Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • بشری بی بی کا پریس کانفرنس،گنڈاپور کے ساتھ جانے سے گریز

    بشری بی بی کا پریس کانفرنس،گنڈاپور کے ساتھ جانے سے گریز

    ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بشری بی بی تاحال مانسہرہ میں موجود ہیں اور بابرسلیم سواتی کی بھانجی کی رہائشگاہ پرہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بشری بی بی کو پشاور روانہ ہونا تھا لیکن وہ ہیلی کاپٹر کی عدم دستیابی کے باعث پشاور نہ جاسکیں، بشری بی بی نے ڈی چوک سے روانگی کے بعد کسی سے رابطہ نہ کیا۔اطلاعات کے مطابق کے پی کا بڑا ہیلی کاپٹر خراب ہے اور آئی جی سے کہا کہ چھوٹا ہیلی کاپٹر لے آئیں۔واضح رہے کہ کچھ دیر قبل ہی پی ٹی آئی بانی عمران خان کی اہلیہ کی بہن مریم ریاض وٹو نے ’بشریٰ عمران خان کہاں ہیں‘ کی ٹوئیٹ کی تھی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس کہا کہ ’میں نے کہا تھا ناں کہ بشریٰ عمران خان پریس کانفرنس نہیں کریں گی، وہ اس لیے کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام آباد سے گئیں ہی نہیں‘۔خیال رہے کہ اسلام آباد میں رینجرز اور پولیس کے آپریشن کے نتیجے میں پی ٹی آئی احتجاج ختم ہونے کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اسلام آباد سے مانسہرہ پہنچ گئے تھے۔مانسہرہ پہنچنے کے بعدبتایا گیا تھا کہ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی پریس نیوز کریں گے جس کے بعد میڈیا سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔لیکن تین مرتبہ پریس نیوز کا وقت تبدیل ہوا اور آخر میں تقریباً ڈھائی بجے علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب نے میڈیا سے بات کی۔ اس دوران بشریٰ بی بی نظر نہیں آئیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر بشریٰ بی بی کی عدم موجودگی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے تھے۔اس سے قبل شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی احتجاج کی فائنل کال کو لے کر پی ٹی آئی لیڈر شپ پر مایوسی کا اظہار کیا تھا اور اپنے انٹرویو میں کہا تھاکہ بانی پی ٹی آئی سنجگانی میں احتجاج پر رضا مند تھے، بیرسٹرسیف کے مطابق بشریٰ بی بی نہیں مانیں، بشریٰ بی بی تو غیرسیاسی خاتون ہیں۔

    فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا، وزیراعظم

    پی ٹی آئی پروپیگنڈےکو پمز اسپتال نے نقاب کردیا

    9 مئی مقدمات،عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

    سپریم کورٹ بار کا نقوی اور گنڈاپورسے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • بشریٰ بی بی کو خود ڈی چوک نہیں آنا تھا ، صرف اُکسانا تھا،فیصل واوڈا

    بشریٰ بی بی کو خود ڈی چوک نہیں آنا تھا ، صرف اُکسانا تھا،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کی سیاست نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم کردی-

    باغی ٹی وی : فیصل واوڈا نے کہا کہ تمام صورتحال کے بعد بانی پی ٹی آئی کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی، علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی گرفتار ہوسکتے ہیں، پولیس بشریٰ بی بی کا تعاقب کررہی ہے، بشریٰ بی بی کو خود ڈی چوک نہیں آنا تھا ، صرف اُکسانا تھا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں پرپٹی بندھ گئی ، وہ بیگم سے آگے کچھ نہیں دیکھ رہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ کارکنان کو ہمیشہ کی طرح بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئے، بشریٰ بی بی نے تباہی مچانی تھی ، تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، بشریٰ بی بی کی سیاست نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم کردی،2، 3 دن پہلے بتا دیا تھا کوئی ڈی چوک آئے گا تو حکومت دھوئے گی۔

  • ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    مانسہرہ: ڈی چوک میں احتجاج سے فرار ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور اور بشریٰ بی بی نے مانسہرہ پہنچ کر پناہ لے لی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ عمر ایوب خان بھی موجود ہیں، علی امین خان گنڈا پور ،بشریٰ بی بی اور عمر ایوب خان مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے،پریس کانفرنس سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی رہائش گاہ پر انصاف سکرٹریٹ میں 11 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث مظاہرین کے خلاف اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن کیا گیا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئے، اطلاعات کے مطابق دونوں ڈی چوک ایریا سے اکھٹے فرار ہُوئے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اورعلی امین گنڈا پور کیسے اور کدھر فرار ہُوئے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا،بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن میں رینجرز، اے ٹی ایس کمانڈوز اور پنجاب پولیس شامل تھی، گرینڈ آپریشن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا، خیبر چوک اور کلثوم پلازہ کے درمیان آپریشن کے دوران پولیس نے تمام ہٹائے گئے کنٹینرز کو واپس نصب کر دیا، تحریک انصاف کے مرکزی کنٹینر کو آگ لگ گئی، تحریک انصاف کے 450 سے زائد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

  • لگتا ہے بشریٰ بی بی کو  اغوا کر لیا گیا ہے،بہن مریم ریاض وٹو

    لگتا ہے بشریٰ بی بی کو اغوا کر لیا گیا ہے،بہن مریم ریاض وٹو

    اسلام آباد: بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے بشریٰ بی بی کو اغوا کیے جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اپنے بیان میں مریم ریاض وٹو نے کہا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں بشریٰ بی بی گرفتار ہو گئی ہیں اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا پہنچ گئی ہیں، لگتا ہے بشریٰ بی بی کو زبردستی اغوا کر کے لے جایا گیا ہے،بشریٰ بی بی خیبر پختونخوا میں اور خیریت سے ہوتیں تو ضرور فیملی سے رابطہ کرتیں، بشریٰ بی بی نے کہا تھا کہ دھرنے کو ختم کرنے کا حق صرف بانی کے پاس ہے، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے پاس دھرنے کو ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں پولیس آپریشن کے دوران خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ایک ہی گاڑی میں فرار ہو گئے ہیں،اس حوالے سےپریس کانفرنس میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ،بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور ابھی تک فرار ہیں،،آج کل جو پی ٹی آئی کی سربراہ بنی ہوئی ہیں انہوں نے کہا بانی کا فیصلہ نہیں مانتی ،گرفتاریوں سے متعلق آئی جی اسلام آباد کل تفصیلات شیئر کریں گے ، گرفتاریوں سے متعلق ابھی کوئی بات نہیں کررہا،ایک دو لوگ نہیں کئی ہزار لوگ بھاگے ہیں

  • اسلام آباد ،گرفتاریاں شروع،بشریٰ ،گنڈا پورایک ہی گاڑی میں فرار

    اسلام آباد ،گرفتاریاں شروع،بشریٰ ،گنڈا پورایک ہی گاڑی میں فرار

    اسلام آباد، پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا
    رینجرز و پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے،اس موقع پر علاقے کی لائٹس بند کی گئی ہیں، مظاہرین نے پی ٹی آئی کے کینٹینر کو آگ لگا دی ہے، اسلام آباد میں مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں ، پی ٹی آئی کی قیادت کارکنان کو اسلام آباد لا کر بے یارومدد گار چھوڑ کر غائب ہو چکی ہے، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی کو کارکنان نے حصار میں لے رکھا ہے،پی ٹی آئی کارکنان قیادت سے نالاں ہیں، کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم نے کفن سر پر باندھا ہوا ہے، ڈرنا نہیں ہے باہر نکلو،لیڈر بلٹ پروف گاڑی میں کیوں ہیں، عوام کی قربانی کو ضائع نہ کریں آگے چلیں ،

    پی ٹی آئی کی قیادت کے فون بند، چار سو سے زائد مظاہرین گرفتار،بلیو ایریار وڈ خالی
    رات ہوتے ہی تحریک انصاف کی تمام مرکزی قیادت غائب ہو گئی ہے، سب کے فون نمبر بند ہو گئے، کارکنان سڑکوں پر موجود ہیں اور گرفتاریاں دے رہے ہیں، کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بلیو ایریا میں خیبرچوک اورکلثوم پلازہ کےدرمیان گرفتاریوں کا عمل ہوا، ساڑھے چار سو مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، بلیو ایریا شر اور انتشار پسندوں سے خالی کروا لیا گیا، بلیو ایریا اس وقت مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا ہے،بلیو ایریا روڈ مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا،مظاہرین اپنی گاڑیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں،

    بشریٰ،گنڈا پور کی گرفتاری نہیں ہوئی، زلفی بخاری کی تردید
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا گیا ہے، تاہم کارکنان کی جانب سے گرفتاری کےلئے مزاحمت کی گئی،علیمہ خان ،عظمی خان ،بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور شاندانہ گلزار تاحال ورکرز کے درمیان ڈی چوک کے قریب جناح ایونیو پر موجود ہیں، پولیس کی بھاری نفری گاڑی کے قریب پہنچ چکی تھی تا ہم کارکنان کی مزاحمت کے بعد بشری فرار ہو گئی

    پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور محفوظ ہیں گرفتاری نہیں ہوئی،

    بشریٰ بی بی اور گنڈا پور کارکنان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر ایک ہی گاڑی میں فرار،نجی ٹی وی کا دعوی
    دوسری جانب نجی ٹی وی جیو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں پولیس آپریشن کے دوران خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ایک ہی گاڑی میں فرار ہو گئے ہیں۔ دونوں رہنما اس وقت بلیو ایریا میں موجود تھے اور وہاں چند پی ٹی آئی کے کارکن بھی گاڑیوں کے قریب تھے۔ تاہم، جیسے ہی پولیس کا آپریشن شدت اختیار کرتا گیا، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نے ڈی چوک سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنما ایک ہی گاڑی میں جناح ایونیو سے فرار ہوئے، اور بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کی جانب موڑا گیا۔ اسلام آباد پولیس کی ایک اسکواڈ ان کی گاڑی کا تعاقب کر رہی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کے بجائے خیبر پختونخوا کی طرف موڑ دیا گیا،اب اطلاعات کے مطابق بشری بی بی کی گاڑی ہری پور کے راستے خیبر پختونخوا حدود میں داخل ہوگئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق بشریٰ بی بی کی گاڑی پیر سوہاوہ کی جانب مڑ ی، امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ بشریٰ بی بی پیر سوہاوہ سے ہری پور میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی۔

    جو عمران خان حکم کریں گے ہم ویسا ہی کریں گے،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پشتو میں ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا ہےکہ ریاست ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے مگر یہاں ریاست نے ہمارے ساتھ ظلم شروع کیا ہے اور یہ ظلم آخری حد تک پہنچ گیا ہے، ہمارے لوگوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا ہے زخمی کیا گیا ہے ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے یہی لڑیں گے یہی مریں گے،عمران خان کے لیے ہمارا تن من دھن سب قربان اور ہم قربان کرتے بھی آئے ہے عمران خان کو یہ پیغام دیں گے کہ اب تو انہوں نے سیدھی گولیاں چلانی شروع کردی ہے اسکا کیا جواب دیں انہیں؟ جو عمران خان حکم کریں گے ہم ویسا ہی کریں گے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے یہی رہیں گے

    بشری بی بی کا ڈرائیور پولیس نے گرفتار کرلیا، اعلی افسران اور پولیس کی بھاری نفری بشری بی بی کی تلاش میں ہے،پولیس کی جانب سے مونال کے قریب سخت ناکہ بندی کر دی گئی ہے، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کسی صورت اسلام آباد کی حدود سے باہر نہ جانے پائیں،ہر صورت بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا جائے.

    حکومت کا پلان بی، مظاہرین کی واپسی پر بھی گرفتاریاں ہونگی،راستے پھر بند
    علاوہ ازیں واپس جاتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کرنے کا پلان سامنے آ گیا،پولیس نےدوبارہ روڈ بلاک کرناشروع کردیے۔کے پی کے سے پنجاب آنےوالے مقامات بلاک کر دیئے گئے، اٹک خورد پل سےپشاور روڈکو کنٹینرز لگاکربلاک کردیا ،ایبٹ آباد روڈ کوجھاری کس کےمقام سےبلاک کردیاہے۔

    دوسری جانب پولیس اور رینجرز کی جانب سے جناح ایونیو کو پی ٹی آئی مظاہرین سے خالی کروالیا گیا ہے جس کے بعد مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع ہوگئے ہیں، پولیس اور رینجرز نے شدید شیلنگ کی اور پی ٹی آئی مظاہرین سےجناح ایونیو خالی کراتے ہوئے مظاہرین کو خیبر پلازہ سے آگے تک دھکیل دیا

    ایکس پر صحافی غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اطلاعات کے مطابق بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور اب احتجاج میں موجود نہیں۔ غالبا چلے گئے۔ آپریشن گرفتاریاں پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو دونوں لیڈران موجود نہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان البتہ مار بھی کھا رہے ہیں، شیلنگ بھی کھا رہے ہیں گرفتار بھی ہو رہے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے سے لے کر اب تک بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی گرفتاری بھلا کیوں نہیں ہو سکی

    دوسری جانب سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ اطلاعات آرہی ہیں کہ بشریٰ پیرنی اور علی امین گنڈا پور دونوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دھرنا سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی، لیکن وہاں موجود بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے نظر نہیں آئے، اور مشتعل ہجوم نے ان کے کنٹینر کو آگ لگا دی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کہتے ہیں کہ ایکسپریس ہائی وے پر نقاب پوش افراد جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیلز کے ساتھ دیکھے گئے، جو خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل سے لیے گئے ہیں۔ اِن کی تمام تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں اب نتائج کاعمل شروع ہو چُکا ہے ۔ یہ عناصر نہ صرف ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ رینجرز اور پولیس پر حملے ناقابل برداشت ہیں، ریڈ زون میں پیش قدمی کو ناکام بنایا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد ہیں، ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی، اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے بشریٰ بی بی ،علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،
    خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل سے ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے والی پی ٹی آئی قیادت نے اس بار پھر سانحہ نومئی کو دوہرا دیا،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے تو وہیں پی ٹی آئی شرپسند نے تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے ذریعے کچل کر شہید کر دیا،اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، پنجاب میں داخل ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا اور پھر اپنے کارکنان کو چھڑوانے کے بعد انکو چھوڑا گیا، پی ٹی آئی مظاہرین نے اسلام آباد میں درختوں کو آگ لگائی، تو وہیں میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے کئے، صحافیوں پر بھی تشدد کیا،22 پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ، ، پنجاب پولیس کے 2اہلکار شہید،119 کےقریب زخمی ہوئے،اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے،

    پاکستان تحریک انصاف نے24 دسمبر کو عمران خان کی رہائی کے نام پر احتجاج شروع کیا لیکن عمران خان کے کہنے پر سنگجانی میں جلسہ کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے لوگ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈی چوک پہنچ گئے جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ سارا احتجاج نما فساد کس کے لیے اور کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے، احتجاج تو پر امن ہوتا ہے لیکن یہ قافلہ پشاور سے نکلنے کے بعد رستے میں آنے والی ہر جگہ سے لوٹ مار اور چوری کرتا رہا کہیں سیب کے باغات اجاڑ دیے تو کہیں پولیس کی وین ہی چوری کر لی گئی، دوسری جانب مارچ کے شرکاء کے پاس مبینہ طورپر امریکن اسلحہ اور ہتھیار موجود ہیں، یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ سارا مارچ اور احتجاج جس شخص کے نام پر شروع کیا گیا اب اسی شخص کی بات کیوں نہیں مانی گئی اور بشری بی بی جو خود کو گھریلو خاتون اور سیاست سے دور بتاتی تھیں وہ شروع سے ہی اس سارے احتجاج اور مارچ کی قیادت کر رہیں ہیں آخر کیوں وہ خون خرابے اور عمران کی بات نہ مان کر اپنی بات پر ڈٹی ہوئیں ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت بشریٰ بی بی کر رہی ہیں، بشریٰ بی بی نے ہی اعلان کیا کہ ڈی چوک جائیں گے، بشریٰ بی بی کے کہنے پر علی امین گنڈا پور چل رہے ہیں اور بشریٰ ہی پارٹی رہنماؤں کو ہدایات دے رہی ہیں،عمران خان اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں احتجاج کے لئے مان گئے تھے تا ہم بشریٰ نہ مانی، بشریٰ کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی جانیں گئیں بلکہ اسلام آباد شہر میں کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے معیشت کو بھی کڑا نقصان پہنچا،پی ٹی آئی احتجاج کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد حالیہ سیاسی حالات میں عمران خان کی قیادت کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت کے بارے میں آواز اٹھانا تھا۔ لیکن اس احتجاج کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، انہوں نے اس سوال کو جنم دیا کہ آیا یہ احتجاج کسی جواز پر مبنی تھا یا محض سیاسی مقاصد کے لیے تھا۔پی ٹی آئی اس شخص کے لئے احتجاج کر رہی جس کو عدالتوں نے سزا سنائی، گھڑی چوری کا مقدمہ ہوا، توشہ خانہ ٹو کا مقدمہ چل رہا ،بشریٰ بی بی پر بھی مقدمہ زیر سماعت ہے،190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آنا باقی ہے، نو مئی کے مقدمے چل رہے ہیں،بشریٰ و عمران نے اپنے دو ر اقتدار میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اب قانون کا سامنا کرنے کی بجائے خود قانون ہاتھ میں لے رہے ہیں، بشریٰ بی بی کی خواہش ہے کہ عمران خان کو جیل سے عدالتی فیصلوں کی بجائے دھرنا دے کر رہا کروایا جائے تا ہم ایسا ہو نہیں سکتا، کیونکہ حکومت عمران خان کو این آر او دینے سے انکار کر چکی ہے.

    اس تمام صورتحال کے بعد، حکومت اور ریاستی اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہ دینے کا اصول اپنایا جائے گا ، پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کےعوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، پی ٹی آئی والے احتجاج میں مبینہ طور پر ماضی کی طرح افغان شرپسندوں کو بھی ساتھ لائے ہیں،احتجاج کے دوران ہونے والی اموات اور مالی نقصان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ احتجاج کا مقصد کچھ بھی ہو، لیکن اس کی نوعیت اور طریقہ کار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پرامن احتجاج کی ضرورت ہے، نہ کہ ریاستی اداروں اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش، ریاستی ادارے اب اس احتجاج کے بعد کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں اور یہ وقت آ گیا ہے کہ قیادت اپنے اقدامات کا حساب دے۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • مضافات میں جلسے کی تجویز  پر عمران خان آمادہ،بشریٰ بی بی ڈی چوک جانے پر بضد

    مضافات میں جلسے کی تجویز پر عمران خان آمادہ،بشریٰ بی بی ڈی چوک جانے پر بضد

    اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ہمارے مطالبات پورے کیے بغیر مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہونا ممکن نہیں-

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہ بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارا اعلان ڈی چوک سے متعلق تھا لیکن انتظامیہ کی طرف سے ڈی چوک کی اجازت نہیں مل رہی تھی،انتظامیہ کی تجویز آئی کے اسلام آباد کے مضافات میں جلسہ کریں یہ تجویز ہم بانی پی ٹی آئی کے پاس لے کر گئے جس پر انہوں نے آمادگی کا اظہار کیا، جب مضافات میں جلسے کی تجویز ساتھیوں سے ڈسکس کی تو ساتھیوں نے ماننے سے انکار کیا، بشریٰ بی بی نے کہا کہ وہ ڈی چوک ہی جائیں گی، اس وجہ سے تجویز قبول نہ ہوسکی۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارے مطالبات پورے کیے بغیر مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہونا ممکن نہیں،گزشتہ رات کے مذاکرات میں احتجاج اور رہائی سے متعلق مثبت پیشرفت نہ ہوسکی، بانی پی ٹی آئی کی رہائی قانونی عمل سے ہونی ہے، اس قانونی عمل کا بٹن حکومت کے ہاتھ میں ہے، یہ مقدمات پر اثرانداز ہورہے ہیں، احتجاج کی وجہ یہی ہے کہ ہماری قیادت کے خلاف قانون کو غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کو اسٹبلشمنٹ سے سپورٹ حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے،’مجھ سے اگر پوچھیں گے تو کہیں نہ کہیں پر ایسا ممکن ہے، اس کے بغیر شاید یہاں تک آنا ممکن نہیں تھا-

  • عمران خان کی رہائی کھٹائی میں پڑ گئی، بشریٰ بی بی کا خواب چکنا چور

    عمران خان کی رہائی کھٹائی میں پڑ گئی، بشریٰ بی بی کا خواب چکنا چور

    ایک طرف پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک بشریٰ بی بی کی قیادت میں پہنچ چکی ہے تو دوسری جانب عمران خان کی رہائی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا، عمران خان کم از کم اگلے چھ دن تو رہا نہیں ہو سکتے کیونکہ عمران خان کے جسمانی ریمانڈ میں چھ دن کی توسیع کر دی گئی ہے، اگر عمران خان کا جوڈیشل ریمانڈ ملتا تو پھر درخواست ضمانت دائر کی جا سکتی تھی لیکن معاملہ پھر بھی عدالت کے اختیار میں تھا، عمران خان پر گزشتہ دو دنوں میں ایک درجن سے زائد نئے مقدمے بھی درج ہو چکے ہیں، اگر ضمانت کسی مقدمے میں ملی تو نئے مقدمے میں بھی گرفتاری ہو سکتی ہے

    انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کا 28 ستمبر کے مقدمے میں 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف 28 ستمبر کو راولپنڈی میں احتجاج پر اکسانے کے کیس کی سماعت کی، عمران خان کے وکیل اور حکومتی پراسیکیوٹر نے دلائل دیے، پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے بانی پی ٹی آئی کے مزید 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا، عدالت نے عمران خان کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا اور پولیس کو حکم دیا کہ عمران خان کو دو دسمبر کو دوبارہ پیش کیا جائے،

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی پر 28 ستمبر کو راولپنڈی میں احتجاج پر اکسانے کا مقدمہ درج ہے جس میں اس سے قبل ان کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا،

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی خیبر پختونخوا سے آنے والے احتجاجی مارچ کی اسلام آباد میں قیادت کر رہی ہیں،

    بشریٰ بی بی نے کارکنان سے کینٹینر پر چڑھ کر ایک بار پھر خطاب کیا ہے، بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ جب تک کہ خان ہمیں خود باہر آکر نہ بتائے، ہم نہیں رُکیں گے۔ ڈی چوک پہنچ کر ہم آپ کو خان کا اگلا لائحہ عمل بتائیں گے۔ آپ سب نے پُرامن رہنا ہے،کوئی کچھ بھی کہے تم لوگوں نے نہیں ماننا، ڈی چوک پر اگلا لائحہ عمل دیں گے،ریڈ زون ، ڈی چوک جائیں گے اور وہاں دھرنا دیں گے، پرامن طریقے سے جائیں، انتظامیہ پر امن رہے، ہمارے بچوں، بھائیوں کو کچھ نہ کہے ، انکا خیال کرے،

    بشریٰ بی بی قافلے کے ہمراہ جی الیون میں ہیں، یہاں سے ڈی چوک 14 کلو میٹر دور ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور 26 نمبر چونگی پر ہیں، وہ بھی کارکنان کے ہمراہ ہیں تا ہم بشریٰ بی بی آگے بّڑھ چکی ہیں،

    دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی سامنے آ گئیں، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے پشاور سے لیڈ کیا بہت اچھی بات ہے، جب تک ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ، ہم ڈی چوک رہیں گے،

    پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ اسلام آبادپہنچ چکا ہے، ایک طرف مذاکرات بھی جاری ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے مظاہرین کی پیش قدمی بھی جاری ہے، مظاہرین کی جانب سے رینجرز پر گاڑی چڑھانے سے چار اہلکار شہید ہو گئے، گزشتہ روز ایک پولیس اہلکار بھی شہید ہوا، 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہیں،

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا، بشریٰ بی بی کھل کر سامنے آ گئیں، قیادت سنبھال لی، بشریٰ بی بی کارکنان کو لے کر 26 نمبر چونگی سے ریڈ زون کی طرف روانہ ہو گئیں

    بلیو ایریا اسلام آباد میں بشریٰ بی بی نے مظاہرین سے حلف لیا کہ جب تک خان باہر نہیں آتے کوئی بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر اسلام آباد سے نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کینٹینر پر آئیں اور کارکنان سے کہا کہ مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا، میرے ساتھ رہنا ہے، کوئی مجھے چھوڑ کر نہیں جائے جب تک ہمارے خان ہمارے پاس نہیں آ جاتے کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی نے کارکنا ن سے حلف لیا،بشریٰ بی بی نے اس موقع پر وکٹری کا نشان بھی بنایا.

    بشری بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ اسلام آباد کے زیروپوائنٹ پہنچ گیا ہے، احتجاجی قافلہ کی منزل ڈی چوک ہے، تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ جی 11 اور جی 9 سے گزرا وہاں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم ہوا، اس وقت بھی دونوں جانب سے ایک دوسرے پر آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے اور پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جارہا ہے۔قافلے کے شرکا نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، انقلاب ، انقلاب کے نعرے لگائے جا رہےہیں،کئی مقامات پر پولیس پیچھے ہٹ گئی اور قافلے کو آسانی سے آگے بڑھنے کا موقع ملا،پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے میں نوجوان،بزرگ، خواتین بھی شامل ہیں، پی ٹی آئی نے اپیل کی ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے راستوں پر رہنے والوں سے گزارش ہے اپنے وائی فائی کے پاسورڈ ہٹا دیں تاکہ احتجاج کے شرکاء انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے احتجاج کے مناظر اور عوام کے خلاف بدترین جبر کے ثبوت دنیا بھر تک پہنچا سکیں۔

    پی ٹی آئی احتجاج، شرکاء ڈی چوک کے قریب،زیروپوائنٹ کراس کر گئے

    بلیو ایریا میں شہید ملت اسٹیشن کے قریب میبنہ طور پرپی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے درختوں کو آگ لگائی جارہی ہے،پولیس کی شیلنگ اور کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے

    قبل ازیں عمران خان کے احتجاج کیلئے متبادل جگہ کی حامی بھرنے کے باوجود بشریٰ بی بی نے ماننے سے انکار کردیا تھا، بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ چند سازشی عناصر ڈی چوک کے بجائے دوسرے مقام پر ہمیں روکنا چاہتے ہیں، عمران خان نے مجھے ہر صورت ڈی چوک جانے کا کہا ہے، ڈی چوک سے کم کسی بھی مذاکراتی فیصلے پر کارکنان راضی نہیں ہیں

    ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکے،پی ٹی آئی کےذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت دھرنے کیلئے حتمی مقام کا تعین کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، مرکزی قیادت میں کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں،پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق علی امین نے کہا کہ کارکنان کو اسلام آباد حتمی مقام تک لے جانے کیلئے رابطہ کاری میں مشکل ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان سے دوسری ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئے تھے،بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان کیساتھ 40 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت میں بیرسٹر گوہر نے احتجاج اور حکومت کی طرف سے آپشنز سےبانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا،دوسری ملاقات میں عمران خان نےبشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور کارکنوں کیلئے اہم پیغام ریکارڈ کروایا تھا، بیرسٹر گوہر بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام دکھانے کیلئے روانہ ہوئے تھے، عمران خان کے ویڈیو پیغام سننےکےبعد بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے آئندہ کےلائحہ عمل کے اعلان کا امکان تھامیڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کے ویڈیو پیغام میں حکومتی تجاویز میں سے ایک پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ہم نے مظاہرین سے کہا تھا ڈی چوک پر جس نے بھی جلسہ کیا کبھی اجازت نہیں ملی، درخواست دیں اور سنجانی چلے جائیں،پی ٹی آئی قیادت ملاقات کیلئے دو مرتبہ اڈیالہ گئی، انہیں وہاں سے بھی اپروول مل گئی ہے،چاہےدفعہ 144 نافذ کرنی ہو یا ہمیں انتہائی اقدام تک جانا پڑے، پہلے ہی بتارہےہیں، نقصان ہوا تو ہم ذمے دار نہیں ہوں گے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کانسیٹبل کے قتل کی ایف آئی آر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہدا کی فیملی سے وعدہ ہے ان کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، جن لوگوں نے احتجاج کی کال دی، جنہوں نے لوگوں کو بلایا ان سب کو نہیں چھوڑیں گے۔

    قبل ازیں مظاہرین کے مبینہ تشدد سے جاں بحق پولیس کانسٹیبل مبشر کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کردی گئی،نمازجنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی آئی جی پنجاب سمیت اعلیٰ پولیس قیادت بھی شریک ہوئی جبکہ وزیراعظم نے بھی مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکار کو شہید کرنے کی مذمت کی۔

    تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران انتشار سے نمٹنے کیلئے وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کرلی گئی، وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بلایا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، آرمی کو کسی بھی علاقے میں امن امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کرفیو لگانے کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں، سکیورٹی اداروں کو انتشار پھیلانے والوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس سے 4 رینجرز اہلکار شہید جب کہ 5 رینجرز اور 2 پولیس کے جوان بھی شدید زخمی ہوگئے،سکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اب تک رینجرز کے 4 اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ہمارے 119 بندے زخمی ہوئے، پولیس بھی اسلحہ چلا سکتی ہے لیکن ہمارے اہلکار مسلح نہیں ہیں، پنجاب پولیس کے 22 ہزار اہلکار یہاں موجود ہیں، پاکستان اور اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لئے ہم یہاں موجود رہیں گے،

    26 نمبر چنگی،پی ٹی آئی کارکنوں نے میڈیا ڈی ایس این جیز پر حملہ کیا،جیو نیوز،سما ٹی وی، سنو نیوز ، آج ٹی وی، اے آر وائی نیوز،92 نیوز کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے ،گاڑیوں پر کارکنان نے پتھر مارے، لوہے کے راڈوں سے حملہ کیا،میڈیا سٹاف بمشکل ہجوم سے جان بچا کر نکلے،

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کارکنان کی سنگجانی ٹول پلازہ میں سرکاری سامان چوری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی،پی ٹی آئی کارکنان کمپیوٹرز اور دیگر قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے،پرتشدد مظاہرین کی جانب سے پولیس کی گاڑی بھی جلا دی گئی، پرتشدد کارکنان کے حملوں سے سرکاری املاک کوبھی نقصان پہنچا ،پرتشدد کارروائیوں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی متعدد ویڈیوز منظرعام پرآ چکی ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے سبب اسلام آباد کی چائنہ چوک اور ڈی چوک پر پولیس کی نفری تعینات ہے،سیکرٹری داخلہ نے ڈی چوک کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا،احتجاج کے با‏عث راولپنڈی اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش ہے، اسلام آباد آنے والے تمام راستے بند ہیں اور میٹرو بس سروس معطل ہے جب کہ جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھی جزوی معطل ہے،تعلیمی اداروں میں جڑواں شہروں میں آج پھر چھٹی کی گئی ہے، اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے،

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب