Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    ٹوکیو: جاپان میں مبینہ طور پر بدروح سے بھرا ایک بڑا پتھر ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی "دی گارجئین” کے مطابق جاپان میں پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک بڑے پتھر کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے خیال ہے کہ اب اس کے منفی اثرات باہر آچکے ہیں-

    پورے جاپان کے سوشل میڈیا میں لوگ اس پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اب یہ حال ہے کہ اس تمام کہانی پر یقین رکھنے والے بعض افراد اس واقعے سے سخت مضطرب اور خوفزدہ ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جو بھی اس کے پاس گیا وہ یقینی طور پر مرجائے گا۔

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…


    جاپانی دیومالا کے مطابق اس پتھر کا نام ’سیشو سیکائی‘ ہے اور اس میں 9 دموں والی خونخوار طلسمی لومڑی بند ہے یا اس کی روح قید میں ہے۔

    تفصیل کے تحت سال 1107 سے 1123 کے درمیان جاپان پر شہنشاہ ٹوبا کا راج تھا اسے قتل کرنے کے لیے ایک عفریت نے خوبصورت عورت کا روپ دھارا۔ آسیبی جانور لومڑی تھی جس نے حسین عورت کا روپ اختیار کیا اور اس عورت کو ’تمامو نو مائی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بعد 9 دم والی لومڑی اپنا روپ بدلتی ہے پھر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پتھر سے زہریلا مواد نکلتا ہے لیکن درحقیقت یہ علاقہ زیرِ زمین تیزابی چشمے پر مشتمل ہے اور وہیں سے گیس اور تیزاب بہتا رہتا ہے۔

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت


    تاہم یہ عجیب واقعہ ہے کہ اچانک یہ بہت بڑا پتھر ٹوٹا ہے اور دو یکساں حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بدھ مت کے ایک بھکشو نے چندروز قبل اپنے علم کے زور پر اسے توڑا ہے اور پتھر کے ٹکڑے جاپان بھر میں پھیل چکے ہیں بہت سے جاپانی یہ ماننا پسند کرتے ہیں کہ اس کا گھر ماؤنٹ ناسو کی ڈھلوان پر ہے۔

    اس واقعے سے قبل سیاحوں کی بڑی تعداد اس چٹان کو دیکھنے آیا کرتی تھی لیکن پتھر ٹوٹنے کے بعد اب لوگ اس علاقے میں بھی نہیں جارہے کیونکہ ان پر خوف طاری ہے۔ یہ علاقہ ٹوکیو کے قریب واقع ہے جسے ٹوچائگی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی افراد ٹویٹر اور فیس بک پر اس کے طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اور بعض افراد نے کہا ہے کہ سال 2022 بھی کچھ اچھا نہیں گزرے گا۔ دوسرے نے لکھا کہ ایک خونخوار بدروح اب جاپان میں آزاد ہوچکی ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    "مجھے لگتا ہے کہ میں نے کچھ دیکھا ہے جو نہیں دیکھا جانا چاہئے،” ایک ٹویٹر صارف نے ایک پوسٹ میں کہا جس نے تقریبا 170,000 لائکس کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    جب کہ دوسروں نے قیاس کیا کہ ’تمامو نو مائی‘ کی شیطانی روح تقریباً ایک ہزار سال بعد دوبارہ زندہ ہوئی تھی، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے چٹان میں دراڑیں نمودار ہوئی تھیں، ممکنہ طور پر بارش کا پانی اندر داخل ہونے کی وجہ سے اس کی ساخت کمزور ہو گئی تھی-

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

  • جنسی زیادتی کا معاملہ، برطانوی شہزادہ اینڈریونے تصفیے کی رقم ادا کردی

    جنسی زیادتی کا معاملہ، برطانوی شہزادہ اینڈریونے تصفیے کی رقم ادا کردی

    برطانوی شہزادہ اینڈریونے زیادتی کا الزام عائد کرنے والی خاتون ورجینیا جوفرے کو تصفیے کی رقم ادا کردی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا نے برطانوی شہزادے اینڈریو کی وکیل کے حوالے سے بتایا کہ شہزادے نے زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون ورجینیا جوفرے کوتصفیے کی رقم ادا کردی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رقم کی ادائیگی کے بعد ورجینیا جوفرے نے 62 سالہ شہزادہ اینڈریو کے خلاف امریکی عدالت میں دائرکیا گیا کیس واپس لے لیا ہے شہزادہ اینڈریو کی وکیل نے تصفیے میں ادا کی گئی رقم کی تفصیل نہیں بتائی۔

    واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو پرامریکی خاتون ورجینیا جوفرے نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے امریکا میں اس وقت انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ نابالغ تھیں۔ورجینیا جوفرے نے شہزادہ اینڈریو پرامریکی عدالت میں جنسی زیادتی کا مقدمہ دائرکیا تھا۔

    شہزادہ اینڈریونے ورجینیا جوفرے کوعدالت سے باہرتصفیے ایک کروڑ برطانوی پاؤنڈ میں (تقریباً 2 ارب40 کروڑ روپے) پرراضی ہونے کی صورت میں بھاری رقم ادا کرنے کی پیشکش کی تھی جو ورجینیا جوفرے نے قبول کرلی تھی۔

    ایک بیان میں برطانوی شہزادہ اینڈریو نے بچوں کو جنسی استحصال کے لیے غلام بنانے اور ان کی اسمگلنگ میں ملوث ارب پتی امریکی جیفری اپیسٹین کے ساتھ تعلق پر پچھتاوے کا اظہار کیا تھا-

    سلمان خان کا مدر ٹریسا کو شاندار خراج تحسین

    برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ اینڈریو پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے تصفیےکے لیے شدید دباؤ تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ معاملہ عدالت میں نہ جائے۔

    اپنے بیان میں اینڈریو نے تسلیم کیا تھا کہ متاثرہ خاتون ورجینیا جیوفری کے ساتھ زیادتی ہوئی اور انہیں غیر منصفانہ طور پر عوامی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا وہ ورجینیا جیوفری اور دیگر بچ جانے والی خواتین کی بہادری کو سراہتے ہیں۔

    خیال رہےکہ ارب پتی امریکی جیفری اپیسٹین کو 2019 میں امریکی پولیس نے درجنوں خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے، بلیک میل کرنے اور جنسی غلام بنانےکے الزام پر گرفتار کیا تھا، جیفری اپیسٹین نے مقدمے کے دوران ہی جیل میں خودکشی کرلی تھی جس کے بعد مقدمہ بھی ختم کردیا گیا تھا۔

    بعد ازاں اس اسکینڈل میں شہزادہ اینڈریو کا بھی نام سامنے آیا تھا اور ان پر ورجینیاجیوفری نامی امریکی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ اینڈریو نے 2001 میں جیفری ایپسٹین کے گھرپر انہیں کمسنی میں جنسی حملے کانشانہ بنایا تھا۔

    گذشتہ ماہ امریکی عدالت نے 61 سالہ اینڈریو کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ خارج کرنےکی درخواست کو ہر لحاظ سے مسترد کردیا تھا جس کے بعد ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم نے شہزادہ اینڈریو سے تمام فوجی اعزازات اور شاہی مراعات اور سرپرستی واپس لے لی تھی اور انہیں مقدمےکا سامنا ایک عام شہری کی طرح کرنا تھا۔

    اس سے قبل شہزادہ اینڈریو ورجینیاجیوفری کی جانب سے خود پر لگائےگئے الزامات مستردکرتے رہے ہیں۔

    پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

  • ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    نیویارک :ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین-روس جنگ پر اقوام متحدہ سلامتی کونس کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا، "ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے ایک محفوظ راہداری نہیں مل سکی ہے۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کو راضی کرنے کی بہترین کوششوں کے باوجود سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں بنائی جاسکی۔

    یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ترومورتی نے کہا کہ ہندوستان نے یوکرین سے تمام بے گناہ شہریوں اور اپنے شہریوں کے لیے محفوظ اور بلاتعطل راستے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں دی گئی ہے۔ سفیر نے کہاکہ "ہم نے یوکرین سے 20,000 سے زیادہ ہندوستانیوں کی بحفاظت واپسی کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے دوسرے ممالک کے شہریوں کو جنگ زدہ ملک سے انخلاء میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے یوکرین اور اس کے پڑوسی ممالک کو انسانی امداد بھیجی ہے اور ان میں ادویات، خیمے، پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک، دیگر امدادی سامان شامل ہیں۔

  • امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

    روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

    منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

    روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

    ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

    روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت بھی،خطرناک حقائق

    برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت بھی،خطرناک حقائق

    لندن(امین طاہرسے)برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاک فوج کے خلاف سازش میں مصروف:پراپیگنڈہ بھی اورنفرت بھی،خطرناک حقائق،اطلاعات کے مطابق کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں‌ جن سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ برطانوی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کےخلاف ایک باقاعدہ مہم چلارہی ہیں ، یہ مہم برطانوی سیکورٹی اداروں اور دیگرہم نواوں کے ذریعے جاری ہے

    ذرائع کےمطابق برطانوی خفیہ ایجنسی کے ایما پردیگرمعاون سیکورٹی ادارے برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کو پاک افواج کے خلاف اکسا رہے ہیں ، اس حوالے سےبرطانوی کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ، جو کہ یو کے پولیس فورسز اور سیکیورٹی سروسز کے تعاون سے کام کرتی ہے،نے ان چند پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاک فوج کی انٹیلی ایجنسی تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہے،

    اس حوالے سے پاکستان کے خلاف نفرت اور پراپیگنڈہ کرنے والے ایک شخص نے برطانوی سیکورٹی اداروں کے بیانیئے کو بیان کرتے ہوئے کہا پاکستان اس سلسلے میں کچھ جرائم پیشہ افراد کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کرسکتا ہے ، یہ کہانی اس وقت سامنے آئی جب برطانوی عدالت میں پاکستان مخالف بلاگر کے حوالےسے کچھ ایسا ہی ایک کیس چل رہاہے

    برطانوی عدالت میں یہ مقدمہ اس وقت چل رہا ہے کہ محمد گوہر خان کو گزشتہ سال ہالینڈ میں ایک مخالف بلاگر اور پاکستانی انٹیلی جنس سروسز کے شدید ناقد احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کے لیے £100,000 کی پیشکش کی گئی۔

    برطانوی سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک مڈل مین جسے "مزمل” کے نام سے جانا جاتا ہے – ابھی تک فرار ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے کل تصدیق کی ہے کہ وہ اب بھی اس کی شناخت اور ٹھکانا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں کسی شخص کا چُھپنا ناممکن ہے اور اگر ایسا کوئی ادمی ہے تو پھراسے اسی وقت عدالت میں پیش کیوں نہ کردیا گیا ، اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ "مزمل "نامی شخص بھی ایک برطانوی مہرہ لگتا ہے

    افسران نے عوام سے مزمل کے بارے میں معلومات کے لیے ایک درخواست بھی جاری کی ہے، جو برطانوی لہجے میں بات کرتا ہے اور مقدمے کے دوران سننے والے ایک صوتی پیغام کے دوران، خان کو بتایا کہ گورایا کو قتل کرنے کے بعد برطانیہ اور یورپ میں مستقبل کی "نوکریاں” ملیں گی۔

    اس کے ساتھ ساتھ راشد مراد جو کہ برطانیہ میں مقیم ہیں انکو بھی برطانوی سیکورٹی اداروں نے یہ کہا ہےکہ اپ کی جان کو پاکستانی خفیہ ایجنسی سے خطرہ ہوسکتا ہے ، پولیس نے پہلے ہی اس کے گھر پر گھبراہٹ کا الارم اور سی سی ٹی وی نصب کر رکھا ہے

    مراد کے بقول اسے کہا گیاکہ کچھ پاکستانی آپ کو نقصان پہنچانا چاہتےہیں ،مراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ آخر کیوں ، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مجھے کیا پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے

    برطانوی خفیہ اداروں نے وکیل فضل خان سے بھی کہا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ ان افسران نے کریمہ بلوچ جیسے پاکستانی منحرف افراد کی پراسرار موت پر بات کی تھی، جنہوں نے ایک آزاد بلوچستان کے لیے مہم چلائی تھی

    فضل خان جو کہ پاک فوج کےخلاف مہرہ بنے ہوئے ہیں اور برطانوی عدالتوں کے ذریعے بدنام کرنا چاہتے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے بھی مجھے دھمکیاں دی گئیں‌

    لندن میں پاکستان اور پاکستان کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والی عائشہ صدیقہ کو بھی اسی برطانوی خصوصی گروہ نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستانی ادارے کچھ برطانوی شہریوں کو آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی

    اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو بدنام کرنے کےلیے ایک اور خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں یورپ کے ملکوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے پاکستان پر دباو بڑھایا جائے گا اور پاک فوج کے خلاف مہم چلائے جائی گی جس کا مرکزی موضوع یورپ ، برطانیہ اور دیگر ملکوں میں موجود پاکستانیوں کو پاکستان کے سیکورٹی اداروں سے خطرہ ہے

    ایسے کئی افراد اور بھی ہیں جو برطانیہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہراگلتے ہیں اور پھربرطانوی ان کو پاکستان کے خلاف بھی اکساتے ہیں کہ آپ کو پاکستان سے خطرہ ہے ، ان میں‌زر علی خان آفریدی، جو اغوا کی کوشش کے بعد ہالینڈ فرار ہو گئے فرانس میں صحافی یونس خان کو بھی یہ بیانیہ دیا گیا کہ پاکستانی ادارے تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں‌

    جہاں تک تعلق ہے کہ برطانیہ میں پاکستان سے بھاگے ہوئے افراد کی زندگیوں کو خطرات کا تو یہ سراسر جھوٹ اور الزام ہے، برطانیہ جہاں سیخت سیکورٹی انتظامات ہیں‌اور ان پاکستان مخلالفین کو برطانوی سیکورٹی اداروں کی طرف سے سیکورٹی دی جاتی ہے کیسے ممکن ہےکہ پاکستان سے جا کر کوئی انکو نقصان پہنچا سکے ،

    ان حقائق سے یہ پتہ چلتا ہےکہ برطانیہ اس وقت ہر اس شخص کو قوت بخش رہا ہے جو پاکستان کے خلاف برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور دیگر کئی ملکوں‌کے مشترکہ انٹیلیجنس ونگ کےلیے استعمال ہورہے ہیں ، اس کی واضح مثال پاکستان میں سیکڑوں افراد کے قاتل الطاف حسین کو برطانوی عدالت کی طرف سے معصوم عن الخطا قرار دیا گیا ایسے ہی نوازشریف اور کئی ایسے سیاسی رہنما جو پاکستان کے خلاف نفرت اور سازشوں میں مصروف ہیں بہت جلد ان کو بھی برطانوی عدالتیں‌ معصوم عن الخطا قرار دے کر پاکستان کے خلاف درپردہ مہم کوتقویت دینے کی کوشش کرے گا

    اس سلسلے میں سب سے اہم اور معتبر بات یہ ہے کہ برطانیہ جہاں سوشل میڈیا پالیسی بڑی سخت ہے کوئی بھی شخص برطانیہ ، امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور دیگر برطانوی اتحادیوں کے خلاف پوسٹ نہیں کرسکتا ، کمنٹس نہیں کرسکتا ، پھر وہاں پاکستان کے خلاف بڑے بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک کام کررہے ہیں تو پھر ایسے کیوں ہے، جہاں کوئی چڑیا پرنہیں مارسکتی وہاں پاکستان کے خلاف باقاعدہ ایک جنگ لڑی جارہی ہے، یہ ساری آزادیاں پاکستان کے خلاف کیوں ؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں‌
    ۔

  • برطانیہ میں طوفان:نظام زندگی درہم برہم،ٹرینیں معطل،ہزاروں پروازیں منسوخ

    برطانیہ میں طوفان:نظام زندگی درہم برہم،ٹرینیں معطل،ہزاروں پروازیں منسوخ

    لندن: برطانیہ میں آنے والے طوفان سے نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں اور ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق تین دہائیوں میں آنے والا خطرناک ترین سمندری طوفان یونس برطانیہ کے ساحلی علاقے کارن وال سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں3 افراد ہلاک ہوگئے طوفانی ہواؤں کے باعث مختلف مقامات پردرخت اوردیواریں گرنے کے واقعات ہوئے جن میں 3 افراد ہلاک ہوگئے۔


    196 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ہیں اور نظام زندگی تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے لوگ گھروں میں محصورہوگئے اورسینکڑوں صارفین کوبجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی لندن کے مشہوراو ارینا کی چھت کا ایک حصہ بھی تیز ہواؤں کے باعث اڑگیا۔

    طوفانی ہواؤں سے عمارتوں، مکانوں اورگاڑیوں کوبھی نقصان پہنچا۔سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں اورکئی سڑکوں کوبھی ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا۔ طوفان کے باعث متعدد علاقوں میں ٹرین سروس بھی معطل رہی۔کارن وال،سمرسٹ، برسٹل اورڈیون میں اسکولز بند کردئیے گئے۔

    حکومت نے صورتحال کے پیش نظر فوج کو ریسکیو آپریشن کے لیے اسٹینڈ بائی رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے اجتناب برتیں۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ طوفان سے زیادہ متاثر ہونے والے ویلز میں تقریباً ایک لاکھ افراد بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ویلز کی تمام ٹرینیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے طوفان کے بعد انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کیلئےسیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔ شمالی انگلینڈ میں برفباری کی یلو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لئے فوج کوتیاررہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • برطانیہ میں پناہ لینےوالےافغان شہریوں کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کا خدشہ

    برطانیہ میں پناہ لینےوالےافغان شہریوں کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کا خدشہ

    لندن: برطانیہ میں پناہ لینے والے افغان شہریوں کو غیر قانونی قرار دیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب نیوز مطابق کابل سے نکالے گئے برطانیہ میں پناہ لینے والے افغان شہریوں کو خدشہ ہے کہ جلد ہی ان کے ساتھ غیر قانونی تارکین وطن جیسا سلوک کیا جائے گا کیونکہ انہیں اپ ڈیٹ شدہ کاغذات نہیں ملے ہیں-

    افغان شہریوں کے وکلا نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ قانونی طور پر کام کرنے اور کرائے پر گھر لینے کے لیے کتنے لاپتہ دستاویزات کی ضرورت ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق بی بی سی نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ عارضی ویزوں کی معیاد چند دنوں میں ختم ہونے والی ہے، جس سے پناہ گزینوں کو ممکنہ طور پر خطرہ لاحق ہو جائے گا، لیکن ہوم آفس نے کہا ہے کہ وکلاء کی انتباہات "بے ضرورت خوفزدہ کرنے والی” ہیں۔

    برطانیہ میں پناہ لینےوالے افغان شہریوں کےلیے جاری کردہ عارضی ویزوں کی مدت آئندہ چند دنوں میں ختم ہو جائے گی برطانوی اور نیٹو کی دیگر مسلح افواج نے گزشتہ سال کابل سے تقریباً 15,000 افغانوں کو نکالا افغانستان سے برطانیہ اور نیٹو نے افغان شہریوں کو طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد نکالا تھا اور انہیں چھ ماہ کے ویزے جاری کیے تھے اس وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان لوگوں کو مستقل رہائش اختیار کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا جائے گا جو تاحال نہیں دیا گیا ہے-

    لاء سوسائٹی، جو وکیلوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے کہا کہ برطانیہ بھر کی فرموں کو اب ایسے لوگوں سے مدد کے لیے کال موصول ہو رہی ہیں جن کی عارضی قانونی حیثیت آنے والے ہفتے میں ختم ہو رہی ہے یعنی ان کے پاس یہ ثابت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ ملک میں قانونی طور پر ہیں۔

    افغان شہریوں کے مطابق درکار کاغذات کے بنا نہ وہ قانونی طور پرکام کرنے کے مجاز ہیں، نہ کرائے پہ گھرلے سکتے ہیں، نہ بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں صحت کی دستیاب سہولتیں مل سکتی ہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے شہری متاثر ہوئے ہیں، اور وزراء نے پارلیمنٹ میں یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ اب تک کتنے افغانوں کو مستقل حیثیت جاری کی گئی ہے۔

    افغانستان:کنویں میں تین روز سے پھنسا بچہ جاں بحق

    "برطانیہ کا ‘پرتپاک استقبال’ بے معنی ہے اگر حکومت ٹھوس یقین دہانیاں فراہم نہیں کرتی ہے جس سے ہزاروں لوگوں کے خوف کو دور کیا جاسکتا ہے اور انہیں قانونی یقین دہانی کی ضرورت ہے”۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق لا سوسائٹی کی صدر سٹیفنی بوئس کا کہنا ہے کہ ہوم آفس کو فوری طور پر ان لوگوں کو کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور رہائش کے لیے ثبوت مہیا کرنے چاہئیں۔

    ہوم آفس نے کہا کہ افغانوں کو زبانی یقین دہانی ملی ہے کہ ان کی کاغذی کارروائی آخرکار آ جائے گی ہوم آفس کے ترجمان نے کہا، یہاں آباد ہونے والے افغان شہریوں کو پہلے سے ہی کام کرنے، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اور عوامی فنڈز کے لیے درخواست دینے کا حق حاصل ہے اس لیے یہ بتانا کہ انہیں اپنے حقوق سے محروم ہونے کا خطرہ ہے، بالکل غلط ہے۔

    امریکا میں ہزاروں لگژری گاڑیوں سے لدے کارگو بحری جہاز میں آتشزدگی

  • برطانوی حکومت نے افغانستان سے متعلق خطرناک بات کہہ دی

    برطانوی حکومت نے افغانستان سے متعلق خطرناک بات کہہ دی

    لندن:برطانوی حکومت نے افغانستان سے متعلق خطرناک بات کہہ دی ،اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود ان کے شہریوں کو طالبان نے حراست میں لے لیا ہے جن میں زیادہ تر صحافی اور کچھ تاجر شامل ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان میں اپنے شہریوں کے طالبان کی حراست میں ہونے کا بیان گزشتہ روز ہی دو غیر ملکی صحافیوں کی طالبان سے رہائی کے بعد سامنے آیا ہے۔

    برطانوی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حراست میں موجود برطانوی شہریوں کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں طالبان کے اعلیٰ حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔

    بیان میں وزارت خارجہ نے حراست میں لیے جانے والے برطانوی شہریوں کی تعداد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا البتہ مغربی میڈیا کے مطابق یہ تعداد 6 تک ہوسکتی ہے جن میں دسمبر میں گرفتار ہونے والے جوینال بھی شامل ہیں جو صحافی ہونے کے ساتھ ایک تاجر بھی ہیں اور ایک افغان خاتون سے شادی بھی کی ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ روز جن دو غیر ملکی صحافیوں کو رہا کیا ہے ان میں بی بی سی کے سابق نمائندے بھی شامل ہیں۔ طالبان کا کہنا تھا دونوں صحافیوں کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھے۔

  • دنیا بھرمیں کوویڈکیسز کی تعداد 40 کروڑ 84 لاکھ سے تجاوز کرگئی:بھارت اوربرطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گئے

    دنیا بھرمیں کوویڈکیسز کی تعداد 40 کروڑ 84 لاکھ سے تجاوز کرگئی:بھارت اوربرطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گئے

    لاہور: دنیا بھر میں کوویڈ کیسز کی تعداد 40 کروڑ 84 لاکھ سے تجاوز کر گئی:بھارت اوربرطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گئے،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 40 کروڑ 84 لاکھ 42 ہزار 142 ہو گئی ہے۔جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سائنس و انجینئرنگ کی جانب سے ہفتہ کے روز صبح 10 بجے(پاکستانی وقت)پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ 7 کروڑ 76 لاکھ 52 ہزار 197 مصدقہ کیسز کے ساتھ شدید متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔

    بھارت 4 کروڑ 25 لاکھ 86 ہزار 544 مصدقہ کیسز کے ساتھ دوسرا جبکہ برازیل 2 کروڑ 72 لاکھ 99 ہزار 336 مصدقہ کیسز کے ساتھ تیسرا شدید متاثرہ ملک ہے۔فرانس 2 کروڑ 16 لاکھ 46 ہزار 561 مصدقہ کیسز کے ساتھ چوتھے ، برطانیہ 1 کروڑ 83 لاکھ 46 ہزار 553 مصدقہ کیسز کے ساتھ پانچویں اور روس 1 کروڑ 35 لاکھ 26 ہزار 183 مصدقہ کیسز کے ساتھ چھٹے نمبر پر موجود ہے۔ترکی 1 کروڑ 27 لاکھ 48 ہزار 341 مصدقہ کیسز کے ساتھ ساتواں ، جرمنی 1 کروڑ 22 لاکھ 74 ہزار 653 مصدقہ کیسز کے ساتھ آٹھواں جبکہ اٹلی 1 کروڑ 19 لاکھ 91 ہزار 109 مصدقہ کیسز کے ساتھ نواں شدید متاثرہ ملک ہے۔

    بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوروناوائرس کے 50ہزار407 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 42586544 ہوگئی ہے۔ بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوروناوائرس کی وبا سے804افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ملک بھرمیں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 507981 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کوویڈ کے فعال کیسز کی تعداد 610443 ہے۔ملک بھر میں اب تک کل 41468120افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں جنہیں ہسپتالوں سے فارغ کیا گیا ہے۔

    ادھر برطانیہ میں لاسا بخار کے 3کیسز اور 1شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کی چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سوزن ہاپکنز نے میڈ یا کو بتایا کہ لاسا بخار میں مبتلا تینوں مریض افریقا کا سفر کرکے برطانیہ پہنچے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران برطانیہ میں لاسابیماری کا یہ پہلا کیس ہے اس سے پہلے 1980سے لے کر اب تک لاسا بخار کے 8 بیرون ملک سفر سے آئے ہوئے افراد کے کیسز سامنے آئے تھے، آخری دو کیسز 2009میں سامنے آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں لاسا بخارکے کیسز بہت کم ہیں اور یہ لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا جس کی وجہ سے شہریوں کوخطرہ بہت کم ہے۔

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا