Baaghi TV

Tag: #بلال #شوکت #آزاد

  • "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    2005 سے 2022 تک مختلف النوع تجربات, مشاہدات اور مطالعات کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ

    1-دعوت و اصلاح کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو دعوت و اصلاح کی غرض سے جاکر تنگ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    2-خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کی غرض سے جاکر مدد کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    3-آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کی جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کی آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کا جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کی غرض سے جانا اور مدد کرنا بھی معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    4-آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں پر آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص خرچ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    اپنی زندگی کے اٹھارہ بیس سال گزار کر جو آپ بھی یہی سبق یہی نتیحہ اخذ کریں گے اس سے بہتر ہے کہ ہم سے ہی عبرت حاصل کرلیں, فی زمانہ اوپر درج معاملات میں حد درجہ دلچسپی اور شمولیت وغیرہ سے بڑا فتنہ مجھے تو نظر نہیں آتا۔۔۔ اور پتہ ہے نا کہ فتنوں سے دور بھاگنے کا حکم ہے کیونکہ فتنوں کی سرکوبی کا خیال دل میں پالنا اور متحرک ہونا بھی ایک فتنہ ہی ہے لہذادور دور بہت دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    کیونکہ آپ کو کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے سے منسلکیت کی جو قیمت چکانی پڑتی ہے اس میں آپ کی ذاتی و اجتماعی زندگی کے تار و پود بکھرنا تو سر فہرست ہے لیکن کسی بھی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری میں چراغ تلے اندھیرا کے مصداق تہی داماں رہنا پڑتا ہے, سفید پوشی اور انا کے مارے آپ تو منہ نہیں کھولتے لیکن آپ کو چپکی کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے کی وظیفہ خور جونکیں المعروف عہدیداران و ذمہ دران جو کہ آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کو آپ سے براہ راست کشید کرکے کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو فیول مہیا کرکے اپنے نمبر ٹانگتے ہیں وہ یا تو آپ کی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری کے وقت آپ کو کسی جگہ نظر نہیں آئیں گے یا مروتاً نظر بھی آئیں گے تو آپ کو قرآن و حدیث سے صبر شکر کے یہ لمبے لمبے لیکچر سنا کر آپ کو اُن کی عظمت کا قائل کریں گے, ہاں دو تین درجن کیلے اور موسم کی مناسبت سے دو تین کلو دیگر پھل آپ کو میسر آسکتا ہے اگر آپ ان کے سامنے "چغد” بنے بیٹھے رہیں اور بعد میں بھی ان کے احکامات بلکہ اشارہ ابرو پر "چغد” بنے بنے عمل پیرا رہیں تو یہ والی "عیاشی” آپ کو مل سکتی ہے۔۔۔

    یقین مانو نوجوانوں, تمہاری کسی کو نہیں پڑی۔۔۔ تم بجز اپنے یا اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب کے کسی کی فکر میں مت گھلو اور پرائے پھٹے میں کودو کیونکہ ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو صرف تمہاری جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص چاہیے ہوتا ہے اپنا چورن منجن بیچنے اور ٹیکس فری دولت شہرت اور مزے لوٹنے کے لیے وگرنہ کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کے ذمہ داران ان مسٹرز اور صاحبان وغیرہ وغیرہ کی اصلیت جاننی ہو کہ یہ کتنے بڑے خدا ترس, خدمت خلق کے جذبات سے سرشار اور خدائی خدمتگار ہیں ان کے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب اور محلے داروں سے جاکر پوچھو۔۔۔ اصلیت جان کر چھٹی کا دودھ نہ یاد آئے تو کہنا۔۔۔

    کچھ لوگ آپ کو پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور کالی بھیڑوں اور گندی مچھلی والی مثالیں سناکر رام کرنا چاہیں گے لیکن یاد رکھنا کہ یہ سب ہی وہ کالی بھیڑیں اور گندی مچھلیاں ہونگی جنہوں نے "چغد” بننے کے بجائے "چغد” بنانے میں مہارت حاصل کرکے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے ہونگے یا کر رہے ہونگے۔۔۔

    جی ہاں, ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں لیڈرشپ کی لیئر کے بعد۔۔۔ ایک کہلاتے ہیں "چغد”, جوکہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کا فیول ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کہلاتے ہیں "چغد گَر” یعنی "چغد بنانے والے”, جو کہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں لیڈرشپ اور فیول کے درمیان برج کا کردار ادا کرتے اور کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کی نرسری چلانے والے ہوتے ہیں اور ان کا سر اور دس انگلیاں کڑاہی میں ہوتی ہیں اور اوپر سے مستزاد یہ کہ انہیں استثنی حاصل ہوتا ہے خواہ ان کے کھاتوں میں کے ٹو پہاڑ جتنی کرپشن نکل آئے, لیڈرشپ کو آپ اول تو ان کے علم اور دستیابی کے بغیر مل نہیں سکتے اور اگر کسی طرح مل لو تو لیڈرشپ آپ کو اتنی بزدلانہ طریقے سے ملے, سنے اور ڈیل کرے گی کہ آپ حیران اور پریشان رہ جائیں گے کہ کیا یہ وہی صاحبان ہیں جو کشتوں کے پشتے لگانے کی بھڑکیں مار مار کر آدھی دنیا میں مشہور و معروف ہیں جبکہ ان کی اوقات یہ ہے کہ اپنے ماتحت چند "چغد گَروں” کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے, بے بس اور معذور و مجبور ہیں۔۔۔ تب آپ اپنی تمام ریاضت اور محنت اور کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے اور ان کی لیڈرشپ پر دو حرف بھیج کر آجائیں گے اور روزانہ سوچیں گے کہ

    "کیوں۔۔۔ آخر میں ہی کیوں؟”

    تو اس کا دو ٹوک جواب ہے کہ

    "تم چغد ہو اس لیے تم ہی, ہاں تم ہی”

    دیکھو بھئی بڑا سیدھا فنڈا ہے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں رہ کر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا کہ تم جاتے وقت بیشک "چغد” تھے لیکن ساری عمر وہاں "چغد” بنے رہے اور "چغد گَر” نا بنے تو تم ہی قصور وار ہو لہذا اگر تم "چغد گَر” نہیں بن سکتے تو پھر اوپر لکھے چار اصولوں کی روشنی میں اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ منسلک رہو بجائے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے سے منسلک ہونے کے, کیونکہ یہ دنیا ہی اور ہے, یہ کہلاتی ہے "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا, جس کے اسرار و رموز ہی اور ہیں جو آپ کو سمجھ آگئے تو آپ "چغد گَر” ورنہ آپ سے بڑا "چغد” نہ کوئی تھا, نہ ہے اور نہ ہوگا!!!

  • یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملے کے دو سال

    یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملے کے دو سال

    امریکی کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے اور آج دو سال مکمل ہو گئے لیکن ٹرمپ پر لگا یہ داغ بدستور قائم ہے.

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    یو ایس کانگریس پر حملہ، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

    تحریر:بلال شوکت آزاد

  • ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ:

    ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی تاجر اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی صدارت سے قبل، ٹرمپ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور میڈیا پرسن کے طور پر جانے جاتے تھے، اور ایک ٹی وی ریئلیٹی شو "دی اپرنٹس” کی میزبانی کے لیے مشہور تھے۔ اپنی صدارت کے دوران، ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور تقسیم نے داغ دار کیا تھا، اور ان کا عہدہ صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز جانا جاتا ہے۔

    سیاسی وابستگی:

    ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے رکن تھے، اور انہوں نے 2016 اور 2020 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر صدر کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ اور ان کے ایجنڈے کی وفادار ہو گی, اس مقصد کے لیے کئی گروپس بنائے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان گروپوں میں سے کوئی ایک قابل عمل تھرڈ پارٹی قائم کرنے میں کامیاب ہوگا یا ریپبلکن پارٹی کی سمت کو نمایاں طور پر متاثر کرنے میں کردار ادا کرسکے گا؟

    ٹرمپ کا دور:

    "ٹرمپ دور” کی اصطلاح سے مراد عام طور پر وہ دور ہے جس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ٹرمپ نے متعدد پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازع بیانات اور ایسے فیصلے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے اور دنیا ووامریکہ آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی صدارت کے دوران کی پالیسیاں:

    صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے دوران کئی اہم پالیسیاں نافذ کیں جن کے مختلف مسائل پر اہم اثرات مرتب ہوئے, ان کی کچھ اہم پالیسیوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    ٹیکس میں کٹوتیاں: ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے کارپوریشنوں اور بہت سے افراد کے لیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی۔

    صحت کی دیکھ بھال: ٹرمپ نے سستی نگہداشت کے ایکٹ کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جسے اوباما کیئر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور متعدد پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد اس قانون کو ختم کرنا تھا۔

    امیگریشن: ٹرمپ نے متعدد متنازعہ امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ، اور ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ آرائیول (DACA) پروگرام کو ختم کرنا شامل ہے۔

    تجارت: ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی کی پیروی کی، کئی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر محصولات عائد کیے۔

    ماحولیاتی ضوابط: ٹرمپ نے متعدد ماحولیاتی ضوابط کو واپس لے لیا اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    خارجہ پالیسی: ٹرمپ نے خارجہ پالیسی کے کئی متنازع فیصلوں پر عمل کیا، جن میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری، اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا، اور کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات میں ملوث ہونا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے دور کی اچھی اور بری چیزیں:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں بہت سے اہم تنازعات اور درحقیقت تقسیم کا شکار رہی۔ ٹرمپ کے دور میں پیش آنے والی کچھ بڑی "اچھی” اور "بری” چیزیں یہ ہیں۔

    "اچھی چیزیں:

    ٹرمپ کی زیادہ تر صدارت کے دوران امریکی معیشت نے ترقی کی اور عوام کو کم بے روزگاری کا سامنا ہوا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی۔

    ٹرمپ نے وفاقی عدالتوں میں قدامت پسند ججوں کو مقرر کیا، جن میں سپریم کورٹ کے دو جج بھی شامل ہیں, اور یہ بظاہر امریکہ کے لیے اچھے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

    "بری چیزیں:

    ٹرمپ نے متعدد متنازعہ اور پابندیوں والی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ شامل ہے۔

    ٹرمپ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو باہر نکال لیا اور متعدد ماحولیاتی ضوابط کو پس پشت کردیا جو کہ نہایت برا فعل مانا گیا۔

    ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی پر عمل کیا جس کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات پیدا ہوئے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑا, بلخصوص امریکہ کی چائنہ سے تجارتی جنگ شروع ہوگئی جوکہ امریکی ملٹائی نیشن کمپنیز کے لیے اچھی ثابت نہیں ہورہی۔

    ٹرمپ کو 2019 میں ایوان نمائندگان کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور 2021 میں دوبارہ امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دار کیا اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا جو موقع بنا وہ الگ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا سال بہ سال مختصراً:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ہر سال کے اہم واقعات اور پیشرفت کا خلاصہ یہ ہے:

    سال 2017:

    ٹرمپ نے 20 جنوری کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جو بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا باعث بنا۔

    ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ تجارتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے نکل جائے گا۔

    ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے سفری پابندی جاری کی جسے بعد میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    سال 2018:

    ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کیے جو کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرتا تھا۔

    ٹرمپ نے بریٹ کیوانا کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیا، لیکن جنسی زیادتی کے الزامات کی وجہ سے کیوانوف کی تصدیق میں تاخیر ہوئی۔ آخر کار سینیٹ سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

    ٹرمپ نے روس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

    ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں تاریخی سربراہی ملاقات ہوئی، لیکن دونوں فریق جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    سال 2019:

    ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، لیکن سینیٹ نے مقدمے کی سماعت میں انہیں بری کر دیا۔

    ٹرمپ نے ایک ایسے بل پر دستخط کیے ہیں جو ایک دہائی میں دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ فراہم کرتا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ, میکسیکو کو ایک "محفوظ تیسرے ملک” کے طور پر نامزد کرے گا، جو پناہ کے متلاشیوں کی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنے کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے محدود کر دے گا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ شام سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

    سال 2020:

    ٹرمپ کو ایوان نمائندگان نے دوسری بار مواخذہ کیا، اس بار امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

    ٹرمپ نے کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے جن میں ایک ایسا بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی مواد کو سنسر کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

    ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن نے شکست دی تھی۔

    سال 2021:

    ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری کو ختم ہوئی، جبکہ جو بائیڈن ریاستہائے متحدہ کے 46 ویں صدر کے طور پر منتخب ہوگئے۔

    ٹرمپ کو 6 جنوری 2021 کوکیپیٹل پر یو ایس کانگریس بلڈنگ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سینیٹ میں مواخذے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی کانگریس پر حملہ:

    6 جنوری 2021 کو، اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے، ٹرمپ کے اس جھوٹے دعوے سے حوصلہ افزائی حاصل کی کہ 2020 کے صدارتی انتخابات ان سے چوری کیے گئے تھے، اس لیے الیکٹورل کالج کے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں حامیوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کیپیٹل پر دھاوا بول دیا۔ کیپیٹل پر حملےکے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ایوانِ نمائندگان کی طرف سے ٹرمپ کو مواخذے کا شکار بنے۔ کیپیٹل پر حملہ امریکہ میں کسی سرکاری عمارت کی سب سے اہم خلاف ورزیوں میں سے ایک تھا۔ امریکی تاریخ میں اس حملے کو جمہوریت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    امریکی کانگریس کے حملے کی وجہ اور اس کا پس منظر:

    کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کے حملے کی ٹائم لائن:

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل:

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر امریکی حکام کا ردعمل:

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    امریکی کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کا مستقبل:

    یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا مستقبل کیا ہو گا۔ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پرحملے کے بعد ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری 2021 کو ختم ہوئی، جب منتخب صدر جو بائیڈن نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کو کیپیٹل میں تشدد کو بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔

    مواخذے کی کارروائی کے علاوہ، ٹرمپ کو کیپیٹل پر حملے سے متعلق اپنے اقدامات کے قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی اور مقامی حکام نے ہنگامہ آرائی میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی، اور تحقیقات کا حصہ بنایا۔ یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ کو اس حملے کے سلسلے میں مجرمانہ الزامات کی بدولت آئندہ عوام میں شدید ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ابھی اس پر کچھ واضح نہیں ہے۔

    قصہ مختصر:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    امریکی دارلحکومت پر حملہ 6 جنوری 2021 کو ہوا، جس میں ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں کیپیٹل پر دھاوا بول دیا، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ اس حملے پر، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

  • پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے مجموعی طور پر افراد اور معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگائی جائے۔ ہیلتھ لیوی تمباکو کی مصنوعات پر وہ ٹیکس ہے جو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    سب سے پہلے، یہ تمباکو کی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا کر ان کی مانگ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تمباکو ایک نشہ آور مادہ ہے، اور بہت سے لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکتے ہیں چاہے یہ مہنگا ہو یا تکلیف دہ ہو۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، صحت سے متعلق محصول لوگوں کو تمباکو کا استعمال شروع کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے یا ان لوگوں کی تمباکو چھوڑنے پر حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسرا، تمباکو کی مصنوعات پر صحت پر عائد ٹیکس حکومت پاکستان کے لیے اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اس آمدنی کا استعمال صحت عامہ کے اقدامات، جیسے تمباکو کنٹرول پروگرام، صحت و تدرستی کی تعلیمی مہمات، اور بنیادی حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف قسم کی سنگین صحت کی حالتوں کے لیے ایک بڑا خطرناک عنصر ہے، بشمول کینسر، دل کی بیماری، اور سانس کی بیماری۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے سے، ہیلتھ لیوی ان لوگوں کی تعداد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے جو ان حالات کو پیدا کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول میں ممکنہ خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ دوسرے لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ہیلتھ لیوی غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ان تحفظات کے پیش نظر، حکومت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر حکومت صحت سے متعلق محصول عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو درج ذیل سفارشات میں سے کچھ پر غور کرنا مفید ہو سکتا ہے:

    1. لیوی کو اس سطح پر متعین کریں جو تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہو۔

    2. ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باصابطہ طور پر عوامی صحت کے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کریں جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    3. تمباکو کے استعمال اور صحت کے نتائج پر ہیلتھ لیوی کے اثرات کی نگرانی کریں، اور ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کریں۔

    4. اسٹیک ہولڈرز، بشمول صحت عامہ کے وکلاء، تمباکو کی صنعت کے نمائندوں، اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں تمام آوازیں سنی جائیں اور ان پر غور کیا جائے۔

    5. صحت سے متعلق محصول کی وجوہات اور محصول کو کس طرح استعمال کیا جائے گا کے بارے میں عوام سے واضح طور پر بات کریں۔

    ان سفارشات پر عمل کر کے، حکومت پاکستان تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتی ہے اور اسے آبادی کی صحت کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال کے منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

    لیکن پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی وکالت کرنے کے لیے آپ بھی چند اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

    اپنے آپ کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ رکھیں: اس کی وکالت کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں اس طرح کے اقدامات کی تاثیر پر شواہد کی تحقیق کریں۔

    اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں: آپ اپنے مقامی، صوبائی، یا قومی نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ تمباکو کی مصنوعات پر عائد ہیلتھ لیوی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی وضاحت کریں کہ آپ اسے کیوں اہم سمجھتے ہیں اور یہ پاکستان میں صحت عامہ کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

    انسداد تمباکو پر بنے سماجی گروپوں میں شامل ہوں: پاکستان میں ایسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں جیسے کہ کرومیٹک اور باغی ٹی وی۔ ان گروپوں میں شامل ہونے اور ان کی تمباکو کے خلاف مہم میں حمایت کرنے سے ان کی آواز کو بڑھانے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انسداد تمباکو پیغامات کو پھیلائیں: اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے ساتھ اس اعم مسئلے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی حمایت کریں۔

    اس مسئلے کو باعزت اور باخبر انداز میں اٹھانا اور یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دونوں طرف سے درست دلائل ہو سکتے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ تاہم، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی وکالت کرکے، آپ صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے مضر صحت اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

  • افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ استعمال آج بھی بدستور جاری و ساری ہے، کچھ گروہ جیسا کہ ٹی ٹی پی حملوں کی منصوبہ بندی اور تعاون کے لیے ملک کے پہاڑی اور زیادہ تر غیر حکومتی علاقوں کو استعمال کرتے ہیں جن کو کسی نا کسی افغان طالبان گروہ کی پشت پناہی حاصل رہتی ہی ہے۔ یہ مسئلہ اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر امارت اسلامیہ افغانستان چاہے تو بات چیت سے مسئلہ سلجھ سکتا ہے۔

    اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بعض عسکریت پسند گروپوں نے پاکستان پر حملوں کے لیے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے اور آج بھی یہ ان کا بیس کیمپ ہے۔ مثال کے طور پر، افغان طالبان کا ایک ناراض دھڑا جو خود کو تحریک طالبان پاکستان عرف ٹی ٹی پی کہتے ہیں، جو افغانستان میں بھی کئی سالوں سے سرگرم ہے، اور یہی گروہ پاکستان میں حملے کرنے کا میں سر فہرست ہے۔ یہ گروپ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سرگرم رہتا ہے، جہاں وہ سرحد کی غیر محفوظ نوعیت اور افغان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی محدود موجودگی کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہتا ہے۔

    افغانستان میں ان گروپوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہی ہے، کیونکہ افغانستان نے انہیں نسبتاً آسانی کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، ان گروہوں نے افغانستان میں جو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان نے انھیں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور مسلح کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو مزید ہوا دی ہے۔

    افغانستان میں جاری سالوں کے تنازعے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب تر ہوئی ہے، جس نے عسکریت پسند گروپوں کو افزائش نسل فراہم کی ہے اور افغان حکومت کے لیے ملک کی سرزمین پر اپنا کنٹرول رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس نے تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپوں کو نسبتاً استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

    دن بہ دن دونوں ممالک کی سرحدوں پر کشیدگی کی خبریں بڑھ رہی ہیں جو کہ کسی محدود پیمانے کی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتیں ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے قیام پاکستان سے لیکرآج تک افغانستان کے ساتھ دوستانہ بلکہ برادرنہ تعلقات کی کوشش کی ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو سوائے فتنوں اور نقصانات کے اور کچھ نہیں ملا۔

    یہ بات اظہر الشمس واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان پر خواہ اسلامسٹ نظریات کے حامل حکمران مسلط ہوں یا لبرل نظریات کے حکمران, دونوں صورتوں میں پاکستان کو افغانستان سے فقط تعصب, نفرت اور جانی و مالی نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

    پاکستان میں تب تک امن نہیں ممکن جب تک افغانستان سے متصل سرحدیں بند نہ ہوں اور اکثر یہ سوال دانشور طبقے میں زور پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر اور ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان کو لگتی ہیں لیکن اس ملک سے حملے فقط پاکستان پر ہی ہوتےہیں, کیوں؟ اس کیوں کا جواب ہم تو جانتے ہیں لیکن دنیا کو منوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

    مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    تمباکو نوشی اور اس سے متعلقہ دیگر مصنوعات پر یکسر پابندی کا مطالبہ کرنا ایک بات ہے جبکہ ان کی خرید و فروخت اور ترغیبات پر قدغن لگانا یا محدود کرنا ایک بات ہے, اور ان میں آخر الذکر بات حقیقت کے زیادہ قریب ترین ہے کیونکہ تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانا وغیرہ آج کی دنیا میں ممکن نہیں کہ ادھر سماجی و سیاسی کارکنان کی محنت سے کوئی حکومت ایسا قدم اٹھانے لگے گی تو کسی کونے کھدرے سے کوئی نا کوئی انسانیت اور انسانی حقوق کا چورن منجن بیچنے والا گروہ, ادارہ یا شخصیت ٹپک پڑے گی اور نجانے کہاں سے اور کیسے تمباکو نوشی جیسی مضر صحت, مضر ماحول, مضر اخلاقیات اور مضر معیشت گھٹیا عادت اور زہریلی شہ بابت قوانین اور اصول و ضوابط لے آئیں گے کہ یہ بنیادی انسانی حق ہے بلا بلا بلا اور جو اس کا خاتمہ یا محدودیت چاہتے ہیں وہ ظالم اور انسان دشمن لوگ ہیں۔

    جبکہ ایک محتاط اندازے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی سستی قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔

    مزید یہ کہ تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ کیا ایک معاشرے کے طور پر، ہمیں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کرکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟

    اور آپ کو آگاہی بہم دیتے چلیں کہ ہماری آبادی کا تقریباً نصف، مطلب 45% فیصد حصہ 18 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ کہ پاکستان میں بھی پاکستانی بچوں کے بنیادی حقوق کو مانا اور محفوظ کیا جاتا ہے بلخصوص پاکستان کی جانب سے عالمی برداری کو دلائی یقین دہانیوں اور عہد و پیمان کے تناظر میں کیونکہ تمباکو نوشی دراصل اور درحقیقت ایک وبائی بیماری ہے جو بچوں کی زندگی، بقاء اور ترقی، صحت، تعلیم اور صاف اور سرسبز عوامی مقامات تک رسائی کے حق کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔

    فرسٹ ہینڈ سموکنگ تو بہرحال بچوں اور نوجوانوں کی زندگی تباہ و برباد کرتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جو سب سے زیادہ نقصان نان سموکر بچوں اور نوجوانوں کا ہوتا ہے اسکی بنیادی وجہ سکینڈ ہینڈ سموکنگ اور تھرڈ ہینڈ سموکنگ ہے جو کہ دراصل بلاواسطہ اثرات سے مزین ہے جو ایک تمباکو نوش کے مقابلے دگنے اور خطرناک ہیں۔

    پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری دراصل تمباکو خریدنے اور استعمال کرنے کے مختلف حربوں سے بچوں اور نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بچوں کو تمباکو نوشی اور اس کے مضر صحت اثرات سے بچانے کے لیے، 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب پاکستانی روپے کما کر خزانے کو فائدہ پہچایا جاسکے اور بعد میں یہی روپیہ صحت کے مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے اندر تک موجود اثر و رسوخ کی بدولت بہت سے پالیسی سازوں نے اس بل کو مسلسل بلاک کر رکھا ہے جس وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615.07 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے لیکن تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 20 فیصد ہے۔ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری نے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگا کر بلکہ بچوں کی صحت کی قیمت پر اب تک اربوں کھربوں کمائے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری اسے شرافت سے واپس کرے وگرنہ آج چند آوازیں اٹھ رہی ہیں تو کل یہ شور میں بدل جائیں گی اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کو جان بچا کر بھاگنا مشکل ہوجائے گا۔

    خیال رہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے ہاتھوں تباہ ہونے دینا ایک ایسے معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی جو پہلے ہی اپنے عہد و پیمانوں کو اپنے بچوں تک پہنچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے اور ابھی تک عشر عشیر بھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ایسے میں تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر صرف بچوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے غیر معمولی رویے کو اجاگر کرے گی اور ہماری بے حسی و خود غرضی کا نقاب اتارنے کا باعث بنے گی۔

    تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت پاکستان نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے پرو چائلڈ اقدامات کو نافذ کرنے کا عہد کیا ہے۔ جبکہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہمیں بچوں سے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن ایف بی آر اور حکومت وقت میں بیٹھی کچھ کالی بھیڑیں اور سماج دشمن انسان مل کر اس بل کو روکے ہوئے ہیں اور ان کی درپردہ کوششیں جاری ہیں کہ اس بل کو کسی طرح کالعدم قرار دلوادیں اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری سے اپنی خاطر خواہ قیمت وصول لیں اور اپنی وفاداریوں پر مہر ثبت کرلیں۔

    واضح کردوں کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے بارہا کہا ہے کہ سگریٹ کی قیمت کم از کم 30 روپے فی پیکٹ تک بڑھا دی جائے تاکہ سگریٹ کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور صحت کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے اس پائیدار حل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بیشک یہ ہی وہ ٹیکس ہے جس کے لیے 2019 میں ٹوبیکو ہیلتھ لیوی بل منظور کروایا گیا تھا لیکن وہ تاحال سردخانے میں پڑا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق پاکستان ٹوبیکو انڈسٹری کے جی ایم صاحب کے بھائی آج کل ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کے قرب و جوار میں پائے جاتے ہیں اور ایک اعلی سرکاری عہدہ جس کا براہ راست تعلق وزیراعظم سے ہے پر براجمان ہیں تو یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس بل یا دیگر کسی ایسے سخت قدم پر اثر انداز نہیں ہوئے, ہورہے یا ہوں گے جو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے خلاف ہو یا ہے۔

    قصہ مختصر کہ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80 ارب سیگریٹ پھونکے جاتے ہیں جس میں عمر کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں, جبکہ میرے خیال میں 80 ارب سیگریٹ تو وہ ہوئے جو رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے تیار اور فروخت ہوئے ہونگے جبکہ لگھ بگھ 20 ارب کے قریب وہ سیگریٹ بھی ہیں جو مارکیٹ میں کسی نہ کسی نام رنگ اور ہجم میں بکتے ہیں لیکن ان کا کوئی کھاتہ درج نہیں تو اس طرح پاکستان میں 100 ارب سیگریٹ سالانہ پھونک کر قوم کا پیسہ اور صحت ساتھ پھونکی جارہی ہے جس پر ہمیں سر پھروں کی طرح سوچنا اور سخت ترین اقدامات کرنے ہونگے اور ہیلتھ لیوی بل کی منظوری اور اب اس کا بے رحم نفاذ دراصل اس حوالے سے شروعات ہوگی, ہمیں صحت مند معاشرہ اور پھلتی پھولتی معیشت و معاشرت چاہیے تو ملکر اس مدعے پر جاندار اور شاندار آواز اٹھانی ہوگی وگرنہ یہ یاد رکھیں کہ آپکی آبادی کے 45% فیصد اور 65% فیصد حصے پر مشتمل بچے اور نوجوان روزانہ کی بنیاد پر تمباکو نوشی کا شکار ہورہےہیں اور یہ تعداد 1200 سے فی دن کے حساب سے جاری و ساری ہے, اب آپ سوچ لیں کہ یہ تعداد کم کرنی اور ختم کروانی ہے یا اس میں روز بروز اصافہ ہو؟

    بچےآپ کے, صحت آپ کی سو فیصلہ بھی آپ ہی کریں کہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہونا چاہیے کہ نہیں اور اگر ہونا چاہیے تو اس میں تاخیر پر آپ شور مچانے میں پیش پیش رہیں۔

  • ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (سورہ توبہ)

    اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں ۔

    ہر سیکنڈ, ہر منٹ, ہر گھنٹہ, ہر دن, ہر ہفتہ, ہر مہینہ, ہر سال اور ہر صدی فقط اللہ کی ہے, اللہ کی جانب سے اور فقط اللہ کے لیے ہی ہے لہذا اے زمانے کو کوسنے والو۔ ۔ ۔ ماہ و سال کے گزرنے پر ان کی اچھی یا بری تخصیص اور تفریق کرنے والوں خدارا اللہ سے ڈر جاؤ اور توبہ و استغفار کی کثرت کرو کیونکہ کوئی سیکنڈ, کوئی منٹ, کوئی گھنٹہ, کوئی دن, کوئی ہفتہ, کوئی مہینہ, کوئی سال اور کوئی صدی اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ ہمارے اعمال اور اقوال کے نتائج ہیں جو ہماری اچھی یا بری تقدیر کے ذمہ دار ہیں نا کہ وقت یا کوئی مخصوص زمانہ۔

    اللہ نے وقت کی قسم لی ہے مطلب وقت خود اللہ کی ایک صفت ہے اور ایسے میں ہم وقت کے مخصوص حصے کو اپنے اعمال و اقوال سے تباہ کی ہوئی تقدیر کا ذمہ دار ٹھہرائیں تو ہم سے بڑا ظالم اور مفسد کون ہوگا؟

    اللہ کی قسم دو ہزار بیس، اکیس اور بائیس میں جو بھی مشکلات اور مصائب جھیلے اور جن بھی آزمائشوں کا شکار ہوئے وہ سب بھی منجانب اللہ اور ہمارے اعمال و اقوال کا نتیجہ تھے لہذا ان پر صبر و شکر اور استغفار کے علاوہ اور کوئی عمل یا ردعمل قطعی اللہ والوں کا شیوہ اور سنت محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم نہیں۔

    بیشک ہر شہ پر اللہ قادر ہے اور بیشک اللہ ہی رازق اور شافی ہے لہذا سال بھر ہوئی رزق کی تنگدستی اور طاری ہوئی بیماریوں کے باوجود اللہ کا شکر اور صبر ہم پر واجب ہے کہ ہم جو ان کے باوجود زندہ اور صحت مند ہیں تو اللہ کا ہم پر خاص کرم رہا اور دامے درمے سخنے ہی صحیح پر ہم اللہ کی طرف سے آئی مشکلات و مصائب کو جھیل کر نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام عالم اسلام اور تمام انسانیت پر رحم کرے, اس سال ہوئی ہماری کمی کوتاہیوں اور گناہوں کو درگزر کرکے نئے سال کو امن و آشتی کا گہوارہ اور تمام انسانیت کے لیے خوشحالی اور برکت کا سال بنا دے۔

    اللہ ہمارے انفرادی و اجتماعی گناہوں کو درگزر فرمائے اور ہمارے لیے زمانے میں خیر و برکت شامل فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار اور برگذیدہ بندے بن جائیں۔ آمین۔

  • LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 میں سر فہرست تین مسائل ہیں جس کا تعلق دنیا کی کل آبادی کے اندھا دھند پھیلاؤ سے ہے۔

    1- آبادی
    2-خوراک
    3-ماحولیات

    اب آبادی کے مزید پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے, نظام, تحاریک اور معاشرتی ڈھانچے تشکیل دیئے گئے, تشکسل دیئے جارہے ہیں اور مزید تشکیل دیئے جائیں گے جس سے بغیر کسی زیادہ خون خرابے کے قدرتی طور پر نسل انسانی کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

    بحث اور تفصیل کافی طویل ہے, مختصراً یہ کہ LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے اور پہلے سے بڑھی ہوئی آبادی میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور جب آبادی کم ہوگی اور مزید نہیں پھیلے گی تو فی کس خوراک کا تخمینہ گھٹے گا اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوسکے گی کہ کم آبادی میں انڈسٹریل کمپلیکسز کی پروڈکشن کا پیک لیول کم ہوگا۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ اول غیر فطری جنسی رشتوں سے عمل تولید کا قدرتی سائیکل ٹوٹ جائے گا جس سے ایک تو نئی پیدائش رک جائے گی اور دوم غیر فطری جنسی رشتوں سے جان لیوا وائرسز اور بیکٹریا کی منتقلی کی بدولت لاعلاج بیماریاں عام ہوجائیں گی جس سے پہلے سے موجود آبادی کا خطیر حصہ قبروں کی جانب رواں دواں ہوگا۔

    جب ایسا ہوگا تو یقینا بڑھی ہوئی یا بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جو خوراک اور ماحولیات متاثر تھے یا ہورہے تھے وہ مزید متاثر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    مزید یہ کہ جن معاشروں میں خاندان نامی انسٹیٹیوٹ کا وجود عنقا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے وہاں تو خاموش تباہی کی شروعات ہوچکی لیکن اب نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 کے کرتا دھرتاؤں کا بنیادی ہدف تیسری دنیا ہے جہاں پوری دنیا کی آبادی کا 60 سے 70 فیصد آباد ہے اور جو دنیا کی خوراک اور ماحول پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں۔

    اور ہاں عورت کی آزادی بھی اس ایجنڈے کا ایک بنیادی جزو ہے کہ جب ” عورت میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ بلند کرکے مرد کو ٹھینگا دکھا کر راستہ ناپے گی تو پھر بھی بچی کچھی صورتحال جس میں پیدائش کا امکان رہتا ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائے گی۔

    لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین آپ کو یہ باتیں کرنے پر جہالت, قدامت پسند اور سازشی تھیوریز کے پروردہ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یاد رکھنا ہم جوابدہ اللہ کو ہیں تھڑے باز تھرڈ کلاس لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین مخلوق کو نہیں اور یہ سب بتانا اور آگاہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں آتا ہے لہذا اس فتنہ عظیم سے بچیں۔

  • بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے ٹھہراؤ اور جمود کا فرق نہیں معلوم تھا, بہت طویل عرصہ لگا ان میں فرق کو سمجھتے سمجھتے لیکن اب جبکہ اس بابت جان چکا ہوں تو متنوع المزاجی اور غیر مستقل مزاجی کے فتوے پاتا ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ جمود کا شکار رہ کر ایک لمبا عرصہ میں نے بیگاریں بھگتیں اور اپنا وقت اور قابلیت کھوٹی کی لیکن ٹس سے مس نہ ہوا کہ چلو خیر ہے لیکن وہ میری غلطی بلکہ فاش غلطی تھی اب میں جمود کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور نت نئے تجربے کرتا رہتا ہوں کہ سیکھنے کو بھی ملے اور آدم شناشی کے فن میں طاق ہوسکوں۔

    لوگ آپ کو بیوقوف سمجھیں اور آپ کا استعمال کرنا چاہیں یہ قطعی انہونی اور بری بات نہیں لیکن آپ واقعی بیوقوف بن جائیں اور لوگوں سے اسی بیوقوفی میں استعمال ہوجائیں یہ ایک خطرناک بات ہے, بس اس بات کو اصول بنالیں کہ ” میں, مجھے اور میرا” کو آپ نے فوقیت دینی ہے ناکہ مدمقابل اس انسان نے جو آپ کی بیگار چاہتا ہے۔

    اپنی کور ویلیوز کو ڈی ویلیو مت کرنے دیں کسی کو, اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ منافع بخش بنائیں خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا تعلق داؤ پر لگتا ہے تو لگنے دیں لیکن مفت میں کسی کو مشورہ بھی مت دیں کیونکہ جس چیز جس کام جس انسان کی قیمت طے نہ ہو, مفت میسر ہو اس کے ساتھ من و سلوی کے ساتھ بنی اسرائیل والا سلوک ہی ہوتا ہے لہذا کوئی بھی جذبہ خدمت اور عظمت رفتہ کا چورن منجن دیکر آپ کو کسی نئے نشے کا شکار کرنا چاہے تو آپ صاف صاف اپنا معاملہ اپنی قیمت منہ سے بتادیں کیونکہ "نشے سے انکار زندگی سے پیار” ایک اچھا اصول ہے۔

    75 سالوں سے پاکستان میں یہی چل رہا ہے, بہت سی خرابیاں اور برائیاں اب سوشل نارمز بن چکیں ہیں جس میں حق تلفی, خوشامد, منافقت اور مذہب, ریاست و سیاست کے نام پر بیگار لینا عام سی چیزیں ہیں۔

    دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان میں کاز بلڈرز کی بہتات ہوچکی ہے کیونکہ یہاں کسی بھی کاز کا نام استعمال کرنا اور راتوں رات پیسہ و شہرت بٹورنا نہایت آسان عمل ہے جبکہ جو کاز شروع ہوتا ہے بلخصوص جن کے لیے شروع ہوتا ہے ان کو اس کا رائی برابر بھی خالص فائدہ نہیں پہنچتا اور شومئی قسمت اس میں دائیں بائیں اور وسط کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں مطلب اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

    آپ بطور عوام ایک ٹول اور ایسٹ بن چکے ہیں, ایک بوفے سجا ہوا ہے آپ کا سر راہ, جس شاطر اور لالچی دماغ کو دور کی کچھ سوجھ جائے وہ ایک لش پش سا نام اور نعرہ لیکر آپ کے بیچ کودی مارتا ہے اور آپ کےسجے بوفے سے من پسند عوام کو اٹھا لیتا ہے, آپ آوے آوے اور جیوے جیوے کے نعرے بلند کرکے اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکی جڑیں پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ تناور ہوجاتا ہے تو سب سے پہلےآپ کو اپنے سائے اور پھل سے محروم کرتا ہے جبکہ جو بجز سرمایہ داری کرتے ہیں وہ اس کے سائے اور پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    خیر بات لمبی ہوگئی کہ جمود کا شکار مت ہوں, ٹھہراؤ اختیار کریں کہ ایک پل ٹھہرنا اور مشاہدہ کرنا اور سیکھنا غیر منافع بخش نہیں البتہ مستقل ایک کھونٹے سے بغیر کسی معاوضے کے بندھنا نرا دنیاوی و دینوی نقصان ہے۔

    اپنے وقت, ہنر, قابلیت اور معاشرتی شناخت کا معاوضہ طے کریں اور وصولیں پھر کسی کے لیے "خدمات” کا تعین کریں۔

  • پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    سیگریٹ نوشی اور منشیات کے حوالے سے میں پہلے بھی ایک بلاگ میں بتاچکا ہوں کہ مجھے اس حرکت سے کس قدر نفرت ہے؟

    خیر پاکستان پیکٹ اور کرومیٹک اس حوالے سے پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ناصرف تمباکو نوشی کے مضر اثرات بارے آگاہی حاصل ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارمز اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر ایسی قانون سازی ہو اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے تمباکو نوشی کے عفریت کو لگام ڈالی جاسکے۔

    اس مقصد سے پاکستان پیکٹ اور کرومٹیک باہمی اشتراک سے مختلف کیمپینز اور عوامی آگاہی پروگرام اور مقابلہ جات منعقد کرتے رہتے ہیں جس میں ڈیجیٹل میڈیا کی حد تک باغی ٹی وی ان کے شانہ بشانہ رہتا ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    2015 میں PHW کے سائز کو فی پیک 85 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم، تمباکو کی صنعت کے دباؤ کے تحت، حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اس کے بجائے 2017 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں صرف 60% PHW کا اعلان کیا گیا، جو اس وقت نافذ العمل ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد وزارت صحت کو اس مشن میں شامل کرنا ہے کہ وہ سگریٹ کے پیک کے PHW سائز پر غور کرے اور اسے 85% تک بڑھائے۔

    مزید یہ کہ پاکستان تمباکو کنٹرول پر ایف سی ٹی سی – ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن کا دستخط کنندہ ہےکیونکہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال بہت زیادہ ہے جو کہ درحقیقت اموات کی بلند شرح کی نشاندہی کرتا ہےجبکہ تمباکو کے بڑے فروخت کنندہ کی طاقت کے استعمال کی وجہ سے قوانین کے نفاذ میں اب بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہےاس لیے ہماری نسل نو کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے میں ایک اہم قدم تمباکو کی مصنوعات تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

    تاہم، تمباکو کمپنیوں نے بھی احتیاط سے اس کی نشاندہی کی ہے اور وہ مسلسل "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کی تلاش میں ہیں۔

    لہٰذا، مخالفت کی مہمیں جو عام سے خواص دونوں طبقوں کو مربوط کرتی ہیں تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    انہی مقاصد کو عوام تک پہنچانے میں پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی پیش پیش ہیں اور اس حوالے سے عوامی مقابلوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد کرکے اس مقدس مشن کو پھیلا رہے ہیں۔

    اس سال پہلے پوسٹ کارڈ مقابلے کا کامیاب انعقاد کیاتھا اور اب سال کے آخر میں تحریری مقابلہ منعقد کروایا جارہا ہے حس کی تفصیل دی جارہی ہے۔

    جو لوگ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ ضرور اس تحریری مقابلے کا حصہ بن کر پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے شانہ بشانہ ہوں۔

    تحریری مقابلہ شروع ہونے کی تاریخ یکم دسمبر 2022 ہے۔

    کرومیٹک, پاکستان پیکٹ اور باغی ٹی وی لایا ہے تحریری مقابلہ سیزن 01

    انعامی رقم

    پہلا انعام = مبلغ دس ہزار روپے صرف!!!

    فاتح کا اعلان پاکستان کے تمام ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے ایک شاندار تقریب میں کیا جائے گا۔

    عنوان اور تھیم = ہیلتھ لیوی (صحت ٹیکس)

    کون کون حصہ لے سکتا ہے؟

    بھئی, کوئی بھی پاکستانی شہری جس کی عمر 12 سے 30 سال تک ہو تحریری مقابلے میں شامل ہونے کا اہل ہے۔

    کس طرح شرکت ممکن ہے؟

    اپنی انٹری یا تو بلاگ، مضمون، فیچر یا کسی بھی اور تحریری صنف میں لکھ سکتے ہیں۔

    تحاریر کیسے بھیجیں؟

    1-سب سے پہلے کرومیٹک, پیکٹ پاک اور باغی ٹی وی کے ٹوئٹر, انسٹاگرام اور فیسبک اکاؤنٹس کو فالو کریں۔

    2- دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    3- یا اپنے نام، شہر، عمر، رابطہ نمبر اور سامنے اور پیچھے کی CNIC تصویر کے ساتھ "” ای میل کے ذریعے اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    مزید تفصیلات کے لیے Pakistanpact.com یا trustchromatic.com یا baaghitv.com کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

    تحریری مقابلے کے فاتح کا اعلان 25 دسمبر 2022 میں کیا جائے گا۔

    پاکستان پیکٹ – کرومیٹک – باغی ٹی وی

    تو پھر سوچ کیا رہے ہو, اٹھاؤ قلم اور آؤ مد مقابل اور جیتو دس ہزار کی انعامی رقم وہ بھی ایک شاندار تقریب میں۔