Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • بھارت میزائل کی پاکستان میں دراندازی اورپاک فوج کا منہ توڑ جواب:امریکہ اورچین بھی میدان میں آگئے

    بھارت میزائل کی پاکستان میں دراندازی اورپاک فوج کا منہ توڑ جواب:امریکہ اورچین بھی میدان میں آگئے

    ہندوستان نے حال ہی میں غلطی سے ایک میزائل داغا جو پاکستان میں گرا۔ ہندوستان نے اس حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ اس کی معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ میزائل ہندوستان نے داغے تھے۔ اسی دوران آج راجیہ سبھا میں بیان کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے لیکن راحت کی بات ہے کہ اس حادثے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور باضابطہ اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگی۔ فی الحال ایس او پی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی خرابی پائی جاتی ہے تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے گا۔ ہمارا میزائل سسٹم انتہائی محفوظ اور قابل اعتماد ہے۔

    اس معاملے پر امریکہ اور چین کا موقف الگ ہے۔ جہاں امریکہ ہندوستان کی حمایت میں نظر آ رہا ہے تو وہیں چین پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہندوستانی میزائل کے فائر ہونے کے واقعے میں حادثے کے علاوہ کسی دوسری وجہ کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پاکستان نے اس کی مشترکہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ہندوستان نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    ایک ایسے وقت جب ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے اندر برہموس میزائل فائر کیے جانے کے واقعے پر طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے، امریکہ نے بھارتی موقف کی تائید کر دی ہے۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ فریقین کو مشترکہ طور پر مل کر یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔

    گزشتہ ہفتے پاکستان نے ہندوستان پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور اس حوالے سے بطور احتجاج ہندوستانی حکام سے وضاحت طلب کی تھی۔ اس کے دو روز بعد بھارت نے یہ بات تسلیم کی کہ اس کا ایک میزائل غلطی سے فائر ہو گیا اور وہ پاکستان کے اندر جا گرا۔

    ہندوستان نے اس پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی وجوہات کے سبب یہ غلطی سرزد ہوئی اور اسی لیے اس کی اعلی سطح پر تفتیش کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے اور بھی بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں اور اس پر طرح طرح کے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین پرہندوستانی میزائل فائر کیے جانے کے اسی معاملے پر جب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ آخر امریکہ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہو سکتی تو ترجمان نیڈ پرائس نے کہا، ”جیسا کہ آپ نے ہمارے بھارتی شراکت داروں سے بھی سنا ہے، ہمارے پاس ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ ایک حادثے کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔”

    اس حوالے سے ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ”ہم اس بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ کو یقیناً ہندوستانی وزارت دفاع سے رجوع کرنے کو کہیں گے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے نو مارچ کو ایک بیان جاری کیا تھا۔ اس معاملے میں ہمارے پاس اس کے علاوہ کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔”

    پیر کے روز ہی جب ایک پاکستانی صحافی نے چینی وزارت خارجہ سے ہندوستانی میزائل کی ”حادثاتی فائرنگ” پر ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا تو چینی ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین نے اس حوالے سے متعلقہ معلومات کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان اور ہندوستانی دونوں جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں، جن پر علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔”

    ان کا مزید کہنا تھا، ”چین دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اس پر جلد از جلد مکالمہ اور رابطہ کریں اور غور سے واقعے کا جائزہ لیں، معلومات کے تبادلے کو تیز کریں، اور فوری طور پر رپورٹنگ کا طریقہ کار قائم کریں تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور غلط فہمی اور غلط اندازے سے بچا جا سکے۔”

    واضح رہے کہ پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے کے بعد اس واقعے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ چونکہ میزائل پاکستان میں گرا اس لیے اس کی تفتیش دونوں ملکوں کو مل کر مشترکہ طور پر کرنی چاہیے۔ بھارت نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے، تاہم چین کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے موقف کا حامی ہے۔

    ہندوستان نے نو مارچ 2022ء کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میزائلوں کی معمول کی نگرانی کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثاتی طور پر ایک میزائل فائر ہو گیا اور وہ پاکستان میں تقریباً 124 کلو میٹر اندر تک جا کر گرا۔

    ہندوستان کا کہنا تھا، ”معلوم ہوا ہے کہ یہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ تاہم یہ سن کر اطمینان بھی ہوا کہ اس حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔”

    تاہم میڈیا میں اس حوالے سے بہت سی چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی بھی باتیں کہی جا رہی ہیں کہ کیا بھارت نے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے اور آخر میزائل کے اتنے طویل فاصلے تک پرواز کرنے کے باوجود اسے روکا کیوں نہیں کیا جا سکا۔

    ادھر آج بھی تھوڑی دیر پہلے کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران عسکری قیادت نے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں بھارتی میزائل فائر کرنے کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اہم عالمی، علاقائی پیشرفت، ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال، مغربی سرحدوں پر پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس نے بھارت کی طرف سے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والے میزائل کے حالیہ واقعہ کو حادثاتی قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    شرکاء کے مطابق بھارتی میزائل سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔ غلطی کے بھارتی اعتراف کے باوجود متعلقہ بین الاقوامی فورمز کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ عالمی فورمز کوبھارتی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، ایسے خطرناک واقعات خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جاری کامیاب آپریشنز کو سراہا۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کی کہ او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس، یوم پاکستان پریڈ کے پر امن انعقاد کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور مشن پر مبنی تربیت پر زور دیا۔

  • دنیا بھارتی میزائل فائرکرنےکےواقعہ کا نوٹس لے:   عسکری قیادت

    دنیا بھارتی میزائل فائرکرنےکےواقعہ کا نوٹس لے: عسکری قیادت

    راولپنڈی:دنیا بھارتی میزائل فائر کرنےکے واقعہ کا نوٹس لے:اطلاعات کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران عسکری قیادت نے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں بھارتی میزائل فائر کرنے کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اہم عالمی، علاقائی پیشرفت، ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال، مغربی سرحدوں پر پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس نے بھارت کی طرف سے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والے میزائل کے حالیہ واقعہ کو حادثاتی قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔

     

     

    شرکاء کے مطابق بھارتی میزائل سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔ غلطی کے بھارتی اعتراف کے باوجود متعلقہ بین الاقوامی فورمز کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ عالمی فورمز کوبھارتی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، ایسے خطرناک واقعات خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جاری کامیاب آپریشنز کو سراہا۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کی کہ او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس، یوم پاکستان پریڈ کے پر امن انعقاد کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور مشن پر مبنی تربیت پر زور دیا۔

  • حجاب کا دفاع : ہندوستانی مسلمان کدھرجائیں: بے بس ہیں :متحدہ مجلس علما

    حجاب کا دفاع : ہندوستانی مسلمان کدھرجائیں: بے بس ہیں :متحدہ مجلس علما

    سرینگر:حجاب :کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت،ہندوستانی مسلمان بے بس ہیں :اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںمتحدہ مجلس علما ء نے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور مسلم پرسنل لاء میں مداخلت قراردیا ہے

    متحدہ مجلس علما کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمان بے بس ہیں اور ان کی کوئی بھی نہیں سنتا

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق متحدہ مجلس علماء نے جس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق گزشتہ دوسال سے زائد عرصے سے اپنے گھر میں نظربند ہیں، سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ عدالت کا یہ یک طرفہ فیصلہ ان مسلمان خواتین کے تعلیم کے حق کو بری طرح متاثر کرے گا جو حجاب یا نقاب پہن کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں اور اس طرح ہماری بہت سی بیٹیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہو جائیں گی۔بیان میں کہاگیا ان لڑکیوں کے نقاب پہننے سے کسی بھی طرح دوسری طالبات کے حقوق مجروح نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں یا ادارے کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    مجلس علماء نے کہا کہ نقاب یاپردہ اسلام کا حصہ ہے جس کا حکم قران مجید میں دیا گیا ہے ۔وہ مسلمان طالبات جو حجاب یا نقاب پہن کر اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں انہیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کایہ اقدام اور فیصلہ قابل ستائش ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ نامور ججوں کے ذریعے اسلام اور اس کے عقائد کی مذہبی تشریح غلط اور گمراہ کن ہے، اس لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قیادت کو عدالت کے اس فیصلے کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے اور انصاف اور سچائی کی بالادستی کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔

    مجلس علماء نے کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور ان کے مذہبی معاملات میں دانستہ طور پرمداخلت اور ان کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ مجلس علماء جلد ایک اجلاس بلائے گی۔

    متحدہ مجلس علماء میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ، مسلم پرسنل لاء بورڈ، انجمن شرعی شیعیان، جمعیت اہل حدیث، جماعت اسلامی، کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام، انجمن تبلیغ الاسلام، جمعیت ہمدانیہ، انجمن علمائے احناف، دارالعلوم قاسمیہ، دارالعلوم بلالیہ، انجمن نصرت الاسلام، انجمن مظہر الحق، جمعیت الائمہ والعلمائ، انجمن آئمہ و مشائخ کشمیر، دارالعلوم نقشبندیہ، دارالعلوم رشیدیہ، اہل بیت فانڈیشن، مدرسہ کنز العلوم، پیروانِ ولایت، اوقاف اسلامیہ خرم سرہامہ، بزمِ توحید اہل حدیث ٹرسٹ، انجمن تنظیم المکاتب، محمدی ٹرسٹ، انجمن انوارالاسلام، کاروانِ ختمِ نبوت، انجمن علماء و آئمہ مساجد، فلاح دارین ٹرسٹ ویلفیئر سوسائٹی اسلام آباد اور بہت سی چھوٹی مذہبی، سماجی اور تعلیمی انجمنیں شامل ہیں۔

  • وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا عمران خان کا خواب مخالفین کے ہاتھوں چکنا چورہوگیا

    وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا عمران خان کا خواب مخالفین کے ہاتھوں چکنا چورہوگیا

    اسلام آباد: پاکستان:وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا عمران خان کا خواب مخالفین کے ہاتھوں چکنا چورہوگیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت نے مسترد کر دیا ہے۔

    اسلام آباد میں منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس سینیٹر عرفان صدیقی کی سربراہی میں ہوا جس میں وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کے بل پر بحث ہوئی۔ کمیٹی نے بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا ہے۔

    چیئرمین کمیٹی عرفان صدیقی نے کہا کہ ’وزیراعظم ہاؤس ریاست کی ملکیت ہے، یہاں تعلیمی ادارے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس معاملے پر کمیٹی سے مشاورت کر لیتے ہیں۔‘ مشاورت کے دوران سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ ’ریڈ زون میں تعلیمی ادارہ بنانا سیکیورٹی رسک ہوسکتا ہے، تعلیمی ادارہ بنانا ہے تو پھر باقی ادارے بند کر دیں۔‘

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ’میں سی ایم ہاؤس اور گورنر ہاوسز کو ایک مقروض ملک کے لیے بوجھ سمجھتا ہوں لیکن پہلے ہی یونیورسٹیاں بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے سسک رہی ہیں، وسائل کو پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔‘ بعدازاں بل پر ووٹنگ کی گئی جس میں دو ممبران کے مقابلے میں پانچ نے بل کی مخالفت کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے بل منظور ہونے کے بعد رواں برس جنوری میں قومی اسمبلی سے بھی وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور ہو چکا ہے۔ سینیٹ میں بل پیش ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اس بل کو متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔

    وزارت تعلیم کے حکام نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے شرکا کو وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کے لیے پی ایم ہاؤس میں 52 ایکڑ جب کہ کری روڈ کے قریب 205 ایکڑ اراضی مختص کی جا چکی ہے۔

    منصوبے کی تکمیل کے لیے کل 72 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے لیے رواں برس 3500 ملین روپے رکھے گئے جب کہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی طرف سے پہلے ہی 23.54 ارب روپے کی منظوری دی جا چکی ہے۔

    پارلیمنٹ کے رولز اینڈ ریگولشنز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے بل مسترد ہونے کے بعد بل کو سینیٹ سے دوبارہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ بھجوایا جائے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے مسترد ہونے کے بعد حکومت اب اس بل کی منظوری پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر لے سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ 2018 میں منصب سنبھالنے کے بعد تین سال تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی تاہم 2021 میں اس بل کو حتمی شکل دینے کے بعد قومی اسمبلی سے منظوری لی گئی تھی۔

  • کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار

    کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار

    کراچی :کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار،اطلاعات کے مطابق کراچی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے وکٹوں کی ضرورت ، بابر اور شفیق کریز پر جم گئےپاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ جیتنے کے لیے آخری روز 314 رنز درکار ہیں جب کہ آسٹریلیا کو یہ میچ جیتنے کے لیے 8 وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ جاری ہے جہاں چوتھے دن کے کھیل کا اختتام ہوگیا اور دن کے اختتام پر پاکستان نے 2 وکٹ کے نقصان پر 192 رنز بنالیے ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم اور عبداللہ شفیق کے درمیان 171 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی۔ اس دوران بابراعظم نے کریئر کی چھٹی سنچری اسکور کی جب کہ عبداللہ شفیق نے پہلی ففٹی اسکور کی۔ کپتان بابراعظم 102 رنز اور عبداللہ شفیق 71 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

    اس سے قبل چوتھے دن کے کھیل میں آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگ صرف 97 رنز پر ڈکلیئر کردی تھی اور پاکستان کو جیت کے لیے 506 رنز کا ہدف دیا۔

    قومی ٹیم نے اپنی اننگ کا آغاز کیا تو اوپنر امام الحق صرف ایک بناکر پویلین لوٹ گئے جس کے پیچھے اظہر علی بھی 6 رنز بناکر کیمرون کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

    اوپنر عبداللہ شفیق کا ساتھ دینے کپتان بابر اعظم گراؤنڈ میں اترے تو دونوں کھلاڑیوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اوردونوں کھلاڑیوں نے اب تک 143 رنز کی شراکت قائم کرلی ہے۔پاکستان ٹیم نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز اسکور کرلیے ہیں جبکہ انہیں اب بھی جیت کے لیے 341 رنز درکار ہیں۔

    آسٹریلیا کی دوسری اننگ زیادہ لمبی نہ رہی اور انہوں نے صرف 97 رنز پر اننگ ڈکلیئر کردی تھی جبکہ آسٹریلیا کے صرف 2 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔مارنس لبوشنگ 44 اور ڈیوڈ وارنر 7 بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خواجہ 44 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

    پاکستان کی جانب سے اوپنر امام الحق اور عبداللہ شفیق نے اننگ کا آغاز کیا لیکن دونوں کھلاڑی ہی بڑی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے اور عبداللہ شفیق 13 رنز جبکہ امام الحق 20 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔اظہر علی 20 رنز بناکر کیچ دے بیٹھے تو اگلی ہی گیند پر فواد عالم بھی ایل بی ڈبلیو ہوگئے جس کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان 6 بناکر چلتے بنے۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم 36 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ نعمان علی 20 اور شاہین شاہ آفریدی 19 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور مچل سوئپسن نے دو وکٹیں حاصل کی۔

    آسٹریلوی بولر پیٹ کمنز، نتھن لیون اور کیمرون گرین نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا جبکہ پاکستان کے دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگ 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر 556 رنز پر ڈکلیئر کردی تھی جبکہ ان کی جانب سے عثمان خواجہ 160 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے ایلکس کیری نے 93 اور اسٹیو اسمتھ نے 72 رنز کی بڑی اننگ کھیلی تھی جبکہ پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف اورساجد خان نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

    علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی، حسن علی، نعمان علی اور کپتان بابر اعظم نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا تھا۔

  • عدم اعتماد:آرٹیکل 63 اے:آصف زردای نے خط لکھ عمران خان کے خلاف سازش ناکام بنادی

    عدم اعتماد:آرٹیکل 63 اے:آصف زردای نے خط لکھ عمران خان کے خلاف سازش ناکام بنادی

    کراچی:عدم اعتماد:آرٹیکل 63 اے:آصف زردای نے خط لکھ عمران خان کے خلاف سازش ناکام بنادی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت آئنی ماہرین نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پی پی ارکان اسمبلی کو لکھے جانے والے خط کو وزیراعظم عمران خان کی خاموش حمایت قراردیتے ہوئے اسے اہم قرار دیا ہے ،

    اس حوالے سے اہم ترین حقائق سامنے آرہےہیں کہ مقتدرحلقوں کو یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ پی پی ریاست کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دی گی خاص کر ریاست کی بین الاقوامی خارجہ پالیسی کی تعریف کی گئی ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اسی وجہ سے کافی مطمئن تھے کہ بالآخر وہ تمام سازشوں کو دبانے میں ناکام ہوجائیں گے ، شایدیہی وجہ ہےکہ آصف علی زرداری کی طرف سے لکھے گئے خط کو وزیراعظم عمران خان کی بہت بڑی کامیابی قراردیا جارہاہے ، اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ زرداری کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ پارٹی سربراہ کے خلاف ووٹ دینے سے ارکان اپنی نشست سے محروم ہوجائیں گے ،اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اسی قانون کا استعمال اسپیکر پی ٹی آئی سبربراہ عمران خان کی ہدیات پر کریں گے اور یوں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے پہلے ہی دم توڑ جائے گی

    دوسری طرف وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے سابق صدر آصف زرادری کے خط کو انکی گھبراہٹ قرار دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو سمجھے تھے کہ بلاول کی کانپیں ٹانگ رہی تھی، اب تو انکے والد آصف زرداری کی بھی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو اپنے ایم این ایز پر شک ہے جس کے باعث خط لکھنا پڑا، سابق صدر آصف زرداری نے گبھراہٹ میں آکر اراکین کو نااہلی سے متعلق متنبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے سے متعلق خط سابق صدر آصف زرداری کی گھبراہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے، آصف زرداری کے ساتھ انکے اپنے لوگ نہیں۔

    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے مزید کہا کہ یہ ہمیں طعنہ دیتے ہیں مگر ہم نے کوئی خط نہیں لکھا، اراکین کو خط لکھنا ان کی گبھراہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

    پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان پارلیمنٹرینز کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت لازمی قرار دیتے ہوئے غیر حاضر رکن اور پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ پر آرٹیکل 63 اے تحت کارروائی کا انتباہ جاری کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی قیادت نے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کے نام اجلاس میں لازمی شریک ہونے کے لیے مراسلہ جاری کردیا ہے، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف زرداری کی جانب سے ارسال کردہ خط پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو موصول ہو گیا ہے۔جس میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ایوان میں حاضری یقینی بنانے اور ووٹنگ میں حصہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

    مراسلے کے متن میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جا چکی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے ایم این ایز تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے دن ایوان میں حاضری یقینی بنائیں اور ووٹنگ میں حصہ لیں۔

    مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ پارٹی کی ہدایت کے برخلاف ووٹ کرنے یا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے پر رکن کے خلاف آئین آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے اراکین ان کےساتھ نہیں ، پی پی کس منہ سے تریسٹھ اےکےتحت خط لکھ رہی ہے، عمران خان نے آئندہ پانچ سال بھی وزیراعظم رہنا ہے۔

  • اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    تل ابیب :اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا اطلاعات کے مطابق اسرائیل میں اب تک کا سب سے بڑا سائبر حملہ کیا گیا ہے جس میں وزیر اعظم آفس سمیت متعدد سرکاری ویب سائٹس ڈاؤن ہوگئی ہیں۔

    بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کے سب سے بڑے سائبر حملے میں وزیر اعظم آفس سمیت متعدد سرکاری ویب سائٹس ڈاؤن ہوگئی ہیں۔

    ان سائبر حملوں کے نتیجے میں وزیر اعظم ہاؤس، وزارت داخلہ، وزارت صحت، انصاف اور بہبود کی وزارتوں سمیت متعدد ویب سائٹس ڈاؤن ہوگئی ہیں جنہیں بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

    اخبار نے وزارت دفاع کے حوالےسے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اسرائیل کے خلاف ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا سائبر حملہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سائبر حملے کے پیچھے ریاستی عناصر یا کسی بڑی آرگنائزیشن کا ہاتھ ہے تاہم ابھی تک ان حملوں کے محرکات کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملے پیر کی شام کیے گئے، جس کے بعد نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ان حملوں میں ایسے ڈومینز (ویب سائٹ کے ایڈریسز) کو نشانہ بنایا گیا جن کا ایکسٹینشن Gov.IL تھا اور یہ ایکسٹینشن سرکاری ویب سائٹ استعمال کرتی ہیں۔

  • ا سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف:سعودی عرب حکام نے مشاورت شروع کردی

    ا سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف:سعودی عرب حکام نے مشاورت شروع کردی

    ریاض : ا سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف:سعودی عرب حکام نے مشاورت شروع کردی ،اطلاعات کے مطابق سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نوف المروعی نے کہا ہے کہ یوگا کو جلد ہی بطور کھیل مملکت کے سکولوں میں متعارف کروایا جائے گا۔

    عرب نیوز کے مطابق نوف المروعی نے کہا کہ وزارت تعلیم کے تعاون سے ملک بھر کے سکولوں میں یوگا کو اس کے صحت کے فوائد کی وجہ سے نصاب کے حصے کے طور پر متعارف کروایا جائے گا۔

    گذشتہ ہفتے نو مارچ کو سعودی یوگا کمیٹی اور سعودی سکول سپورٹس فیڈریشن کے درمیان تعاون کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک تعارفی لیکچر منعقد کیا گیا تھا۔ واضح رہے وزارت کامرس نے نومبر 2017 میں سعودی عرب میں یوگا کی بطور کھیل تعلیم اور مشق کی منظوری دی تھی۔

    نوف المروعی نے الشرق الأوسط کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ جسمانی اور ذہنی صحت میں یوگا کی اہمیت کی وجہ سے یہ پورے مملکت میں پھیل رہا ہے۔ سکولو میں یوگا کو متعارف کروائے جانے کے حوالے سے سرٹیفائڈ یوگا انسٹرکٹر اور آنندا یوگا

    سٹوڈیو کے بانی خالد جمعان الزہرانی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسے ہی میں نے یوگا کو سمجھنا شروع کیا، میری اس کے ناقابل یقین فوائد کی دریافت کبھی نہیں رکی۔ کیونکہ یہ ایک مکمل اور تبدیلی کا کھیل ہے جو اپنے مشق کرنے والوں کو ایک پرسکون اور صاف ذہن اور مضبوط اور صحت مند جسم کی طرف لے جاتا ہے۔‘ ’مملکت میں ہمارے سکول کے نظام نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد طلبا کی جسمانی اور تعلیمی دونوں پہلوؤں سے ترقی میں حصہ ڈالنا ہے۔

    میرا ماننا ہے کہ سعودی تعلیمی نظام میں یوگا کو متعارف کرانا ایک موثر اقدام ہے۔‘ نوف المروعی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی یوگا کمیٹی کے دائرہ کار اور مقاصد کو وسعت دینے کے بہت سے منصوبے ہیں۔ خیال رہے کہ نوف المروعی کو یوگا سکھانے والی پہلی سعودی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ وزارت تعلیم کی منظوری حاصل کرنے اور یوگا کو بطور کھیل آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سنہ 2006 میں عرب یوگا فاونڈیشن قائم کی تھی۔ رواں سال جنوری میں ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد افراد نے ملک کے پہلے یوگا فیسٹول میں بھی شرکت کی تھی۔

  • روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    بیجنگ : روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ،اطلاعات کےمطابق چین نے منگل کو امریکہ پر ’غلط معلومات‘ پھیلا کر تنازعے کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے امریکہ کے دعوں کی تردید کی ہے کہ روس نے چین سے یوکرین میں فوجی مدد مانگی ہے۔

    لندن میں چینی سفارت خانے نے روئٹرز کو جاری ایک بیان میں کہا: ’امریکی یوکرین کے معاملے پر بار بار چین کے بارے میں بد نیتی پر مبنی غلط معلومات پھیلاتا آیا ہے۔‘ بیان میں کہا گیا:

    چین امن مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘ ’اب ترجیح صورت حال کو بہتر کرنا ہے اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے، جلتی پہ تیل چھڑکنے اور صورت حال کو مزید کشیدہ کرنا نہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ روس کی مدد کرنا چین کو مہنگا پڑے گا۔امریکہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے پیر کو ایک اعلیٰ چینی عہدیدار کو یوکرین حملے میں روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں روس نے چین سے فوجی مدد مانگی ہے، تاہم ماسکو نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی مشیر جیک سلیوان اور چین کی خارجہ پالیسی کے سینیئر مشیر یانگ جیچی کے درمیان پیر کو روم میں ملاقات ہوئی جس میں امریکہ نے چین کو روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا۔

    بائیڈن انتظامیہ کی اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ چین یوکرین جنگ کو واشنگٹن کے مقابلے کی اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے چینی مؤقف پر وضاحت مانگی اور چین کو خبردار کیا کہ روس کے لیے امداد بشمول امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو روکنے میں مدد کرنا ان کو مہنگا پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے اس ملاقات کے حوالے سے بیان میں کہا کہ جیک سلیوان نے سات گھنٹے کی ایک ’کڑی‘ ملاقات کے دوران واضح کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس وقت روس کے ساتھ چین کی صف بندی کے متعلق گہرے خدشات ہیں۔

  • بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے گرفتار سینئر صحافی محسن بیگ کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی ہے

    اے ٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کی ضمانت منطورکرلی اے ٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کو 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا ، اسلام آباد کے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، محسن بیگ کو مچلکے جمع کروائے جانے کے بعد آج رہا کیا جا سکتا ہے

    محسن بیگ کو پولیس نے گھر سے گرفتار کیا تھا محسن بیگ اسوقت جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں محسن بیگ کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج ہے محسن بیگ کیخلاف درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں بعد ازاں گرفتاری کے بعد ناجائز اسلحہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اس مقدمہ میں محسن بیگ کی ضمانت ہو گئی تھی آج دوسرے مقدمے میں بھی ضمانت ہو گئی ہے

    محسن بیگ کو جب گھر سے اٹھایا گیا تھا اسکے بعد ان پر تھانے کے اندر بہیمانہ تشدد کیا تھا، گرفتاری کے بعد پولیس نے محسن بیگ کے گھر پر بعد میں بھی چھاپے مارے تھے، حکومتی وزرا نے محسن بیگ کو ایک دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد سمیت ملک بھر کی صحافی برادری محسن بیگ کے ساتھ کھڑی رہی اور حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا،

    آن لائن نیوز ایجنسی اور روزنامہ جناح کے ایڈیٹر انچیف محسن جمیل بیگ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت منظور ہونے پر جناح بلڈنگ کے باہر صحافی کمیونٹی کا احتجاجی کیمپ کے اختتام پزیر ہونے پر اظہار تشکر کیا، جڑواں شہروں کے صحافیوں سمیت پی ایف یو جے ،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا پاکستان کی معزز عدالتوں کی غیر جانبداری پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، محسن جمیل بیگ کے تمام کیسز پر فیصلے حق و سچ کی دلیل ہے ، حکمران جماعت نہ صرف آزادی اظہار پر پابندی لگا رہی ہے بلکہ عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین رہی ہے حکومت وقت جان لے کہ ہم سچ لکھتے رہیں گے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کرنا ہمارا فریضہ ہے عمرانی حکومت جان لے آزادی صحافت پر پابندیاں لگانے سے حق و سچ کی آواز بند نہیں کی جا سکتی۔ صحافیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کریں پیکا ایکٹ آرڈیننس واپس لے ۔صحافیوں کو آئین اور قانون کے مطابق ہمیں آزادی اظہا رائے کا حق دینا چاہئے۔

    چیف ایڈیٹر جناح / آن لائن محسن جمیل بیگ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت منظور ہونے پر ورکرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ کے اختتام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے پر صدر آر آئی یو کے عابد عباسی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافتی تنظیموں کا محسن جمیل بیگ کی گرفتاری کے خلاف لگائے گئے کیمپ میں کردار مثالی رہا اور صحافیوں نے یکجہتی کی مثال قائم کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ صحافی زندہ ہے اور یہ ثابت کیا کہ ریاستی جبر و ظلم کے ضابطے اور حکومت کے کالے قوانین کسی صورت قبول نہیں پیں صدر نیشنل پریس کلب انور رضا نے کہا ہے کہ محسن جمیل بیگ کی ضمانت منظور ہوگئی ، ریاستی جبر ہار گیا،معزز عدلیہ کا کردار ناقابل فراموش ہے،صحافی برادری بائیس روز کے احتجاجی کیمپ میں دن رات بیٹھے رہے دلی مبارکباد پیش کرتا ہون ورکرز ایکشن کمیٹی کی استقامت لائق تحسین ہے۔

    اس موقع پر گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح و آن لائن شمشاد مانگٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محسن جمیل بیگ شیر صحافت ہیں ، جسطرح تمام کیسز کے متعلق معزز عدالتیں غیرجانبداری سے فیصلے سنا رہی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے اندر عدالتوں کی عملداری بہترین انداز میں ہورہی ہے ، جناح آن لائن وکرز ایکشن کمیٹی بھی مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے 22 دن بلا ناغہ احتجاجی کیمپ کو آباد رکھا ہے اس موقع پر سیکرٹری آر آئی یو کے طارق علی ورک نے کہا ہے کہ کہ اپنے شعبہ میں ہم نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ عوام کے حقوق کے حق میں لکھتے ،محسن جمیل بیگ کی رہائی تک احتجاجی کیمپ لگائے رکھنے کا عہد وفا کیا ہے مستقبل میں بھی صحافیوں کے خلاف حکومتی و ریاستی جبر کے خلاف کھڑے رہیں گے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے صحافیوں پر الزامات لگائے ہیں کہ پیسے لیکر خبریں دینے ہیں لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ ثبوت دیئے جائیں انہوں نے کہا کہ محسن جمیل بیگ نے ثابت کیا کہ حکومت کے ظلم اور جبر کے خلاف کیسے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے ۔

    اس موقع پر اظہار تشکر کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن سمیع ابراہیم نے کہا ہی کہ حکومت وقت اپنے تمام سرکاری وسائل لگا کر صحافیوں کی آواز بند کرنا چاہتے ہیں جو کہ ہمارے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، محسن جمیل بیگ کی آج کی ضمانت سے ثابت کر دیا ہے ہماری معزز عدالتیں بغیر کسی دباو کے اپنا کام کر کر رہی ہے ، حکومت اپنے اور تنقید برداشت کرے انہوں نے جناح آن لائن وکرز ایکشن کمیٹی کے تمام ممبران کو مبارکباد پیش کی ،

    اس موقع پر پی آر اے کے صدر صدیق ساجد نے کہا ہے کہ تمام صحافی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ محسن جمیل بیگ اور جناح آن لائن ورکرز ایکشن کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، صحافت کی آواز نہیں دبائی جا رہی بلکہ ریاست کے عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے ، آواز کو ہر ڈکٹیٹر نے بند کرنے کی کوشش کی مگر حق و سچ کو کون دبا سکتا ہے ۔

    اس موقع پر نائب صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف صحافیوں اور اظہار آزادی رائے کا گلہ دبانے کی کوشش کی ہے بلکہ بے چاری عوام کے ساتھ بھی ظلم عظیم کیا ہے جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر اقتدار میں لائے تھے عوام دو ٹائم کے نوالے کو ترس رہے ہیں ، حکومت کا صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کالے قانون کسی صورت قبول نہیں ہیں تحریک کا اختتام نہیں صحافیوں کے حقوق کی جنگ جاری رہے۔

    سینئر صحافی غلام مرتضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بھی دوسری ڈکٹیٹرز کی طرح اپنے منطقی انجام کو پہنچنے جا رہا ہے جناح آن لائن ورکرز ایکشن کمیٹی اور صحافی تنظیموں کا احتجاج کیمپ 22 روز جاری رہا سب مبارکباد کے مستحق ہیں اور صحافیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صحافت زندہ ہے،جب سے یہ حکومت برسر اقتدار آئی بے روز گاری ،صحافت پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی گیی اور پیکا جیسے کالے قانون کے ایکٹ میں ترمیم کر کے آرڈیننس جاری کیا گیا جو کہ قابل مزاہمت ہے ۔

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا