Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • 9 مئی کے مقدمے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت خارج

    9 مئی کے مقدمے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت خارج

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 9 مئی کے گیارہ مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی گئی

    سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی،عدالت نے بشری بی بی سے سانحہ 9 مئی کے مقدمات کی تفتیش 7 روز میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ،انسداددہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی، شیخ رشید، شبلی فراز، غلام سرور ، صداقت عباسی، شیریں مزاری پیش ہوئے،سانحہ 9 مئی کے 500 سے زائد ملزمان کی حاضری لگائی گئی جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،

    سابق وزیراعظم عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر ملزمان کی جانب سے محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے،سماعت کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے حکم دیا کہ بشریٰ بی بی سے تفتیش 7 روز میں مکمل کی جائے ، ملزم جب اتنے سارے مقدمات میں گرفتار ہو تو تفتیش ضروری ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کر دی.

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • 108 تحائف ہیں تو کیا نیب بشریٰ  کی 108 گرفتاریاں ڈالے گا؟عدالت

    108 تحائف ہیں تو کیا نیب بشریٰ کی 108 گرفتاریاں ڈالے گا؟عدالت

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عِدت کیس میں بریت کے باوجود رہا نہ کرنے اور دھکے دے کر دوبارہ گرفتار کرنے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور خاتون اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب حکام سے سوال کیا کہ نیب کا عِدت کیس میں بریت کے دن ہی بشریٰ بی بی کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا محض اتفاق تھا؟ نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کہ جی بالکل، یہ محض اتفاق تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں پھر نیب کا یہ موقف ریکارڈ کر لیتا ہوں، 108 تحائف ہیں تو کیا نیب بشریٰ بی بی کی 108 گرفتاریاں ڈالے گا؟ کیا ہر بار بریت پر نئی گرفتاری ڈالی جائے گی؟

    وکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ پہلے کیس میں سزا معطل ہو چکی ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریاست کی مہربانی سے سزا معطل ہوئی، وکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ نہیں، ریاست کی نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریاست کی ہی مہربانی سے سزا معطل ہوئی، بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ نئے کیس میں گرفتاری کے خلاف کیس الگ سے زیرسماعت ہے جس میں عدالت نے دیکھنا ہے کہ اُنکی (عمران خان اور بشریٰ بی بی) گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی یا نہیں،

    قبل ازیں عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ نئے ریفرنس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف نے دائر کی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب و دیگر نیب افسران کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری غیرقانونی ہے، رہا کرنے کے احکامات دیے جائیں، آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے،عمران خان، بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہوئے،گرفتاری کی ضرورت نہیں، عدت کیس میں رہائی کے فوراً بعد عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی ضرورت نہیں، اعلیٰ عدلیہ نے بار بار کہا صرف نامزد ہونے پر کسی بھی شخص کو فوراً گرفتار نہ کیا جائے، عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے.

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ  وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • توشہ خانہ نیا ریفرنس،عمران ،بشریٰ کی درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    توشہ خانہ نیا ریفرنس،عمران ،بشریٰ کی درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر کیس نے کی سماعت کی،عمران خان کی طرف سے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے،نیب کا عملہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے جواب کے مطابق عمران خان نے کہا جو مرضی ہو جائے میں شامل تفتیش نہیں ہونگا،یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ملزم کہے میں تفتیش میں تعاون نہیں کرونگا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کا معاملہ تو بعد میں آئے گا پہلے نیب کا کنڈکٹ دیکھ لیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کی اسی نوعیت کی ایک درخواست پہلے ہی زیرسماعت ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اُس درخواست پر سماعت کی تاریخ اکتوبر میں مقرر کی گئی ہے، وہ ابھی بہت دور ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا سماعت کی آئندہ تاریخ اوپن کورٹ میں دی گئی تھی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، ہماری درخواست پر جلد سماعت کی متفرق درخواست منظور کی گئی تھی،عمران خان کے خلاف یہ ایک ہی وقوعہ کا چوتھا مقدمہ ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بنچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نئے توشہ خانہ نیب کیس میں گرفتاری کے خلاف کیس کی فائل چیف جسٹس عامر فاروق کو بھیجوا کر پہلے سے زیرسماعت درخواستوں کے ساتھ یکجا کر کے جلد دستیاب بنچ کے سامنے مقرر کرنے کا آرڈر لکھ دیا.

    قبل ازیں عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ نئے ریفرنس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف نے دائر کی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب و دیگر نیب افسران کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری غیرقانونی ہے، رہا کرنے کے احکامات دیے جائیں، آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے،عمران خان، بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہوئے،گرفتاری کی ضرورت نہیں، عدت کیس میں رہائی کے فوراً بعد عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی ضرورت نہیں، اعلیٰ عدلیہ نے بار بار کہا صرف نامزد ہونے پر کسی بھی شخص کو فوراً گرفتار نہ کیا جائے، عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے.

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ  وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • بشریٰ بی بی کو جیل میں دھکے،نوٹس جاری، جواب طلب

    بشریٰ بی بی کو جیل میں دھکے،نوٹس جاری، جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بشریٰ بی بی کے عدت کیس میں بری ہونے کے باوجود رہا نہ کرنے پر سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست پر سماعت کی ،بشری بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ کی درخواست پر اعتراضات لگے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بشری بی بی کو عدت نکاح کیس میں بری ہونے پر رہا نہیں کیا گیا،انہیں جیل میں دھکے دئیے گئے اور تشدد بھی کیا گیا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ کی پہلے اس طرح کی ایک اور درخواست زیر التواء ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ درخواست چیف جسٹس کے پاس ہے اس میں ہم نے مقدمات کی تفصیل فراہمی کی استدعا کی ہے،عدالت نے درخواست پر لگے اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کو عِدت کیس میں بریت کے باوجود رہا نہ کرنے، تشدد اور دھکے دینے پر آئی جی جیل خانہ جات کو سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور تشدد کرنے والی خواتین اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی درخواست پر سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب، آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا،عدالت نے کیس کی سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    بشریٰ بی بی بھارتی اثاثہ،عادل راجہ کی ٹویٹ کو پی ٹی آئی والے بھی "لائک”دینے لگے

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    جیل میں دھکے،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئیں

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • بشریٰ بی بی گرفتار ہیں پولیس نے اُن سے پھر بھی تفتیش نہیں کی،عدالت

    بشریٰ بی بی گرفتار ہیں پولیس نے اُن سے پھر بھی تفتیش نہیں کی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بشری بی بی کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی اور راولپنڈی کے نو مئی کے گیارہ کیسوں کا سٹیٹس جاننے کے لیے کیس کی سماعت ہوئی

    بشری بی بی کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی کا کیس ،عدالتی طلبی پرراولپنڈی کے ایس ایس پی آپریشن فلائیٹ لیفٹیننٹ(ر)کامران اصغر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے،درخواستگزار وکیل لطیف کھوسہ،شعیب شاہین اور دیگر بھی عدالت پہنچ گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ ڈی آئی جی ہیں ، ایس ایس پی آپریشن نے کہا کہ نہیں میں ایس ایس پی ہوں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں آپ بتائیے گا کیا انکی گرفتاری ضرورت ہے ،ایس ایس پی نے کہا کہ فی الحال انکی گرفتاری کی ضرورت نہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فی الحال کیا مطلب، فی الحال نہیں ہوتا قانون بتائیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا بشریٰ بی بی کو 9 مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے؟ ایس ایس پی آپریشن نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سوا سال ہو گیا اب کہانی ختم نا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک کیس میں نکلے اور دوسرے میں گرفتار ہو، اگر آپکو بشریٰ بی بی تفتیش کیلئے مطلوب تھیں تو طلب کیوں نہیں کیا؟ بشریٰ بی بی جب گرفتار نہیں تھیں تب بھی پولیس نے اُنہیں اِن کیسز میں طلب نہیں کیا؟ سوا سال تک پولیس نے تفتیش نہیں کی تو اب گرفتاری کی کیا ضرورت ہے؟ بشریٰ بی بی گرفتار ہیں پولیس نے اُن سے پھر بھی تفتیش نہیں کی،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے کسی بھی نئے مقدمے میں گرفتاری سے روکنے کی بھی استدعا کی ہے، ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی نے کہا کہ ہمیں کل پتہ چلا کہ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ضمانت کی درخواستیں دی گئی ہیں،انسدادِ دہشت گردی عدالت جج کے رخصت ہونے پر سیشن عدالت نے انکو ضمانت دی ہوئی ہے،ہمیں صرف ایک ضمانت کی کاپی ملی ہے مگر باقی کاپیاں نہیں آئیں،عدالت نے استفسار کیا کہ راولپنڈی کے ایک مقدمے میں آپکے کلائنٹ کی گرفتاری ڈالی گئی ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے اٹک مقدمہ میں گرفتار کرنے کا کہا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئیندہ سماعت پیر کی کردیتا ہوں کسی اور بینچ میں ، کیونکہ پیر سے میں دستیاب نہیں ہونگا

    بشریٰ بی بی بھارتی اثاثہ،عادل راجہ کی ٹویٹ کو پی ٹی آئی والے بھی "لائک”دینے لگے

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    جیل میں دھکے،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئیں

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر ایک رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف نیب میں 4 کیس درج ہیں، تین کیس نیب راولپنڈی میں درج ہیں جبکہ ایک کیس نیب لاہور میں درج ہے،راولپنڈی پولیس اور اسلام آباد پولیس نے بھی اپنا جواب جمع کروادیا ،بشریٰ بی بی 9 مئی کے گیارہ مقدمات میں ملزمہ نامزد ہیں، بشریٰ بی بی کے خلاف راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں گیارہ مقدمات درج ہیں،

  • بشریٰ بی بی پر مقدمات کی تفصیل فراہمی کی درخواست پر جواب طلب

    بشریٰ بی بی پر مقدمات کی تفصیل فراہمی کی درخواست پر جواب طلب

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے مقدمات کی تفصیل فراہمی کےلیے اسلام آبادہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی آپریشنز راولپنڈی کو 7 اگست کو طلب کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈی آئی جی آپریشنز راولپنڈی کو بلا کر 9 مئی مقدمات کا اسٹیٹس پوچھ لیتے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو 9 مئی کے کیسز میں شامل کر دیا گیا ہے، ایک کیس میں کہا گیا کہ انویسٹی گیشن شروع نہیں ہوئی لیکن گرفتار کرنا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 9مئی کو اب سوا سال ہو چکا ہے، ہائیکورٹ کا فیصلہ آیا کہ ایک کیس میں گرفتار شخص تمام مقدمات میں گرفتار تصور ہو گا، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کیس میں ضمانت یا بری ہو جائے تو دوسرے میں گرفتار کر لیا جائے،9مئی کی ایف آئی آر کہاں کی ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ تمام گیارہ ایف آئی آرز 9 مئی کی ہی ہیں

    بشریٰ بی بی بھارتی اثاثہ،عادل راجہ کی ٹویٹ کو پی ٹی آئی والے بھی "لائک”دینے لگے

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    جیل میں دھکے،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئیں

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر ایک رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف نیب میں 4 کیس درج ہیں، تین کیس نیب راولپنڈی میں درج ہیں جبکہ ایک کیس نیب لاہور میں درج ہے،راولپنڈی پولیس اور اسلام آباد پولیس نے بھی اپنا جواب جمع کروادیا ،بشریٰ بی بی 9 مئی کے گیارہ مقدمات میں ملزمہ نامزد ہیں، بشریٰ بی بی کے خلاف راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں گیارہ مقدمات درج ہیں،

    بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں ہیں اور انہیں توشہ خانہ کے نئے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کو عدالت نے توشہ خانہ، دوران عدت نکاح کیس میں سزا سنائی تھی جو بعد ازاں عدالت نے کالعدم قرار دے دی تھی جس کے بعد بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا، اب پی ٹی آئی وکیل نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ نہایت افسوس کے ساتھ ،بشری عمران خان صاحبہ کو توڑنے کے لیے انکو مزید ۹ مئی کے 12 کیسز میں نامزد کردیا گیا ہے ، کیونکہ یہ 9 مئی کے ٹرائل کا اختتام بشریٰ بی بی پر کرنا چاہتے ہیں .شرم آنی چاہئے ،آپ دیکھ ایک سال بعد ان کو یاد آگیا کہ وہ نو مئی کے اندر بھی شامل ہیں.واہ انصاف

  • بشریٰ بی بی بھارتی اثاثہ،عادل راجہ کی ٹویٹ کو پی ٹی آئی والے بھی "لائک”دینے لگے

    بشریٰ بی بی بھارتی اثاثہ،عادل راجہ کی ٹویٹ کو پی ٹی آئی والے بھی "لائک”دینے لگے

    بھگوڑے عادل راجہ نے کل رات عمران خان کی بیوی بشری بی بی کو بھارتی اثاثہ اور آئی ایس آئی کا ٹاوٹ کہا
    اور تحریک انصاف والے اتنے بیوقوف ہیں کہ انہیں ٹویٹ سمجھ ہی نہیں آیا اور اسکو 1700 ریٹویٹ اور 5400 لائک دئے.لیکن بطور بانی چئیرمین یوتھیا وائرس، اب ہم PTI والوں کو تشریح بتائیں گے.یہ کہنا ہے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک کا.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر فرحان ورک نے ایک ویڈیو میں کہا کہ عادل راجہ کھل کر بشریٰ بی بی پر گھٹیا الزام لگا رہے ہیں،اور پی ٹی آئی والے اس پر ری ٹویٹ اور لائک دے رہے ہیں،عادل راجہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ایک عورت "یعنی بشریٰ بی بی”گزشتہ چند سالوں سے عمران خان کیخلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سب سے مہلک مہرا رہی ہے، جسے جنرل فیض حمید نے ڈائریکٹر رحمت کے ذریعے عمران خان کی زندگی میں کلیدی کردار دلوایا، اور آج تک وہ جرنیلوں کا مہرا بنی ہوئی ہے اور اب اسے ندیم انجم ہینڈل کرتا ہے۔ اس عورت سے متعلقہ پورا نیٹ ورک، پاکستان، لندن اور امریکہ میں موجود ہے۔ اس نیٹ ورک کے بیرون ملک اثاثے جو پی ٹی آئی لیڈرشپ کے طور پر جانے جاتے ہیں، عوام میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے چند بھارتی اثاثوں اور بھارت کی براہ راست لابینگ سے بے تحاشا مقبولیت حاصل کررہے ہیں تاکہ مائنس عمران خان قیادت بنائی جاسکے۔ اس نیٹ ورک کا بھارت سے گہرا تعلق ہے کیونکہ بھارت پاکستان میں بنگلہ دیش کی طرز پر اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ لندن میں ایک انسانی اسمگلر، اور امریکہ میں گریٹر پنجاب کے لئے کام کرنے والا ایک جعلی پروفیسر "یعنی شہباز گل”اس نیٹ ورک کے اہم ترین مہرے ہیں جنہیں عمران خان تو پہچانتے ہیں مگر عوام نہیں۔ فوج سے ڈیل کی صورت میں ان مہروں کو واپس حکومت میں لانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ اس نیٹ ورک کی بھارتی سرپرستی بذریعہ دوبئی کی جارہی ہے۔ لندن میں بھارتی لابی اس نیٹ ورک کے ایک اہم ترین مہرے کو پروموٹ کرکے عوامی پزیرائی دلوا رہی ہے۔ پورا نیٹ ورک شروع میں ذکر کی گئی عورت سے براہ راست جڑا ہوا ہے، اور سب عوامی ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ میں بھارتی اثاثے، پاکستان کو بنگلہ دیش ماڈل پر "معاشی ترقی” دلانے کے چکر میں عمران خان کی اس متبادل قیادت کی خفیہ سرپرستی کر رہے ہیں اور انہیں ہیرو بنایا جارہا ہے، تاکہ عمران خان کو راستے سے ہٹانے کے بعد، ملکہ کی تاج پوشی کی جاسکے، اور ان اثاثوں کو متبادل قیادت کے طور پر لایا جاسکے۔ متعدد پی ٹی آئی لیڈران جو اس وقت کلیدی کردار ادا کررہے ہیں وہ اس پلان کا حصہ ہیں جس کا مقصد عمران خان کو گھیر کر آہستہ آہستہ راستے سے ہٹانا اور متبادل قیادت لانا ہے، جو فوج اور بھارت کے تابعدار ہوگی۔ بھارت اور امریکہ کی اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کو بھی یہی منصوبہ سوٹ کرتا ہے۔

    https://x.com/farhankvirk/status/1819702848713830889?s=48&t=jPbJDKkwqDUusoO_M1Urxw

    فرحان ورک کا کہنا تھا کہ اتنا لمبا ٹویٹ پڑھنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ بندہ پی ٹی آئی کی منجی ٹھوک رہا ہے،مرشد بارے باتیں کر رہا ہے اور آپ لوگ اسکی ٹویٹ کو لائک کر رہے ہو،دیکھو تو سہی وہ کیا کہہ رہا ہے،گالیاں ہمیں نکالتے ہو اسکو بھی دیکھو.

  • القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ  اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا 30 جولائی کو احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو بیان سامنے آیا ہے

    تفتیشی افسر نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ "بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت کے حوالے سے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، دونوں کو ثبوت فراہم کرنے کیلئے متعدد نوٹس ارسال کیے گئے لیکن تعاون نہیں کیا گیا”،

    تفتیشی افسر نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں کہا کہ مجھے ریفرنس پر انکوائری کا اختیار 7 دسمبر 2022ء کو دیا گیا جبکہ تفتیش 28 اپریل 2023 کو شروع کی۔ کابینہ نے بیرون ملک اثاثوں کی ریکوری کے لیے ریکوی یونٹ کی منظوری دی، نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو مرزا شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ طور پر خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی کو منجمد کرنے کے لیے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے، نجی سوسائٹی نے 4 اپریل 2019 سے 30 اپریل 2019 کے درمیان 458 کنال 4 مرحلے 58 مربع فٹ اراضی خریدی۔خریدی گئی اراضی ملزم زلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، 458 کنال سے زائد اراضی ٹرسٹ کے وجود میں آنے سے پہلے ٹرانسفر کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد زلفی بخاری، شہزاد اکبر مرزا اور پراپرٹی ٹائیکون نے عمران خان سے ملاقات کی تھی، بنی گالہ میں 11 جولائی 2019 کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا۔بدنیتی پر مبنی نوٹ 3 دسمبر 2019 کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ کو بند لفافے میں کابینہ میں پیش کیا گیا اور اس کی منظوری کے لیے اصرار کیا گیا، ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفی نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزرات خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی.ٹرسٹ میں ترمیم کرکے عمران خان، بشری بی بی اور زلفی بخاری کو اس میں شامل کیا گیا، ٹرسٹ کے قانونی مراحل طے کرنے کے لیے ڈاکٹر بابر اعوان زلفی بخاری کو ٹرسٹ میں شامل کیا گیا، کچھ ہی عرصے کے بعد عمران خان نے دونوں کو فارغ کرکے ٹرسٹ کا پورا کنٹرول سنبھال لیا، بشریٰ بی بی نے 24 مارچ 2021ء کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیئے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں 240 کنال اراضی پراپرٹی ٹائیکون کے بیٹے نے فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی، عمران خان اور بشری بی بی اراضی کی فروخت کے حوالے سے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے.عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے متعدد نوٹسز ارسال کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان نے ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے، موہڑہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی دھوکا دہی سے ملزمان کے نام پر منتقل کی گئی، القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے فرنٹ مین کے طور پر کام کیا

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں.

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔