Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • مہنگائی نےعوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ

    مہنگائی نےعوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ

    لاہور:مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ ڈاکٹر نوید الہی نے پارٹی اجلاس میں ممبرشپ مہم کا آغاز کیا اور کہا مہنگائی عروج پر ہے مگر حکمران سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ان کی تمام تر توجہ ڈولتے سنگھاسن کو سنبھالنے میں ہے لیکن ڈوبتے لوگوں کی پرواہ نہیں۔ گھی اور چکن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے لوگوں کو بوکھلا دیا ہے۔ دالوں اور دوائیوں کے نرخ لوگوں کے سینوں پہ مونگ دل رہی ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں اور پٹرول کے خونچکاں خرچوں نے عوام کو بے حال اور بد حال کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بھی عوام کے مسائل پہ تو شاید ہی اکھٹی ہوئی ہو مگر حکومت کے حصول کی جنگ کے لئیے یکجا ہو گئی ہے۔ کراچی سے پروفیسر سلمان ڈی محمد نے کیا اور ممبر شپ مہم اور عوام کے لئی پارٹی کی کوششوں کو سراہا۔ شرکا نےتمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان سے پر زور اپیل کی کہ غریب، کم آمدنی والوں اور تنخواہ دار طبقے، کسانوں اور مزدوروں کے لئیے جو آواز عوام تحفظ موومنٹ نے اٹھائی ہے اس میں بھرپور ساتھ دیں۔ اس طرح ہم آواز ہونے سے پسے ہوئے لوگوں کو امید ہو گی کہ انکی بھی اس نظام میں شرکت اور شراکت ہے۔ یہ موقع ہے سیاسی پارٹیوں کے لئیے کہ عوام کو یقین دلا سکیں کہ وہ موجودہ نا اہل اور بے حس حکومت کی نالائقی اور سنگدلی کو کبھی نہیں دہرائیں گے۔

    چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ نے توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ متوسط طبقہ، جو کہ ملک کی اکثریت ہے، کی نمائندگی صفر ہے۔ یہی طبقہ عوام کے مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔لہٰزا اسکو امورِ حکومت سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ روایتی اور ناکارہ لیڈرشپ کا توڑ ہیں۔ ان کا آگے آنا ضروری ہے۔ عوام تحفظ موومنٹ کا عزم ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں حکومت فیصلے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق شفاف طریقے سے کرے۔

    عوام سے کچھ چھپایا نہ جائے۔ وہ فیصلہ سازی میں شرکت اور شراکت کے حقدار ہیں۔ انکی زندگیوں پہ اثر انداز ہونے والے فیصلے چند مالدار اربابِ حکومت بند کمروں میں بیٹھ کر کر دیں، یہ نامنظور ہے۔اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندے پارٹی مالکان کی آواز پہ ہی لبیک کہ سکتے ہیں۔ انکی اپنی کوئی آواز اور اختیار نہیں۔ جب تک اسمبلیاں پارٹی مالکان کے تسلط سے واگزار نہیں ہوتیں عوام کو اپنے تحفظ کے لئیے خود آواز اٹھانا پڑے گی۔ عوام تحفظ موومنٹ اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ساتھ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی سر کوبی کریں گے۔ ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

  • الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیر اعظم عمران خان کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے پی، شاہ محمود قریشی ، اسد عمر کو بھی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر مراد سعید اور انور زیب کو بھی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو دیر کا دورہ کرنے سے منع کیا تھا۔الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے دیر میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 31 مارچ کو شیڈول ہے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو دیر میں جلسہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر لوئر دیر نے وزیر اعظم کو مراسلہ جاری دیا ہے جس مں وزیر اعظم کو جلسہ کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

    مراسلے کے مطابق وزیر اعظم 11 مارچ کو لوئر دیر میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن لوئر دیر میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری کرچکا ہے۔

    مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے باعث جلسے میں شرکت کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوگی اور کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتا ہے۔

  • سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    ریاض :سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ کے حوالے سے نئی اور تازہ ترین صورت حال سامنے آگئی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی وزارت توانائی نے بیان جاری کیا کہ جس کے مطابق دارالحکومت ریاض کی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگنے والی معمولی نوعیت کی آگ پرقابو پالیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اورنہ ہی تیل کی سپلائی متاثرہوئی ہے جبکہ یہ حملہ جمعرات کی صبح 4:40 کے قریب ہوا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ دنیا کو توانائی کی فراہمی کی سلامتی اور استحکام کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    تاہم حکام نےڈرون حملہ کس کی جانب سے کیا گیا اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے جبکہ فوری طور پر کسی گروپ کی جانب سے کوئی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات یمن کے حوثی باغیوں کا نشانہ رہی ہیں۔

    حوثی باغیوں نے 2019 میں مشرقی صوبے ابقیق میں آئل پروسیسنگ فیسیلٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ اس حملے نے عارضی طور پر سعودی عرب کی روزانہ کی نصف پیداروان کو نقصان پہنچایا تھا۔

  • روس کی یوکرین میں بمباری، اسٹیڈیم، لائبریر اور رہائشی عمارتیں تباہ:اقوام متحدہ نے اہم اجلاس بلالیا

    روس کی یوکرین میں بمباری، اسٹیڈیم، لائبریر اور رہائشی عمارتیں تباہ:اقوام متحدہ نے اہم اجلاس بلالیا

    یوکرین کی رکنِ پارلیمنٹ انا سوسون کے مطابق روسی بمباری سے مختلف شہروں میں رہائشی عمارتیں، اسٹیڈیم اور لائبریری کی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔انا سوسون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں کہا کہ روس نے چرنیو شہر میں رہائشی اپارٹمنٹ اور لائبریری کو نشانہ بنایا ہے۔

    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں حملوں کے مقامات کی تصاویر کے ساتھ یہ معلومات بھی فراہم کی ہے کہ چرنیو میں 11 مارچ کو صبح سویرے 4 بچے ایک اسٹیڈٰم اور لائبریری متاثر ہوا ہے اور شہر میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

    انا سوسون نے چند اور تصاویر کے ساتھ یہ معلومات فراہم کی ہے کہ 60 اپارٹمنٹس پر مشتمل عمارت، مزید ایسی چار عمارتوں اور دس چھوٹی مکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ دنیپرو اور لوتسک میں روس نے مزید حملہ کی ہے، لوتسک کے میئر نے ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

    دنیپرو میں یوکرینی میڈیا نے تین دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جس میں بظاہر ایک میں دو منزلہ جوتے بنانے کی فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے، دیگر دو دھماکوں میں سے ایک کئی منزلہ عمارت پر ہوا جن میں اپارٹمنٹس بنے ہوئے تھے اور ایک عمارت چھوٹے بچوں کے اسکول کی تھی۔

    دوسری جانب آج کے حملے میں یوکرین میں لوتسک کی انتظامیہ کے سربراہ کا کہنا ہے روسی حملے میں دو یوکرینی سپاہی ہلاک ہو گئے جبکہ 6 افراد زحمی ہوگئے ہیں۔روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے مغربی شہر وان لوتسک اور لوینو فرینکسوسک میں فوجی ائیر فیلڈز کو نشانہ بنایا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ماسکو کی درخواست پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی مبینہ تیاری کے معاملے پر جمعے کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔

     

     

    امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    فیس بک کی اپنی پالیسی میں عارضی طور پر نرمی دوسری جانب فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد نفرت انگیز تقریر پر اپنی پالیسی میں عارضی طور پر نرمی کی ہے۔ فیس بک نے ’روسی حملہ آوروں کی موت‘ جیسے بیانات اپنے پلیٹ فارم پر شیئر کرنے کی اجازت تو دی ہے تاہم شہریوں کو دھمکیاں دینے سے روکا گیا ہے۔

    ماسکو کے اپنے ہمسایہ ملک پر حملے نے نہ صرف مغربی حکومتوں اور کاروباری اداروں کو پابندیاں عائد کرنے کی ترغیب دی بلکہ اس جنگ میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی مباحثوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی جانب سے پالیسی فیصلے کو فوری طور پر تنازع کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے اپنا دفاع کیا ہے۔

    میٹا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ہم نے سیاسی اظہار رائے کی ان اقسام کی عارضی طور پر اجازت دی ہے جو عموماً ہمارے نفرت انگیز تقریر پر قوانین کے خلاف ہیں جیسے کہ ‘روسی حملہ آوروں کی موت۔’ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اب بھی روسی شہریوں کے خلاف کسی کو تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پالیسی آرمینیا، آذربائیجان، ایسٹونیا، جارجیا، ہنگری، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، رومانیہ، روس، سلوواکیہ اور یوکرین پر لاگو ہوتی ہے۔ ٹیک پلیٹ فارمز کو روس اور یوکرین کے تنازع میں اس وقت مسائل کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹیلی ویژن انٹرویو اور ٹوئٹر پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔

    گراہم کی تین مارچ کی ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ’اس (جنگ) کے ختم ہونے کا واحد راستہ یہ ہے کہ روس میں کوئی شخص اس آدمی کو باہر لے جائے۔‘ لنڈسے گراہم کی اس ٹویٹ کو ٹوئٹر نے اپنے پلیٹ فارم سے نہیں ہٹایا تھا جس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔

    اٹلانٹک کونسل کی ڈیجیٹل فرانزک ریسرچ لیب کے ڈس انفارمیشن ماہر ایمرسن بروکنگ نے بتایا ہے کہ ’یہ پالیسی روسی فوجیوں کے خلاف تشدد کے مطالبات کے حوالے سے ہے۔ یہاں تشدد کی کال، ویسے بھی مزاحمت کی کال ہے کیونکہ یوکرینی ایک پرتشدد حملے کی مزاحمت کرتے ہیں۔‘ تاہم کچھ لوگوں نے اس پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    لیہائی یونیورسٹی کے پروفیسر جیریمی لٹاؤ نے ٹویٹ میں طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم نفرت انگیز تقریر کی اجازت نہیں دیتے سوائے کسی خاص ملک کے کچھ لوگوں کے خلاف۔‘ فیس بک اور دیگر امریکی ٹیک کمپنیاں یوکرین پر حملے کے بعد روس کو ’سزا‘ دینے کے لیے آگے بڑھی ہیں اور ماسکو نے معروف سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر تک رسائی کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں

  • برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان

    برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان

    مکہ: برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان ،اطلاعات کے مطابق مکہ مکرمہ میں کچی بستیوں کے اصلاحاتی پروگرام کے ترجمان ڈاکٹر امجد مغربی نے کہا ہے کہ ’قوز النکاسہ‘ میں سکونت پذیر برمی کمیونٹی کے 8 ہزار سے زیادہ افراد کے قیام کو قانونی بنادیا گیا۔ یہ اقامہ و روزگار قوانین کی خلاف ورزی کرکے النکاسہ میں سکونت پذیر تھے۔

    الاخباریہ چینل کے معروف پروگرام ’نشرۃ النھار‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مغربی نے کہا کہ سعودی حکام نے انسانی بنیادوں پر برما کے غیر قانونی تارکین کے مسائل حل کیے ہیں۔

    اس سے قبل ہزاروں برمیوں کو مفت اقامے جاری کیے گئے تھے۔ انہیں ملازمتیں فراہم کی گئی تھیں اور ان کی رہائش کے انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

    گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے اس حوالے سے انسانیت نواز سکیم اپنی نگرانی میں نافذ کرائی جس کی منظوری اعلی قیادت سے حاصل کی گئی تھی۔

    مغربی نے مزید بتایا کہ النکاسہ محلے کی عمارتیں مکینوں سے خالی کراکر منہدم کرائی گئی ہیں۔ باقی ماندہ عمارتیں عید الفطر کے بعد منہدم کی جائیں گی۔ اس دوران وہاں آباد برمیوں کے مسائل کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیا گیا۔

    وزارت افرادی قوت کی فیلڈ ٹیموں اور دیگر اداروں کی متعلقہ کمیٹیوں نے النکاسہ محلے میں آباد سعودی خاندانوں کی فہرستیں تیار کیں۔ سماجی کفالت پروگرام میں شامل شہریوں کو فلیٹس فراہم کیے گئے اور دیگر کے لیے بھی انسانی بنیادوں پر رہائش کا بندوبست کیا گیا۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوں میں اپنی تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں اورگھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھااورلوگوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنایا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے سرینگر، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، پلوامہ،راجوری،پونچھ، کشتواڑ،ادھمپور اور دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کیں اور گھروں پر چھاپے مارے۔ متعدد علاقوں کے رہائشیوں نے میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں نے ان کے گھروں میں زبردستی داخل ہو کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

    ادھر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی نے بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کے ہمراہ وادی کشمیر میں مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کی۔ این آئی اے نے چھاپوں کے دوران موبائل، لیپ ٹاپس، کمپیوٹر اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں اور ایجنسیوں کی طرف سے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا مقصدکشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کے جذبہ حریت کو کمزور کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اورمقبوضہ کشمیر میں اس کی انتظامیہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اپنی وحشیانہ کارروائیوں اور فوجی پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہیں اور بھارت مستقبل میں بھی اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماء شیخ عبدالمتین نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں بارہمولہ سب جیل میں نظربند کشمیریوں کے ساتھ جیل حکام کے غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام کشمیری نظربندوںکو مناسب خوراک اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نظربند جیل حکام کے غیر انسانی رویے کے خلاف گزشتہ دو روز سے بھوک ہڑتال پرہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مختلف جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیں اور ان کی رہائی میں کردار ادا کریں۔

  • جے یو آئی کے ارکان کے ساتھ زیادتی ہوئی، حنا پرویز بٹ بھی خاموش نہ رہ سکیں

    جے یو آئی کے ارکان کے ساتھ زیادتی ہوئی، حنا پرویز بٹ بھی خاموش نہ رہ سکیں

    جے یو آئی کے ارکان کے ساتھ زیادتی ہوئی، حنا پرویز بٹ بھی خاموش نہ رہ سکیں
    اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی، گرفتاریوں کی حکومت،اپوزیشن دونوں جانب سے رد عمل آ رہا ہے

    ن لیگی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ بھی جے یو آئی کارکنان کی گرفتاریوں پر خاموش نہ رہ سکیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ ذیادتی ہوئی، پولیس نے ان پر تشدد کر کے تمام حدیں پار کیں۔۔۔سپیکر کو کرسی پر رہنے کا کوئی حق نہیں، تھوڑی سی شرم باقی ہے تو استعفی دے دیں۔۔۔

    قبل ازیں مولانا فضل الرحمان کی احتجاج کی کال پر پارلیمنٹ لاجز واقعہ کے خلاف مختلف شہروں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔
    جے یو آئی کے کارکنان کی جانب سے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، خضدار، نوشہرو فیروز سمیت دیگر کئی مقامات پر دھرنے دیئے گئے، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی جبکہ پاک ایران اور پاک افغان شاہرات بھی بند کر دی گئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے منان چوک پر جمعیت کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسلام آباد واقعہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کوئٹہ کے علاوہ خضدار، مستونگ اور کچلاک میں بھی جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے دھرنا دیا۔

    بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسلام آباد واقعہ کے بعد کارکنان میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے، جس پر وہ احتجاج کر رہے ہیں، مرکزی قائدین کے فیصلے کے بعد صوبے بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔

    قبل ازیں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انصار الاسلام کے خلاف پولیس کا آپریشن شروع ہونے کے بعد گرفتاری دینے کا اعلان کردیا ہے۔پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے خلاف پولیس کی جانب سے کئے جانے والے آپریشن کے بعد مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ لاجز پہنچے، اس دوران اپنی گرفتاری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان اسلام آباد پہنچیں، ہم خود گرفتاری دینگے، اگر پی ڈی ایم کے کسی ایم این اے کو گرفتار کیا گیا تو ہم بھی گرفتاریاں دینگے۔بعدازاں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کسی بندے کے پاس اسلحہ نہیں تھا، انہوں نے لاجز پردھاوا بولا ہے، پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے یہاں پہنچا ہوں، کارکن تمام شہروں میں روڈ بند کردیں، ہم آپ کے ساتھ میدان میں لڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اطلاعات تھیں کہ آج کے واقعے کی تصدیق ہو رہی ہے اور ہمارے ایم این ایز کو گرفتار کیا جائے گا۔

    مسلم ٹاؤن ، تھانہ آبپارہ ، کوئٹہ ، چاغی ، ٹھل ، نوشہرو فیروز ، ٹنڈو محمد خان ، ٹانک ، چارسدہ، مردان ، سوات ، جیکب آباد ، سکھر ، نواب شاہ ، خیر پور ، کاکنڈ یارو ، ٹھٹھہ ، ہالہ ، حیدرآباد ، لاڑکانہ ، سہراب گوٹھ ، کراچی ، ملتان ، گلگت اور بدین میں مولاناکےکارکن کادھرنا جاری ہے ادھر جمعیت علماء اسلام قلات کے کارکنان فورا شاہراہ مفتی محمود۔ مڈوے ہوٹل پہنچ جائیں۔ حافظ ابراھیم لہڑی حافظ قاسم لہڑی کی قیادت میں کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بند کردیا گیا ادھر لاہور سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ن لیگ ، پی پی اور ن لیگ کے حلیف مذہبی جماعتوں نے اپنے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہےکہ وہ جے یو آئی ف کے بھیس میں جاکر حکومت کے خلاف اس احتجاج کو کامیاب کریں انہوں نے کہا کہ میں طبل جنگ بجا رہا ہوں اور ان کے خلاف اعلان جنگ کر رہا ہوں، ہر پارٹی کے ورکر کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہوسکے تو اسلام آباد پہنچے اور اگر وہ نہیں پہنچ سکتے تو اپنے اپنے علاقوں میں مرکزی شاہراہیں بند کر دیں۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ یہ حکومت آخری سانسوں پر ہے، ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو کسی وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا، ثابت ہوگیا حکومت ہمارے ارکان کواغوا کرنا چاہتی تھی۔

  • شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک

    میرانشاہ:شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر آپریشن کر کے 4 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے مدی خیل اور بوبر گیپ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر دو آپریشن کیے ہیں۔

    بیان کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کے مقامی لوگوں نے آپریشن کو سراہا اور علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا۔

  • جےیوآئی کےارکان اسمبلی کوگرفتارنہیں کیا:شوق سےبیٹھے ہیں:ہماری طرف سےآزادہیں:شیخ رشید

    جےیوآئی کےارکان اسمبلی کوگرفتارنہیں کیا:شوق سےبیٹھے ہیں:ہماری طرف سےآزادہیں:شیخ رشید

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے آپریشن کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے دو ارکان قومی اسمبلی کو ہم نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے شوق سے تھانے میں بیٹھے ہیں، ہماری طرف سے وہ رہا ہیں، ہم مولانا فضل الرحمان کو بھی گرفتار نہیں کریں گے، ان کی کمپنی کی مشہوری نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹے گا، جو تشدد کرے گا اسے کچل دیا جائے گا۔

    شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سڑکیں بلاک کرنے کی اپیل پر کہا کہ جہاں سڑک بند ہوگی ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

    شیخ رشید نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران انصار الاسلام کے ایک عہدے دار کا ویڈیو بیان بھی نشر کیا۔ پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے خلاف پولیس کے آپریشن کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا الرٹ جاری کیا جا چکا ہے، ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں ہیں، خدانخواستہ عدم اعتماد سے پہلے امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت اہم سیل پکڑا ہے، 60 سے 70 لوگ لاجز میں داخل ہوئے، ان کے لاجز میں کپڑے بدلوائے گئے، پولیس نے 4 گھنٹے تک منت سماجت، مذاکرات کیے کہ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں، ہمارے حوالے نہ کرنے پر پولیس نے آپریشن کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انصار الاسلام کے لوگ پیچھے بھی آ رہے ہیں، نتیجہ آپ بھگتیں گے، کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، باہر سے لوگ آرہے ہیں اور ہم کوشش کریں گے انہیں روک لیا جائے۔

    خیال رہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے ڈنڈہ بردارکارکنوں کے احتجاج کے دوران پارلیمنیٹ لاجز میں زبردستی داخل ہونے والوں کو پولیس نے حراست میں لیا تھا لیکن پھر اس کے بعد فورا چھوڑ دیا

     

     

    پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن ڈی آئی جی آپریشن کی کمانڈ میں کیا جارہا ہے۔ میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز سے نکال دیا گیا جس کے بعد پولیس کی نفری نے صلاح الدین ایوبی کے لاج کا دروازہ توڑ کر انہیں گرفتار کر لیا جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    دوسری طرف انصارالاسلام فورس کے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے نوٹس لے لیا اور ڈی چوک پر قائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج، لائن افسر معطل کر دیئے گئے۔

    ترجمان کے مطابق افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا، ایس ایس پی آپریشنزمعاملے کی انکوائری کریں گے۔

    اُدھر پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور اراکین اسمبلی آمنے سامنے ہوئے اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ اور اہلکاروں میں ہاتھا پائی ہوئی۔پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور ایم این اے کے سٹاف میں ہاتھا پائی کے دوران وہاں موجود رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق کا پاؤں دروازہ لگنے سے زخمی ہوگیا۔

    دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے جے یو آئی ف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کے ان الفاظ کی تائید کی ہے کہ ہم نے کسی کوگرفتار نہیں کیا جو کوئی بیٹھا ہوا ہے اپنے شوق سے بیٹھا ہے

    پولیس کی طرف سے دونوں ایم این ایز صلاح الدین ایوبی اور جمال الدین کو گرفتار نہیں کیاگیا،یہ دونوں ایم این اے حضرات تھانہ آبپارہ میں ایس ایچ او کے کمرے میں موجود ہیں،یہ دونوں ایم این ایز تھانے سے نہ جانے پر مصر ہیں،

    پولیس نے دونوں ایم این ایز کو قطعی گرفتار نہیں کیا،جو کہ اپنے کارکنان کی رہائی کے لیے بضد ہیں،انصار الاسلام فورس پر24 اکتوبر 2019 کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پابندی عائد کی تھی اور ان کو کالعدم قرار دیا تھا،

    ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    اسلام آباد :ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے