Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • الیکشن کمیشن نےوزیراعظم کوکہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنےسےروک دیا

    الیکشن کمیشن نےوزیراعظم کوکہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنےسےروک دیا

    لاہور: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کو کہوٹہ میں ڈیم کے افتتاح کرنے سے روک دیاالیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف 29جون کو کہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنے والے تھے یہ علاقہ حلقہ PP7راولپنڈی کی حدود میں شامل ہے۔

    ایف آئی اے کا شہبازشریف منی لانڈرنگ کیس کی پیروی نہ کرنیکا فیصلہ،

    صوبائی الیکشن کمشنر کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر PP-7 نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے رابطہ کیا، ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے وزیر اعظم نے ڈیم کا افتتاح منسوخ کر دیا۔

    شہبازشریف نے کشمیرپر ریفرنڈم کرانے کاعمران خان کا بیان مسترد کردیا

    صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ پرنسپل سیکرٹری نے وزیر اعظم کا دورہ منسوخ ہونے کے بارے میں آگاہ کر دیا، ضمنی انتخاب والے حلقہ میں عوامی عہدیداران کا دورہ کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے،

    شہبازشریف سے آصف زرداری کی ملاقات، اہم معاملات پر مشاورت

    واضح رہے کہ انتخابی قوانین کے تحت ضمنی انتخاب والے حلقہ میں عوامی عہدیداران کا دورہ کرنا اور الیکشن شیڈول آنے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ وطورپر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہے گا، ہم کسی کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اجازت دے سکتے۔

  • سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری: جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجےپرنہ پہنچ سکا

    سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری: جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجےپرنہ پہنچ سکا

    اسلام آباد: سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی زیرصدارت جاری جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا ہے، اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں 7 ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔

    پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشنل کمیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، جس کے باعث ججز کی تعیناتی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ویڈیولنک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےاجلاس میں ویڈیو لنک سے شرکت کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسپین اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ بار کونسل نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کو خط لکھ کر سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں پر تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    اسلام آباد میں ججز کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ہائی کورٹس کے لیے 5 ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اقبال احمد کاسی، شوکت علی رخشانی، گل حسن ترین، عامر نواز رانا اور سردار احمد حلیمی کی بطور جج تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

    اس موقع پر ججوں کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ہائی کورٹس کےلیے 5 ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ فہمیدہ مرزا سمیت تمام اراکین نے اتفاق رائے سے تمام ججوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

    ادھر اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پانچ گھنٹے طویل اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے فیصلے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم کورٹ میں ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہوگیا، جس میں سندھ ہائیکورٹ میں 7 ججز کی تعیناتی پر غور کیا گیا البتہ جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا جس پر تعیناتی کے معاملے کو فی الحال مؤخر کردیا گیا۔

    اجلاس میں ویڈیو لنک ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جوڈیشل کمیشن کے رکن قاضی فائز عیسیٰ نے اسپین سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔علاوہ ازیں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی لاہور سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شامل ہوئے۔ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم بارے بھی مشاورت بھی کی گئی۔

  • امریکہ:عدالت نےاسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نمازکی اجازت دیدی

    امریکہ:عدالت نےاسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نمازکی اجازت دیدی

    واشنگٹن:امریکا کی سپریم کورٹ نے اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی پابندی کو آئین کی پہلی ترمیم کے منافی قرار دیدیا جو ملازمین کے مذہبی عقائد کے احترام کو یقینی بناتی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں نے آج ایک بار پھر آئینی ترمیم کی دوبارہ تشریح کی جو سرکاری ملازمین کو کام کی جگہ اپنے عقیدے کے اظہار سے متعلق ہے۔

    امریکی وفاقی ججز نے اسکولوں سمیت تمام سرکاری عمارتوں میں مسلمان ملازمین کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ پابندی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے جو ملازمین کے عقائد کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔6 ججز نے باجماعت نماز کی اجازت دینے کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ 3 نے مخالفت کی۔یہ معاملہ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب واشنگٹن ہائی اسکول کے ایک سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی میچ کے بعد 50 گز کی لائن پر باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی وجہ سے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی نے اپنی برطرفی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انھوں نے نماز پڑھنے کی اجازت محض مذہبی رواداری کے تحت دی تھی جو آئین کی خلاف ورزی نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کی پہلی ترمیم حکومت کو “مذہب کے قیام کا احترام” کے خلاف کوئی قانون بنانے سے روکتی ہے۔ یہ شق ایسے حکومتی اقدامات پر بھی پابندی عائد کرتی ہے جو غیر ضروری طور پر ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دیتے ہیں۔

    جسٹس نیل گورسچ نے لکھا کہ آئین اور ہماری بہترین روایات باہمی احترام اور رواداری کا مشورہ دیتی ہیں، نہ کہ سنسر شپ اور دباؤ کا۔ فٹبال کوچ کو مختصر، پرسکون، ذاتی مذہبی پابندی میں مشغول ہونے پر سزا دی گئی۔

  • خیبرپختونخواہ حکومت نے ایڈہاک اساتذہ کومستقل کردیا:بیرسٹرسیف

    خیبرپختونخواہ حکومت نے ایڈہاک اساتذہ کومستقل کردیا:بیرسٹرسیف

    پشاور:کے پی حکومت نے سرکاری ملازمین سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کردیا،اس سلسلے میں ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے تمام ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ترجمان خیبرپختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیر میں اسکول کی دیوار گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا، واقعے میں ملوث اور ذمہ دار شخص پر ایف آئی آر درج کی گئی۔انہوں نے کہا کہ دیوار گرنے سے جان بحق بچی کے لواحقین کو 10 لاکھ اور زخمیوں کو 1، 1 لاکھ روپے کی رقم دی جائے گی، اسکول کا نام بھی شہید بچی جویرہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے تمام ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے، 57 ہزار 579 اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی گئی، کچھ اساتذہ بھرتی ہوئے ہے اور کچھ کی بھرتیاں بہت جلد کی جارہی ہیں۔

    ترجمان خیبرپختونخوا حکومت نے کہا کہ آر ٹی آئی سرکاری اور نیم سرکاری 42 اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہے، آلودگی اور روٹ پرمٹ سرٹیفکیٹ، فروٹ منڈی لائسنس اور دوسری چیزوں کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری بھی آر ٹی آئی کو دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ دریاؤں سے مائنگ نکالنے کے حوالے سے مائنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی، ترامیم کے تحت 5 سے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور متعلقہ کمپنی کو بلیک لسٹ بھی کیا جائے گا۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ پشاور کے حلقے این اے 3 میں واقع 12 ٹیوب ویلز کو ڈبلیو ایس ایس پی کو دینے کی منظوری دے دی ہے، جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سیکرٹری کو چیک پوسٹس قائم کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے خیبر پختوںخوا کے ایڈہاک ملازمین اور اساتذہ کابنی گالہ کے باہر ریگولرائزیشن کے حق میں دھرنادیا تھا،اس موقع پر خیبر پختونخوا کےایڈہاک ملازمین اور اساتذہ کا کہناتھا کہ جب تک مطالبات منظور نہیں کیے جاتے تب تک دھرناجاری رکھیں گے،مظاہرین نے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج مطالبات پورے نہ ہوئے تو بنی گالہ کے اندر جا کر مارچ کرینگے۔

    احتجاجی مظاہرے میں شریک ملازمین کا کہنا تھا کہ ہمیں بقایاجات اور انکریمنٹ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہونگے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے،مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب صوبے میں مستقل نوکریاں موجود ہیں تو انہیں ایڈ ہاک پر بھرتی کیوں کیا جا رہا ہے، حکومت ہمیں مستقل نوکری دے،سال 2018 سے 2022 تک ایڈ ہاک پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو مستقل کیا جائے اور سی پی فنڈ کو ختم کیا جائے۔

    اس وقت سابق وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بہت جلد ایڈہاک اساتذہ کو مستقل کردیا جائے گا،آج وہ وعدہ پورا کردیا گیا ہے

  • اگلے چند دنوں میں پاکستان واپس جاؤں گا:اسحاق ڈار کی تصدیق

    اگلے چند دنوں میں پاکستان واپس جاؤں گا:اسحاق ڈار کی تصدیق

    لاہور:پاکستان کی سیاست میں ایک اہم شخصیت کی انٹری ہونے جارہی ہے اوریہ سیاسی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیںَ اطلاعات ہیں‌کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اگلے چند دنون یعنی جولائی میں پاکستان واپس جاؤں گا، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فی الحال وہ رخت سفرباندھ رہے ہیں‌

    برطانوی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ (میرا) پاکستان واپسی کا ارادہ تقریباً کنفرم ہے۔ میری کی صحت کو درپیش چند مسائل کا علاج اگلے 12 روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے، ڈاکٹرز اگلے چند روز میں اُن کے علاج کے مکمل ہونے کے بارے میں پُرامید ہیں۔

    پاکستان میں کیسوں اور ضمانت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں لیگی سینیٹر نے کہا کہ اُن پر پاکستان میں ایک ہی کیس ہے جو عمران نیازی کی جانب سے دائر کیا جانے والا جعلی مقدمہ ہے۔مجھ پر جعلی کیس بنایا گیا اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ میرے ٹیکس ریٹرن پر بنایا گیا۔ ایسا شخص ہوں جو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کی جانب سے جب پاکستان لانے کے لیے انٹر پول سے رابطہ کیا گیا تو جو دستاویزات انٹرپول کو دی گئیں ان میں کوئی جان ہی نہیں تھی، اس لیے انٹر پول نے مجھے کلین چٹ دی۔

    حکومت کی معاشی پالیسیوں میں ان کے ممکنہ کردار اور وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان واپسی پر بطور سینیٹر حلف اٹھائیں گے۔ وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کا فیصلہ اُن کا نہیں ہو گا بلکہ یہ اُن کی پارٹی اور قیادت کا فیصلہ ہو گا کہ کس شخص کو کیا ذمہ داری دینی ہے۔

  • پرویز الٰہی ہی ہمارے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں:اوروہ ضرورجیتیں‌ گے:چوہدری شجاعت حسین

    پرویز الٰہی ہی ہمارے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں:اوروہ ضرورجیتیں‌ گے:چوہدری شجاعت حسین

    لاہور:پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کی حمایت کرنے کے ن لیگ کے دعوے کی تردید کردی ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پرویز الٰہی ہی ہمارے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں:اوروہ ضرورجیتیں‌ گے

    پنجاب اسمبلی میں‌ تازہ صورتحال پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صاف الفاظ میں واضح کرتا ہوں کہ چودھری پرویزالٰہی ہی وزارت اعلیٰ کے ہمارے امیدوار ہیں، ہمارے ارکان سپیکر پنجاب اسمبلی کو ووٹ دیں گے۔

    چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ غلط افواہیں پھیلا کر ہمارے کسی رکن اسمبلی کو غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے: مسلم لیگی ارکان پنجاب اسمبلی نے ہمیشہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی کی ہے، انشاء اللہ وہ چودھری پرویزالٰہی کی حمایت کریں گے۔چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں نے کبھی غلط بیانی نہیں کی، ہمیشہ صاف گوئی کا درس دیا ہے:اس طرح کی بے بنیاد افواہیں نہ پھیلائی جائیں۔

    دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ منحرف ارکان کو نکال کر دوبارہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ کروا لیتے ہیں،

    ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے حمزہ شہباز کے حلف اور گورنر کے اختیارات کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ حمزہ شہباز کے وکیل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ 14 اپریل کو تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ کے الیکشن کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، پھر سپریم کورٹ میں صدر پاکستان نے آرٹیکل 63 کی تشریح کے لئے ریفرنس دائر کر دیا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکومت سے ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جا سکتا ہے؟ منحرف ارکان کو نکال کر دوبارہ وزارت اعلیٰ کی ووٹنگ کروا لیتے ہیں، عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے، تحریک انصاف کے وکیل اور پنجاب حکومت ہدایات لے کر پیش ہوں،کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس پر لاہورہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا، ایسی صورت میں پولنگ وہی پریزائیڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی تھی۔

    پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز وزیراعلی نہیں ہیں، ان کی موجودگی میں الیکشن غیر آئینی ہو گا، انہیں ہٹا کر انتخابات کیلئے 10 روز کا وقت مقرر کیا جائے۔ جسٹس شاہد جمیل خان نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلی کے دوسرے انتخابات میں 25 اراکین کو نکال کر انتخابات کروانے ہیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ایک روز کی مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دن اور دے دیں تاکہ وزیر اعلی کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیں۔

    پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مہلت نا دی جائے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ایک روز کی مہلت دیتے ہوئے کل صبح دس بجے تک سماعت ملتوی کردی۔

  • شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    نیویارک:شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نےاپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ 1 مارچ 2011 سے31 مارچ 2021 کےدرمیان تقریباً 307,000 شہری مارے گئے،جو شام میں تنازعات سے متعلق شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے زیادہ تخمینہ ہے۔

    شام میں جنگوں اورباہمی لڑائی میں مارے جانے شہریوں کے اعدادوشمارجاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ اس کی رپورٹ میں شہری ہلاکتوں پر دستیاب اعداد و شمارجمع کرتے وقت تمام ٹیکنیکل پہلووں کی پاسداری کی گئی اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 سال کی مدت میں 306,887 شہری مارے گئے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہ "اس رپورٹ میں تنازعات سے متعلقہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار محض جسمانی تریخی اعداد کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ انفرادی انسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔”

    "ان 306,887 شہریوں میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے ان خاندانوں اور برادری پر گہرے، دہرانے والے اثرات مرتب ہوئے جس سے وہ تعلق رکھتے تھے۔”اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ رپورٹ کے تجزیے سے تنازع کی شدت اور پیمانے کا بھی واضح اندازہ ہو جائے گا، اور اس میں جنگجوؤں کی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

    اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نےحتمی قرار دیا تھا اور اس میں 143,350 شہریوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا گیا تھا جن کی تفصیلی معلومات کے ساتھ مختلف ذرائع نے انفرادی طور پر دستاویزات فراہم کی تھیں

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں کم از کم ان کا پورا نام، تاریخ اور موت کا مقام شامل ہے جس میں نقاط کو مربوط کرنے کے لیے شماریاتی تخمینہ لگانے کی تکنیک اور متعدد نظاموں کا تخمینہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے کچھ اہم پہلوغائب تھے

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے، مزید 163,537 شہری ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا گیا، جس سے مجموعی طور پر شہری ہلاکتوں کی تعداد 306,887 ہو گئی۔

    "ااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ کہتے ہیں کہس میں وہ بہت سے، بہت سے شہری شامل نہیں ہیں جو صحت کی دیکھ بھال، خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری انسانی حقوق تک رسائی نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے، جن کا جائزہ لیناابھی باقی ہے۔”رپورٹ میں کہا گیا کہ 306,887 کے تخمینے کا مطلب ہے کہ اوسطاً، ہر روز، پچھلے 10 سالوں میں، 83 شہری تنازعات کی وجہ سے پرتشدد موت کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ "گذشتہ 10 سالوں میں 1.5 فیصد شہری کل آبادی کا ان تنازعات میں مارے گئے

  • قطر:فیفا ورلڈکپ2022 کےلوگو والی نمبر پلیٹ کےاستعمال پر پابندی عائد

    قطر:فیفا ورلڈکپ2022 کےلوگو والی نمبر پلیٹ کےاستعمال پر پابندی عائد

    دوحہ :قطر نے فٹبال کے عالمی کپ ‘فیفا ورلڈکپ 2022’ کے لوگو والی مخصوص نمبر پلیٹوں کے اجراء کے بعد اپنے شہریوں کو گاڑیوں پر غیرقانونی نمبر پلیٹوں کے استعمال سے روک دیا ہے۔

    قطری وزارت داخلہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک پیغام میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ کا لوگو نقل کرکے چسپاں کرنا منع ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2022 میں سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹبال استعمال ہو گا

    ٹوئٹ میں مزیدکہا گیا ہےکہ گاڑیوں کی ایسی نمبر پلیٹیں جن پر ورلڈکپ کا لوگو چھپا ہوا ہے، فیفا سے طے شدہ شرائط کی بنیاد پر خاص نیلامی کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔

     

    فٹبال عالمی ورلڈکپ 2026 کے لیے میزبان شہروں کا اعلان

    قطری حکام کی جانب سے رواں برس مئی میں ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ لوگو والی 50 نمبر پلیٹوں کی نیلامی کی گئی تھی جن میں سب سے مہنگی نمبرپلیٹ 18لاکھ قطری ریال (494،000 ڈالرز) میں فروخت ہوئی تھی۔

    قطری حکام کے مطابق گذشتہ ماہ پیشگی اجازت کے بغیر ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ کے لوگو والے کپڑے فروخت کرنے والے پانچ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

    خیال رہےکہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا اور قطر رواں برس ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ کی میزبانی کر رہے ہیں، فٹبال کا یہ عالمی میلہ 21 نومبر سے 18 دسمبر تک قطر میں جاری رہے گا۔

    فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا

  • جنرل قمرجاوید باجوہ سےملاقات کرکےخوشی ہوئی:شہزادہ خالدبن سلمان

    جنرل قمرجاوید باجوہ سےملاقات کرکےخوشی ہوئی:شہزادہ خالدبن سلمان

    ریاض :سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالدبن سلمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کےکمانڈر جنرل قمر جاوید باجوہ سےملاقات کر کے خوشی ہوئی۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزادہ خالدبن سلمان نے کہا کہ ملاقات میں دفاعی، عسکری شعبےمیں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے لکھا کہ ملاقات میں مملکت اور پاکستان کےتاریخی تعلقات باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

     

    عرب نیوز کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالدبن سلمان کی اتوار کو جدہ میں ملاقات ہوئی۔اس موقع پر سعودی نائب وزیر دفاع کے دفتر کے ڈائریکٹر ہشام بن عبدالعزیز السیف اور پاکستان میں تعینات سعودی آرمی اتاشی میجر جنرل عوض بن عبداللہ الزھرانی بھی موجود تھے۔

     

    عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    یاد رہے کہ آج سعودی عرب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو "کنگ عبدالعزیزمیڈل آف ایکسیلینٹ کلاس” سے نواز دیا گیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کے دورے کیلئے جدہ پہنچے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ نے آرمی چیف سے ملاقات کی جس کے دوران دو طرفہ تعلقات، خاص طور پر عسکری شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز، نائب

     

    https://twitter.com/Saudi_Gazette/status/1540885307507150848?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1540885307507150848%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FPakistan%2F657507 وزیر دفاع سمیت سعودی چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض الرویلی اور دونوں جانب کے کئی سینئر حکام نے شرکت کی۔

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کیساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ مشقوں میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

  • شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں

    شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں

    لندن :شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق بی بی سی سنڈے ٹائمز کے حوالے سے کچھ اہم انکشافات کیے ہیں ، رپورٹ کے مطابق پرنس آف ویلز یعنی شہزادہ چارلس نے ایک سابق قطری وزیراعظم سے ایک ملین یورو کیش سے بھرا سوٹ کیس بطور تحفہ وصول کیا تھا۔ خبر کے مطابق یہ کیش رقم شیخ حمد بن جاسم کی طرف سے تین ملین یورو کے تین نقد عطیات میں سے تھی، جو شہزادے نے مختلف اوقات میں وصول کی ہے۔

    کلیرنس ہاؤس نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ سابق قطری وزیراعظم کی طرف سے وصول ہونے والے عطیات فوری طور پر شہزادے کے ایک خیراتی ادارے کو بھیج دیے گئے تھے اور یہ تمام عمل درست انداز میں سرانجام پایا۔خبر کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رقم غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔

    سنڈے ٹائمز کے مطابق شہزادہ چارلس نے سنہ 2011 اور سنہ 2015 کے درمیان سابق وزیر اعظم سے ذاتی طور پر تین نقد عطیات وصول کیے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک موقع پر کلیرنس ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں رقم ایک بیگ میں دی گئی تھی۔

    ایک اور اخبار کے دعوے کے مطابق یہ نقد رقم ڈیپارٹمنٹ اسٹور فورٹنم اور میسن کے کیریئر بیگز میں دی گئی تھی۔ سنڈے ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ پرنس آف ویلز نے سابق قطری وزیر اعظم سے ایک ملین یورو نقدی پر مشتمل سوٹ کیس قبول کیا۔

    کلیرنس ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’شیخ حمد بن جاسم کی طرف سے موصول ہونے والے خیراتی عطیات فوری طور پر شہزادے کے خیراتی اداروں میں سے ایک کو بھیجے گئے، جس نے مناسب طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں یقین دلایا کہ تمام عمل کی نگرانی کی گئی جو درست انداز میں طے پایا‘۔

    یہ فنڈز پرنس آف ویلز کے خیراتی فنڈ کے ذریعے موصول ہوئے جس کے بتائے گئے مقاصد میں تحفظ، تعلیم، صحت اور سماجی شمولیت جیسے شعبوں میں پیسے دے کر ’زندگیوں کو بدلنا اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر‘ کرنا شامل ہے۔

    اس سلسلے میں خیرانی ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ادارے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دیا گیا عطیہ جائز تھا اور اس کے آڈیٹرز نے عطیہ پر دستخط کر دیے تھے۔

    شہزادہ چارلس کے خیراتی اداروں کو دیے گئے عطیات حالیہ مہینوں میں اس الزام کے بعد زیرِبحث آئے ہیں کہ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے فلاحی ادارے نے عطیات کے بدلے ایک سعودی شہری کو برطانوی اعزازات حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔یاد رہے کہ اس کے باوجود میٹروپولیٹن پولیس نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ آنرز (پریویونشن آف ابیوزز) ایکٹ 1925 کے تحت اس الزام کی تحقیقات کر رہی ہے۔