Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    اسلام آباد: مشعال یوسف زئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو۔

    باغی ٹی وی : بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسف زئی اور مریم ریاض وٹو نے برطانوی اخبار گارجئین کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پارٹی رہنما، بانی کی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے جس کے سبب بشریٰ بی بی کو عملی میدان میں آگے لایا گیا، فائنل کال کے احتجاج والے دن بھی بشریٰ بی بی نے صرف بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اور ان کے مفاد کیلئے کام کیا،عمران خان کو اپنی پارٹی کے “کمپرومائز” لیڈرز سے زیادہ بشریٰ بی بی پر اعتماد ہے۔

    مشعال یوسف زئی نے کہاکہ سابق وزیر اعظم 500 سے زائد دنوں سے جیل میں ہیں، انہیں 100 سے زائد الزامات کا سامنا ہےبانی پی ٹی آئی، پارٹی قیادت کی طرف سے اپنی ہدایات عوام تک نہ پہنچانے اور ان کے جوڑ توڑ سے سخت مایوس ہیں، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے کہا ہے کہ وہ اب ان کا پیغام براہ راست پہنچائیں، بشریٰ بی بی کو سیاست کا تجربہ نہ ہونے کے سبب انہیں قطعی ہدایات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو بشریٰ بی بی کے سیاسی عزائم نہیں، وہ پرسکون روحانی شخصیت ہیں، وہ صرف بانی اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کررہی ہیں۔

    بشریٰ بی بی بہن مریم ریاض وٹو نے الزام عائد کیاکہ بانی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، لگتا ہے کہ اپنے فائدے کیلئے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، بشریٰ بی بی پر احتجاج کے دوران اسلام آباد کے مرکز جانے سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

    برطانوی اخبار کے مطابق مریم ریاض وٹو نے ہی 2015 میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا تعارف کرایا تھا، بانی کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر سیاسی اور پر اسرار روحانی شخصیت سمجھا جاتا ہے،پی ٹی آئی میں ایک عنصر بشریٰ بی بی کو پسند نہیں کرتا اور ان کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔

  • ڈی چوک احتجاج، عمران ، بشری کے وارنٹ جاری

    ڈی چوک احتجاج، عمران ، بشری کے وارنٹ جاری

    اسلام آباد: عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پربانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے –

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہرعباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے،بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کے علاوہ دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے گئے،کوہسار پولیس نے مقدمے میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت شعیب شاہین، علی بخاری عامر مغل شیرافضل مروت، خالد خورشید اور فیصل جاوید کےبھی وارنٹ جاری کئے،انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے مشتاق اللہ، راشد ٹیپو، ذلفی بخاری، سلمان اکرم راجہ، مراد سعید اور رؤف حسن کے بھی وار نٹ جاری کیے گئے ہیں،عدالت نے ایم این اے عبدالطیف، فاتح الملک، علی ناصر اور صوبائی وزیر ریاض خان کے بھی وارنٹ جاری کیے،عدالت نے علی زمان، پیر مصور، میاں خلیق الرحمان، سہیل آفریدی، شہرام ترکئی کے بھی وارنٹ جاری کیے۔

    پاکستان اور سعودی عرب ، 56 کروڑ ڈالر کےمعاہدے حتمی مراحل میں داخل

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ڈی چوک سے گرفتار 281 ملزمان کو 14 روز کے لیے شناخت پریڈ پر سینٹرل جیل اڈیالہ جبکہ دو خواتین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    دو خواتین سمیت 283 ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کے روبرو پیش کیا گیا ملزمان کے وکیل انصر کیانی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    پولیس نے تمام ملزمان کے شناخت پریڈ کی استدعا کی جبکہ ملزمان کے وکیل انصر کیانی نے شناخت پریڈ کی مخالفت کی، وکیل انصر کیانی نے دلائل میں کہا کہ ملزمان کو چھ دنوں سے پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، شناخت پریڈ کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ بھی موجود ہے۔

    جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    واضح رہے کہ ملزمان کی تھانہ کوہسار کے دو مقدمات، تھانہ کراچی کمپنی، مارگلہ، سیکریٹریٹ اور ترنول میں گرفتاری ڈالی گئی تھی، گرفتار ملزمان کو 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ڈی چوک سے گرفتار کیا گیا تھا۔

  • عمران  ‏خان کی زندگی کو  بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اور موجودہ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور اور اُن کے حواریوں سے خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ میں آج بھی اپنی بات پر کھڑا ہوں کہ ‏خان کی زندگی کو بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے عمران خان کی جان کو خطرے کا پہلا ثبوت مفرور بھگوڑے قاسم سوری کا ٹویٹ ہے جس میں اُس نے خان کے ذہنی توازن کھو بیٹھنے یعنی خان کو پاگل قرار دینے کا بیانیہ بنانے کی شروعات کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب قوم سمجھ رہی ہے کہ یہ سب مل کر کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟ لیکن ہمیں خان کی زندگی عزیز ہے اور ہمیں بانی پی ٹی آئی کو ان لوگوں سے بچانا ہے، دوسری جانب علیمہ خان نے قاسم سوری کے اس گھٹیا ٹویٹ کی تردید کی ہے۔

    فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ گنڈاپور کا جیمز بانڈ کی طرح فرار ہونا ڈرامے بازی ہے بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کیا جانا ممکن ہے، بانی کی جان بچانی ہے تو بی بی سے جان چھڑانا ہوگی،جب تک بی بی کی رسائی نہیں ہے خان محفوظ ہے یہ کھلاڑی بڑے عقلمند لوگ ہیں، خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں لگ رہا، پی ٹی آئی اب کئی ماہ تک احتجاج نہیں کرے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو کوئی ایسی چیز دی گئی ہے، جس سے ان کا ذہنی توازن بگڑنے کا خطرہ ہے اور ان کی جان کو بھی ’شدید خطرات‘ لا حق ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں قاسم خان سوری نے لکھا کہ قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ ’عمران خان کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کرکے کسی زہریلی چیز کا سپرے کیا گیا ہے، جس کی بو ان کے ذہن پر اثر کر رہی ہے، عمران خان کی طبیعت خراب ہے اور جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف کی نگرانی میں عمران خان کا شفاف طبی معائنہ کرواکر ان کی صحت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

  • تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ترقی کا سفر جاری ہے ،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں پی آئی اے برباد ہوئی ، پی ٹی آئی دور حکومت میں پی ٹی آئی کیخلاف باتیں کی گئیں ، حکومت منزلیں عبور کرکے معیشت کو بحال کررہی ہے ،تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ، دنیا کی تاریخ میں اس طرح بھاگنے کی مثال نہیں ملے گی ،ہم نے کہا تھا ڈی چوک پر نہیں آنے دیں گے ،بشریٰ بی بی علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہوئیں ، علی امین گنڈا پور نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ، یہ یہاڑوں کو عبور کرکے فرار ہوئے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا 278 لوگ مارے گئے ،پی ٹی آئی کا ہر رہنما ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف نمبرز بتا رہا ہے ،آج تک کسی جنازے کی ویڈیو سامنے نہیں آئی، کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو خونریزی ہوئی ،ہم نے ڈی چوک کے متبادل جگہ فراہم کرنے کی آفر لی جسے بانی پی ٹی آئی نے تسلیم کیا، لیکن ہجوم دیکھ کر بشریٰ بی بی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئیں، انہوں نے کہا ہم ڈی چوک ہی جائیں گے،

  • بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے بشریٰ بی بی کی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت پر ردعمل دیتے ہوئے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست میں کردار ادا کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ روبینہ خان کے مطابق، بشریٰ بی بی کا سیاسی عمل میں شامل ہونا اور فیصلوں میں حصہ لینا پچھلے کچھ سالوں سے جاری ہے، اور اس کا آغاز پنجاب میں سسٹم چلانے کے عمل سے ہو چکا تھا، جہاں بشریٰ بی بی نے عثمان بزدار اور فرح گوگی کے ذریعے سیاسی معاملات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    روبینہ خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست میں بڑھتا ہوا کردار کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، بلکہ مشال یوسفزئی کو بشریٰ بی بی کی "نئی فرح گوگی” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ جیل میں قید ہونے کے باوجود بشریٰ بی بی نے مشال یوسفزئی کے ذریعے سیاست میں مداخلت کرنا جاری رکھا، اور اس کے ذریعے نہ صرف فیصلے کیے بلکہ حکومتی عہدوں پر تقرریاں بھی کیں۔ بشریٰ بی بی علی امین گنڈاپور کے ساتھ سیاسی اعلانات اور خطابات کرتی رہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں صرف ایک محض عہدے کی حد تک محدود نہیں رہیں، بلکہ وہ اہم فیصلوں میں شریک رہی ہیں۔

    پرانے پاکستان کی گندگی سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔ روبینہ خان
    عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا سیاست میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف اپنے بھائی کو سیاست میں ہونے والے نقصان سے بچانا اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ روبینہ خان نے یہ بھی کہا کہ ان کی بہنوں کا کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ حکومتی عہدوں کے ذریعے مال کمانا چاہتی ہیں۔روبینہ خان نے نیا پاکستان اور پرانے پاکستان کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کہا ہے کہ پرانے پاکستان کی گندگی سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔

    روبینہ خان نے اپنے بیان میں بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، ان کے ذریعے فیصلوں کی منظوری اور تقرریوں کے عمل پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہنوں کا سیاست میں کسی قسم کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور ان کا واحد مقصد اپنے بھائی کی ساکھ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، روبینہ خان نے نیا پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پرانے پاکستان کی گندگی کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روبینہ خان بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر رہی ہیں اور اپنے بھائی کی ساکھ کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی سیاستی سازش یا خلفشار کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • اسمبلی میں آج خطاب میں سب بتاؤں گا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    اسمبلی میں آج خطاب میں سب بتاؤں گا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ آج وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب کریں گے اور اس دوران وہ گزشتہ دنوں کی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب میں وہ بتائیں گے کہ جو کچھ ہوا، اس کا کیا مقصد تھا اور مستقبل میں ہمیں کس سمت میں آگے بڑھنا ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے تعلقات میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں اور جو خبریں ان کے اور بشریٰ بی بی کے درمیان اختلافات کی گردش کر رہی ہیں، وہ محض پروپیگنڈا ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی عمران خان کی رہائی اور سیاسی میدان میں ان کے حق میں جدوجہد کرنا۔ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور وہ ان کا دفاع کرنے کے لیے سیاسی طور پر سرگرم ہیں۔

    قبل ازیں، بشریٰ بی بی کی ترجمان مشال یوسفزئی نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے بشریٰ بی بی کے موقف کو واضح کیا۔ مشال یوسفزئی نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے خود کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کے حکم پر انہیں ڈی چوک پہنچنا تھا، تاہم وہاں پارٹی قیادت موجود نہیں تھی، جو کچھ بھی ڈی چوک میں ہوا، اس کا احتساب اور جواب طلبی بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان خود کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ بشریٰ بی بی نہ تو پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کر رہی تھیں اور نہ ہی اس میں شرکت کی تھی۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    تحریک انصاف کی 27 نومبر کو ہونے والی ایک اہم زوم میٹنگ کی اندر کی کہانی سامنے آئی ہے، جس میں پارٹی کے اہم رہنماؤں،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور آج استعفیٰ دینے والے پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے درمیان سخت لفظی جنگ ہوئی۔ سینئر صحافی عمار سولنگی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی زوم اجلاس کی ساری تفصیلات شیئر کی ہیں

    ذرائع کے مطابق، زوم پر پی ٹی آئی میٹنگ کے دوران بشری بی بی نے سلمان اکرم راجہ کو انتہائی بدتمیزی سے یہ کہا کہ "میں تو ڈی چوک پر تھی، تم کہاں تھے؟” جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا: "بی بی! میں عمران خان کا حکم مانوں گا، تمہارا نہیں! عمران خان کے حکم کے مطابق ہم نے سنگ جانی میں جلسہ کرنا تھا، ڈی چوک میں نہیں!”اس پر بشری بی بی نے انتہائی غصے میں آ کر کہا: "ڈی چوک جانے کا فیصلہ میرا تھا! تم کون ہوتے ہو میرا فیصلہ نہ ماننے والے؟ جب علی امین گنڈا پور نے میرا فیصلہ مانا اور پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے میرا فیصلہ مانا تو تم بدمعاش ہو؟”

    اس پر سلمان اکرم راجہ نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے کہا: "بی بی، بدمعاش تو تم ہو! نہ صرف بدمعاش ہو بلکہ بدکردار بھی ہو! تمہارے ماضی سے میں پوری طرح واقف ہوں! میرا منہ مت کھلواؤ، ورنہ میں بتاؤں گا کہ تمہارے پیچھے کون سی اندرونی اور بیرونی عوامل کار فرما ہیں! صرف عمران خان کی بیوی ہونے کی وجہ سے ہم تمہاری عزت کرتے ہیں۔”

    بشری بی بی نے سلمان اکرم راجہ سے کہا: "عمران خان میری وجہ سے تمہاری عزت کرتا ہے۔ اگر میں عمران خان کو کہوں تو وہ تمہیں اپنی جوتی کی نوک پر بھی نہ رکھے۔ تم وکیلوں کی اوقات کیا ہے؟ چار ٹکے کے وکیلوں نے پوری پارٹی پر قبضہ جمایا ہوا ہے! نہ تم سے لوگ نکلتے ہیں، نہ تم سے کیس جیتے جاتے ہیں اور تم ہمارے لیے مفت کام نہیں کرتے، ہم تمہیں پیسے دیتے ہیں!”اس پر سلمان اکرم راجہ نے برہمی کے ساتھ کہا: "اپنی سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے کہ میں سروسز بھیجتا ہوں یا نہیں۔ اس لیے اپنی بکواس اپنے پاس رکھیں اور میرے ساتھ منہ نہ لگائیں!”

    بشریٰ بی بی کور کمیٹی اجلاس میں تھوڑی دیر شریک ہوئیں تا ہم وہ بہت غصے میں تھیں، بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں کے لئے بے شرم اور بے غیرت کے الفاظ استعمال کئے، پی ٹی آئی رہنما خاموشی سے سنتے رہے تاہم سلمان اکرم راجہ نے بشریٰ بی بی کو کھری کھری سنائیں،سلمان اکرم راجہ نے بشریٰ کے جانےکے بعد پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ وہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں، کسی خاندان کےملازم نہیں ہیں.

    اس کے بعد باقی قیادت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی، مگر صورتحال کشیدہ رہی۔ سلمان اکرم راجہ نے شکایت لے کر عمران خان کے پاس جانے کی کوشش کی، مگر عمران خان نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا،بعد ازاں، سلمان اکرم راجہ نے پارٹی سے استعفیٰ جمع کر دیا۔

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • 190 ملین پاؤنڈکیس: نیب کا بشریٰ بی بی کی گرفتار ی کا فیصلہ،ٹیم خیبر پختونخواہ بھجوا دی

    190 ملین پاؤنڈکیس: نیب کا بشریٰ بی بی کی گرفتار ی کا فیصلہ،ٹیم خیبر پختونخواہ بھجوا دی

    اسلام آباد: نیب نےسابق خاتون اول بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: نیب راولپنڈی کی ٹیم خیبر پختونخواہ بھجوا دی گئی،بشری بی بی کو 190ملین پاؤنڈ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی بنا پر گرفتار کیا جائے گا-

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 22 نومبر کو 8 سماعتوں سے مسلسل عدم پیشی پر بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے،بشریٰ بی بی کے وکیل نے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جس پر نیب کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کا میڈیکل لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کا ہے جب کہ تصدیق اسلام آباد سے ہوئی، ملزمان نے آج بھی 342 کا بیان جمع نہیں کرایا۔

    جس پر عدالت نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نیب کو بشریٰ بی بی کو گرفتار کرکے 26 نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی تھی اور بشریٰ بی بی کے ضامن کو بھی شوکاز جاری کیا تھا-

    ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم 3 روز قبل بھی خیبر پختونخوا میں بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی کوشش کرتی رہی، آج دوبارہ سے نیب کی ٹیم گرفتاری کے لیے تشکیل دی گئی ہے نیب خیبر پختونخوا کو بھی ٹیم سے مکمل تعاون کی ہدایت جاری کی گئی ہے، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کی بھی مدد لی جائےگی۔

  • بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ بشری بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،

    نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ پارلیمانی مشاورتی عمل چل رہا تھا اور پھر ایسا فیصلہ لینا جس کی تیاری نہیں تھی، بشریٰ کو سیاست میں لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کیا جاتا، ہم اپنے گھروں سے رابطے نہیں کر پا رہے تھے، سب کچھ بند تھا، بیرون ملک سے مہمان آئے ہوئے تھے، عدالت کا فیصلہ تھا کہ اسلام آباد میں دھرنا نہیں دینا، کہاں گیا قانون، آپ احتجاج کرتے، درخواست دیتے، ایک طرف بیرسٹر سیف کہہ رہے ہیں حکومتی جگہ پر بانی پی ٹی آئی نے اتفاق کر لیا لیکن اس کی نفی کر دی گئی، یہ ثابت ہو گیا کہ بشریٰ کے آگے کسی کی کوئی حیثیت نہیں، پارٹی میں اب کوئی لیڈر نہیں ہے، احتجاج میں کتنے چہرے نظر آئے، سب لوگوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے،18 اکتوبر 2007 کو جب پیپلز پارٹی کے 150 کارکن شہید ہوئے تو جیالے ٹرک کے ساتھ لپٹ گئے، بینظیر بھٹو ایک ایک کارکن کے گھر گئیں ، اپنے زخموں کو بھول کر دوسروں کو دلاسا کر رہےتھے، آپ گولی چلنے کا پروپیگنڈہ کریں، بیرون ملک سے مہم چلائیں اور لوگوں کو تنہا چھوڑ دیں یہ کیا ہے، انکے کارکنان قائدین کو روکتے رہے، آپ کی تاریخ ہے کہ آپ ورکر کو چھوڑ کر بھاگتے ہیں،

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ ابھی واحد حل یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور بات چیت کے زریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔پارلیمنٹ میں تمام جماعتیں ہیں، تلخیاں کم ہونی چاہیئے، بلاول زرداری بھی سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، تمام فریقین پارلیمنٹ میں بیٹھیں، یا باہر بیٹھیں ورنہ سب کے لئے مشکلات ہوں‌گی، خصوصا پاکستان کے لئے

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران