Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • دوران عدت نکاح کیس، سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    دوران عدت نکاح کیس، سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر جلد سماعت کی درخواست نمٹا دی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی درخواستوں پر سماعت کی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، خالد یوسف چوہدری اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہئیں، میری ذمے داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں، ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہو چکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسکیوشن نے کہا کہ کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، شکایت کنندہ کے وکیل نے تاخیری حربے استعمال کیے ہیں، کبھی کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں ہیں، کبھی کہا گیا کہ بیرونِ ملک ہیں، اگر میرے مؤکل یہاں نہیں ہوتے تو میں کبھی نہ کہتا کہ میرے ہوتے ہوئے وہ بولیں، اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی ہے

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر
    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ بشریٰ بی بی سابق وزیرِ اعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے،عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیے، سائفر کیس، توشہ خانہ کیس پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے،میں کئی سالوں سے کریمنل کیسز لڑ رہا ہوں،جب اس کیس کو لڑنے کیلئے پڑھا تو پتا چلا ماضی میں ایسا کیس کسی نے نہیں لڑا،عجیب کیس ہے میاں،بیوی دونوں اندر ہیں، فراڈ کس نے کس کیساتھ کیا،ہمیں گواہان کو بلانے کی اجازت ہی نہیں دی گئی،ہمارے گواہان کے طور پر بشریٰ بی بی کے بچوں نے پیش ہونا تھا،اگلے دن صبح کیس کا فیصلہ سنادیا مگر ہمیں موقع ہی نہیں دیا گیا،عدت کیس میں آدھی رات تک سماعت چلتی رہی، ٹرائل میں آرٹیکل 10 اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا، 16 جنوری کو بشری بی بی کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کیا گیا، آپ کے اوپر کیا پریشر تھا کہ غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کیا گیا، عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، سخت سردی میں رات کو یہ ٹرائل ہوا جج صاحب کی ایک مہربانی ہے چائے کا پوچھتے رہے، میں اس گلی میں نہیں جانا چاہتا جہاں فاضل دوست لے کے جانا چاہتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نےبھارتی عدالت کے فیصلوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ قانون میں عدت کے دوران شادی کوئی غیر قانونی عمل نہیں،خاورمانیکا کے وکیل نے کہا کہ میں بات مانتا ہوں کہ مجھے قانون نہیں آتا، یہ کہیں نہیں لکھا کہ ضمانت کے لئیے درخواست دائر نہیں کی جاسکتی، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ یہ استغاثہ کا کیس ہے گرفتاری نہیں چاہئیے،عدت دورانیہ کانٹرولرشل بنا ہوا ہے، اس کیس میں بچے بھی پیش نہیں ہوئے،وکیل سلمان صفدر کی جانب سے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا ،سلمان صفدر نے کہا کہ یہ بیہودہ کیس ہے اور اسکو کرنا ہمارے بہت مشکل ہے،8 سال سے وہ ساتھ ہیں اور انکا کوئی بچہ نہیں،

    سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ سائفر کیس ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا تو عدالت نے کہا کہ مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی؟ میں نے کہا کہ مرکزی اپیل سنیں، ورنہ میرے لیے آسان تھا کہ سزا معطلی پر دلائل دیتا، سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کر دی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلاء کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کہ کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے عمران خان بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی استدعا کر دی، کہا اس کیس میں 5 ماہ ہوچکے ہیں،میری استدعا ہے کہ بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کو اس کیس سے بری کیا جائے،سلمان صفدر نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل مکمل کر لئے،کیس کی سماعت میں محتصر وقفہ کر دیا گیا،شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل وقفہ کے بعد اپنے دلائل دیں گے

    خاور مانیکا کے وکیل نے عمران اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر دی
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد،عدت نکاح کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ ہوئی،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عمران اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر دی، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلاء کی جانب سے خاور مانیکا کے لیے جھوٹا شخص ہے کے الفاظ استعمال کیے گئے، جھوٹا کون ہے مفتی سعید خاور مانیکا یا بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی، جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کئے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے اسی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشری بی بی سے نہیں ہوا جھوٹا الزام ہے، یو ٹرن کا لفظ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کروایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ جھوٹا کون اور سچا کون ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ اصل میں جھوٹا کون ہے، 7 جنوری کو پی ٹی آئی کی جانب سے بیان دیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے بشری بی بی کو شادی کا پروپوزل بھیجا ہے،بیان میں کہا گیا کہ بشری بی بی کی جانب سے جواب آنے کے بعد بانی پی ٹی آئی باقاعدہ اعلان کریں گے، 1 جنوری کے نکاح کو اپیل کنندگان کی جانب سے جھٹلایا گیا، نکاح کے لئے ولی کی رضامندی اور موجودگی ضروری ہے،ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، زاہد آصف ایڈوکیٹ کی جانب متعد قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ قرآن و سنت کے مطابق گواہان کے بغیر نکاح جائز نہیں، خاتون کی پرائیویسی کے بارے میں بات کی گئی لیکن فیملی کی پرائیویسی کا ذکر نہیں کیا، عدالت نے دیکھنا ہے کہ جھوٹا کون ہے شکائت کنندہ کی بیوی کو بہلانے والا طلاق دلوانے والا اور عدت میں نکاح کرنے والا، کہتے ہیں عورت کا کہہ دینا کافی ہے یہ تو بتائیں عورت نے کہا کب وہ بیان کدھر ہے،بشری بی بی کی جانب سے ایک مرتبہ بھی عدت کے حوالے سے نہیں بتایا گیا،

    کہا گیا بچوں کو پیش نہیں ہونے دیا ، کس کے بچوں نے پیش ہونا تھا یہ نہیں بتایا گیا،وکیل خاور مانیکا
    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم بشری بی بی کی موجودگی میں عائد ہوئی جب دستخط کا کہا گیا تو عدالت سے چلی گئیں، یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چارچ بشری بی بی کی غیر موجودگی میں ہوا، کہا گیا بچوں کو پیش نہیں ہونے دیا حق نہیں دیا گیا کس کے بچوں نے پیش ہونا تھا یہ نہیں بتایا گیا، جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ آپ کے کلائنٹ کو شادی کا پتہ کب چلا، زاہد آصف ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2 جنوری کو پتہ چلا کہ نکاح ہو گیا تھا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کی طرف سے کوئی بیان کیوں نہیں آیا جب نکاح کا پتہ چل گیا، اپیل کنندگان کہتے ہیں چلا کروایا گیا جس کے بعد شکائت دائر ہوئی اس پر بتائیں،بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا، جج افضل مجوکا نے کہا کہ جب شکائت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا،وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جو پہلے والی شکائت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں،عثمان گل نے کہا کہ اس وقت تک چارج فریم نہیں ہوا تھا،

    کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزار رہا ہو وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے،وکیل خاور مانیکا
    جج افضل مجوکا نے کہا کہ فراڈ کوئی ایسا ایکٹ نہیں ہے 2006 میں یو کے نے ایکٹ متعارف کروایا،اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں،کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکائت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں تھی دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں،کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزار رہا ہو وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے، جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری سے سوال کیا کہ اگر خاور مانیکا کو 2 جنوری کو یکم جنوری 2018 میں کیے گئے نکاح کا پتا چلا تو اگر وہ 2 جنوری کو خدا نخواستہ مر جاتے تو کیا بشری بی بی جائیداد میں حصہ دار ہوتیں؟ جس پر خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے ہاں میں جواب دیا،وکیل زاہد آصف نے کہا کہ اس کیس میں صرف 496 نہیں 494 اور 495 کا اطلاق بھی ہوتا ہے،نکاح نامے کے مطابق اپیل کنندگان نے اس سے پہلے شادی کے متعلق نہیں بتایا گیا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ نکاح نامے کی کمپیوٹرائزڈ کاپی میں بشری بی بی کی جانب سے مطلقہ کے بارے بتایا ہے، اگر آپ کے دلائل ٹھیک ہیں تو یہ شارٹ سینٹینس ہے 5 سال بنتے ہیں اور سزا معطلی بنتی ہے، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ یہ وانٹ کا کیس تھا سمن کا کیس نہیں تھا اس کے مطابق اس کیس میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کرنی تھی،

    شکائت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف ایڈوکیٹ کے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل مکمل ہو گئے، جج افضل مجوکا نے کہا کہ مرکزی اپیل کے لئے کب میسر ہوں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم مکمل فری ہیں،جج افضل مجوکا نے کہا کہ 2 جولائی کی تاریخ ہے ہائی کورٹ نے کہا ہے یکم کو کیس نہ رکھیں،سیشن عدالت اسلام آباد نے عدت میں نکاح کیس میں عمران خان اور بشر یٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،دوران عدت نکاح کیس میں محفوظ فیصلہ 27 جون دن تین بجے سنایا جائے گا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • خاور مانیکا تشدد کیس، ایک وکیل کی درخواست ضمانت خارج

    خاور مانیکا تشدد کیس، ایک وکیل کی درخواست ضمانت خارج

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا پر تشدد کرنے والے تحریک انصاف کے وکیل کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔

    وکلاء کی جانب سے خاور مانیکا پر تشدد کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے کی۔عدالت نے خاور مانیکا تشدد کیس میں وکیل فتح اللہ برکی کی ضمانت خارج کر دی جبکہ پی ٹی آئی کے دیگر وکلا کی ضمانت کی توثیق کر دی گئی،درخواست گزاروں کی جانب سے ریاست حسین آزاد ایڈووکیٹ، سردار مصروف ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا پیش ہوئے جبکہ مقدمے میں نامزد ملزم عثمان ریاض گل اور دیگر بھی عدالت پیش ہوئے،

    خاور مانیکا پر تشدد سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی وکلا عثمان ریاض گل، فتح اللہ برکی اور زاہد بشیر ڈار نے ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں،ملزمان میں مرزا عاصم بیگ، انصر محمود کیانی اور سعید خان سدوزئی بھی شامل ہیں۔

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    ڈسرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے احاطے میں خاور مانیکا پر حملے کا مقدمہ تھانہ رمنا میں درج کیا گیا تھا،مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں دہشگردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہیں، مقدمے میں پی ٹی آئی کے وکلاء نعیم پنجوتھا، علی اعجاز بٹر، زاہد بشیر ڈار، عثمان گِل، انصرکیانی سمیت 25 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے میں موقع پرموجود 12 پولیس اہلکارگواہ بن گئے،ایف آئی آر میں کہا گیا کہ سماعت کے دوران وکلاء اور پرائیویٹ افراد نے احاطہ عدالت میں ہلڑ بازی کی ،مجمع کی قیادت ایڈوکیٹ برکی کر رہے تھے، ایڈوکیٹ برکی نے خاور مانیکا کو للکارا کہ آج اس کو زندہ نہیں چھوڑنا، ایڈوکیٹ برکی نے خاور مانیکا کو دھکا مارا اور نعیم پنجوتھا نے مکوں سے حملہ کیا

    واضح رہے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا عدالت میں پیش ہونے کیلئے آئے جہاں عدالتی احاطے میں موجود پی ٹی آئی کے وکلا نے ان پر تشدد کیا اور تھپڑ مارے،خاور مانیکا پر وکیل کے تشدد کے بعد ان کے ساتھ موجود وکلا ءنے انہیں بچایا اور عدالت میں لے گئے،عدالت میں جج کے چیمبر میں جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی وکلاء اور کارکن خواتین نے کمرہ عدالت میں خاور مانیکا کو بوتلیں ماریں-

  • مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،عمران خان

    مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پاکستان کے لیے مزاکرات کرنا چاہتا ہوں،اپنی ذات یا حکومت کے لیے مزاکرات کرنا نہیں چاہتا،پہلے بھی کہا تھا اگر میرے پیچھے ہٹنے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی اگر کوئی آفر لے کر آئیں گے تو پھر مزاکرات کرنے کا سوچیں گے،ہم نے محمود خان اچکزئی کو سیاسی اتحاد کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی ہے، قوم عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ن لیگ سے کیا مذاکرات کریں ،مزاکرات کے بعد انکی تو حکومت ختم ہو جانی ہے کیونکہ یہ حکومت جعلسازی سے وجود میں آئی ہے، پاکستان کو سرجری کی ضرورت ہے، سرجری وہ کر سکتا ہے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو،ملک کی آمدنی 1500 ارب جبکہ سود 9800 ارب روپے ہے ۔لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں ملک کے اندر ریفارمز نہیں ہے، فراڈ سے آئی حکومت ریلیف کیسے دے گی،

    وہ ڈرے ہوئے ہیں جو غلط طریقے سے اقتدار میں آئے،عمران خان
    صحافی نے سوال کیا کہ خان صاحب لوگ احتجاج کے لیے باہر نہیں نکلتے ڈرے ہوئے ہیں۔ جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ نہیں ڈرے ہوئے وہ ڈرے ہوئے ہیں جو غلط طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں اور جس دن میں کال دوں گا اس دن لوگ آٹھ فروری سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے۔ہارتا وہ ہے جو ہار ماننے اور ہار ماننے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، ہم آخری گیند تک مقابلہ کریں گئے اور انشاءاللہ پاکستان کو مافیا کے چنگل سے آزاد کروائیں گے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت اڈیالہ جیل ایجنسی کے کنٹرول میں ہے، وہ فیصلہ کرتے ہے کہ مجھ سے کون ملے گا ،اڈیالہ جیل میں بیٹھے ایجنسیوں کے لوگوں کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رھا ہوں،

    اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی کر دی گئی،نیب کے 2گواہان پر جرح مکمل،2پر ابتدائی جرح بھی کی گئی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل سے کمرہ عدالت پیش کیا گیا،بشریٰ بی بی کی جانب سے طبی معائنے کی درخواست پر عدالت نے سپرینڈنٹ جیل کو بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کردی،احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے سماعت کی،،نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر چودھری نذر، عرفان بھولا اور سہیل عارف جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء عثمان گل، ظہیر عباس چودھری،خالد یوسف چودھری و دیگر عدالت پیش ہوئے،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے   12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ میں دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا، تحریک انصاف کے رہنما عون عباس، شاندانہ گلزار، کنول شوزب کمرۂ عدالت میں موجود تھیں،

    سماعت شروع ہوئی توخاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،جس پر جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں، آپ خاور مانیکا سے رابطہ کر لیں، پاور آف اٹارنی واٹس ایپ پر منگوا لیں۔جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء سے کہا کہ میرے 2 سوالوں کےجواب دے دیں، مجھے سزا معطلی پر مطمئن کر دیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج اپیلوں پر دلائل دوں گا، وکیل شکایت کنندہ نوٹ کر لیں۔بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ عدالت کی مکمل معاونت کرنے کو تیار ہیں

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں آج دلائل نہیں دے سکتا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر بھی عدالت عمل کرے، 1985ء کی آئینی ترمیم کے بعد صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، پیر کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجہ دلائل دیں گے،جج افضل مجوکا نے کہا کہ پیر کو سماعت کرنا ممکن نہیں، منگل کو سماعت کریں گے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ آخری اتھارٹی ہے، شریعت عدالت کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، اسلام میں خاتون کے بیان کو حتمی مانا جاتا ہے، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد مزید نہیں دیکھا جائے گا۔اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے عدت کا تصور شرعی ہے ،جج نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے ، وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ مسلم فیملی لا میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چکی گئیں، چار ماہ رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا موقف سامنے نہیں رکھنے دیاگیا،سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، 496بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے،خاورمانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی،ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاورمانیکا کی طلاق ہوئی، فراڈکون کررہا؟کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا،جج نے کہا کہ 496بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 496بی ختم کردیاگیاتھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496بی میں عائد نہیں ہوا، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے،شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا،

    عدت کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” عدت کیس میں دونوں مرکزی اپیلوں کا فیصلہ کرنے کے لیے میرے پاس 12 جولائی تک کا وقت ہے ”

    خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشری بی بی متقی پرہیز گار ہیں ،وکیل سلمان اکرم راجہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دیناہے،سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا،ومجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی، اپیل پر فیصلہ کرناہے، سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی، اور کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیاکہ جیونیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ کو انٹرویو دیا،خاور مانیکا نے مانا کہ ان کا شاہ خانزادہ کے ساتھ ایک انٹرویو ہے ، اگر عدالت ایک دفعہ سن لے ،جج نے کہا کہ کیا ہو ایس بی فرانزک کے لیے آپ کی جانب سے کوئی درخواست دی گئی ؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یکم فروری یہ کیس شروع ہوا دو فروری ختم ہو جاتا ہے ، جج نے استفسار کیا کہ دو دن میں ختم ہو گیا ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بارہ بارہ ، 14 ، 14 گھنٹے روزانہ ہم اڈیالہ جیل کے سامنے عدالت کے سامنے کھڑے رہے ،انہوں نے کہا بحث ابھی ہو گی کل میں نے فیصلہ سنانا ہے ، خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشری بی بی متقی پرہیز گار ہیں ،جو الفاظ ویڈیو میں بشری بی بی کے حوالے سے کہے گا ان کا بھی خاور مانیکا نے مانا ، یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہمیں فرانزک کرانے کی کیا ضرورت تھی ؟ خاور مانیکا نے مانا کہ یہ کلپ اس زمانے کا ہے جب وہ میری بیوی تھیں ، خاور مانیکا نے اپنے کلپ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ،

    شاہزیب خانزادہ کے ساتھ خاور مانیکا کا انٹرویو عدالت میں چلایا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاور مانیکا ویڈیو میں کہہ رہا بشری بی بی میری سابقہ اہلیہ ہیں ، خاور مانیکا بشری بی بی کے سابقہ اہلیہ ہونے کا بھی کہہ رہا ہے وہ ایک متقی پرہیز گار خاتون ہیں ، خاور مانیکا کا یہ کہنا کہ وہ سابقہ اہلیہ ہیں اس کا مطلب ہے وہ یکم جنوری 2018 کے بعد یہ بات کر رہے ہیں ، خاور مانیکا اس کا مطلب ہے جھوٹ شخص ثابت ہے ، خاور مانیکا کو جھوٹا کہنے پر وکیل زاہد آصف ایڈوکیٹ نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایسے الفاظ استعمال نا کریں پہلے بھی میرے کلائنٹ کے ساتھ ایک نا خوشگوار واقعہ ہو چکا ، آپ کوئی اور مناسب الفاظ بھی استعمال کر سکتے ہیں ،خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے،

    نوٹ کرلیاکہ پریشر کے تحت، تاخیر سےشکائت دائر کی گئی،عدت کیس اپیل میں عدالت کے ریمارکس
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکائت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاورمانیکا کو گرفتار کیاگیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر ائے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی،جو لوگ چلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیاہوتاہے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت نے نوٹ کرلیاکہ پریشر کے تحت، تاخیر سےشکائت دائر کی گئی”.وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ سال گیارہ ماہ بعد شکایت درج کی گئی ، چلے سے واپس آکر یہ خیال آیا ،

    دورانِ سماعت کیس کے گواہ اور نکاح خواں مفتی سعید کا ویڈیو بیان بھی عدالت میں چلایا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سے نکلنے کے بعد 25 نومبر 2023 کو بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف شکایت فائل کرتے ہیں ۔ خاور مانیکا جب چلا مکمل کرکے واپس آئے تو انھیں یاد آیا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گئی ۔ پہلے ایک کمپلینٹ محمد حنیف نے دائر کی پھر خاور مانیکا نے دائر کی ، پہلے جو شکایت کنندہ تھا اس نے کمپلینٹ واپس لی ، پھر دوسری کمپلینٹ میں بھی کردار وہی تھے جو پہلی کمپلینٹ میں تھے ، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت سے استدعا کی کہ پانچ منٹ وقفہ کر لیں ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے تو کوئی ایشو نہیں ، میں وقفے کے بغیر جاری رکھ سکتا ہوں،خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ راجہ صاحب جوان ہیں ہم بوڑھے ہو گئے ، عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی.

    میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں، کوئی سوچ سکتاہےکہ عدالت میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولا جاسکتا ہے،مفتی سعید نےکہا دوسرے نکاح کے دوران معلوم نہیں کون کون گواہان موجود تھے،عون چودھری کی موجودگی میں مفتی سعید نےکہا معلوم نہیں کون گواہ تھا، مفتی سعید بھروسے کے لائق نہیں، خاور مانیکا سے قبل حنیف نامی شہری نے شکایت دائر کی، محمد حنیف کی شکایت میں وہی گواہان تھے جو خاور مانیکا کی شکایت میں تھے، عون چوہدری شکایات کے کرتا دھرتا ہیں، تمام گواہان کو عون چوہدری جمع کرتے،

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے خاور مانیکا کے ملازم اور گواہ محمد لطیف کا بیان عدالت میں پڑھا،جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا کو کب معلوم ہوا کہ بشریٰ بی بی اورعمران خان کا نکاح ہوا؟خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت میں کہا کہ میں خاور مانیکا سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کر دوں گا،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان پر تو کوئی الزام بھی نہیں ہے، جس پر جج نے کہاکہ یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے،جج افضل مجوکا کے اس جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 27 جون سے قبل فیصلہ کرنا ہے، اگر کوئی فریق حاضر نہ ہوا تو فیصلہ پھر بھی کروں گا، عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں دائر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • عمران خان ،قریشی، بشریٰ بی بی کی عید اڈیالہ جیل میں

    عمران خان ،قریشی، بشریٰ بی بی کی عید اڈیالہ جیل میں

    سابق وزیراعظم عمران خان نے عید اڈیالہ جیل میں گزاری

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بھی عید اڈیالہ جیل میں گزاری، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی عید اڈیالہ جیل میں‌گزاری، باخبر ذرائع کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے نماز عید ادا کی، دونوں نے جیل حکام کے ہمراہ نماز عید ادا کی ،تاہم شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ آج دوسری عید ہے جو والد کے بغیر کر رہا ہوں،عمران خان کو اور شاہ محمود قریشی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی،سائفر کیس میں اللہ نے سرخرو کیا، عید کے بعد شاہ محمود قریشی رہا ہو جائیں گے،

    عمران خان کا محسن نقوی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    دوسری جانب عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے عید پیغام پوسٹ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہاہلِ وطن کو عید کی خوشیاں مبارک! عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کے اس جذبے، جس کی مثال جنابِ ابراہیم علیہ السّلام کی جانب سے قائم کی گئی،کوصحیح معنوں میں اپنانے کا درس دیتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں چند افراد کی اپنی اناؤں کی پوجا اور نفسِ عمّارہ کی پرستش نے ہمارے سماج کی اخلاقی تباہی کا سامان کیا ہے اور ہر ادارے کو تنزّلی و انحطاط کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی کسمپرسی پوری طرح یہ ظاہر کر رہی ہے کہ کیسے ایک شخص کی انا اور اس کے نتیجے میں اقربا پروری نے پہلے ہی پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ محسن نقوی کو زرداری، جو مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہی اپنا بیٹا قرار نہیں دیتا محسن نقوی انکے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتا ہے چنانچہ پہلے اسے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے نوازا گیا حالانکہ (اس کی وزارتِ اعلیٰ کا) یہ دور پاکستان کی تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ اس کے خلاف تو دستور کی منشا اور آئین کے تقاضوں کے مطابق پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کی اجازت نہ دینے پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئیے۔ پھر اس نے قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور جبر و فسطائیت کی ایسی سیاہ تاریخ رقم کی جسکی نظیر تک ملنا ناممکن ہے۔ اسکی نگرانی میں چادر و چاردیواری کےتقدّس کو پامال کیا گیا، سیاسی کارکنان (ناحق) قتل کئے گئے، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ وحشت و سفّاکیّت کا ریکارڈ قائم کرنے پر اسےداخلہ امور جیسی حسّاس ترین وزارت سےہی نہیں بلکہ سینیٹرشپ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کے ذریعے بھی نوازا گیا۔ ٹیم کی کارکردگی میں اضافے پر توجّہ دینے کی بجائے محسن نقوی نے نے اپنی تمام تر توانائیاں (سرکار کے) سیاسی مخالفین کو دبانے میں کھپا دیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی ثابت کرتی ہےکہ کھلاڑیوں کا مورال بُری طرح مجروح/نچلی ترین سطح پر ہے کیونکہ کرکٹ بورڈ کی کمان ایک نااہل ٹاؤٹ کے ہاتھ میں ہے۔ ترجیحات میں یہ حد درجہ بگاڑ ملک میں امن و امان کی صورتحال سے بھی عیاں ہے۔ پوری ریاستی مشینری شہریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے اور سفّاکیّت کے ریکارڈز قائم کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ امنِ عامہ درہم برہم ہے، دہشتگردی بڑھ رہی ہے اور معیشت تباہی کے پاتال میں اتر چکی ہے۔ حتمی طور پر اب ”جنگل کے بادشاہ“، جو بنیادی طور پر اس ملک میں ڈوریاں ہلاتا ہے، کو اداروں کی تباہی کا سلسلہ فی الفور ترک کر دینا چاہئیے۔ وقت آگیا ہے کہ اپنا قبلہ درست کیا جائے قبل اس کے کہ ملک کا حشر بھی وہی ہو جو 2024 کے عالمی کپ کے دوران پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا ہوا۔

  • دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے سیشن کورٹ اسلام آبادمیں کیس کی سماعت کی،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل سیشن کورٹ اسلام آبادمیں پیش ہوئے ،عثمان ریاض گل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ عدالت پیش کردیا اور کہا کہ ڈائریکشن آچکی ہے کل کے لیے رکھ لیں ، جج افضل مجوکہ نے کہا کہ اگر میں زندہ رہا تو 10 دن میں فیصلہ کردوں گا ، کل ممکن نہیں ہے ، بہت سی ضمانت کی درخواستیں لگی ہوئی ہیں،اگر دوسری پارٹی پیش نہ بھی ہوئی تب بھی فیصلہ کردوں گا ،وکیل نے کہا کہ کل کے لیے سماعت رکھ لیں ، نوٹس ریکارڈ کا حصہ ہو جائیں گے ، جج نے کہا کہ آج کی سماعت کا آرڈر لکھ رہا ہوں اس میں نوٹس سے بڑا کچھ ہوگا ،سیشن کورٹ اسلام آباد نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی

    ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے فریقین کو نوٹسزجاری کردیئے،جج افضل مجوکہ نے کہا کہ خاور مانیکا اور ان کے وکیل 21 جون کو عدالت میں پیش ہوں ، دیگر صورت میں ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردیا جائے گا،

    یڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا ہی عدت میں نکاح کیس کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ کریں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کیس سیشن جج شاہ رخ ارجمند سے جج محمد افضل مجوکا کو ٹرانسفر کر دیا تھا سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا کے دوبارہ اعتراض پر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ نہیں سنایا تھا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدت کیس میں سیشن کورٹ کو دس روز میں عمران خان اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،عمران خان نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ سیشن جج محفوظ فیصلہ سنائیں، دوسری صورت میں اپیل خود ہائیکورٹ سنے،بشریٰ بی بی نے سیشن کورٹ میں زیرالتوا سزا معطلی درخواست سن کر فیصلہ کرنے کی استدعا کر رکھی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے سیشن کورٹ کو 10 روز میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے عدت کیس کی اپیل کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا دونوں درخواستوں پر مقرر وقت کے اندر فیصلہ کریں۔

    ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا ہی عدت میں نکاح کیس کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ کریں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کیس سیشن جج شاہ رخ ارجمند سے جج محمد افضل مجوکا کو ٹرانسفر کر دیا تھا سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا کے دوبارہ اعتراض پر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ نہیں سنایا تھا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور بیٹے کے وارنٹ جاری

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور بیٹے کے وارنٹ جاری

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاورمانیکا اور بیٹے کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے

    ساہیوال میں اراضی قبضہ کیس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کے بیٹے موسیٰ مانیکا کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، اسپیشل جج اینٹی کرپشن آصف بشیر نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، عدالت نے خاور مانیکا اور ان بیٹے کو گرفتار کر کے9 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا

    اینٹی کرپشن اوکاڑہ نے 11 اگست 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر اور بیٹوں کیخلاف مقدمہ درج کیا تھا،بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور دونوں بیٹوں پر اراضی پرقبضہ کرکے مارکیٹ تعمیر کرنے کا الزام ہے، مارکیٹ تعمیر کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچایا گیا۔

    واضح رہے کہ خاوید فرید مانیکا کے خلاف ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے اینٹی کرپشن میں رواں سال جون میں ایک فوجداری ریفرنس دائر کیا گیا تھاریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خاور فرید مانیکا وغیرہ نے محکمہ اوقاف کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس پر شادی ہال اور دکانیں تعمیر کی ہوئی ہیں خاور فرید مانیکا نے شادی ہال اور دکانوں کا حکومت کو ٹیکس دیا نہ محکمہ اوقات کو کوئی معاوضہ دیا جس کی مالیت لاکھوں میں ہے اینٹی کرپشن نے اس ریفرنس پر خاور فرید مانیکا کو گرفتار کیا تھا اور بتایا کہ ان پر سرکاری خزانے کو 13 کروڑ 67 لاکھ روپے سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔تاہم خاور مانیکا کی بعد ازاں ضمانت ہو گئی تھی، اب دوبارہ وارنٹ جاری ہوئے ہیں.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

    اسلام آباد: 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکلا نے نئے جج کی تعیناتی پر اعتراض واپس لے لیے،جبکہ آج بھی کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی احتساب عدالت کے نئے جج محمد علی وڑائچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کی، قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی، امجد پرویز اور عمران خان آئی کے وکلا ظہیر عباس چوہدری، عثمان گل و دیگر عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے نئے جج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نئے جج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد وکلا صفائی نے اعتراضات واپس لے لیے تاہم 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں آج بھی کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا،بعد ازاں عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 14 جون تک ملتوی کردی۔

    جاوید شیخ کے خلاف تشہیری مہم کے دوران فراڈ کا مقدمہ خارج

    واضح رہے کہ 6 جون کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ناصر جاوید رانا نے عہدے کا چارج چھوڑ دیا تھا، بعد ازاں نئے مقدمہ نئے جج محمد علی وڑائچ کے پاس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا،7 جون کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں عمران خان کے وکلا نے جج محمد علی وڑائچ کی تعیناتی پر اعتراضات اٹھا دیے جبکہ عدالت نے جج کی تعیناتی کے حوالے سے مزید دلائل طلب کر لیے تھے۔

    عید پر بارش کے حوالے سے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

  • دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے اپیلیں جلد سماعت کے لئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔پی ٹی آئی وکیل عثمان ریاض گل اور خالد یوسف چودھری عدالت میں پیش ہوئے .شکایت کنندہ خاور مانیکا کی جانب سے کوئی بھی عدالت پیش نہ ہوا۔وکیل عثمان ریاض نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سماعت کیلئے کوئی ایک وقت مقرر کر دے،اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس پر سماعت میں بھی پیش ہونا ہے، عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کے آنے تک کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    وقفے کے بعد سماعت دوبارہ ہوئی تو جج نے استفسار کیا کہ آپ اپیلوں پر جلد سماعت چاہتے ہیں یا سزا معطلی پر سماعت چاہتے ہیں؟وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت شکایت کنندہ کے کنڈکٹ کو بھی دیکھے۔جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے شکایت کنندہ کو نوٹس کیا تھا، وہ نہیں آنا چاہتے تو نہ آئیں عدالت کیس سنے گی، بشریٰ بی بی کی حد تک صرف اپیل فکس نہیں کر سکتے، اس طرح سے عدالت کا مائنڈ ظاہر ہوتا ہے،بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کی جانب سے اپیل ہوتی تو عدالت سماعت کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہوتی۔

    وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت 10 منٹ کا وقت دے دے،ہم عمران خان کی طرف سے بھی درخواست دائر کر دیتے ہیں۔ عدالت نے عمران خان کی جانب سے بھی سزا معطلی اور اپیلوں پر جلد سماعت کی درخواست دینے کیلئے وکلا کو مہلت دے دی۔عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کر دیا،وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کی جانب سے بھی عدت میں نکاح کیس کی اپیلیں جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواست دائر کر دی گئی،عدالت نے درخواست کے ساتھ بیان حلفی لگانے کی ہدایت جاری کی۔وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خود بھی دونوں کی درخواستوں کو ایک ساتھ مقرر کر سکتی ہے، تاہم اس کے باوجود ہم عمران خان کی جانب سے درخواست دے رہے ہیں۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم کی جانب سے جلد سماعت کی درخواست آئی، عدالت نے چیزوں کو بیلنس کرنا ہوتا ہے،سادہ کاغذ پر درخواست دی گئی ہے، بیان حلفی درخواست کے ساتھ لگائیں،درخواست میں کسی کو پارٹی نہیں بنایا گیا ہے،وکیل نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ پہلی عدالت میں کیس کا فیصلہ محفوظ تھا تاہم دوسری عدالت کو کیس ٹرانسفر کر دیا گیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت جلد مقرر کرنے اور سزا معطلی کی اپیلوں پر فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل