امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعدادمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہوچکی ہے جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چند گھنٹوں کے دوران امریکی فضائیہ کے درجنوں فضائی ایندھن بھرنے والے ٹینکر اور C-5 اور C-17 قسم کے بھاری ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے امریکہ سے اور برطانیہ کے ایک امریکی ایئربیس سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں مختلف ذرائع کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہا ہے اور خطے میں افواج کی منتقلی کی جاری تحریک کو آگے بڑھا رہا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مدا خلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِ عمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل نا قابلِ تصور تھا، اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔
قبل ازیں برطانوی میڈیا کے مطابق امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعداد حالیہ دنوں میں برطانیہ پہنچ گئی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کم از کم دس C-17 گلوب ماسٹر فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو AC-130J گھوسٹ رائیڈر گن شپ طیارے رائل ایئر فورس کے مختلف اڈوں پر تعینات کیے گئے ہیں یہ طیارے بھاری اسلحہ، فوجی ساز وسامان اور دستوں کی منتقلی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ پیش رفت مبینہ طور پر وینزویلا میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکہ نے برطانیہ میں اپنی فوجی فضائی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ آئندہ فوجی کارروائیوں کی تیاری کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں گلوسیسٹرشائر میں رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اور سفوک میں آر اے ایف ملڈن ہال پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں ہوائی اڈے رائل ایئر فورس اور امریکی افواج مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں امریکی فوجی طیاروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مشرقِ وسطیٰ یا دیگر حساس خطوں میں ممکنہ آپریشنز سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی نقل و حرکت پر عمومی طور پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔
ماہرین کے مطابق عالمی حالات کے تناظر میں یہ پیش رفت بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے، تاہم صورتحال کی مکمل نوعیت آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔