Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف   اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتساب کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور نے بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی مداخلت انصاف لائرز فورم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

    قاضی محمد انور نے پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کسی سازش میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علی زمان ایڈووکیٹ کو عہدے سے ہٹایا، جو کہ بے بنیاد ہے۔قاضی محمد انور نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی پر من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے 55 سال وکالت کی، اور اس دوران کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی جھوٹ بولا۔”

    پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صفوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غلطی کو بے نقاب کیا جائے، اور اس سلسلے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف کل اپیلیں دائر کی گئیں ہیں، جن میں ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو،سزائیں معطل کی جائیں،

    کرپشن میں ملوث وزراء سے تحقیقات جاری ہیں، قاضی انور
    اسی دوران، قاضی محمد انور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرپشن میں ملوث وزراء سے باری باری پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، سید قاسم علی اور مشیر صحت احتشام علی سے بھی چند وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی طرح، ظاہر شاہ طورو کو بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایک مہینہ انکو دیا ہے کہ 31 جنوری تک جو لکھ کر دیا اسکا جواب دیں ،اسکے بعد فیصلہ ہو گا،احتشام خان کے پاس ابھی صحت کا محکمہ آیا، ڈیڑھ صفحے پر ان کو سوالات دیئے اور جوابات مانگے، چند دنوں میں ظاہر شاہ طورو سمیت ایک اور وزیر کو بلانے لگے ہیں، وزیروں کو ہم بلاتے رہتے ہیں، ہمیں جو معلومات ملتی ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں، قاضی محمد انور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ہونے والی ان تحقیقات کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے نوٹفکیشن کیا ، فیصلہ سازی جو قاضی انور کرے گا اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا.

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم کو عہدے سے ہٹا دیا

    بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم کو عہدے سے ہٹا دیا

    پشاور:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے پی علی زمان کو ہٹانے کے احکامات دئیے-

    باغی ٹی وی: انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کی قیادت نے فیصلوں میں سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کردار کو تسلیم کر لیا بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل آئی ایل ایف کے پی علی زمان کو ہٹانے کے احکامات دئیے ، علی زمان نے قاضی انور سے آڈیو میسج میں سخت الفاظ ادا کیے تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قاضی انور نے علی زمان کو ہٹانے کیلئے بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کا کہا، علی زمان کے معاملات کو بشریٰ بی بی کے سامنے رکھا گیا علی زمان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن چیف آرگنائزر شاداب جعفری نے واپس لے لیا، بشریٰ بی بی نے علی زمان کی برطرفی کالعدم کرنے کی شکایت بانی پی ٹی آئی سے لگائی-

    حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیشرفت نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    پارٹی ذرائع کےمطابق جنرل سیکرٹری انصاف لائرز فورم کےپی کے کو بغیر شوکاز یا مشاورت کے ہٹایا گیا، انصاف لائرز فورم میں صوبائی صدر اور جنرل سیکرٹری کوصرف مرکزی کابینہ ہٹا سکتی ہےپی ٹی آئی مرکزی قیادت کوبشریٰ بی بی اور قاضی انور کے بغیر مشاور ت فیصلو ں پرتشویش ہے اور عہدوں میں تبدیلیوں کیلئے مرکزی کابینہ کے بجائے بشریٰ بی بی کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے۔

    وفاقی کابینہ میں آئندہ ہفتے توسیع کا فیصلہ

  • بشریٰ بی بی کی  پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے سیاسی امور کے بعد قانونی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہوئے وکلا اور انصاف لائرز فورم کی ٹیموں میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے وکلا کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر کے وکلا کی فہرست حاصل کریں۔ اس سلسلے میں قاضی انور اور مشعال یوسفزئی بشریٰ بی بی کو وکلا کے امور پر رپورٹ کریں گے۔ دونوں شخصیات بشریٰ بی بی کو وکلا کی کارکردگی اور تنازعات کے بارے میں آگاہ کریں گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے قانونی کیسز پر حتمی مشاورت فراہم کریں اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک کسی بھی قسم کی پیغام رسانی سے روکا جائے۔ یہ اقدام پارٹی کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنے اور قانونی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے وکلا عہدیداروں کی تبدیلیوں پر بھی بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کی گئی۔ بشریٰ بی بی نے وکلا کے تنازعات کو حل کیا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کی آگاہی فراہم کی۔ اس دوران قاضی انور ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کو وکلا قیادت کی خرابیوں اور مسائل پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ اس معاملے پر ان کا مؤقف حاصل کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ شریٰ بی بی کی اس مداخلت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے قانونی محاذ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے تمام مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    نیلم منیر کی دبئی میں شادی،دولہاپولیس والا نکلا

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

  • توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس پر سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بشری بی بی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں،بشریٰ بی بی کے وکیل ارشد تبریز کی عدم موجودگی کے باعث گواہ کا نہ تو بیان ریکارڈ ہو سکا اور نہ ہی جرح ہو سکی ،وکیل کوسین مفتی نے کہا کہ ارشد تبریز بیماری کے باعث آج عدالت پیش نہیں ہو سکے،پہلے ارشد تبریز اپنی جرح مکمل کریں گے اس کے بعد ہم اپنی جرح کا آغاز کریں گے،پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی مخالفت کی گئی،سپیشل پراسیکوٹر ذولفقار نقوی نے کہا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو جرح شروع کرنے کا حکم دے۔ جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ آئندہ سماعت پر جرح شروع نہ کی گئی تو عدالت کاروائی کرے گی،عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت چھ جنوری تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

  • توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    عمران خان اور بشری عمران کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر بنیامین کا بیان قلمبند کر لیا گیا وصول کیئے گئے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں،سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ خان ارجمند نےاڈیالہ جیل میں سماعت کی ،گواہ نے توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر بھی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے گواہ پر ابتدائی جرح کی اورسماعت2جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

  • توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بشریٰ بی بی کیس کی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں ،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل خالد یوسف اور عائشہ خالد پیش ہوئی،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر اور کوثین فیصل مفتی کی جانب سے ذاتی مصروفیات کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی،وکلا کی عدم موجودگی کے باعث پراسیکوشن کے گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہو سکا،عدالت نے بغیر کارروائی توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ،پہلا ٹیسٹ میچ،جنوبی افریقا کا بولنگ کا فیصلہ

    ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے مسافروں کیلیے گیم چینجر ہے، شرجیل انعام میمن

  • 26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 4 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف درج کیے گئے تھے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ڈیوٹی جج شبیر بھٹی نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اپنے وکلاء کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 13 جنوری تک منظور کرلی۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کے لیے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کوئی فوری گرفتاری کا سامنا نہیں ہوگا۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں ایک اور تھانہ رمنا میں تین مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاجی دھرنے کے دوران بشریٰ بی بی کے مبینہ کردار سے متعلق ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے ان کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔اس عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کسی بھی طرح کی قانونی پریشانی سے بچت حاصل ہوئی ہے، اور ان کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    اسلام آباد احتساب عدالت ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی ،وکیل خالد چوہدری نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں آج فیصلہ آئیگا،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیصلہ تو آج نہیں آئیگا،چھٹیاں آرہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے،دس منٹ تک تاریخ معلوم کر لیجئے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبر کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں فیصلہ محفوظ کیا تھاجو آج سنایا جانا تھا تاہم آج نہیں سنایا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلے کا معاملہ ، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر کر دیا ،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب کے پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کچھ دیر بعد محفوظ فیصلے کی نئی تاریخ مقرر کر دی، احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنائے گی،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا