Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • کرتار پور منصوبے کی اہمیت دنیا کے سامنے اجا گرہونی چاہیے:حسان خاور

    کرتار پور منصوبے کی اہمیت دنیا کے سامنے اجا گرہونی چاہیے:حسان خاور

    لاہور: کرتار پور منصوبے کی اہمیت دنیا کے سامنے اجا گرہونی چاہیے:اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور کا کہنا ہے کہ’ہمیں کرتار پور منصوبے کی اہمیت دنیا کے سامنے اجا گر کرنی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور سے گردووارا سکھ پربندک کمیٹی دہلی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات میں یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی، باہمی وفود کے تبادلے سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وفد کی قیادت کمیٹی کے چیف ایڈوائزر پرمجیت سنگھ چنڈوک نے کی۔

    حسان خاور نے کہا کہ کرتار پور راہداری کے ذریعے بابا گرو نانک کا امن و آشتی کا پیغام دنیا تک پہنچایا جا سکتا ہے، یہ راہداری پاک بھارت باہمی تعلقات میں بہتری کا بہترین موقع فراہم کر سکتی ہے۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس اہم ترین منصوبے کی اہمیت پوری دنیا کے سامنے اجاگر کرنی ہے، حکومت سکھ یاتریوں کی رہائش کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

    حسان خاور نے کہا کہ تمام گرودواروں کے گرد و نواح میں یاتریوں کی رہائش کے لیے جگہوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے، حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے این او سی کے حصول کا عمل آسان بنائے گی۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ گردواروں کے ذریعے مذہبی سیاحت کا بھرپور پوٹینشل موجود ہے، سات ہزار سے زائد سکھ یاتری ہر سال پاکستان آتے ہیں۔

    دوسری جانب پرمجیت سنگھ چنڈوک کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کو موجودہ دور کا آٹھواں عجوبہ کہیں تو غلط نہ ہو گا، بھارتی پنجاب میں آئندہ چھ ماہ میں کرتار پور راہداری کے حوالے سے نہایت مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی مشترکہ تاریخ کے بارے میں نئی نسل کو بتانا ہو گا۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    سرینگر: بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل اور انکی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لیے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    حریت رہنماوں نے 1991 کے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کی اور اسے جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا دی جا سکے۔ بھارتی فوجیوں نے23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تقریباً سو خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری ایک شرمناک فعل ہے جس کی دنیا کے تمام انسانوں کو مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکے لوگوں کا بھارتی عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ ایسے دلخراش واقعات میں انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔

    غلام احمد گلزار نے اجتماعی عصمت دری کے تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کنن پوش پورہ سانحہ کے متاثرین کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

    حریت رہنما محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کشمیری خواتین کو تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے بھارتی حکام کی طرف سے رچی گئی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما زمرودہ حبیب نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا

    حریت رہنما یٰسمین راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کی ایک واضح مثال ہے۔۔حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری، جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کی ہولناکیوں کا سامنا ہے

    کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کی رہنما، شمیم شال نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر سال 23 فروری کشمیریوں کو مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک بھیانک حرکت کی یاد دلاتا ہے۔

  • ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    تلنگانہ :ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری،اطلاعات کے مطابق سکھ تنظیموں کا حیدر آباد میں سکھ لڑکی کی آبروریزی کے واقعے نے سکھوںمیں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔ سکھ تنظیموں نے بہیمانہ واقعے کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پنجاب کے شہر جالندھر میںمنعقدہ سکھ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد میں ہونے والے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ کمیٹی کے سربراہ تیجندر سنگھ پردیسی، ہرپال سنگھ چڈھا، ہرپریت سنگھ نیتو، گرویدر سنگھ سدھو اور وکی خالصہ نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے واقعات سے سکھ برادری میں کافی غصہ پایا جاتا ہے۔

    خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سکھ رہنماﺅں کہا کہ بھارت میں امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ انہوںنے آبروریزی کے ملزموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

    اجلاس میں ہرویندر سنگھ چٹکارا، ہرپریت سنگھ سونو، گرجیت سنگھ ستنامیاں، ہرپال سنگھ پالی چڈا، لکھبیر سنگھ لکھا، گرودیپ سنگھ لکی، منمیدر سنگھ بھاٹیہ، گرویدر سنگھ ناگی، ہرپریت سنگھ رابن، امندیپ سنگھ بگا، پربھجوت سنگھ خالصہ، جتندر سنگھ کوہلی، ہرجیت سنگھ۔ سنگھ بابا، سربجیت سنگھ کالدا، منجیت سنگھ وکی، کلدیپ سنگھ ویردی، پلویدر سنگھ بابا، ابھیشیک سنگھ، نوجوت سنگھ، ہرویدر سنگھ ببلو، سنی اوبرائے، تیجندر سنگھ سنت نگر، کملجیت سنگھ دھونی اور اوتار سنگھ اور دیگر موجود تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ہر 15 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ’ریپ‘ کا شکار بن رہی ہے، جب کہ ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔جبکہ غیرجانبدارذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہر 10 منٹ بعد خاتون ریپ کا نشانہ بن رہی ہے بھارت میں خواتین پر تشدد اور ریپ کے واقعات میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہوا۔

  • مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل سکا۔بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران آٹھ سال کی بچیوں سے لے کر اسی برس کی خواتین تک کی 100 کے قریب کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کو اکتیس سال گزر چکے ہیں لیکن متاثرہ خواتین ابھی تک انصاف کی منتظر ہیں جبکہ گھناونے جرم میں ملوث فوجی آزاد گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی یادیں کشمیری عوام کے ذہنوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989 سے اب تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں 11ہزار 2سو 47 خواتین کی عصمت دریعصمت دری اور بے حرمتی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک دھبہ ہے جو مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ریاستی دہشت گردی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ کنن پوش پورہ واقعہ قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیر میں کیے جانے والے جنگی جرائم کا ثبوت ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو توڑنے کے لیے عصمت دری کو فوجی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھارت پر دباوڈالا جانا چاہیے تاکہ مجرموں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ بھارت کو کشمیریوں کے خلاف گھناونے جرائم کے ارتکاب کے لیے جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

  • حکومت پاکستان کا زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کیلیے عوام سے سونا ادھار لینے کا فیصلہ

    حکومت پاکستان کا زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کیلیے عوام سے سونا ادھار لینے کا فیصلہ

    کراچی:وفاقی حکومت زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے عوام سے سوناادھار لینے کی تجویز غور کرناشروع کردیاہے۔عالمی قرض دہندگان سے گزشتہ تین ماہ میں5 بلین ڈالر سے زیادہ قرض لینے کے باوجود حکومت کی پوزیشن مستحکم نہیں ہے، وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق عوام سے سوناادھار لینے کی تجویزپر اقتصادی ایگزیکٹو کونسل(ای ای سی)میں بحث کی گئی، جس میں اقتصادی وزراءاور گورنر اسٹیٹ بینک شامل ہیں۔تجویز کے مطابق کمرشل بینک سونے کے مالک کو ایک قابل تبادلہ رعایتی دستاویز جاری کریں گے اور قیمتی دھات پرشرح سود ادا کریں گے،

    کمرشل بینک یہ سونا اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کرائے گا جو زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے اس سے مزید نفع کماسکتا ہے،جس نے مہنگے غیر ملکی قرض لے کر زرمبادلہ کے ذخائر بنائے ہیں۔31دسمبر 2021 کو اسٹیٹ بینک کے ذخائر کی پوزیشن کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس پہلے ہی 2.01 ملین فائن ٹرائے اونس سونے کے ذخائر ہیں جن کی مالیت 3.8 بلین ڈالر ہے،

    اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل سکڑ رہے ہیں، 11 فروری کو یہ مزید17 بلین ڈالر تک گر گئے۔پچھلے 3 ماہ میں حکومت نے سعودی عرب سے3 ارب ڈالر کا قرض لیا، موٹر وے گروی رکھ کر آئی ایم ایف سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا ایک ارب ڈالر قرض لیا، لیکن پھر بھی غیر ملکی قرضوں کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ کم برآمدات اور زیادہ درآمدات کی وجہ سے ذخائرکو مستحکم نہیں کیا جا سکا۔وزارت خزانہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا،

    عوام سے سونا ادھار لینے کی تجویز ابتدائی طور پر پاکستانی نژاد طاہر محمود نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کی تھی، اس کے بعد وزیر اعظم نے معاملہ ای ای سی کے پاس بھیج دیا جس نے اس تجویز کو قابل عمل بنایا تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو بڑھایا جاسکے اور گھروں میں پڑے قیمتی اثاثے کے ذریعے مارکیٹ میں مزیدکیش لایا جا سکے۔

  • سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس ہوا ہے:لاہورپریس کلب

    سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس ہوا ہے:لاہورپریس کلب

    لاہور: سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس ہوا ہے:لاہورپریس کلب کی طرف سے اظہارہمدردی کا اعلان ، اطلاعات کے مطابق لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری، سینئرنائب صدر سلمان قریشی ، نائب صدرناصرہ عتیق ، سیکرٹری عبدالمجید ساجد ، جوائنٹ سیکرٹری سالک نواز ، فنانس سیکرٹری شیراز حسنات اور اراکین گورننگ باڈی نے سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس کا اظہارکیا ہے ۔

    انھوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہاہے کہ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصا صحافیوں کا معاشی طورپربرا حال ہے ، انھیں کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی یا ان کی تنخواہوں میں کٹ لگانے کا رجحان ہے جبکہ صحافتی ذمہ داریاں اداکرنے پر انھیں قتل تک کردیاجاتاہے مگر کسی بھی ادار ے کی جانب سے انھیں تحفظ فراہم نہیں کیاجاتا۔

    انھوں نے کہاکہ صحافی ملک و قوم کا اثاثہ ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ جس طرح سلوک کیا جاتاہے وہ تمام ملک و قوم کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ سماءنیوزچینل کی جانب سے صحافیوں کو نوکری سے فارغ کرنا ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سماءنیوزچینل کی انتظامیہ صحافیوں کا استحصال نہ کرے اور برطرف کئے گئے صحافیوں کو فوری طور پر ڈیوٹی پر بحال کیاجائے ۔

  • سری لنکا کیساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں: وزیراعظم عمران خان

    سری لنکا کیساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں: وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:سری لنکا کیساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک قابل اعتماد دوست اور شراکت دار کی حیثیت سے سری لنکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

    یہ بات انہوں نے سری لنکن بحریہ کے کمانڈر وائس ایڈمرل نشانتھا اولوگیٹن سے کہی جنہوں نے منگل کو ان سے ملاقات کی۔وزیر اعظم نے فروری 2021 میں اپنے سری لنکا کے دورے کو یاد کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو جامع طور پر اپ گریڈ کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون پاکستان سری لنکا تعلقات کا کلیدی جزو اور خطے میں امن و استحکام کا عنصر رہا ہے۔ سری لنکن قیادت کے دورہ پاکستان کا منتظر ہوں۔

    سری لنکا کے وائس ایڈمرل نشانتھا اولوگیٹن نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر مبنی تعلقات پر زور دیا اور بین الاقوامی وعلاقائی فورمز پرحمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور مشترکہ اہداف کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • پاکستان کس منہ سےآوگےفواد:شرم تم کومگرنہیں آتی       :پاکستان کوبدنام کرنےوالےفواد احمد کا دورہ پاکستان:

    پاکستان کس منہ سےآوگےفواد:شرم تم کومگرنہیں آتی :پاکستان کوبدنام کرنےوالےفواد احمد کا دورہ پاکستان:

    لاہور:پاکستان کس منہ سےآوگےفواد:شرم تم کومگرنہیں آتی:پاکستان کوبدنام کرنےوالےفواد احمد کا دورہ پاکستان:پی سی بی کا امتحان،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آرہی ہے اور اس ٹیم وہ بے وفا پاکستانی بھی شامل ہے جس نےدنیا بھرمیں پاکستان کی بدنامی کرکے پاکستان کی ناک کٹوانے میں اپنا بھرپورحصہ ڈالا

    یاد رہے کہ چند دن پہلے کرکٹ آسٹریلیا نے دورہ پاکستان کے لیے 16 رکنی وائٹ بال اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق ایرون فنچ اسکواڈ کی قیادت کریں گے،چیئرمین نیشنل سلیکشن پینل جارج بیلی کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستان کے ٹور کے لیے باصلاحیت اور ورسٹائل اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اگلے ورلڈ کپ کے لیے ون ڈے تشکیل دینے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ تین میچز پر مشتمل ایک روزہ میچز کی سیریز راولپنڈی میں کھیلی جائے گی جس میں 29 ، 31 مارچ اور 2 اپریل کو دونوں ٹیمیں ایکشن میں دکھائی دیں گی۔

    5 اپریل کو واحد ٹی ٹوئنٹی کھیلا جائے گا، آسٹریلیا نے پاکستان میں تین ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی میچ کھیلنا ہے،آسٹریلیا ٹیسٹ اسکواڈ کی پاکستان آمد 27 فروری کو شیڈولڈ ہے اور وائٹ بال اسکواڈ کے ارکان ٹور کے درمیان میں جوائن کریں گے۔

    دوسری طرف اہل پاکستان نے ایک قابل توجہ سوال پیش کیا ہے کہ آسٹریلیا کی اس ٹیم میں کے پی میں پیدا ہونے والے فواد احمد بھی پاکستان آرہے ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کی شہرت حاصل کرنے کے لیے پاکستان ،اہل پاکستان اور پاکستان کے اداروں پر سنگین الزامات لگائے تھے ،

    اس وقت اہل پاکستان پوچھ رہے ہیں کہ فواد یہ وہی پاکستان ہے جہاں آپ کے بقول آپ کی جان کوخطرہ تھا تو آج آپ پاکستان کیوں آرہے ہیں ، پاکستان میں وہی لوگ ہیں جو پہلے تھے ، اگر اس وقت آپ کی جان کو خطرات تھے تو آج آپ کی جان کو خطرات نہیں ، ، آخرآپ نے یہ سازش کیوں کھیلی

    یہ بھی یاد رہے کہ فواد احمد نے ہر انڈین چینل پر پاکستان کو ایسا بدنام کیا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے، لیکن اب وہ پی ایس ایل کھیل رہے ہیں، شائیقین کرکٹ کہہ رہے ہیں کہ فواد پاک ٹیم کا 50 فیصد حصہ کے پی کے سے ہےپھر آپ کی جان کو خطرہ کیسے نہیں؟

    یاد رہےکہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لیگ اسپنر فواد احمد نے آسٹریلیا اور انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے کی غرض سے ایسی کہانیاں گھڑی تھیں کہ اس کی جان کو خطرہ ہے

    آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کرنے والے احمد نے مختلف میڈیا چینلز بالخصوص بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے پاکستانیوں کی طرف سے شدید دھمکیاں دی گئیں۔

    "انہوں نے مجھے دہشت زدہ کیا، انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ وہ خواتین کو تعلیم دینا پسند نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان پر آسانی سے غلبہ حاصل کر سکیں۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ فواد احمد نے پاکستان کی بدنامی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ، پاکستانی ہی تھے جنہوں نے صبر کا مطاہرہ کیا اور آج بھی اپنے دیس میں پیدا ہونے والے فواد احمد کا استقبال کرنے کے لیے کھلے دل دے تیار ہیں لیکن لوگ پی سی بی سے پوچھ رہے ہیں‌ کہ فواد سے پوچھیئے ضرور کہ وہ سازشیں کیوں کی گئیں‌

  • سری لنکن نیوی کمانڈر وائس ایڈمرل نشانتھا اولوگیٹن کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقات

    سری لنکن نیوی کمانڈر وائس ایڈمرل نشانتھا اولوگیٹن کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقات

    راولپنڈی :سری لنکن نیوی کمانڈر وائس ایڈمرل نشانتھا اولوگیٹن کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقات،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سری لنکن نیوی کے کمانڈر وائس ایڈمرل نشانتھا اولوگیٹن نے آج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سری لنکن نیوی کمانڈر سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر سری لنکا کے ساتھ طویل مدتی کثیر ڈومین تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل باجوہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    معزز مہمان نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کی تعریف کی اور دونوں افواج کے درمیان دفاع، تربیت اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں فوجی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کوششوں اور علاقائی استحکام میں کردار کو بھی سراہا۔

  • شادی سے پہلے اغواہونے والی  دلہن 21 دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنتی رہی

    شادی سے پہلے اغواہونے والی دلہن 21 دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنتی رہی

    نئی دہلی : شادی سے پہلے اغواہونے والی دلہن 21 دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنتی رہی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے دار الحکومت بھوپال میں 21 سالہ لڑکی کو شادی سے 3 دن قبل اغوا کر لیا گیا جسے مسلسل 21 روز تک قید میں رکھتے ہوئے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پولیس کو رپورٹ بھی جمع کروائی گئی لیکن پولیس نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا

    متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سنگرولی میں اپنے گھر کے باہر بیٹھی ہوئی تھی کہ 27 جنوری کو ایک شخص پیچھے سے آیا اور اس نے کوئی کیمیکل مجھے سنگھا کر بے ہوش کر دیا اور جب مجھے ہوش آیاتو میں نے خود کوقید میں پایا اور وہ شہر جبلا پور تھا جو کہ یہاں سے 350 کلومیٹر دور ہے ،

    پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مظلوم لڑکی کا کہناتھا کہ اسے 2 افراد نے اغوا کیا تھا جنہوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا ،میں نے بہت دہائیاں دی مگر ظالموں کو ترس نہ آیا۔

    پولیس کا کہناہے کہ لڑکی جس دن اغوا ہوئی والدین کی جانب سے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کروائی گئی ،ہمیں بتایا گیا کہ ایک لڑکی جس کی تین دن بعد شادی طے ہے وہ 30 جنوری کو گھر سے غائب ہو گئی ہے ،

    مسلسل 21 روز تک قید میں رکھتے ہوئے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے متعلق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تحقیقات کے بعد وہ لڑکی بالا گھاٹ ضلع سے بازیاب کروائی گئی ،ایک ملزم کوگرفتارکرلیا گیا جس سے تفتیش جاری ہے جلد دوسرے ملزم کو پکڑ لیا جائے گا اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    یہ بھی یاد رہے کہ بھارت میں بے راہ روی اس قدر بڑھ گئی ہےکہ ہر پورے ملک سے ہر روز ایسے شرمناک واقعات کی درجنوں رپورٹس موصول ہورہی ہیں لیکن مودی حکومت کو پرواہ تک نہیں