Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی

    مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی

    فیصل آباد: مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہیں کرینگے:سعد رضوی نے فیصل آباد میں ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے اپنے مشن کا مقصد بیان کیا ،

    اطلاعات کے مطابق فیصل آباد میں سٹیج پر اس وقت پیر سید ظہیر الحسن شاہ، صاحبزادہ حافظ انس حسین رضوی سمیت دیگر قائدین بھی موجود ہیں ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ عوام کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کی دھوبی گھاٹ گراؤنڈ ناموسِ رسالت کانفرنس میں شرکت کررہا ہے

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ وزیر آباد آکر ہمیں ہاتھ جوڑ کر کہا گیا واپس جائیں آزادی سے سیاست کریں،انہوں نے فیصل آباد جلسے میں بڑی تعداد میں عوام الناس کی شرکت پر کہا کہ میڈیا کی چوری چھپی آنکھیں بھی دیکھ رہی ہونگی بتاؤ کبھی ایسا منظر دیکھا ہے ،

    علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ہم اس نیت سے آئے ہیں کہ ستر سال سے اس ملک کو لوٹنے والوں بس اب سرخ لائن کھینچ دی گئی ہے ،جو ناموسِ رسالت کے مسئلہ پر جو لوگ خاموش بیٹھ رہے ہیں اللّٰہ ان کو بھی اقتدار میں لا کر ذلیل کردیا ہے ،ہم کربلا میں 72 شہید ہو کر مایوس نہیں ہوتے،جیلوں میں جا کر مایوس نہیں ہوتے،زین شہید کو دفنا کر بھی شہید نہیں ہوتے،

    حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ بنی گالا ، بلاول ہاؤس کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر قرض دیکھاؤ پھر پتہ چلے گا تمہیں ملک کا درد ہے ، حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ابھی جو آپ کو گیارہ جماعتوں کا اتحاد نظر آرہا ہے بہت جلد آپ کو بارہ کا اتحاد ملے وہ بھی ان کے ساتھ ہوگا جو ابھی در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے میدان میں اکیلے پھر ان کا مقابلہ کرنے والے تحریک لبیک پاکستان والے ہونگے،

  • قومی پرچم جلا کر ویڈیو بنانیوالا پی ٹی آئی کارکن پاکستان آتے ہی گرفتار

    قومی پرچم جلا کر ویڈیو بنانیوالا پی ٹی آئی کارکن پاکستان آتے ہی گرفتار

    پشاور:پی ٹی آئی کارکن کوپشاورایئرپورٹ پرگرفتارکرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق عمران خان کی حکومت کےختم ہونے پرغصے میں آکرپاکستانی پرچم کو جلانے والے پی ٹی آئی کارکن کوملک واپسی پرپشاورایئرپورٹ پرگرفتارکرلیا گیا ہے

    اطلاعات ہیں کہ مذکورہ پی ٹی آئی کارکن پہلے ہی متعلقہ اداروں کی نظرمیں تھا اور جب وہ پاکستان پہنچا اورپشاورایئرپورٹ پراترا تو اس وقت پولیس نے اسے گرفتارکرلیا ہے ،اس کارکن کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ اس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے پرغُصے میں آکرپاکستانی پرچم جلا دیا تھا اورپھراس کی ویڈیو بھی وائرل کی

    اس نوجوان کی طرف سے اس الزام کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ، کہا جارہا ہےکہ اس کے خلاف سخت دفعات کےساتھ ایف آئی آر کاڑی جائے گی اورپھرقانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

    یاد رہے کہ پارلیمنٹ میں اِن ہائوس تبدیلی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹر نے پاکستان کا جھنڈا جلا دیا  جس کی ساتھ ویڈیو بھی بناتا رہا اور پھر انٹرنیٹ پر شیئرکردی۔

    یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کسی مخصوص پارٹی کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ہے، کسی ایک شخص یا پارٹی کے حق میں ہونیوالے احتجاج میں ایسے اقدامات انتہائی شرمناک ہیں۔

  • روس پر پابندیوں سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے:دفتر خارجہ

    روس پر پابندیوں سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے:دفتر خارجہ

    اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیوں سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے۔اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار میڈیا بریفننگ دیتے ہوئے کہاکہ ہم بھارت سے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں،ماحول کو سازگار بنانا بھارت کی ذمہ داری ہے،بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر افغان بھائیوں کے لیے امداد فراہم کی گئی، زلزلہ سے نقصان پر دلی تعزیت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے فرینڈز آف گروپ کے اجلاس میں ڈس انفارمیشن کے مقابلے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور منظم حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

     

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ کینیڈین پارلیمان میں پاکستان کے اندرونی معاملات سے متعلق دیے گئے بے بنیاد اور غلط ریمارکس پر کینیڈین ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے 26 ویں اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کرنے کے لیے کیگالی روانڈا کے سرکاری دورے پر ہیں، جنہوں نے گزشتہ روز کامن ویلتھ کے وزرائے خارجہ امور کے اجلاس میں شرکت کی، وزیر مملکت اجلاس اور دو طرفہ ملاقاتوں میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے برلن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنے اجلاس میں پاکستان کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلان کی تکمیل کو تسلیم کیا جس میں 34 آئٹمز شامل ہیں، گرے لسٹ سے نکلنے کے آخری قدم کے طور پر پاکستان کے آن سائٹ دورے کی اجازت بھی دی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ٹیم کی محنت اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے عمل کے جلد اختتام کی امید ظاہر کی۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ملکر 18 اور 19 جون کو نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے عالمی دن اور تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا ، پناہ گزینوں کا عالمی دن 20 جون 2022 کو منایا گیا، اس دن کو مناتے ہوئے ہم نے پوری دنیا کے مہاجرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

  • پاک سر زمین پارٹی کا مفتی منیب الرحمٰن کے الزامات کا بھرپورجواب

    پاک سر زمین پارٹی کا مفتی منیب الرحمٰن کے الزامات کا بھرپورجواب

    کراچی :مفتی منیب الرحمٰن کا مصطفیٰ کمال کو جواب کے نام سے تحریر کے جواب میں ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ مفتی منیب الرحمان کی تحریر صریح جھوٹ پر مبنی ہے! ایک سید زادے سید مصطفی کمال پر تہمت لگانے والے نام نہاد مفتی منیب الرحمان نے اگر کبھی قرآن کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ مالک کل کائنات نے کسی معصوم پر بہتان باندھنے کی کیا سزا مقرر کی ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا (سورۃ احزاب، آیت 58)
    "اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ایسے کام کی تہمت لگاتے ہیں جو انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا”

    خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق آگے بیان کر دے، صد افسوس کہ منیب الرحمن نے مفتی اعظم کے عہدے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ ایم کیو ایم کے سابق بدنام زمانہ گورنر عشرت العباد المعروف رشوت العباد سے ان کے تعلقات پر کسی کو کوئی حیرت نہیں کیونکہ جملہ عالم جانتا ہے "کند ہم جنس باہم جنس پرواز” انسان اپنے تعلقات کی بنیاد پر ہی پہچانا جاتا ہے جہاں عشرت العباد رشوت العباد کی کنیت سے مشہور ہوئے وہاں مفتی اعظم منیب الرحمٰن سود پر کام کرتے بینکوں کے بھاری بھرکم تنخواہ دار رہےاور سود کے حلال ہونے پر فتوے دیتے رہے واضح رہے کہ اللّٰه پاک نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 279 میں سود کو اللّٰه اور اسکے رسول کیخلاف کھلی جنگ قرار دیا ہے۔

    پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب الرحمان کو چیلنج کرتی ہے کہ ملائیشیا میں تو کیا دنیا بھر میں کہیں بھی سید مصطفی کمال یا انکے خاندان کے کسی ایک بھی فرد کے ایک روپے مالیت کے اثاثے یا کاروبار ثابت کردیں تو سید مصطفی کمال وہ تمام اثاثے مفتی منیب الرحمان کے نام لکھ کر جہاں مفتی منیب کہیں گے وہاں خود کو پھانسی لگانے کے لیے تیار ہیں؛ پی ایس پی مفتی منیب الرحمان کو اس دنیا میں عوام کی عدالت اور روز محشر الله کی عدالت میں لیکر جائے گی۔ پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے لَّعْنَتَ اللّـٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ لکھ کر خود اپنے آپ پر ہی لعنت بھیج دی ہے کیونکہ وہ خود جھوٹے ہیں۔

    مفتی منیب کا دوسرا نام قبضہ مافیا ہے، لیاری ایکسپریس وے کی تیاری کے دوران مصطفیٰ کمال سے اپنے لیے تیسر ٹاؤن میں پلاٹ کی بھیک مانگنے والے اس نام نہاد مفتی منیب الرحمان کی جعل سازی اس بات سے بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ جس مدرسے اور ادارے کی یہ آج سربراہی کررہا ہے وہ مرحوم مفتی شجاعت علی قادری(مرحوم) کی ملکیت تھی، مفتی شجاعت علی قادری کا بیرون ملک سرکاری دورے سے واپسی پر انتقال ہوگیا، انکے انتقال کے بعد اس نام نہاد مفتی منیب الرحمن نے مفتی شجاعت قادری کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر پہلے ممتحن بن کر قبضہ کیا اور بعد میں مرحوم مفتی شجاعت کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر یہ نام نہاد مفتی منیب الرحمان مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر مکمل قابض ہوگیا اور حال ہی میں اورنگی میں ایک سرکاری زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کرکہ اس پر بینر لگا کر وہاں ادارہ قائم کررہے ہیں(تصویر ساتھ ہے).

    حکمرانوں کے آگے کلمہ حق بلند کرنے کا دعویٰ کرنے والے منیب الرحمن الله سے زیادہ الطاف حسین سے ڈرتے رہے، 40 سال الطاف حسین رحمت اللعالمین محمدﷺ کی امت کو ایک دوسرے سے لڑوا کر قتل کرتا رہا، ایک روز میں 22 جوان موت کے گھاٹ اتارتا تھا تب اس نام نہاد عاشق رسول محمدﷺ کا کلمہ حق کدھر غائب ہوگیا تھا۔ نام نہاد مفتی اعظم مفتی منیب الرحمان اپنے کوورڈینٹر کو سرکاری عہدہ دلانے کے لیے امت کے قاتل الطاف حسین کی منت سماجت کرتے رہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا ڈھونگ رچانے والے مفتی منیب ساری زندگی رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ کے طور پر سرکاری تنخواہ اور مراعات پر پلتے رہے۔ جب سائنس کی رو سے انکے پسند اور ناپسند پر مبنی رؤیت کو چیلنج کیا گیا تو اتنے حواس باختہ ہوگئے کہ بجائے اسکے کہ علم سے جواب دیتے، معاملے کو ذات پر حملہ تصور کرتے ہوئے الله کے عطا کردہ علم سائنس اور وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہی مغلظات بکنے لگے۔ محترم کو خود نمائی کا اتنا شوق ہے کہ اگر رویت ہلال کمیٹی کا کوئی رکن ان سے پہلے کسی میڈیا والے سے بات کر لے تو اپنی شدید ناراضگی کا برملا اظہار کرتے تھے۔

     

     

    واضح رہے سید مصطفی کمال سید زادے ہیں اور امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فتوے کے مطابق سید کے خلاف بات کرنا کفر کا درجہ رکھتا ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن بریلوی مکتبہ فکر کی ناصرف نمائندگی نہیں کرتے بلکہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء گرامی اور مفتیان قدر کی کثیر تعداد مفتی منیب الرحمان کو سرے سے مفتی ہی تسلیم نہیں کرتی؛ مفتی منیب بریلوی مسلک کا چہرہ مسخ کرنے اور اتحاد بین مسلمین کو پارہ پارہ کرنے کے ذمہ دار ہیں،

    بین الاقوامی میڈیا پر مفتی منیب الرحمان نواسہ رسول محمد ﷺ، سردار جنت حضرت امام حسین رض کو شہید کرنے والے یزید کے وکیل بن کر پیش ہوئے۔ جبکہ حضرت عمر فاروق(رض) کا قول ہے کہ "دریائے فرات کے کنارے اگر کتا بھی پیاسا مرجائے تو عمر زمہ دار ہوگا” مفتی منیب کے زیر سرپرستی دہشتگردی پھیلاتی تنظیم ٹی ایل پی رحمت للعالمین محمدﷺ کے نام کے نعرے مارتے ہوئے رحمت للعالمین محمد ﷺ کے امتیوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی لیکن نام نہاد مفتی منیب الرحمٰن نے ٹی ایل پی کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے پی ایس پی کے کارکن کی شہادت اور مصطفیٰ کمال سمیت کئی کارکنان کے زخمی ہونے پر تعزیت اور ہمدردی تو درکنار؛ انیس قائم خانی کے بیان پر مفتی منیب کا ٹویٹ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مصطفیٰ کمال کا دہشتگرد تنظیم ٹی ایل پی کو دہشتگرد کہنا مفتی منیب کے کلیجے پر تیر بن کر لگا، مفتی منیب کا شمار ان دین کے دشمنوں اور ملک دشمنوں میں ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کا چہرہ دنیا کے سامنے مسخ کرنے کے زمہ دار ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی دہشتگرد جماعت ہے، مفتی منیب اسکے سرپرست اعلیٰ ہیں جو حضرت محمد ﷺ کا نام اپنی گندی سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہے۔اس سے بڑی توہین حضرت محمد ﷺ کی نہیں ہو سکتی کہ آپ ﷺ کا نام لے کر آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں کو شہید کیا جائے اور تکلیف پہنچائی جائے۔

    دنیاوی ہارجیت سے مرعوب نام نہاد سیاسی مفتی منیب الرحمان ایک سید زادے سید مصطفیٰ کمال کو انتخابات ہارنے کا طعنہ دے کر ناصرف اپنی ذہنی پسماندگی کا ثبوت دے رہا ہے بلکہ تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین رضی الله عنہ اور اہل بیت کی شہادت کا بھی مزاق اڑا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید نے بھی خانوادہ رسول محمدﷺ کے کٹے ہوئے سروں کو نیزوں کی نوک پر رکھ کر جیت کا جشن منایا تھا لیکن آج اور دنیا میں آخری انسان کے رہنے تک یزید رسوا ہوگیا اور وہ کٹے ہوئے سر سرداران جنت بن گئے۔ یزید جیت کا جشن منا کر بھی ناکام رہا اور خانوادہ رسول محمدﷺ سر کٹا کر ہمیشہ کے لیے کامیاب رہے۔ ہر جیتنے والا کامیاب نہیں اور ہر ہارنے والا ناکام نہیں۔ رب العالمین نے سید مصطفیٰ کمال کو رحمت للعالمین محمدﷺ کی امت کو کراچی میں جوڑنے کا ذریعہ بنایا جسکا تصور بھی مفتی منیب جیسے علماء سو کے لیے محال ہے۔

    گزارش ہے کہ لبیک کے نعرے مارنے سے کوئی عاشق رسول نہیں ہوجاتا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ پاک سر زمین پارٹی سیف الدین صدیقی کے قاتل اور سید مصطفی کمال اور پی ایس پی کے دیگر کارکنان کو زخمی کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی قاتل سمجھتی ہے۔ اللّٰه ہمارا حامی و ناصر ہے۔

  • ہمارا مشن تعلیمی اداروں سے منشیات کا خاتمہ کرنا ہے:شاہ زین بگٹی

    ہمارا مشن تعلیمی اداروں سے منشیات کا خاتمہ کرنا ہے:شاہ زین بگٹی

    اسلام آباد:ہمارا مشن تعلیمی اداروں سے منشیات کا خاتمہ کرنا ہے، ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے وفاقی وزیر نارکوٹکس شاہ زین بگٹی نے کہا ہے کہ ہمارا مشن تعلیمی اداروں سے منشیات کا خاتمہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں تمام ترحفاظتی اقدامات کیئے جارہےہیں‌

    پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے پائی جانے والی تشویش کے بارے میں گفتگوکرتےہوئےوفاقی وزیر نارکوٹکس شاہ زین بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نشے کی عادی بن چکی ہے، اگر انہیں نشے سے نہیں روکا گیا تو تباہی ہو گی جس کے لیے محکمہ اینٹی نارکوٹکس فورس کام کر رہا ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرنارکوٹکس شاہ زین بگٹی نے کہا کہ نارکوٹکس فورس میں اہلکاروں کی کمی ہے، محکمے میں خالی اسامیوں کو پُر کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت سے پہلے سیاست میں اختلاف ہوتا تھا، عمران خان نے روایات کا خاتمہ کر دیا، خان نے سوائے الزام تراشی کے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا، کوئی عمران خان سے پوچھے انہوں نے کون سے اسپتال یا تعلیمی ادارے بنائے؟ آج جو مسئلے ہیں یہ سب عمران خان کے اقدامات کا نتیجہ ہے، پاکستان بننے سے لے کر جتنا قرضہ لیا گیا تھا اتنا عمران خان نے تین سال میں لیا۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ عالمی صورتحال بھی ہے، ملک میں زرعی پانی کی قلت قدرتی تھی جس کی وجہ سے زراعت کا بڑا نقصان ہوا ہے، ہم سابقہ حکمرانوں کی طرح چور ڈاکو امپورٹڈ کے نعرے نہیں لگائیں گے بلکہ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ حالات کو بہتر کریں اور ہمارا مشن ہے کہ تعلیمی اداروں سے منشیات کا خاتمہ کریں کیونکہ اس ہی طرح ہمارا مستقبل محفوظ ہو گا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ منشیات کا خاتمہ نہ ہونے کی وجہ منشیات فروش کو سزا نہ ہونا بھی ہے، سینیٹ میں بل پاس کرانے کی بات ہوئی ہے کہ سزا کو سخت کیا جائے۔

  • چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا

    چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا

    بیجنگ:چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا نے چین کی عالمی خارجہ پالیسی کا ایک پہلوبیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اس وقت دنیا میں امن وامان،خوشحالی اورترقی کے حوالے سے عالمی سطح پرکوشاں ہے ، چینی میڈیا نے یہ پیغام اس وقت جاری کیا جب چین کی میزبانی میں 22 سے 24 جون تک ہونے والےبرکس اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔دنیا کے پانچ اہم ترقی پذیر ممالک پر مشتمل کثیرالجہت میکانزم کے طور پر، برکس کا تعاون مشترکہ عالمی ترقی کو فروغ دینے میں بھی ایک اہم قوت ہے۔ ایک مزید منصفانہ اور معقول بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے اور مشترکہ عالمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے چین اور تمام ترقی پذیر ممالک سرگرم رہے ہیں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ترقی عوامی خوشحالی کی کلید اور تمام مسائل کے حل کی بنیاد ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، اپنی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے، چین دوسرے ترقی پذیر ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، امداد اور علم کے تبادلے کے ذریعے مشترکہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا آرہا ہے۔مختلف ممالک خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چین نے “دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو جیسی تجاویز پیش کیں، “عالمی ترقی کی رپورٹ” جیسی تحقیقی رپورٹس جاری کرتے ہوئے دانشورانہ تعاون فراہم کیا ۔دوسری طرف، برکس اور جنوب جنوب تعاون جیسے کثیر جہتی میکانزمز کو مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ منسلک کرنے اور مختلف ممالک کی پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے کو عملی طور پر فروغ دینے میں بھی چین تعاون کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں، جب سے عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست بحال ہوئی ہے، تب سے چین ثابت قدمی کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتا آرہا ہے۔ حال ہی میں جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس کے دوران چینی مندوبین نے بارہا بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی جامع ترقی کی حمایت کرے، حقیقی کثیرالجہتی کو برقرار رکھے اور ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی انتظام و انصرام تشکیل کرے۔ 25 جون 2021 کو چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے “اقوام متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی کی 50 ویں سالگرہ” کی یاد میں منعقدہ فورم میں کہا کہ چین، ماضی میں بھی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کھڑا تھا، اب بھی کھڑاہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ میں، چین کا ووٹ ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کے حق میں جائے گا۔

    چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نالج سینٹر کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ “عالمی ترقیاتی رپورٹ” میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگلی دہائی میں، عالمی اقتصادی نمو میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس اور ترقی پذیر ممالک کاحصہ مزید بڑھ جائے گا اور عالمی ترقی میں ان ممالک کا مزید اہم کردار ہوگا۔ تاہم فی الحال یکطرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور گروہی سیاست کے باعث عالمی اقتصادی بحالی نیز علاقائی استحکام شدیدخطرات سے دوچار ہے۔ اس لیے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مزید بلند کرنا اور ایک مزید منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تشکیل اشد ضروری ہے۔

  • زلزے نےتباہی مچادی،امریکہ افغانستان کےاثاثےبحال کردے:افغان طالبان

    زلزے نےتباہی مچادی،امریکہ افغانستان کےاثاثےبحال کردے:افغان طالبان

    کابل:زلزے نےتباہی مچادی،امریکہ افغانستان کےاثاثےبحال کردے:اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نےامریکہ پرزوردیا کہ وہ افغانستان کےاثاثوں کو غیر منجمد کردے،افغان طالبان کا کہنا ہےکہ اس تباہی نے افغانستان کےطالبان حکمرانوں اور امدادی اداروں کے لیے ایک نیا امتحان کھڑا کردیا ہے جو پہلے ہی متعدد انسانی بحرانوں سے نبرد آزما ہیں۔ پہاڑوں میں پھنسے دیہاتوں میں تباہی پھیل چکا ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کرائسس مینجمنٹ ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ "یہ ہیڈکوارٹر صحت، دفاع، ثقافت، داخلہ اور دیگر کے وزرا کی شرکت سے تشکیل دیا گیا تھا، اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ان کے نمائندے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر امداد فراہم کریں”۔

    خوراک، گھریلو سامان، خیمے اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ وزارت دفاع سے کہا گیا کہ زخمیوں کی مدد کے لیے تمام زمینی اور فضائی مدد فراہم کی جائے، جب کہ وزارت صحت ضروری ادویات بھیجے۔ اور امدادی ٹیمیں جلد از جلد پہنچیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کریں۔

    6.1 کی شدت کے زلزلے سے آنے والی تباہی نے ایک ایسے ملک پر مزید مصائب کا ڈھیر لگا دیا ہے جہاں اگست میں امریکہ اور نیٹو کے انخلا کے بعد سے صحت کا نظام درہم برہم ہے۔ قبضے کے نتیجے میں اہم بین الاقوامی مالی اعانت میں کٹوتی ہوئی، اور دنیا کے بیشتر ممالک نے طالبان کی حکومت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

    ملک میں بحرانی کیفیت کی وجہ سے طالبان کے سپریم لیڈر، ہیبت اللہ اخوندزادہ نےکہا کہ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے "اس عظیم سانحے سے متاثرہ افغان عوام کی مدد کرنے اور کوئی کسر نہ چھوڑنے

    طالبان کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں، ہلال احمر اور اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، روس اور بعض دیگر ممالک سمیت کئی ممالک نے افغانستان کی مدد کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔لیکن اس نے افغانستان کی طرف سے امریکہ سے ملک کے اثاثوں کو جاری کرنے کے مطالبے کی تجدید کا اشارہ دیا۔ ملک کے مرکزی بینک سے تقریباً 7 بلین ڈالر کے افغان فنڈز امریکہ میں منجمد ہیں۔

    ادھر اس حوالے سے اقوام متحدہ کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں "کثیر شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے” فوری طور پر ہنگامی امداد کے طور پر 15 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

  • یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    نیویارک:چند دن پہلےاقوام متحدہ کی 2 فوڈ ایجنسیوں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پوری دنیا میں خوراک کے متعدد بحرانوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا تھا

    ذرائع کے مطابق اس حوالےسے ‘ہنگر ہاٹ اسپاٹس: شدید غذائی عدم تحفظ پر ایف اے او-ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی انتباہات’ کے عنوان سے اپنی مشترکہ رپورٹ میں فوڈ ایجنسیوں نے غذائی بحران سے شدید متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جہاں اگلے چند ماہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ میں ایتھوپیا، نائیجیریا، جنوبی سوڈان، یمن، افغانستان اور صومالیہ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا، اس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو بھوک اور اموات کا سامنا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف یوکرین کی صورتحال نے دنیا کی زندگی اور بھی مشکل میں ڈال دی ، اس وقت ایک ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ صورتحال غذائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سر اٹھانے والا غذائی بحران لاکھوں جانیں نگل سکتا ہے۔گلوبل فنڈز ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر سینڈز کا جی 20 وزرائے صحت کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صحت کے بحران کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہ کسی نئے جرثومے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ لوگ خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا زیادہ شکار ہوں گے۔ متعدی امراض، خوراک کی کمی اور توانائی کے بحران کے مجموعی اثرات کے باعث لاکھوں اموات معمول کی اموات کے علاوہ ہیں۔

     

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ خوراک کے بحران کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے صحت کی سہولتوں پر توجہ دیں، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے، ایسے افراد کو طبی مسائل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بنیادی صحت خصوصاً دیہات کے نظامِ صحت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہسپتال بھی اہمیت کے حامل ہیں تاہم جب اس قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو بنیادی صحت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ وسائل بھی صرف ہو گئے جو تپ دق سے بچانے کے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے باعث 2020ء میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2020ء میں دیکھا گیا کہ عالمی سطح پر 15 لاکھ افراد نے ٹی بی کا کم علاج کرایا جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگ نہ صرف مریں گے بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کریں گے۔

    مغرب اور یوکرین روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ یوکرین سے اجناس کی برآمد روکنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہا ہے جس سے عالمی سطح پر قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اجناس کی برآمد میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    اسی لاکھ کم سن بچے موت کے خطرے کا شکار

    پانچ برس تک کی عمر کے قریب 80 لاکھ بچے غذا کی قلت کے سبب موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ یہ بات بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ان 15 ممالک کے بچے ہیں جہاں اس وقت خوراک کی قلت ہے۔ ان میں افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق موت کے خطرے سے دوچار ایسے بچوں کی تعداد ہر منٹ بڑھ رہی ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے سبب عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔

     

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کا بیانیہ ختم ہو چکا ہے : ناصر حسین شاہ

    پی ٹی آئی کا بیانیہ ختم ہو چکا ہے : ناصر حسین شاہ

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ ختم ہوچکا ، اب تو ان کے پاس ویسے ہی کوئی بیانیہ نہیں،ان خیالات کا اظہارپاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے رہنما صوبائی وزیرناصرشاہ نے سینیئرصحافی مبشرلقمان سے بات کرتے ہوئے کیا ، ان کا کہنا تھاکہ جس طرح یہ بیانیہ بناتے رہے اب تو وہ بھی حقائق کھل کرسامنے آگئے ہیں

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان سے بات کرتے ہوئے ناصر شاہ نے مبشرلقمان کی ایک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے آسٹریلیا سے 16 لاکھ کے بدلے ٹرینڈ بنوائے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کایہ چہرہ بھی بے نقاب ہوا، ناصرشاہ نے کہا کہ اب تو ان کے پاس کوئی بیانیہ نہیں ہے

     

    مبشرلقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اناصر شاہ نے کہا کہ ان کا بیانیہ ختم ہوچکا یہی وجہ ہےکہ اسلام آباد کی طرف مارچ کا دعویٰ کرنے والوںکے پاس پنجاب ، سندھ اوردیگرعلاقوں سے لوگ ہی نہیں گئے جو بھی آئے وہ کے پی سے آئے ،مبشرلقمان نے ناصرشاہ کی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جس دن اسلام آباد کی طرف مارچ تھا اس دن پی ٹی آئی کے کئی لیڈر میرے گھر میں بیٹھ کرلنچ کرتےرہے ،

    مبشرلقمان کی گفتگو کوسمیٹتے ہوئے ناصرشاہ نے کہا کہ مبشرصاحب آپ ملکی اوربین الاقوامی حالات وواقعات اورسیاست سے اچھی طرح واقف ہیں ہم آپ کے پروگرام سے بیانیہ لے کراسے ثبوت کے طور پر پیش کرتےہیں ، ویسے بھی آپ حالات کو بہترسمجھتے ہیں ،اس پر مبشرلقمان نے ناصرشاہ کی متاثرکُن شخصیت کی کوالٹی بیان کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب ایک سمجھدارشخص ہیں