Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ

    امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ

    نیویارک :امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ ،اطلاعات کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان نے نیویارک اور وفاقی حکام کو 55 ملین ڈالر سے زائد جرمانے ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    کراچی میں نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک برانچ کو منی لانڈرنگ میں ناکامی پر یہ جرمانہ کیا گیا ہے ، امریکہ کے فیڈرل ریزو بورڈ اور نیویارک سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف فنانشنل سروسز نے نیشنل بینک آف پاکستان کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کل 55 ملین ڈالر کا جرمانہ کر دیا

    فیڈریل ریسزرو بورڈ کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان امریکہ میں فارن بینک پر آپریٹ کررہا تھا، اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا بورڈ فرم نیشنل بینک آف پاکستان سے اینٹی منی لانڈرنگ پروگرام کو بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کرے گا امریکی حکام نے مبینہ اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر بینک سے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پرعمل کا تحریری پلان بھی مانگ لیا ہے

    دوسری طرف امریکہ نے ایران کے گیس پائپ لائن پر امریکہ نے پابندی عائد کردی ہے ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ امریکہ کی ان پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان بھی براہ راست متاثر ہوگا ،یہ بھی یاد رہےکہ نیشنل بینک کو جرمانہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ 2021 کے آخری ایام میں بھی جرمانہ کیا گیا تھا جس میں‌ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک آف پاکستان پر 28 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان پر 28 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل بینک پر جرمانہ کسٹمرز کی شناخت، اینٹی منی لانڈرنگ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، فارن ایکس چینج، اثاثوں کے معیار اور عمومی بینکنگ آپریشنز میں قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے پر عائد کیے گئے۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک کو برانچوں میں اندرونی سطح پر انکوائری کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث افسران کی خلاف کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ جولائی تا ستمبر 2021 کے دوران 4 بینکوں پر 47 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔

    ن لیگی رہنما پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک آف پاکستان ،منی لانڈرنگ کا جُرم 550 ملین ڈالر کا جُرمانہ،برابر قسط کے جس کے لۓ IMF کی غلامی قبول ۔ نیب کے مقدمے سازوں اور میڈیا کے الزام تراشوں کی ہتھکڑیاں اور قینچیاں اُسی طرح کب حرکت میں آئیں گی جس طرح وہ سالوں سے بغیر کچھ ثابت کیے جمہوری سیاستدانوں پر وار کرتی ہیں۔

    ن لیگی رہنما عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکل پانے کے لیے ساڑھے تین سال سے سخت کوشش جاری ہے۔ ثمر بھی مل گیا۔ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی پر امریکہ میں نیشنل بینک ساڑھے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ دے گا۔ قومی خزانہ جس بے دردی سے لٹایا جارہا ہے اس کے بعد معاشی بہتری کی توقع فضول ہے۔

  • کس کوکیوں اورکتنی سزا دی ؟ نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    کس کوکیوں اورکتنی سزا دی ؟ نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد:کس کوکیوں اورکتنی سزا دی ؟ نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی۔

    ذرائع کے مطابق نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج عطا ربانی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی۔

    عدالت نے کیس کے شریک ملزمان جان محمد اور افتخار کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی جبکہ تھراپی ورکس کے تمام ملزمان کو بری کردیا، سزا پانے والا مجرم افتخار چوکیدار اور مجرم جان محمد مالی ہے، عدالت نے خانساماں جمیل کیس سے بری کردیا۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے گذشتہ سال بے دردی سے قتل کی گئی مقتولہ نور مقدم کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، فیصلے میں ظاہر جعفر کو مجرم قرار دیتے ہوئے اسے سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔

    61 صفحات پر مشتمل نور مقدم قتل کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل نے اسے ذہنی مفلوج قرار دلوا کر سزا سے بچانے کی کوشش کی۔ تاہم عدالتی حکم پر جیل ہسپتال میں اس کا میڈیکل ہوا تو وہ ذہنی طور پر تندرست قرار پائے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن ظاہر جعفر، افتخار اور جان محمد کے خلاف کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی لیکن دیگر ملزمان کے خلاف کیس ثابت نہ کر سکی، اس لئے انہیں بری کیا جاتا ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن نے ثابت کیا کہ ظاہر جعفر نے اپنے گھر کے کمرے میں تیز دھار چاقو سے نور مقدم کو قتل کیا۔ ظاہر جعفر نے زبردستی نور مقدم کو اغوا کیا، حبس بے جا میں رکھا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

    سیشن کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ سائنسی اور فرانزک شواہد نے ثابت کیا کہ نور مقدم کا قتل ظاہر جعفر نے کیا۔ تھراپی ورکس کے مالک کا ظاہر جعفر کے والدین کے ساتھ کوئی میسج یا آڈیو پیغام نہیں پیش کیا گیا۔ ٹھوس شواہد کے بغیر نہیں کہا جا سکتا کہ طاہر ظہور قتل کا علم رکھتے تھے۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نور مقدم کی لاش ظاہر جعفر کے کمرے سے برآمد کی گئی تھی۔ ملزمان کے وکلا استغاثہ کے شواہد کو جھٹلانے میں ناکام رہے۔ تاہم یہ ‏شواہد نہیں کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی بیٹے کے قتل کے ارادے سے واقف تھے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے ثابت کرنا تھا کہ والدین بیٹے کے ارادے سے واقف تھے۔ ظاہر جعفر کی والدین سے ہوئی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ یا ٹیکسٹ میسج موجود نہیں ہے۔ صرف رابطے دکھاتی سی ڈی آر سزا کے لئے ناکافی ہے۔

  • روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    ماسکو: روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے اورزمینی پیشقدمی کے ساتھ اب حالات بد سے بد تر ہوتے نظر آرہے ہیں ۔یاد رہے کہ طویل کشیدگی کے بعد روس نے جمعرات کی صبح 8.30 بجے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔اب تازہ خبروں کے مطابق روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ ایک خبر کیف سے آرہی ہے کہ یوکرین کا فوجی طیارہ جس میں 14 افراد سوار تھے کیف کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے

    فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی فوجی یوکرین کے ساتھ پولینڈ کی سرحد کے قریب جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد فرار ہونے والے لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ جیسے ہی روس نے یوکرین پر اپنا حملہ شروع کیا، دارالحکومت، کیف سے ہزاروں کاریں باہر نکل گئیں، بہت سے لوگ مغرب کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ اور نیٹو کے فوجیوں کے قریب ملک کے کچھ حصوں میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے کی امید میں ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اب تک 40 یوکرینی فوجی اور 10 عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین نے 50 روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے اور 6 لڑاکا طیاروں کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین میں ہندوستانی سفیر نے کہا ہے کہ کیف میں ہندوستانی سفارت خانہ بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ پہلے کی طرح کام کرتا رہے گا۔

    یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی روسی فوجی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ یوکرین کے صدر کے ایک مشیر نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 40 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    یوکرین میں روسی ٹینکوں کے داخل ہونے سے عوام میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر ہونے والی ویڈیوز میں خوف کا ماحول صاف نظر آرہا ہے۔ لوگ سرحد سے ملحقہ علاقوں سے یوکرین کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج ایک اہم میٹنگ بلائی ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ روس کے رویے کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ یوکرین کو اب نیٹو میں شامل ہونا چاہیے۔

    اامور خارجہ کے وزیر مملکت وی مرلیدھرن نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ تقریباً 18,000 ہندوستانیوں کو، جن میں طلباء بھی شامل ہیں، کو یوکرین سے واپس لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یوکرین میں فضائی حدود بند ہیں، اس لیے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یہاں یوکرین کے سفیر نئی دہلی میں میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی درخواست کی۔ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی فوجی اور اقتصادی حملے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے

    وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے

    ماسکو:وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات جاری ہے ، جس میں دوطرفہ تعلقات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات جاری ہے ، جس میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات اور اہم امورپرتبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

     

    اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف بھی موجود ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کریملن میں ہورہی ہے، ملاقات میں توانائی،اقتصادی،تجارتی شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی گئی اور افغانستان کی صورتحال اوراسلاموفوبیا کا موضوع بھی زیرغور آیا۔

     

     

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں پاکستان فیٹف میں روس سے مدد کے لیے بات کرے گا جبکہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستان کی رکنیت ، اوراقوام متحدہ سمیت فیٹف میں دوطرفہ تعاون پر بھی گفتگوکی گئی جس پر روسی صدر نے پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعلان کیا

    ذرائع کے مطابق خطے میں امن کیلئے پاکستان کی دفاعی ضروریات پر بھی بات ہوگی جبکہ دفاعی ساز و سامان اور بھارت کو دیے گئے روسی میزائل ایس فور ہنڈریڈ پر بھی گفتگو کا امکان ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے میں شیئر ہولڈرز معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ماسکو میں جنگ عظیم دوئم کے سپاہیوں کی یادگار پر حاضری دی اور یادگار پر پھول رکھے۔

  • آپکاصرف ایک ووٹ،مل جائےتوعمران خان سےاقتدار     چھین سکتےہیں:زرداری کی سراج الحق سےدرخواست

    آپکاصرف ایک ووٹ،مل جائےتوعمران خان سےاقتدار چھین سکتےہیں:زرداری کی سراج الحق سےدرخواست

    لاہور:آپ کاصرف ایک ووٹ ہے،وہ مل جائےتوعمران خان سے اقتدارچھین سکتےہیں:آصف زرداری کی سراج الحق سےدرخواست،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر جماعت اسلامی سے مدد مانگ لی۔

    سابق صدر آصف زرداری جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں سراج الحق سے ملاقات کے لیے پہنچے، جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کے درمیان نکاتی ایجنڈے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کی حمایت پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک اور لانگ مارچ سمیت موجودہ سیاسی صورت حال پر مشاورت کی گئی۔

    پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کا ایک ووٹ اہمیت اختیار کر گیا۔ زرداری نے جماعت اسلامی سے تحریک عدم اعتماد پر حمایت مانگ لی۔

     

     

    دوسری طرف آصف زرداری اور سراج الحق کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سابق صدر نے کہا کہ منصورہ میں آپ کے پاس ووٹ لینے کے لئے آیا ہوں، اس وقت جو ملکی حالات بن گئے ہیں اس میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، داخلہ و خارجہ کے محاذ پر حکومت مکمل پسپائی اختیار کر چکی ہے، ملک کے اندر مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے، جماعت اسلامی ملک میں بڑی اپوزیشن کی پارٹی ہے، اس قومی منظر نامہ میں آپ اپنا کردار ادا کریں۔

    آصف علی زرداری نے سراج الحق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس قومی اسمبلی میں صرف ایک ہی ووٹ ہے اگر وہ آپ ہمیں دے دیں‌تو ہم عمران خان سے اقتدار چھین سکتے ہیں

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کا ایک ووٹ ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آپ کے عدم اعتماد بارے کوئی تحفظات ہیں تو ہمیں بتائیں انہیں دور کرنے کےلئے تیار ہیں، عدم اعتماد کے نتیجے میں نئی حکومت سب سے پہلے الیکشن اصلاحات کرے گی۔

    اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہمیں الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر اعتراض ہے۔ پہلے دن سے ہی اس موقف پر قائم ہوں ای وی ایم کے ذریعے انتخابات بہت بڑی دھاندلی ہوں گے، آپکی تجاویز کو جماعت اسلامی کی مجلس شوری اور عاملہ میں رکھیں گے، اس کے بعد جواب دیں گے، بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ کے حوالے سے ابھی تک اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔

  • یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    لاہور:یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نے کیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے دو علاقوں کی آزادانہ حیثیت تسلیم کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی روس کےخلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں میں فوج داخل کرنے کے احکامات کے بعد امریکہ اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ مغربی ممالک نے کسی جارحیت کی صورت میں ماسکو کو مزید سخت اقدامات کرنے کا انتباہ بھی کیا ہے۔

    امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان نے اپنی پابندیوں میں بینکوں اور روس کے امیر ترین افراد کو ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ جرمنی نے روس کے ساتھ ایک بڑی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام روک دیا ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان جاری حالیہ تنازع کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں سلامتی کا سنگین ترین بحران قرار دیا جارہا ہے۔ روس یوکرین کو تاریخی اعتبار سے اپنی سرزمین کا حصہ تصور کرتا ہے۔

    یوکرین کے مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے رد عمل میں صدر ولادیمیر پوٹن نے، گزشتہ برس امریکہ کے تخمینے کے مطابق، یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ اہل کار تعینات کردیے تھے۔

    روس نے منگل کو ان اہل کاروں کو یوکرین کے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک میں داخل ہونے کے احکامات جاری کیے اور اس کی وجہ ‘قیامِ امن’ بتایا ہے۔امریکہ نے اس جواز کو ‘احمقانہ’ قرار دیتے ہوئے اسے یوکرین پر حملے کا آغاز قرار دیا ہے۔ امریکہ کی روس پر پابندیاں ماسکو کے حالیہ اقدامات پر امریکہ نے روس کے امیر ترین افراد اور دو سرکاری بینکوں کو ہدف بنایا ہے۔

    امریکہ کی پابندیاں روس کے ‘ویب بینک’ اور روسی فوج کے ‘پرومزوائز بینک’ پر عائد ہوں گی جو روس کے دفاعی سودے کرتا ہے۔

    امریکہ نے ان روسی بینکوں کو اپنے بینکنگ سسٹم سے خارج کردیا ہے، ان پر امریکیوں سے تجارت کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور ان کے اثاثے بھی منجمد کردیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کی جارحیت کی صورت میں وہ روس کے سب سے بڑے دو کمرشل بینکوں ‘سبر بینک’ اور ‘وی ٹی بی’ پر پابندی عائد کردیں گے۔

  • یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    واشنگٹن :یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا ،اطلاعات کے مطابق جس کا خدشہ یا یقین تھا وہی ہوا ۔روس رکا نہیں اور یوکرین پر دھاوا بول دیا۔جنگ چھڑ چکی ہے۔دنیا فکر مند ہے کہ کہیں یہ جنگ طول نہ پکڑ لے۔ اب انتظار اس بات کا ہے کہ روس کے تیوروں کے سامنے مغرب کا موقف کیا ہوتا ہے۔

    بات پابندیوں تک محدود رہے گی یا پھر جنگ کے میدان میں امریکہ اور نیٹو بھی کود پڑیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینا جنگ کے طول پکڑنے کا خدشہ ہوگا۔

    جب یوکرین میں گذشتہ سال کے اواخر میں بحران کا آغاز ہوا تو روسی صدر ولادی میر پوتن کی حکومت نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست جاری کی۔روس کا سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ نیٹو روس کی سرحد سے متصل سابق سوویت بلاک ریاستوں سے اپنے تمام فوجی، سازوسامان اور ہتھیار واپس بلا لیں۔

    پوتن کی جانب سے منگل کو مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسندوں والے علاقوں پر حملے کے حکم کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد امریکی فوج روس کی دہلیز پر مزید فائر پاور بھیج رہی ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے منگل کو ہی امریکی فوجیوں، طیاروں اور لڑاکا طیاروں کو مشرقی یورپ میں تعینات کرنے کا حکم دیا تاکہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے اور ماسکو کی مزید جارحیت کو روکا جا سکے۔

    صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کہا: ’میں نے اپنے بالٹک اتحادیوں ایستونیا، لٹویا اور لتھوانیا کو مضبوط بنانے کے لیے یورپ میں پہلے سے تعینات امریکی افواج اور سازوسامان کی اضافی نقل و حرکت کا اختیار دے دیا ہے۔

    روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد فوجیوں کی تعداد بڑھنے کے بعد سے وائٹ ہاؤس اور یورپی اتحادیوں نے عسکری طریقے سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    کئی ماہ سے بائیڈن نے اصرار کیا ہے کہ امریکی فوجی یوکرین میں جو نیٹو کا اتحادی نہیں ہے، میں نہیں لڑیں گے لیکن انہوں نے یورپ کے دیگر حصوں سے امریکی افواج کو عارضی طور پر دوبارہ تعینات کرکے آس پاس کے ممالک میں دفاع کو دوگنا کیا ہے۔

    تقریبا چھ ہزار امریکی فوجی پہلے ہی جرمنی، پولینڈ اور رومانیہ بھیجے جا چکے ہیں۔ پولینڈ میں 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ساتھ امریکی پیراٹروپرز یوکرین پر حملے کے بعد اس کی مشرقی سرحد سے فرار ہونے والے ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے فوجی سہولیات قائم کر رہے ہیں۔

    رومانیہ میں، جو جنوب میں یوکرین کی سرحد سے متصل ہے، ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل آرمی سٹرائیکر سکواڈرن جرمنی سے کسی بھی سرحدی مسئلے سے نمٹنے کی تیاری کے لیے منتقل ہو چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ مشرقی یورپ میں فضائی دفاع کو تقویت دینے کے لئے 20 حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور دو درجن لڑاکا طیاروں کی ایک بٹالین کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔

    اب امریکہ کے پاس یورپ میں 90 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر مشرقی یورپ سے باہر تعینات ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بائیڈن نے پولینڈ میں امریکی زمینی فوجیوں کی تعداد دگنی سے زیادہ کر کے نو ہزار اور رومانیہ میں تقریبا دو ہزار کر دی ہے۔

    بائیڈن نے منگل کو جن فورسز کا اعلان کیا ہے ان میں تقریبا 800 سروس ممبران کی انفنٹری بٹالین ٹاسک فورس شامل ہے جو اٹلی سے بالٹک خطے میں منتقل ہوئی، جرمنی سے آٹھ ایف 35 لڑاکا طیاروں سے ’نیٹو کے مشرقی حصے کے ساتھ‘ بے نام اڈوں تک، جرمنی سے بالٹک تک 20 اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر، اور یونان سے پولینڈ تک 12 دیگر اپاچی ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔

    نیٹو کے مشرقی حصے میں اضافی زمینی اور فضائی افواج کی تعیناتی سے خطرات لاحق ہیں۔ 2014 میں پوتن کے جزیرہ نما کرائمیا کے ساتھ الحاق کے بعد سے

  • دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: ہائیکورٹ کا حکم

    دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: ہائیکورٹ کا حکم

    لاہور:دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: اطلاعات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیلئے دائر متفرق درخواست میں تجاوزات کے مرتکب افراد کو بھاری جرمانے اور دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا ۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی متفرق درخواست پر سماعت کی، جوڈیشل واٹر کمیشن کی طرف سے سید کمال حیدر ایڈووکیٹ، ایل ڈی اے کی طرف سے صاحبزادہ مظفر، ڈائریکٹر ٹیپا وقار اسلم پیش رفت رپورٹ سمیت پیش ہوئے، جوڈیشل واٹر کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت نے پنجاب میں گندگی پھیلانے والوں پر جرمانے عائد کرنے کا حکم دیا تھا مگر عملدرآمد نہیں ہوا،

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت کہا کہ تجاوزات ٹریفک جام کی وجہ بنتی ہے، اس لئے تجاوزات والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں، ہٹائی گئی تجاوزات دوبارہ قائم ہونے پر ذمہ دار فیلڈ افسر کیخلاف کارروائی کی جائے،

    جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمنٹل کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ غریبوں کی ریڑھیاں اٹھا کر تصویریں بناکر رپورٹ تیار کر لیتے ہیں، مگر امیر لوگوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتے، کمیشن نے سڑکوں پر تجاوزات کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے مگر ایل ڈی اے تجاوزات کے عوض رشوت لیتا ہے، دکانداروں نے فٹ پاتھوں پر قبضے کر رکھے ہیں، دکاندار فٹ پاتھوں کے کرائے وصول کر رہے ہیں۔

    جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں دوران سماعات ڈی ایس پی ٹریفک نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس تجاوزات کیخلاف آپریشن میں ساتھ ہوتی ہے،مسئلہ یہ ہے کہ سڑکوں پر ایک طرف تجاوزات ختم کرتے ہیں تو چند گھنٹوں بعد تجاوزات پھر قائم ہو جاتی ہیں۔

    ڈائریکٹر ٹیپا نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میونسپل کارپوریشن زیر تعمیر عمارتوں کی انسپکشن کئے بغیر این او سیز جاری کر رہا ہے، لاہور میونسپل کارپوریشن عمارتوں کے نقشوں کی منظوری کے بعد رپورٹ ٹیپا کو بھی بھجوانے کا پابند ہے، ایم سی ایل کی طرف سے ٹیپا کیساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا، ایم سی ایل کے زیر انتظام علاقوں میں عمارتوں کے نقشوں کے این او سیز کیلئے ٹیپا کی منظوری لازم قرار دی جائے۔

    جسٹس شاہد کریم نے قرار دیا کہ شہر میں پی ایس ایل کی وجہ سے ٹریفک کے دبائو میں بہتری آئی ہے، سی ٹی او کا شکریہ کہ انہوں نے ٹریفک جام کو کم کیا، عدالت سی ٹی او کے اقدام کو سراہتی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 مارچ تک ملتوی کردی۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان ،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج چین اور روس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فوجیوں کی تعداد اور اڈوں میں اضافہ کرے گی جبکہ ایران اور جہادی گروپوں کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو برقرار رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے افسران کا پیر کو کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع گوام اور آسٹریلیا میں فوجی تنصیبات کو اپ گریڈ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ دفاع چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دفاعی حریف سمجھتے ہوئے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا۔یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک نیا دفاعی اتحاد قیام میں آیا ہے جسے آکوس کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں اور ان کا مقصد چین کی ترقی کا مقابلہ کرنا ہے۔

    چین اپنی بحریہ تشکیل دے رہا ہے اور ایشیا میں دہائیوں سے امریکی فوجی تسلط کو امتحان میں ڈال رہا ہے۔یہ اتحاد اس وقت بنا جب بیجنگ نے متنازع جنوبی چائنہ سمندر میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور تائیوان کے خلاف اپنے فوجی خطرات میں اضافہ کیا۔

    رواں سال کے آغاز میں صدر جو بائیڈن کی جانب سے کمیشن کیے گئے جائزے ’گلوبل پوسچر رویو‘ کے بارے میں پینٹاگون کے افسران کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات کو ابھی خفیہ رکھا جائے گا تاکہ امریکہ کے منصوبے حریف ممالک کو پتا نہ چلیں۔یاد رہے کہ ’گلوبل پوسچر رویو‘ وہ جائزہ ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔

    پنٹاگون کی اعلٰی افسر مارا کارلن کا کہنا ہےکہ اس جائزے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کا ترجیحی علاقہ انڈو پیسیفک ہے۔مارا کارلن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جائزہ ’خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اضافی تعاون کی ہدایت کرتا ہے تاکہ ایسے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے جو علاقائی استحکام میں معاون ہوں اور چین کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت اور شمالی کوریا کی طرف سے خطرات کو روکیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جائزہ یورپ میں روس کی جارحیت کے خلاف مدد دیتا ہے اور نیٹو فورسز کو زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
    تاہم عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ اب بھی پینٹاگون کے لیے مشکل علاقہ ہے۔

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔