Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، آڈیو لیکس کیس،نجم الثاقب اور بشری بی بی کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےسماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،پی ٹی اے کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ کیس غیرموثر ہو چکا، نمٹا دیا جائے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں،چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسیلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اوریجنل تھی ، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے فیس بک یوٹیوب ہماری ایجنسیز کے دائرے اختیار سے باہر ہیں ، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ،یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں، وکیل ٹیلی کام کمپنیر نے کہا کہ پالیسی ، ایکٹ ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر،آڈیو لیکس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں،ڈی جی آئی بی
    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ امریکہ، یوکے اور جرمنی میں بھی آڈیولیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے، ہم کسی پر ذمے داری فکس نہیں کر سکتے جب تک تحقیقات نہ ہوں، آڈیو ٹیپ کرنے کی کنفرمیشن یا تردید نہیں کر رہے، اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، اس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں۔وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی؟ جسٹس بابر ستار
    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے، یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر چلاتے رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ مستقبل میں اسے کیسے روکا جا سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم سب کی پرائیویسی خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کلائنٹ سے بات کر رہا ہوں اور اسے کوئی اور بھی سن رہا ہو،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ کیا کوئی فریم ورک ہے؟ کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آٹھ فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب آٹھ فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، آٹھ فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے.عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • بشریٰ،عمران سزا ،شادی لاہور میں ہوئی تو اسلام آباد میں کیس کیسے  کردیاگیا؟وکیل صفائی

    بشریٰ،عمران سزا ،شادی لاہور میں ہوئی تو اسلام آباد میں کیس کیسے کردیاگیا؟وکیل صفائی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،دوران عدت نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نےکیس کی سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ و دیکر وکلاء عدالت پیش ہوئے،پراسیکیوٹر حسن رانا عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وکیل صفائی سلمان اکرم نے عدالت میں کہا کہ آج عدت میں نکاح کیس کے فیصلے کے مطابق ابتدائی دلائل طلب کر رکھے ہیں، پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 496 کے تحت عدت کا کیس چلایا گیا، سیکشن 496 بی بھی لگایا گیا تھا جو بعد میں حزف کردیا گیا، الزام لگایاگیا خاورمانیکا نے نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق دی،48 دنوں بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا نکاح ہوا،الزام ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے عدت کے دوران ہوا،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر سیکشن 496 کے تحت فردجرم عائد کی گئی، سیکشن 496 کے مطابق فراڈ شادی ہے جس میں سات سال قید ہے،شادی کی تقریب یکم جنوری 2018 کو لاہور میں ہوئی،شادی لاہور میں ہوئی تو اسلام آباد میں کیس کیسے دائر کردیاگیا؟کیس کے دائرہ اختیار پر درخواست دائر کی لیکن اب تک سماعت نہ ہوئی،

    وکیل صفائی سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان کا نکاح تقریباً 70 روز بعد ہوا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر خاتون نے عدت مکمل ہونے کا بیان دے دیا تو مانا جائےگا، شریعت کے قوانین کے مطابق ایسے ذاتی معاملات کو ہمیشہ ذاتی رکھنا چاہیے۔ بشریٰ بی بی نے عدت مکمل کرنے کے بعد اپنی والدہ کے گھر جانے کا بتایا تھا، خود خاورمانیکا نے میڈیا پر بشریٰ بی بی کے دینی خاتون ہونے کا اعتراف کیا، لیکن تقریباً 6 سال بعد خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف شکایت دائر کی۔ دوران عدت نکاح جیسے کیسز کو سیاسی انتقام لینے کے لیے عدالت کا کندھا استعمال کیاگیا، بولے؛ ہم بہت گر گئے ہیں، کسی شخص کے بیڈروم تک پہنچ گئے ہیں، معاشرے میں شائستگی قائم رہنی چاہیے، ایسے کیسز نہیں دائر ہونا چاہیے، اس کے اثرات بیرون ملک تک جاتے ہیں۔

    عدالت نے دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دوران عدت نکاح کیس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے، عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

  • جعلی رسیدیں کیس، عمران خان ،بشریٰ کی آن لائن حاضری کا حکم

    جعلی رسیدیں کیس، عمران خان ،بشریٰ کی آن لائن حاضری کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے آئندہ سماعت پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی آن لائن حاضری لگانے کا حکم دے دیا۔

    عمران خان کے خلاف چھ کیسز اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی رسیدوں کے کیس میں ضمانتوں کی درخواستوں پر جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی،عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی آن لائن حاضری لگی نہ ہی بشریٰ بی بی کو پیش کیا گیا،وکیل صفائی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی حاضری کا آرڈر کیا گیا تھا،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہمیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدالت پروڈکشن سے متعلق معلوم نہیں،

    جج نے سوال کیا کہ کیا جعلی رسیدوں کے کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہو چکے؟تفتیشی افسر تھانہ کوہسار نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی مقدمے میں شاملِ تفتیش ہو چکے ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر صبح ساڑھے 8 بجے درخواست ضمانت پر دلائل دیں گے،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی،بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل میں عدالت میں پیش کیا گیا، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کی

    عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان صفدر، عمیر نیازی اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے،سماعت کے موقع پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت نے دونوں ملزمان کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا

    دوران سماعت جج نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ پر فریم چارج کیا جارہا ہے آپ بتائیں گلٹی ہیں کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے چارج شیٹ پڑھ کر کیا کرنا ہے مجھے معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا،ملزمان کے وکلاء نے چالان کی نقول دوبارہ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ ملزمان کے وکلاء سلمان صفدر، ظہیر عباس چودھری اور عثمان گل نے عدالت سے سات دن کا وقت مانگا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں مزید وقت نہیں دے سکتے

    آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،عمران خان
    کیس کی سماعت جاری تھی کہ عمران خان روسٹرم پر آئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے، آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،جج نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ پہلے بتائیں آپ کے دانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا جیل انتظامیہ نے کہا تھا اتوار کو ڈاکٹر آئے گا۔ اب جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے اگلے اتوار کو ڈاکٹر آئے گا،عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کیلئے جنرل فزیشن اور ڈینٹسٹ کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 6 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کے 58 گواہان میں سے 5 گواہان کو شہادتیں ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل میں عجیب و غریب باتیں ہوئی ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ جب آپ دلائل دیں تو اس وقت یہ چیزیں پوائنٹ آؤٹ کیجئے گا،عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر بھی نیب کو نوٹس جاری کر دیا،عمران خان کے دونوں کیسز میں سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی جمعرات کے لیے نوٹس کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • عمران خان،شاہ محمودقریشی،بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان،شاہ محمودقریشی،بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سائفر اور توشہ خانہ کیسز میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی دونوں اپیلوں پر خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار ہائیکورٹ نے پیر کو دونوں کیسز سے متعلق اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے ،سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی اپیلیں بھی پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں،علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کی اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔عمران خان ، شاہ محمود قریشی اوربشریٰ بی بی کی اپیلوں پرخصوصی بنچ سماعت کرے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • عمران خان و بشریٰ جلد جیل سے باہر ہوں گے، فیصل جاوید

    عمران خان و بشریٰ جلد جیل سے باہر ہوں گے، فیصل جاوید

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید نے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ جلد رہا ہوں گے، عمران خان میانوالی سے الیکشن لڑ کر وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے۔

    اسلام آباد میں عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ دعا ہے جتنے بے گناہ لوگ ہیں وہ اپنوں کے پاس جائیں، پی ٹی آئی کے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا، قانون نام کی چیز ہونی چاہیے،عمران خان کے سارے کیسز بوگس ہیں وہ جلد باہر آئیں گے، مراد سعید سے کوئی رابطہ نہیں ہے اللّٰہ تعالی انہیں امان میں رکھے، عدالتوں کے سامنے ہمارے لوگ پیش ہوتے ہیں عدل و انصاف ہونا چاہیے، یہ الیکشن فارم 45 اور فارم 47 کے درمیان تھا ٹوٹل کرتے ہوئے غلط نمبرز لکھے گئے،ہ ہمارے ایک ایک امیدوار کے پاس فارم 45 موجود ہے، 180 سیٹیں بانی پی ٹی آئی نے جیتی ہوئی ہیں، جس کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اس کو حکومت بنانی چاہیے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ،کمشنر کا سافٹ ویئر تشدد کےبعداپڈیٹ ہوا،عمران خان

    آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ،کمشنر کا سافٹ ویئر تشدد کےبعداپڈیٹ ہوا،عمران خان

    عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے، آج خط چلا گیا ہو گا

    راولپنڈی اڈیالہ جیل میں کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حالات میں ملک کو قرضہ ملا تو قرضے کو واپس کون کرے گا، اس قرض سے غربت بڑھے گی،جب تک سرمایہ کاری نہ ہو قرض بڑھتا جائے گا، سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام لایا جائے، پہلے نواز شریف کی سلیکشن کے لیے اداروں کو تباہ کیا گیا عدالتیں اور نیب سب کچھ تباہ کیا تاکہ نواز شریف کو سلیکٹ کرسکیں، نواز شریف کے لیے مجھے زیرو کیا گیا اور پھر انتخابات میں دھاندلی کرائی گئی، اب کمشنر راولپنڈی کے انکشافات سامنے آئے ہیں، کمشنر کو اٹھایا گیا اور تشدد کیا گیا، اب سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہے

    تحریک انصاف کا کوئی بھی قدم نہ پاکستان اور نہ عوام کےخلاف ہوگا،بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایسا کوئی کام نہیں کرے گی جس سے ملک کی معیشت کا نقصان ہو، تحریک انصاف کا کوئی قدم جمہوریت کے خلاف نہیں ہوگا، کہا تھا شفاف الیکشن نہیں کرائیں گے تو معیشت کو نقصان ہوگا، یہ خود جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،نگراں حکومت صاف شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہی، الیکشن کمیشن فارم 45 کے تحت نتائج جاری کرنے میں ناکام رہا۔مطالبہ کیا تھا لیاقت علی چٹھہ اور ان کی فیملی کو تحفظ فراہم کیا جائے، کل سابق کمشنر کا بیان جاری ہوا، عوام اب حقیقت جان چکے ہیں، جو فارم 47 جاری ہوئے وہ جعلی ہیں، ہم پارلیمان کا حصہ بنیں گے، ہر حال میں پاکستان میں قانون کی بالادستی اور رول آف لاء چاہتے ہیں، ہم جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسی آزادی کے لیے بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، تحریک انصاف کا کوئی بھی قدم نہ پاکستان اور نہ عوام کےخلاف ہوگا

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ عمران خان ایم ایف کو خط لکھیں گے ابھی لکھا نہیں ہے،عمران خان نے کہا ہے آئی ایم ایف کا پروگرام جاری رہنا چاہیے، پاکستان کی اکانومی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں معاشی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، جمہوریت کیلئے جس جس فورم پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے وہ اٹھائیں گے۔بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ خط لکھنے کا شاید انہوں نے کہا ہے یہ ابھی بتائیں گے آپ کو،

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    دوران عدت نکاح کیس، سزا کیخلاف عمران ،بشریٰ بی بی کی اپیل دائر

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مطالبہ نظر انداز کر دیا،پی ٹی آئی کا قرض معاہدے سے قبل الیکشن آڈٹ کا مطالبہ،ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے،جولی کوزیک نےپاکستانی سیاست پر تبصرے سے انکار کر دیا اور کہا کہ 11 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے ریویو کی منظوری دی،

  • اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات کی درخواست عدالت نے منظور کر لی

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء نے ریفرنس کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی جبکہ عمران خان کے دانتوں کا طبی معائنہ کرانے کی درخواست بھی دائر کی گئی، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں فردجرم کی کارروائی کے لیے 27 فروری کی تاریخ مقرر کر تے ہوئےسماعت ملتوی کردی

    سماعت کے دوران عمران خان نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میں نے ڈینٹسٹ کو چیک اپ کروانا ہے،احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ جیل میں ڈاکٹرز موجود ہیں، آپ چیک اپ کروالیں،عمران خان نے کہا کہ سات ماہ ہو گئے، ایک بار بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا، جیل کا ڈاکٹر میرے دانت ہی نہ نکال دے، 70 سال کی عمر میں دانت کا چیک اپ کروانا ہے،جج نے کہا کہ درخواست دے دیں اس پر مناسب حکم سناتے ہیں۔

    واضح رہے کہ تین مقدمات میں عمران خان کو سزا سنائی جا چکی ہے، دو مقدمات میں بشریٰ بی بی کو بھی سزا سنائی جا چکی ہے، عمران خان اڈیالہ تو بشریٰ بنی گالہ میں قید ہیں،

  • دوران عدت نکاح کیس، سزا کیخلاف عمران ،بشریٰ بی بی کی اپیل دائر

    دوران عدت نکاح کیس، سزا کیخلاف عمران ،بشریٰ بی بی کی اپیل دائر

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دوران عدت نکاح کیس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی