Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • کیسے منی کی لانڈرنگ کی؟ٹک ٹاکر حریم شاہ عرف پھجاں بی بی پھڑی گئی: تحقیقات شروع

    کیسے منی کی لانڈرنگ کی؟ٹک ٹاکر حریم شاہ عرف پھجاں بی بی پھڑی گئی: تحقیقات شروع

    اسلام آباد : کیسے منی کی لانڈرنگ کی؟ٹک ٹاکر حریم شاہ عرف پھجاں بی بی کے خلاف تحقیقات شروع،اطلاعات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ٹک ٹاکر حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کردیں۔

    ایف آئی اے حکام نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، خط میں نیشنل کرائم ایجنسی سے کارروائی کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ایف آئی حکام کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام پر جاری ویڈیوز میں حریم شاہ خود بھاری رقم برطانیہ منتقل کرنے کا اعتراف کر رہی ہیں۔

     

    حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:

     

    سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کہتے ہیں کہ حریم شاہ لندن آگئی ہے ، شاید مرتضی علی شاہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پہلے نوازشریف ، اسحاق ڈار اور بڑے بڑے منی لانڈر لندن میں پناہ گزین ہیں اور پھر پاکستان سے حریم شاہ عرف پھجاں بی بی پر تشریف لے آئی  ہیں ، عمران خان بے چارہ کس کس کا پیچھا کرے گا

     

     

     

    ٹک ٹاکر حریم شاہ کا اصل نام فضا حسین ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کو گھر والے پھجاں بی بی کہتے رہے ہیں‌یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ حریم شاہ کے خلاف فارن ایکسچینج قوانین کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

    خیال رہے کہ حریم شاہ نے 10 جنوری کی رات کراچی انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے دوحا کیلئے سفر کیا تھا، حریم شاہ نے بھاری رقم کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیوز اپ لوڈ کیں اور ان ویڈیوز میں اعتراف کیا کہ وہ بھاری غیر ملکی کرنسی پاکستان سے برطانیہ لے کر آئی ہیں۔

    ٹک ٹاکر حریم شاہ نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا، ویڈیو میں حریم شاہ کے ہاتھوں میں غیر ملکی کرنسی کی گڈیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے کرنسی کی منتقلی منی لانڈرنگ میں آتی ہے۔

    https://twitter.com/Mafabdurrehman/status/1481204097600700417?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1481204097600700417%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fbaaghitv.com%2Fhareem-shah-struck-lightning-on-those-who-came-to-his-harem%2F

    سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں حریم شاہ نے کہا کہ مجھے کسی نے نہیں روکا نہ ہی روک سکتا ہے، پہلی مرتبہ پاکستان سے یو کے اتنا بڑا اماؤنٹ لے کر آرہی تھی، پاکستانی پیسے اور پاسپورٹ سمیت کسی چیز کی وقعت نہیں۔

    حریم نے اپنے فالوور سے یہ بھی کہا کہ آپ لوگ اماؤنٹ لاتے وقت خیال کیجیے گا کیونکہ پکڑ لیتے ہیں، مجھے تو کسی نے کچھ نہیں کہا اور کہہ بھی نہیں سکتے، میں تو بہت آسان اور محفوظ طریقے سے پہنچ گئی۔

    خیال رہے کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی خبریں میڈیا پر چلنے کے فوری بعد حریم شاہ نے اس حوالے سے ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ڈیلیٹ کردیں۔

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”

  • حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

    حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

    راولپنڈی:حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے،اطلاعات ہیں‌ کہ ٹک ٹاک اسٹارجو کہ کبھی بڑی پہنچ رکھتی تھیں‌اوربڑے بڑے اس کے حرم میں آیا کرتے تھے آج اسی حریم شاہ نے انہیں حالات کوسامنے رکھتے ہوئے ایسی دھمکی دے دی ہے کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

    اس حوالے سے ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے کرنسی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے ایف آئی اے کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وہ چیز ہوں کہ پاکستان کی حکومت نہ مجھے پکڑ سکتی ہے اور نہ ہی مجھے سمگلنگ سے روک سکتی ہے،

    حریم شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون صرف غریب لوگوں پر لاگو ہوتا ہے، حریم شاہ کا سوشل میڈیا پر سمگل شدہ کرنسی سامنے رکھ کر چیلنج واقعی حکومت وقت کےلیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے

     

    https://twitter.com/Mafabdurrehman/status/1481204097600700417

    ادھرحریم شاہ کی اس دھمکی کے بعد سوشل میڈیا پرعوام الناس کا کہنا ہے کہ اس دھمکی کے پیچھے دواسباب ہیں ایک تو حریم شاہ نے اس لیے چیلنج کیا ہے کہ حریم شاہ کو پتہ ہے کہ پکڑنے والے کبھی اس کے حرم میں آیا کرتے تھے تو وہ آج کس منہ سے آئیں گے

    لیکن اس بات پر ہر کسی کا اتفاق ہےکہ ایسی بد مست خاتون کواب لگام ڈال دینی چاہیے جس نے اپنی قابل توجہ شخصیت کی آڑ میں سب کو الجھا رکھا ہے

  • سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی

    سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی

    تامل ناڈو:سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزیر راجینتھرا بھالاجی کو 4 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دے دی ہے۔

    اسے تمل ناڈو پولیس نے 5 جنوری کو گرفتار کیا تھا، 23 دسمبر کو ان کے نام پر لک آؤٹ نوٹس جاری ہونے کے دو ہفتے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے

    تمل ناڈو پولیس کی خصوصی ٹیم نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزیر راجندر بالاجی کو ریاستی ڈیری منسٹر کی حیثیت سے اپنے دور میں آون سے 3 کروڑ روپے کے فنڈز کو غلط استعمال کرنے پر گرفتار کیا۔ آوین ایک قانونی کارپوریشن ہے جو تمل ناڈو حکومت کی ماہی پروری، حیوانات اور دودھ کی پیداوار کی وزارت کے تحت ہے۔

    اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق وزیر نے مدراس ہائی کورٹ کے ذریعہ ان کی پیشگی ضمانت کو مسترد کرنے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کا رخ کیا تھا

    سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی، ریاست تمل ناڈو کی طرف سے بحث کرتے ہوئے، سابق وزیر کی طرف سے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی ہیبیس کارپس کی درخواست کی مخالفت کی۔ روہتگی نے یہ بھی دلیل دی کہ گرفتاری کے بعد پیشگی ضمانت بے معنی ہو گئی۔

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر کی 4 ہفتوں کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی گواہ سے بات نہیں کریں گے۔

  • اے ٹی ایم مشین 6 لاکھ روپے چوری کرنے والے تین بڑے نام سامنے آگئے

    اے ٹی ایم مشین 6 لاکھ روپے چوری کرنے والے تین بڑے نام سامنے آگئے

    نوئیڈا :اے ٹی ایم مشین 6 لاکھ روپے چوری کرنے والے تین بڑے نام سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق پولیس نے بدھ کے روز تین لوگوں کو اے ٹی ایم مشین سے چھ لاکھ روپے لوٹنے اور نکالنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ مشتبہ افراد کی شناخت 21 سالہ زبیر آزاد، 19 سالہ راشد اور 20 سالہ کلیم کے طور پر کی گئی ہے جو کہ ہریانہ کے پلوال کے رہنے والے ہیں۔

    پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ہندوستان ٹائمز نے نوئیڈا کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ADCP) کمار رنوجے سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم نے اے ٹی ایم سے سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا اور مشتبہ افراد کی شناخت کی۔ پولیس ٹیم کو اسی اے ٹی ایم کے قریب تعینات کیا گیا تھا تاکہ ملزمان واپس آنے کی صورت میں انہیں گرفتار کر سکیں۔ بدھ کو، تقریباً 11.15 بجے، تینوں مشتبہ افراد ماروتی سوئفٹ ڈزائر میں اے ٹی ایم پہنچے اور پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔”

    پولیس نے دو ڈیبٹ کارڈوں کے ساتھ ایک کار، 21,000 روپے نقد اور تین موبائل فون بھی ضبط کیے ہیں۔

    پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ اکثر اے ٹی ایم جا کر نقد رقم نکالتے تھے۔ ان مشتبہ افراد نے مشین میں ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی سے نقد رقم نکالنے کے لیے اس چال کا استعمال کیا۔ دو مشتبہ افراد اے ٹی ایم کیوسک میں داخل ہوتے تھے جبکہ تیسرا گارڈ کھڑا ہوتا تھا اور کسی کے آنے کی صورت میں انہیں الرٹ کرتا تھا۔

    ملزمان گزشتہ چھ ماہ سے ان فراڈ کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

  • بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    بھوپال :بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی ،اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش کے بھوپال کے مضافات میں نذیر آباد تھانے کے علاقے میں ایک 26 سالہ شخص کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور بلیک میل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ملزم اور متاثرہ ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر 11ویں جماعت کی طالبہ لڑکی کی فحش تصاویر سامنے آنے کے بعد سامنے آیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد سے گاؤں کے ایک رہائشی نے رابطہ کیا جس نے انہیں اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فحش تصاویر کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد متاثرہ کے والد نے شکایت درج کرائی۔

    متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ ملزم نے اس سے دوستی اس وقت کی تھی جب وہ خاندانی مذہبی مقام پر گئے تھے۔

    "ملزم پچھلے سال 16 اپریل کو متاثرہ کے گھر میں گھس گیا اور اس کی عصمت دری کی۔ اس نے کچھ فحش تصویریں بھی کلک کیں اور متاثرہ سے جنسی خواہشات کی تلاش شروع کر دی،‘‘ نذیر آباد کے ایس ایچ او بی پی سنگھ نے کہا۔

    متاثرہ نے اپنے موبائل پر ملزم کا نمبر بلاک کر دیا اور اس سے ملنے سے انکار کر دیا اور جوابی طور پر اس کی فحش تصاویر گردش کرنے لگا۔

  • کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے

    کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے

    کوئٹہ :کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز نے ریڈ زون جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور 20 ڈکٹروں کو گرفتار کر لیا جبکہ 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے ینگ ڈاکٹرز نے آج مطالبات کےحق میں ریڈزون میں وزیراعلیٰ ہاؤس کےسامنے مظاہرے کااعلان کر رکھا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ ینگ ڈاکٹرز مطالبات کے حق میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سےزائد عرصے سے ہڑتال اور احتجاج پر ہیں۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کی سنڈیمن اسپتال سے انسکمب روڈ پر احتجاجی ریلی میں ینگ ڈاکٹرز کےعلاوہ پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کےنمائندے بھی شریک ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ریلی کےموقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ ریڈزون کو جانے والےراستے خاردار تاریں لگا کر بند کردیے گئے ہیں۔

    ترجمان وائی ڈی اے کے مطابق پولیس کے تشدد سے10 سے زائد ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملےکےارکان زخمی ہوگئے۔

    دوسری طرف کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث ان ڈور سروسز اور او پی ڈیز بند ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    مریضوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر بے توجہی اور بےحسی کا شکار ہیں، انہیں عوام کے کسی مسئلے کا ادراک نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری ختم کروائے تاکہ عوام کو سہولت میسر آسکے۔

  • "باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا    بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات کےپیغامات

    "باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات کےپیغامات

    لاہور:”باغی ٹی وی”کی آج 10 ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیابھرمیں‌ لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گیا،تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کی دنیا کے نئے اورابھرتے ہوئے ٹی وی چینل جسے دنیا”باغی ٹی وی ” کے نام سے جانتی ہے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 10 سال مکمل کرلیئے ہیں‌

    "باغی ٹی وی ” جس کا آغازآج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے ، سوشل میڈیا کے اس نئے ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں

    باغی ٹی وی کا ہیڈ آفس یا سینٹرل آفس لاہور ڈی ایچ اے میں ہے ،جبکہ کراچی میں باغی ٹی وی کا صوبائی دفتر ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں

    باغی ٹی وی کی نشریات اس وقت 4 بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہیں ، ان میں قومی زبان اردو،انگلش ، چینی اور پشتوزبان میں نشریات جاری ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہےکہ اگلے چند ہفتوں تک ہمسائیہ ممالک میں نشریات پہنچانے کے لیے وہاں کی زبانوں میں بھی نشریات شرو ع ہوجائیں اور زیادہ امکان بھارت کے کونے کونے تک اس چینل کی نشریات کو پہنچانا ہے

    اس کے علاوہ باغی ٹی وی کے چاہنے والوں کا حلقہ پوری دنیا تک پھیلا ہوا ہے ، اگریہ کہا جائے کہ باغی ٹی وی کے دنیا کے تمام براعظموں میں چاہنے والے موجود ہیں‌

    جہاں اس ٹی وی چینل کی کامیابی کا ذکربڑی خوشی سے کیا جارہا ہے وہاں اگر باغی ٹی وی کی رہنمائی کرنے والی اہم شخصیت کا اگرذکرنہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی

    یہ شخصیت ہیں معروف صحافی ، سنیئر تجزیہ نگار،مشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیا اوردفاعی امور کے ماہر مبشرلقمان ہیں ، مبشرلقمان باغی ٹی وی کی سرپرستی فرما رہے ہیں

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہےکہ مبشرلقمان نے اس دور میں باغی ٹی وی کے ملازمین کوحوصلے دیئے جب بڑے بڑئے میڈیا ڈان اپنے ملازمین کی تنخواہیں اورمراعات ہڑپ کرچکے تھے

    ان حالات میں مبشرلقمان نے نہ صرف ملازمین کے حوصلے بلند کئے بلکہ ان کو بروقت تنخواہیں اورمراعات دینے کا سلسلہ قائم رکھا جوآج تک جاری وساری ہے

    باغی ٹی وی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس چینل سے معاشرے میں فرقہ واریت کے خاتمے اورباہمی بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے جدوجہد کے انداز میں کوششیں جاری وساری رکھی ہیں‌

    باغی ٹی وی پردست شفقت رکھنے والے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان نے کبھی بھی اس چینل پرعریانی وفحاشی کوپروموٹ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ سختی سے اسلامی اور ملی اقدار کی پاسداری کرنے کا حکم دیا جو ان کی دینی شعار سے محبت کا ایک فطری انداز ہے

    باغی ٹی وی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے جب کرونا وائرس نے چین میں پنجے گاڑنے شروع کیئے تو اس وقت باغی ٹی وی ہی تھا جس نے سب سے پہلے اس خطرے سے آگاہ کیا اوراج تک رہنمائی کا یہ سلسلہ جاری ہے

    ان حالات میں جب کرونا نے دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا اورنظام زندگی درہم برہم ہوگیا بڑے بڑے ادارے تباہ ہوگئے ، ان حالات میں میڈیا کی دنیا میں بھی بہت زیادہ مشکلات آئیں اوراکثروبشتر میڈیا گروپس میں ایک سقوط سا آگیا تھا لیکن اس مشکل دور میں بھی "باغی ” ٹی وی ہی وہ ایک ایسا منظم ادارہ ہے جس کی مینجمنٹ نے اس مشکل دور میں بھی نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ پاکستان بھر میں اپنے نمائندگان کو بھی متحرک رکھا

    اس دوران "باغی ” ٹی وی نے ایک نیا انداز نیا اسٹائل دیا جوپہلے پاکستان میں اس قدر متعارف نہیں تھا ،

    "باغی ” ٹی وی نے اپنے ایڈیٹرز کوورک فرام ہوم کا نیا انداز دیا

    اس نئے انداز میں "باغی ” ٹی وی کے ایڈیٹران کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی اورپھرایسا میکنزم ڈیزائن دیا کہ لاہور میں بیٹھ کرپورے ملک سے ایڈیٹراان اورنمالئندگان کے کام کی لائیو مانیٹرنگ کرکے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی کے اس اسٹائل کے بعد اب ایسے کئی ٹی وی چینلز نے بھی یہی اندازاختیارکیا ہے

    باغی ٹی وی کے 10 سال کے مکمل ہونے پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے مبارک باد کے پیغامات بھیجے جارہے ہیں‌ اور اس کی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کے لیے دعاوں کا سلسلہ بھی جاری ہے

    جہاں اس موقع پر دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات آرہے ہیں وہاں باغی ٹی وی کے سرپرست مبشرلقمان نے بھی چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے اوراس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ پہلے سے بہتر انداز میں باغی کی خدمات کوپیش کرنے کی کوشش کریں گے اوراپنے قارین کو کبھی مایوس نہیں کریں‌گے

  • بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہے کہ کابل کے بازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کے پاس خریدنے کے پیسے نہیں، اقوام متحدہ نے یہ بات بتا کرساتھ ہی افغانستان میں انسانی بحران سے بچنےکیلئےامدادکی اپیل کردی ۔

    افغانستان میں سخت سردی کے آغاز کے ساتھ ہی انسانی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے ،طالبان کے اقتدار پر قبضے اور بین الاقوامی پابندیوں کے بعد سے ملک کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق خراب معیشت کے باعث افغانستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیاجبکہ تقریباً 10 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے رواں سال 5 بلین ڈالرز امداد کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں مقیم 5.7 ملین افغان مہاجرین کی مدد کیلئے 623 ملین ڈالرز درکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ایڈ چیف مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان پر مکمل انسانی بحران منڈلا رہاہے،افغان عوام پر امداد کے دروازے بند نہ کریں، افغانستان میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بھوک، بیماری، غذائی قلت اور اموات کو روکنے میں اقوام متحدہ مدد کریں۔

    مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امدادی پیکج کےبغیر کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھی افغانستان کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ امریکہ افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کی بھرپورکوششیں جاری رکھے گا ،

  • افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اس وقت ایران میں امارت اسلامیہ کے وفد نے مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان سے ملاقات کی ہے۔

    "ہاں، ہم نے احمد مسعود، کمانڈر اسماعیل خان اور دیگر افغانوں سے ملاقات کی۔ ہم نے ان سب کو یقین دلایا کہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور بے فکر زندگی گزار سکتے ہیں،” متقی نے امارت اسلامیہ کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔

    ایرانی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے اس ملاقات کی میزبانی کی، انہوں نے مزید کہا کہ افغان فریقین کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔

    دریں اثنا، طالبان نے پیر کو تصدیق کی کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان مخالف اتحاد کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

    یہ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی، جس میں طالبان کی جانب سے اپنے سابق مخالفین کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔ قومی مزاحمتی فرنٹ کے نام سے جانے والے اس اتحاد کی قیادت طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں، جنہیں 2001 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اگست کے وسط میں طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد یہ گروپ متحد ہو گیا جب افغان حکومت فرار ہو گئی اور افغان فورسز نے طالبان پر قبضے کے لیے بہت کم یا کوئی مزاحمت پیش نہیں کی۔ احمد مسعود کے ساتھ مغربی صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

    تہران میں اتوار کی ملاقات طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول کی پہلی علامتوں میں سے ایک ہے۔

    سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں ہی رہے۔