Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • امریکا اور برطانیہ کا روسی سونے کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ

    امریکا اور برطانیہ کا روسی سونے کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ

    کیف:امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور جاپان نے روسی سونے کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا سمیت چاروں ممالک یوکرین میں جاری روسی جارحیت پر ماسکو کے فنڈز کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں جس کے لیے چاروں ممالک نے روس کے سونے کی درآمد پرپابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برطانیہ نے اس اقدام کو روسی صدر پیوٹن کی جنگی مشین کے دل پر حملہ قرار دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 میں روس کے سونے کی درآمد 15.4 بلین امریکی ڈالر رہی جب کہ اس صورتحال میں برطانیہ کا کہنا ہےکہ یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد سے پابندیوں سے بچنے کے لیے سونے کی درآمد اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

    روس پرپابندی کا یہ فیصلہ جرمنی میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر نے دیگر جی سیون ممالک کو یہ تجویز دی کہ جرمنی، فرانس اور اٹلی کو بھی روس پرپابندیاں عائد کرنے میں شامل ہونا چاہیے۔جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ جی سیون ممالک ایک ساتھ روسی سونے کی درآمد پر پابندی کا اعلان کریں گے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں پیوٹن کی حکومت اور اس کی فنڈنگ کو منجمد کرنے کی ضرورت ہے، برطانیہ اور اس کے اتحادی یہ کام کرنے جارہے ہیں۔

    اس سے پہلے خبروں میں بتایا گیاتھا کہ یوکرین کا دارالحکومت کیف ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیف میں 26 جون کو صبح سویرے 4 دھماکے سنے گئے، اور وسطی کیف میں 2 مقامات پر دھواں کچھ دیر کے لیے اٹھتا دیکھا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق کیف کو ایک بار پھر روس افواج نے بمباری کا نشانہ بنایا، دوران بمباری رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

    فضائی حملے کا الرٹ دارالحکومت میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5:47 بجے بجنا شروع ہوا، کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے دارالحکومت کے مرکزی ضلع شیوچینکیوسکی میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کی اور کہا کہ لوگوں کو دو اونچی عمارتوں سے ریسکیو کر کے نکالا گیا۔

    یوکرینی میڈیا نے یوکرینی ایئرفورس کمانڈ کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ روز بھی روسی افواج نے مغربی یوکرین میں اہداف کو سمندر سے کلیبر میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔ جب کہ شمالی یوکرین میں اہداف کے خلاف Kh-22 اور زمینی اسکندر اور Tochka-U میزائل استعمال کیے گئے۔ اسی طرح جنوبی یوکرین میں اہداف کے خلاف اونکس میزائل اور بیسشن کمپلیکس استعمال کیے گئے۔

    ایٹمی عالمی جنگ دستک دینے لگی:روس نے ایٹمی میزائل بیلاروس پہنچانے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق روسی صدر پیوتن نے کہا ہے کہ روس جوہری صلاحیت کے حامل مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم آنے والے مہینوں میں اپنے اتحادی بیلاروس کو فراہم کرے گا۔

    روس،یوکرین تنازعہ:جرمنی روسی گیس کےبغیر2ماہ سےزیادہ نہیں چل سکتا:ماہرین

    ولادی میر پوتن نے کہا کہ اسکندر- ایم سسٹم بیلسٹک اور کروز میزائل 500 کلومیٹر تک فائر کرنے صلاحیت رکھتا ہے چاہے وہ روایتی یا جوہری ہتھیار ہوں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ بیلاروس فضائیہ کو جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بیلاروس کو چند ماہ میں میزائل فراہم کر دئیے جائیں گے، میزائل 500 کلومیٹر تک ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت سے لیس ہیں۔

    روس سے محاذآرائی:یورپ میں گیس کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ

    اس سے پہلےروسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اپنے بیان میں کہا کہ حالات نے روسی بیلاروسی اتحاد کی ریاست کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا اور فوجیوں کی جنگی تیاریوں کو بڑھانا ضروری بنا دیا ہے۔روس رواں ہفتے جنگی سرگرمیوں میں اضافہ کر سکتا ہے، یوکرینی صدر سرگئی شوئیگو نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں بیلاروس کے وزیر دفاع وکٹر ہرینن سے ملاقات کی ہے۔

    مذاکرات سے قبل شوئیگو نے کہا کہ بیلاروس ان کے ملک کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر، قریبی دوست اور اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس اور بیلاروس کے درمیان دوطرفہ فوجی تعاون مغرب کے بے مثال دباؤ اور ان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کے حالات کے تحت پروان چڑھا ہے۔

    روس کا ایک اور یوکرینی شہر پر مکمل قبضے کا دعویٰ

    شوئیگو نے کہا کہ وہ بیلاروس کو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے خلاف متحد دفاعی علاقہ بنانے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔

  • مسجد نبویﷺ کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری وفات پا گئے

    مسجد نبویﷺ کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری وفات پا گئے

    ریاض:کل ہفتے کے روز مسجد نبوی کے سابق امام اور خطیب اور مسجد قبلتین کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری طویل علالت کے بعدوفات گئے۔ الشیخ محمود خلیل کو چند روز قبل تکلیف کے بعد سعودی عرب کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ کل ہفتےکی شام خالق حقیقی سے جا ملے۔

     

    وزیراعظم عمران خان کی مسجد نبوی میں روضہ رسول ﷺ پر حاضری:ملک وقوم کی سلامتی کی…

    وزیر مذہبی امور کا اظہار افسوس مسجد نبوی ﷺ کے سابق امام الشیخ محمود القاری کی وفات پرسعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے "ٹویٹر” پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "ہمیں انتہائی افسوسناک خبر ملی کہ ممتاز عالم دین الشیخ محمود القاری انتقال کرگئے ہیں۔ مرحوم نے پوری زندگی مسجد نبوی اور مسجد قبلتین میں امامت اور خطابت میں بسر کی۔ وزیر مذہبی امور نے مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

    وزیراعظم عمران خان کی مدینہ منورہ آمد ، مسجد نبوی ﷺ میں حاضری اور نوافل ادا کیے ،…

    قابل ذکر ہے کہ محمود خلیل القاری مسجد نبوی کے امام اور مدینہ کی مسجد قبلتین کے امام رہے ہیں۔ وہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

    الشیخ ابو ابراہیم کنیت اختیار کی اور دس سال کی عمر قرآن کریم حفظ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد قاری خلیل القاری سے قرآن پاک کی سند حاصل کی۔ مدینہ میں تحفیظ القرآن پرائیویٹ اسکولوں میں ابتدائی، مڈل اور ثانوی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نےفیکلٹی آف ہولی قرآن اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں بیچلر کی تعلیم مکمل کی اور مسجد نبوی میں امامت کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہوگئے

    خادمین حرمین شریفین اور سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ…

  • ‏عمران خان کی حکومت نے پاکستان کے خاتمے کو اپنا ایجنڈا بنایا،مولانا فضل الرحمان

    ‏عمران خان کی حکومت نے پاکستان کے خاتمے کو اپنا ایجنڈا بنایا،مولانا فضل الرحمان

    راولپنڈی :‏عمران خان کی حکومت نے پاکستان کے خاتمے کو اپنا ایجنڈا بنایا،اطلاعات کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بیرونی ایجنڈے کے تحت سی پیک منصوبے کو پس پشت ڈالا گیا۔ ہم ملک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ آئی ایم ایف اور فیٹف کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

    راولپنڈی میں حکیم ملت سیمنار کی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سی پیک کوناکام بناناپاکستان کومعاشی لحاظ سےکمزوربنانا تھا۔ بیرونی ایجنڈے کے تحت سی پیک منصوبے کو پس پشت ڈالا گیا۔ ہم ملک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ گزشتہ حکومت ناجائزاوردھاندلی سےآئی تھی۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئی ایم ایف اور فیٹف کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ گوادر منصوبے کوتباہ و برباد کر دیا گیا۔ امریکہ نے بھی دھمکی آمیزخط کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک اسلام کا خاتمہ کرنا چاہتےہیں، مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور مغربی ممالک بھی جانتے ہیں اور ہم بھی انہیں جانتے ہیں۔ ہمارے سیاست دان مفاد پرست ہوتے ہیں

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

    کراچی: سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران 14 اضلاع میں میدان اتوار کو سجے گا جبکہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری نے اپنے اپنے امیدواروں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

    لاڑکانہ ڈویژن کے 5 اضلاع جیکب آباد، کشمور، شکارپور، لاڑکانہ، شہداد کوٹ جبکہ سکھر ڈویژن کے تین اضلاع خیرپور، سکھر، گھوٹکی میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے۔

    شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے تین اضلاع شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، نوشہرو فیروز، میرپورخاص ڈویژن کے3اضلاع میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکرمیں بھی پولنگ ہوگی جہاں انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

    متعلقہ حلقوں میں پولنگ کے سامان کی ترسیل جاری ہے، مختلف ڈویژنز سے ایک ہزار ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ ‏سندھ کی 4 ڈویژنز میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ہمارے امیدواروں کو ہراساں کرنے، سپریم کورٹ کےاحکامات کی روشنی میں آرٹیکل140-A کے تحت اختیارات کی مقامی نمائندوں تک منتقلی سے گریز کے باوجود ہم حصہ لے رہے ہیں۔ سندھ کے لوگوں سے میری اپیل ہے تحریک انصاف کےامیدواروں کو ووٹ دیں اور زرداری مافیا کا صفایا کر دیں۔

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے، سندھ کی باشعور عوام صوبے میں جاری بینظیر ترقی کے تسلسل کو ووٹ دیں گے، عوامی مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا پی پی پی کا منشور ہے، صحت، تعلیم اور محنت کش عوام کے لیے سوشل سکیورٹی کے حوالے سے سندھ کی کارکردگی بے مثال ہے، پی پی پی قیادت نے عوام سے جو جو وعدے کیے، وہ ہمیشہ پورے کرکے دکھائے، میرے امیدوار وہی ہیں، جن کا نشان تیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، جیکب آباد، گھوٹکی، قمبر، شہداد کوٹ، کشمور، کندھ کوٹ کی عوام تیر کو ووٹ دیں، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کی عوام تیر پر مہر لگائیں، عوام بلدیاتی انتخابات میں تیر پر مہر لگا کر میرے ہاتھ مضبوط کریں، سندھ کے عوام کل ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سازشی و شیطانی ٹولوں کی ضمانتیں ضبط کرادیں، انشاللہ تمام اضلاع میں کل جیالے امیدوار کامیاب ہونگے، یقین دلاتا ہوں کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں پی پی پی کی کامیابی بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور عوامی مسائل کے حل کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگی۔

  • پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے بجٹ مسترد کردیا

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے بجٹ مسترد کردیا

    اسلام آباد:پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے بجٹ 23-2022ء کو مسترد کردیا۔ چیئرمین بدر خوشنود نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے، امید ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ ساز آئی ٹی انڈسٹری کے چیلنجز کو سمجھیں گے اور ایک بہتر اور مضبوط پاکستان کیلئے پالیسی کے تسلسل کو آسان بنائیں گے۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پی ایٹ شا) ایک ہزار سے زیادہ آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس ممبر کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، جس نے بجٹ23-2022ء کو سختی سے مسترد کردیا۔

    پی ایٹ شا کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے آئی ٹی اور آئی ٹی سے چلنے والی خدمات کی برآمدات کیلئے 15 ارب امریکی ڈالر کا ہدف دینے کے پُرجوش ریمارکس کے باوجود حالیہ بجٹ میں اس سیکٹر کو یکسر نظر انداز کردیا گیا، جس نے اس ہدف کو پورا کرنے کی صنعت کی صلاحیت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پی ایٹ شا) کے چیئرمین بدر خوشنود کا کہنا ہے کہ فی الحال لاگو رجعت پسند ٹیکسیشن نظام پہلے ہی آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ہے، اس سال 3.5 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کا ہدف بھی ناکارہ ٹیکس نظام کی وجہ سے حاصل نہیں ہورہا۔

    انہوں نے بتایا کہ موجودہ نمو کو متحرک کرنے کیلئے آئی ٹی انڈسٹری کو زیادہ اور بہتر ترغیبات کے ساتھ سہولیات کی فراہمی کے بجائے پہلے اعلان کردہ واحد فائدہ یعنی 2025ء تک ‘ٹیکس سے چھوٹ’ کو بھی اچانک مسترد کرتے ہوئے منسوخ کردیا گیا ہے، یہ ایک نئے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے برآمدات والے شعبے کیلئے تباہی کا نسخہ ہے۔

    بدر خورشید کا مزید کہنا ہے کہ 2021ء میں آئی ٹی انڈسٹری نے 2.1 ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کا ہدف عبور کیا، اس صنعت کو 75 فیصد تجارتی سرپلس کے ساتھ پاکستان کی واحد برآمدی صنعت ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے کیونکہ آئی ٹی کی برآمدات کیلئے اہم خام مال ‘ہنر مند انسانی صلاحیت’ ہے جو ملک میں پہلے سے موجود ہے، لہٰذا آئی ٹی کو بڑھانے کیلئے کسی درآمد کی ضرورت نہیں، خدمات کی برآمدات 6 لاکھ پیشہ ور افراد اور فری لانسرز اور 10 ہزار سے زیادہ کمپنیوں کے روزگار کو سپورٹ کرتے ہوئے آئی ٹی انڈسٹری پاکستان میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی صنعت ثابت ہوئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی سیکٹڑ نے پاکستان کیلئے ایک مضبوط، خود انحصاری اور پائیدار مالیاتی مستقبل کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، 2022ء میں آئی ٹی انڈسٹری تمام روایتی شعبوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دوسرا سب سے بڑا برآمدی شعبہ بننے کی اُمید ہے۔

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کی شاندار کارکردگی کو اینٹی آئی ٹی بجٹ کی شکل میں زبردست اور سخت حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس نے پاکستان کے ڈیجیٹل یعنی آئی ٹی، آئی ٹی ای ایس، اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور ای کامرس انڈسٹری کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    پی ایٹ شا کے مطابق پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے بجائے بجٹ کے مسودے نے آئی ٹی انڈسٹری میں نا صرف بے یقینی اور مایوسی کی لہر پھیلائی ہے بلکہ اس نے حکومت کی سمجھ بوجھ اور سیاسی عزم کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے کہ وہ وسائل کی ضروریات کی کم سے کم مقدار کے ساتھ کم سے کم وقت میں بحران اور معاشی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت والے واحد شعبے کو سپورٹ کرے۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشنز اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کا بجٹ مسودہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے مثالی تعاون کے مثبت نتائج کی عکاسی کرنے میں ناکام رہا ہے، ہمارے لئے یہ بات اجاگر کرنا ضروری ہے کہ اس بجٹ میں آئی ٹی انڈسٹری کی ایک بھی مانگ پوری نہیں کی گئی۔

    پی ایٹ شا کے مطابق پہلے اعلان کردہ پیکیجز کو ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا اور اچانک نقصاندہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے آئی ٹی انڈسٹری کو پاکستان کی سیاسی اور معاشی بدحالی کے نقصانات کا تازہ ترین نشانہ قرار دیا۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کے کاموں میں اکثر غیر ملکی کلائنٹس شامل ہوتے ہیں، بجٹ میں اس طرح کی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور سرمایہ لانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔

    ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے، پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری نے پہلے ہی پاکستان کو تبدیل کرنے کی اپنی ترقی کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے جبکہ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں بھی پیدا کی ہیں۔

    بدر خوشنود نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بہت ہی مختصر وقت ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، امید ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ ساز آئی ٹی انڈسٹری کے چیلنجز کو سمجھیں گے اور ایک بہتر اور مضبوط پاکستان کیلئے پالیسی کے تسلسل کو آسان بنائیں گے۔

  • سپین نے خوسے انتونیو اورے کو پاکستان میں سفیر مقرر کردیا

    سپین نے خوسے انتونیو اورے کو پاکستان میں سفیر مقرر کردیا

    اسلام آباد:ہسپانوی حکومت نے پاکستان میں ہسپانوی سفارتخانے کے لئے نئے سفیر خوسے انتونیو کو نامزد کیاہے۔ ذرائع کے مطابق خوسے انتونیو جولائی کے پہلے ہفتے میں پاکستان روانہ ہوں گے۔

    میڈرڈ میں پیدا ہونے والے خوسے انتونیو1990 سے سفارتکاری کے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کے مشنز، یونیسکو کے ہیون رائٹس آفس مین ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ بگوتا، کولمبیا، اور دہلی میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

    سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے وفد نے نامزد سفیر سے مادرید میں ملاقات کی۔ نیوز ڈپلومیسی سے بات کرتے ہوئے سیاسی و سماجی رہنما اقبال چوہدری نے کہاکہ ملاقات میں پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان میں سپین ایمبیسی میں درپیش مسائل لے حوالے سے آگاہ کیاگیاہے۔ جن میں فیملی ریگروپاسیون کے کیسزمیں تاخیر، نیشنلٹی رکھنے والے پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور کاغذات کی تصدیق جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے.
    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترکی کے نامزد سفیر مہمت پاکیچی رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے۔تفصیلات کے مطابق مہمت پاکیچی موجود ترک سفیر احسان مصطفی یرداکل کی جگہ لیں گے، رواں ہفتے احسان مصطفی یرداکل کی وطن واپسی متوقع ہے، مہمت پاکیچی کا شمار ترک صدر رچپ طیپ اردوان کے قابلِ اعتماد حلقوں میں ہوتا ہے۔


    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مہمت پاکیچی نے انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ تھیالوجی ( دینیات) میں پی ایچ ڈی کر رکھا ہے، نامزد ترک سفیر انقرہ یونیورسٹی میں 1983 سے 2007 تک تدریس اور اکادیمیہ سے بھی منسلک رہے ہیں، مہمت پاکیچی 2014 سے 2019 تک ہولی سی میں بطور ترک سفیر ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں۔

    وہ انقرہ میں ایوان صدارت کے شعبہ مزہبی امور میں بطور ڈی جی خارجہ امور بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں، مہمت پاکیچی ترکی کے ایوان صدارت کے شعبہ مذہبی امور کی جانب سے بطور خصوصی ایلچی واشنگٹن ڈی سی میں ترک سفارت خانے میں بھی کام کر چکے ہیں۔

    مہمت پاکیچی کو دور جدید میں قرآن پاک سے متعلق سوالات کی تشریح اور تفسیر میں خصوصی مہارت حاصل ہے، پاکستان پہنچنے کے بعد نامزد ترک سفیر اپنی سفارتی اسناد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو پیش کریں گے۔

  • جدید جوہدری ہتھیاروں کی تیاری:امریکہ اوربرطانیہ کے درمیان 12 ارب ڈالرز کامعاہدہ

    جدید جوہدری ہتھیاروں کی تیاری:امریکہ اوربرطانیہ کے درمیان 12 ارب ڈالرز کامعاہدہ

    امریکی محکمہ دفاع نے جوہری صلاحیت کے حامل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹمز (ICBM) کوعملی جامہ پہنانے کے لیے 12 بلین ڈالر مالیت سب سے بڑا ہتھیار بنانے والی برطانوی کمپنی BAE Systems کی مدد کی ہے، پینٹاگون نےاعلان کیا کہ اس بڑے معاہدے سے متعلق کام 2040 کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے اور یہ زیادہ تر مغربی ریاست یوٹاہ میں ہل ایئر فورس بیس پر کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق BAE طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے معاہدے کے لیے بولی لگانے والے پانچ فوجی کنٹریکٹرز میں سے ایک تھا۔

    یہ رپورٹ جو بائیڈن انتظامیہ کے مالی سال 2023 کے مجوزہ بجٹ کے تقریباً تین ماہ بعد سامنے آئی ہے – جو 28 مارچ کو جاری کیا گیا تھا – جس میں جوہری ہتھیاروں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس میں گراؤنڈ بیسڈ اسٹریٹجک ڈیٹرنٹ (GBSD) ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹم بھی شامل ہے۔

    ناقدین اور نیوکلیئر مخالف ماہرین نے اس وقت کہا تھا کہ صدر بائیڈن پڑوسی ملک یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کو ڈیٹرنس کی ضرورت کا دعویٰ کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھاری اخراجات کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا تھا کہ جی بی ایس ڈی، بائیڈن کی 2023 کے بجٹ کی تجویز سے پہلے اور روس کے یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے اچھی طرح سے حرکت میں تھا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس تنازعے کو اس پالیسی کے جواز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا جسے امریکی صدر پہلے ہی نافذ کر چکے ہوتے۔

    پینٹاگون کے بجٹ کی تجویز کے خلاصے کے مطابق اس میں "جوہری ٹرائیڈ کے تینوں پیروں کو دوبارہ سرمایہ کاری کرنے” کے لیے 34.4 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا ہے – یہ آبدوزوں، بمباروں اور زمین پر چلنے والے بین البراعظمی میزائلوں سے متعلقہ ہے جو امریکی فوج کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر مشتمل ہے۔

    مقامی پریس آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا کہ GBSD اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ میزائل امریکی ریاستوں میں مزید 50 سال تک تعینات رہیں۔

    بجٹ میں GBSD کے لیے 3.6 بلین ڈالر کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جو کہ کولوراڈو، مونٹانا، نیبراسکا، نارتھ ڈکوٹا اور وومنگ میں موجود عمر رسیدہ منٹ مین III ICBMs کی جگہ لے گا۔ بجٹ میں لانچنگ سہولیات اور کنٹرول سینٹرز، ٹیسٹ لانچ میزائل اور دیگر انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا جائے گا۔

    یادرہےکہ دنیا کے جوہری ہتھیاروں کا 90 فیصد حصہ امریکہ اور روس کے پاس ہے۔جوہری ہتھیاروں میں مجوزہ امریکی سرمایہ کاری فوجی اخراجات اور قانون کے نفاذ کے لیے اعلیٰ بجٹ کی خطوط پر آتی ہے۔ مجموعی طور پر، بائیڈن انتظامیہ "قومی سلامتی” کے اخراجات میں 813.3 بلین ڈالر کی درخواست کر رہی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 31 بلین ڈالر زیادہ ہے۔

     

    BAE کے ساتھ بہت بڑا میزائل معاہدہ امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی طرف سے ملک کے فوجی بجٹ کو مزید 37 بلین ڈالر بڑھانے کی تجویز منظور کرنے کے صرف دو دن بعد سامنے آیا ہے جو بائیڈن کے تجویز کردہ ریکارڈ 773 بلین ڈالر کے اوپر ہے۔

    نیو یارک میں قائم کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر فار نیوکلیئر اسٹڈیز کی 9 جولائی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، بڑے پیمانے پر تباہ کن ہتھیاروں پر امریکی اخراجات 2046 میں مکمل ہونے تک "2017 میں 1.2 ٹریلین ڈالر” تک پہنچ جائیں گے۔

    ملک کے جوہری ہتھیاروں کو تبدیل کرنے اور اسے جدید بنانے کے لیے ایک "مسلسل دباؤ” رہا ہے۔ آج کے کھربوں ڈالر کی سرکاری فنڈنگ ​​کئی دہائیوں کے دوران ہتھیاروں کی نئی اقسام کی ترقی سے لے کر ڈیلیوری کے ابتدائی نظام تک کے منصوبوں میں ڈالی جا چکی ہے۔

  • عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    دبئی ::ریاض:::عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی مضبوط پوزیشن برقرار،دنیا کی معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کرنے والے اداروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ دنیائے عرب میں سعودی عرب آج بھی پہلی مضبوط معاشی قوت کے ساتھ پہلے نمبرپر ہے،اوریہ سفر جاری وساری ہے،

     

    عرب نیوز کے مطابق عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب معیشت میں سعودی عرب کا حصہ 2021 میں 0.4 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا کیونکہ مملکت نے خطے کے سب سے بڑے اقتصادی پلیئر کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال 833.5 بلین ڈالر کی گھریلو پیداوار ریکارڈ کی، جو پورے عرب خطے کے 29.7 فیصد کے برابر ہے۔

    متحدہ عرب امارات 410 بلین ڈالر کے ساتھ دوسری سب سے بڑی عرب معیشت تھی، جب کہ مصر 402.8 بلین ڈالر کی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ احمد الصبیح نے 2022 میں مسلسل ترقی کی توقع ظاہر کی ہے، خاص طور پر 2021 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2022 کی پہلی سہ ماہی کے دوران خطے میں درآمد کیے گئے غیرملکی منصوبوں کی مالیت میں 86 فیصد اضافے کے بعد 21 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ عرب معیشت نے مجموعی طور پر2.1 ٹریلین ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار کے ساتھ دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں براہ راست اضافہ ہوا۔ آمدن میں سال بہ سال 43 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً 53 بلین ڈالر کے برابر ہے۔اس سے ایف ڈی آئی کل تقریباً 1.58 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ آمد ورفت ترقی پذیر ممالک میں آنے والے بہاؤ کا 6.3 فیصد اور عالمی بہاؤ کا 3.3 فیصد ہے۔96 فیصد سے زیادہ بڑھی ہوئی رقوم صرف پانچ ممالک میں مرکوز ہیں، جس کی قیادت متحدہ عرب امارات کے پاس 20.7 بلین ڈالر ہے اور اس کے بعد سعودی عرب 19.3 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے سالانہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مصر 5.1 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد عمان 3.6 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اور مراکش 2.2 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

    اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی کے ڈیٹا کے مطابق عرب ممالک کو موصول ہونے والا ایف ڈی آئی بیلنس 2021 کے آخر میں 958 بلین ڈالر سے بڑھ کر ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گیا۔سعودی عرب 261 بلین ڈالر کے ساتھ عرب رینکنگ میں سرفہرست ہے، جو عربوں کی مجموعی رقم کا 26 فیصد ہے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات 171.6 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور مصر 137.5 بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

  • روسی ساختہ میزائل کا یو ٹرن،واپس آکر اپنے ہی لانچر سے ٹکرا گیا

    روسی ساختہ میزائل کا یو ٹرن،واپس آکر اپنے ہی لانچر سے ٹکرا گیا

    کیف:روسی افواج کوسخت صدمہ جب روسی ساختہ میزائل یو ٹرن مارتے ہوئے واپس آکر اپنے ہی لانچر سے ٹکرا گیا۔اطلاعات کے مطابق غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی ائیر ڈیفنس میزائل کے واپس لانچر سے ٹکرانے کا واقع جمعے کے روز یوکرین کے شہر سیویر وڈونتسک(Severodonetsk) سے تقریباً 55 میل جنوب میں الچیوسک کے قریب علاقے میں پیش آیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ میزائل سسٹم ممکنہ طور پر ایک S300 تھا جسے یوکرین کے روسی علیحدگی پسند لوہانسک سے آپریٹ کر رہے تھے۔اس حادثے سے متعلق نقصان کی تفصیلات کا انتظارہے

    میزائل میں خرابی کی وجہ واضح نہیں ہوسکی تاہم خیال کیا جارہا ہے کہ اس کی وجہ یوکرین کے ڈرون کی ہیکنگ یا جیمنگ ہو سکتی ہے۔

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے کے ٹکرانے کی وجہ سے آگ رہائشی عمارتوں سے دور سے بھڑک اٹھی جبکہ اس حادثے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    یاد رہے کہ روس کی طرف سے ابھی تک ان خبروں کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ تردید اس لیے اب روس کی طرف سے مزید تفصیلات کا انتظارہے