Baaghi TV

Tag: بلاول بھٹو

  • بلاول بھٹو سے میئر کراچی، گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات

    بلاول بھٹو سے میئر کراچی، گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے میئر کراچی، گورنر خیبرپختونخوا نےبلاول ہاوس میں الگ الگ ملاقاتیں کیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سےخیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بلاول ہاؤس کراچی میں میں ملاقات کی ہے ۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کوخیبرپختونخوا کی سیاسی صورت حال پر بریفنگ دی۔انہوں نے پارٹی چیئرمین کو خیبرپختونخوا کے وسائل کے حوالے سے وفاق کے غیرمنصفانہ روئیے سے آگاہ کیا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے بھی آگاہی دی۔بلاول بھٹو زرداری نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو خیبرپختونخوا سے وفاقی روئیے اور امن و امان کی صورت حال پر صوبائی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی ہدایت کی ۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کراچی کے میئر مرتضی وہاب نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی ہے ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کراچی کے میئر مرتضی وہاب نے ضلع وسطی میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونی ورسٹی کا درجہ دینے سے متعلق بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کراچی میٹروپولیٹن یونی ورسٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا خواب تھا۔کراچی میٹروپولیٹن یونی ورسٹی کے درجنوں طلبا کو اسکالر شپس بھی دی ہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ کراچی کے ضلع وسطی میں میٹروپولیٹن یونی ورسٹی کا قیام خوش آئند ہے۔کراچی کے ضلع وسطی میں عباسی شہید اسپتال کا معیار بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اس اسپتال سے متعلق وژن کے مطابق کیا جائے۔

    شرجیل میمن کا پیپلز بس سروس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح

    ملکی آبادی میں سالانہ اوسطا 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ریکارڈ

    حساس ادارے کی کاروائی،لیاری گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار

  • شرجیل انعام میمن کی بلاول بھٹو  سے ملاقات

    شرجیل انعام میمن کی بلاول بھٹو سے ملاقات

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: ملاقات میں شرجیل میمن نے بلاول بھٹو کو صوبائی حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی،شرجیل میمن نے چیئرمین بلاول بھٹو کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں عوام کی خدمت کے تسلسل کے عمل کو اجاگر کرنے کے لیے صوبائی محکمہ اطلاعات اپنے فرائض ادا کررہا ہے، سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا جال بچھایا جارہا ہے اور اس سلسلے میں پیدا ہونے والے عوامی مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جارہا ہے۔

    اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ عوام میں اس احساس کو بھی مزید اجاگر کرنا ضروری ہے کہ حکومت ہر قدم پر عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • وزیراعظم کی اسحاق ڈار کو  بلاول بھٹوکے تحفظات دور کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی اسحاق ڈار کو بلاول بھٹوکے تحفظات دور کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی: دو روز قبل بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھاکہ وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہے، نہ سیاست کی جاتی ہے، نہ معاہدے پر عمل ہورہا ہے، وہ 26 ویں ترمیم میں مصروف تھے اور حکومت نے پیچھے کینالز کی منظوری دے دی، وفاقی حکومت نے آئین سازی کے وقت برابری کی باتیں کیں، لیکن آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی، دیہی سندھ سے ججز ہوتے تو برا بری کی بات کرتا، جوڈیشل کمیشن میں ہوتا تو آئینی بینچ میں فرق پر بات کرتا، میں جوڈیشل کمیشن سے احتجاجاً الگ ہوا۔

    وزیراعظم نے پاکستان بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کردی اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو ذمے داری دے دی، اسحاق ڈار کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطوں کا حکم دے دیا ن لیگ کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ پیپلز پارٹی اہم اتحادی ہے، کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے یہ تحفظات پیدا ہوسکتے ہیں لیکن نائب وزیر اعظم جلد ہی اس سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کریں گے۔

  • شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو  کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دور اندیش اقدام قرار دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی طرح 26 ویں آئینی ترمیم پاکستانی سیاسی منظر نامے میں ایک انقلابی قدم ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی دور اندیشی قابلِ رشک اور قابلِ تعریف ہے، ترمیم کو حقیقت بنانے میں ان کی قیادت اور لگن بہت اہم رہی۔ان کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی محنت اور کوششوں سے ہی ممکن ہوئی، بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کو ایک روشن، زیادہ مساوی مستقبل کی طرف رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اقدام مزید مساوی اور متحد پاکستان کو فروغ دے گا، 26 ویں آئینی ترمیم سے وفاق مزید مضبوط اور متحد ہو گا اور صوبوں کو مساوی نمائندگی ملے گی۔سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم ایک زیادہ جامع اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر میں مدد کرے گی، جس سے پوری قوم مستفید ہو گی، جمہوریت مزید مستحکم ہوگی اور تمام شہریوں کے حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس آئینی ترمیم کا مقصد تمام صوبوں کے لیے بہتر نمائندگی کو یقینی بنانا، جمہوریت اور انصاف کو مضبوط کرنا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کو ایک روشن، زیادہ مساوی مستقبل کی طرف لے جایا ہے، جہاں جمہوری اداروں خصوصاً پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نظام انصاف میں مساوی نمائندگی سے متعلق دیرینہ مسائل حل ہوجائے گا، جمہوریت مزید مضبوط ہو گی۔

    دفاعی نمائش ’آئیڈیاز 2024‘ 19 سے 22 نومبر تک کراچی میں منعقد ہو گی

    قائداعظم ٹرافی ، لاہور وائٹس،ڈیرہ مراد جمالی،حیدرآباد،سیالکوٹ اور بہاولپور کی کامیابی

    کراچی: غیر ملکیوں کو پولیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے لوٹ لیا، وزیراعلی کا نوٹس

    شہرقائد میں سمندری ہوائیں بحال، موسم آج بھی گرم اور مرطوب

    وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت اجلاس، چائنیز شہریوں کی سیکیورٹی کا جائزہ

  • بلاول بھٹو  اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم

    اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو وزیر اعظم سے ممکنہ طور پر 27ویں آئینی ترمیم پر بات کریں گے، بلال بھٹو کے ہمراہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر بھی ہمراہ ہیں، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی ماڈل ٹاؤن میں موجود ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے ملاقات میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو تاریخی قرار دے دیا ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے مل کر چلیں گے، غیر جمہوری طاقتوں کا راستہ روکنے کے لیے چھبیسویں آئینی ترمیم کارگر ثابت ہوگی۔

    اس موقع پر شہبازشریف نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا کریڈٹ تمام اتحادی جماعتوں کو جاتا ہے، پہلے بھی عوامی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹے اور نہ ہی اب پیچھے ہٹیں گے، ملکی معاشی اعشاریہ مثبت ہونے سے مہنگائی میں واضح کمی ہوتی نظر آ رہی ہے۔

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیم بھی منظور کروئی تھی جس پر جے یو آئی کے علاوہ بقیہ اپوزیشن جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    قبل ازیں ایوان صدر میں صدر آصف زرداری سے وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملاقات کی، ذرائع کے مطابق ملاقات نئے چیف جسٹس کی حلف برداری تقریب کے موقع پر ہوئی، ملاقات میں ملکی مجموعی صورت حال پر تفصیلی مشاورت کی گئی، ملاقات میں ملک کی امن و امان اور معاشی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی اورسیاسی اور عسکری قیادت نے ملکی ترقی کیلئے کوششیں تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، ملاقات میں پاکستان میں ایس سی او کانفرنس کے انعقادکا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک خوش آئند پیشرفت قرار دیا گیا،ملاقات آدھا گھنٹہ جاری رہی۔

  • بلاول کا کشمیر کے مظلوم عوام کیلئے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    بلاول کا کشمیر کے مظلوم عوام کیلئے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیریوں کی جانب سے یومِ سیاہ منانے کے موقع پر ایک بار پھر کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    میڈیا سیل بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین پی پی پی نے اپنے پیغام میں بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور بنیادی حقوق و آزادی کا مطالبہ کرنے والے کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ان کا حق خودارادیت، جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے، ایک انسانی حق ہے جسے کسی بھی ظلم و جبر سے چھینا نہیں جا سکتا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ بحران کو حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کرے تاکہ خطے میں انصاف، امن اور آزادی قائم ہو سکے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے کشمیر کاز کے لیے بھرپور عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بانی، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کشمیر کے لیے بے مثال وژن آج بھی مشعل راہ ہے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی عالمی سطح پر کشمیر کے لیے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنے پہلے دور صدارت میں انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور کشمیری عوام کے حقوق کی بھرپور وکالت کی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ صدرمملکت آصف علی زرداری اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے آج بھی پوری استقامت کے ساتھ پرعزم ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے آگے آئیں، کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی کشمیریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے اور ان کی آواز کو قومی و بین الاقوامی سطح پر بلند کرنے کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے گی۔

    کراچی میں کارروائی کے لیے جانیوالا پولیس انسپکٹر اغوا

    بھارت بے پناہ وسائل کے باوجود کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، غلام محمد صفی

    ایم ڈی کیٹ کا دوبارہ انعقاد ،بد انتظامی و نا اہلی کی انتہا ہے ، منعم ظفر خان

  • آئینی ترمیم کی منظوری مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر بھی ہو سکتی تھی،بلاول

    آئینی ترمیم کی منظوری مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر بھی ہو سکتی تھی،بلاول

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کا کام کسی اور چیف جسٹس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

    باغی ٹی وی: برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمان میں منظور کی گئی، آئینی ترمیم کے تحت نئے چیف جسٹس کو مقرر کیا جا چکا ہے، 25 اکتوبر سے پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری بڑا کام تھا۔

    انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر بھی ہو سکتی تھی، آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے ہمارے پاس نمبرز پورے تھے،26 ویں آئینی ترمیم کا کام کسی اور چیف جسٹس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا، اور مجھے نہیں معلوم تھا منصورعلی شاہ چیف جسٹس نہیں بنیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

    انقرہ میں حملہ: ترکیہ کی عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری

    چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم اپنی مرضی کا آئین بناسکتے تھےلیکن پیپلزپارٹی کا طریقہ کار رہاہے، میثاق جمہوریت کا وعدہ پوراکرنا ہے تو میں زورزبردستی کا ووٹ نہیں چاہتا،جو اختیارات آئینی عدالت کو ملنے تھے وہ تو آئینی بینچ کو مل گئے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، حکومت ذمہ داروں کا ٹرائل کرنا چاہتی تھی، عدالت آئین کی تشریح کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کے راستے میں رکاوٹ بنی-

    امریکی ایوان نمائندگان کا عمران خان کی رہائی کیلئے جوبائیڈن کو خط

  • چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو،بلاول بھٹو

    چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو،بلاول بھٹو

    کوئٹہ:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئینی ترمیم سے متعلق میں موجودہ چیف جسٹس کے لیے جدوجہد نہیں کررہا،

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں بلوچستان ہائیکورٹ بارسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ 1973کے آئین کو مثیاق جمہوریت کے ذریعے بحال کیا، آمر کےکالے قانون کو کسی جج میں ہمت نہیں تھی کہ وہ غیرآئینی کہے مگر سیاسی لوگ اس وقت ظلم بھگت رہے تھے، میرے والد نےکسی سزا کے بغیر قید بھگتی، اس وقت بھی یہی عدالت کا نظام تھا،کہاں مکمل انصاف تھا۔

    انہوں نے کہا کہ وکلا سےایسا لگاؤ ہے جو کوئی سیاستدان یا ادارہ کلیم نہیں کرسکتا، دہشت گردی واقعے کےبعد بلوچستان آیا بڑےوکلا سےملاقات ہوئی، جو آج کل وکلا کےچیمپئن بنے ہوئے ہیں اسوقت مذاق اڑیا تھا، میں آپ میں سے ہوں لاہور یا اسلام آباد سے نہیں آیاسابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، اُس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل کیانی، اُس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل پاشا کے درمیان مک مکا ہوا کہ اگر چارٹر آف ڈیموکریسی لاگو ہو گا، اگر ہم 1973 کے آئین کو اصل صورت میں بحال کریں گے تو اسٹیٹس کو کا کیا ہوگا، ہمارا ڈیموکریسی کا کنٹرول کیا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کسی وزیراعظم کو نکالیں اور ہم چوں تک نہ کرسکیں، کہا گیا ریاست ہوگی ماں کی جیسی مگر پھر ریاست باپ کی طرح ہوگئی اور اس میں زیادہ ہاتھ افتخار چوہدری کا تھا جن کے وقت میں فل بینچ رات 12 بجے بیٹھ جاتا تھا۔آئینی ترمیم سے متعلق میں موجودہ چیف جسٹس کے لیے جدوجہد نہیں کررہا، میرا نہیں آپ کا ایجنڈا کسی خاص شخصیت کے لیے ہوسکتا ہے، ملک سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس منصور علی شاہ میرے لیے سب سے محترم ہیں، پہلی بار جسٹس فائزعیسیٰ اور جسٹس منصور کے زمانے میں امید نظر آرہی ہے، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ان دو ججوں میں کوئی بھی آکر آئینی عدالت میں بیٹھے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر آئین کہے کہ آئینی عدالت ہوگی تو آپ مانیں گے، عدالت کا کام آئین اور قانون پر عملدرآمد کرانا ہے ، ہم نے 30 سال کی جدوجہد کےبعد یہ فیصلہ لیا کہ آئینی عدالت بنے، ملک میں کسی کو مقدس گائے نہیں بننا چاہیے نئے میثاق جمہوریت میں پہلا مطالبہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت بننا چاہیے، کیا آپ یقین دلائیں گے کہ پوری 18 ویں ترمیم اڑانے کی دھمکی نہیں دی جائے گی، اتنے سارے کیسز ہیں جو سنے نہیں جاتے ہر چند ماہ بعد ایک سیاسی کیس اٹھ جاتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو، ہم اب تک جو حکومت سے طےکرچکے ہیں وہ وفاقی آئینی عدالت ہے، ہم کہہ رہے ہیں کہ کمیٹی اتفاق رائے سے جج کا فیصلہ کرے، کمیٹی جس کو اتفاق رائے سے جج بنائے اسی کو جج بننا چاہیے، ہم ایسا نظام بنائیں جو آگے جاکر ہمیں تحفظ دلاسکے۔

    وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور صدر ہائی کورٹ بار افضل حریفال نے بھی تقریب میں شرکت کی اور بار کے صدر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور آئینی ترامیم کے معاملے پر وکلا کے تحفظات کا اظہار کیا اور پیپلز پارٹی کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    صدر ہائی کورٹ بار افضل حریفال نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے وکلا کے تحفظات ہیں، اگرعدالتی نظام انصاف نہیں دے رہا، وکلا عدالت پر عدالت کا قیام نہیں چاہتے۔ پیپلز پارٹی سے توقع رکھتے ہیں کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہ کریں، عدالتوں میں مقدمات تاخیر کا شکار ہیں تو ججوں کی تعداد بڑھا دیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے زمین بوس ہورہے عدالتی نظام کو ختم نہیں ہونے دینگے، آئین کی شق 199 میں ترمیم کرنے سے تو بہتر ہے حکومت مارشل لا لگا دیں ہائی کورٹ آئین میں موجود بنیادی انسانی حقوق کی شقیں ختم کرنے سے جنگل کا قانون بنے گامیثاق جموریت کے بعد آئینی ترامیم کیوں نہیں لائیں گئی، میثاق جموریت میں سلامتی کونسل ختم کرنے اور میڈیا کی ازادی کی بات کی گئی لیکن ایسا نہ ہوا، الیکشن کمیشن خور مختار آج تک نہیں ہوسکا، کوئٹہ 25 اکتوبر کے بعد نادیدہ چیف جسٹس کو قبول نہیں کریں گے۔

  • پی ٹی آئی کی کوشش ہوتی ہے کہ ہرعہدے کو متنازع بنایا جائے،بلاول بھٹو

    پی ٹی آئی کی کوشش ہوتی ہے کہ ہرعہدے کو متنازع بنایا جائے،بلاول بھٹو

    لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جسٹس فائزعیسٰی پر حملہ آج سے شروع نہیں ہوا، پی ٹی آئی کی کوشش ہوتی ہے کہ ہرعہدے کو متنازع بنایا جائے۔

    باغی ٹی وی : نجی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کررہی ہے جس کا مقصد پاکستان ناکام بنانا ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم اتنا اُلجھے رہیں کہ ہمارے نقصان کا اُنہیں سیاسی فائدہ ہو،جسٹس فائزعیسٰی پر حملہ آج سے شروع نہیں ہوا، پی ٹی آئی کی کوشش ہوتی ہے کہ ہرعہدے کو متنازع بنایا جائے،اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیاں اُن ججز کے ہاتھ میں ہیں جو سیاست کی وجہ سے ایک دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔

    بلاول بھٹو نے آئینی ترمیم کے معاملے پر کہا کہ آئینی ترامیم پیش کرنے سے پہلے ہماری انڈراسٹینڈنگ تھی کہ حکومت کو مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل ہے لیکن جب کمیٹی میں مسودہ پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مولانا فضل الرحمان اور حکومتی مسودے میں بہت فاصلہ ہے-

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آج نہیں تو کب یہ کام کریں گے؟ جلد بازی کا تاثر دینے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئین سازی کو سبوتاژ کر سکتے ہیں،جیسے ہی دو تہائی اکثریت حاصل ہوگی، ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کر دیں گے، چاہے وہ کل ہوں یا پرسوں، فوری آئین سازی بہتر ہوگی-

  • بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے،بلاول بھٹو

    بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے،بلاول بھٹو

    کوئٹہ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ان کی جلد مدد کی جائے اور وعدے پورے کیے جائیں-

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ 400 ملین ڈالر کا ورلڈ بینک کا قرض ہو یا سندھ میں جاری ورلڈ بینک کے پروجیکٹس ہوں، یورپی یونین کی اعلان کردہ 700 ملین یوروز کی امداد ہو، یہ تمام فنڈنگ میں نے بطور وزیر خارجہ پاکستان کے لیے جمع کیں اور وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوکر دنیا کے سامنے مدد کی باتیں کیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں ورلڈ بینک کے تعاون سے گھر بنانے اور سڑکوں کی بحالی کے منصوبے جاری ہیں، ہاؤسنگ کا منصوبہ میرا ہے جو میں نے ورلڈ بینک کے سامنے رکھا اور فنڈنگ کا بندوبست کیا جس کا مقصد بے گھر افراد کو دوبارہ رہائش دینا تھا، ساتھ ہی انہیں زمین کا مالک بھی بنانا تھا اس پر کام شروع کردیا ہے یہ پیسہ کسی وفاقی یا صوبائی بابو کے حوالے نہیں کیا اس پیسے کی حفاظت صوبائی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کررہا ہے۔

    ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث 3 رکنی گینگ گرفتار

    انہوں نے کہا کہ ہم نے منصوبے کو آؤٹ سورس کیا ہے تاکہ شفافیت رہے، منصوبے میں ورلڈ بینک اور سندھ حکومت دونوں کی فنڈنگ ہے اور وفاق سے بھی دلوایا، بیرون ملک وعدہ بھی پورا کررہا ہے یہ سارے وعدے ہم بلوچستان کے لیے پورے کیوں نہیں کرسکتے؟ یہ بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہے 400 ملین ڈالرز کا وہ قرض جو میں نے عالمی بینک سے حاصل کیا وہ ڈالرز وفاق نے اپنی جیب میں رکھے اور ہمیں روپیہ دے رہا ہے اور وہ روپیہ بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ اسے استعمال کریں گے، 2020ء سے لے کر آج تک وفاق نے ایک گھر بھی نہیں بنایا میں چاہتا ہوں کہ آپ سیلاب متاثرین کو وہ رقم ضرور پہنچائیں آپ یہ کام ضرور کریں اور سندھ کے پلاننگ منسٹر کے ساتھ مل کر کریں، ورلڈ بینک سے پہلے صوبائی اور وفاقی حکومت کو سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

    شکست کے بعد ٹیم میں تبدیلیاں کرنا آسان ہے،شان مسعود

    بلاول نے کہا کہ اگر صوبائی کے ساتھ وفاق بھی سیلاب متاثرین کے لیے اپنا حصہ شامل کرے اور اسے عالمی سطح پر اسے ثابت کرنے کے لیے راضی ہو تو میں مزید عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کو فنڈ دلوانے کے لیے تیار ہوں مگر ایسا ہو نہیں رہا مقصد پورا نہیں ہورہا صوبائی اور وفاقی حکومتیں سیلاب متاثرین کے ایشو کو سنجیدگی سے لیں، وفاقی حکومت ہماری آؤٹ سورس کی گئی کمپنیوں اور این جی اوز کے ساتھ معاہدے کرے اور ایسے گھر بنائے کہ اگلے سیلاب میں وہ تباہ نہ ہوں، بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ان کی جلد مدد کی جائے اور وعدے پورے کیے جائیں اس سیلاب سے متعلق امداد اکٹھی ہونے کے بعد حکومت کا جو سلوک رہا ہے اگلی بار اگر مصیبت آئی تو اگلی بار امداد دیتے وقت عالمی ادارے ماضی کو دیکھیں گے، بلوچستان کے فنڈز امداد کے لیے شامل کریں بلوچستان کے سیلاب متاثرین سے سوتیلا سلوک بند کیا جائے۔

    بھارت:مہاتما گاندھی کے بجائے اداکار انوپم کھیر کی تصویر والے نوٹ