Baaghi TV

Tag: #بلال #شوکت #آزاد

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    2 دسمبر کو ہم متحدہ عرب امارات کا قومی دن منانے کے لیے تیار ہیں! اس سال۔ آئیے اس اہم دن کی تاریخی نسبت کو یاد کریں اور ان لوگوں کا احترام کریں جو متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ آئیے اس دن کی تاریخی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ:
    متحدہ عرب امارات ہمیشہ اتنا طاقتور ملک نہیں تھا جتنا آج ہے۔ درحقیقت یہ ملک مختلف قبائل کے جھگڑوں کی بدولت مختلف ریاستوں میں تقسیم اور بکھرا ہوا تھا۔ 1820 میں، برطانیہ اس ملک کے تاریخی منظر میں داخل ہوا اور تحفظ دینے کے وعدے پر اس سر زمین کا کچھ کنٹرول مانگا۔ امن کے لیے بے چین، متعدد قبائل نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور برطانیہ کو اپنے تنازعات کو حل کرنے کا ذمہ دار بنا دیا۔ لیکن 1968 میں، برطانیہ نے جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہوئے مالی نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو اس ملک کے منظر سے ہٹا دیا۔

    منظر نامے سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد ابوظہبی، دبئی، عجمان، العین، شارجہ اور ام القوین کے حکمرانوں نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2 دسمبر 1971 کو امارات نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور متحدہ عرب امارات (UAE) بن گیا۔ بعد میں، راس الخیمہ ساتویں امارت نے بھی اس یونین میں شمولیت اختیار کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین حصہ کیا ہے؟ یہ انضمام اور نوآبادیاتی راج سے ان کی آزادی بغیر کسی تشدد کے حاصل کی گئی تھی!

    سات امارات کے اتحاد اور متحدہ عرب امارات کے اعلان کو نشان زد کرنے کے لیے، متحدہ عرب امارات کا جھنڈا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج بلند کیا گیا، اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کا انتخاب کیا گیا — شیخ زید بن سلطان النہیان, شیخ زید ابوظہبی کے امیر تھے اور سات امارات میں سب سے امیر تھے۔ آج، متحدہ عرب امارات کو ایک درمیانی طاقت اور ایک بااثر قوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، تیل کے ذخائر، دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے کچھ اس کی پہچان ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے تمام شہری تسلیم کرتے ہیں کہ آج جو طاقت ان کے پاس ہے وہ صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ ساتوں امارات نے 1971 میں متحد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ایک تاریخی موقع ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس دن کو منانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس قوم کی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرنے سے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ تشدد اور جنگ کے بغیر آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دن سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور ترقی پسند بات چیت کا انتخاب کرنے کے لیے ایک تحریک کا کام بھی کرتا ہے۔آپ نے ‘تقسیم اور فتح’ کے بارے میں سنا ہے۔ ٹھیک ہے، متحدہ عرب امارات کی تشکیل بالکل ظاہر کرتی ہے کہ مخالف میں کتنی ہی طاقت ہو لیکن ایک دن اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اتحاد سے بڑی طاقت نہیں جو مخالف کو چاروں شانے چت کردے, لہذا ہر سال یو اے ای کا قومی دن منانا اسی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

    متحدہ عرب امارات آج امن،ترقی اوربہترین حکمرانی کی پہچان کے طورپراقوام عالم میں فخرکے ساتھ کھڑاہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں فقیدالمثال پیش رفت کی ہے جوکہ ملک کوایک جدید ریاست اورترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے نظریہ اورعزم کامنہ بولتا ثبوت ہے متحدہ عرب امارات نے تجارت، مالیاتی خدمات،سیاحت،ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کیلئے عالمی معیارکے مرکزکے طورپر ابھرنے کیلئے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثرکن ترقی رواداری،جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کوفروغ دینے سے ممکن ہوئی پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی موجودہ دوراندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کومضبوط بنانے میں کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کردارادا کیا ہے۔

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 51 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

  • لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    محسنین یوتھ سکواڈ کے پہلے یومِ تاسیس پر سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔۔۔ مورخہ ستائیس نومبر 2022 بمقام ایوانِ قائد محسنین کنونشن میں مختلف سماجی، مذہبی، صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل مشہور و معروف شخصیات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔

    محسنین کنونشن میں معروف صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان اور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین و مہمانِ خصوصی میں عبد الوارث گِل، قیصر احمد راجہ، سیف اللہ ثناء اللہ، سلیم ابنِ فاضل، فاران صدیقی، ڈاکٹر زبیر تیمی، عبید الرحمن شفیق، مدثر یوسف حجازی، حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام، قاری اسامہ شوکت اور میزبانوں میں قاری سیف اللہ کیلانی اور عبدالرب ساجد شامل تھے۔

    کنونشن کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے دن ، قاری سیف اللہ نے تلاوت قرآنِ پاک سےکیا اور بعد ازاں سٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کیے۔ سب سے پہلے گفتگو کے لیے جناب سیف اللہ ثناء اللہ کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے تقریب کے شرکاء نوجوانوں کو وقت کی قدر پر نصیحت کرتے ہوے کہا کہ "نوجوان اس وقت کی قدر نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی کافی وقت پڑا ہے، وقت سے سیکھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت آپکو سکھادے۔”

    پھر جناب فاران صدیقی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے نوجوانوں کو اللہ کے پیغام بابت کہا کہ "اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید کی صورت میں محبت کا پیغام بھیجا ہے، لیکن ہم اسے پڑھتے ہی نہیں، وہ محبوب ہی کیا جسے محبت بھرا پیغام ملے اور وہ اسے پڑھے ہی نا”

    جناب قیصر احمد راجہ صاحب کا نوجوانوں سے کہنا تھا کہ "اگر ہم اپنی سوسائٹی میں بیلنس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دینِ فطرت کی طرف آنا ہوگا۔”

    جناب عبید الرحمن شفیق کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لہو کو گرمایا جاتا ہے لیکن حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں ۔”

    جناب عمران ریاض خان کا نوجوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جیتنا چاہتے ہو تو مل کر چلنا پڑے گا وگرنہ کچل دیے جاؤگے۔”

    جناب قاسم علی شاہ صاحب نے کہا کہ "نوجوان یاد رکھیں کہ کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں، بلکہ بےیقینی اور خوف سے ہے۔”

    جناب مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ "ایک بات یاد رکھیے گا کہ اگر آپ کو اپنے حق کے لیے اور آزادی کے لیے قلم کی طاقت کو چھوڑ کر گن کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تو آپ تب بھی معتدل ہیں۔”

    اور جناب عبد الوارث گِل کا کہنا تھا کہ "اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ہم آج یہاں نہ ہوتے بلکہ اس سے دو، تین قدم آگے ہوتے۔”

    اسکے علاوہ دیگر سپیکرز سلیم ابنِ فاضل ، ڈاکٹر زبیر تیمی اور مدثر یوسف حجازی نے بھی محسنین کنونشن کے شرکاء نوجوانوں سے خطاب کیا اور انہیں معاشرے میں معتدل اور موثر رہنے کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی خطاب کیا۔۔۔

    تقریب میں مختلف مواقعوں پر حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام اور قاری اسامہ شوکت نے تلاوت، نعت، اسماء الحسنی اور ترانے بھی پیش کئے۔۔۔

    جبکہ محسنین یوتھ سکواڈ کے تعارف اور سیلاب کے دوران محسنین رضاکاروں کی خدمات کے بارے میں ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

    تقریب کے دوران مختلف مواقع پر محسنین یوتھ سکواڈ کے رہنما محسنین جناب عبدالرب ساجد صاحب نے شرکاء کنونشن سے کنونشن کے انعقاد کے مقاصد اور محسنین کے وژن اور نطرئیے کے بارے میں گفتگو کے دوران کہا کہ "محسنین کنونشن کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ نوجوانوں کو روشن مستقبل دینے اوران کو عملی میدان میں راہنمائی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، ہمارے نوجوان کا شعور اتنا بیدار ہوچکا ہے کہ اب وہ کسی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندانہ بیانیے کو قبول نہیں کریں گے، ہم نوجوانوں کے شعور کو اس مقام پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جو بھی گفتگو ہو یہ متاثر ہونے کے بجائے اس کو شعور کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے صحیح یا غلط کا فیصلہ خودکریں، نظریات کے اختلاف کو قبول کرنا معاشرے کا حسن ہے، کسی کےنظریے کا احترام اور چیز ہے اور حمایت کرنا اور چیز ہے۔”

    محسنین کنونشن شام 3 بجے تک چلا جس میں لاہور و گر د ونواح سے مختلف شعبہ زندگی سے نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی ، شرکاء محفل نے محسنین یوتھ سکواڈ کے ویژن اور مشن کو سراہا اور محسنین کنونشن کے کامیاب انعقاد پر پوری محسنین یوتھ سکواڈ ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • شراب سپلائی کرنیوالے ملزمان کو رہا نہ کرنے  پر وزیراعظم آزاد کشمیر آپے سے باہر

    شراب سپلائی کرنیوالے ملزمان کو رہا نہ کرنے پر وزیراعظم آزاد کشمیر آپے سے باہر

    شراب سپلائی کرنیوالے ملزمان کو رہا نہ کرنے پر وزیراعظم آزاد کشمیر آپے سے باہر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے نئے کارنامے سامنے آ رہے ہیں، شراب فروش ملزمان کو چھوڑنے کے لئے پولیس پر دباؤ، پولیس نے رہا نہ کئے تو افسر کا تبادلہ کر ڈالا

    آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں دو ملزمان کو پولیس نے شراب سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کیا تو وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس بھڑک اٹھے، پولیس کو حکم دیا کہ ملزمان کو رہا کیا جائے، پولیس حکام نے کہا کہ ایسے رہا نہیں کر سکتے، عدالت پیش کیا جائے گا، سردار تنویر الیاس کی حکم کی تعمیل نہ ہونے کی گستاخی پر غصہ آیا اور انہوں نے ملزمان کو رہا نہ کرنے والے ایس ایس پی کو عہدے سے ہٹا دیا

    نجی ٹی وی کے مطابق مطفر آباد پولیس نے خیبر پختونخواہ کے علاقے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو دوران چیکنگ شراب سمیت گرفتار کیا تھا، دونوں‌ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ،تا ہم گرفتاری کی اطلاع ملنے پر وزیراعظم ہاؤس سے کالیں آنا شروع ہو گئیں کہ ملزمان کو رہا کیا جائے ،جیو ٹی وی کے ذرائع کے مطابق پہلے پی ایم ہاؤس آزاد کشمیر پھر براہ راست وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایس ایس پی کو دونوں افراد چھوڑنے کا حکم دیا ،جس کے بعد وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو بتایا گیا کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے، رہائی خلاف قانون ہو گی، ملزمان کو عدالت پیش کیا جانا ضروری ہے، وہاں سے ضمانت ہو سکتی ہے، لیکن تنویر الیاس نہ مانے اور وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کے حکم پر ایس ایس پی مظفرآباد محمد یاسین بیگ کو ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا

    سردار تنویر الیاس کی جانب سے ایس ایس پی کے تبادلہ کے بعد مظفر آباد پولیس کے افسران و اہلکاروں نے ہڑتال کا اعلان کیا اور بلدیاتی الیکشن کی ڈیوٹی سے بھی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے کروائے گئے تبادلے کو الیکشن کے دوران تبادلہ خلاف ضابطہ قرار دیا اورالیکشن کمیشن نے ایس ایس پی مظفر آباد محمد یاسین بیگ کے تبادلے کا حکم معطل کرکے انہیں عہدے پر بحال کر دیا

    رٹ بحال ہونے پر پولیس کی جانب سے الٹی میٹم واپس لے لیا گیا مگر ہفتے کی رات حکومت پھر ہٹ دھرمی پر آ گئی، وزیراعظم ہاؤس رات گئے ایس ایس پی مظفر آباد یاسین بیگ کا پھر سے تبادلہ کرنے پر بضد ہوگیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں آزاد کشمیر پولیس کا مورال ڈاؤن ہوا اور افسران اور ملازمین میں بددلی پھیل گئی ہے

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

  • ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ‘بس نام رہے گا اللہ کا’، قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں کامیابی کے بعد عمران خان کی انسٹا گرام پر پوسٹ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 8حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے 6 میں کامیابی حاصل کرکے 2018 کے عام انتخابات میں 5 نشستیں جیتنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔۔۔ اتوار کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے8 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سے 7 حلقوں میں عمران خان امیدوار تھے اور انہوں نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

    اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات میں عمران خان نے این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کراچی سے کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ انہیں این اے 237 ملیر پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بیک وقت 5 حلقوں سے الیکشن لڑ چکے ہیں، انہیں 4 میں فتح اور ایک پر شکست ہوئی تھی۔۔۔

    اس بڑی فتح کے بعد تحریک انصاف کے ووٹر اور سپورٹر کل سے جشن ِفتح کے سرور میں ہیں اور پی ٹی آئی قائدین بشمول عمران خان کی چال ڈھال میں مزید اعتماد اور مستقبل کی فتح کا پختہ یقین جھلک رہا ہے۔۔۔

    جبکہ تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم میں کہیں صفِ ماتم بچھ گئی ہے اور کہیں رویوں میں درشتی کی جھلک نظر آرہی ہے، ایک تذبذب کی کیفیت میں ہیں کہ 6 نشستوں پر ہار کا غم کریں یا 2 نشستوں پر جیت کا جشن منائیں؟

    مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ اور حنا پرویز بٹ کی سنیں تو جیت کے شادیانے اور عمران خان کو دیتے طعنے سنائی دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب تمام جماعتوں کے اتحاد کو ضمنی الیکشن میں شکست پر نواز شریف بہت رنجیدہ ہیں اور ان کا شدید اظہار برہمی نظر آتا ہے۔۔۔ شکست کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی جبکہ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم پارٹی قیادت کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں اور بدترین شکست پر فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔۔

    اوردوسری جانب عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔۔۔ چاہتا ہوں نواز شریف واپس آئیں اور میرے ساتھ مقابلہ کریں،یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں،نواز شریف اور زرداری 90 کی سیاست کر رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ملک بدل چکا ہے، نواز شریف اور زردای کا وقت ختم ہو چکا ،جو مرضی کر لیں شکست ان کے حصے میں آئے گی.”

    لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے عمران خان کا مزیدکہنا تھاکہ

    "ملک کے مسائل کا ایک ہی حل ہے ، صاف اور شفاف الیکشن، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت ٹھیک نہیں ہونے لگی، یہ ملک کو نہیں سنبھال سکتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، اب بھی کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے الیکشن کا اعلان کرنے کا، اگرالیکشن کا اعلان نہیں کریں گے تو میں مارچ کا اعلان کروں گا۔۔۔میں وقت دے رہا ہوں، ہم نے جلسے کیے ہیں اور دکھادیا ہے کہ عوام کہاں کھڑی ہے، سری لنکا میں کیا ہوا ؟ سری لنکا ڈھائی کروڑ کا ملک ہے اور یہ 22 کروڑ کا ہے، جب عوام سڑکوں پر آجائے گی تو اس کی گارنٹی نہیں کیا نتیجہ آئے گا۔”

    اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ لانگ مارچ سے اگر مارشل لگ گیا تو؟ اس پر سابق وزیراعظم نے کہاکہ

    "فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے وقت تومارشل لاء نہیں لگا۔”

    اس پر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ

    ” آپ کے ضمنی الیکشن میں جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو غیر آئینی کام کا لائسنس مل گیا ہے، اگر آپ نے غیر آئینی کام کیا اور جتھہ کلچر یا اسلام آباد پر چڑھائی کی تو آپ کو پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دیا جائےگا، اگر آپ یہ راستہ کھولیں گے تو پھر آپ یہ بھول جائیں کہ صرف آپ کو اس راستے پر چلنا آتا ہے، الیکشن حاصل کرنے ہیں تو ٹیبل پر آئیں پارلیمنٹ آئیں۔۔۔ آپ کو نہیں پتا کہ آپ نےکیا کرنا ہے، ہمیں پتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کرنا ہے، ہم جمہوریت اور رول آف لا کا تحفظ کریں گے، آپ ملک میں افرا تفری چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس رویے کو روکیں گی، یہ رویہ قابل مذمت ہے، یہ فتنہ فساد ہے۔۔۔”

    اور کل پاکستان کی عدالتوں میں تین اہم کیسز کی کاروائی بہت دلچسپ رہی، اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ملا ریلیف، ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا دلائل سننے کے بعد مسترد کردی گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور بغیر ثبوت کے انہیں اشتہاری قرار دینے پر اینٹی کرپشن پنجاب پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔۔۔اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں عمران خان کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے،جس پر عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے 31 اکتوبر تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی ہے، یاد رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی کل تک حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

    یہ سب ملک و قوم کو کس جانب لیکر جائے گا اور نتیجہ کیا نکلے گا اس کا فلحال کوئی اندازہ لگانا بہت مشکل اور قبل از وقت ہے لیکن ملک پر جس طرح ڈیفالٹ کے کالے سائے منڈلا رہے ہیں انکے رہتے ہمارے سیاستدانوں اور انکی حامی عوام کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تاکہ ملک کسی درست سمت پر گامزن ہوسکے۔

    دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، کیا عمران خان اور پی ڈی ایم کی نوک جھوک کوئی نیا رنگ اختیار کرتی ہے ؟ کیا ملک کے ادارے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک کو ممکنہ بحران سے بچا سکیں گے؟

  • پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    یوں تو پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا سرخیل بننے کی چاہت ہر سیاستدان کو ہی رہتی ہے لیکن ملک کی حالیہ سیاسی نورا کشتی پر نظر دورائیں تو فلحال ایک ہی سیاستدان ایک ہی مقبول چہرہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جبکہ مدمقابل جس مشن کے تحت حکومت کے آخری سال اقتدار میں آئے تھے وہ اس مشن کی تکمیل میں ایک ساتھ مصروف ہیں ۔ ۔۔

    اس ساری صورتحال میں دونوں جانب سے ملک و ریاست کے ذمہ دار ادارے چکی کے دو پاٹوں میں سیاستدانوں کی سیاسی ضرورت کے تحت پس رہے ہیں۔۔۔

    ادارے آیئنی حدود میں رہ کر کام کریں یا ملک کے سیاستدانوں کو آیئنی حدودکا تعین کریں، دونوں صورتوں میں ادارے سیاستدانوں اور انکے چاہنے والوں کے درشت لہجے اور شاکی رویے کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔

    عدالتوں سے جس سیاستدان کے حق میں فیصلے آجائیں وہ حق کی فتح کا جھنڈا تھامےاور دو انگلیاں دکھاتا ہوا باہر آتا ہے اور مخالفیں کو بری طرح تنقید کا نشانہ بناتا ہے جبکہ جس سیاستدان کے خلاف فیصلے آجائیں وہ عدالتوں اور اداروں کو نشانے پر رکھ لیتا ہے اور اسکی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    عام آدمی کو جب سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں سمجھ میں نہیں آتی تو وہ بھی نظام کو کوس کر اپنے سیاسی لیڈر کی جے جے کار کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقی آزادی کے نعرے بلند کرتا ٹرک کی بتی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔

    اس ہفتے میں دو خبریں آئیں جن کے بعد ملکی سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آیا، ایک طرف باوجود گرفتاری کی تیاری اور شدید خواہش کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے اور دوسری جانب اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورکے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے ہیں۔۔۔

    دونوں طرف حق کی جزوی اور مکمل فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور نعرے لگ رہے ہیں، لیکن عوام کا سنجیدہ حلقہ ہونق بنے سراپا سوال ہے کہ اگر سبھی سیاستدان اور سیاسی جماعتیں حق کی علمبردار اور سچی ہیں تو پھر پاکستان کی عوام ہی باطل اور جھوٹی ہے؟؟؟؟

  • 90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت سے حوادث کی گواہ ہے جس میں اگر ہم صرف 1990 کی دھائی ہی دیکھ لیں تو پاکستان میں دو سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آئیں ،ایک مرکز میں حکمران تھی تو دوسری ایک صوبہ میں ، اگر صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ اسلام آباد کی جانب جاتا تو گرفتار ہو جاتا اور اگر مرکز ی حکومت کا کوئی نمائندہ صوبائی حکومت کی حدود میں نظر بھی آ جاتا تو اسکو گرفتار کر لیا جاتا۔ یہ بات ہو رہی ہے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی اور انکی 1990 کی دھائی کی سیاست کی ۔۔۔

    اب یہ ایسا کیوں تھا کیا اقتدار کی لالچ تھی یا پاور شئیرنگ کا مسلہ، اس سوال کا جواب آج تک راہ تک رہا ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں تو آج کے دن تک پاکستان میں درجنوں موجود ہیں لیکن سیاست بلخصوص 1990 کی دھائی کی سیاست کی چھاپ آج تک جوں کی توں موجود ہے۔۔۔

    انتقام، انتقام اور بس انتقام۔۔۔ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا بس یہی مطلب سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے خواہ 1990 کی دھائی کی سیاست کو دیکھ لیں یا 2022 کی موجودہ سیاست کو، ہمیں بس سیاسی مقدمہ بازی ہی نظر آتی ہے، شاید اسی لیے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے کہا تھا کہ

    "جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔۔۔

    آج کی تاریخ میں اگر 1990کی دھائی کی سیاست کی مثال سمجھنی ہو تو اپریل 2022 سے آج کے دن تک وفاق اور صوبوں کی سطح پر مختلف واقعات پر نظر دوڑا لیں۔ تازہ مثال ملک کےوزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایک صوبہ، پنجاب جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے آجکل انتظامی طور پر بہت متحرک نظر آرہا ہے لیکن یہاں سوال نہیں بلکہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کا ہی تسلسل تو نہیں؟

    کیا پاکستان کی عوام اسی طرح سیاسی پارٹیوں کا دنگل اور نورا کشتی دیکھتی رہے گی؟

    کب تک ھم 1990 کی دھائی کی سیاست کے چکر ویو میں پھنسے رہیں گے؟

    لگتا تھا کہ خان صاحب اپنے بلند بانگ دعووں کو تکمیل تک پہنچائیں گے اور پاکستان میں رائج 1990 کی دھائی کی سیاست و جمہوریت کا بدنما داغ دھوئیں گے لیکن ہوا اسکے متضاد مطلب خان صاحب بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کے رنگ میں رنگے گئے جس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ خان صاحب جن کو اپنا اور ملک و قوم کا دشمن سمجھتے اور کہتے تھے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر انہیں استاد مان چکے ہیں؟

    خیر ہم تو عوام ہیں جو اونٹ پر نظریں گڑائے بیٹھے ہیں کہ یہ موا کس کروٹ بیٹھے گا؟

  • فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    ماہرین کے مطابق ڈپریشن دماغی صحت کے سب سے عام عوارض کی فہرست میں شامل ہے۔ اگر آپ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ صرف امریکہ میں ہی 7% سے زیادہ امریکی سالانہ بنیادوں پر ڈپریشن ڈس آرڈر کا شکار رہتے ہیں۔

    اگرچہ اس خرابی کی بہت سی پیچیدہ وجوہات ہیں، لیکن محققین ابھی تک اس پہلو کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک، ہم یہ جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی اور افسردگی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس خرابی کا تعلق آلودگی سے ہوسکتا ہے۔ آئیے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرتے ہیں۔

    محققین نے بیجنگ میں صحت مند رضاکاروں کے ایک گروپ کی مدد سے ایک مطالعہ کیا۔ اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیں کہ یہ چین کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک شہر ہے جو چین کا دارلحکومت بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس شہر میں آلودگی کی سطح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ چونکہ اس شہر میں آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے، اس لیے محققین نے اس تجربے کے لیے اسی شہر کا انتخاب کیا۔

    ماہرین نے ہوا کا معیار جاننے کے مانیٹر کا استعمال کیا تاکہ رضاکاروں تنفس اور دماغی صحت پر اس ہوا کے اثرات کا اندازہ ہوسکے۔ اس کے بعد، تمام شرکاء کا ڈپریشن کی مختلف علامات کے لیے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، ان کی علمی کارکردگی کا بھی تجربہ کیا گیا۔ ان کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہوا کی خراب کوالٹی میں سانس لینے سے ان کی علمی کارکردگی میں کوئی کمی آئی ہے؟

    انہوں نے پایا کہ ہوا کے خراب معیار کا لوگوں کے مزاج اور علمی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، محققین کو اس طرح ایک ایسے طریقہ کار کے بارے میں بھی معلوم ہوا جو فضائی آلودگی سے متاثرہ لوگوں میں ڈپریشن کی علامات تلاش کرسکتا ہے اور جان سکتا ہے کہ واقعی فضائی آلودگی ڈپریشن میں مبتلا کرسکتی ہے کہ نہیں۔ وہ یہ تجربہ کر کے زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے کہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن آخر کس طرح مربوط ہیں اور اس سے کتنے فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں؟

    اس کے علاوہ، محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جن افراد میں کسی طرح کے جینیاتی رجحانات ہوتے ہیں ان میں طویل مدت تک آلودہ ہوا میں رہنے پر دماغی صحت میں خرابی پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی انسانی دماغ کے نیورل نیٹ ورک پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک بار جب اس عصبی نیٹ ورک سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو فرد کو پریشانی شروع ہو سکتی ہے۔ لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی آپ کی دماغی صحت کے لیے بہت بری ہو سکتی ہے۔ ایک بار جب آپ کی دماغی صحت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو آپ کو اپنے جسم کے دیگر حصوں میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی ڈپریشن کا سبب بننے والے بنیادی عوامل میں سے ایک اہم وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ انتہائی آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں تو ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ شہر کے لوگ طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کے علاوہ نفسیاتی عارضوں اور افرا تفری میں مبتلا رہتے ہیں۔

    اگرچہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے اپنی سطح پر پوری کوشش کریں۔ اس مقصد کے لیے، میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے گھر یا دفتر کے لیے ایک اچھا ایئر پیوریفائر خریدنے پر غور کریں۔ ان سادہ لیکن طاقتور آلات کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آپ کے گھر اور دفتر میں ارد گرد کی ہوا کو موثر طریقے سے صاف کر سکتے ہیں۔

    لہذا، آپ کو اپنا بجٹ سیٹ کرنا چاہیے اور ایک ایئر پیوریفائر یونٹ خریدنا چاہیے جو آپ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ آخرکار، آپ فضائی آلودگی پر تو کنٹرول نہیں کرسکتے لیکن کیا آپ اپنی زندگی میں ڈپریشن کا شکار ہونا چاہتے ہیں؟

  • کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    تیار ہو جائیں! آپ جو کچھ پڑھنے والے ہیں وہ آپ کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ آپ خود کو آزاد کشمیر، پاکستان کا سفر کرنے کے لیے جوش خروش اور ولولے سے اپنی ہی نشست پر ایک بے چین پرندے کی طرح پر پھڑ پھڑاتا ہوا پائیں گے۔

    پاکستان ایسی جگہوں کا گھر ہے جو آپ کو دلکش قدرتی حسن کی شان میں حیران ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ آزاد کشمیر ہے، سحر انگیز علاقوں کی دلدل کہ اس کے وجود پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ وفور شوق اور تاب حسن نہ لاکر اس خطے کو جنت نظیر پکار اٹھتےہیں۔

    پاکستان میں تمام دلکش سیاحتی مقامات میں سے، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو سیاحتی بالادستی کے دیگر تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اور سیاحتی مقام کی نظیر اس خطے سے میل نہیں کھاتی کیونکہ کشمیر تو کشمیر ہے اور اس جیسا خطہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج تک شور مچانے والے اپنے پڑوسی بھارت سے اس جنت پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر جھگڑ رہے ہیں اور بیشک ہمارا دعوی حق ہے۔

    آزاد کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطہ جنت نظیر ہے۔ یہ سب پذیرائی کشمیر کی سر سبز وادیوں کی وجہ سے ہے جو آپ کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک بار جب آپ انہیں دیکھ لیں تو کبھی بھی اپنی آنکھیں نہ ہلائیں۔ یہ آبی گزرگاہوں، وافر جھیلوں اور وائلڈ لائف ایڈونچر کا تجربہ کرنے کی اعلی جگہ ہے۔

    پاکستانی قوم کا یہ زمین کا ٹکڑا دنیا بھر میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ کوئی بلند و بالا پہاڑ ہو سکتا ہے۔ شاہانہ سر سبز وادیاں، طاقتور آبی گزرگاہیں، لذت بخش جھیلیں، اور حیران کن و بے مثال کشمیری زندگی۔

    میں تو کہتا ہوں کہ اپنی اگلی چھٹیوں کا منصوبہ کہاں بنانا ہے اس کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ تو بھئی یورپ انتظار کر سکتا ہے لیکن آپ کو پاکستان کا کشمیر دیکھنا چاہیے سو پہلی فرصت میں بیگ پیک کریں اور منچلے بن کر کشمیر کی جنت کا رخت سفر باندھ لیں۔

    کیوں بھئی؟

    کشمیر ہی کیوں؟

    یہاں ہے آپ کی اس کیوں کا جواب۔۔۔

    ذیل میں آزاد کشمیر کے سرفہرست پرکشش مقامات ہیں جو آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ خود کو زندہ تصور مت کریں۔۔۔

    1. وادی نیلم

    سیاحوں کی توجہ کی خاطر سیاحتی مقام کو دلکش الغرض مکمل پیکج ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک یقینی اور ضروری بات ہے۔ آپ کو نیلم ویلی میں نیلے میٹھے پانی کی ندیاں اور عر سو ہریالی ملے گی، جیسا کہ کسی بھی غیر ارضی جگہ مطلب جنت کی طرح شاندار۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا عظیم تحفہ ہے، خوش قسمتی سے، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔ کوئی بھی آپ کو پاکستان میں سرفہرست پرکشش مقامات کا مشورہ دے گا تو وہ وادی نیلم کو نہیں بھولے گا۔ اس کے بہت سے مضافاتی اور چھوٹے قصبے اور دیہات، جھیلیں، ٹریکنگ ٹریلز، پہاڑی گزرگاہیں اور دیگر طرح کی عظیم پہاڑوں کے نظارے اورجھلکیاں ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے قابل ذکر مقامات میں نمبرون بناتے ہیں۔

    2. راولاکوٹ

    آزاد کشمیر کا ایک مشہور قصبہ جو پونچھ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اونچی پہاڑیوں کے درمیان ایک دلکش وادی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ یہ صرف 80 کلومیٹر ہے، اس کا یقیناً مطلب ہے کہ آپ آسانی سے اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر آپ قومی دارالحکومت یا راولپنڈی میں ہیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ سردیوں میں برفباری کی بدولت بند ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ گرمیوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم راولاکوٹ کی دلفریب خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علاقے میں گھومتے پھرتے ہوئے، آپ کو یہاں واقع تتہ پانی، سدھنگلی اور تولی پیر کے مشہور سیاحتی مقامات پر ضرور جانا چاہیے۔

    3. بنجوسا جھیل

    اگر آپ راولاکوٹ کے ارد گرد گھومتے ہیں تو آپ کو یہاں بنجوسا جھیل کا راستہ ضرور مل جائے گا۔ یہ مثالی طور پر وہ علاقہ ہے جس میں کافی مقدار میں ہریالی ہے۔ سبز وہ رنگ ہے جو آپ کو یہاں زیادہ تر ملے گا، اس کے بعد سرخ رنگ کا تھوڑا سا کنٹورنگ ہوگا۔ قدرتی صاف جھیل کے اوپر لمبے لمبے درخت ہیں جو ایک بڑے علاقے کو ڈھانپے رہتے ہیں۔

    آپ کو عام طور پر بنحوسا جھیل دیکھنے کی غوض سے گرمیوں میں ادھر کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کےموسم میں وادی تو وادی موسم بھی مہمان نواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن میں باہر کا درجہ حرارت حد سے حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے البتہ سردیوں میں آپ کو ادھر جانے کا مشورہ ودینا ظلم ہوگا کیونکہ سردیوں میں ادھر برفباری کی بدولت چہار سو سفید چادر تنی نظر آتی ہے اور زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ آپ یہاں آکر ان تصاویر کو اپنے کیمرے میں رکھنے کا تصور کریں جن میں قدرت ایک الہڑ مٹیار کی طرح یہاں وہاں رنگ بکھیرتی ہوئی نظر آئے – خوبصورتی کا تصور اور تعریف آپ ادھر آکر ہی سمجھیں گے! کیونکہ جب خزاں کا موسم دہانے پر ہوتا ہے، بنجوسا سنہری اور سرخی مائل بھورے رنگوں میں سیر ہوتا ہے۔

    4. وادی جہلم

    آزاد کشمیر کی یہ خاص وادی مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک میزبان ہے، جو گرمیوں میں چاروں طرف سے پر ہجوم ہوتی ہے۔ یہاں جو چیز سیاحوں کو عجوبہ لگتی ہے وہ بل کھاتا ہوا دریا ہے جو مشرق سے مغرب پہاڑوں کے درمیان بہتا ہے۔ جہلم میں "وادی لیپا” کہلانے والا ایک اور خوبصورت علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جسے لوگ دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

    گرمیوں میں، پکے ہوئے چاول کے کھیت زوروں پر ابھرتے ہیں اور رہائشیوں کے لکڑی کے عصری گھر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے اس وادی کی چیری جیسی چیری کا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا ہو گا، یہاں کے لوگوں کی متناسب جسامت آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اور اخروٹ، اوہ اخروٹ توڑنے کا جو مزہ آپ کو ادھر مل سکتا ہے، آزاد کشمیر میں وادی جہلم کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

    5. رام کوٹ قلعہ

    یہ حیران کن سرزمین کشمیر کی چڑھائی چڑھتے ہوئے آتی ہے، دریائے جہلم سے ملحقہ، آزاد کشمیر کا یہ سیاحتی مقام آپ کے کیمرے کا منتظر ہے۔ رام کوٹ قلعہ اب کوئی عسکری قلعہ نہیں رہا جہاں راجے بادشے خود کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ضرور ہے۔ اس قلعے کا پس منظر 5ویں اور 9ویں صدی کا ہے جس نے تاریخ میں اپنے آثار چھوڑے ہیں، 17ویں صدی کے دوران مسلم جنگجوؤں نے اس قلعہ کے آثار دریافت کیے اور انہیں ہٹا دیا تھا۔ یہ علاقہ سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لیے جوش و خروش سے بھرپور مقام سیاحت ہے۔

    6. تولی پیر

    ذرا اسے سوچیں کہ ایک سر سبز و شاداب چراگاہ نما وادی میں آپ کھڑے ہوں تو آپ وہاں سے اور کہاں جانے کا سوچیں گے, یقیناً جنت۔ یہ ایک مشہور چوٹی ہے جس کے بارے میں آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں بس آزاد کشمیر میں داخل تو آپ تولی پیر کی جانب جانے کے لیے اپنا راستہ پا لیں گے, اگر آپ راولکوٹ جاتے ہیں، یا اگر آپ کو اس کا علم نہیں ہے، تو آپ راولکوٹ میں قیام کے دوران اس کے بارے میں جان لیں گے۔ سطح سمندر سے 8800′ بلندی پر واقع یہ چوٹی آپ کو ایسا محسوس کراتی ہے کہ آپ ہر چیز کے اوپر ہیں۔

    موسم بہار کے آخری مہینوں میں تولی پیر کی طرف جائیں کیونکہ یہی موسم سازگار ہے. باقی مہینوں میں اس کی اونچائی کی وجہ سے یہ صرف ٹھنڈا اور برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے کشید کرنا ہو تو اپریل سے اکتوبر میں ہی اس طرفکا قصد کریں۔

    7. پیر چناسی

    آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع یہ علاقہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ پیر چناسی قدرت کے نظارے دریافت کرنے کے لیے ایک حیران کن سیاحتی جگہ ہے۔ اس مقام پر آپ کو صبر اور احتیاط کا دامن تھام کے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ مقام خوبصورت تو ہے ہی لیکن خطرناک بھی ہے۔

    اس مقام کی تاریخ آپ کو عظیم تر کشمیر کے بزرگ حضرت شاہ حسین سے متعارف کرائے گی، جن کا مزار بنیادی طور پر اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ہر کونے میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور خوبصورت فطرت ہے۔ پیرچناسی کی شاندار ہریالی پاکستان بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس علاقے کے چاروں طرف دیودار اور بلوط کے درخت ہیں جو گرمیوں میں بہار بکھیرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف میں لپٹے رہتے ہیں۔

    8. وادی لیپا

    اسے لفاظی مت سمجھیے گا، لیکن ہاں، یہ جنت کی سیڑھی ہے!

    وہاں قدم رکھتےہی کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے؟ یقیناً، یہ وہ مقام ہے جو آپ کو حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے دو بار آنکھیں رگڑنے پر مجبور کرے گا۔ وادی لیپا یقینی طور پر پاکستان میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر آزاد کشمیر کی قدر کو بلند کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپ کو انتہائی خوش آئند ماحول میں سیاحوں کے لیے مئی سے نومبر کا دورانیہ بہتر ہے۔ اس علاقے میں اونچے پہاڑ اور دیودار کے اونچے درخت ہیں، یہ علاقہ مظفرآباد سے باآسانی قابل رسائی ہے۔ مقامی جیپوں میں سفر کرنے کی بہت سی سہولیات بھی ہیں۔

    9. لال قلعہ

    یہ پاکستان کے ان قلعوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔ یہ قلعہ ماہرین آثار قدیمہ اور سفر کے جنونی افراد کے لیے ایک سرفہرست علاقہ ہے جو اس خطے کی تاریخ میں جھانکنا پسند کرتے ہیں۔

    آپ اسے اب کھنڈر سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ بہت ساری آفات کا مقابلہ کر چکا ہے اور اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ پھر بھی، یہ علاقہ آرٹ کا ایک شاندار مقام ہے۔ اسے مظفرآباد قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ابہام میں نہ رہیں۔ یہ مقام آزاد کشمیر کا ایک مشہور ورثہ ہے جس نے بہت سے غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنے حصار دیکھا ہے۔

    10. شونٹر جھیل

    ہر وہ جگہ جو فطرت کی بہترین عکاسی کرے اور جہاں مئی سے اگست تک رسائی ممکن ہو اس میں شونٹر جھیل کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ یہاں کا موسم اور مقامی لوگ سیاحوں سے پورا تعاون کرتے ہیں۔ آپ اگر کیل, نیلم ویلی میں آئیں تو وہاں سے آگےاس جھیل تک حیپ کا سفر کرسکتے ہیں۔

    اور اگر آپ کیمپنگ کا شوق رکھتے ہیں، تو ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کریں کیونکہ بہت سے سیاح بھی اسے ایک بہترین کیمپنگ اسپاٹ سمجھتے ہیں۔ ہوٹلنگ سے زیادہ کیمپنگ کے لیے سازگار ہونے کی وجہ سے، آپ کو یہاں رہائش کی دیگر سہولیات بھی باآسانی ملتی ہیں۔ شونٹر جھیل چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کیل سے جیپ پر سوار ہوں تو یہ ضرور دیکھنے کے قابل ہے۔ مجموعی طور پر، اس علاقے کا شاندار جغرافیہ اسے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    یہاں تک پڑھ کر یقیناً اب جب کہ آپ آزاد کشمیر کی دیوانی خوبصورتی سے مغلوب ہو چکے ہونگے، تو اپنی اگلی چھٹی کا منصوبہ بناتے وقت ان دس جگہوں کی ترتیب بنالیں اور اب سے الٹی گنتی شمار کرنا شروع کردیں۔ ان تمام مقامات کا تصور کریں اور پھر اگر آپ ان سب کا حقیقی تجربہ کر لیں تو ساری عمر آپ اس خمار سے باہر نہیں نکل سکیں گے کہ آپ نے جیتے جی جنت نظیر خطہ دیکھ لیا۔

  • بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    عورت کسی بھی گھر بلکہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کی حامل اور مانندِ ریڑھ ہوتی ہے۔ اگر عورت صحت مند اور تندرست نہ رہے تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر عورتیں کسی ایسی موزی و خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو گھر تو گھر معاشرے کا نظام اور توازن بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔

    کیونکہ ایک عورت ایک گھر ایک خاندان پر مشتمل یونٹ کی وہ بنیادی اکائی ہوتی ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجائے تو پورا گھر ایک ایسی افرا تفری اور انتشار سے روبرو ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ مسئلہ ہے۔

    اس صورتحال میں گھر اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کی صحت کا خیال کرے, اس کو پیش آمدہ صحت کے مسائل سے ناصرف باخبر رہے بلکہ عورت کو ہر دم آگاہی بہم پہنچاتا رہے تاکہ عورت اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکے۔

    بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان بھی ایک ایسی موزی اور خطرناک بیماری ہے جس کا شکار مرد اور عورت دونوں ہوسکتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہورہی ہیں اور ہوتی ہیں۔

    اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو قیمتی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں, ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے لیکن گزشتہ دس پندرہ سالوں سے پاکستان میں اس حوالے شعور و آگاہی پھیلانے کی مہم چلائی جاتی ہے جس کا سہرا بلخصوص پنک ربن Pink Ribbon نامی این جی او کو جاتا ہے جو فی سبیل اللہ اس موذی مرض کے خلاف نا صرف متحرک ہیں بلکہ اس کے تدراک کے لیے عملی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon پاکستان بھر میں بریسٹ کینسر اویئرنس سیمینارز, کانفرنس اور لیکچرز منعقد کرواتے ہیں اور معاشرے کے باشعور و پڑھے لکھے طبقے کی مدد سے ناخوانداہ افراد کو آگاہی پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے میں 109 خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں۔ سالانہ 90,000 نئے چھاتی کے کینسر کے واقعات کے اضافے کے ساتھ سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات ایک سنگین تشویش کا معاملہ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگرچہ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے, لیکن اس کے لیے ہمیں کھل کر بریسٹ کینسر پر بات کرنی ہوگی کیونکہ ماہواری اور دیگر خواتین کے نفسیاتی و جسمانی اور معاشرتی مسائل کی طرح اس بیماری پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو ہے مطلب لوگ ناک منہ چڑھاتے اور اس مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

    اسی لیے ملک بھر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے سے لے کر حکومتوں اور نجی تنظیموں کے ساتھ مؤثر اتحاد قائم کرنے سے لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے عدالتی وکالت تک؛ پنک ربن نے کامیابی کے ساتھ ‘چھاتی کے کینسر’ کے ممنوع موضوع کو ایک فعال ‘نیشنل ہیلتھ ایجنڈا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    دوسری طرف، پنک ربن Pink Ribbon پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں جو اب تک 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال کا مقصد سالانہ 40,000 چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو او پی ڈی، الٹراساؤنڈ، میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، اور ان ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سہولت سمیت عالمی معیار کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    پنک ربن ایک خیراتی ادارہ ہے جو خالصتاً زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی شکل میں عوامی فلاحی کاموں پر منحصر ہے, اس لیے عوام کو جس میڈیم سے بھی بریسٹ کینسر اور پنک ربن کی بابت معلومات ملیں وہ حسب توفیق اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور جمع کروائیں۔

    یاد رکھیں یہ مرض زیادہ تر عورتوں کو لاحق ہوتا ہے جو آپ کی ماں, بہن, بیوی اور بیٹی کے روپ میں اس معاشرے میں ہر لمحہ موجود رہتی ہیں اس لیے اس خطرناک اور موذی مرض کی آگاہی لازمی لیں اور اپنے گھر کی عورتوں کو اس بارے میں بتاکر ان کا خوف کم کریں کہ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو سروائیول کے چانسز بہت زیادہ ہیں البتہ دیر ہوجائے یا بلکل معلوم ہی نہ ہو تو پھر اس مرض سے موت ہونا طے امر ہے۔

    یہ بیماری خاموشی سے ہمارے معاشرے میں پھیل اور پھل پھول رہی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف اس بابت ناقص معلومات یا کم علمی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس بیماری کے پھیلنے اور اس قدر خطرناک ہونے کی اصل وجہ شرمساری اور خاموشی بھی ہے۔

    گھریلو خواتین جن کی آنکھ ایک پدر سری اور توہم پرستی سے لبریز معاشرے میں کھلی ہے وہ نہ تو خود توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے ایسے مسائل کھل کر ڈسکس کرتی ہیں کہ نام نہاد مشرقیت اور خود ساختہ شریعت کا بھاری بھرکم بوجھ پہلے ہی سینے پر ہوتا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوگئی تو دنیا کیا سوچے گی, میرے گھر کے مرد کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ اور بیشک ہمارے سماج کی عورتوں کا یہ ڈر خوف اور شرمساری بے جا بھی نہیں کہ ہمارے معاشرےکا مرد عورت کی زیب و زینت کا تو خوب عاشق اور متمنی رہتا ہے لیکن اس کی اسی زیب و زینت کی طبی صحت اور نفسیاتی عوامل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

    آپ مرد ہیں تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ٹیبو Taboo خواہ وہ ماہواری کے مسائل پر آگاہی ہو, سیکسشوئیل معاملات پر آگاہی ہو یا پھر سروائیکل و بریسٹ کینسر کی بابت آگاہی ہو کو آپ ہی توڑ سکتے ہیں اگر آپ خود سے ان معاملات پر آگاہی حاصل کریں اور اپنی بیوی کو بتائیں اور سمجھائیں اور وہ پھر آگےآپکی ماں بہن بیٹی اور تمام رشتہ دار خواتین کو آگاہی دے تو آپ صدقہ جاریہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    عورتیں خواہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی۔ ۔ ۔ جب تک ان کو ان کے باپ, شوہر, بھائی اور بیٹے ہمت, حوصلہ اور اعتماد نہ دیں وہ بیچاریاں اپنی ذات سے متعلق مسائل, امراض اور معاملات میں بھی تذبذب, ڈر, خوف اور شرمساری کا شکار رہ کر موت کو تو گلے لگالیتی ہیں لیکن کسی اپنے یا پرائے سے اس قدر ممنوعہ بنا دیئے گئے معاملات ڈسکس نہیں کرپاتی۔

    آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کا عالمی دن تھا لیکن ہمارے ہاں سوائے پنک ربن Pink Ribbon کے کوئی اس دن کو یاد نہیں کرتا اور نہ ہی خود سے اپنی گھر کی عورت کو اس بابت کچھ پتہ کرنے یا بتانے کا قصد کرتا ہے۔

    بریسٹ کینسر کو مات دینی ہے تو پہلے معاشرتی اور سماجی شرم و حیا کا میکنزم اور ڈیکورم بدلیں ورنہ بریسٹ کینسر اور اس جیسی دیگر موذی بیماریاں آپ کے معاشرے کی عورت کو نگلتی رہیں گی کہ وہ شرم و حیا کا چولا پہنے مرتی مر جائیں گی لیکن اپنی بیماری یا اپنی تکلیف کو راز ہی رکھیں گی, جس سے عورتوں اور مردوں کا تناسب خراب ہوگا اور معاشرہ عدم توازن کی طرف جائے گاکہ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    بہر کیف آپ کو بریسٹ کینسر سے متعلق جس طرح کی بھی معلومات درکار ہوں آپ بذریعہ انٹرنیٹ پنک ربن کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا روابط سے حاصل کرسکتے۔ اس پیغام کو آج کے دن بلخصوص اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی خواتین سے ضرور شیئرکیجیئے تاکہ وہ خود اس مرض کی تشخیص کرنا سیکھ سکیں اور بروقت آگاہی سے موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں۔

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔