Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری

    سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری

    کراچی :سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری ،اطلاعات کے مطابق سمیت سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر عوامی مقامات پرماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور بالخصوص کراچی میں کورونا کی بڑھتی ہوئی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ عوامی مقامات پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت تمام شادی ہالز، مارکیٹس اور عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہوگا، اس کے علاوہ شادی کی تقریبات میں کھانا ڈبوں میں فراہم کیا جائے گا۔

    مارکیٹس میں ویکسین شدہ افراد کے داخلے کی اجازت ہوگی اور انتظامیہ کو ویکسی نیشن کارڈ کا ریکارڈ چیک کرانا لازمی ہوگا۔

    حکومت نے ویکسی نیشن مہم پورے صوبے میں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔اس کے علاوہ ریسٹورینٹس پر نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جو ریسٹورینٹس ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز میں اضافہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے کا نتیجہ ہے، عوام تعاون کریں گے تو اس جاری کورونا لہر پر بھی کنٹرول ہوجائے گا۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ دنوں بعد دوبارہ ٹاسک فورس اجلاس ہوگا جس میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

  • تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کےبعد کس کو رپورٹ پیش کرے گی تفصلات آگئیں

    تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کےبعد کس کو رپورٹ پیش کرے گی تفصلات آگئیں

    راولپنڈی:تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کےبعد کس کو رپورٹ پیش کرے گی تفصلات آگئیں،اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی آج سانحہ مری کے متاثرین سے ملاقات کرے گی جس کی رپورٹ پیر کو وزیراعلیٰ پنجاب کو دی جائے گی۔

    سانحہ مری کی تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی، تحقیقاتی کمیٹی آج چھٹے روز سانحے کے متاثرین سے ملاقات کرے گی، سانحہ مری انتظامیہ اور آپریشنل عملے کے بیانات مکمل ہوچکے۔

    تحقیقاتی ٹیم آج مختلف علاقوں کا دورہ کرے گی، اور متاثرین سے آنکھوں دیکھے حال پر سوالات کیے جائیں گے، بیانات کا انتظامیہ کے بیانات سے تقابلی جائزہ لیا جائے گا۔
    ذرائع کے مطابق تحقیقات کا آخری مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تحقیقاتی کمیٹی اتوار کو بھی تحقیقات جاری رہیں گی

    ادھرسانحہ مری کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے مطابق طوفان کے دوران برف ہٹانے والی 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر کھڑی تھیں، ڈرائیور موجود تھے نہ ہی دیگر عملہ جبکہ محکمہ جنگلات کے حکام کمیٹی کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔

    سانحہ مری کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی نے پنجاب ہاؤس مری میں آپریشنل عملے اور برفانی طوفان کے دوران مدد کیلئے موصول ہونے والی کالز کے بارے میں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے ۔

    برف ہٹانے والی گاڑیوں سے متعلق ہائی وے مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ 29 گاڑیوں میں سے 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر ایک نجی بینک میں کھڑی رہیں جبکہ ڈرائیوز اور عملہ ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کا راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں دفتر موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔

    محکمہ جنگلات کے حکام یومیہ اجرت اور سڑکوں پر گرے درخت ہٹانے والے مزدوروں کے بارے میں سوالا ت کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر کمیٹی نے عملے کی تفصیلات اور ذمہ داریوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

    کمیٹی کو بتایاگیا کہ مری میں شدید برفباری کی وارننگ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے جاری کی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مری کے داخلی راستوں سے تقریباً 50 ہزار گاڑیاں واپس بھیجیں۔

  • بلوچستان: ڈاکٹرز اور حکومت میں ڈیڈ لاک برقرار، مریض رل گئے

    بلوچستان: ڈاکٹرز اور حکومت میں ڈیڈ لاک برقرار، مریض رل گئے

    کوئٹہ: بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز اور صوبائی حکومت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے،جس کی وجہ سے مریض سخت سردی میں رسوا ہورہےہیں مگرڈاکٹرز ہیں‌ کہ انکو اپنے مفاد کےعلاوہ کسی پرواہ نہیں‌

    بلوچستان حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان جاری ڈیڈ لاک کے باعث مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ہڑتال کے سبب سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز اور ان ڈور سروسز بند ہوئے تین ماہ بیت گئے جس کے باعث بچوں، بزرگ اور خواتین مریضوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

    صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے مریض نجی اسپتالوں کا رخ کرنے اور مہنگا علاج کرانے پر مجبور ہیں۔

    واضح رہے کہ چند رو قبل اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز نے ریڈزون جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے 20 ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا جب کہ اس دوران 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    خٰیال رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ہڑتال کئی روز سے جاری ہے۔

    گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے سرکٹ ہاؤس دالبندین میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج مسئلے کا حل نہیں لیکن امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے کمیٹی بن چکی ہے، کمیٹی کی تشکیل کے باجود ریڈ زون پر دھرنا دے کر ڈیوٹی نہ کرنا بلا جواز ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تنخواہیں بڑھانے کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات ماننے کو تیار ہیں، ڈاکٹرز کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر سالانہ 7 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    سید احسان شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان معاشی طور پر کمزور ہے ہم دوسرے صوبوں کے برابر تنخواہیں نہیں بڑھا سکتے، اب بھی 17 گریڈ کے ڈاکٹر کی تنخواہ اسی گریڈ کے اسسٹنٹ کمشنر سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکال کر ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج ختم کیا جائے۔

    صوبائی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایچ او ادویات کی خریداری کرسکتے ہیں، میڈیکل اسٹور ڈیپارٹمنٹ ایک کرپٹ ادارہ ہے جس سے خریداری کا اختیار واپس لے رہے ہیں۔

  • پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگے

    پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگے

    اسلام آباد :پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگےاطلاعات کے مطابق پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 افراد انتقال کر گئے اور 4286 نئے مریض بھی سامنے آئے۔

    پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 52522 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 4286 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 4 افراد انتقال کر گئے۔

    سرکاری پورٹل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

    ادھر این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 29003 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ 20 ہزار 120 تک پہنچ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2598 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 12 لاکھ 63 ہزار 5 ہو گئی ہے۔

    ادھر کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی مثبت شرح 35 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔وفاقی حکام کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز 8063 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2846 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

    حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 35.30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مجموعی طور پر کورونا سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 4286 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی جبکہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

  • 12 سال سے بڑے بچوں کی کوورنا ویکسی نیشن نہ کرانے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ

    12 سال سے بڑے بچوں کی کوورنا ویکسی نیشن نہ کرانے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ

    کراچی :12 سال سے بڑے بچوں کی کوورنا ویکسی نیشن نہ کرانے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے کمشنر کراچی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق متعدد فیصلے کیے گئے۔

    ترجمان کمشنر کے مطابق اجلاس میں شادی ہالز میں کورونا ایس او پیز مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 1000 سے زائد مہمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔کمشنر کراچی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بازاروں، ہوٹلوں اور شاپنگ مالز میں ماسک کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اس کے علاوہ اسکولوں میں 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کی ویکسی نشن مکمل کرنے کا فیصلہ بھی ہوا اور کہا گیا کہ تعاون نہ کرنے والے اسکولوں کو بند کر دیا جائے گا۔

    ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی مثبت شرح 35 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    وفاقی حکام کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز 8063 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2846 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 35.30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مجموعی طور پر کورونا سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 4286 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی جبکہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

  • زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    لاہور:زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کا استعمال درست نہیں : پہلے حکمت عملی اورپھرخلوص نیت سے عملداری ضروری ہے:اطلاعات کے مطابق ٹویٹر کے سپیس فورم پرجہاں اوپن ڈسکشن ہوتی ہے اس فورم پرآج پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے پاکستانی معیشت کودرپیش مسائل کے حوالے سے بہت اچھے جوابات دیئے ،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میری اتنی عمر اور تجربہ ہے کہ کچھ باتوں کا پتہ ہے ۔ دو سیکٹرز ایسے ہیں پاکستان میں ایک بیک بون ہے دوسرا بچت پاکستان جب بنا تھا تو زراعت ہماری بہتر تھی ۔آج تک ہم نے کسی بھی حکومت نے یہ نہیں کوشش کی کہ اس کو ریسرچ کریں کہ 56 فیصد جو اسوقت تھی اسکو بہتر کریں ۔ہمارے پاس سرٹیفائیڈ بیج ہی نہیں ۔

    سپیس میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ زراعت پر ہم نے محنت نہیں کی ۔زراعت کی ایک یونیورسٹی پاکستان میں وہ بھی یو ایس ایڈ سے بنی ۔ ہم کوشش کریں گے تو آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ آئی ٹی میں ہم بہت پیچھے ہیں اسکو پروموٹ کرنا ہے تا کہ فاءدہ اٹھا سکیں ۔تیسری چیز پاکستان چائنہ کا فری ٹریڈ کا بہت پرانا کنٹریکٹ ہے اس میں بارہ سو آئٹم ہیں ابھی تک ہم 273 کور کر ہے ہمیں ہزار ایٹم کا پتہ ہی نہیں ۔ہماری حکومت میڈیا کی نالائقی ہے کہ ہم عوام کو بتا نہیں سکے کہ کیسے اور کس پر بزنس کرنا ہے

    اس خوبصورت معاشی سوچ وبچار کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب تک پاکستان میں سٹوڈںٹ یونین اور لوکل باڈیز بحال نہیں ہوتی جمہوریت میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ ان دونوں کو بحال اور ایکٹو کرنا ہو گا اس سے نئے لیڈر نکلیں گے ۔ منی لانڈرنگ کرپٹو کے تھرو ہو رہی ہے چند سال تک کرپٹو کئی چیزوں کو ری پلیس کرے گی ہم جتنا جلدی قانون بنائیں گے اتنا جلدی فایدہ اٹھا سکتے ہیں

    اس موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ زراعت میں بہت کچھ آتا ہے پنجاب میں وزیر رہا ہوں تو پنجاب کا مجھے زیادہ پتہ ہے اگلی بار مفتاح اسماعیل شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار کو بھی دعوت دین گے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سات ملین جانور ذبح ہوتے ہیں ہر سال قربانی ہوتی ہمارے جانور ایکسپورٹ نہیں ہوتے ،چارہ اگانے کے لیے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں اگر ونڈہ دینا شروع کر دیں کہ حکومت فری دے تو پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔گوشت ایکسپورٹ کریں تو اسکا کتنا فائدہ ہے لیکن توجہ نہیں ہے

    مبشرلقمان نے پھر کہا کہ سیاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں کتنے انتظامات کیے پہلے انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے اسکے بعد سیاحوں کو سہولیات دیں پھر فایدہ ہو گا ہم نے سیاحوں کو کوئی سہولیات نہیں دی ہوئی صرف ٹول ٹیکس لے کر خوش ہونے سے کوئی فایدہ نہیں

    ان بہت قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔ اوورسیز والوں کو جس طرح ایئر پورٹ پر ٹریٹ کیا جاتا ہے لگ پتہ جاتا ہے جب تک بزنس مین کو اعتماد نہیں ہو گا کوئی بزنس نہیں کرے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے احسن بھون کا انٹرویو کر رہا تھا ان سے پوچھا ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے تو اسکا کوئی امتحان نہیں جس کو ججز لگا دیا جائے ۔ میڈیا میں کسی کو اکانومی کی سینس ہی نہیں جنکو اکانومی کا پتہ ہے ایک شاہزیب خانزادہ ہے اور ایک شہزاد اقبال ۔یہ دونوں اچھا پروگرام کرتے ہیں رپورٹنگ بھی کرتے رہے ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی بار مہاتیر محمد کو پاکستان عمران خان نے انوائیٹ کیا تو عمران خان نے کافی شکایات کی کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی تو انہوں نے کہا کہ کرپشن اکانومی بہتر کرنے کا طریقہ ہے اسکو لیگل کر دیں جس کو جو دینا ہے پرمٹ کے پیسے ملیں گے بزنس سیو ہو گا تو اکانومی بہتر ہو گی

    اس حوالے سے انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے چالیس سال میں کوئی لڑائی نہیں کی یہ اسکی کامیابی ہے انڈیا کو صرف اسکی حیثیت یاد کرواتا ہے امریکہ نے چالیس سال میں جنگیں کیں مریکہ کا وہ سٹیٹس نہیں جو چین کا ہے ۔ پالیسیز کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ سبسڈیز غریب کو نہیں ملتی ۔ غریب کو ملنی چاہیے ۔ بجلی کا بل جھگی والے کا اور تین کنال والے کا سبسڈیز میں فرق کیوں نہیں ۔ تین مرلے سے کم والے گھر کو بجلی فری ملنی چاہیے

    مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا گالی دینے میں آزاد ہے میڈیا اس دن آزاد ہے جس دن کمرشل انٹرسٹ سے آزاد ہو گا جب تک ہم یہ پروگرام نہیں کر سکتے کہ دنیا کی کوئی کریم جلد گورا نہیں کر سکتی میڈیا آزاد نہیں ۔اسمبلی میں جب کسی کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جایے آڈیو لیک ہو جائے کتابیں پھینکی جایے تو پھر میڈیا کیا کرے ۔ڈر لگ رہا ہے کسی کی عزت ہی نہیں رہی ۔ لوز ٹاک کو بھی کنٹرول کرنا ہے ۔جسدن میڈیا ریٹنگ اور اشتہار کو چھوڑ کر بات نہیں کرے گا میڈیا آزاد نہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ بے حیائی والے ڈرامہ کی ریٹنگ آتی ہے کشمیر پر ریٹنگ نہیں کیونکہ ریٹنگ ایجنسی سنگاپور کی ہے پاکستان میں ریٹنگ ایجنسی بنانی پڑے گی ۔میڈیا پر مادر پدر آزادی بہت خوفناک ہے اس سے مجھے بھی ڈر لگتا ہے

    مبشرلقمان نے اس موقع پر گفتگو کو سمیٹتےہوئے کہا کہ اچھے آئی ٹی کے لوگ نوکریوں میں نہیں آئیں گے حکومت کو ایسے لوگوں کو استعمال کرنا چاہیے اگر بل گیٹس پاکستان ہوتا تو میں میں ب حساب کتاب دے رہے ہوتے کہ کہان سے پیسہ ایا۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔جمہوریت میں عوام ووٹ دیتی ہے اور حکومت بدل جاتی ہے لیکن اداروں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔ میرا رائیٹ ہے کہ میں خط لکھوں تو جواب ملے لیکن نہیں ملے گا یہ جمہوریت نہیں ۔

  • "کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی

    "کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی

    لاہور:”کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی ،فیک نیوز اور فیک تجزیوں اور تبصروں کا شاید ختم ہونے والا ہے کہ سچ نے اپنی حقیقت ثابت کردی ہے، جو کچھ بھی ہے سچ ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے اور صحافت کے میدان میں تواس کی بڑی ہی اہمیت ہے،چند دن پہلے سُنا تھا کہ فیک کے مقابلے میں‌ سچ آرہا ہے اورآج سُنا ہےکہ سچ چھا گیاہے

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خوبصورت گفتگو ہورہی ہے جس میں‌ شائقین کہتے ہیں‌ کہ معروف صحافی سنیئر تجزیہ نگار مبشرلقمان جو کہ ہمیشہ سچ کی دعوت کے ساتھ میدان صحافت میں اترتے ہیں اور اس سچ کی بنیاد پران کا خصوصی پروگرام جسے "کھرا سچ” کے نام سے دنیا جانتی ہے ،آتے ہی سب کے دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے

    "کھراسچ "پروگرام جو کہ پی این این پر اپنا رنگ جماتے ہوئے تیسرے ہفتے میں‌ داخل ہوگیا ہے اور اس وقت کم ترین وقت میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اس کی ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے

    اس وقت پی این این پراس کی ابتدا تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی ہے اور اس کی ریٹنگ 0.3 کی حد کو پارکرنے والی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دیگرقومی ٹی وی چینلز جو کہ پہلے ہی بہت زیادہ انویسٹمنٹ کے ساتھ اپنی ریٹنگ بڑھانے میں لگے ہیں‌ ایسے لگ رہا ہے کہ اگلے چند ہفتوں تک پی این این کی ریٹنگ ان معروف میڈیا برانڈز کو پار کرجائے گی

    دیگر ٹی وی چینلز کی ریٹنگ کچھ اس طرح ہے دنیا نیوز اس وقت 0.38 ،ایکسپریس ٹی وی 0.41 ، اے آر وائی 0.73 اور جیو نیوز1.17 ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ معروف صحافی نے پی این این پر کچھ زیادہ نہیں‌ بلکہ دو ہفتوں میں چند پروگرام ہی کیئے جن میں سے ایک پروگرام مری پر سپیشل کیا، ایک منی بجٹ پر، ایسے شاہد خاقان عباسی کا انٹرویو کیا اور اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا انٹرویو کیا تھا

    پی این این پر "کھرا سچ ” پروگرام میں حنا پرویز بٹ اور مسرت جمشید چیمہ تھیں جبکہ ایک میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی تھے اور ایسے ہی ایک میں بلاول زرداری کا ترجمان ۔مسرت جمشید تھیں

  • خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات 13فروری کو ہوں گے:الیکشن کمیشن

    خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات 13فروری کو ہوں گے:الیکشن کمیشن

    پشاور:خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات 13فروری کو ہوں گے:الیکشن کمیشن ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع میں ملتوی شدہ بلدیاتی انتخابات 13 فروری کو کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق کے پی میں امیدواروں کے انتقال کے باعث ملتوی کیے گئے انتخابات اب 13 فروری کو ہوں گے۔ادھر اس حوالے سے صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان( ڈی آئی خان) میں میئر سٹی کونسل کی نشست پر الیکشن بھی 13 فروری کو ہی ہوگا۔

    ترجمان کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 89 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے، جن کی جانچ پڑتال 14 سے15جنوری تک ہوگی۔صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں17 سے 18 جنوری تک کی جاسکیں گی۔

    ترجمان کے مطابق اپیلوں پر فیصلہ 21 جنوری، 22 جنوری کو امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کی جائے گی جبکہ 24 جنوری تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق 25 جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔

  • قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے:آرمی چیف

    قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے:آرمی چیف

    اسلام آباد:قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کے موقع پرغیر رسمی گفتگو میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے۔

    اسلام آباد میں قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ کے ارکان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی جاری کر دی گئیاس موقع پر غیر رسمی گفتگو میں آرمی چیف کا کہنا تھاکہ قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے۔

    آرمی چیف کا کہنا تھاکہ ملٹری سکیورٹی قومی سلامتی کا ایک پہلو ہے اور یہ دستاویز قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں مددگار ہوگی۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی تھی۔

  • گنہگارانسان ہوں میں یہ کام نہیں کروں گا:محمد رضوان

    گنہگارانسان ہوں میں یہ کام نہیں کروں گا:محمد رضوان

    لاہور:لڑکیوں کے ساتھ تصاویر کیوں نہیں لیتے؟ رضوان نے وجہ بتادی ،محمد رضوان کہتے ہیں‌کہ میں تو ایک گنہگارانسان ہوں میں کسی کے لیے تکلیف کا سبب نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی میں‌ اس عادت کو پسند کرتا ہوں

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے لڑکیوں کے ساتھ تصاویر نہ بنوانے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    سوشل میڈیا پر رضوان کا ایک ویڈیو انٹرویو وائرل ہورہا ہے جس میں انہیں خواتین کے ساتھ تصاویر نہ لینے سے متعلق گفتگو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    اس انٹرویو میں رضوان کا کہنا تھا کہ میرے لیے خواتین بہت قابل احترام ہیں اور میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ جب کوئی ماں یا بہن میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کا کہتی ہے تو میں ان کے ساتھ تصویر کھنچواؤں، ان خواتین کا معیار میرے نزدیک بہت اعلیٰ ہے۔

    انہوں نے کہا اگر چہ میری خواہش ہے کہ اس عمل پر ہماری مداح ماں بہنیں مجھ سے خفا نہ ہوں لیکن اس کے باوجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعے میں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    اس سے پہلے ایک موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے اپنے پیغام میں عوام سے دعاؤں کی درخواست کردی۔

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ’نظام چلانے والی ذات صرف اللہ پاک کی ہے، آپ کے خواب آپ کو اس وقت تک جگائے رکھیں جب تک وہ پورے نہ ہوجائیں۔