Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • بشریٰ بی بی  کو 32 مقدموں میں ضمانت مل گئی

    بشریٰ بی بی کو 32 مقدموں میں ضمانت مل گئی

    سانحہ نو مئی کے32 مقدمات میں بشری بی بی نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں خود کو سرنڈر کر دیا

    راولپنڈی انسداد دہشت گردی اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہو گئیں ،اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،محمد فیصل مالک پر مشتمل وکلا کا پینل درخواست ضمانتوں کی پیروی کرے گا ،دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ،بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کریں گے،بشریٰ بی بی کی گاڑی کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کے حدود میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی،

    بشری بی بی کی 32 مقدمات میں 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی،عدالت نے بشری بی بی کو 13جنوری تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،عدالت نے تمام مقدمات کے تفتیشی افسران کو نوٹس جاری کر دیئے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ طلب کر لیا، بشری بی بی کے خلاف مقدمات احتجاج کے واقعات پر اٹک اور پنڈی میں درج ہیں۔ درخواست ضمانتوں کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی ،ضمانت ملنے کے بعد بشری بی بی عدالت سےروانہ ہو گئیں،بشریٰ بی بی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود تھیں اور ان کی جانب سے ضمانتی مچلکے بھی جمع کرائے گئے۔

    بشریٰ بی بی بارے ٹویٹس،گلوکار سلمان احمد کو پی ٹی آئی نے پارٹی سے نکال دیا

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    عدالت نے اس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی جہاں دونوں ملزمان، عمران خان اور بشریٰ بی بی، عدالت میں موجود رہے۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت جاری تھی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیے جبکہ پراسیکیوشن ٹیم نے گزشتہ روز اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔ عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ 23 دسمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس فیصلے کا انتظار ملک بھر میں کیا جا رہا ہے کیونکہ اس مقدمے کی نوعیت اہم ہے اور اس سے سیاسی منظرنامے پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پراسیکوشن نے حتمی دلائل مکمل کر لئے

    عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے وکیل صفائی کو کل دلائل دینے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئیں تو عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا.  احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی ،پراسیکیوشن ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر لیے ،نیب کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے دلائل دیے گئے ،دلائل میں کہا گیا کہ چھ نومبر 2019 کو ڈیڈ سائن جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آچکی تھی ۔ڈیڈ کی منظوری کابینہ سے تین دسمبر 2019 کو لی گئی ۔کابینہ کو بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے ۔ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی۔ کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی ڈیڈ این سی اے کو بھجوائی جا چکی تھی ۔معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔ کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا ۔ نیب قانون کے مطابق اگر پبلک افس ہولڈر کوئی بھی گرانٹ یا ڈونیشن لیتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگی۔عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن ملی۔نیب ارڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک افس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت ہے۔فرح گوگی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی،زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک موجود نہیں تھا ،190 ملین پاؤنڈ کی ایڈجسٹمنٹ ہونے کے بعد ٹرسٹ بنایا گیا ،رولز اف بزنس 1973 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ،کابینہ میں کوئی بھی معاملہ زیر بحث لانے سے سات روز قبل اسے سرکولیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ کیا جلدی تھی کہ اس معاملے کو سات دن پہلے کا بینہ ممبران کو سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔

    کل عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کیا جائے گا ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کل صبح ساڑھےدس بجے تک ملتوی کر دی گئی،6 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں وکلا صفائی نے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔  اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ضمانتوں میں توسیع عمران خان کے چھ اور بشریٰ کے ایک مقدمے میں کی گئی ہے

    یہ فیصلہ عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں پر کیا۔سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے بتایا کہ سینئر کونسل، جو مرکزی جیل اڈیالہ میں مصروف تھے، اس لیے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی اور اگلی سماعت 7 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عدالت کے اس فیصلے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مزید وقت مل گیا ہے تاکہ وہ مقدمات میں پیش رفت کر سکیں اور عدالت میں اپنے دفاع کے لیے تیاری کر سکیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹی کی جانب سے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں سے کچھ میں ضمانت کی درخواستیں پہلے ہی دائر کی جا چکی تھیں، اور اس میں مزید پیش رفت کے لیے یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

  • صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    صحافیوں کے سوالات، بشریٰ بی بی کا چپ کا روزہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے میڈیا نمائندوں کے سوالات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔

    بشریٰ بی بی ضمانت منسوخی کیس میں عدالت پیش ہوئی،اس دوران صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات پوچھے گئے، جن میں بشریٰ بی بی کی حالیہ سرگرمیوں، عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے سوالات شامل تھے، لیکن انہوں نے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور چپ چاپ عدالت کے احاطے سے روانہ ہو گئیں۔صحافیوں نے بشریٰ بی بی سے ان کے موقف کے بارے میں سوالات پوچھے، صحافیوں نے سوال کیا کہ ڈی چوک جانے کا کس کا فیصلہ تھا،آپ کا یا علی امین گنڈا پور کا، ایک اور سوال کیا گیا کہ ڈی چوک میں کیا ہوا تھا، ایک اور صحافی نے بشریٰ بی بی سے سوال کیا کہ سنا ہے آپ سیاست میں آنا چاہتی ہیں، تاہم بشریٰ بی بی نے مکمل خاموشی اختیار کی اور صحافیوں کے سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کی جانب سے اس رویے کو دیکھتے ہوئے کئی افراد نے ان کے جوابدہ نہ ہونے اور عوام کے سوالات سے گریز پر سوالات اٹھا دیے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا اس طرح صحافیوں سے بات نہ کرنے کا مطلب ہے کہ وہ عوامی سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جو لوگ عوام کو جوابدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا اصل چہرہ اب سامنے آ رہا ہے، جہاں نہ شفافیت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کا عمل، ڈی چوک کارکنان کو لانے اور اکسانے کے لئے تو بشریٰ بی بی مسلسل خطابات کرتی رہیں، اسلامی ٹچ دیتی رہیں تا ہم صحافیوں کے سامنے منہ نہ کھول سکیں، ایسے لگتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے چپ کا روزہ رکھ لیا، عوامی حلقوں میں بشریٰ بی بی کی خاموشی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اگر وہ عوام کے سامنے آئیں تو ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

    26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،عظمیٰ بخاری
    بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جوابات نہ دینے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ بشریٰ بی بی آج اچھے بچوں کی طرح خاموش ہیں، 26 نومبر کو جو جھانسی کی رانی بن رہی تھی آج منہ چھپائی کر رہی تھی، بشریٰ بیگم اپنی بہن اور ترجمان کے ذریعے ساری پارٹی کو چارج شیٹ کرنے کے بعد آج خود چپ ہو گئیں، 24 اور 26 نومبر کو جوشیلے خطاب کرنے والی بشریٰ بی بی آج اپنا انقلابی بھاشن پشاور چھوڑ آئیں، 26 نومبر کو جو ڈی چوک فتح کرنے آئی تھی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ نہیں بول سکیں،بشریٰ بی بی میڈیا کو بتاتیں ڈی چوک سے بھاگنے کا پلان ان کا تھا یا گنڈاپور کا تھا؟ آج قوم کو بتاتیں ڈی چوک سے دوڑ کیوں لگائی، بے چاری نے پہلا انقلاب لیڈ کیا وہ بھی گلے پڑ گیا، بشریٰ بی بی کی غیر سیاسی سوچ اور غیر سیاسی فیصلوں نے ان کی پارٹی کو تقسیم کیا ہے، پی ٹی آئی کا ’انقلاب فروم ہوم‘ مہینے میں ایک بار انگڑائی لیتا ہے، جیسے ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے انقلاب دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

  • توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشری بی بی پر جیل ٹرائل کے دوران فرد جرم عائد کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا،توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کر دی،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 18 دسمبر کوطلب کرلئے

    عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے، بشریٰ رہائی کے بعد بنی گالہ سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچ چکی ہے

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    توشہ خانہ ٹو کیس ، بشری بی بی کی ضمانت منسوخی کی ایف آئی اے کی درخواست نمٹا دی گئی

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہائیکورٹ اگر ضمانت دیتی ہے تو ملزم اگر پیش نا ہو تو ٹرائل کورٹ ضمانت کینسل کر سکتی ہے ، یہ ہائیکورٹ کے آرڈر میں توہین عدالت نہیں ہو گی ، عدالت نے بشری بی بی کے خلاف ایف آئی اے کی درخواست نمٹا دی،قبل ازیں بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی ضمانت منسوخی کی ایف آئی اے درخواست پر سماعت ہوئی، ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالت نے بشریٰ بی بی کو نوٹس جاری کیا تھا

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کدھر ہیں بشریٰ بی بی ؟بشری بی بی نے کب کب حاضری سے استثنیٰ لیا؟وکیل نے کہا کہ سر 6 بار استثنیٰ لیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بشری بی بی کیسز کو سنجیدہ لیں اور ہر سماعت پر پیش ہوں ورنہ ضمانت خارج کردی جائے گی،

    بشریٰ بی بی کے خلاف قائم توشہ خانہ کیس ٹو میں ضمانت کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایف آئی اے نے درخواست دائر کی ہے،ایف آئی اے کی جانب سے بشریٰ بی بی کی مسلسل عدم پیشی پر ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے آرڈر میں لکھا کہ بشریٰ بی بی ضمانت کا غلط استعمال نہیں کریں گی،بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اکثر سماعتوں میں پیش نہیں ہو رہیں، عدالت بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخ کرے۔

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

    حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا،بیرسٹر گوہر

    تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے معاملے میں اس لیے شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں،ہ بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ بشریٰ بی بی ہمیشہ سے پارٹی کے ساتھ ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیرسٹر گوہر سے جب صحافی نے سوال کیا کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آج سے مذاکرات شروع ہو رہے ہیں تو بیرسٹر گوہر نے اس کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات آج سے شروع نہیں ہو رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ مذاکرات کا آغاز ہو تاکہ سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے اور کسی معقول نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی طریقے سے ہی نکالا جا سکتا ہے، اور پی ٹی آئی ہمیشہ سے اس بات کی حامی رہی ہے کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

    قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ زیادتی کی گئی انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ایسا جاری رہا تو انہیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا جمہوریت کا حصہ ہے، پی ٹی آئی کے مظاہرین کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا اور اگر فائرنگ ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہونی چاہیے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس ملک میں پہلے بھی متعدد تحقیقاتی کمیشن بنے مگر کوئی عملی نتائج نہیں نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوان اپنے ارکان اور ان کے بچوں کا تحفظ نہیں کر سکا، اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیق کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے۔ انہوں نے شام کے ایک قیدی کا ذکر کیا جس نے بتایا کہ وہ 39 سال بعد جیل سے باہر آیا ہے اور شام کے حکمران نے ملک سے فرار ہونے کے دوران 2 ارب ڈالر ساتھ لے گئے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے، اس ایوان کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے اپنے خطاب میں 26 نومبر کے واقعے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں پر گولیاں کیوں چلائی گئیں؟ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے اور اس بات کا مظاہرہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور حامیوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور نے آخر وقت تک بشریٰ بی بی کے ساتھ کھڑے رہنے کے باوجود، ان پر بھی تشدد کیا گیا، انہیں مارا گیا، زخمی کیا گیا اور مقدمات بھی ان کے خلاف درج کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے غریب ارکان پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین بانی پی ٹی آئی کو مجرم کہہ کر صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کا موڈ خراب کرتے ہیں، حالانکہ حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ہے اور ان کی املاک کو لوٹا ہے۔

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    چیمپئنز ٹرافی ،بھارتی کرکٹ بورڈ فیوژن فارمولے پر رضا مند،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

  • بشریٰ بی بی جیل سے روانہ،وارنٹ منسوخ،فردجرم عائد نہ ہو سکی

    بشریٰ بی بی جیل سے روانہ،وارنٹ منسوخ،فردجرم عائد نہ ہو سکی

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس،190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی

    ملزمان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،بشری بی بی عدالت پیش ہوگئی وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے گئے،ملزمان کی استدعا پر ایف آئی اے دریافت کی رپورٹ کی نقول فراہم کر دی گئی،کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی،پراسیکیوشن کی جانب سے وکلاء صفائی کو گواہوں کے 161 کے بیانات کی نقول فراہم کردی گئیں,بیرسٹر سلمان صفدرنے کہا کہ 23 گواہوں کے 161 کے بیان آج فراہم کیے گئے،بیانات ملنے کے بعد فرد جرم کے لیے سات دن کا وقت ہوتا ہے، پراسیکیوشن ٹیم نےعمران خان اور بشری بی بی پر آج ہی فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کا گزشتہ سماعتوں کا کنڈکٹ عدالت کے سامنے ہےدوبارہ عدالت نہیں آئیں گی، بیرسٹرسلمان صفدر نے کہابشری بی بی ملک سے باہر نہیں تھی ضمانتیں لینے کے لیے عدالتوں میں پیش ہو رہی تھی۔

    بشری بی بی نے خود روسٹرم پر جا کر عدالت کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی یقین دہانی کروائی اور کہاجب سزا ہوئی تھی تو خود چل کر جیل آئی تھی،طبیعت ناسازی اور متعدد مقدمات میں ضمانت لینے کے باعث عدالت پیش نہیں ہو سکی تھی،آج بھی عدالت میں پیش ہوئی ہوں آئندہ سماعت پر بھی عدالت آؤں گی۔بشریٰ بی بی نے کہا وہ کوئی گواہ پیش نہیں کرنا چاہتیں، عمران خان نے اپنے گواہ پیش کرنے متعلق عدالت کو آگاہ کیا،

    کیس کی سماعتوں کے بعد بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئی،بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں اپنے شوہر عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی ہے، بشریٰ بی بی خیبر پختونخوا جائیں گی اور وہیں قیام کریں گی،24 نومبر کےاحتجاج کے بعدبشریٰ بی بی کی یہ عمران خان سےایک اہم ملاقات بھی تھی،کیس معمول سےہٹ کرکئی گھنٹے تک طویل چلتا رہا،عمران خان اوربشریٰ بی بی کی طویل نشست ہوئی،بشریٰ بی بی نے عمران خان کو احتجاج سے متعلق آگاہ کیا۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ