Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،موبائل کمپنیز کے وکیل کی جانب سے دلائل دیئے گئے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے ہم کسی کو مجاز نہیں کرتے ، وکیل موبائل کمپنیز نے کہا کہ سسٹم بھی لگا ہوا ہے چابی بھی ان کے پاس ہے وفاقی حکومت کا اختیار ہے گورنمٹ اور ایجنسیز کو سسٹم تک رسائی ہے وہ سسٹم ان کے دائرہ اختیار میں ہے ، ہم سسٹم تک پی ٹی اے کو رسائی دے دیتے ہیں وہ جس ایجنسی کو چاہتی ہے وہ دے دیتے ہیں ، پی ٹی اے اس حوالے سے بہتر جواب دے سکتا ہے ، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کسی موبائل کو ٹریس کرنے کے لیے آپ کا کیا کردار ہوتا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ یہ معلومات میں حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کروں گا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ابھی تک مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ یہ سب کس قانون کے تحت ہو رہا ہے ؟ کسی ایجنسی کو اتھارٹی دی گئی آپ کو معلوم نہیں ، سسٹم جہاں لگا ہے آپ کی وہاں تک رسائی نہیں ہے ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت میں اپنی رپورٹ میں جو کہا تھا کہ رسائی نہیں دی گئی وہ اس آڈیو کال کی حد تک تھا ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ دوگل صاحب ایسی بات نا کریں اٹارنی جنرل نے یہاں آکر کہا ہے کہ کسی کو کوئی اجازت نہیں دی گئی ، آٹھ ماہ سے پوچھ رہا ہوں کس فریم ورک کے تحت آپ کام کر رہے ہیں ،آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس آڈیو کال کی بات کر رہے تھے ،چار سیکریٹریز نے بیان حلفی جمع کرائے ہیں ، اگر کسی نے عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ، کل کو عام بندہ آپ کے پاس آجائے تو آپ اس کو مجاز ایجنسی تو نہیں کہیں گے ، آپ کو پتہ تو ہونا چاہیے نا کہ مجاز ایجنسی کون سی ہے جس کو آپ رسائی دے رہے ہیں اگر کوئی تفتیشی افسر آپ سے معلومات مانگے تو آپ دے دیں گے ؟ آپ کی طرف سے معلومات کیسے شئیر ہوتی ہے اس حوالے سے عدالت سمجھنا چاہتی ہے ، پی ٹی اے وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کیسے لیگل انٹرسیپشن کی شقیں شامل کر سکتا ہے؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ قومی سلامتی یا کسی بھی جرم کے خدشے پر وفاقی حکومت فون ٹیپنگ کی اجازت دے سکتی ہے، فون ٹیپنگ کی اجازت دینا وفاقی حکومت کا اختیار ہے پی ٹی اے کا نہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے لیگل انٹرسیپشن کی کوئی اجازت نہیں دی، کیا وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر ٹیلی کام آپریٹرز کسی ایجنسی کو اجازت دے سکتے ہیں؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ اگر پی ٹی اے کے پاس ایسی کوئی شکایت آئے تو ریگولیٹر کے طور پر ایکشن لیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نیشنل سیکیورٹی کیلئے لیگل انٹرسیپشن کی اجازت دینے میں تو مسئلہ نہیں،آپ کا موقف ہے کہ پی ٹی اے نے لیگل انٹرسیپشن کیلئے کبھی خط و کتابت نہیں کی؟

    مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے،چیئرمین پی ٹی اے
    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ میں بات کر سکتا ہوں؟ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جی بالکل، آپکو انا کی تسکین کیلئے نہیں بلکہ عدالتی معاونت کیلئے طلب کیا ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی اے کسی ایجنسی کو کوئی سہولت فراہم کر رہی ہے؟ چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پی ٹی اے نے یہ شق ڈالنی ہوتی ہے اس پر عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں اس سے ہمارا تعلق نہیں، لیگل انٹرسیپشن کے علاوہ لائسنس کی تمام شقوں پر پی ٹی اے عملدرآمد کراتا ہے،میں گزشتہ ہفتے بارسلونا میں ٹیلی کام سے متعلق کانفرنس میں Keynote Speaker تھا،90 فیصد موبائلز میں وائرس ہوتا ہے، کیمرہ بھی آپریٹ کیا جا سکتا ہے،اسرائیل کی ایک کمپنی نے پیگاسس سافٹ ویئر بنایا جو موبائل کو متاثر کرتا ہے، یہ مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے جسٹس بابر ستار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فون میرے پاس چھوڑ کر واش روم جائیں تو اتنی دیر میں اپنا موبائل کنکٹ کر کے مکمل رسائی لی جا سکتی ہے، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے کہہ رہے ہیں کہ غیرقانونی انٹرسپشن ایک سمندر ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب غیرقانونی فون ٹیپنگ ہو رہی ہے؟

    ٹیلی کام آپریٹرز کے وکیل کو آئندہ سماعت تک تحریری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،چیئرمین پیمرا مرزا سلیم بیگ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،اور کہا کہ پیمرا اس متعلق ایڈوائزری جاری کر سکتا ہے، آڈیولیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت آئیندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ  نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کا محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی،وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش، روسٹرم پر آگئے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ نے کیا چیلنج کیا ہے،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا ،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئیے ہفتے میں دو دن مقرر کیے،تین کیٹگریز کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت تھی،تین مختلف اپیلیں دائر ہوئی اور سب پر فیصلے ہوئے،عدالتی فیصلے لیکر سب کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت تھی،بانی پی ٹی آئی سے جیل میں سیاسی معاملے پر مشاورت ہوتی ہے،سنگل بینچ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے واضح احکامات جاری کیے ،سنگل بینچ نے جیل ملاقات سے متعلق ایک فیصلہ جاری کیا ،

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ سنگل بینچ نے آرڈر جاری کردیا ہے ،وکیل شیر افضل مروت نے کہاکہ جی بالکل آرڈر جاری کیا اور اس میں واضح طور پر ملاقات کی اجازت دی گئی ،سینٹ کا ضمنی الیکشن کل ہے اور ہم نے مشاورت کرنا تھی ،ہمیں ملاقات پر پابندی لگا کر کہا گیا آپ نہیں مل سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر ہی پابندی لگی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نہیں پوری اڈیالہ جیل میں ملاقات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کوئی قیدی کسی سے کسی قسم کی ملاقات یا مشاورت نہیں کرسکتا ،وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ، سینیٹ انتخابات آرہے ہیں،جس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے،

    وکیل شیر افضل مروت سینٹ انتخابات کی تاریخ ہی بھول گئے،کہا کل انتخابات ہیں اس حوالے سے ان سے مشاورت کرنی تھی،قانون اجازت دیتا ہے کہ قیدی وکلا سے مشاورت کرے،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی اڈیالہ جیل میں کونسا جیل ٹرائل چل رہا ہے،وکیل نے کہا کہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس زیر سماعت ہے ، عدالت نے کہا کہ آج اسکی سماعت تھی کیا ، کون سی عدالت ہے، وکیل نے کہا کہ آج نیب کیس کی سماعت تھی احتساب عدالت کے جج نے سماعت کی ، ہمارے دو وکیل آج گئے لیکن انھیں خان صاحب سے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی ،عدالت نے کہا کہ ویسے اب تو ضمنی الیکشن کی نامزدگی ہوگی،باقی جو نشستیں ہیں انکی پولنگ تو اپریل میں ہوگی ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سینٹ الیکشن بے شک اپریل میں ہو مشاورت تو ابھی کرنی ہے ہم نے،دوسری جانب بشری بی بی کو بنی گالا سب جیل میں رکھا گیا ہے،ہم نے اس آرڈر کو بھی چیلنج کر رکھا ہے،عدالت نے کہا کہ سب جیل کا آرڈر کہاں چیلنج کیا گیا ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ بشری بی بی کو سب جیل رکھنے والا آرڈر اسی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ، بانی پی ٹی آئی کو سیریس تھریٹ ہیں ، اب ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ،آرٹیکل ٹین اس سے متعلق واضح ہے، ہمارا قانونی حق ہے ، پنجاب حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن خلاف قانون ہے ، کلعدم قرار دیا جائے،آپ اگر کل جیل سپرٹنڈنٹ کو بلا لیں تو بہتر رہے گا ، عدالت نے کہا کہ ہم اپنے طریقے سے کام کرینگے ، آپ نے فریق کس کو بنایا ہے ،ویل نے کہ کہ ہم نے جیل سپرٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے، عدالت نے کہا کہ وہ کل اگر کہیں ہم نے تو آرڈر نہیں کیا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا ہے، وکیل نے کہا کہ آپ آرڈر کردیں جیل سپرنٹینڈنٹ کے پاس اختیارات ہوتے ہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا،کل گیارہ بجے سماعت ہوگی ،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • عمران خان، بشریٰ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی ،حاضری نہ ہو سکی

    عمران خان، بشریٰ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی ،حاضری نہ ہو سکی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے ، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالتی عملہ حاضری کیلئے گیا ہوا ہے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا ،پراسیکوٹر نےعدالتی عملے کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری پر اعتراض عائد کیا اور کہا کہ سکیورٹی ایشوز کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا جاسکتا ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہی سکیورٹی ایشوز کو پہلے پراسیکیوشن مانتی نہیں تھی ،پراسیکیوشن شوگر کوٹڈ باتوں کو اب چھوڑ دے ،بانی پی ٹی آئی جب تک گرفتار نہیں ہوئے تھے عدالتوں میں خود پیش ہوتے رہے ،اب بانی پی ٹی آئی کو عدالت کے سامنے پیش کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے بھی ویڈیو لنک پر حاضری کا کہا تھا ، اب ہمیں دوبارہ ہائیکورٹ جانے پر مجبور کیا جارہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ گئے تو وہ بھی حیران ہونگے کہ اب تک ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کیوں نہیں ہوا ،عدالتی عملے کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری میں کوئی دقت نہیں ،سپرینڈینٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس بنتا ہے ،جیل کا انٹرنیٹ ٹھیک ہونے میں ہی نہیں آرہا کہ ویڈیو لنک پر حاضری ہو سکے

    جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ہائیکورٹ ہم سے بھی پوچھ سکتی کہ اب تک ضمانت کے کیسوں کا کیا کیا ہے ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سارا بوجھ اس وقت پراسیکیوشن کے کندھوں پر ہے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ شہباز گل عدالت نہیں آسکتے تھے تو عدالتی عملے نے ایمبولینس میں جاکر حاضری لگائی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کو جیل سپرنٹینڈنٹ کا نمبر بھی دینے کو تیار ہیں ،پراسیکوشن بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو لٹکانے کی کوشش کر رہی ہے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالت کیلئے مسائل پیدا نہ کریں جیل سپرنٹینڈنٹ سے رابطہ کرکے بتائیں ،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ ایک گھنٹے کا وقت دیتے ہیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری سے متعلق آگاہ کریں ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا گیا،

    عمران خان کا حاضری شیٹ پر دستخط کرنے سے انکار
    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی درخواست ضمانتوں پر وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی ،عدالتی عملے نے بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں حاضری سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عمران خان نے حاضری شیٹ پر دستخط کرنے سے انکار کیا،بانی پی ٹی آئی نے عدالت پیش کیے جانے یا ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری پر اصرار کیا ، عدالت نے پہلے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کا آڈر کیا اس کے بعد جیل سپرنٹینڈنٹ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا، جیل حکام نے جواب دیا کہ ویڈیو لنک سسٹم کام نہیں کر رہا ،عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ جیل حکام ویڈیو لنک سسٹم ٹھیک کروا کر بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگوائیں ،اگر ویڈیو لنک ٹھیک نہیں ہوسکتا تو حاضری کا متبادل انتظام کیا جائےجیل سپرنٹینڈنٹ بانی پی ٹی آئی کی حاضری کا انتظام نہیں کرتے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • دوران عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کو وکیل نہ ملا،بشریٰ کی اپیل پر دلائل طلب

    دوران عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کو وکیل نہ ملا،بشریٰ کی اپیل پر دلائل طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کیس کی سماعت ہوئی،سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں خاور مانیکا پیش ہوئے،خاور مانیکا نے عدالت سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کردی، خاور مانیکا نے عدالت میں کہاکہ مجھے نوٹسز تاخیر سے موصول ہوئے ہیں، مجھے وکیل کرنا ہے ، کچھ وقت دیا جائے،سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کہاکہ آپ کو ساڑھے 12بجے تک وقت دے دیتے ہیں،آپ اپنے وکیل کا وکالت نامہ جمع کروا دیں،سیشن عدالت نے خاور مانیکا کو وکیل نامزد کیلئے ساڑھے 12بجے تک کا وقت دے دیا.

    دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں،دوبارہ سماعت ہوئی،خاورمانیکا عدالت کے روبرو پیش، خاور مانیکا کی جانب کوئی وکیل پیش نہ ہوا،خاور مانیکا کا کہنا تھا کہ وقت کم تھا کوئی وکیل نہیں ملا، پراسیکیوٹر حسن رانا عدالت پیش ہوئے، پی ٹی آئی وکلاء عثمان ریاض گل ، شیراز رانجھا اور خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے،بشری بی بی کی جانب سے سزا معطلی کیلئے متفرق درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل قابل سماعت قرار دی،عدالت اپیل پر فیصلہ تک بشری بی بی کی سزا معطل کرے،عدالت اپیل پر فیصلہ تک بشری بی بی کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے،عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی،عدالت نے آئندہ سماعت پر متفرق درخواست اور سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل طلب کر لیے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، آڈیو لیکس کیس،نجم الثاقب اور بشری بی بی کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےسماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،پی ٹی اے کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ کیس غیرموثر ہو چکا، نمٹا دیا جائے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں،چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسیلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اوریجنل تھی ، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے فیس بک یوٹیوب ہماری ایجنسیز کے دائرے اختیار سے باہر ہیں ، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ،یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں، وکیل ٹیلی کام کمپنیر نے کہا کہ پالیسی ، ایکٹ ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر،آڈیو لیکس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں،ڈی جی آئی بی
    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ امریکہ، یوکے اور جرمنی میں بھی آڈیولیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے، ہم کسی پر ذمے داری فکس نہیں کر سکتے جب تک تحقیقات نہ ہوں، آڈیو ٹیپ کرنے کی کنفرمیشن یا تردید نہیں کر رہے، اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، اس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں۔وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی؟ جسٹس بابر ستار
    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے، یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر چلاتے رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ مستقبل میں اسے کیسے روکا جا سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم سب کی پرائیویسی خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کلائنٹ سے بات کر رہا ہوں اور اسے کوئی اور بھی سن رہا ہو،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ کیا کوئی فریم ورک ہے؟ کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آٹھ فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب آٹھ فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، آٹھ فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے.عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • بشریٰ،عمران سزا ،شادی لاہور میں ہوئی تو اسلام آباد میں کیس کیسے  کردیاگیا؟وکیل صفائی

    بشریٰ،عمران سزا ،شادی لاہور میں ہوئی تو اسلام آباد میں کیس کیسے کردیاگیا؟وکیل صفائی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،دوران عدت نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نےکیس کی سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ و دیکر وکلاء عدالت پیش ہوئے،پراسیکیوٹر حسن رانا عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وکیل صفائی سلمان اکرم نے عدالت میں کہا کہ آج عدت میں نکاح کیس کے فیصلے کے مطابق ابتدائی دلائل طلب کر رکھے ہیں، پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 496 کے تحت عدت کا کیس چلایا گیا، سیکشن 496 بی بھی لگایا گیا تھا جو بعد میں حزف کردیا گیا، الزام لگایاگیا خاورمانیکا نے نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق دی،48 دنوں بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا نکاح ہوا،الزام ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے عدت کے دوران ہوا،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر سیکشن 496 کے تحت فردجرم عائد کی گئی، سیکشن 496 کے مطابق فراڈ شادی ہے جس میں سات سال قید ہے،شادی کی تقریب یکم جنوری 2018 کو لاہور میں ہوئی،شادی لاہور میں ہوئی تو اسلام آباد میں کیس کیسے دائر کردیاگیا؟کیس کے دائرہ اختیار پر درخواست دائر کی لیکن اب تک سماعت نہ ہوئی،

    وکیل صفائی سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان کا نکاح تقریباً 70 روز بعد ہوا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر خاتون نے عدت مکمل ہونے کا بیان دے دیا تو مانا جائےگا، شریعت کے قوانین کے مطابق ایسے ذاتی معاملات کو ہمیشہ ذاتی رکھنا چاہیے۔ بشریٰ بی بی نے عدت مکمل کرنے کے بعد اپنی والدہ کے گھر جانے کا بتایا تھا، خود خاورمانیکا نے میڈیا پر بشریٰ بی بی کے دینی خاتون ہونے کا اعتراف کیا، لیکن تقریباً 6 سال بعد خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف شکایت دائر کی۔ دوران عدت نکاح جیسے کیسز کو سیاسی انتقام لینے کے لیے عدالت کا کندھا استعمال کیاگیا، بولے؛ ہم بہت گر گئے ہیں، کسی شخص کے بیڈروم تک پہنچ گئے ہیں، معاشرے میں شائستگی قائم رہنی چاہیے، ایسے کیسز نہیں دائر ہونا چاہیے، اس کے اثرات بیرون ملک تک جاتے ہیں۔

    عدالت نے دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دوران عدت نکاح کیس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے، عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

  • جعلی رسیدیں کیس، عمران خان ،بشریٰ کی آن لائن حاضری کا حکم

    جعلی رسیدیں کیس، عمران خان ،بشریٰ کی آن لائن حاضری کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے آئندہ سماعت پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی آن لائن حاضری لگانے کا حکم دے دیا۔

    عمران خان کے خلاف چھ کیسز اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی رسیدوں کے کیس میں ضمانتوں کی درخواستوں پر جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی،عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی آن لائن حاضری لگی نہ ہی بشریٰ بی بی کو پیش کیا گیا،وکیل صفائی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی حاضری کا آرڈر کیا گیا تھا،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہمیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدالت پروڈکشن سے متعلق معلوم نہیں،

    جج نے سوال کیا کہ کیا جعلی رسیدوں کے کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہو چکے؟تفتیشی افسر تھانہ کوہسار نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی مقدمے میں شاملِ تفتیش ہو چکے ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر صبح ساڑھے 8 بجے درخواست ضمانت پر دلائل دیں گے،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی،بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل میں عدالت میں پیش کیا گیا، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کی

    عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان صفدر، عمیر نیازی اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے،سماعت کے موقع پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت نے دونوں ملزمان کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا

    دوران سماعت جج نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ پر فریم چارج کیا جارہا ہے آپ بتائیں گلٹی ہیں کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے چارج شیٹ پڑھ کر کیا کرنا ہے مجھے معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا،ملزمان کے وکلاء نے چالان کی نقول دوبارہ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ ملزمان کے وکلاء سلمان صفدر، ظہیر عباس چودھری اور عثمان گل نے عدالت سے سات دن کا وقت مانگا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں مزید وقت نہیں دے سکتے

    آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،عمران خان
    کیس کی سماعت جاری تھی کہ عمران خان روسٹرم پر آئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے، آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،جج نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ پہلے بتائیں آپ کے دانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا جیل انتظامیہ نے کہا تھا اتوار کو ڈاکٹر آئے گا۔ اب جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے اگلے اتوار کو ڈاکٹر آئے گا،عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کیلئے جنرل فزیشن اور ڈینٹسٹ کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 6 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کے 58 گواہان میں سے 5 گواہان کو شہادتیں ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل میں عجیب و غریب باتیں ہوئی ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ جب آپ دلائل دیں تو اس وقت یہ چیزیں پوائنٹ آؤٹ کیجئے گا،عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر بھی نیب کو نوٹس جاری کر دیا،عمران خان کے دونوں کیسز میں سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی جمعرات کے لیے نوٹس کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • عمران خان،شاہ محمودقریشی،بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان،شاہ محمودقریشی،بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سائفر اور توشہ خانہ کیسز میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی دونوں اپیلوں پر خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار ہائیکورٹ نے پیر کو دونوں کیسز سے متعلق اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے ،سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی اپیلیں بھی پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں،علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کی اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔عمران خان ، شاہ محمود قریشی اوربشریٰ بی بی کی اپیلوں پرخصوصی بنچ سماعت کرے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ