Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • 32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    ، 26 نومبر 2022 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف 32 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں۔عدالت کے جج امجد علی شاہ رخصت پر ہونے کے سبب عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی۔ اس کیس میں مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی پر 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بشری بی بی کے خلاف حسن ابدال، حضرو، اٹک، ٹیکسلا اور راولپنڈی میں مقدمات درج ہیں۔بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنانے کے بعد اڈیالہ جیل سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

    بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

    تحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مصطفی کمال نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاونڈ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، آج وہی فیصلہ آیا جو آنا چاہیے تھا، مان لیں اگر بانی کرپٹ نہیں تو یہ ان کی بدنصیبی ہے۔انہوں نے کہا کہ بشری بی بی کی چوری کی وجہ سے آج بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، بانی نے پریس کانفرنس کی تھی اور صرف فرح گوگی کا دفاع کیا تھا۔رہنما ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ فرح گوگی نے بشری بی بی کے ساتھ مل کر توشہ خانہ کے تحائف بیچے، توشہ خانہ کے تحائف دبئی کے بزنس مین کو بیچے گئے۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا.

    عمرہ ویزےکی آڑمیں انسانی اسمگلنگ کا بڑا منصوبہ ناکام

    کراچی میں ٹریفک مسائل کے حل کیلئے اقدامات شروع

    پاک بحریہ کے سربراہ ، سیکرٹری دفاع سے بنگلہ دیشی جنرل کی ملاقاتیں

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے بعد عمران خان کا ردعمل سامنے آ گیا

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں فیصلہ سنا، فیصلے کے بعد عمران خان نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا،

    جج کے فیصلہ سنانے پر عمران خان کا فوری ردعمل کیا تھا؟
    دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج بھی کریں گے، سوال تو پوچھنا چاہیے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے کہ تم نے جس پیسے سے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدی وہ پیسہ کس طرح باہر لیکر گئے اور آگے پھر بیچی، اس رقم کا تم نے کیا کیا؟ آج وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

    چور دندناتے پھر رہے اور یونیورسٹی بنانے پر سزا سنا دی گئی، شبلی فراز
    دوسری جانب سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں چور دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ معصوم اور ایماندار لوگ جو کہ اس ملک میں نبی کریم ﷺ کو سیرت کو پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسا ادارہ بناتے ہیں انہیں سزا سنا دی جاتی ہے، القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے معاملے پر نا تو حکومت کو ایک دھیلے کا نقصان ہوا اور نا ہی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم گئی، نیت ٹھیک تھی، مقصد بھی ٹھیک تھا لیکن اس ملک میں یہ رواج بنایا جا رہا ہے کہ ایک شخص جو شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے بناتا ہے اسے القادر یونیورسٹی بنانے پر سزا دی جا رہی ہے جس میں نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھائی جانی تھی اور پاکستان کے نوجوانوں کو مستفید ہونا تھا۔

    فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا، فیصل چوہدری
    پی ٹی آئی رہنما، وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک شرمناک فیصلہ ہے، آج انصاف کا قتل عام ہوا، نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب روپے کی پراپرٹی خریدی، آپ ایون فیلڈ بنائیں اور لندن میں پراپرٹی بنائیں اور اپنے کیس معاف کرائیں، میں اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں،آپ کی بھول ہے کہ آپ بانی پی ٹی کو سزا دے کر آپ کچھ بگاڑ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، عمران خان جیل میں بیٹھا تم پر بھاری ہے، عمران ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، اس تحریک کو پی ٹی آئی کا ہر ورکر اپنے خون سے سینچے گا، آج عوام کے کھڑے ہونے کا دن ہے، آج کا دن سیاہ ترین دن ہے، یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا،

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو سیاہ فیصلہ قرار دیدیا، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، احتجاج میں زرتاج گل بھی شریک تھیں، شرکا نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی اور عمران خان کو رہا کرو کے نعرے لگائے،شرکا نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے

    القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلے کے بعد عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا، 1971 میں جنرل یحییٰ نے ملک تباہ کیا آج آمر بھی اپنے فائدے کیلئے یہی کام کر رہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے جیل میں اپنی گرفتاری دیدی ہے، اڈیالہ جیل کے حکام انکی گرفتاری نہیں لے رہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح اُنہیں بنی گالہ منتقل کرنے کیلئے سازش رچائی جارہی ہے، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں ہی رہنا چاہتی ہیں، وہ بنی گالہ نہیں جانا چاہتیں،ہم اڈیالہ کے باہر موجود ہیں، میڈیا کے توسط سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بشریٰ نے خود گرفتاری دی، نہ خان نے بنی گالہ جانا ہے نہ بشریٰ نے، یہ پھر سے کچھ کریں گے تو ہم دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے، بشریٰ کی گرفتاری قبول کی جائے اور اسے اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے،

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا،

    ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔،عدالت نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی عدالت موجودگی میں فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی عدالت میں موجود تھے،نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی، علیمہ خان سمیت عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،سلمان صفدر، شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

    عمران خان بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب،بشریٰ معاون،تحریری فیصلہ جاری
    احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے،عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے ،بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے، دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، عمران خان اور بشری بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاونٹ کے دستخط کنندہ ہیں،اس مقدمے کا زیادہ تر دار و مدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے، شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم نہیں کر سکے جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم فیصلہ نہیں سنایا گیا، آج 17 جنوری جمعہ کو فیصلہ سنایا گیا

    بشریٰ بی بی فیصلہ سننے کے لئے اڈیالہ جیل پہنچیں تو بشریٰ بی بی کی گاڑیاں اڈیالہ جیل کے اندر انہیں اُتارکر واپس باہر آگئیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی اور داماد بھی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اڈیالہ جیل کے گیٹ پر قیدی وین بھی پہنچائی گئی، میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی،رہنما مسلم لیگ ن طاہرہ اورنگزیب بھی فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی تھیں،انکا کہنا تھا کہ فیصلے تو سارے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میں فیصلے کا انتظار کر رہی ہوں،رضوان رضی، حسن ایوب، گوہر بٹ، شفقت عمران بھی فیصلہ سننے اڈیالہ جیل کے عدالت پہنچے،تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری، بشریٰ بی بی کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہ ملی،سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج نہیں جانے دیا گیا، پہلے میں سب سماعتوں پر آتا رہا ہوں مجھے نہیں علم کہ کیوں نہیں جانے دیا گیا،

    ن لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب اور دانیال چوہدری بھی فیصلہ سُننے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، کمرہ عدالت میں 22 صحافی آج موجود تھے،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم سمیت نیب پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبران عرفان احمد،سہیل عارف،اویس ارشد اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں، عمران خان کے وکیل بھی عدالت پہنچ گئے ہیں

    فیصلے سے قبل پولیس نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت اڈیالہ جیل کے اطراف کی نگرانی ایس پی صدر نیبل کھوکھر نے کی، جبکہ ایس ڈی پی او صدر دانیال رانا کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایچ او صدر اعزاز عظیم کو سکیورٹی انتظامات کے سب انچارج کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی اور انسپیکٹر محمد سلیم کو اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے علاقے میں 6 تھانوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، سکیورٹی کے امور کی نگرانی کے لیے ایلیٹ اور ڈولفن فورس کی بھی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ تمام اہم مقامات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انسپیکٹر نسرین بتول کی نگرانی میں خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی امور کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے دوران کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • توشہ خانہ 2 کیس: آئندہ سماعت پر مزید 2 گواہ طلب

    توشہ خانہ 2 کیس: آئندہ سماعت پر مزید 2 گواہ طلب

    اسلام آباد: توشہ خانہ 2 کیس میں آئندہ سماعت پر مزید 2 گواہوں کو طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت اسپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی عمران خان عدالت میں پیش ہوئےجبکہ بشریٰ بی بی غیر حاضر تھیں وکلا صفائی ارشد تبریز اور قوسین مفتی پیش ہوئے پراسیکیو شن کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور عمیر مجید ملک عدالت پیش ہوئے۔

    وکلا صفائی نے استغاثہ کے پانچویں گواہ طلعت پرجرح مکمل کر لی عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید 2 گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت 20 جنوری تک ملتوی کردی، مقدمے میں اب تک 7 گواہان کی شہادت قلمبند کی جاچکی ہے ایف آئی اے کے گواہ شفقت محمود،طلعت محمود اور عمر صدیق بھی اڈیالہ جیل پہنچے۔

    سلمان خان کے خاندان میں افسوس کا سماں

    خیبر میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں، 22 خوارج ہلاک ، 18 زخمی

    جمائما گولڈ اسمتھ کی برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں پر تنقید

  • عمران نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ   کا گھر کیسے بنایا ،عطا تارڑ

    عمران نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ کا گھر کیسے بنایا ،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 190 ملین پاﺅنڈ کرپشن سکینڈل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے، آزاد مبصرین اور تجزیہ کار بھی 190 ملین پاﺅنڈ کرپشن کے حوالے سے کسی کو بری الذمہ قرار نہیں دے رہے، یہ میگا کرپشن کا ایسا بڑا سکینڈل ہے کہ تاریخ میں بڑی رقم کی خورد برد سرکاری سطح پر کی گئی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مہنگائی کم ہو کر 3.9 فیصد پر آ گئی ہے، ڈیفالٹ رسک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، پچھلے چند ماہ کے دوران اچھی خبریں آئیں،ماضی میں ایک ایسی حکومت تھی جو سارا دن اس کھوج میں رہتی تھی کہ ہم نے کہاں سے پیسے کمانے ہیں، پوری پی ٹی آئی کو چیلنج ہے کہ اس ایک پوائنٹ کی وضاحت کر دیں کہ اگر یہ پیسہ حکومت پاکستان کی ملکیت نہیں تھی تو نیشنل کرائم ایجنسی نے یہ پیسہ حکومت پاکستان کو کیوں دیا؟ یہ پیسہ اس لئے حکومت پاکستان کو دیا گیا کہ یہ پاکستان کے عوام کی امانت تھی،پوری پی ٹی آئی کو چیلنج ہے کہ وہ عمران احمد خان نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ روپے کا گھر کیسے بنایا گیا؟ یہ رقم اسی پراپرٹی ٹائیکون سے آیا۔

    ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں لیکن کرپشن پر ڈیل نہیں ہو سکتی۔عطا تارڑ
    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذہب کے نام کو استعمال کیا، میاں بیوی مل کر القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی بن گئے، اگر انہوں نے ٹرسٹ بنانا ہی تھا تو ایدھی اور چھیپا سے مل کر بناتے۔ پیسہ بزنس ٹائیکون کا اور ٹرسٹ یہ بنا رہے ہیں،شہزاد اکبر بند لفافہ لے کر آیا اور انہوں نے کابینہ میں بیٹھ کر اس کی منظوری دی، حکومت پاکستان کا پیسہ نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کے عوام کے لئے دیا، ان لوگوں نے پیسہ ہتھیا کر لاہور میں گھر بنایا۔ ایک فرد کو 80 سے 90 ارب روپے کا فائدہ دیا اور خود اربوں روپے کمائے۔ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو چیلنج ہے کہ وہ بتائے کہ نیشنل کرائم ایجنسی نے یہ پیسہ پاکستان کی حکومت کو کیوں دیا؟ دن دیہاڑے تاریخ میں اتنی بڑی ڈکیتی کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ان کے پاس کیا جواز تھا کہ کابینہ سے بند لفافہ منظور کروایا؟ کابینہ کا کیا کام ہے کہ وہ بند لفافہ منظور کرے، میگا کرپشن سکینڈل پر کوئی بات نہیں ہو سکتی، مذاکرات اچھے طریقے سے جاری ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں لیکن کرپشن پر ڈیل نہیں ہو سکتی۔ سنا ہے بانی چیئرمین اپنے لوگوں سے کہتے ہیں کہ مجھے جیل سے نکالو، فرح گوگی ملک سے فرار ہیں، اقتدار وقت کا دھارا ہوتا ہے، پورے پاکستان کے سیاستدانوں پر کیسز بنانے والا شہزاد اکبر آج بیرون ملک بیٹھا ہے، آج ان میں ہمت اور حوصلہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان آ کر اپنے خلاف کیسز کا سامنا کریں، ان فنکاروں نے پاکستان کی سیاست کو زہر آلود کیا، آج کل پاکستان کے اداروں کے خلاف بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں،

    جمائما گولڈ اسمتھ کی برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں پر تنقید

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،دو ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا حکم

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت