Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت میں توسیع

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: سیشن عدالت نے بشریٰ بی بی کی ایک اور عمران خان کی 6 مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں توسیع کردی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹوکیس میں بریت کی درخواستوں پر سماعت کی، بیرسٹر سلمان صفدر اور ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید عدالت کےسامنے پیش ہوئے۔

    سماعت کے آغاز میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے جج سے کیس دوسرےبینچ کومنتقل کرنےکی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنےکلائنٹ کی ہدایات کےمطابق عدالت کے سامنے اپنی استدعا رکھتا ہوں، یہ کیس اس ہائیکورٹ کے بہت سینئرجج پہلے سےسن چکے ہیں۔

    ہسپتال میں ادویات کی سخت قلت،ڈاکٹرز و مریض پریشان

    انہوں نے کہا کہ خاور مانیکا نے عمران خان کی عدت کیس میں بریت کے خلاف اپیل دائرکی، عدت کیس میں انہی بنیادوں پرکیس دوسرےبینچ کومنتقل کرنے کا آرڈر ہوگیا، اسلام آبادہائیکورٹ میں اتنے سینئر ججز موجود ہیں اور مجھے اپنےکلائنٹ کی ہدایات ہیں۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہےعدالت کوئی نئی تاریخ نہ دےاور اس نکتے پرتھوڑا سوچ لے جس کے بعد جسٹس راجہ انعام نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی سیشن عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 6 مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں 11 فروری تک توسیع کردی۔

    رائٹ سائزنگ پالیسی،ریلوے سے 17 ہزار پوسٹیں ختم

  • عِدت کیس میں بریت،خاورمانیکا کی اپیل،جسٹس اعظم خان کیس سے الگ

    عِدت کیس میں بریت،خاورمانیکا کی اپیل،جسٹس اعظم خان کیس سے الگ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عِدت کیس میں بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیلوں پر سماعت کرنے والے جسٹس اعظم خان نے خود کو کیس سے الگ کرلیا

    عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی کی بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیل پرسماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے کی۔درخواست گزار خاور مانیکا کی جانب سے زاہد آصف چوہدری، اقبال کاکڑ و دیگر عدالت پیش ہوگئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے علی بخاری، شعیب شاہین، نیاز اللہ نیازی و دیگر عدالت پیش ہوئے۔زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ ہم نے 13 جولائی 2024 کا ایڈیشنل سیشن جج کا بریت کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ دلائل دینے سے پہلے ہم کچھ کہنا چاہ رہے ہیں،جسٹس اعظم خان پہلے اس کیس کو قابل سماعت قرار دے چکے ہیں، اس لئے اب یہ کیس کسی دوسرے بنچ کو منتقل کر دینا چاہیے۔آپ عدت کیس کو پہلے سن چکے ہیں۔

    جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ جی میں پہلے کیس کوقابل سماعت قرار دے چکا ہوں،وکیل درخواست گزار زاہد آصف نے شعیب شاہین کے دلائل سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس کا فیصلہ کوئی اور جج دے چکے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء نے جسٹس اعظم خان پر اعتراض اُٹھا دیا،بعد ازاں جسٹس اعظم خان نے عمران خان کے وکلاء کا اعتراض منظور کرتے ہوئے عِدت کیس میں نیا بنچ تشکیل دینے کیلئے کیس کی فائل چیف جسٹس عامر فاروق کو بھیجوا دی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    کیا عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان 190 ملین پاؤنڈز کی وطن واپسی کے معاملے میں کوئی مدد فراہم کی تھی؟

    اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کے دستخط شدہ ’’معاہدہ رازداری‘‘ (ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی) کو دیکھیں تو اس میں حکومت کی براہِ راست مدد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق معاہدے میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے اکاؤنٹ کا ذکر ہے اور معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت تک خفیہ رہے گا جب تک کہ قانوناً اسے افشاء کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ٹائیکون کے ساتھ حکومت کے تعاون پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ جس وقت اس کیس کا تصفیہ ہو رہا تھا، اس وقت ٹائیکون اور این سی اے کے درمیان ’’فریم ورک ایگریمنٹ‘‘ ہوا تھا، اسی معاہدے کے موقع پر ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی بھی ہوئی جس میں تصفیے کی شرائط کا خاکہ، ضبط شدہ رقم کی وطن واپسی اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کے متعلق باتیں شامل تھیں۔ حکومت پاکستان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاہدے کی تفصیلات خفیہ رکھے گی اور افشاء نہیں کرے گی۔

    شہزاد اکبر کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں انہوں نے اور عمران حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن رازداری کے معاہدے کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ عمران حکومت مکمل طور پر اس میں ملوث تھی، حالانکہ وہ معاہدے میں کوئی کردار ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔ ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے۔ معاہدے کی شق 2.1.1 پر مرزا شہزاد اکبر کے دستخط ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ڈیڈ اور فریم ورک معاہدہ دونوں کی شرائط خفیہ رہیں گی۔ شق 2.4 میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان فریقین کی رضامندی کے بغیر فریم ورک معاہدے کی کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آر یو نہ صرف ڈیڈ کا حصہ تھی بلکہ اسے فریم ورک کی تفصیلات بھی معلوم تھیں۔ حالانکہ شہزاد اکبر نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ معاہدہ صرف پراپرٹی ٹائیکون اور این سی اے کے درمیان ہوا ہے اور حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ شق 2.4 میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان کسی بھی شخص کو اس ڈیڈ، فریم ورک معاہدے کے بارے میں دیگر فریقین کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر، کوئی معلومات فراہم نہیں کرے گی۔

    شق نمبر 2.6 میں لکھا ہے کہ اگر کوئی فریق چاہے تو وہ فریم ورک یا معاہدے کے حوالے سے کسی طرح کی تصیح کرنا چاہے یا درست معلومات فراہم کرنا چاہے تو حکومت پاکستان اسے ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔ شق نمبر 2.3.4 حکومت پاکستان کو عدالتی حکم، ریگولیٹری باڈی، یا قانونی معاملات میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے معلومات افشاء کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اسے ایسا کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کو مطلع کرنے اور ان سے مشورہ کرنا ہوگا۔ معاہدہ رازداری کے علاوہ، عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کو بار بار بیرون ملک سفر کی اجازت دی ۔ مجموعی طور پر ٹائیکون کو 20؍ مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ 30 مارچ 2022 کو، عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے خان کی حکومت کا تختہ الٹنے سے چند دن پہلے، ٹائیکون کو بیرون ملک سفر کیلئے 8؍ ہفتوں کی اجازت دی گئی۔عمران حکومت کی ٹائیکون کیلئے مدد کی عکاسی شہزاد اکبر کے ٹائیکون کے ہمراہ برطانیہ کے دوروں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

    شہزاد اکبر نے اگست 2018ء سے دسمبر 2019ء کے درمیان 10 مرتبہ برطانیہ کا دورہ کیا، یہ وہ وقت تھا جب این سی اے ٹائیکون کے اثاثہ جات اور مالی معاملات کی تحقیقات کر رہا تھا۔ کئی مواقع پر شہزاد اکبر اور ٹائیکون ساتھ ساتھ برطانیہ میں تھے۔ یہ صورتحال حکومت کے ملوث ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔دی نیوز نے پی ڈی ایم حکومت کے دوران وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے رانا ثناء اللہ سے رابطہ کیا تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا شہباز شریف کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں اور تصدیق کی ضرورت ہے۔ دی نیوز نے شہزاد اکبر کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا تاکہ ان سے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے موقف لیا جا سکے، تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن بعد میں جواب دیا کہ آپ نے اتوار کو سوالات بھیجے ہیں، میں فیملی کے ساتھ باہر ہوں، کل پڑھ کر جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    سیالکوٹ: محسن مرے کالج شیخ بشارت اقبال کا تاریخی مولوی میر حسن ہال کی بحالی کا منصوبہ

  • عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو وقت دیا تھا کہ وہ جوڈیشل کمیشن بنائے لیکن انہوں نے ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی لہذا آج کے بعد کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج جیل میں مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،حکومت نے 7 روز میں کمیشن بنانا جو آج تک تھا ،حکومت کی جانب سے آج تک کمیشن نہیں بنایا گیا اس لئے بانی پی ٹی آئی نے مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،آج عمران خان سے میری، میڈیا کی ملاقات ہوئی، عمران خان نےد و ٹوک اعلان کر دیا، اب مذاکرات کا کوئی دور نہیں ہو گا، حکومت نے بھی تک کمیشن کا اعلان نہیں کیا،ہماری خواہش تھی کہ مذاکرات آگے چلیں لیکن برف پگھل نہیں رہی، جس پر افسوس ہے، آج سے ہمارے مذاکرات ختم،اگر کمیشن بننا ہے تو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے 3 ججز پر بنایا جائے، مستقبل کالائحہ عمل بھی عمران خان نے دے دیا ہم جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملائیں گے، ہمیں بیرون ملک مدد کی ضرورت نہیں، البتہ عمران خان کی رہائی کے لئے جو لوگ کوشش کر رہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، بہت جلد عمران خان باہر ہوں گے، ترجمانی کی لڑائی نہیں چل رہی،مسئلہ حل ہو جائے گا

    وزیراعلیٰ سندھ سے چین کی سرکاری انجنیئرنگ کارپوریشن کے وفد کی ملاقات

    کپل شرما ، ریمو ڈی سوزا سمیت 4 معروف فنکاروں کو قتل کی دھمکی

  • توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اوربشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ٹو میں بریت کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے توشہ خانہ کیس 2 کے ٹرائل پر حکمِ امتناع کی استدعا کی جس پر جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ کرمنل کارروائی کو اس موقع پر اسٹے کرنےکی کوئی عدالتی نظیر نہیں، ہم آپ کی درخواست پرنوٹس کرکے دوسرے فریق کوبھی سن لیتے ہیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب اس کیس سے متعلق 5 درخواستیں سن چکے ہیں، مناسب ہو گاکہ یہ عدالت بریت کی درخواستیں بھی اسی عدالت میں بھیج دے، جس پر جسٹس راجہ انعام نے درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمانت کی درخواستیں تھیں، یہ الگ معاملہ ہے، یہ عدالت کیس سُنے گی، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ دو درخواستوں کےآرڈر بھی ہیں، ٹرائل کورٹ کو سماعت روکنے کا حکم دیاجائے، اس پر جج نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد ہوچکی،گواہان کے بیانات ہورہے ہیں، ابھی ایسا کرنا درست نہیں ہوگا، اس میں نوٹس کرتے ہیں، لمبی تاریخ نہیں دیں گے، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس:عمران خان اوربشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈ کیس:عمران خان اوربشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے

    راولپنڈی: 190 ملین پاؤنڈ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے،دونوں ملزمان کی جانب سے وکالت نامے پر جیل کی کمرہ عدالت میں دستخط کیے گئے جبکہ جیل حکام نے وکالت نامے پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری کے حوالے کردیئے۔

    اپیل آئندہ ایک دو دن میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی جائے گی، 190 مین پاؤنڈ اپیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر سلمان اکرام راجہ اور خالد یوسف چوہدری وکلاء ہوں گے۔

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    واضح رہے کہ 17 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    ریکھا کا ایک مرتبہ پھر امیتابھ بچن سے اعترافِ محبت

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جب کہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

    ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب کی تصویر بناکر اسے نفرت کا مینار قرار دیدیا گیا

  • 32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    ، 26 نومبر 2022 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف 32 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں۔عدالت کے جج امجد علی شاہ رخصت پر ہونے کے سبب عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی۔ اس کیس میں مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی پر 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بشری بی بی کے خلاف حسن ابدال، حضرو، اٹک، ٹیکسلا اور راولپنڈی میں مقدمات درج ہیں۔بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنانے کے بعد اڈیالہ جیل سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

    بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

    تحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مصطفی کمال نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاونڈ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، آج وہی فیصلہ آیا جو آنا چاہیے تھا، مان لیں اگر بانی کرپٹ نہیں تو یہ ان کی بدنصیبی ہے۔انہوں نے کہا کہ بشری بی بی کی چوری کی وجہ سے آج بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، بانی نے پریس کانفرنس کی تھی اور صرف فرح گوگی کا دفاع کیا تھا۔رہنما ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ فرح گوگی نے بشری بی بی کے ساتھ مل کر توشہ خانہ کے تحائف بیچے، توشہ خانہ کے تحائف دبئی کے بزنس مین کو بیچے گئے۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا.

    عمرہ ویزےکی آڑمیں انسانی اسمگلنگ کا بڑا منصوبہ ناکام

    کراچی میں ٹریفک مسائل کے حل کیلئے اقدامات شروع

    پاک بحریہ کے سربراہ ، سیکرٹری دفاع سے بنگلہ دیشی جنرل کی ملاقاتیں

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں