Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے

    پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے

    لندن:پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے ،اطلاعات کے مطابق بورس جانسن اس وقت سخت مشکل میں ہیں،بورس جانسن کے پرائیویٹ سیکرٹری اس وقت پولیس کی گرفت میں‌ آنے والے اور بورس جانسن کے متعلق خاص خاص اہم ایشوز کے حوالے سے جوباتیں افشاں کرچکے تھے اب اسے پولیس کی تحقیقات کے خطرے کا سامنا ہے

    اس حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ بورس جانسن کے پرائیویٹ سیکرٹری نے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران 100افراد کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ‘BYOB’ میں مدعو کیا تھا

    یاد رہے کہ پچھلے سال 20 مئی 2020 کوبورس جانسن کے حوالے سے پرائیویٹ سیکرٹری نے یہ خبربریک کی تھی کہ وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ اکٹھ کیا تھا

    دوسری طرف یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ اس تقریب سے متعلق ای میل بورس جانسن کے لیے بدنامی اور بیڈ گورننس کا سبب بنی تھی ،ان خبروں کے بعد یہ بھی کہا جارہا تھا کہ بورس جانسن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیں اور پھرآج وہ دن بھی بورس جانسن نے دیکھ لیا جب لندن پولیس نے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے

    یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب اس وقت صرف دو افراد کو باہر سماجی رابطے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ انگلینڈ کے کوویڈ کی روک تھام کے تحت کم از کم دو میٹر کے فاصلے پر۔ ‘ضروری کام کے مقاصد’ کے لیے ایک چھوٹ تھی،

    یہ بھی ایک پریشانی کی بات ہے کہ جب کل بورس جانسن اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے سلسلے میں پہنچے تو لوگوں نے سوال کیا کہ جناب کیا ایس او پیز صرف ہمارے لیے ہی ہیں‌، لوگوں نےیہ بھی سوالات کئے کہ بورس جانسن کی اہلیہ کیری اور 30-40 عملے کے ساتھ اس اجتماع میں شریک ہوئے جنہوں نے مشروبات، کرسپس اور ساسیج رولز پر کھانا کھایا –

    اب پولیس انہیں الزامات کی تحقیقات کرنے جارہی ہے اور یہ امکان ہے کہ بورس جانسن کو خفگی اٹھانا پڑسکتی ہے

    دوسری طرف بورس جانسن کے وکلاء نے مشورہ دیا ہے کہ وزیر اعظم نے اس وقت قانون نہیں توڑا تھا ،کیونکہ یہ بورس جانسن نے کورونا سے بچاو کے حوالے سے ہی کیا تھا جو کہ ان کا استحقاق تھا

    وزیراعظم کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ہاوس آف کامنز میں ایک فوری سوال کرنے کی اجازت دی گئی ہے – حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم ذاتی طور پر جواب نہیں دیں گے۔

    وزیر صحت ایڈورڈ آرگر نے آج صبح انٹرویو کے ایک دور میں کہا کہ وہ ان الزامات پر عوام کے ‘غصے’ کو سمجھتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ذاتی طور پر مئی 2020 میں کسی بھی مجلس میں موجود نہیں تھے البتہ زوم کے ذریعے لنک تھے جو کہ درست ہے

    دوسری طرف سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ وزیراعظم کی طرف سے دی گئی ضیافت کے پروگرام کی رپورٹس پر اب ‘کیبنٹ آفس سے رابطے میں ہیں’۔ دوسری طرف یہ بھی سُننے کو مل رہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کر رہی ہے کہ آیا مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں

    میٹ کے ترجمان نے کہا: ‘میٹرو پولیٹن پولیس سروس 20 مئی 2020 کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہیلتھ پروٹیکشن ریگولیشنز کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق وسیع پیمانے پر رپورٹنگ سے آگاہ ہے اور کیبنٹ آفس سے رابطے میں ہے۔’اور اگریہ ثابت ہوگیا کہ بورس جانسن نے غلط بیانی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے توبورس کا اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑسکتا ہے

  • خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان

    خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان

    اسلام آباد:خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان ،اطلاعات کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ کے شہروں لیڈز اور لوٹن میں ہونے جا رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے ریفرنڈم 31 اکتوبر 2021 کو لندن سے شروع ہوا اور لندن میں خالصتان ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں 30ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی تعداد اب تک 200,000 سے تجاوز کر چکی ہے، ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑے پیمانے پر شرکت نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بے چین کر دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مودی نے برطانیہ میں ریفرنڈم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور سکھوں کے ریفرنڈم کو روکنے کی بھارتی کوششیں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں ۔

    خالصتان ریفرنڈم میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے تاریکن وطن سکھوں سے رائے معلوم کی جارہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ سکھ ریفرنڈم مستقبل میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب میں بھی ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم سے سکھوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے بھارت کو سخت پیغام دیاگیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریفرنڈم کے نتائج کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کوپیش کیاجائے گا تاکہ وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور بھارت سکھوں کو ان کا پیدائشی حق آزادی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان کے نام سے سکھوں کا علیحدہ وطن دیوار پر لکھا جاچکا ہے۔

  • لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

    لارڈ نذیر احمد: دارالامرا کے سابق رکن بچوں پر جنسی حملے کے مجرم قرار

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے دارالامرا کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ستّر کی دہائی میں دو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب قراردیئے گئے اوریوں آج ایک لمبی بحث بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی

    تفصیلات کے مطابق لارڈ احمد آف روتھرہیم کو ایک لڑکے کے خلاف سنگین جنسی حملے اور ایک کمسن لڑکی کے ریپ کی کوشش کرنے کا مجرم پایا گیا۔اس حوالے سے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ سلسلہ وار جنسی حملے روتھرہیم میں تب ہوئے جب وہ ٹین ایجر تھے۔

    برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر کو 1970 کی دہائی میں نوجوان لڑکے پر سنگین جنسی حملے اور لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے شیفیلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا کہ نذیر احمد، جو پہلے لارڈ احمد آف رودرہم تھے، نے اس پر اس وقت حملہ کیا جب وہ 16 یا 17 سال کے تھے لیکن وہ ان سے بہت کم عمر تھیں۔

    لارڈ نذیر نے اسی عرصے کے دوران ایک لڑکے پر بھی جنسی حملہ کیا اور انہیں عصمت دری کی کوشش کے دو الزامات کا مجرم پایا گیا۔

     

     

    2016 میں خاتون کے پولیس کے پاس جانے کے بعد اس نے متاثرہ مرد سے فون پر بات کی۔جیوری نے ان کی گفتگو کی ایک ریکارڈنگ سنی، جو اس شخص کے ای میل کرنے کے بعد ہوئی جس میں اس نے کہا کہ اس کے پاس ‘اس بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے کے خلاف ثبوت’ ہیں۔

    نذیر احمد پر ان کے دو بڑے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی تھی، لیکن دونوں کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اَن فٹ سمجھا گیا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں شواہد کے افشا میں مسائل کی وجہ سے پہلے مقدمے کی سماعت روک دی گئی تھی۔
    نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ایک کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد ہاؤس آف لارڈز سے استعفیٰ دے دیا تھا جس میں پتا چلا کہ انہوں نے اُن سے مدد مانگنے والی ایک مجبور عورت کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔

  • یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    لندن:یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے بحری تجاری آپریشنز کی نگراں اتھارٹی UKMTO کے ایک اعلان کے مطابق اسے یمن کی راس عیسی بندرگاہ کے نزدیک ایک جہاز پر حملہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے ملاحوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ علاقے میں انتہائی احتیاط اختیار کریں اور چوکنا رہیں۔ مذکورہ اتھارٹی برطانوی شاہی بحریہ کا حصہ ہے۔یمن کے صوبے الحدیدہ میں راس عیسی بندرگاہ بحیرہ احمر پر واقع ہے۔

    یمنی حکومت کے علاوہ امریاک اور دیگر ممالک ہمیشہ سے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ حوثی ملیشیا اس علاقے میں جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے کئی مرتبہ گولہ بارود سے بھری حوثی کشتیوں کا پتہ چلایا جنہوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    ادھرعراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز دو مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا جب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے کے قریب پہنچے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عراق میں اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منائی۔

  • نوازشریف کوبرطانیہ سے دربدرکروا کرپاکستان لانے کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ

    نوازشریف کوبرطانیہ سے دربدرکروا کرپاکستان لانے کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ

    کراچی:نوازشریف کوبرطانیہ سے دربدرکروا کرپاکستان لانے کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں درخواست دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے حکومت شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دے گی۔

    کراچی میں برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگو کے دوران وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ شہباز شریف نے بھائی کے واپس آنے سے متعلق ضمانت دی تھی، عدالت عالیہ کو بھی معاملے کا ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ شہباز شریف نے بڑے بھائی کا بیان حلفی جمع کرایا، اگر وہ نوازشرف کو نہیں بلاتے تو جعلی حلف نامہ دینے پر کارروائی ہونی چاہئے۔ نوازشریف کی واپسی کیلئےاٹارنی جنرل کووزیراعظم نے ہدایت دے دی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی منڈی کی وجہ سے اشیا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔عالمی سطح پر مہنگائی کے اثرات پاکستان پر پڑے ہیں۔ ہم نےانڈسٹری کو بہتر کیا، 32 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کر چکے ہیں، 55 بلین ڈالر واپس کرنےہیں۔ نجی سیکٹر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر رہا، نجی کمپنیاں خود منافع کما رہی ہیں مگرملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کرتیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں صحت کارڈ کی سہولت فراہم کر دی، عوام نجی ہسپتالوں سےعلاج کرا سکیں گے۔ سندھ حکومت صوبے میں صحت کارڈ کے منصوبے کا آغاز کرے، احساس راشن پروگرام میں سندھ حکومت حصہ نہیں لے رہی۔

  • لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    لندن :.لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا ،اطلاعات کے مطابق برطانوی ماہرین نےلاک ڈآؤن میں تحقیق کرکے ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے ، اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ماہرین نے 550 جانور دریافت کرکے تحقیق میں ایک نیا باب کا اضافہ کردیا ہے

    ایک گول مٹول سا بھنورا، پنکھے نما حلق والی چھپکلی اور ایک دیوہیکل چوہا جیسی نئی انواع سال 2021 میں دریافت ہوئی ہیں۔یہ تمام دریافتیں برطانیہ کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہرین نے کی ہیں جو کووڈ 19 کی خوفناک وبا کے باوجود منظرِ عام پرآئی ہیں۔ اس میوزیم کو وائٹ نامی جزیرے پر دو گوشت خور ڈائنوسار کے آثار بھی ملے ہیں جنہیں سب سے بڑی دریافت کہا جاسکتا ہے۔

    ایک اور دریافت کو چیف ڈریگن کا نام دیا گیا ہے جو ایک طرح کا ڈائنوسار تھا لیکن اس کی جسامت مرغی جتنی تھی۔ اگرچہ برطانیہ میں ڈائنوسار کی دریافت کی تاریخ 150 سال پرانی ہے لیکن میوزیم سے وابستہ سائنسداں سوسانا میڈمنٹ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود جدید تحقیق ہوئی، دنیا بھر سے ڈیٹا ملا اور نت نئی دریافتیں ہوئیں جن میں ڈائنوسار سرِفہرست ہیں۔

    کورونا وبا میں باہرنہ جانے کی وجہ سے سائنسدانوں نے میوزیم کے ان آثار کو دیکھا جو ایک عرصے سے لکڑیوں کے باکس یا ڈسپلے میں رکھے تھے۔ فرصت کی وجہ سے ان پر دن رات غور کیا گیا اور زمین کے ماضی اور حال سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں نئی انواع سامنے آئیں جن میں پرندے، حشرات، پودے اور دیگر جانور شامل ہیں۔

    ان میں سے بعض جانور کے آثار یا فاسل 60 سال سے رکھے ہوئے تھے لیکن ان پر نگاہ نہیں گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میوزیم کے سائنسدانوں نے اسے لاک ڈاؤن پراجیکٹ کا نام دیا ہے۔ بلاشبہ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ بحران میں مفید اور تحقیقی کام کرتی رہتی ہیں۔

  • صرف 40 منٹ جاری رہنے والی تاریخ کی مختصر ترین جنگ

    صرف 40 منٹ جاری رہنے والی تاریخ کی مختصر ترین جنگ

    اینگلو- زنزیبار جنگ (27 اگست 1896) یہ جنگ برطانوی راج اور زنزیبار سلطنت کے درمیان بہت ہی مختصر تصادم پر مبنی تھی –

    باغی ٹی وی : 1896 میں ، براعظم کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے افریقی ممالک میں یورپی ممالک کی نوآبادیات تھیں افریقہ میں سیاسی منظرنامے پر فرانس ، برطانیہ اور جرمنی کا غلبہ ہے۔ کبھی کبھی ، افریقی ممالک نے اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کے خلاف بغاوت کی یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تک نہیں تھا کہ بہت ساری افریقی ممالک نے یورپی مالکان سے آزادی حاصل کی۔

    بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی بند نہیں کی تو خانہ جنگی کا خطرہ ہے،نصیر الدین شاہ

    اینگلو زنزیبار جنگ اسی نوآبادیاتی جدوجہد کا حصہ تھی زنزیبار موجودہ دور میں تنزانیا کا حصہ ہے تاہم اس وقت اس کی ایک عظیم سلطنت ہوا کرتی تھی جو مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی برطانیہ کے حامی سلطان حماد بن تھوینی کا صرف تین سال اقتدار میں رہنے کے بعد جنگ سے 2 دن پہلے 25 اگست 1896 کو انتقال ہوگیا-

    حکومت کی باگ ڈورسلطان کے کزن خالد بن برگش نے سنبھال لی یہ افواہیں تھیں کہ نئے سلطان نے بوڑھے کو زہر دے دیا ، شاید اس لئے کہ خالدبرطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے متفق نہیں تھی وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک خودمختار ہو تاکہ اس غلام منافع بخش تجارت سے فائدہ اٹھاسکےجو اس وقت افریقہ میں موجود تھا لیکن برطانوی راج کو یہ شخص پسند نہیں تھا برطانیہ کی خواہش تھی کہ وہ اس کے بجائے اپنے من پسند دیدہ حمود بن محمد کو تخت پر لاکر بٹھائے۔

    سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملے، امریکہ کی شدید مذمت

    ایک سال قبل دونوں حکومتوں کے مابین ہوئے معاہدے کے تحت زنزیبار سلطان کے چناؤ کا حتمی فیصلہ برطانیہ کے ہی ہاتھ میں تھا لیکن خالد نے اس معاملے میں برطانیہ کی مداخلت کو ماننے سے انکار کردیا تاہم برطانیہ نے اسے دعوتِ جنگ پر محمول کیا۔

    خالد کو 27 اگست صبح 9 بجے حکومت سے دستبردار ہونے کی مہلت دی گئی لیکن خالد شاہی محافظوں کے ساتھ اپنے قلعے میں محفوظ ہوگیا اور 2800 سپاہی جنگ کیلئے تیار ہوئے صبح 9 بجے برطانیہ اپنی 1000 کی فوج لے کر پہنچ گیا۔ سپاہیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود زنزیبار کے پاس برطانوی فوج کے مقابلے میں نہ تو بہترین ہتھیار تھے اور نہ ہی جنگی تربیت جبکہ برطانوی افواج بہت اچھی طرح سے لیس تھیں اور خالد کے خیال سے کہیں زیادہ خطرناک تھیں-

    اردن کی پارلیمنٹ میدان جنگ بن گئی،ارکان آپس میں دست گریباں

    لد کا اپنی بحری جہاز میں اکیلا جہاز ، گلاسگو ، ایک عیش و آرام کی کشتیاں تھی جسے ملکہ وکٹوریہ نے انہیں دیا تھا۔ یہ لڑائی کے لئے موزوں نہیں تھا ، اور خاص طور پر قابل نہیں تھا کہ وہ رائل نیوی کو بہت زیادہ اعلی سطح پر لے سکے۔ راؤسن کی کمان میں ایچ ایم ایس سینٹ جارج کی سربراہی میں رائل نیوی کے پانچ جہاز ، گلاسگو کے پاس فضلہ بچھایا اور اپنے عملے کو بچایا۔

    ٹھیک 9 بجے توپوں کو حکم دیا گیا فائر اور توپوں نے گولے برسانے شروع کردیے اندھا دھند فائرنگ اور بِلا رُکے حملے میں 3،000 میں سے 500 زنزیبار کے سپاہی و شہری زخمی اور ہلاک ہوئے اور برطانوی فوج کے 100 میں سے صرف ایک سپاہی ہلاک ہوا جبکہ صرف 40 منٹ کے بعد ، خالد کی فوجیں وہاں سے بھاگ گئیں دنیا کی تاریخ کی مختصر ترین جنگ ختم ہوگئی 9 بج کر 40 منٹ پہ آخری دو فائر ہوئے اور جنگ ختم ہوگئی۔

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    خالد اور اس کے قریبی حلقہ نے قریبی جرمن قونصل خانے میں پناہ کی درخواست کی برطانیہ نے بالآخر پہلی جنگ عظیم کے دوران خالد پر قبضہ کرلیا ، اور یہ وہ وقت تھا جب اس نے جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے اور سلطانی سے اپنا دعوی ترک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    اس بمباری کو تاریخ کی مختصر ترین جنگ کا خطاب دیا حمود کو نیا حکمران قرار دے دیا گیا اور ایک بار پھر امن بحال ہوا برطانوی مطالبات کا حصول کرتے ہوئے ، اس نے سن 1897 میں صدیوں قدیم مشرقی غلام تجارت پر غلامی پر پابندی عائد کرکے اور غلاموں کو آزاد کرکے ، ان کے مالکان کو معاوضہ دے کر ، زنزیبار کے کردار کو ختم کیا-

    مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحیت کی تو بھرپور جوابی وار کریں گے،روسی…

  • کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور

    کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور

    لندن :کورونا نے برطانوی معیشت کوڈبودیا:4 ارب پونڈز میں بہت بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹوربیجنے پرمجبور،اطلاعات کے مطابق جہاں کورونا نے غریب اور بہت زیادہ آبادی والے ملکوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے وہاں اس وبا کی وجہ سے کم آبادی والے اور بہت زیادہ وسائل والے ترقی یافتہ ممالک بھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے ، ،تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ برطانیہ جسے ایک امیر ملک اور کم آبادی کے ساتھ بہت زیادہ وسائل والا ملک کہا جاتاہے اب ماضی کا حصہ بن گیا اور معیشت اس قدر تباہ حال ہوگئی ہے کہ ڈپارٹمنٹ اسٹورکو4 ارب برطانوی پونڈز میں فروخت کرنا پڑا

    گروپ کی طرف سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سودا ‘دنیا کے معروف اومنی چینل لگژری ڈپارٹمنٹ اسٹور گروپس سے کیا گیا ہے
    یہ بھی کہا گیاہے کہ یہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور 4 ارب برطانوی پونڈز میں فروخت ہوا اور اس میں انگلینڈ، نیدرلینڈز اور آئرلینڈ میں 18 ڈیپارٹمنٹل اسٹورز شامل ہیں۔

    وہ ڈپارٹمنٹل اسٹوراور اس کی شاخیں ایک مشترکہ سینٹرل اور سگنا پورٹ فولیو کا حصہ بنیں گے جس میں اٹلی میں Rinascente، ڈنمارک میں Illum، سوئٹزرلینڈ میں Globus اور جرمنی اور آسٹریا میں KaDeWe گروپ شامل ہیں۔سنٹرل گروپ، جس کا کنٹرول تھائی چیراتھیواٹ فیملی، اور آسٹریا کے رئیل اسٹیٹ ماہرین سگنا گروپ، 50-50 مشترکہ منصوبے میں سیلفریجز کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہاہےکہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اس ڈیپارٹمنٹل اسٹور کی کامیاب بولی لگانے میں ناکام رہی

     

     

    ویسٹنز کے ساتھ معاہدے میں کھانے پینے کے برطانیہ کے چار اسٹورز شامل ہوں گے – دو مانچسٹر میں، ایک برمنگھم میں اور لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ پر اس کی فلیگ شپ سائٹ – نیز آئرلینڈ میں آرنٹس اور براؤن تھامس سمیت 14 دیگر دکانیں شامل ہوں گی۔

    سیلفریجز کی بنیاد 1908 میں ہیری گورڈن سیلفریج نے رکھی تھی۔ ڈبلیو گیلن ویسٹن نے 2003 میں فلیگ شپ آکسفورڈ اسٹریٹ سیلفریج اسٹور خریدا اور 2010 میں سیلفریجز گروپ بنایا۔

    یہ برطانوی ہائی اسٹریٹ کے لئے ایک تباہ کن خبر ہے، اس سے پہلے معاشی تباہی کی وجہ سے ڈیبن ہیمس، ٹاپ شاپ اور ڈوروتھی پرکنز سمیت بڑے ریٹیل گروپس بھی اب اپنا وجود کھو چکے ہیں‌

    سیلفریجز گروپ کے چیئرمین، اور ڈبلیو گیلن ویسٹن کی زندہ بچ جانے والی بیٹی، ایلانا ویسٹن نے کہا کہ یہ حصول ‘خوبصورت، واقعی تجرباتی، ڈپارٹمنٹ اسٹورز کے ایک مشہور گروپ کے لیے میرے والد کے وژن کی کامیابی کا ثبوت ہے’۔

    سینٹرل گروپ نے تھائی لینڈ کا پہلا ڈپارٹمنٹ اسٹور 1956 میں کھولا اور اب دنیا بھر میں تقریباً 3,700 اسٹورز ہیں۔اس کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر Vittorio Radice نے 1996 اور 2003 کے درمیان Selfridges چلایا اور 2006 سے اٹلی میں ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کا انتظام کر رہے ہیں۔

  • برطانیہ :24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    برطانیہ :24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    برطانیہ میں 24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں 24 گھنٹوں میں 15 ہزار 363 افراد اومی کرون کا شکار ہوئے ہیں جس کے بعد اومی کرون ویرینٹ کے متاثرین کی تعداد 60 ہزار سے بڑھ گئی ہے برطانیہ میں بوسٹر ڈوز لگوانے کا سلسلہ بھی جاری ہے-

    برطانیہ: اومی کرون سے 24 گھنٹوں میں 8 ہزار 44 افراد متاثر

    وزیراعظم بورس جانسن نے تصدیق کردی ہے کہ کرسمس سے قبل مزید پابندیاں نہیں لگیں گی کرسمس کے بعد پابندیوں کے حوالے سے اقدامات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا، ضرورت پڑی تو پابندیاں لگائیں گے۔

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    رپورٹس کے مطابق دو دن قبل بھی برطانیہ میں اومی کرون کے 8 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے دوسری جانب جرمنی نے برطانیہ کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے جہاں کورونا وائرس کا ویرینٹ اومی کرون تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہوائی کمپنیاں برطانیہ سے محض انہی مسافروں کو جرمنی لاسکتی ہیں جو یا تو جرمن شہری ہیں یا پھر یہاں کے رہائشی ہیں، تاہم فلائٹس پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ریل اور بحری جہاز کے ذریعے سفر کرنے والوں پر بھی یہی پابندی لاگو ہوگی۔

    اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

  • برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    کیمبرج: برطانیہ سے ایک ایسے قدیمی کنکھجورے کی باقیات دریافت ہوئی ہیں جو تقریباً 9 فٹ لمبا تھا لیکن اس میں ریڑھ کی ہڈی بالکل بھی نہیں تھی-

    باغی ٹی وی : یہ دیوقامت کنکھجورا جسے ’’آرتھروپلیورا‘‘ کا نام دیا گیا ہے آرتھروپلیورا دیوہیکل میراپوڈس کی ایک نسل ہے جو ابتدائی کاربونیفیرس سے لے کر ابتدائی پرمین تک ہوتی ہے آج سے 32 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جہاں رہتا تھا وہ جگہ موجودہ برطانیہ میں نارتھمبرلینڈ کے ساحل پر، اور نیوکیسل سے 64 کلومیٹر دور واقع ہے اس عجیب و غریب اور معدوم کنکھجورے کی تفصیلات ’’جرنل آف دی جیولوجیکل سوسائٹی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

    اسکا رکاز 2018 میں ایک چٹان کے ٹوٹنے سے اتفاقاً دریافت ہوا تھا، جس پر برطانوی اور جرمن ماہرین نے تقریباً دو سال تک تحقیق کرنے کے بعد کئی اہم معلومات حاصل کیں پہلی بات تو یہی معلوم ہوئی کہ یہ رکاز لگ بھگ 32 کروڑ 60 لاکھ قدیم ہے، جو ڈائنوسار کے زمانے سے بھی 10 کروڑ سال پہلے کا ہے۔

    یہ رکاز نامکمل اور مختلف جسمانی قطعات (segments) پر مشتمل ہے جن کی مجموعی لمبائی 75 سینٹی میٹر ہے انہیں دیکھ کر سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ زندہ حالت میں یہ کنکھجورا 2.7 میٹر (8.85 فٹ) لمبا رہا ہوگا جبکہ ممکنہ طور پر یہ 50 کلوگرام وزنی تھا۔

    ان تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کا یہ علاقہ تقریباً 33 کروڑ سال پہلے کے زمانے میں خطِ استوا کے قریب تھا جہاں نہ صرف گرمی زیادہ پڑتی تھی بلکہ بارش بھی خوب ہوا کرتی تھی اسی گرم اور مرطوب ماحول کی بناء پر شاید یہاں گھنے جنگلات بھی رہے ہوں گے جہاں یہ کنکھجورا اور اس جیسے دوسرے جانوروں کا ارتقاء ہوا ہوگا-