Baaghi TV

Tag: #بلال #شوکت #آزاد

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد جانتے ہیں کیا ہے؟

    اس کا ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہ ہونا اور ہماری فطرت اور جبلت کے عین مطابق ہونا ہے۔

    لچک اور حجت اس دین کا خاصہ ہے جبکہ چمک اور شدت کا اس سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

    اب ذرا غور کریں کہ ہم اس وقت جس اسلام (کہنا تو مسلک, فرقہ اور جماعت چاہیے پر چلو۔ ۔) پر کاربند ہیں کیا وہ ہماری فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور اس پر ہماری خواہشات اور توقعات اثر انداز نہیں؟

    کیا اس میں لچک اور حجت غالب ہے یا چمک اور شدت سے لبریز اسلام ہے ہمارے پاس؟

    اسلام کوئی راکٹ سائنس نہیں یہ بات ازحد ضروری ہے سمجھنے اور ماننے کے لیے لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارا اسلام (درحقیقت مسالک وغیرہ یا مبینہ اسلام) اس کسوٹی پر پورا نہ اترے کہ فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہیں بلکہ ہماری خواہشات و توقعات اس کے تابع ہیں۔

    اسلام جذبات کی نمائش کا دین نہیں تھا لیکن ہماری صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جذباتی دین ہے جو کہ سراسر غلط اور تعمیر شدہ تصویر ہے۔

    ہمارے متشدد جذبات و احساسات کا غلبہ ہمارے دین اور امت کی حالت زار کا اصل ذمہ دار ہے۔

    اسلام نے کسی عمل کو شدت سے جوڑنے اور اس پر فخر کا حکم یا مشورہ نہیں دیا لیکن ہم ہیں کہ ہماری ہر بات ہی کاٹنے پیٹنے اور مار ڈالنے سے شروع ہوتی ہے تو اختتام کیسے اچھا اور خوشنما ہو؟

    بہرحال موحودہ دور میں اسلام سے اسلام کے نام پر مخصوص طبقے کا کھلواڑ جاری ہے جو اسلام کو بطور اوزار اور ہتھیار ذاتی مفادات کی جنگ جیتنے کا ذریعہ بنا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوئے تو اسلام عنقاء ہوجائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    اسلام کے تابع ہونا تھا نا کہ اس کو اپنے تابع کرنا تھا, یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہم جان بوجھ کر سمجھنا اور ماننا نہیں چاہ رہے۔

  • پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔

    بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ

    "صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔

    وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • ڈر —- بلال شوکت آزاد

    ڈر —- بلال شوکت آزاد

    دنیا میں سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ڈر کا ہے اور دنیا کی ہر پراڈکٹ خواہ اس کا تعلق انسانی زندگی کی ضروریات سے ہو یا نفسیات سے, ان کے فیچرز اینڈ بینفٹس میں ڈر ایک ایسا جزو ہے جو مشترک عنصر ہے۔

    مذاق نہیں آپ اسلحے سے لیکر ادویات تک کا موازنہ کریں, لباس سے لیکر خوراک تک کا موازنہ کرلیں, سیاست سے لیکر نظریات تک کا موازنہ کرلیں اور مذاہب سے لیکر عقائد تک کا موازنہ کرلیں۔ ۔ ۔ آپ کو ان سب کے موازنے میں جو چیز سب سے زیادہ ملے گی وہ ڈر ہوگی۔

    مطلب دنیا کو پہلے ڈرایا جاتا ہے, بار بار بتا کر ڈر کا ماحول اور نفسیات تیار کی جاتی ہے اور پھر اپنی پراڈکٹ تھما دی جاتی ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں آپ یہ لیں اور ڈر کو بھول جائیں۔

    آپ جانتے ہیں ڈر سے سب سے زیادہ فائدہ دنیا بھر کے کون سے عناصر اٹھارہے ہیں؟

    ہر ملک کی افواج اور ایجنسیاں, سیاسی پارٹیز, بیوروکریسی, عدلیہ اور ماس میڈیا۔ ۔ ۔ ان کے بعد سرمایہ دار ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اجتماعی حیثیت میں وہ پہلے مذکورہ کیٹیگریز میں فال کرچکے ہیں اور پھر ان کے بعد باقی ساری دنیا کے وہ افراد اور ادارے ہیں جن کی طاقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔

    انسان کو ڈر نے ایک نادیدہ دائرے میں مقید کردیا ہے اور جب آپ دائروں میں مقید ہوجاتے ہیں تب آپ کی دیکھنے, سوچنے, سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کی طاقت سلب ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ آپ پھر وہی دیکھتے, سوچتے, سمجھتے اور مشاہدہ کرتے ہیں جو آپ کو ڈرانے والے آپ کے دائرے میں بٹھا کر دکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔

    اس سے زیادہ کھل کر بھی میں بیان کرسکتا ہوں اور مثال بھی دے سکتا ہوں لیکن وہ پھر بہت سے نامی گرامی ہستیوں کو گراں گزرنے کا اندیشہ ہے لہذا میرے لیے اب یہی سدرہ المنتہی ہے کہ اس سے آگے میرے پر جلنے کا شدید اندیشہ ہے لہذا تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانو۔

  • کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    آغاز تحریر کروں گا اس دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مفہوم سے جو اسلام کی سربلندی کا اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

    دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا مفہوم!

    "اے رب عمر بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے ایک عمر دیدے۔”

    اور اللہ کو پسند آئے عمر بن خطاب رض اور عمر رض کو پسند آیا رب کی توحید والا دین اور عمر رض بنے توحید اور ختم نبوت کی ڈھال۔

    آج بس عمر رض بن جاؤ۔

    وہی عمر رض

    "جس کو اسلام کی سربلندی کی خاطر امت میں پانے کی دعا نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کی تھی۔”

    وہی عمر رض جس نے بوقت ہجرت للکارا تھا کہ

    "جس کو خواہش ہو کہ اس کی اولاد یتیم اور بیویاں, بیوہ ہوجائیں تو وہ آگے بڑھے اور عمر کا راستہ روکے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی موجودگی پر شیطان کا دم گھٹتا اور جسم خوف سے تھر تھر کانپتا تھا کہ راستہ بدلنے میں عافیت جانے۔”

    وہی عمر رض

    "جو کالی اندھیری راتوں کو بطور خلیفہ وقت مدینے کی گلیوں میں گشت کرتا اور سفید پوش فاقہ کشوں کے رزق کا بندوبست کرتا زمین پر اللہ کی جانب سے مخلوق کی کفالت پر معمور رہتے ہوئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو نبوت پر معبوث ہونے کی بشارت خود آخری نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے دی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔”

    وہی عمر رض

    "جن کے عدل اور انصاف کی یہ مثل تھی کہ ایک منافق مسلمان کی گردن کندھے سے جدا کردی ایک یہودی کے حق میں نبوی ص فیصلے, صدیقی رض فیصلے اور توہین رسالت کے ارتکاب کو پا کر۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی اطاعت میں سیف اللہ خالد بن ولید رض معزول ہوکر مسجد میں ڈانٹ سنتے رہے اور اف تک نہ کی۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی ہیبت سے قیصر و کسری کے دربار لرز جاتے تھے۔”

    وہی عمر رض

    "جس نے فتح بیت المقدس کے بعد فلسطین کا سفر ایک خادم اور اونٹ کے ساتھ ایسے شروع کیا کہ سواری کی باری باندھ لی اور جب سواری یروشلم میں داخل ہوئی تو اونٹ کی مہار خلیفہ وقت کے ہاتھ اور خادم اونٹ پر سوار دیکھ کر دشمن محو حیرت ہوگئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے قبول اسلام نے ابتدائی مسلمانوں کو بیت اللہ میں بلا خوف وخطر جانے کا راستہ دیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے پڑھائے ہوئے جنگی, امور حکومت اور شہری نظامت کے اسباق آج جدید دور میں ترقی یافتہ ممالک کے آئین میں الگ الگ ناموں سے موجود ہے پر ہم اسے "عمر لاء” کے نام سے جانتے ہیں۔”

    وہی عمر رض

    "جو 22 لاکھ مربع میل کا اکلوتا حاکم وقت لیکن 22 بائیس پیوند لگے کرتے میں رہنے والا سادہ اور عاجز حکمران۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو بھری محفل میں اضافی کپڑے کا سوال کیا گیا اور اس عمر رض کے ماتھے پر شکن بھی نہ آئی اور جواب دیکر امت کو مطمئن کیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کا ذکر آج بھی شیاطین کی موت کے برابر ہے۔”

    جی ہاں یہ ہے وہ عمر رض اور ایسا تھے وہ عمر رض اور ایسے ہی عمر رض بننا ہے ہمیں۔

  • ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    میرا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ جیسی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو میسر تھی اس کا چوتھا حصہ بھی اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو میسر ہوتا تو شاید وہ ہی آخری نبی ہوتے۔

    لیکن ان کو محض چند ہی صحابی میسر ہوئے جو کافی کمزور اور بے بس بھی تھے اسی لیے حضرت عیسی علیہ السلام پر نبوت ختم نہ ہوئی جبکہ بہت سی آفاقی و الہامی باتوں و پیش گوئیوں کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی جماعت میسر ہونا جو ان کی زندگی اور بعد از زندگی اسلام کی ترویج, ترغیب اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کی حفاظت کا ذمہ بھرپور انداز میں لے سکیں, بھی ختم نبوت کی ایک بڑی اور عظیم نشانی ہے۔ ۔ ۔

    مزید یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک کسی نبی کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جماعت میسر نا ہونا بھی مشیت ایزدی اور نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت کی عظیم نشانی اور گواہی ہے۔

    ایک اور بات کہ چلو بہت بڑی جماعت نہ بھی میسر ہوتی چلو عشرہ مبشرہ جیسے صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے یا یہ بھی نہ صحیح تو چلو خلفائے راشدین سے چار صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے تو منظر قدرے مختلف ہوتا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت, شریعت اور امت کا۔

    لیکن اللہ نے جو جو اور جیسا جیسا لکھا تھا ویسا ہی ہونا تھا سو ہوا اور دنیا کو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تو ملے ہی ملے لیکن ان کے ساتھ بونس میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بلخصوص حصرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ملے اور یہ سلسلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت زید ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمرو ابن عاس رض اللہ تعالی عنہ وغیرہ سے دراز اور چمکدار ہوگیا۔

    صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل بزبان نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مہر بجانب اللہ کہ

    "میں ان سے راضی ہوگیا”,

    میری بات یا قیاس کو تقویت دیتے ہیں کہ بیشک صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ختم نبوت, مہر نبوت اور دین محمدی کی تکمیل کا ایک اہم اور لازمی جزو اور باب ہیں۔

    یعنی قصہ مختصر یہ کہ میرے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ہر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ دراصل ختم نبوت پر مہر تصدیق اور قیامت تک پہریدار ہے۔

  • عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!!  — بلال شوکت آزاد

    عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!! — بلال شوکت آزاد

    اچھا آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عشق تو کسی تعارف اور تفصیل کا محتاج ہی نہیں پر آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد جن تین لوگوں سے مجھے اللہ واسطے کی محبت اور عقیدت ہے وہ حضرت عمر رض, حضرت یوسف صلاح الدین ایوبی رح اور حضرت محمد علی جناح رح ہیں۔

    ان تینوں میں کچھ باتیں قدرے مشترک ہیں۔

    —اصول پرست تھے۔

    —انصاف پسند تھے۔

    —اپنے عقائد میں مستحکم اور متشدد تھے۔

    —اسلام کو ہی دنیا و آخرت کی ہر کامیابی کا ذریعہ سمجھتے اور مانتے تھے۔

    —مسلمانوں کو ایک مرکز پر, ایک نظریہ پر اور ایک فکر پر مجتمع کرنے کے لیئے فکرمند تھے۔

    —آزادی اور حریت کے پاسبان تھے۔

    —کرپشن اور کرپٹ ذمہ افراد سے سخت متنفر تھے۔

    —جھوٹ اور جھوٹے سے متنفر تھے۔

    —غیر مسلموں کی ناک پر لڑے ہوئے تھے۔

    —بہترین منتظم تھے۔

    —امن پسند مگر جنگجو طبیعت کے حامل تھے۔

    —دشمنوں کے دشمن اور دوستوں کے دوست تھے۔

    —اللہ, رسول اللہ ص اور خود سے کمیٹڈ تھے۔

    —اسلام کے محافظ اور پشتیبان تھے۔

    —اللہ نے ان تینوں سے امت مسلمہ کے حق میں خیر کے کام لیئے اور ان کو امت کی رہنمائی کا موقع دیا۔

    —ان تینوں کا نام دوست تو دوست دشمن بھی آج تک عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

    —مسلمانوں کی امیدوں کے چراغ تھے۔

    —اللہ کے مقرب تھے تبھی انہیں آج بھی ہم یاد کرتے ہیں۔

    اور سب سے بڑی بات کہ

    —فلسطین پر, ارض مقدس پر ان تینوں کا ایک ہی موقف تھا۔ جناح کو مہلت کم ملی ورنہ وہ فلسطین کو بھی آزاد کروانے کی اہلیت رکھتے تھے اور وہ ضرور نکل کھڑے ہوتے دیگر دو کی طرح پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

    خیر عمر رض اور صلاح الدین ایوبی دونوں ہی فاتح بیت المقدس ہیں جبکہ جناح وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے ہمیشہ کے لیئے اسرائیلی کو لعنتی اور ناپسندیدہ رہنے دیا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔

    عمر رض اور ایوبی کی فتح بیت المقدس کی یادیں تبھی زندہ و جاوید ہم تک پہنچ سکیں کے جناح نے پاکستان بنایا جہاں ہم آزادی سے اپنا آپ کھوج سکتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ جناح آنے والی نسلوں کو باور کروانے کے لیئے کہ فلسطین ہماری گمشدہ میراث ہے جو ہم نے واپس لینی ہے, وہ ہمارے پاسپورٹ پر لکھوا گئے کہ

    "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ہر ملک کے لیئے کارآمد ہے۔”

    عالم اسلام کو آج ان تینوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی ہی ضرورت ہے۔

    اللہ ان تینوں ولیوں کی قبور کو منور اور ٹھنڈا رکھے اور کروٹ کروٹ جنت کے نظارے کروائے اور روز قیامت ہمیں انہی کے ساتھ اٹھائے۔

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔