Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی غصے میں نظر آئیں، بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں تو عمران خان کے پاس جانے کی بجائے الگ بیٹھیں ،بعد ازاں روسٹرم پر گئیں اور احتساب عدالت کے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا تاہم عمران خان اور وکلا سے مشاورت کے بعد عدم اعتماد واپس لے لیا

    اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوسکا،عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی گئی

    سماعت کا آغاز ہوا تو بشریٰ بی بی انتہائی غصے میں کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں اور اپنے شوہر عمران خان کے پاس جانے کی بجائے الگ بیٹھ گئیں، بشریٰ بی بی عمران خان کی بہنیں جو کمرہ عدالت میں موجود تھیں، ان سے بھی نہیں ملیں،بشریٰ کی بیٹیاں عمران خان کی بہنوں کے ساتھ بیٹھی تھیں بشریٰ اپنی بیٹیوں سے بھی نہیں ملیں، بشریٰ بی بی روسٹرم پر گئیں اور بولیں” پہلے کیسز کے ججز پر بھی اعتماد نہیں تھا، اس عدالت پر بھی عدم اعتماد کر رہی ہوں،15مئی کو اڈیالہ جیل میں سماعت تھی، کسی نے نہیں بتایا”۔عدالت نے کہا کہ 15 مئی کی سماعت تو ملتوی ہوئی تھی،بشریٰ بی بی نے کہا کہ میں اس کیس میں قیدی نہیں ہوں، نا انصافی کی وجہ سے جیل میں ہوں

    عمران خان نے جب دیکھا کہ بشریٰ بی بی نے جج پر عدم اعتماد کر دیا ہے اور بحث کر رہی ہیں تو عمران خان اٹھے اور بشریٰ بی بی کے پاس گئے،اور انہیں فیملی کارنر میں جانے کو کہا،بشریٰ بی بی علیحدہ کمرے میں گئیں تو اپنی بیٹیوں کو بلایا اور ان سے ملاقات کی تا ہم عمران خان کی بہنوں سے نہ ملیں

    اڈیالہ جیل میں آج ہونے والی سماعت کے آغاز سے لے کر آخر تک عمران خان پریشان نظر آئے،عمران خان کبھی وکلاء، کبھی روسٹرم، کبھی بشریٰ بی بی اور کبھی بہنوں کے پاس جاتے رہے،بشریٰ بی بی اور عمران خان نے پانچ سے چھ مرتبہ سرگوشیوں میں باتیں بھی کیں، وکلاء اور عمران خان نے عدالت سے بشریٰ بی بی کو قائل کرنے کیلئے تین مرتبہ وقت بھی مانگا،عدالت نے وکلاء اور عمران خان کی درخواست پر سماعت میں تین بار وقفہ کیا اور طویل مشاورت کے بعد وکلاء اور بانی پی ٹی آئی نے عدم اعتماد واپس لینے سے عدالت کو آگاہ کیا۔

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    عمران نیازی کے بلانے کے باوجود بشریٰ بی بی نے نہ صرف انکی بات نہیں سنی بلکہ انکی بہنوں سے ملاقات بھی نہیں کی،تاہم اپنی بیٹیوں سے عدالت سے باہر جا کر ملاقات کی۔بشری بی بی نے دوپہر2 بجے کمرہ عدالت میں ہی نماز ظہر ادا کی۔

    ملزمان کے وکلاء نے مشاورت کے بعد عدالت میں نئی درخواست دائر کی،درخواست میں نیب عدالت سے دیگر مقدمات کی طرح کیس کی ہر 14دن بعد سماعت کی استدعا کی گئی،عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی،عدالت نے 22 مئی کو درخواست کی سماعت کے لیے نوٹسز جاری کردئیے

    توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو نیب کے نئے نوٹس پر عدالت نے کیا جواب طلب

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں،شعیب شاہین
    اڈیالہ جیل کے باہر شعیب شاہین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں جج ابو الحسنات ذوالقرنین اور قدرت اللہ نے انصاف کا قتل کیا ، انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں، جس طرح جج ابو الحسنات ذوالقرنین کو تعینات کیا گیا ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ،انوار الحق کاکڑ نے فارم 47 کی تصدیق کی اور اس بات کا اعتراف سابق کمشنر راولپنڈی نے بھی کیا ،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے پوچھا گیا بتائیں کیسے جیتے ان کا کہنا تھا عدالت میں بتاؤں گا ، ہم فارم 45 کے تحت جیتیں ہیں اور ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں، الیکشن کمیشن اور فارم 47 والے جرائم کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ،جسٹس بابر ستار کے خلاف 7 لوگوں نے ایک جیسا بیان دیا، انصاف کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے، عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے،

    جسطرح ملک چلایا جارہا ہے اسے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،عمران خان
    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے بینیفیشری سے جب کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ حملہ اور ہو جاتے ہیں، جھوٹ کو بچانے کے لیے ججز اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، صدر، وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب جھوٹ پر بیٹھے ہیں، فارم 47 کا بینیفیشری گورنر خیبر پختونخواہ، علی امین گنڈاپور پر ذاتی حملے کر رہا ہے، فارم 47 کے بینیفیشری ہی جسٹس بابر ستار پر لفظی حملے کر رہے ہیں، جمہوریت اخلاقی قوت پر چلائی جاتی ہے، نگران وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے پاس کیا جواز ہے، کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہباز شریف کو پیغام بھیجا، چیف جسٹس ایک دبنگ آدمی ہیں، چیف جسٹس نے کہا بھٹو کو فئیر ٹرائل نہیں ملا، کیا مجھے فئیر ٹرائل مل رہا ہے؟ جسطرح ملک چلایا جارہا ہے اسے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، یہ جنگ آمریت کے خلاف جنگ چل رہی ہے،ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری نو مئی اور آٹھ فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا، ہمارا ٹرائل بھی نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے ٹرائل کی طرز پر چلایا جائے،

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ بھی بشریٰ بی بی کی طرح عدالت پر عدم اعتماد کررہے ہیں، جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ٹرائل کی کاروائی نارمل انداز میں آگے بڑھائی جائے۔ آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، وکلا کو ہدایات دی ہیں وہ خط تیار کر کے مجھے بتائیں گے، خط میں بتاؤں گا کہ آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے اور ملک جہاں جا رہا ہے اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا، فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا، مس کنڈکٹ پر جج ابو الحسنات اور جج قدرت اللہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کا کہا ہے،

  • بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا

    بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا

    راولپنٍڈی:بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل میں شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان کی نگرانی طبی ٹیم کا بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا جبکہ پمز ہسپتال کے عملے نے ضروری بلڈ ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے بھی حاصل کرلیے اور بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی پی ٹی آئی کے اصرار کے باوجود بشریٰ بی بی خون کے نمونے دینے کے لیے راضی نہ ہوئیں، عمران خان کا طبی معائنہ عدالتی حکم کی روشنی میں کیا گیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنا اور اہلیہ بشری بی بی کا طبی معائنہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان کی نگرانی میں کرانے کی درخواست کی تھی جس پر عدالت نے درخواست منظور کرتے ہو ئے جیل انتظامیہ کو مناسب انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔

    ڈالر او ر سونے کی قیمت میں اضافہ

    فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس،سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

    اسلام آباد اورر بالائی پنجاب میں آج سے بارشوں کی پیشگوئی

  • عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی بھی دبئی میں جائیداد کی مالک

    عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی بھی دبئی میں جائیداد کی مالک

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو پاکستانیوں کو بیرون ملک جائیداد بنانے سے روکتا ہو، ہمارے پاس یہ قانون ہے کہ کوئی پاکستانی باہر جرم کرے تو اسے پاکستان میں سزا ہو ، یہ جرم ہے کہ آ پ کے پاس کوئی جائیداد ہے اور اسے آپ نے ڈکلیر نہیں کیا ہوا، پاکستان اگر رول آف لا اوراستحکام مہیا کرے تو پاکستانی یہاں انوسٹ کریں گے ، ہم لوگوں کو ماحول دیں گے تو پاکستانی پاکستان میں انویسٹ کریں گے

    عمران خان نے کہا تھا کہ 11 ارب ڈالر ملک سے گئے، شبلی فراز
    تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہماری اکانومی تباہ ہوگئی، ہمارے اداروں کو مفلوج کر دیا گیا، لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، ملک کے اندر افراتفری کا عالم ہے، وہ کون لوگ ہیں جو اس ملک کے ساتھ دشمنی کرنا چاہتے ہیں ملک اشرافیہ کے حوالے کر دیا گیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ 11 ارب ڈالر ملک سے گئے، چوری کا سارا پیسہ ملک سے باہر بھیج دیا گیا

    جماعت اسلامی کا دبئی لیکس میں شامل حکومتی شخصیات سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دبئی لیکس میں شامل حکومتی شخصیات سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکمرانی یہاں، سرمایہ کاری وہاں، یہ نہیں چلے گا۔ ایسے تمام افراد کو اب اعلی عہدوں سے الگ ہو جانا چاہیے۔ سیاستدان، اور بیوروکریٹ بتائیں کہ یہ دولت کہاں سے کمائی، اور کیسے باہر بھیجی۔ منی ٹریل سامنے لائی جائے، قوم کو جواب چاہیے۔

    دبئی لیکس،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین فرح گوگی کا نام بھی سامنے آ گیا،دبئی لیکس میں پاکستانی افراد کی اربوں کی دبئی میں پراپرٹیز کا انکشاف ہوا ہے، جن پاکستانیوں کی دبئی میں‌پراپرٹی ہے ان میں‌فرح گوگی بھی شامل ہے،فرح گوگی بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین رہی ہیں اور عمران خان حکومت ختم ہونے کے بعد پاکستان سے دبئی فرار ہو گئی ہیں،تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا نام بھی دبئی لیکس میں شامل ہے تا ہم انہوں نے وضاحت جاری کی ہے،

    عمران خان کی فرنٹ پرسن اور سابق خاتون اول کی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر عام پر آیا تھارپورٹ کے مطابق غیر قانونی طریقے سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کو ایک غیر معروف ملک وینا تاؤ کاخفیہ پاسپورٹ بنا کر دیا گیا،دسمبر 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ممکنہ کامیابی کے پیش نظر عمران خان اور بشری بی بی نے ملک کے ایک معروف پراپرٹی ٹائیکون کے بیٹے کو اپنی فرنٹ پرسن فرح گوگی کیلئے خفیہ انٹرنیشنل پاسپورٹ خریدنے کا ٹاسک سونپا اور اس پراپرٹی ٹائیکون نے ایک اور معروف بزنس مین کو خفیہ پاسپورٹ بنانے کیلئے ایک لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر فراہم کئے۔عمران خان اور بشری بی بی کی اکٹھی کی گئی دولت کو دنیا کے مختلف ممالک میں چھپانے کی غرض سے اس سے خریدے پاسپورٹ پر فرح گوگی کے بیرون ملک دورے کئے، 28 مارچ 2022 کو فرح گوگی کیلئے خریدے جانے والا وینا تاؤ کا خفیہ پاسپورٹ بشری بی بی کے حوالے کر دیا گیا، اور 3 اپریل 2022 کو عمران خان کی حکومت جانے سے 6 دن قبل فرح گوگی کو پاکستانی پاسپورٹ پر ملک سے فرار کروا کے دبئی بھجوا دیا گیا۔عمران خان اور بشری بی بی نے پاکستان سے لوٹی گئی کثیر رقم کو ٹھکانے لگانے کیلئے فرح گوگی کے خفیہ بین الاقوامی دوروں اور بینک اکاؤنٹس کو وینا تاؤ کےخفیہ پاسپورٹ سےممکن بنایا دبئی کےبعد باقی تمام سفر وینا تاؤ کےپاسپورٹ پہ کروائے گئے تاکہ تحقیقاتی ادارے اس نقل و حرکت سے آگاہ نہ رہیں-

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

  • عدت نکاح کیس : دوران ٹرائل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےساتھ رہنے سےانکار نہیں کیا،وکیل خاور مانیکا

    عدت نکاح کیس : دوران ٹرائل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےساتھ رہنے سےانکار نہیں کیا،وکیل خاور مانیکا

    راولپنڈی: اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رضوان عباسی پیش نہیں ہوتے تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کروں گا۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے عدت نکاح کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گِل عدالت کے روبرو پیش ہوئے،رضوان عباسی کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رضوان عباسی ایک بجے آ جائیں گے، ہائیکورٹ اور سپریم کوٹ میں مختلف کیسز ہیں۔

    وکیل بشریٰ بی بی عثمان گل نے کہا کہ اس کیس میں بار بار رضوان عباسی کی جانب سے التواء مانگا گیا ہے،جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ ایک بجے سے لیٹ نہیں ہونا، آج لازمی عدالت میں پیش ہوں۔

    وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت کا اختیار ہے، ہماری سزا معطلی کی درخواست موجود ہیں دلائل مکمل ہو چکے، عدالت سے درخوا ست ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کریں، اس پر جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ گزشتہ آرڈر میں لکھا ہے کہ اگر رضوان عباسی پیش نہیں ہوتے تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کروں گا، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا-

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    وقفے کے بعد ،خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی اور پراسیکیوٹر عدنان علی عدالت میں پیش ہوئے،وکیل رضوان عباسی نے کہاکہ اس سے قبل محمد حنیف کی شکایت سیشن عدالت نے دائرہ اختیار پر خارج کی،سی آر پی سی سیکشن 177دائرہ اختیار سے متعلق بات کرتا ہے،گواہان نے کہاکہ فراڈ شادی کے باوجود بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی اسلام آباد میں رہے،دوران ٹرائل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےساتھ رہنے سےانکار نہیں کیا-

    کیس کے دائرہ اختیار کے حوالے سے قانونی نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں، میں شکایت دائر کرنے میں تاخیر، عدت کی مدت کے قانونی نکات پر بھی بات کروں گا، عدت کے دوران نکاح کے اسٹیٹس پر بھی دلائل دوں گا، الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کرنے پر بھی دلائل دوں گا۔

    انہوں نے بتایا کہ محمد حنیف نامی شخص نے اس سے قبل عدت میں نکاح کی شکایت دائر کی، محمد حنیف نے فرد جرم عائد ہونے سے قبل تکنیکی بنیادوں پر شکایت واپس لی،اسپیشل جج سینٹرل کے کیسز مختلف ہوتے ہیں، ایف آئی آر کے مختلف ہوتے، تفتیش کسی بھی کیس میں پہلا قدم ہوتی ہے، نوٹس جاری کرنا اور فرد جرم عائد کرنا انکوائری کی اسٹیج کہلاتی ہے، عدالت کا اختیار ہوتا ہے کہ کیس سے جڑے کسی بھی متعلقہ فرد کو نوٹس جاری کرے۔

    وکیل رضوان عباسی نے مزید کہا کہ محمد حنیف کی دائر شکایت فرد جرم سے قبل واپس لی گئی، جس کا خاور مانیکا کی شکایت سے تعلق نہیں بنتا،جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ فراڈ شادی کا مقدمہ اگر درج ہونا ہوتا تو کہاں ہوتا؟وکیل رضوان عباسی نے کہاکہ فراڈ شادی کا مقدمہ اسلام آباد یا لاہور کہیں بھی درج ہو سکتا تھا،شادی کے دس دن کے اندر لاہور سے اسلام آباد شفٹ ہو گئے تھے۔

    وکیل رضوان عباسی نے ڈھاکا میں ہوئی فراڈ شادی پر دیئے گئے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فراڈ شادی کا اثر جہاں پڑا، وہاں ماضی میں عدالتوں نے ٹرائل کئےہیں،فراڈ شادی ایک جرم ہے، مخصوص عرصے میں ہی فراڈ شادی کی شکایت دائر کرنے پر کوئی قانون نہیں،فراڈ شادی کی تفصیلی تفتیش بھی ضروری ہے جس میں وقت لگتا ہے،وکیل رضوان عباسی نے عدت میں نکاح کیس پر ہوئی جرح عدالت میں پڑھ کر سنائی-

    سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے ڈھائی بجے آج عدالتی اوقات ختم کرنے کا عندیہ دیدیا۔جج شاہ رخ ارجمند نے رضوان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ڈھائی بجے سےپہلے پہلے میں نے جانا ہے،وکیل رضوان عباسی نے کہاکہ میرے دلائل میں تھوڑا وقت لگ جائے گا،یکشن 496 کی جو تعریف ہے وہ صرف غیر قانونی شادی نہیں بلکہ پہلے فراڈ اور اس کے بعد غیر قانونی شادی ہوگی۔

    وکیل خاور مانیکا راجا رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ خاور مانیکا اپنی والدہ کو لے کر جانا چاہتا تھا اور بشریٰ بی بی کے ساتھ رجوع کرنا چاہتا تھا ، رجوع کرنے سے پہلے ہی بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے عدت کے دوران نکاح کرلیا ، نکاح کے گواہان نے عدالت کے سامنے بتایا کہ یہ نکاح غیر قانونی طور پر ہوا ہے،اس پر جج نے پوچھا کہ آپ کو دلائل کے لیے مزید کتنا وقت چاہیئے ہوگا؟

    راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مجھے دلائل کے لیے مزید ایک گھنٹہ درکار ہوگا، اس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردیتے ہیں مزید کل دیکھ لیتے۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ کیس کل سن لیا جائے، کل کے دن مجھے کسی بھی وقت صرف 20 منٹ کا وقت دے دیجئیے گا،راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ کل میں موجود نہیں ہوں گا، کل ان کو سن لیں اس کے بعد میری حاضری تک سماعت ملتوی کی جائے،بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی، کل صبح 9 بجے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ اپنے دلائل دیں گے۔

    واضح رہے کہ 3 فروری کو سابق وزیراعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی تھی، سینئر سول جج قدرت اللہ نے بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد فیصلہ سنا دیا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 5 ،5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    پسِ منظر 25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

    خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے،28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔

    11 دسمبر کو عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا،2 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کی،10 جنوری اور پھر 11 جنوری کو بھی فردِ جرم عائد نہ ہوسکی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    15 جنوری کو بشریٰ بی بی اور 18 جنوری کو عمران خان نے غیرشرعی نکاح کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا،تاہم 16 جنوری کو غیر شرعی نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کردی گئی تھی،31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں2 فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا جس کے بعد انہیں سزا سنائی گئی۔

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟عدالت

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز نےدلائل دیئے، امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے برطانیہ سے پاکستان آنے والی رقوم سے متعلق آرڈر جاری کیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ برطانیہ سے رقم کس تاریخ کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی؟پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں پہلی رقم نومبر 2019 میں منتقل کی گئی،دوسری بار رقم 3 دسمبر 2019 اور تیسری بار 11 مارچ 2022 کو آئی، یہ کُل رقم 171.5 ملین پاؤنڈز کی رقم بنتی ہے،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ نے کب منظوری دی؟ امجد پرویز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے 3 دسمبر 2019 کو منظوری دی،

    29 نومبر کو آنے والی رقم کابینہ کی منظوری کے بغیر پھر کیسے آئی؟چیف جسٹس
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نومبر میں جب رقم آئی تو تب کابینہ کی کوئی منظوری نہیں تھی؟ امجد پرویز نے کہا کہ نہیں، اُس وقت کابینہ کی طرف سے منظوری نہیں تھی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جب دوسری بار رقم منتقل ہوئی تو کابینہ نے منظوری دے چکی تھی؟امجد پرویز نے کہا کہ وہ دونوں ایونٹس ایک ہی دن کے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ 29 نومبر کو آنے والی رقم کابینہ کی منظوری کے بغیر پھر کیسے آئی؟ امجد پرویز نے کہا کہ 6 نومبر 2019 کو ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان ایک خفیہ ڈیڈ پر دستخط ہوئے،کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے بھی دستخط ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خفیہ ڈیڈ میں کیا ہے؟ ڈیڈ میں حکومت پاکستان کہتی ہے کہ وہ ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھے گی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وجہ؟ حکومت پاکستان کیوں یہ حلف نامہ دے رہی ہے؟ یہ ڈیڈ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی طرف سے کانفیڈنشیلٹی کا ڈکلیئریشن ہے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے گی؟ خفیہ ڈیڈ سے بتائیں، کیا ڈیڈ میں کوئی ایسی بات ہے کہ پیسے اس اکاؤنٹ میں آئیں گے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے این سی اے اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان ایگریمنٹ نہیں لگایا،

    این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی،نیب پراسیکیوٹر
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیسہ بھی ملک ریاض کا ہی تھا اسی کو جانا تھا، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پر 460 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، اسی دوران برطانیہ میں ملک ریاض کی رقم منجمند کی گئی،این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیوں؟ اسکی وجہ کیا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ کی منظوری سے ایک دن پہلے وزیراعظم کے سامنے نوٹ رکھا گیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی کابینہ کے ممبران بھی اس کیس میں ملزمان ہیں؟ امجد پرویز نے کہا کہ کابینہ ممبران کہتے ہیں کہ شہزاد اکبر نے کہا کہ ڈیڈ کانفیڈنشیل ہے دکھائی نہیں جا سکتی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کابینہ ممبران نے بھی تو غیرقانونی کام کیا، بند لفافے کی منظوری دیدی، ہو سکتا ہے بند لفافے میں کوئی چیز پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو،کابینہ ممبران نے آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے وہ کیسے دیکھے بغیر منظوری دے سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میٹنگ منٹس میں کابینہ کے کسی ممبر نے اختلاف نہیں کیا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسا قانون ہے کہ کابینہ بند لفافے کی بھی منظوری دیدے؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ تین کابینہ ارکان کے بیانات ساتھ لگائے ہیں، زبیدہ جلال، ندیم افضل گوندل اور پرویز خٹک کے بیانات لگائے گئے،جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ حکومت اگر کوئی بھی معاہدہ کرے گی تو لا اینڈ جسٹس ڈویژن سے منظوری تو ہو گی، امجد پرویز نے کہا کہ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کو انفارم کیے بغیر سائن کی گئی،وفاقی کابینہ کا یہ اجلاس ان کیمرا تھا جس میں اضافی ایجنڈا آئٹم کی منظوری دی گئی،

    خفیہ ڈیڈ کوئی مذاق نہیں تھا اور کابینہ منظوری کی یقینی طور پر کوئی اہمیت ہو گی،چیف جسٹس
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایسی کیا وجہ تھی جس کی بنیاد پر کانفیڈنشیلٹی ڈید پر دستخط کیے گئے؟ امجد پرویز نے کہا کہ این سی اے کی ریکوائرمنٹ پر کانفیڈنشیلٹی ڈیل پر دستخط کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا این سی اے کی پالیسی اور پریکٹس ہمارے پاس ہے؟امجد پرویز نے کہا کہ نہیں، وہ دستاویزات بھی موجود نہیں ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خفیہ ڈیڈ کوئی مذاق نہیں تھا اور کابینہ منظوری کی یقینی طور پر کوئی اہمیت ہو گی، امجد پرویز نے کہا کہ زبیدہ جلال نے بتایا کہ شہزاد اکبر نے کہا یہ دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ ہے، جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ انہوں نے دیکھے بغیر منظوری دی تو کیا جرم کا ارتکاب نہیں کیا؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے کوئی فائدہ نہیں لیا لیکن بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم فائدہ لیا ہےعدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کر دی

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • عمران خان اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائیگی،عدالت کے ریمارکس

    عمران خان اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائیگی،عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی نئے اسلام آباد ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، وکیل عمران خان نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کو رجسٹر نہیں کیا جا رہا، عدالت چیف کمشنر کو حکم دے،چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے رپورٹ جمع نہ ہونے پر عدالت نےاظہارِ برہمی کیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری عہدیدار کیوں خوف محسوس کر رہے ہیں،سرکاری عہدیداروں کو صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے،ذہن میں رکھیں کہ موجودہ حکومت صرف پانچ سال کیلئے اقتدار میں رہے گی، بانی پی ٹی آئی کل اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائے گی، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد سے آئندہ سماعت پر دوبارہ رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے کیس پر سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا معاملہ ایک پھر ہائیکورٹ پہنچ گیا،ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے رجسٹریشن کی درخواست مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کے فیصلے کو کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،القادر ٹرسٹ کی جانب سے وکیل جہانزیب سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کو فریق بنایا گیا ہے،

    واضح رہے کہ 30 نومبر کولیبر اینڈ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ نے القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کئے جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورںگزیب نے القادر ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کی تھی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توبہ توبہ ،آپ لوگ بہت خراب ہو ، جان بوجھ کر معاملے کو تاخیر میں ڈالا گیا،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    مذہبی، مسلکی، لسانی منافرت پھیلانے والے 462 سوشل میڈیا اکاونٹس بند

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا، مفصل جواب جمع کروائیں، عدالت

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

  • بشری بی بی کو  اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ  جاری

    بشری بی بی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد: بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کے مطابق بشری بی بی چاہتی ہیں کہ انہیں جیل میں رکھا جائے تاکہ ان کی تنہائی دور ہو عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ قید تنہائی میں رکھنا صرف سزا نہیں بلکہ ٹارچر ہے، بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنا یا گیا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے سے بشریٰ بی بی کے بچے آسانی سے گھر نہیں آ جا سکتے ان کے شوہر کے بچے اور خاندان کے افراد کو بھی گھر آنے کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل یا عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل پراپرٹی مالک سے اجازت لی گئی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر پرائیویٹ پراپرٹی کا ورچوئل قبضہ حاصل کر لیا گیا پراپرٹی مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر اسے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    عدالت نے فیصلے میں بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی وجوہات بھی بیان کیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ قیدی کے طور پر ایڈمٹ کرنے کے بعد سب جیل بھجوایا گیا، سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ان کی درخواست پر چیف کمشنر اسلام آباد نے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔

    بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کوکرنا ہے،امریکا

    فیصلے کے مطابق چیف کمشنر نے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن میں وجوہات ہی بیان نہیں کیں، رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں، بشریٰ بی بی کی پروٹیکشن کے لیے سب جیل میں رکھا گیا رپورٹ کے مطابق جیل میں 2174 کی گنجائش مگر 7 ہزار قیدی، 75 خواتین کو رکھنے کی جگہ پر 250 خواتین قید ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بشریٰ بی بی کو سب جیل میں رکھنے کے بعد 125 مزید خواتین جیل میں بطور قیدی لائی گئیں، بشریٰ بی بی کو جیل میں پروٹیکشن دینا ریاست کی ذمے داری ہے سزا یافتہ قیدی کی جیل سے منتقلی کے لیے آئی جی جیل خانہ جات کا آرڈر ضروری ہے، بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے سب جیل منتقل کرنے کے لیے آئی جی جیل خانہ جات کا آرڈر موجود نہیں۔

    شمالی وزیرستان میں نامعلوم شرپسندوں نے لڑکیوں کے نجی اسکول کو بم سے اڑا دیا

  • توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو نیب کے نئے نوٹس پر عدالت نے کیا جواب طلب

    توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو نیب کے نئے نوٹس پر عدالت نے کیا جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی نیب کال اپ نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر اور عثمان ریاض گل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف نیب کی نئی توشہ خانہ انکوائری پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    عدالت نے نیب سے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں پہلے سزا ہو چکی،دونوں میاں،بیوی کا اڈیالہ جیل میں ایک ٹرائل چل رہا ہے۔نیب کو کسی بھی قسم کے ایکشن لینے سے روک لیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کال آپ نوٹس پہلے سے ہی غیر موثر ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کو اڈیالہ منتقل کرنے کا حکم

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    عمران خان نے نیب نوٹس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے،،عمران خان نے دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست پر فیصلے تک نیب نوٹس معطل کرنے کی استدعا کی ہے،عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان گل اور خالد چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی الزام کے کیسز میں مختلف قسم کی کاروائی نہیں ہو سکتی،نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر تحائف کی غیرقانونی فروخت کا الزام ہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 16 اپریل کو نیب راولپنڈی میں طلب کیا گیا تھا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کو اڈیالہ منتقل کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کو اڈیالہ منتقل کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کو اڈیالہ منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ًمحفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست منظور کر لی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشری بی بی کو بنی گالہ سب جیل میں رکھنے کا 31 جنوری کا چیف کمشنر اسلام آباد کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دےدیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے محفوظ فیصلہ سنایا،وکلاء سلمان اکرم راجہ،عثمان ریاض گل اور دیگر عدالت پیش ہوئے،

    خدا کاخوف کریں کبھی آپ کہتےہیں عدالت پیش نہیں کرسکتے خطرہ ہے، کبھی کہتے ہیں جیل محفوظ نہیں ، کیا آپ محفوظ ہیں؟عدالت
    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو نہیں لگتایہ پہلے سے طے شدہ تھا کہ بشریٰ بی بی کو منتقل کرنا ہے؟بشریٰ بی بی کو گھر بھیجنے کے بعد کتنی خواتین کو اڈیالہ جیل لایا گیا؟ جو 141خواتین اس کے بعد لائی گئیں کیا وہ کم استحقاق رکھتی تھیں؟جو خواتین بعد میں لائی گئیں انہیں بھی گھر بھیج دیں ناں،اسٹیٹ کونسل نے عدالت میں کہا کہ جیل میں خطرے کے باعث بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کیا گیا ہے،عدالت نے کہا کہ آپ ابھی بھی جوازپیش کررہے ہیں کہ ہم نےٹھیک کیا اور آئندہ بھی کرینگے؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ خدا کاخوف کریں کبھی آپ کہتےہیں عدالت پیش نہیں کرسکتے خطرہ ہے، کبھی آپ کہتے ہیں جیل محفوظ نہیں ہے، کیا آپ محفوظ ہیں؟ اگر میری مرضی سے مجھے گھر میں قید کیا جائے تو میں بہت خوش ہوں گا، قیدی کی مرضی کےخلاف اسکی پراپرٹی کوسب جیل کیسے بنایاجاسکتا ہے؟ "ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتوں میں سیکیورٹی خطرہ ہے جیل میں سماعت ہوگی دوسری جانب آپ کہتے ہیں جیل میں سکیورٹی خطرہ ہے بنی گالہ گھر میں منتقل کرتےِ”

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید کی سزا گزارنا چاہتی ہیں فوری بنی گالہ گھر سے جیل منتقل کیا جائے، بشریٰ بی بی نے بنی گالہ کو سب جیل قرار دینے کا انتظامیہ کا 31 جنوری کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کر دی ، بشری بی بی کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی عام قیدی کی طرح سزا اڈیالہ جیل میں پوری کرنا چاہتی ہوں تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں دوسرے سیاسی ورکرز جیلوں میں عام قیدیوں کے ساتھ ہی بنی گالہ سب جیل میں منتقلی مساوی حقوق کے منافی ہے 31 جنوری کو صبح دس بجے سے لیکر رات نو بجے تک مجھے اڈیالہ جیل میں انتظار کروانے کے بعد سب جیل میں منتقل کیا گی، پوچھنے پر مجھے بتایا گیا بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دے دیا گیا چیف کمشنر آفس اسلام آباد کا اکتیس جنوری کا نوٹیفیکشن کالعدم قرار دیا جائے.

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی گئی تو وہ اڈیالہ جیل آئیں تا ہم بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کر دیا گیا، جس پر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بھی سوال اٹھائے گئے تھے کہ ایسا دوہرا معیار کیوں، یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ کئی ماہ سے جیل میں ہیں اب بشریٰ کو سزا ہوئی تو اسکو جیل میں کیوں نہیں رکھا جا رہا.

    واضح رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،فیصلے سے قبل جج کورٹ روم آئے توجج نے ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا ،اہلیہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

  • عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی، دوران عدت نکاح کیس میں دونوں‌کو سزا ہو چکی، عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں تو بشریٰ بی بی بنی گالہ سب جیل میں قید ہیں، ایسے میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جو خاور مانیکا کی بیٹی کی ہے

    خاور مانیکا کی بیٹی نے عمران خان اور بشری بی بی کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا، خاور مانیکا کی بیٹی ویڈیو میں کہتی ہے کہ میں بدقسمت خاور مانیکا کی چھوٹی بیٹی ہوں، میری بہنوں نے باپ کے خلاف ہرزہ سرائی کی، خاورمانیکا انتہائی نیک سیرت انسان ہیں، میرے والدین انتہائی ہنسی زندگی خوشی گزار رہے تھے، میرے والد نے ایک غلطی کی کہ عمران خان کو گھر گھسنے کی اجازت دی،اسکے بعد عمران خان نے بشریٰ بی بی کو ورغلایا اور اسکے بعد جو کچھ ہوتا رہا میں ایک بیٹی ہونے کے ناطے دوہرا نہیں سکتی، عمران خان کے بہکاوے میں آ کر بشریٰ بی بی نے ہمارے گھر کو اجاڑ دیا، پہلے حکومتی پریشر تھا لیکن پھر میرے باپ کو خاموشی توڑنی پڑی، میری سب سے درخواست ہے کہ عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،

    جب عمران خان ہمارے گھر آنے لگے تو ہماری ماں..بشریٰ بی بی کی بیٹی کا ویڈیو پیغام
    قبل ازیں عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی ایک اور بیٹی نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنی والدہ بشری بی بی اور عمران خان کے بے گناہ ہونے کی گواہی دیتے ہوئے ویڈیو پیغام جاری کیا ، جس میں کہا کہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتی ہوں، کہ اُن کی والدہ بشری بی بی نے عدت گھر پر گزاری، میں اپنی فیملی کے خلاف جا کر ویڈیو بنا رہی ہوں پتا نہیں اس پر کیا ہو گا ، ہماری ماں نے گھر پر ہی عدت پوری کی تھی یہ ہماری ماں کی توہین ہے اور جس طرح کے گندے الزامات ہماری ماں پر لگائے جا رہے ہیں، جب عمران خان ہمارے گھر آنے لگے تو ہماری ماں اوپر سے نیچے تک مکمل پردے میں ہوتی تھیں

    https://twitter.com/aurangk_khan/status/1786310158252949627

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    خاور مانیکا اور عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی بات چیت منظر عام پر آ گئی

    دوران عدت نکاح کیس،اڈیالہ جیل میں سماعت،خاورمانیکا کا بیان ریکارڈ

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،