Baaghi TV

Tag: بجٹ

  • آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد کیا کریں گے؟ بلاول نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی

    آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد کیا کریں گے؟ بلاول نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی

    آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد کیا کریں گے؟ بلاول نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی
    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تعلیم کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ تعلیم کے فروغ کے لیے پی پی پی حکومتوں نے سب سے زیادہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اور کالجز بنائے ہیں

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ریکارڈ پرائمری اسکول اور غیر رسمی تعلیمی ادارے قائم کرنا بھی پیپلز پارٹی کی حکومتوں کا طرہِ امتیاز ہے تعلیم پیپلز پارٹی کی ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے، کیونکہ وہ اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ مستقبل ہمارے بچوں اور نوجوانوں کا ہے تعلیم کے بغیر ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا پیپلز پارٹی کے ہر حکومتی دور میں تعلیم کی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ملکی تاریخ میں ریکارڈ تعداد میں یونیورسٹیاں اور دیگر ٹیکنیکل تعلیمی ادارے قائم کئے گئے پیشہ ورانہ اور ٹیکنیکل تعلیم بہتر مستقبل کی ضمانت ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ملکی بجٹ میں تعلیم کا حصہ بڑھانا ہوگا عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کا تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی کے 1.5 فیصد تک کم کردینا، افسوسناک صورتحال ہے.

    بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کی بننے والی حکومت تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرے گی تعلیم پر سمجھوتہ کرکے یونیورسٹیوں اور ان سے منسلک اداروں کے بجٹ میں کٹوتی کرنا قوم کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اس طرح کا رویہ ان حالات میں انتہائی عوام دشمن ہے، جب ایک طرف 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں دوسری طرف ملک میں غریب اور مراعات یافتہ طبقے کے بچوں میں معیاری تعلیم تک رسائی میں بہت بڑا تفاوت ہے یہ پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل ہے کہ ہمیں روایتی نصاب اور تدریسی طریق کار سے آگے بڑھنا ہوگا ہمیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی طرف بڑھںا ہو گا، جو بچوں میں تخلیقی اور تنقیدی نظر کو جِلا بخشے ایک ایسا نظام جو بچوں میں مسائل کو حل کرنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے آئںدہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد پی پی پی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریاست اپنی ذمہداری نبھائے وہ ذمہ داری آئین کے عین مطابق، تمام بچوں کو معیاری تعلیم تک یکساں رسائی فراہم کرنے کی ہے پی پی پی کی آنے والی عوامی حکومت تعلیم کی بجٹ میں ابتدائی طور جی ڈی پی کے تناسب سے 3 فیصد اضافہ کرے گی پی پی پی کی آئںدہ حکومت زیادہ سے زیادہ یونیورسٹیاں، کالجز و دیگر ٹیکنیکل تعلیمی ادارے قائم کرنے کا اپنا ریکارڈ برقرار رکھے گی

    ہم وزیراعظم اور وزیراعلی کا استعفی لینے نکلے تھے، اپنے استعفوں کی بات شروع ہوگئی،بلاول

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

    اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

    مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

    پاکستان میں جنگ زدہ افغانستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے، بلاول

    پٹواریوں سے نہ مولانا سے ،حکومت کا مقابلہ صرف جیالوں سے ہے،بلاول

    وہ دن دور نہیں جب نثارکھوڑو اور مرادعلی شاہ کی جگہ خواتین کام کرینگی،بلاول

    بلاول پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ جے یو آئی کی وکٹیں بھی گرانے لگے

    پنجاب کے ہر گھر میں پیپلزپارٹی کا جھنڈا لہرائیں گے ،راجہ پرویز اشرف

    ضروری ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لیکر آئیں،راجہ پرویز اشرف

    بریکنگ،وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل

  • موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول

    موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول

    لاہور : موبائل ایپ سے پنجاب کو 60 ارب سے زائد ریکارڈ ٹیکس وصول ،اطلاعات کے مطابق ٹیکس ادائیگی کی موبائل ایپ پر پنجاب کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، ای پے پنجاب سے ٹرانزیکشنز ایک کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ گئیں۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ای پے سے مجموعی طور پر حکومت پنجاب کو60 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو وصول ہوا ہے۔

    ای پے سے سوا35ارب روپے سیلز ٹیکس اور ساڑھے 10 ارب ٹوکن ٹیکس وصول جبکہ ای پے پنجاب کے سوا8 ارب روپے پراپرٹی ٹیکس اور پونے 3 ارب ٹریفک چالان وصول کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ای پے پی آئی ٹی بی نے محکمہ خزانہ پنجاب کے اشتراک سے وضع کیا۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایپ سے گھر بیٹھے 10محکموں کے21ٹیکسز کی ادائیگی ممکن ہے، ای پے سےعوام کو وقت کی بچت اور ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا گیا ہے اور بحث جاری ہے ، اپوزیشن احتجاج کررہی ہے اور حکومت اس بل کا دفاع کررہی ہے، ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر صرف دو ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    پارلیمانی اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ بجٹ 350 ارب روپے کا نہیں بلکہ 72 ارب روپے کا مجموعی بجٹ ہے، منی بجٹ سےعوام پر مزید صرف 2 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، عام آدمی پر 17 فیصد جی ایس ٹی نہیں لگے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ منی بجٹ کے معاملے پر تمام اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں اور اتحادی ہمیشہ ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

  • گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے
    قومی اسمبلی کا اجلاس ا سپیکراسدقیصر کی زیر صدارت شروع ہو گیا ہے

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس بل پیش کیا، مالیاتی ضمنی بل 2021 ایوان میں پیش کر دیا گیا، سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ ترمیمی بل 2021 بھی پیش کر دیا گیا، بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 145 اور مخالفت میں 3ووٹ آئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنماء پلے کارڈ اٹھائے پارلیمنٹ کے ایوان میں داخل ہوئے اورشوکت ترین کی جانب سے فنانس بل پیش کرنے کے موقع پر احتجاج کرتے رہے ،اپوزیشن نے گونیازی گو کے نعرے لگائے، اپوزیشن نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے،قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو اپوزیشن اراکین نے گھیر لیا اور قوم کا غدار کہا

    اس دوران قومی اسمبلی کا ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا، پی پی رہنما شازیہ مری کو دھکے دیئے گئے،قومی اسمبلی اجلاس میں شگفتہ جمانی اور حکومتی رکن غزالہ سیفی میں ہاتھا پائی ہوئی، شگفتہ جمانی اور غزالہ سیفی میں ہاتھا پائی سپیکر ڈائس کے سامنے وزرا کی چییئرز کے سامنے ہوئی

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ وہ آرڈیننس پیش کیے جارہے ہیں جن کی مدت ختم ہوچکی تھی، اسٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کو دیا جارہا ہے،ملکی معاشی خودمختاری کا سودا کیا جارہا ہے،3سال لوٹ مار نہ کی جاتی تو آج منی بجٹ نہ پیش کرنا پڑتا،میری آواز نہ بند کی جائے، پاکستان کی خودمختاری پر سرنڈر نہ کریں،ہمیں معاشی طور پر غلام بنایا جارہا ہے،میں پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہا ہوں،جو ملک معاشی طور پر غلام ہو جائے وہ کالونی بن جاتا ہے، یہاں پتہ نہیں کون سی حکومت آگئی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایکسپائر آرڈیننس کو ری نیو نہیں کیا جا سکتا، اسٹیٹ بینک کو قرضوں کیلئے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا،آپ نعرے لگاتے تھے کہ ہم دودھ کی ندیاں بہا دیں گے، خیبر پختونخوا کے حلقے گواہی دیتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے 3سال میں صرف ظلم کیا ہے، اتنی مہنگائی میں تنخواہ دار طبقہ کیسے اپنے بچوں کا پیٹ پالے،

    اسد عمر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہفتوں سے اپوزیشن نے طوفان کھڑا کیا ہوا تھا انہیں ووٹ ڈالنے کیلئے صرف 3 ممبر کھڑے ہوئے، اپوزیشن اپنے بندوں کو کرسی پر نہیں کھڑا کرسکتی حکومت کیا گرائے گی،مودی کو اپنے گھر بلوانے والے ہمیں درس دیتے ہیں کورونا کے بعد ایک صاحب سی وی اپ ڈیٹ کر کے بھاگے ہوئے آئے،یہ خود ہی اپنی تعریفیں کرتے ہیں، ہماری تو عالمی فورم تعریف کرتے ہیں ایکسپائرڈ لیڈروں کی تقریر سننا ہم پر لازم نہیں ہے، پچھلے سروے میں 86 فیصد عوام نے کہا وفاقی حکومت نے اچھا کام کیا خیبر پختونخوا میں ہماری 15اور تین جماعتوں کی 9سیٹیں ہیں،

    اسدعمر نے خواجہ آصف کیلئے خواجہ آصف کا ہی جملہ دہرا دیا اور کپا کہ سرنڈر سے متعلق خواجہ آصف کی تقریر پر کہوں گا کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

    پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ترامیم کی جا رہی ہیں اس سے پارلیمنٹ کا تقدس پامال ہو رہا ہے،آئین کے تحت چلیں تو دو تہائی اکثریت درکار ہو گی،آج پارلیمنٹ پر داغ لگایا گیا،قانون سازی 22 کروڑ عوام کیلئے کی جا رہی ہے،خواجہ آصف کے بیان پر کیا جواب دیا گیا، کبھی بھی نہیں چاہتا کہ ہاوس کا ماحول خراب ہو،حکومت کا طریقہ کار ناقابل برداشت ہے،بتایا جائے ملک میں مہنگائی ہے یا نہیں؟ مہنگائی کنٹرول کرنے کا کہیں تو جواب آتا ہے آپ کی وجہ سے ہے،حکومت ہر محاذ پر فیل ہوئی یہ لوگ پاکستان کے عوام کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں، اپوزیشن کو اسپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر مجبور کیا جاتا ہے، یہ سوئے رہتے ہیں، انہیں نہیں پتہ تھا کہ آرڈیننس ایکسپائر ہو گیا،یہ اسپیکر کی کرسی کو استعمال کر رہے ہیں،مجبور کر رہے ہیں کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئے اسپیکر صاحب سے درخواست ہے کہ نیوٹرل رہیں، جے یو آئی رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے خارجہ اور معاشی پالیسی کو تباہ کیا،

    فنانس ترمیمی بل کی کاپی سامنے آئی ہے، زیروریٹڈ انڈسٹری کی 6 آئٹمزپرجی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویزدی گئی ہے،امپورٹڈدودھ، سائیکلوں پردی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینےکی تجویز دی گئی ہے زیروریٹڈ آئٹمزپرٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے ساڑھے 9ارب روپے کا بوجھ پڑے گا،59 امپورٹڈ فوڈآ ئٹمزپردی گئی جی ایس ٹی چھوٹ بھی ختم کرنےکی تجویزدی گئی ہے امپورٹڈ فوڈ آئٹمزپرٹیکس چھوٹ ختم ہونےسے 215ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا بیکری آئٹمز،برانڈڈ فوڈآئٹمزپربھی جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینےکی تجویزدی گئی ہے پاورسیکٹرکیلئےامپورٹڈمشینری پردی گئی چھوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے، امپورٹڈموبائل فونزپر 17 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی تجویزدی گئی ہے ،گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں 100 فیصداضافے کی تجویزدی گئی ہے ،غیرملکی ٹی وی سیریلز اورڈرامہ پرایڈوانس ٹیکس عائدکرنےکی تجویز دی گئی ہے 1000سی سی سے زائدگاڑیوں پرفیڈرل ایکسائزڈیوٹی بڑھانے کی تجویزدی گئی ہے

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے ،اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ ابھی بل سےمتعلق تفصیلات ایوان کو بتا دیں گے،خیبرپختونخوا میں ہونےوالے بلدیاتی انتخابات پر مطمئن نہیں ،حکومت مہنگائی کو کنڑول کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے،حکومت مزید اقدامات بھی اٹھائے گی

    وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا . پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو منی بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو ایوان میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی

    نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندورنی کہانی سامنے آئی ہے ، حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے منی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا، ایم کیو ایم اراکین کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا،منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل کے حوالے سے ممبران کو آگاہ کیا گیا،ممبران کا حق ہے کہ پیش کیے جانے والے بل سے متعلق آگاہ کیا جائےفنانس بل سے متعلق وزیر خزانہ نے ممبران کے سوالات کے جوابات دیئے، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کیا گیا،کابینہ خصوصی اجلاس میں فنانس بل پر تبادلہ خیال ہوا

    تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اجلاس کے لئے پہنچے تو اراکین کے موبائل فونز باہر رکھوا لیے گئے خواتین ارکان کے بیگز بھی باہر رکھوا دیئے گئے

    وزیراعظم عمران خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسمبلی میں شہبازشریف کی تقریر نہیں ہوتی جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے،ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے،حکومت کوئی مشکل میں نہیں،کہا جاتا ہے نواز شریف آج آرہے ہیں کل آرہے ہیں ،نواز شریف جب سعودی عرب گئے تب بھی یہی کہا جاتا تھا،

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں 72بلین ڈالر کا مجموعی بجٹ ہے،عام آدمی پر 2 بلین کا بوجھ پڑے گا،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا ہے ،وفاقی کابینہ نے فنانس ترمیمی بل 2021 کی منظوری دے دی،وزیر خزانہ شوکت ترین نے بل کا مسودہ کابینہ میں پیش کیا،کابینہ منظوری کے بعد منی بجٹ اب قومی اسمبلی میں پیش ہو گا ،وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کابینہ نے فنانس بل کی منظوری دے دی ہے،اب یہ بل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا،

    حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے واسطے 360 ارب روپے کا منی بجٹ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے منظوری کے بعد آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی 12 جنوری سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ میں عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا،عوام پر بہت تھوڑا بوجھ پڑے گا،

    دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا بھی اجلاس ہوا تا ہم اپوزیشن جماعتوں کےمشترکہ اجلاس سےمرکزی قیادت غائب نظر آئی، اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے شرکت نہیں کی آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی اجلاس میں نہیں آئے اپوزیشن جماعتوں کےاجلاس میں صرف 98 اراکین نے شرکت کی پیپلز پارٹی کے 56 میں سے صرف 30 اراکین آئے ,منی بجٹ کوعوام اور پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپنا قراردے کراراکین پارلیمنٹ کا امتحان لینے والے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف خود ایوان میں نہیں آئے،بلاول بھی ایوان میں نہیں آئے،

    سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن بھڑکیں مار رہی ہے اور گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،اپوزیشن کہہ رہی ہے یہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے،اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا،پیپلز پارٹی اور ن لیگ 14 دفعہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکے ہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے آئی ایم ایف کا 82 فیصد قرضہ لیا

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام کی جیبیں کاٹنے والے ظالموں کا بھرپورمقابلہ کرینگے ،منی بجٹ سےمہنگائی میں مزیداضافہ ہوگا،اپوزیشن کے نمبر بالکل پورے ہیں،پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گے ،حکومت کے اتحادیوں کوبھی چاہیے کہ منی بجٹ پرآواز اٹھائیں،عمران خان روز جھوٹ بولتے ہیں، مہنگائی پرعوام کو جواب دیں

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منی بجٹ سے لگنے والے ٹیکسوں سے کاروبار مزید ختم اور معیشت سکڑ جائے گی عمران خان کا منی بجٹ لانے کی وجہ گزشتہ حکومتوں کو قرار دینا دماغی خلل کا نتیجہ ہے، 350 ارب کے ٹیکسوں سے سیکڑوں اشیا مہنگی ہوں گی، ٹیکس سے جو سیکڑوں اشیامہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر پڑے گا حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی تجاویز بھی تشویشناک ہیں یہ بجٹ نہیں لاکھوں افراد کو بےروزگار کرنے کا منصوبہ ہے سیکیورٹی پالیسی پر بغلیں بجانا حکومت کی کوتاہ اندیشی کی مثال ہے،

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت 600 ارب روپے کا منی بجٹ بم گرانے جا رہی ہے، پاکستان آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کیوں چل رہا ہے؟ ایڈجسٹمنٹ اخراجات میں کٹوتیوں اور ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے بے روزگاری اور افراط زر میں اضافہ ہوگا عوام کو آگے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ وہ تبدلی ہے جس کا تباہی سرکار نے وعدہ کیا تھا؟ یہ ملک کو مدینہ کی ریاست نہیں، آئی ایم ایف کی کالونی بنا رہے ہیں، پہلے کہتے تھے آئی ایم ایف نہیں جائیں گے پی ٹی آئی حکومت یو ٹرن لے کر آئی ایم ایف چلی گئی، پھر کہتے تھے منی بجٹ نہیں ہوگا، اب منی بجٹ بم گرا رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی سونامی آئے گی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

    جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

  • افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا

    افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا

    کابل :افغان طالبان نے آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں کے بغیربجٹ تیارکردکھایا،اطلاعات کے مطابق افغآن طالبان کا غیر ملکی امداد کے بغیر قومی بجٹ تیار کرنے کا دعویٰ کرکے دنیا کو حیران کردیا ،ادھرافغان طالبان کی اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی حکمت قراردی جارہی ہے

    اس حوالے سے تازہ خبروں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی غیر ملکی امداد کے مالی سال 2022 کا قومی بجٹ تیار کرکے اس کی حتمی منظوری کے لیے پیش کردیا ہے اوراگلے چند دنوں تک اس بجٹ کو منظور کرکے افغانستان میں ترقیاتی ، صحت وتعلیم اور دیگرمنصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا

    فرانسیسی خبر ررساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق افغان وزارت خزانہ کادعویٰ ہے کہ انہوں نے قومی بجٹ 2022 کا مسودہ دو دہائیوں میں پہلی بار غیر ملکی امداد کے بغیر تیار کرلیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق افغان وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل نے بجٹ کا حجم نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا یہ مسودہ شائع ہونے سے پہلے منظوری کے لیے کابینہ کے پاس جائے گا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان افغان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم اس بجٹ کو اپنی ملکی آمدنی سےتیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد غیر ملکی مالی امداد روک گئی تھی جبکہ مغربی ملکوں نے طالبان کو بیرون ملک موجود اربوں ڈالرز کے اثاثوں تک رسائی فراہم نہیں کی تھی۔یہ بھی یاد رہے کہ 2021 کا بجٹ گزشتہ افغان حکومت نے آئی ایم ایف کی رہنمائی سے تیار کیا تھا۔

  • پنجاب کا سالانہ بجٹ 645ارب روپے کرنے کی منظوری: اگلےسال ترقیاتی کاموں میں100 فیصد اضافے کی توقع

    پنجاب کا سالانہ بجٹ 645ارب روپے کرنے کی منظوری: اگلےسال ترقیاتی کاموں میں100 فیصد اضافے کی توقع

    لاہور:پنجاب کا سالانہ بجٹ 645ارب روپے کرنے کی منظوری،اگلے سال ترقیاتی کاموں میں 100 فیصد اضافے کی توقع ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے کہا ہے کہ صوبے کا سالانہ بجٹ 645ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

     

     

    پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے سالانہ بجٹ میں 560 ارب کے ڈویلپمنٹ فنڈز رکھے گئے تھے جس میں ہم نے 85 ارب کا اضافہ کر کے ڈویلپمنٹ بجٹ کو 645 ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس سال پنجاب میں تاریخ کا سب سےبڑا ترقیاتی بجٹ لگایا جا رہا ہے جو صرف ایک شہر یا ریجن کا نہیں پنجاب کے ہر علاقےکا ترقیاتی بجٹ ہے۔

    عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی پروگرام کا اعزاز تحریک انصاف کی حکومت کو حاصل ہواہے- صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز ہوگی،صحت،تعلیم،انفراسٹرکچراور دیگر شعبوں کے منصوبوں کے لئے مزید فنڈز دستیاب ہوں گے، فلاح عامہ کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کریں گے اور رواں مالی برس عوام کی سہولتوں کی فراہمی کے متعدد منصوبے مکمل ہوں گے۔

  • منی بجٹ یا اصلاحات کی آڑ میں ٹیکسزکا نیا شیڈول:تیاریاں جاری

    منی بجٹ یا اصلاحات کی آڑ میں ٹیکسزکا نیا شیڈول:تیاریاں جاری

    اسلام آباد :منی بجٹ یا اصلاحات کی آڑ میں ٹیکسز کا نیا شیڈول:تیاریاں جاری ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ سے طے کی گئے شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، اس سلسلے میں چند دنوں تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کرسارے معاملات حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں

    اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے چوتھے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس کو بل میں تبدیل کردیا، 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول 6 ختم کر دیا جائے گا.

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے چھٹے شیڈول کے خاتمے سے 350 ارب روپے کی ٹیکس مراعات ختم ہو جائیں گی، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ وصولی کا ہدف 600 ارب روپے سے کم کرکے 356 ارب روپے مقرر کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ترمیمی بل حکومت برآمدات کے علاوہ زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی جن اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ زائد ہے، اس اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس ریٹ 17 فیصد لاگو ہوگا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بڑھانے یا کم کرنے کا اختیار وزیر اعظم کو دینے کی تجویز ہے۔

    رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنےکا تجویز ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط وصولی کیلئے ان اقدامات پر جلد از جلد عمل کرنا ہوگا جبکہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔

    اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ترمیمی بل کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں سارا ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے

     

  • موجودہ بجٹ سرکاری ملازمین کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا ہے. تنخواہیں بڑھائی جائیں. چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب

    موجودہ بجٹ سرکاری ملازمین کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا ہے. تنخواہیں بڑھائی جائیں. چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب

    اوکاڑہ (علی حسین) چیئرمین متحد محاذ استاتذہ پنجاب حافظ عبد الناصر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین، پنشنرزاور خاص طور پر اساتذہ کی تنخواہوںاور پنشنوں میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔ ایڈ ہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہوں کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پی ٹی آئی کی حکومت کی پہلا بجٹ ریلیف کی بجائے تکلیف میں اضافہ کرگیا۔ رہی سہی کسر موجودہ بجٹ میں کسی قسم کا ریلیف نہ دیکر پوری کردی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام سرکاری ملازمین کو یکساں تنخواہیں اور مراعات دی جائیں ۔

  • سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سال 2020-21 کا بجٹ آج پیش کر دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ظاہر ہے اسکے اثرات پاکستان پر بھی ہیں۔ پہلے سے کمزور و ناتواں معاشی حالت کی ابتری میں یقیناً مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں ریاست کے فنڈز میں کمی ہوئی وہیں عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا، بھوک نے ڈیرے ڈالے، سفید پوش طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ ہے جسکے لیے بھوک سے مرنا ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے، ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات نے بے لوث خرچ کر کے ہم وطنوں کی مدد میں انتہا کر دی، وہیں ریاست پاکستان کے احساس پروگرام نے بھی ملک بھر میں حقداروں کو اربوں روپے کی امداد دی۔ ان حالات میں موجودہ بجٹ پیش کیا گیا ہے. جس میں پہلی بار کسی قسم کے نئے ٹیکس کا اضافہ نہیں ہوا ، اوپر بیان کئے گئے حالات کے باوجود ٹیکس کا اضافہ نا ہونا یقیناً قابل تحسین عمل اور عام آدمی کیلئے راحت کا باعث ہوگا۔ اسی طرح اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا جسے میں تو خوش آئند ہی کہوں گا کیونکہ یہ وہ طبقہ جسے بہرحال ہر ماہ ایک لگی بندھی رقم گزر بسر کیلئے مل جاتی ہے گزشتہ تین ماہ لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروباری یعنی دکاندار طبقہ تھا، ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ نا کرنا بھی یقیناً ریاست و عوام کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

    حسب سابق اس بار پھر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دفاعی بجٹ کا تعلیم و صحت سے موازنہ اور تنقید جاری ہے اس پر یہی گزارش کروں گا کہ یہ بارہ اعشاریہ نو تقریباً تیرہ کھرب کا دفاعی بجٹ جو اکہتر کھرب کے کل بجٹ کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے ، دشمن ریاست کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں سات گنا کم ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کے رواں سال بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے سات کھرب زیادہ یعنی اٹھہتر کھرب ہے ۔ یہ اعداد و شمار پبلک ہیں کوئی بھی انہیں چیک کر سکتا ہے، بھارت کی پاکستان دشمنی ساری دنیا کے سامنے ہے وہ شروع دن سے پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے اور حالیہ دنوں بھارتی حکومت تو اکھنڈ بھارت کے نظریے پر کارفرما ہے، چین سے مار کھانے کے باوجود دو دن قبل انہوں نے کراچی کی طرف شرارت کی کوشش کی، بالاکوٹ ائر سٹرائک بھی پرانی بات نہیں، بلوچستان میں جاری شورش بھی آپ جانتے ہیں، جبکہ کشمیر و ایل او سی پر لاک ڈاؤن و جارحیت اور مسلسل شہادتیں جنکی تعداد رواں سال ہی سینکڑوں میں جا چکی ہے ، ایسے سات گنا بڑے ، گھٹیا اور چالاک دشمن کے مقابلے یہ بجٹ محض گزارہ ہی ہے۔

    جہاں تک بات تعلیم و صحت کی ہے تو عرض یہ ہے کہ یقیناً سیکورٹی سٹیٹس میں یہ چیزیں کمپرومائز ہوتی ہیں لیکن یہ دونوں شعبہ جات صوبوں میں بھی بجٹ کا ایک مناسب حصہ رکھتے ہیں جو جاری بحث میں اگنور کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کا بجٹ محض وفاق کے حصے میں آتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کرپشن سے پاک ، مخلص و صالح قیادت عطا کرے جو دشمنوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں بھی کرپشن کا خاتمہ کر ایک فلاحی ریاست کے قیام کا سبب بنے ۔ آمین

  • پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنا پہلا بجٹ ایوان سےمنظور کروایا۔ یہ بجٹ گو کہ مشکل ترین معاشی حالت میں پیش کیا گیا لیکن اس سے عمران خان کے وژن، سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کو سنے اور پڑھے بغیر مسترد کردیا۔ اور مافیا کے ساتھ ملکر مسلسل پروپیگنڈہ اور افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ آج تک نہ تو اپوزیشن مگر نہ ہی کسی مافیا نے وفاقی بجٹ کو پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات پر کہ سادہ لوح عوام جن کی خاطر عمران خان نے اپنی پرکشش اورآرام دہ زندگی کو خیر باد کہہ کر ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی کبھی کبھار ان کی باتوں میں پھسل جاتے ہیں۔ موجودہ بجٹ غریب دوست بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں سب سے زیادہ سہولیات اور مراعات غریب عوام کے لیے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔
    54000 تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں۔
    1 تا 16 سکیل کےوفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ 17 تا 20 سکیل کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ
    انڈسٹری کے فروغ کے لیے 80 بلین مختص تاکہ نوجوانوں کے لیے نوکریاں پیدا ہو۔
    انصاف ہاؤسنگ سیکم
    15 ملین غریب لوگوں کےلئے انصاف صحت کارڈز کا اجراء
    توانائی کے شعبے کے لیے 80 بلین مختص
    معذور افراد کے لیے کنوینس الاونس 1000 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ماہانہ مقرر
    قرآن مجید کی اشاعت کے لیے اعلی کوالٹی کے کاغذات پر ڈیوٹی معاف
    کم از کم ماہانہ تنخواہ 17500مقرر
    قبائلی اضلاع کے لیے 110 بلین مختص
    انسانی تعلیم وترقی کے لیے 58 بلین مختص
    کامیاب جوان پروگرام کے لیے 110 بلین مختص
    46 بلین کراچی کے لیے مختص
    کوئٹہ کی ترقی کے لیے 41 بلین کا پراجیکٹ 30 بلین پانی اور خوبصورتی کے لیے
    عورتوں اور بچیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے 500 کفالت سنٹروں کا قیام
    ہر ماہ 80000 لوگوں کو سود کے بغیر قرضوں کی فراہمی
    راشن کارڈز کے ذریعے 1 ملین لوگوں کو خوراک کی فراہمی
    75 فیصد صارفین بجلی 300 سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان صارفین کے لیے 200 بلین سبسڈی ،
    کیا کبھی ان نکات پر کسی نے بات کی ہے؟ کیا میڈیا نے کبھی ان نکات کے بارے عوام کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے؟ کیا کبھی کسی سماجی تنظیم نے غریب پرور بجٹ پر مباحثہ کا انعقاد کیا ہے؟ افسوس کہ یہاں بغض عمران خان کی وجہ سے اپوزیشن اور مافیا نے اس بجٹ کے غریب دوست نکات پر بات نہیں کی۔ الٹا جھوٹی خبروں، افواہوں، اور پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو حکومت وقت سے متنفر کرنے کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ اسی پروپیگنڈے، جھوٹ اور افواہوں کی پشت پر اپنی کرپشن کو چھپا رہے ہے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی کرپشن کو چھپا نہیں سکتے۔
    موجودہ انتہائی مشکل معاشی حالات میں عوام دوست اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر حماد اظہر کا شکریہ ادا نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔

  • ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی جو خواب وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم کو دکھایا یقیناً ہر محب وطن پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ اسی کو خان صاحب نئے پاکستان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس مستقل مزاجی سے اس نئے پاکستان کی طرف سفر جاری ہے یقیناً عنقریب ہم اپنی منزل کو پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے بہت سے اچھے اقدامات میں سے ایک عوامی رائے کو سننا اور قابل عمل بات کو اختیار کرنا بھی ہے اور یہ ان کی عوامی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی ہے اور ان کے
    مزاج میں رعونت و تکبر کے نہ ہونے کی علامت بھی۔
    گزشتہ دنوں پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اور اس کے بعد نشر کیے جانے والے وزیراعظم کے خطاب پر بہت سے ناقدین اور مبصرین نے تبصرہ کیا۔ مگر اکثر لوگ اس میں منفی نکات ہی ڈھونڈتے رہے۔ تنقید بذات خود بری نہیں ہے کیونکہ اس سے اصلاح کا موقع ملتا ہے مگر تنقید برائے تنقید اور ذاتی ناپسند پر مبنی تنقید سے سوائے وقت اور توانائی کے ضیاع کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم اس فضول بحث میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
    قریباً پون صدی سے اہلیان پاکستان ایسی قیادت کی تلاش میں تھے جو ملک خداداد میں بلاتفریق احتساب اور قانون کی بالادستی قائم کر سکے۔ اور اس عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری بھی رکھ سکے۔ یقینی طور پر جب بات ہو احتساب اور قانونی بالادستی کی تو بہت سے افراد مخالفت پر اتر آتے ہیں اور ان کی مخالفت کو پس انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد پر چلتے رہنے سے ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد جمہوری حکومت ہے جس نے اس اہم ترین امر کو یقینی بنایا۔ ملک کی کئی طاقتور اور با اثر شخصیات جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھ کر مطلق العنانی کے گھمنڈ میں مبتلا تھیں آج احتساب کے شکنجے اور قانون کے کٹہرے میں ہیں۔ ملکی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ اور حکومت کی ملک دوست پالیسیوں کے سبب فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں دونوں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے پر عزم ہیں۔ افواج پاکستان نے شبانہ روز اپنی جان پر کھیل کر اور رگ جاں اس دھرتی پر قربان کرتے ہوئے اس وطن کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا رکھا ہے اور حاکم وقت بھی اپنے عزائم میں مخلص اور ثابت قدم ہے۔ قوم پرامید رہے کہ جلد پاکستان ریاست مدینہ کا عملی نمونہ ہو گا۔ وہ ریاست مدینہ جس کی داغ بیل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اسے دنیا کی طاقتور ترین ریاست بنایا۔