Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • مریم نواز نےحمزہ شہباز کووزیراعلیٰ کی مسند پربٹھانے کے لیےعوام کوکال دے دی

    مریم نواز نےحمزہ شہباز کووزیراعلیٰ کی مسند پربٹھانے کے لیےعوام کوکال دے دی

    لاہور:مریم نواز نے حمزہ شہباز کووزیراعلیٰ کی مسند پربٹھانے کے لیےعوام کوکال دے دی،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے عوام کو کال دے دی ہے کہ وہ نکلیں اور حمزہ شہباز جیسے حقیقی عوامی لیڈرکووزیراعلیٰ کی مسند تک پہنچانے میں کردار ادا کریں

    اس حوالے سے نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کی عوام اب اپنی تقدیر بدلنے کے لیے حمزہ شہبازکوخدمت کا موقع دیں

    مریم نواز نے اس دوران عمران خان کی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے آنے سےہرچیز بڑی مہنگی ہوگئی ہے ، اور پٹرول گیس سمیت دیگراشیا عوام الناس کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں‌

    مریم نواز نے مزید کہ میں پاکستان کی بیٹی ہوں لیکن میری پیدائش پنجاب کی دھرتی پر ہوئی ہے.ہم نے پنجاب کے عوام کیلیے سٹینڈ لیا ہے انہیں انکے اصل نمائندے حمزہ شہباز تک پہنچایا ہے پنجاب کے عوام اٹھو اور اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھوں میں لو.

    مریم نواز نے کہاکہ نوازشریف کے دور میں 55 روپے فروخت ہونے والی چینی اب عوام کی پہنچ سے دور ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار میں اگئے تو عوام الناس کو ہرقسم کا ریلیف دیں گے

    ادھر رات کو گلبرگ کےہوٹل میں حمزہ شہبازوزیراعلیٰ بن گئے:حمایت میں199ووٹ ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کو خاردار تاروں سے سیل کرنے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں علامتی اجلاس کا انعقاد، مریم نواز اور دیگر ارکان بس میں سوار ہوکر ہوٹل پہنچے جہاں پر حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار کی قرارداد اکثریت سے منظور کر لی گئی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کیلئے پنجاب اسمبلی جانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وہ مقامی ہوٹل پہنچیں، اجلاس میں حمزہ شہباز کو بطور وزیراعلیٰ 199 ووٹ ملے۔

    مریم اور حمزہ ارکان پنجاب اسمبلی سے اظہار یکجہتی کیلئے بس میں سوار ہوئے۔ اس دوران مریم نواز ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتی رہیں۔

    مقامی ہوٹل میں ن لیگ،علیم خان گروپ، ترین گروپ اور چھینہ گروپ کے اراکین بھی پہنچے۔اس موقع پر ترین گروپ کے عون چوہدری بھی نجی ہوٹل پہنچے اور انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین دو تین روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

  • اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباو  بڑھانےکیلیے100 سےزائدخط لکھوا دیے

    اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباو بڑھانےکیلیے100 سےزائدخط لکھوا دیے

    اسلام آباد :اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباوبڑھانےکیلیے100 سےزائد شخصیات سےخط لکھوا دیے ،اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ کر ’نظریہ ضرورت‘ دفن کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    پاکستان کی 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام کھلا خط لکھ کر ‘نظریہ ضرورت’ دفن کرنے کا مطالبہ کردیا ۔

    100 سے زائد ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان کے نام کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری کے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی قانونی حیثیت کے معاملےمیں آئین اورقانون پر سمجھوتہ نہ کیاجائے ۔

    خط کے مصنفین نےگزشتہ حکومت کے مجوزہ فیصلوں کو قوم کی فلاح وبہبود اور یگانگت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیصلوں کے غیرقانونی پائے جانے کی صورت میں ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔

    خط میں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سابقہ حکومت کے خلاف بیرونی سازش کے الزامات کے بارے میں ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

    اس کے عللاوہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیرثابت شدہ الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمانی عمل کو معطل اور اراکین پارلیمنٹ کے حق رائے شماری کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ آج آئین کے تقدس کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ہماری قومی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کرےگا اور ہماری آئندہ نسل کی عزت و آبروہ اور خوشحالی کا دارومدار صرف آئین کی بالادستی اور ایسی سیاست کے فروغ میں ہے جس میں باہمی احترام اور شائستگی کے اجزا شامل ہوں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی تاہم ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک کو آئین کے خلاف قرار دے کر مسترد کردیا۔

    قرارداد مسترد ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے خطاب میں صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کرنے کا کہا جس کے بعد صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔

    ادھر ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خط لکھوائے گئے ہیں اور ان خطوط کے پیچھے اپوزیشن کی جماعتیں ہیں جو سپریم کورٹ پردباو بڑھا کرڈپٹی اسپیکر کی ولنگ کو ختم کرانا چاہتی ہیں

  • فلیٹیزہوٹل کے وزیراعلیٰ مبارک ہو:مونس الٰہی کی حمزہ کومبارکباد

    فلیٹیزہوٹل کے وزیراعلیٰ مبارک ہو:مونس الٰہی کی حمزہ کومبارکباد

    لاہور: فلیٹیزہوٹل کے وزیراعلیٰ مبارک ہو:مونس الٰہی نےحمزہ کومبارکباد دے دی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے علامتی اجلاس میں 199 ارکان نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔

    قرارداد پاس ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے نامزد امیدوار پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

     

    اپنی ٹوئٹ میں مونس الٰہی کا کہنا تھاکہ فلیٹیز ہوٹل کا وزیراعلیٰ بننے پر حمزہ شہباز کو مبارک ہو۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پہلے 6 اپریل کو ہونے والا اجلاس 16 اپریل کو بلانے کا اعلامیہ جاری کیا اور پھر رات دیر گئے اجلاس کی تاریخ دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے 6 اپریل کی۔

    مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اجلاس 6 اپریل کو بلانے کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

     

     

     

    آج حکومت نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی اور ساتھ ہی پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کردیے گئے۔

    پنجاب اسمبلی کے علامتی اجلاس میں 199 ارکان نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔

    قرارداد پاس ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے نامزد امیدوار پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پہلے 6 اپریل کو ہونے والا اجلاس 16 اپریل کو بلانے کا اعلامیہ جاری کیا اور پھر رات دیر گئے اجلاس کی تاریخ دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے 6 اپریل کی۔

    پنجاب اسمبلی کا علامتی اجلاس، 199 ارکان نے حمزہ کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی قرارداد منظور کرلی

    مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اجلاس 6 اپریل کو بلانے کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    آج حکومت نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی اور ساتھ ہی پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کردیے گئے۔

     

  • گلبرگ کےہوٹل میں حمزہ شہبازوزیراعلیٰ بن گئے:حمایت میں199ووٹ

    گلبرگ کےہوٹل میں حمزہ شہبازوزیراعلیٰ بن گئے:حمایت میں199ووٹ

    لاہور:گلبرگ کےہوٹل میں حمزہ شہبازوزیراعلیٰ بن گئے:حمایت میں199ووٹ ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کو خاردار تاروں سے سیل کرنے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں علامتی اجلاس کا انعقاد، مریم نواز اور دیگر ارکان بس میں سوار ہوکر ہوٹل پہنچے جہاں پر حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار کی قرارداد اکثریت سے منظور کر لی گئی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کیلئے پنجاب اسمبلی جانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وہ مقامی ہوٹل پہنچیں، اجلاس میں حمزہ شہباز کو بطور وزیراعلیٰ 199 ووٹ ملے۔

    مریم اور حمزہ ارکان پنجاب اسمبلی سے اظہار یکجہتی کیلئے بس میں سوار ہوئے۔ اس دوران مریم نواز ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتی رہیں۔

    مقامی ہوٹل میں ن لیگ،علیم خان گروپ، ترین گروپ اور چھینہ گروپ کے اراکین بھی پہنچے۔اس موقع پر ترین گروپ کے عون چوہدری بھی نجی ہوٹل پہنچے اور انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین دو تین روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

    اجلاس میں شرکت کے لئے نون لیگ کے اراکین میں بلال یایسن، خواجہ عمران نذیر، رانا مشہود، غزالی بٹ، رانا محمد اقبال، میاں مرغوب احمد، میاں مجتبیٰ شجاع ، منشاء اللہ بٹ، خلیل طاہر سندھو، ملک ندیم کامران بھی شریک ہوئے۔
    اجلاس سے خطاب میں حمزہ شہباز نے کہا کہ ایوان کی عزت کاحلف اٹھانےوالے نےاسمبلی کےدروازے بند کر دیئے ہیں عمران نیازی کو وزیراعظم کہنے کو دل نہیں کرتا پاکستان کی تقدیر اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے اسٹاک ایکس چینج زمین بوس ہوگئی ہے علیم خان کو گرفتار کیا گیا اور جہانگیرترین ان کے بچوں پر مقدمات بنا کر انتقام لیا گیا۔

    اجلاس میں قرارداد پاس ہونے پر مریم نواز نے حمزہ شہبازکو مبارکباد دی۔

  • پہلےالیکشن کا مطالبہ تھا اوراب راہ فرار:آخرکیا مسئلہ ہے:عدالت

    پہلےالیکشن کا مطالبہ تھا اوراب راہ فرار:آخرکیا مسئلہ ہے:عدالت

    اسلام آباد: الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثرہورہے ہیں، سپریم کورٹ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ "الیکشن الیکشن” کی رٹّ لگانےوالوں کواب کوئی خطرہ ہے؟جوالیکشن سےبھاگ رہے ہیں

    سپریم کورٹ میں آئینی و سیاسی بحران ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران صدر پاکستان کے وکیل علی ظفرنے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 69 آگ کی دیوارہے، جسے عدالت پھلانگ کربھی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جوہوا اس کی بھی کہیں مثال نہیں ملتی ‏اگراسے ہونےدیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہوسکتے ہیں بظاہرعدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی، جس پررولنگ آگئی ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ نے نئی روایت اورایک نیا رستہ کھول دیا۔

    آئینی و سیاسی بحران از خود نوٹس یں صدرمملکت کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیے۔ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ سے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ زیرالتواء کیس میں پارلیمںٹ تبصرہ نہیں کرتیں توعدالت بھی پارلیمانی کارروئی میں مداخلت نہیں کرسکتیں ، عدالتی ڈائریکشن دائرہ اختیارسے تجاوز ہوگا اسپیکرکو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کوہدایات دینا ہوگا جوغیرآئینی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہوسکتی؟ وکیل نے بتایاکہ باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ، اسپیکرکی رولنگ کو ہاؤس ختم کرسکتا ہے، عدالت نے جائزہ لیا تو اسپیکرکا ہرفیصلہ عدالت میں آئے گا، پارلیمان کے ایسے فیصلہ جس کےاثرات باہرہوں توجائزہ لےسکتی ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرشہری آئین کا پابند ہے کیا اسپیکر پابند نہیں۔ چیف جسٹس نےآرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کا نقطہ اٹھایا۔

    علی ظفرنے کہا کہ عدالت قراردے تحریک عدم اعتماد پارلیمانی کارروائی نہیں تو ہی جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس جمال نے پوچھا کہ ووٹ کم ہوں اوراسپیکرتحریک کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟

    وکیل نے بتایا کہ عدالت پارلیمنٹ پرمانیٹرنہیں بن سکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔

    (ن) لیگ وکیل سے پوچھیں گےعوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثرہورہے ہیں؟

    چیف جسٹس نےکہاکہ یہ کیس ارٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہے جہاں آئین کی خلاف ورزی ہوسپریم کورٹ مداخلت کرسکتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ کیا آئین شکنی کوبھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ دلیل کے مطابق پارلیمان کی اکثریت ایک طرف اوراسپیکرکی رولنگ ایک دوسری طرف ہے کیا صدرمملکت وزیراعظم سے اسمبلی تحلیل کرنےکی وجوہات پوچھ سکتے ہیں۔

    علی ظفرنےبتایاکہ صدروزیراعظم کی سفارش کےپابند ہیں،وجوہات بتانا ضروری نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آمر کبھی الیکشن کا اعلان نہیں کرتا۔ دلائل مکمل ہونے پراسپیکرکے وکیل نعیم بخاری اور اٹارنی جنرل کل دلائل کا آغاز کریں گے۔

     

  • ہوتا ہےکسی نقصان تو ہوجائے:ہم  پیچھے نہیں ہٹیں گے:عبدالعلیم خان

    ہوتا ہےکسی نقصان تو ہوجائے:ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے:عبدالعلیم خان

    لاہور:ہوتا ہےکسی نقصان تو ہوجائے:ہم ڈٹے ہوئے ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے:اطلاعات کے مطابق عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ہم ڈٹے ہوئے ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے،اب حقیقی تبدیلی آئے گی۔

    پی ٹی آئی کے منحرف رہنما اور سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے اپنے ساتھیوں سمیت مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یہاں موجود ہوں۔

    عبدالعلیم خان نے کہا کہ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی راہ فرار اختیار کر چکی، اب شکست یقینی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاق ہو یا پنجاب اکثریت کو جمہوری تقاضوں کے مطابق اُس کا حق ملنا چاہیے، ہم ڈٹے ہوئے ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے،اب حقیقی تبدیلی آئے گی۔

    پی ٹی آئی کے منحرف رہنما کا کہنا تھا کہ آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، یہ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں،جمہوریت اور آئین کا مذاق نہ اڑائیں، الیکشن ہونے دیں۔

    عبدالعلیم خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو اکثریت رکھتا ہے وہی وزیر اعلیٰ منتخب ہوتا ہے، ایسا ہونے دیا جائے اگر آپ کے پاس اکثریت ہے تو آپ اسمبلی آئیں اور ثابت کریں، اکثریت کھونے والے اپوزیشن میں بیٹھیں اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔

    پی ٹی آئی کے منحرف رہنما اور سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے،بد قسمتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے، عمران خان بھی وفاق میں یہ تسلیم کریں کہ اُن کے پاس اکثریت نہیں رہی۔

     

  • بہت دُکھ ہواکہ ایم کیوایم کوغلط فیصلوں‌ کی وجہ سےاپنی ساخت بچانا مشکل ہوگیاہے:نقوی

    بہت دُکھ ہواکہ ایم کیوایم کوغلط فیصلوں‌ کی وجہ سےاپنی ساخت بچانا مشکل ہوگیاہے:نقوی

    کراچی :بہت دُکھ ہواکہ ایم کیوایم کوغلط فیصلوں‌ کی وجہ سےاپنی ساخت بچانا مشکل ہوگیاہے:اطلاعات کے مطابق فردوس شمیم نقوی کہتے ہیں کہ اردو بولنے والے سمجھ گئے ایم کیو ایم ذات کی سیاست کررہی ہے،

    فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ اردو بولنے والے سمجھ گئے ایم کیو ایم ذات کی سیاست کررہی ہے۔

    پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 5 کی رولنگ کو نہ ماننے والے خود آرٹیکل 6 کے حقدار ہیں، ایسے لوگوں پرغداری کے مقدمات ہونے چاہئیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کاروباری پارٹی ہے، وفاق میں 4 سال مزے کیے، وسیم اختر پہلے نیب کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، اردو بولنے والے سمجھ گئے ایم کیو ایم ذات کی سیاست کررہی ہے قوم کی نہیں۔

    فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ عوام جان گئے تحریک انصاف قوم کی سیاست کررہی ہے، اب کراچی سے ان کا خاتمہ ہوگا۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان ،صدر کراچی بلال غفار سمیت دیگر اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہاؤس میں ضمیر فروشی سندھ میں رہنے والوں کیلئے باعث شرم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے دروازے پر 3 غداروں کو آج ہم نے پھانسی دی ہے، ہم ان ملک دشمنوں کو معاف نہیں کریں گے، ملک بھر میں 3 چوہوں کا منہ کالا ہوگیا ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ان تینوں کو بے نقاب کیا، پاکستانی قوم ان تینوں غداروں کیخلاف ایک ہے، چیف جسٹس ان تینوں غداروں کیخلاف سوموٹو نوٹس لے۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا ہے کہ عوام سپریم کورٹ کے فیصلے اور انصاف کی منتظر ہے، پاکستان تحریک انصاف سندھ میں حکومت بنائے گی۔

    پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ان غداروں کیخلاف قرارداد اسمبلی میں جمع کرائی ہے، اسمبلی میں بیٹھے لوگوں نے اگر اس پر دستخط نہیں کیے اس کا مطلب وہ غدار وطن ہے۔

     

  • مطیع اللہ نےفوادچوہدری سےبدتمیزی نہیں،    صحافتی    اصول پامال کیے’دیکھ کردنیاشرما گئی

    مطیع اللہ نےفوادچوہدری سےبدتمیزی نہیں، صحافتی اصول پامال کیے’دیکھ کردنیاشرما گئی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے کہا ہے کہ مطیع اللہ نے فواد چوہدری کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی بلکہ صحافتی اصولوں کو پامال کیا ہے۔شہبازگل کہتے ہیں کہ مطیع اللہ جان کا رویہ دیکھ کردنیا بھی شرما گئی کہ کس طرح پاکستان میں صحافت کے ذریعے سیاست کی جارہی ہے

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے فواد چوہدری کی میڈیا سے گفتگو کے دوران ہونے والی بدنظمی پر اپنے ردعمل کا اظہار سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا ہے۔

    شہباز گل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ مریم میڈیا سیل کے ممبر مطیع اللہ جان نے آج فواد چوہدری کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی بلکہ صحافتی اصولوں کو پامال کیا اور اس پیشے کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔

     

    شہباز گل نے مزید لکھا ہے کہ مطیع اللہ نے صرف صحافتی اصولوں کو پامال نہیں کیا بلکہ وہاں پر کھڑے دوسرے صحافیوں کے حقوق کو بھی پامال کیا ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میڈیا میں صرف مریم بات کرے اور سوال صرف آپ، باقی سب صحافی چپ رہیں۔واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی میڈیا بریفنگ بدنظمی کا شکار ہوگئی تھی۔

    فواد چوہدری کے ڈائس پر آتے ہی صحافی مطیع اللہ نے ان سے سوال کردیا تھا اور اس موقع پر دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

  • کُڑکُڑکدائیں تےآنڈےکدائیں:دوست مزاری چند دن پہلےحمزہ شہبازکوپیارےہوگئےتھے:فیاض

    کُڑکُڑکدائیں تےآنڈےکدائیں:دوست مزاری چند دن پہلےحمزہ شہبازکوپیارےہوگئےتھے:فیاض

    لاہور:کُڑکُڑکدائیں تےآنڈےکدائیں:دوست محمد مزاری چند دن پہلےحمزہ شہبازکوپیارےہوگئےتھے:اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ لوگ اندرسے کسی کے ساتھ ہوتے ہیں اور بظاہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں‌

    فیاض الحسن چوہان نے اس‌ حوالے سے کہا ہے کہ آج ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی جا چکی ہے۔

    فیاض الحسن چوہان نے انکشاف کیا کہ دوست محمد مزاری چند دن پہلے حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد اپوزیشن کو پیارے ہو چکے تھے۔ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے خلاف کاروائی میں بھی دوست محمد مزاری حکومت سے تعاون نہیں کر رہے تھے۔

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپوزیشن سے ملکر حکومت کے خلاف بیان بازی پر منحرف اراکین کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت کاروائی کی جارہی ہے۔

    فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ سے 16 اپریل کے اسمبلی اجلاس کے لیے گیزٹ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔ اس کے باوجود دوست محمد مزاری نے حمزہ شہباز کے کہنے پر سادہ کاغذ پر آج 6 اپریل کو اجلاس بلانے کے احکامات جاری کیے۔

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میں دوست محمد مزاری کے اس غیر جمہوری رویے کی مذمت کرتا ہوں۔گلبرگ کے ایک ہوٹل میں حمزہ شہباز نے اپنے بڑوں کی چھانگا مانگا کی سیاست کی روایات کو عروج پر پہنچایا ہوا ہے۔

    فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ میری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ لوٹوں، گھوڑوں اور خچروں کی اس خرید و فروخت کا نوٹس لیں۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس اور موجودہ حالات میں یہ معاملہ امن و امان کے بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 183 کے تحت ایسے حالات میں سپریم کورٹ آف پاکستان سوموٹو ایکشن لینے کی مجاز ہے۔

    فیاض الحسن چوہان میری استدعا ہے کہ ان بھگوڑوں کو واگزار کروا کر ان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔
    دوست محمد مزاری چند دن پہلے حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد اپوزیشن کو پیارے ہو چکے تھے۔

  • پاکستانیوں کی عوام نئے الیکشن چاہتےہیں:سروے روپورٹ

    پاکستانیوں کی عوام نئے الیکشن چاہتےہیں:سروے روپورٹ

    لاہور: پاکستانیوں کی اکثریت نئے الیکشن چاہتےہیں:سروے روپورٹ میں مختلف علاقوں کے حوالے سے مختلف حقائق سامنے آگئے ہیں،دوسری طرف اسی سروے مٰں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اپنے ساڑھے 3 سالہ دور حکومت میں عوامی خدمات کے دعوے کررہے ہیں لیکن صورت حال یہ ہے کہ عوام ہی کی اکثریت ان کی کارکردگی سے غیر مطمئن نظر آتی ہے۔

    پاکستان میں ان دنوں شدید سیاسی گرما گرمی ہے جس نے ملک کو بے یقینی کی کیفیت سے دوچار کرکے رکھ دیا ہے۔

    موجودہ سیاسی صورت حال پر گیلپ پاکستان نے 3 اور 4 اپریل کو عوامی آرا پر مشتمل ایک سروے کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے 800 گھرانوں سے ان کی رائے پوچھی گئی۔

    سروے کے نتائج بھی ان ہی کی آرا کی بنیاد پر تیار کئے گئے ہیں۔عوامی سروے کے دوران ملک کی اکثریت نے تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    سروے کے مطابق 54 فیصد لوگ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے جب کہ 46 فیصد افراد نے اطمینان کا اظہار کیا۔

    سندھ کے 57 فیصد اور پنجاب میں 55 فیصد لوگوں نے تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

    سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ خیبرپختونخوا میں 60 فیصد لوگوں نے پی ٹی آئی حکومت کی ساڑھے 3 سالہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ 40 فیصد غیر مطمئن نظر آئے۔

    3 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

    اس اقدام کے بعد سیاسی حلقوں اور قانونی ماہرین کی اکثریت اسے غیر آئینی اقدام قرار دے رہی ہے۔

    تحریک عدم اعتماد مسترد کئے جانے کے بعد وزیر اعظم نے صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوائی جسے فوری منظور بھی کردیا گیا۔

    سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 68 فیصد پاکستانی بھی قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے کے حامی ہیں۔

    پاکستان میں امریکا مخالف آرا نہیں بات نہیں، تازہ ترین سروے میں بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت امریکا کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔سروے کے دوران 72 فیصد عوام نے امریکا کو پاکستان کا دشمن قرار دیا ۔