ حکومت کو قابل عمل تجاویز بھی دیتی ہے، حکومت کے انتظامی اخراجات کم کئے جائیں، شرح سود کو دس فیصد کم اور پھر بتدریج ختم کیا جائے ،یہ وہ فوری اقدامات ہیں جس سے بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی، آئی پی پیز کو ہم سالانہ اربوں ادا کر رہے ہیں، بجلی بنی نہیں پھر بھی قیمت دی جا رہی ہے، تنخواہ دار لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، بڑھا دیا جاتا ہے اور آئی پی پیز والوں کو انکم ٹیکس کی چھوٹ دی جاتی ہے، قوم یہ پیسہ ادا کر رہی ہے، آٹے، دال ،چینی پر ٹیکس لگ گئے، بجلی بلوں پر ٹیکس لگ کر آتے ہیں، ٹی وی ٹیکس، طرح طرح کے ٹیکس لگ جاتے ہیں،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک کسی لیڈر کے مفاد میں نہیں ہے، جماعت اسلامی کو کوئی فائدہ نہیں،ہماری ذات کو فائدہ نہیں، یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا مقدمہ ہے، صحت،تعلیم کی سہولیات نہیں مل رہیں، اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا، ایسی سیاست نہیں کی جا سکتی کہ بس بات چلتی رہے، عملی طور پر ہم میدان میں نکلے، احتجاجی تحریک شروع کی، اسلام آباد گئے، ایک دھرنے کو کئی دھرنوں میں تبدیل کیا، اسلام آباد دھرنے کے بعد معاہدہ ہوا جو قوم کے سامنے ہے، ایک طرف جماعت اسلامی اور دوسری طرف حکومت وقت ہے، حکومت نے 45 دن میں شرطوں کا ماننے کا کہا تھا اور کہا تھا کہ ایک ماہ میں آئی پی پیز کامسئلہ حل کر لیں گے، ہم نے حکومت کو موقع دیا اور عوامی رابطے کو جاری رکھا ہم سات آٹھ جلسے ملک میں کر چکے ہیں اور ایک تاریخی ہڑتال بھی کی، پرامن شٹر ڈاؤن ہڑتال تھی،یہ تحریک آگے جا رہی ہے، ہم نے ممبر شپ شروع کی ہوئی ہے جو جاری ہے، بہت بڑی تعداد میں عوام ممبر شپ حاصل کر رہے ہیں، ممبر شپ کو آگے مشاورت کے بعد بڑھایا جائے گا، آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ تحریک نئے فیز میں داخل ہو رہی ہے، 29 ستمبر کو ملک بھر میں بڑے مظاہرے کریں گے، دھرنے دیئے جائیں گے، یہ دھرنے شاہراہوں پر دیے جائیں گے،ہم حکومت سے کہتے ہیں کوئی ایسی کاروائی کرنے سے گریز کرے جو جمہوری عمل کو سبوتاژ کرے، ہمارا دھرنوں، احتجاج کا اسلسلہ وسعت اختیار کرے گا، 23 اکتوبر سے 27 اکتوبر تک ہم پورے پاکستان کی عوام سے رابطہ کریں گے اور ریفرنڈم کریں گے کہ آنے والے مہینوں میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرنی چاہئے یا نہیں،اس پر لوگوں کی رائے ہر جگہ سے حاصل کریں گے اور عوام کا جب رائے ملے گا تو پھرہم واضح اعلان کریں گے کہ پاکستانی قوم ناجائز بل ادانہیں کرے گی، یہ ناجائز بل ہیں، اسی دوران ہم پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کر سکتے ہیں ملین مارچز کرنے کا آپشن بھی ہے.

    ہم کسی سے "فیض یاب” نہیں ہوئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • کراچی تاجر اتحاد  نے بجلی کی قیمت مٰیں کمی کا فیصلہ خوش آئند  دے دیا

    کراچی تاجر اتحاد نے بجلی کی قیمت مٰیں کمی کا فیصلہ خوش آئند دے دیا

    آل کراچی تاجر اتحاد نے آئی پی پی کی جانب سے بجلی کی قیمت مٰیں کمی کا فیصلہ خوش آئند قراردے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری بیان میں آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے ایشیاء پاک انویسٹمنٹ نے انقلابی قدم اٹھایا ہے، منافع میں کمی کے اعلان سے بجلی کے صارفین کو فائدہ پہنچے گا.پاکستان میں پہلی بار نجی پاور پروڈیوسر نے بجلی کی قیمتوں میں رضاکارانہ کمی اور معاہدے پر نظر ثانی کی پیشکش مستحسن اقدام ہے .کمپنی کے سی ای او شہریار چشتی کی جانب سے صنعتی اور گھریلو صارفین کو سستے داموں بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی حوصلہ افزاء ہے .پاکستان میں پہلی بار کسی نجی پاور پروڈیوسر کا اپنے منافع میں کمی اور معاہدے کو ڈالر سے پاکستانی روپے میں منتقل کرنے کی پیشکش سودمند ثابت ہوگی. انہوں نے کیپسٹی پیمنٹس کا ڈرامہ صریحا فراڈ ہے مکمل تحقیقات کی جائے،لبرٹی پاور کمپنی کے ان اقدامات سے دیگر پاور کمپنیاں بھی تقلید پر آمادہ ہونگی.

    فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    صدر زرداری سے وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ملاقات

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ملک میں پہلی آئی پی پی نے رضاکارانہ طور پر ریٹرن آن ایکیوٹی 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا. کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای او آئی پی پی عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم ریٹرن آن ایکیوٹی کو رضا کارانہ 18 فیصد سے 10 فیصد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ رضاکارانہ فیصلہ اس لیے کر رہے ہیں کہ بجلی فروخت ایسا کاروبار بن گیا ہے کہ جس کی خریداری مشکل ہو رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے نجی بجلی گھر کیلئے ڈالر کے بجائے روپے میں ریٹرن کی پیشکش کی۔ شہریار چشتی نے کہا کہ 2021 میں آئی پی پیز کے ریٹ آف ریٹرن میں 11 فیصد کمی کی گئی تھی اب وقت آگیا ہے کہ دوبارہ ایسا کیا جائے۔ سی ای او آئی پی پی عمران خان نے بتایا کہ حکومت نے آئی پی پیز سے تجاویز مانگی ہیں جبکہ ہم نے اپنی پیشکش حکومت کو بھیج دی ہے۔

    اسکولوں ، مدرسوں میں بچوں کا ریپ ،ملزمان کو کیسے چھوڑ دیا جاتا ؟ سینیٹ میں آواز اٹھ گئی

  • ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات چاہیے، امیر جماعت اسلامی

    ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات چاہیے، امیر جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کو ایک ماہ ہوچکا ہے، وزیر داخلہ نے منصورہ آکر پیش رفت سے آگاہ کرنے کا اعلان کیا ہے،ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات اورعوامی مسائل کا حل چاہیے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم مشاورت کررہے ہیں پہلے ہم نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑ تال کی تھی، اب ہڑتال ایک نہیں بلکہ کئی ہڑتالیں ہوسکتی ہیں اورلانگ مارچ وپہیہ جام ہڑتال کے آپشنز بھی موجود ہیں،آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات اور عوام دشمن و ظالمانہ معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں،شہر کراچی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے،پورا شہر کچرا زدہ بنا ہوا ہے،سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں،پیپلز پارٹی نے تمام اختیارات اپنے پاس مرتکز کئے ہوئے ہیں، بلدیاتی الیکشن میں جماعت اسلامی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی، لیکن پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے الیکشن پر قبضہ کرکے اپنا میئر بنالیا۔2015میں آخری مرتبہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن بھی کورٹ کے کہنے پر ہوئے تھے،کے پی،اسلام آباد، سندھ میں بھی کورٹ کے کہنے پر ہوئے تھے، ابھی اسلام آباد میں بھی حکومت نے ایکٹ کا بہانہ بناکر بلدیاتی الیکشن آگے بڑھادیے،جماعت اسلامی بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار اور بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کے لیے پورے پاکستان کی بنیاد پر عدالتوں سے رجوع کرے گی۔ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم جاری ہے،ہم مزدوروں،نوجوانوں، کسانوں کے پاس جارہے ہیں،جماعت اسلامی کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے، عوامی رائے سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو عوامی ایشوز پر آواز بلند کرتی ہو، پاکستان کے مرد وخواتین بالخصوص نوجوان جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم کا حصہ بنیں۔

    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کشکول لے کر گھومنے والے حکمرانوں میں صلاحیت نہیں کہ وہ دنیا کے سامنے عزت ووقار کے ساتھ پاکستانیوں کا مقدمہ پیش کرسکیں، پاکستان بے شمار وسائل سے مالا مال ہے، لیکن 77سال سے قابض جاگیر داروں، وڈیروں، ڈکٹیٹروں نے پاکستان کو دلدل میں پھنسادیا ہے۔جماعت اسلامی کی حق دو عوام کو تحریک جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ کے فور منصوبہ کو طویل عرصہ گزر گیا ہے کئی وفاقی حکومتیں آئیں اورچلی گئیں،کے فور منصوبہ کسی نے مکمل نہیں کیا، ٹینکرز مافیا اپنی جگہ موجود ہیں،جو پانی میسر ہے اس کی تقسیم کا نظام درست نہیں ہے، بارشوں کے بعد حب ڈیم اوور فلو ہوچکاہے، جو سو ملین گیلن پانی کراچی کو ملتا تھا وہ اب اڑتیس چالیس ملین گیلن بھی نہیں مل پارہا، آبادیوں کی آبادیاں پانی سے محروم ہیں، اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے، یہ دونوں ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔جماعت اسلامی کی بھرپور احتجاجی تحریک کے بعد یونیورسٹی روڈتعمیر ہوئی تھی جسے ریڈ لائن منصوبے کے نام پر توڑ پھوڑ دیاگیا ہے اور مسلسل تاخیر کے بعداب اس پروجیکٹ کی لاگت بڑھتے بڑھتے ڈبل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 66ارب روپے سے کلک کے نام سے پروجیکٹ چل رہے ہیں،جن میں کھلی کرپشن ہورہی ہے اور ساٹھ سے 70فیصد رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے، تین چار ارب روپے سے جو استر کاری کا کام ہوا تھا وہ بارش کے ساتھ ہی بہہ گیا، گرومندر سے مزارقائد جانے والی سڑک کانام ”ایک دن کی سڑک“رکھا جارہا ہے، کیونکہ وہ ایک دن میں بہہ گئی، کوئی بھی کراچی کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، مسترد شدہ پارٹیوں کو کراچی پر مسلط کردیا گیا، ساڑھے پانچ ہزار پولنگ اسٹیشنزمیں سے ایک بھی ایم کیوایم نہیں جیتی لیکن اسے 15قومی اسمبلی کی سیٹیں دے دی گئیں، پیپلز پارٹی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں،تمام اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اگر بلدیاتی اداروں کو نام نہاد کچھ چیزیں منتقل کی بھی ہیں تو اپنا قبضہ سسٹم ٹاؤنز اور بلدیاتی حکومت کے اوپر مسلط کیا ہوا ہے، یوسیز اور ٹاؤنز کے پاس کچھ اختیارات نہیں،پیپلز پارٹی اپنی کراچی دشمن پالیسی جاری رکھے ہوئی ہے، جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اوراحتجاج بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتیں تباہ حال ہیں، صنعتکار کہتے ہیں کہ اتنی مہنگی بجلی کے ساتھ صنعتیں نہیں چل سکتی، کاٹیج انڈسٹری تباہ حال ہے، تاجر الگ پریشان ہیں، رہائشی علاقوں میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے بس میں نہیں کہ بجلی کے بھاری بھاری بلز اداکرسکیں، جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث جب پریشر بنا تو نواز شریف نے اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھاکر پنجاب میں دو مہینے کے لیے بجلی کے بل میں کمی کا اعلان کیا عوام کو یہ خیرات نہیں چاہیے،بلکہ پورے ملک میں بجلی کے ٹیرف میں کمی چاہیے،آئی پی پیز کو ہزاروں ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر دیئے گئے،اس کا حساب کون دے گا؟ن لیگ، پیپلز پارٹی، ق لیگ اور پی ٹی آئی سب نے ان آئی پی پیز کو فیور دیا، کیونکہ آئی پی پیز مالکان کے اہم نام ان پارٹیوں میں شامل ہوتے تھے یا ان کے اسپانسر تھے، جس کے نتیجے میں ان آئی پی پیز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی،اب نکلنے کا راستہ یہی ہے کہ ان کو لگا م دی جائے، جو عوام دشمن اور ظالمانہ معاہدے کئے گئے تھے،ان کے معاہدے کرنے والوں اور کروانے والوں کو سب کو بے نقاب کیا جائے، کسی آئی پی پیز میں ہمت نہیں ہے کہ وہ انٹرنیشنل کورٹ میں جاسکے کیونکہ یہ بے تحاشہ لوٹ مار کرچکی ہیں، اگر لوکل آئی پی پیز کے ساتھ چیزوں کو ایڈریس کرلیا جائے تو ہم چائنہ کے ساتھ بات کرسکتے ہیں ان کو قائل کرسکتے ہے، کیونکہ چائنہ پاکستان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے وہ ضرور تعاون کرے گا۔

    پریس کانفرنس میں امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،ڈپٹی سکریٹری کراچی قاضی صدر الدین، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، پبلک ایڈ کمیٹی کے سکریٹری نجیب ایوبی، نائب صدر عمران شاہدودیگر بھی موجود تھے۔

  • بجلی کی لوڈشیڈنگ، آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا دیا

    بجلی کی لوڈشیڈنگ، آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا دیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا.

    خاتون اول و ممبر قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ملک میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ ایوان میں اٹھادیا، پیپلز پارٹی کی رہنما خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی، آصفہ بھٹو اجلاس کے دوران عوام کی آواز بن گئیں، آصفہ بھٹو نے وقفہ سوالات کے دوران سوال اٹھایا کہ پاکستان کے شہریوں کو طویل گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟ جبکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہے۔اس کے باوجود بھی پاکستان کے شہریوں کو طویل گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟آصفہ بھٹو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی پیداوار پر مکمل وضاحت کی،وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جن ایریاز میں ری کوری 80 فیصد سے زیادہ ہے وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہو رہی ہے شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا،ریکوری کا مسئلہ ہے، ایوان کے توسط سے آگاہی دینی ہو گی، قیمت کی واپسی شہریوں کی ذمہ داری ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط اور آئین کے مطابق آئی پی پی پیز کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے پورے ایوان کی کمیٹی بنائے جائے جو تمام حقائق سامنے لائے اور پوری قوم کو درست حقائق سے آگاہ کرے۔

    حنیف عباسی اپنے ہی وزراء پر قومی اسمبلی میں برس پڑے
    ن لیگی رہنما حنیف عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصدق ملک اور اعظم نذیر تارڑ نے کیا ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ سب وزارتوں کا جواب اُنہوں نے دینا ہے ایسے بہتری نہیں آئے گی۔میں وفاقی وزرا کو دو کو چھوڑ کر سب کو کہتا ہوں کہ وہ ایوان میں آئیں، دس دس وزارتوں کا یہ جواب دے رہے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ ایک بندہ دس وزارتوں کا جواب دے اور پھر کہیں کہ ہمیں کامیابی ہو گی، ایسا ممکن نہیں ہے، جھنگ میں پچاس میگاواٹ کا آئی پی پی کئی برسوں سے بند پڑا ہے لیکن دس کروڑ روپیہ ماہانہ لے رہا ہے۔ یہاں پر 42 آئی پی پیز بند پڑے ہوئے ہیں لیکن انکے ماہانہ پیسے لیے جارہے ہیں،

    جو بل دینے والے ہیں انکی بجلی بھی بند ہو رہی ہے،کیوں؟ مصطفیٰ کمال
    وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سید مصطفی کمال نے باقاعدگی سے بجلی کے بلز ادا کرنے والے صارفین کو درپیش مشکلات سے متعلق آگاہ کیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میرا سوال ہے جس میں بات کلیئر نہیں ہو رہی ،بات لوڈشیڈنگ کی ہو رہی، جہاں سے نقصان ہے، بجلی چوری ہو رہی ،یہ کیا کر رہے ہیں پورا فیڈر بند کر رہے ہیں، اس فیڈر میں جو بل دینے والے ہیں انکی بجلی بھی بند ہو رہی ہے، ایک فیڈر بند کرنے سے بل دینے والوں کی بجلی بھی بند ہو رہی ہے، ایسا کیوں ہو رہا، یہ سسٹم کیوں نہیں بناتے، اس رویئے کی وجہ سے بل دینے والا 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرے گا تو اگلے ماہ وہ بھی بل نہیں دے گا، پی ایم ٹیز کو یہ کیوں بند نہیں کرتے یہ پری پیڈ میٹرز پر کیوں نہیں جاتے، جو بل نہ دے اسکی بجلی بند کریں، بل دینے والے کی بجلی بند نہ کریں ابھی یہ پتہ نہیں چل رہا کہ چور کون ہے، یہ سسٹم کب بحال ہو گا،

    تنقید ضرور لیکن وطن عزیز کے چپے چپے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں.مولانا فضل الرحمان
    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک کیلئے غیر ضروری سمجھنے سے زیادہ بڑی حماقت کوئی نہیں،آج سیاسی لوگوں کی اہمیت ختم کی جا رہی ہے، سیاستدانوں کو بااختیار بناؤ اور معاملات سیاستدانوں کے حوالے کریں،یہ مفاد کی جنگ نہیں، یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ خطہ پاکستان پراکسی وار کا میدان جنگ بنا ہوا ہے، امریکہ چین، سی پیک،گوادر یہ سارے معاملات ہیں کہ ایک سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جن کے ساتھ معاہدے ہیں لیکن ان منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں،بلوچستان میں یہی چاہ رہے ہیں کہ چین نکل جائے، حالات یہاں تک پہنچ چکے،بلوچستان میں ایک ہی دن مسلح افواج اور لوگوں پر حملے ہوئے، بلوچستان کے لوگوں سے بات چیت کریں، ریاست ناکام ہو جاتی ہے تو وہاں ہم جاتے ہیں اور صورتِ حال کو قابو کرتے ہیں، کچھ ایریازمیں پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جا سکتا، سکولوں میں پاکستان کا معاشرتی علوم نہیں پڑھایا جا سکتا، اس نازک صورتحال میں ہمیں اہم فیصلے کرنے ہوں گے، حکومت کو ذمہ داری ادا کرنی چاہئے، ہم تنقید کریں گے لیکن ملک کو اگر ہماری ضرورت پڑتی ہے وطن عزیز کے چپے چپے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں.میں چاہتا ہوں کہ لوگ افواج پاکستان پر اعتبار کریں،مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کو روزگار نہیں دے پارہے ہیں،یہ سب دیکھ کر سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دے دیا ہے،18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے وسائل پر ان کا حق ہے،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی کی وجہ سے حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے،مسلح قوتیں وہاں اسلحے کے ساتھ گاؤں گاؤں پھر رہی ہیں،

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

  • بجلی بلوں پر سبسڈی، آئی ایم ایف کا اعتراض

    بجلی بلوں پر سبسڈی، آئی ایم ایف کا اعتراض

    عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) نے پنجاب حکومت کی بجلی ریلیف پالیسی پر اعتراض اٹھا دیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت بجلی بلوں میں ریلیف 30 ستمبر تک ختم کردے۔

    آئی ایم ایف نے پنجاب حکومت کے بجلی بلوں ریلیف پر اعتراض کیا اور کہا کہ اب کوئی صوبہ بجلی اور گیس پر سبسڈی نہیں دے گا، صوبے ایسی سبسڈی نہیں دے سکتے، آئی ایم ایف کی پالیسیز کو ماننا پڑے گا، آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہدایات کو ماننا پڑے گا، صوبے کوئی ایسی پالیسی نہیں بنا سکتے جو آئی ایم ایف کی قرض پالیسی سے متصادم ہو، آئی ایم ایف نے نئے قرضہ پروگرام کیلیے 3 نئی شرائط عائد کر دیں،ایکسپریس ٹریبون کی خبر کے مطابق پنجاب کی جانب سے دو ماہ کے لیے 45 سے 90 ارب روپے کی بجلی سبسڈی فراہم کرنے کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ،آئی ایم ایف نے 30 ستمبر تک اس عارضی سبسڈی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے دوران ایسی سبسڈی متعارف نہیں کرائے گی۔آئی ایم ایف کی نئی شرائط 500 یونٹس تک ماہانہ استعمال والے صارفین کو سولر پینل فراہم کرنے کے لیے 700 ارب روپے تقسیم کرنے کے پنجاب کے منصوبے کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔آئی ایم ایف نے ایک شرط بھی متعارف کرائی جو صوبائی حکومتوں کو ایسی کوئی پالیسی یا کارروائی متعارف کرانے سے منع کرتی ہے جو 7 بلین ڈالر کے پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کو کمزور یا اس سے متصادم کر سکے، ان کی مالی خودمختاری کو محدود کر سکے،صوبوں نے ستمبر کے آخر تک ایک قومی مالیاتی معاہدے پر دستخط کرنے کا عہد کیا تھا تاکہ فی الحال وفاقی حکومت کی طرف سے سپانسر کیے جانے والے بعض اخراجات کی ملکیت حاصل کی جا سکے،آئی ایم ایف کی ایک اور شرط یہ ہے کہ صوبوں سے ایسے اقدامات میں ترمیم کرنے یا اپنانے سے پہلے وزارت خزانہ سے مشورہ کرنا چاہیے جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ساختی معیارات اور کلیدی اقدامات کو متاثر یا کم کر سکتے ہیں،صوبائی بجٹ پر آئی ایم ایف کی توجہ اور محصولات کے تخمینے اور نقد سرپلسز کے بارے میں اس کے خدشات 7 بلین ڈالر کے پروگرام کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے لیے چیلنج ہیں

    حالات ان دعوؤں کو بھی جھوٹا قرار دیتے ہیں کہ صوبائی حکومتیں بجلی پر سبسڈی دے سکتی ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان کو بھی سوالیہ نشان بناتی ہیں جنہوں نے تینوں دیگر صوبوں کو بھی اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی تھی۔ خراب طرز حکمرانی، زیادہ لائن لاسز، زیادہ ٹیکسز 300 یونٹس سے زائد ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین پر سبسڈی کا بوجھ ڈالنے اور مہنگے سودوں سے بجلی اب رہائشی صارفین کی اکثریت کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔ان عوامل نے رہائشی اور کمرشل صارفین کے لیے قیمتیں 64 سے 76 روپے فی یونٹ تک پہنچا دی ہیں۔ لیکن مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے، وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں دو ماہ کا سبسڈی کا منصوبہ لے کر آئیں۔پنجاب حکومت نے صوبہ اور اسلام آباد میں 201 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اگست اور ستمبر کے بجلی کے بلوں میں 14 روپے فی یونٹ سبسڈی کی منظوری دی۔ صوبائی وزیر خزانہ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ سبسڈی کی اصل لاگت 90 ارب روپے تھی لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ لاگت 45 ارب روپے ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک اور شرط بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا ایکشن متعارف نہیں کرائیں گے جو 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت دیے گئے وعدوں میں سے کسی کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف چلانے کے لیے سمجھا جائے۔صوبائی حکومتوں نے بھی عہد کیا ہے کہ وہ اپنے زرعی انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور سروسز پر سیلز ٹیکس کو بہتر بنائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اب ان وعدوں کو "کمزور نہ کرنے” کے بارے میں نئی ​​شرط کے متعارف ہونے کے بعد، صوبے یکطرفہ اقدامات نہیں کر سکتے۔

    پاکستان کا نیا آئی ایم ایف پروگرام، جو ابھی تک آئی ایم ایف بورڈ سے غیر منظور شدہ ہے، پانچ بجٹ اور پانچ حکومتوں کی پالیسیوں کا احاطہ کرتا ہے،وزارت خزانہ 7 ارب ڈالر کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی تاریخ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس ہفتے کو نئے قرضوں اور رول اوور کی منظوری حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف