Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم  کوخراج تحیسن

    جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن

    اسلام آباد:جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی اور آو آئی سی کے پلیٹ فارم سے جس طرح عالم اسلام ،ختم نبوت،دین اسلام کا دفاع، فلسطین ، کشمیراور دیگربین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی، ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغانستان اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال زیر بحث آئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے تہنیتی پیغام پہنچایا۔

    اکتوبر 2021 میں اپنے دورہ سعودی عرب کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا

    عمران خان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کو اسلامی دنیا کے مقاصد کے لیے اہم پلیٹ فارم میں آگے بڑھانے کے لیے مملکت کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امت کو درپیش بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے،اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے اجتماعی اقدام کی اہمیت پر زور دیا

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے مملکت کی مستقل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، شہزادہ فرحان نے اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

    وزیراعظم نے پاک سعودی تعلقات کی خصوصی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات قریبی برادرانہ تعلقات، تاریخی روابط اور مجموعی سطح پر تعاون پر مبنی ہیں۔

     

    آپ پاکستان نہیں عالم اسلام کے لیڈر ہیں ، امہ مسلمہ آپ کے ساتھ کھڑی ہے ، عراقی وزیرخارجہ
    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے عراقی وزیر خارجہ نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔

    وزیراعظم نے عراق کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں مشترکہ عقائد، مشترکہ اقدار اور ثقافتی وابستگیوں میں گہرے ہیں۔

    عمران خان نے عراق کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی کامیابیوں کا اعتراف کیا۔

     

    جناب وزیراعظم صاحب:حکومت چین اور چینی قوم آپ کے ویژن سے بہت متاثر ہیں :چینی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات پرگفتگو
    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے وانگ یی کا پاکستان میں گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور گزشتہ روز ہونے والے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دُکھ کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعلقات کی رفتار اور بدلتے علاقائی، بین الاقوامی منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، پائیدار مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں بتایا۔

    عمران خان نے بھارت کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل کے نام نہاد "حادثاتی” میزائل کے بارے میں چینی وزیر خارجہ کو بھی آگاہ کیا اور پاکستان کی طرف سے مشترکہ تحقیقات کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور وہاں انسانی بحران کو روکنے کے لیے گہرے تعلقات کو جاری رکھنا چاہیے ۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی، زراعت اور معلومات جیسے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

  • رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    لاہور:رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پراکسی پرایف آئی اے نے طلبی کرلی،اطلاعات کے مطابق لاہور کے ایک معروف مگرمتنازعہ صحافی جنہیں رضوان رضی کے نام سے لاہوری جانتے ہیں ایک بار پھرایف آئی اے کے ریڈار پرآگئے ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ ایف آئی اے نے مخالفین کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈے اور الزام تراشیوں پر جواب طلب کرلیا ہے اور کہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ رضوان رضی صاحب کو ایک بار پھر FIAنے طلب کرلیا ہے اور درخواست گزار نے ثبوت بھی پیش کردیئے ہیں ، دوسری طرف رضوان رضی نے اپنا دفاع کرنے کے لیے ایف آئی اے اور درخواست گزار کے خلاف سوشل میڈیا وار شروع کردی ہے اور مختلف قسم کے الزامات بھی عائد کرنا شروع کردیئے ہیں ،یہ بھی چیزیں سامنے آرہی ہیں کہ ن لیگ کا سوشل میڈیا اس وقت رضوان رضی کی حمایت میں بہت زیادہ مہم چلا رہا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹویٹر میں عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا

    ایف آئی اے کی جانب سے 8 فروری کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی کو انکوائری کے لیے ‘طلب’ کیا گیا تھا اور بیان ریکارڈ کیا گیا۔

  • جوبھی حکومت کوگرانے میں اپنا حصہ ڈالے گا اس کوبڑے بڑے انعامات سے نوازیں گے:شاہد خاقان عباسی

    جوبھی حکومت کوگرانے میں اپنا حصہ ڈالے گا اس کوبڑے بڑے انعامات سے نوازیں گے:شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد: جوبھی حکومت کوگرانے میں اپنا حصہ ڈالے گا اس کوبڑے بڑے انعامات سے نوازیں گے:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جو عمران خان کے ساتھی عمران خان کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے حکومت گرائیں گے تواس صورت میں حکومتی لوگ ڈی سیٹ ہوں گے انہیں ٹکٹ دیں گے، حکومتی ممبران کو آئندہ الیکشن کے لیے بھی ٹکٹ دیں گے۔اور بھی ان کے لیے حاضر ہے

    نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پر ابھی غور نہیں کیا گیا جب عدم اعتماد آئے گی تو غور کیا جائے گا، پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ جو ممبران سیٹیں قربان کرنے کو تیار ہیں ہم پر بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں ٹکٹ دیں، منحرف ارکان کو ٹکٹ کے وعدے نہ بھی کرتے تو کئی ارکان ساتھ ہوتے، شاید آدھے سے زائد لوگ ٹکٹ کے وعدے کے بغیر ساتھ آتے، منحرک ارکان اقتدار چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان نے کہا کہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا ہارس ٹریڈنگ میں شامل ہے، اقتدار چھوڑ کر اپوزیشن میں شامل ہونا ہارس ٹریڈنگ نہیں ہے۔شاہد خاقان نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں مدت پوری کریں گی ایسے کسی فیصلے کا علم نہیں ہے، عوام کا جو دباؤ پڑا ہے وہ معمولی نہیں ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ راجہ ریاض جس جماعت میں جائیں گے انہیں ٹکٹ ملے گا، کسی نے کوئی پیسے مانگے نہ دیے گئے ہیں، حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو عوام کے سامنے رکھیں۔

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    پشاور:خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 اضلاع سے مجموعی طور پر 1 ہزار 318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔

    الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کے مطابق 31 مارچ کو ہونیوالے دوسرے مرحلے کے انتخابات 18 اضلاع میں 65 تحصیل کونسلز میں ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 80 لاکھ 57 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    سٹی میئر اور تحصیل چیئرمین کی نشستوں کے لئے 651 امیدوار، ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں کے لئے 12 ہزار 980، خواتین کی نشستوں کے لئے 2 ہزار 668، مزدور و کسان کی نشستوں کے لئے 6 ہزار451، نوجوانوں کی نشستوں کے لئے 5 ہزار 213 اور اقلیتی نشستوں کے لئے 57 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

    اسی طرح اب تک ویلج و نیبرہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 351، خواتین کی نشستوں پر 533، مزدور و کسان کی نشستوں پر 151، نوجوانوں کی نشستوں پر 233 اور اقلیتی نشستوں پر 50 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

  • عالمی یوم آب اور پاکستان:سچ ::سچ (علی عمران شاھین)

    عالمی یوم آب اور پاکستان:سچ ::سچ (علی عمران شاھین)

    22 مارچ دنیا بھر میں ہر سال پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پانی جو حیات و نظام حیات کی بنیاد اور بقا ہے،اس وقت دنیا کا ایک سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
    کرہ ارض پر اگرچہ کہنے لکھنے کو ٪76 پانی اور ٪24 خشکی ہے لیکن اس میں سے پینے اور استعمال کے قابل پانی بمشکل ٪3 اور باقی ماندہ سمندروں کا ناقابل استعمال کھارا زہریلا پانی ہے۔

    دنیا میں انسانی ترقی سے جیسے جیسے ماحول میں حرارت بڑھ رہی ہے ویسے ویسے پانی کی بھی تیزی سے کمی جاری ہے اور قدرتی آبی ذرائع تیزی سے خشک ہو کر سمٹ رہے اور باقی ماندہ پانی زہریلے ہورہےہیں۔

    پاکستان اس وقت دنیا میں پانی کی کمی والے ملکوں میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے جہاں قدرتی ذرائع آب دریا،چشمے اور آبشاریں وغیرہ تیزی سے خشک ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے زیر زمین پانی کا استعمال ہر روز تیز ہورہاتو یوں اس زیر زمین پانی کی سطح بھی تیزی سے گر رہی ہے۔

    تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارا بھارت کے ساتھ ایک بڑا تنازع دریائی پانی کی بندش تھا جس نے تقسیم کے چند ہی ہفتے بعد دریا روک لیے تھے، بھارت کو پاکستان پر یہ آبی سبقت یوں ملی کہ پاکستانی دریاؤں کے ہیڈ ورکس مطلب ان کی چابیاں بھارت کے حوالے کرکے اسے اپاہج بنا دیا گیا تھا۔ یوں چاروناچار پاکستان 10سال تک بھارت سے پانی خریدتا رہا تاآنکہ1960 میں جنرل ایوب خان نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ کراچی میں سندھ طاس معاہدہ کیا۔یوں بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے 6 میں سے 3 دریا راوی،بیاس اور ستلج بھارت کو ملے تو اس نے انہیں مکمل ہی بند کر دیا جب کہ باقی ماندہ تین دریا سندھ،جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے لیکن ان سے بھی بھارت کو (بظاہر پانی روکے بغیر) زراعت و بجلی کی پیداوار وغیرہ کے لئے یہ پانی بھی استعمال کرنےکی اجازت دے دی گئی ۔ تمام ماہرین اس اس سندھ طاس معاہدہ کو اسی وجہ سے پاکستانی دریاؤں کی فروخت قرار دیتے ہیں جس نے پاکستان کے ہاتھ پاؤں مستقل ہی باندھ دئیے تھے۔

    اس معاہدے کا گارنٹر عالمی بینک تھا جب کہ معاہدے کے بدلے دس ملکی کنسورشیم نے پاکستان کو 1ارب 84 کروڑ ڈالر مہیا کرنے کا اعلان کیا جس سے پاکستان نے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا تعمیر کرنے اور وہاں سے نہریں نکال کر اپنے دیگر تین خشک دریاؤں میں پانی ڈالنا تھا ۔اس معاہدے سے ہم تین دریاؤں سے پکے پکے محروم ہوئے تو آج باقی ماندہ تینوں دریا بھی بھارتی رحم و کرم پر ہیں جہاں بڑے پیمانے پر ڈیم نہریں اور سرنگیں بنا بنا کر پانی روکا اور اس کا رخ بھی موڑا جا رہا ہے۔

    کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر بھی بھارت نے اول دن سے عمل درآمد نہیں اور عالمی بینک سارے قضیے سے لاتعلق ہے البتہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے آبی مذاکراتی شغل تماشے تب سے اب تک جاری ہیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر حالیہ مارچ کے پہلے عشرے میں بھارت کا ایک دس رکنی وفد پاکستان آکر تین دن ہمارا مفت میں وقت اور سرمایہ ضائع کرکے اور اپنی ہٹ دھرمی دکھا کر واپس جا چکا ہے۔۔۔۔۔

    ہمارے دریاؤں میں پانی کی مسلسل کمی سے ہمارے سمندر میں میٹھا پانی کم جا رہا تو سمندر ہمارے ساحلی علاقے تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے کر ہڑپ رہا ہے، زرعی علاقے اجڑ رہے اور حال تک گندم برآمد کرنے والا ملک اناج منگوانے پر مجبور ہے۔

    پانی کاعالمی دن ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور تو کررہا ہے لیکن کون سوچے کون کچھ کرے؟ اور اگر کچھ کرنا ہے تو وہ ک ش میر کی آزادی ہے جو ہمارے پانیوں کو منبع اور اسی وجہ سے شہ رگ ہے۔

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔

  • پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ پوٹن کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیرپوٹن بندگلی میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    امریکی صدرکا مزید کہنا تھا کہ یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیں بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    ادھر روس نے خبردارکیا ہے کہ امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں۔

    ماسکو میں امریکی سفیرکودفترخارجہ طلب کرکے صدرپوٹن سے متعلق امریکی ہم منصب کے بیان کوناقابل قبول قراردیا گیا۔امریکی سفیرکواحتجاجی مراسلہ بھی دیا گیاہ۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی سفیرکودئیے گئے احتجاجی مراسلے میں روس کا کہنا تھا کہ امریکی صدرجوبائیڈن کے روسی ہم منصب سے متعلق بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔اس طرح کے بیانات امریکی صدرکے عہدے کے شایان شان نہیں۔اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین پرحملے کے حوالےسے روسی صدرولادی میرپوٹن کوجنگی مجرم قراردیا تھا۔

  • چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    اسلام آباد : اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے موقع پر، جس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) کی کلیدی تقریر کے ساتھ ایک تاریخی دورہ کیا۔ ایک خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا جس میں OIC میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر کہ چینی نظام نے غربت کے خاتمے سے لے کر گڈ گورننس تک اپنے لوگوں کے لیے کس طرح ڈیلیور کیا ہے۔ ‘فرینڈز آف سلک روڈ’ کے بینر تلے منعقد ہونے والا ویبنار جس کا موضوع تھا ‘

    ذرائع کے مطابق پورے عمل کی عوامی جمہوریت: چینی نظام کو سمجھنا’، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کے افتتاحی کلمات کے ساتھ شروع ہوا۔ اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی، جس میں انہوں نے "تاریخی پہلے” کے طور پر او آئی سی میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا، جہاں مسلم دنیا میں چین کا داخلہ امریکہ کے اخراج کے ساتھ موافق ہے، جنوب مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے امریکی چھانٹی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے او آئی سی میں چین کو دعوت دی گئی، جو چین کے دیرینہ تعلقات اور مسلم دنیا کی حمایت کا اعتراف تھا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب قریبی تعاون کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ رشتہ جس نے 1974 میں لاہور میں پاکستان میں پہلی کامیاب OIC سربراہی کانفرنس کو قابل بنایا۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں کہا کہ چین مسلم دنیا میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اس کردار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں میں تزویراتی تبدیلی، خاص طور پر سعودی معاشرے، معیشت، ثقافت میں کھلے پن اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنے اور خواتین کے حقوق کے فروغ کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی تعریف کی۔ ترکی سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان، چین اور سعودی عرب کے درمیان ایک ’’اسٹرٹیجک تکون‘‘ کے ابھرتے ہوئے دیکھا جو مسلم دنیا میں اتحاد، اقتصادی ترقی اور روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں تزویراتی تبدیلی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی روشن خیال قیادت کی وجہ سے ہوئی ہے اور اب سعودی عرب اور چین کے درمیان امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی RMB میں تیل فروخت کرنے پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ جبکہ 2022 کے موسم گرما میں صدر شی جن پنگ کا سعودی عرب کا دورہ کرنے کا امکان ہے اور سعودی ولی عہد ایم بی ایس کا پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔

    چین میں جمہوریت کے معاملے کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے دو سروے کا حوالہ دیا جو امریکہ میں کرائے گئے تھے، ایک ہارورڈ یونیورسٹی نے جولائی 2020 میں اور دوسرا ایک امریکی عالمی پی آر کنسلٹنسی ایڈل مین ٹرسٹ بیرومیٹر کی طرف سے جنوری 2022 میں کیا گیا تھا۔ جس میں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ‘چینی حکومت پچھلی 2 دہائیوں کے دوران کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ مقبول تھی’، جو کہ چینی عوام میں ان کی حکومت سے 80 فیصد سے زیادہ اطمینان کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ عوام کے اس اعلیٰ اطمینان کی وجہ اچھی حکمرانی اور بہتر معیار زندگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی نظام کی ساکھ کا ایک اہم جزو عوامی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت ہے، جو چین نے کی تھی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےچین میں 6 سال خدمات انجام دینے والے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ چین نے عالمی بہترین طرز عمل اپناتے ہوئے قانون پر مبنی ریاستی طرز حکمرانی کا اپنا ماڈل تیار کیا ہے جس میں جمہوریت خوشحالی اور مشاورتی عمل پر مشتمل ہے۔ . انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ بدستور مقبول ہیں کیونکہ چینی عوام کی زندگیوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا پر کتابیں لکھنے والے سلطان حالی نے عوام پر مبنی ترقی کے ذریعے چین کی غیر معمولی تبدیلی کا حوالہ دیا جس نے لاکھوں چینیوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا ہے، خاص طور پر 800 ملین چینی لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ 3 دہائیوں سے زیادہ. انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام چین کے مطابق ہے

    کیتھ بینیٹ، جو لندن میں مقیم ‘فرینڈز آف سوشلسٹ چائنا’ کے شریک ایڈیٹر ہیں، نے کہا کہ چینی نظام ایک جامع، غیر مخالف جمہوری اخلاقیات کے ساتھ، ہزار سالہ چینی دانشمندی، ہم آہنگی اور اتفاق رائے پر مبنی ہے۔ چین میں کل وقتی سیاست دان نہیں ہے یہاں تک کہ صفائی کے کارکن اور بس ڈرائیور بھی پارلیمنٹ کے رکن بن سکتے ہیں۔

    ایک پاکستانی صحافی اور محقق محترمہ زون احمد خان، جو اب بیجنگ میں سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن میں ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور ان کی سماجی آزادی چین کی کامیابی کی کہانی کا ایک اہم جزو ہے جس نے چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اتنے کم وقت میں اتنا. انہوں نے سی پی سی کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پارٹی چین میں عام لوگوں کو ہیرو بناتی ہے’۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے سماجی سائنسدان اور پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر رضا نعیم نے چینی سیاسی نظام کی مختلف جہتوں پر توجہ مرکوز کی، جس میں چین کے عوام کے لیے جمہوری جوابدہی اور ڈیلیوری کا مظاہرہ کیا گیا، خاص طور پر کورونا وائرس وبائی مرض کا تجربہ جہاں چین نے ‘ سب سے پہلے لوگ. انہوں نے چینی عوام کی لچک کو سراہتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں چین کے عروج سے تشکیل پائے گی۔

  • ضمیرفروشوں سےموبائل بھی ضبط توٹویٹراکاونٹ بھی یرغمال:راجہ ریاض کا ٹویٹراکاونٹ کوئی اورچلا رہا ہے

    ضمیرفروشوں سےموبائل بھی ضبط توٹویٹراکاونٹ بھی یرغمال:راجہ ریاض کا ٹویٹراکاونٹ کوئی اورچلا رہا ہے

    اسلام آباد:ضمیرفروشوں سےموبائل بھی ضبط توٹویٹراکاونٹ بھی یرغمال:راجہ ریاض کا ٹویٹراکاونٹ کوئی اورچلا رہا ہے،اطلاعات کے مطاق پچھلے چند دنوں سے سندھ ہاوس سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ وہ ارکان اسمبلی جنہوں نے اپنے ضمیربیچ دیئے ہیں ان سے موبائل چھین لیئے گئے تھے اور ان کی ہر کال کی ریکارڈنگ بھی کی جارہی ہے
    ادھر ابھی یہ خبریں‌گردش کررہی تھیں کہ انکشاف ہوا کہ ضمیرفروشوں میں سے کچھ ایسے بھی ارکان اسمبلی ہیں جن کے ٹویٹراکاونٹ بھی ضبط کرلیئے گئے ہیں اور ان میں راجہ ریاض اس وقت سرفہرست ہیں جن کا ٹویٹر اکاونٹ وہ چلا رہے ہیں جو اس کام کے لیے پہلے ہی مشہور ہیں

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ راجہ ریاض جن کو اپنے جی میل اکاونٹ کا پتہ نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر اکاونٹ کا بھی نہیں‌پتہ ، سندھ ہاوس سے کچھ ایسے پیغامات آرہے ہیں کہ راجہ ریاض کو اپنے ٹویٹرآئی ڈی بھی نہیں پتہ کہ کیا ہے

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ راجہ ریاض جن کوپہلے بولنے میں اتنی مہارت نہیں تھی اب ٹویٹرپیج پرطرح طرح کے شاندارطنزیہ اور بڑے عجیب ٹویٹس پیغامات شیئر کررہے ہیں آخر اس کی کیا وجہ ہے ، اس حوالےسے معلوم ہوا ہے کہ راجہ ریاض کے پیج کو ایک خاص شخصیت کے حکم پر آپریٹ کیاجارہا ہے اور یہ شخصیت ن لیگ کی مرکزی شخصیت ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلےبھی انکشافات ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بے وفائی کرنے والے ارکان اسمبلی جن کوضمیرفروش کا نام بھی دیا جارہا ہے اس وقت اس عورت کی طرح زندگی گزار رہے ہیں جس پرشک کی وجہ سے اس کے گھروالے موبائل بھی چھین لیتے ہیں‌، بالکل ایسی ہی کیفیت اس وقت ان ضمیرفروش ارکان اسمبلی کودرپیش ہے

    معتبرذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان ارکان اسمبلی کے کردار پربھی ان لوگوں‌کو شک ہے جنہوں نے وفاداریاں خریدی ہیں اور وہ ان ارکان اسمبلی کو کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہے سوائے ان کے جو پہلے اجازت لیتے ہیں اور پھرجس سے بات کرنی ہواس کے نمبر کی ویری فکیشن کرتے ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ان ارکان اسمبلی کے موبائل فون سندھ ہاوس میں ایک اہم شخصیت کے پاس ہیں

    ادھر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہےکہ ان ارکان اسمبلی کو ان کے گھروالوں سے بھی رابطہ کرنے کے لیے پہلے تصدیق کروانا پڑتی ہے ، اس کےساتھ ساتھ اس جگہ ایسی ڈیوائسز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے جوہرآنے اور جانے والی کال کوریکارڈ کرتی ہیں اورپھریہ سارا ڈیٹا ذمہ داران تک شیئر کیا جاتا ہے

    ادھر سندھ ہاوس سے انتہائی ذمہ داران ذرئع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آصف علی زرداری پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو ن لیگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام حربے استعمال کررہے ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری کی طرف سے بڑی بڑی پیشکشیں بھی جاری ہیں اور کہا گیا کہ پی پی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں اور الیکشن کے اخراجات بھی پی پی قیادت پیش کرے گی

    اس سلسلے میں جو کوششیں کی جارہی ہیں اس کےلیے وہ لوگ فرنٹ مین پر کام کررہےہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا

    ادھر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سندھ ہاوس میں موجود ارکان اسمبلی میں سےاکثروہ ہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں پی پی سے فائدہ لے کرووٹ پی پی سینیٹرز کو دیا ، ان کے فائدہ لینے کے ثبوت اور ویڈیوز بھی ان کے پاس ہیں اور وہ لوگ ان استمعال شدہ ممبران کو پرانے ثبوتوں کی وجہ سے بلیک میل کرکے اپنے کیمپ میں بٹھا رکھے ہیں

    ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 11 ارکان اسمبلی اگرعمران خان کے خلاف اعتماد کا ووٹ نہیں دیتے تو اگلے الیکشن میں یہ پی پی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لیں گے ،

  • امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی

    امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی

    واشنگٹن :امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی ،اطلاعات کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران امریکہ میں ہونے والی فائرنگ کی واردات میں میں 70 افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گزشتہ 2 روز کے دوران امریکہ کے مختلف علاقوں من جملہ ورجینیا، ہیوسٹن، آرکانزاس اور ٹیکساس میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔

    امریکہ میں فائرنگ کی واردات میں سالانہ کئی ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

    اسلحے کی خرید و فروخت اور کھلے عام لے کر پھرنے کی آزادی کو امریکہ میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واردات میں اضافہ کی اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ کے قانون ساز ادارے طاقتور اسلحہ لابی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تاحال، گن کنٹرول قوانین وضع کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

    امریکہ کی آبادی دنیا کے 5 فیصد کے برابر ہے تاہم اس ملک میں مسلح حملوں کے ذریعے اجتماعی قتل کا ارتکاب کرنے والوں کا تناسب دنیا میں 31 فیصد ہے۔

    ادھر ایک اور حادثے میں ناروے کی وزارت دفاع نے اتوار کو بتایا کہ ناروے میں نیٹو کی مشقوں کے دوران گر کر تباہ ہونے والے چار امریکی میرینز کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ناروے کے سی کنگ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے لاشیں شمالی ناروے میں بوڈو کے جنوب میں جائے حادثہ پر پائی جہاں جمعہ کی شام امریکی میرین کور سے تعلق رکھنے والا ان کا V-22B آسپری طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔

    وزارت نے کہا کہ لاشوں کو امریکہ لے جانے سے پہلے بوڈو لایا جائے گا۔

    اس نے مزید کہا کہ طیارہ بوڈ کے بالکل جنوب میں ایک تربیتی مشن کے دوران نیچے گرا جس میں نیٹو اور شراکت دار ممالک کے 30,000 فوجی شامل تھے۔

    طیارے کے پہاڑ سے ٹکرانے کے پہلے اشارے کے درمیان حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    پولیس کے سرکردہ تفتیش کار کرسٹیان وکران کارلسن نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے تلاش اور بچاؤ آپریشن نازک تھا — "لیکن انہوں نے لاشیں نکالیں، جو کہ بنیادی ترجیح تھی”۔

    NRK ٹیلی ویژن نے بتایا کہ طیارے کا بلیک باکس برآمد کر لیا گیا ہے۔

    1 اپریل تک جاری رہنے والی مشقوں میں تقریباً 200 طیارے اور 50 کے قریب بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

    وزارت نے کہا کہ مرنے والے میرینز تھے جنہیں 2nd میرین ایئر کرافٹ ونگ، II میرین ایکسپیڈیشنری فورس کو تفویض کیا گیا تھا اور عملے کے علاوہ کوئی اور سوار نہیں تھا۔

    ناروے کے دفاعی سربراہ جنرل ایرک کرسٹوفرسن نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کی جبکہ وزارت نے کہا کہ خراب موسم کے باوجود مشق جاری رہے گی۔

    کولڈ رسپانس 2022 کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ نیٹو کی باہمی دفاعی شق کو متحرک ہونے کی صورت میں ناروے اپنی سرزمین پر اتحادیوں کی کمک کا انتظام کیسے کرے گا۔
    ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد روس اور نیٹو کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا، لیکن مشقوں کی منصوبہ بندی 24 فروری کو شروع ہونے والے حملے سے بہت پہلے کی گئی تھی۔