پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹیرینز کے چئیر مین بلاول بھٹو نے کہا کہ جس روپ میں میاں صاحب اس بار سامنے آ رہے ہیں، یہ وہ میثاق جمہوریت والے میاں صاحب نہیں ہیں، یہ ووٹ کو عزت دو والے میاں صاحب نہیں، یہ وہی پرانے آئی جے آئی والے میاں صاحب ہیں جن کا ساتھ دینا میرے لیے مشکل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ان کیلئے تحریک انصاف اور ن لیگ سے اتحاد کا معاملہ کنویں اور کھائی جیسا ہے، دونوں جماعتیں ایک جیسی سیاست کر رہی ہیں۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت اور آئینی حالات میں بھی ایک بحران نظر آ رہا ہے، تقسیم کی سیاست جو بانی پی ٹی آئی کرتے تھے اور میاں صاحب کی بھی روایت تھی، وہ اب ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے، میں پاکستان میں اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، ہم نے سب سے پہلے انتخابی مہم کا آغاز کیا، سب سے پہلے منشور دیا۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر معیشت، جمہوریت اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنا ہے تو پہلے اس تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے میں بہترین پوزیشن میں ہوں، ہماری انتخابی مہم بہت زبردست رہی ہے، عوام کا ردعمل امیدوں سے زیادہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، میاں صاحب کو خبردار کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے، ا مید ہے کہ نوازشریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت اور انتظامیہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانبدار ہیں، نگران وزیر اعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
Tag: بلاول بھٹو
-

نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری
-

عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی
پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ عمران خان کا مستقبل مخدوش ہے، بلاول نے شاندار سیاسی حکمت عملی اپنائی،بشریٰ بی بی عمران خان کو سرپرائز دے سکتی ہیں، اس بارے نہیں جانتا،الیکشن کے بعد پاک بھارت تعلقات، تجارت بارے فیصلے کرنے دونوں ممالک کے لئے بہتر ہیں، سائفر کی وجہ سے تعلقات متاثر ہوئے، عمران خان کو اسی وجہ سے سزا ملی،
باغی ٹی وی کی اینکر یاسمین آفتاب علی کو پروگرام "یاسمین آفتاب علی کے ساتھ” میں دیئے گئے ایک انٹر ویو میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ سائفر کوڈ میں تھا اور اسکا ڈی کوڈد ورجن ساتھ رکھ لیں تو کوڈ کو توڑنا آسان ہوتا ہے،جو اس پورے عرصے میں پاکستان کے سفارتکاروں میں پیغامات آئے کوئی بھی پاکستان کا دشمن یا دوست بھی ڈی کوڈ کر سکتا ہے،جو رازداری ہے وہ راش فاش ہو گیا،یہی وجہ ہے کہ قانونی کاروائی ضروری سمجھی گئی،
حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو کہ ایک دوسرے کے شہری مارے جائیں ، میرا یہ خیال ہے کہ پاکستا ن میں الیکشن کے بعد پاکستان کی نئی قیادت کوئی ایسا قدم اٹھاتی ہے جس کے نیتجے میں مودی کی حکمت عملی کہ لوگوں کوپاکستان یا مسلمانوںکے خلاف غصے میں رکھیں یہ ناکام ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے لئے بھی اچھا ہو گا، بھارت کے ساتھ ہمیں تجارت کے لئے بات چیت کرنی پڑے کیونکہ جو پڑوسی کے ساتھ تجارت نہیں کرتا تو اسکی ایکسپورٹ کبھی زیادہ نہیں ہو پاتیں کیونکہ پڑوسی ملکوں کے درمیان چیزیں بھیجنا اور لانا آسان اور سستا ہوتا ہے، تجارت کھولنے کے لئے بہت بڑے سیاسی فیصلے کرنے ہوں گے،دونوں طرف اس پر بات چیت ہو گی، فیصلے کرنے ہوں گے،
حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ ہم نے موقع ضائع کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا،حقیقت یہ ہے دنیا تیزی سے بدلتی رہی ہے،لیکن ہم اس طرح بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے، ہم ہر بات کو نظریاتی کشمکش، نعرہ بنا دیتے ہیں اور اسی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں،ہم دوسرے نعرے کے پیچھے چل پڑتے اور امریکہ سے اس وقت دشمنی کی جس وقت دوستی کا فائدہ ہو سکتا تھا،
پاکستان کی سیاست پر بات کرتے ہوئے حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ بہت سارے لوگ جو کہتے ہیں کہ میں اس سے بات نہیں کروں گا وہ بات کرتے نظر آتے ہیں، مجھے تو حیرت نہیں ہو گی کہ عمران خان رہا ہونے کے بعد اس اتحاد کا حصہ بنے ہوں جس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہوںجس کو وہ گالیاں دیتے تھے، نتائج وہ ہوں گے جو ووٹر کے ڈبوں سے نکلیں گے،پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم بارے بات کرتے ہوئے حسین حقانی کا کہنا تھاکہ بلاول چار پشتوں سے سیاست میں ہیں، انکی والدہ، انکے نانا وزیراعظم تھے، انکے نانا کے والد بھی وزیراعظم ہی کہلاتے تھے، انکو سیاست ورثے میں ملی، پڑھی بھی ہے وہ پڑھےلکھے بھی ہیں، متوازن آدمی بھی ہیں، انہوں نے شاندار حکمت عملی بنائی کہ اگر وہ اس انتخاب میں لوگوں کا ووٹ تبدیل نہ بھی کر سکے تو اگلے انتخاب تک لوگوں کی سپورٹ مل جائے گی،
تحریک انصاف کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو غور کرنا چاہے کہ وہ اس مقام پر کیسے پہنچے، لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان بہت مقبول ہیں لیکن صرف مقبولیت سیاست نہیں ہوتی، لیکن لوگوں کو ایک سمجھداری کی حکمت عملی کے ساتھ ایک راستے پر لے جانا ضروری ہوتا ہے ، پی ٹی آئی اس میں ناکام ہوئی، اسکی مشکلات کم نہیں ہوئیں کیا اسٹیبلشمنٹ چاہے گی کہ تیس چالیس آزاد امیدوار نئی پارٹی بنا کر اڈیالہ سے ہدایات لیتے رہیں ایسا نہیں ہو گا، ایک ایسی چیز ہے جو غیر یقینی ہے وہ ممکنہ نتائج ضروری نہیں جو ہم تصور کرتے ہوں.ہ جو سیاسی حالات رہے ہیں پچھلے ڈیڑھ سال میں انکو پڑھنے میں عمران خان سے شدید غلطیاں ہوئیں، انکو افراد کو پڑھنے میں بھی غلطیاںہوئیں، خاور مانیکا نے سرپرائز دیا کیا بشریٰ بی بی بھی کوئی سرپرائز دیں گی، مجھے اس کا علم نہیں نہ ہی جانتا ہوں، ہو یہ نہ ہو ،بشری بی بی کو بنی گالہ سب جیل قرار دے کر بھجوانے کا عمران خان کو سیاسی نقصان ضرور ہو گا، عمران خان کا مستقبل مخدوش نظر آ رہا ہے،
نوٹ، حسین حقانی کامکمل اور تفصیلی انٹرویو بدھ کو نشر کیا جائے گا
عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟
تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے
مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں
نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے
-

عدت میں نکاح کے کیس میں سزا پر تعجب اور افسوس ہے،بلاول
حیدرآباد: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات کے بعدآصف زرداری صدر کیلئے پارٹی کے امیدوارہوں گے-
باغی ٹی وی: نجی چینل کو دئیے گئے انٹرویو کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس کے فیصلے پر کہا ہے کہ غیر شرعی نکاح کیس کے اس نتیجے کی حمایت کرنا مشکل ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح عدت نکاح کیس پر میڈیا رپورٹنگ کی جارہی ہے میں اس کا حصہ نہیں بننا چاہتا، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ماضی میں کی گئی کوششوں پر بھی اس فیصلے سے منفی اثر پڑ سکتا ہے، انتخابات کے بعدآصف زرداری صدر کیلئے پارٹی کے امیدوارہوں گے، پیپلز پارٹی وزیراعظم، صدر، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے بھی اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ پورے ملک سے ہار رہی ہے،مریم نواز کا وزیراعلیٰ یا وزیراعظم بننا خواب ہے، جبکہ ایم کیو ایم کو بھی اپنی ہار نظر آ رہی ہے اسی لیے وہ پھر پرتشدد واقعات کی سیاست کر رہی ہے توشہ خانہ اور سائفر کیس پر میرا بلکل واضح موقف ہے لیکن عدت میں نکاح کے کیس میں سزا پر تعجب اور افسوس ہے، ہمیں سیاست میں اتنا آگے نہیں جانا چاہیے،عام انتخابات میں دھاندلی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ تو موسم ہی دھند کا ہے۔
-

پیپلزپارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرنا چاہتی ہے،بلاول بھٹو
حیدر آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئی مذہب کی بنیاد پر کوئی لسانیت کے نام پر تقسیم چاہتا ہے، پیپلزپارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرنا چاہتی ہے۔
باغی ٹی وی :حیدر آباد میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ نفرت کی سیاست سے ملک و قوم کا نقصان ہورہا ہے، ان کو عوام اور ملک کی کوئی فکر نہیں،ان کو صرف چوتھی بار وزیراعظم بننے کی فکر ہے کوئی مذہب کی بنیاد پر کوئی لسانیت کے نام پر تقسیم چاہتا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم غربت، مہنگائی اور بےروزگاری کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، ہم آپ کے ووٹ کے ذریعے مقابلہ کریں گے، آپ نے ووٹ کی طاقت سے نفرت کی سیاست کو دفن کرنا ہے حیدرآباد کےعوام نے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا، عوام کے تعاون سے شہر میں جیالا میئرمنتخب ہوا، آپ پیپلزپارٹی کے مد مقابل جماعتوں کی اصلیت سے واقف ہیں۔
ماسکو میں بھارتی وزارت خارجہ کا ملازم پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار
چیئرمین پیپلزپارٹی نے بلاول نے دیگر سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آپ کے مسائل اور مشکلات کو نہیں سمجھتے، میں اپناعوامی معاشی معاہدہ پیش کرنے آیا ہوں، ہم نےوفاقی حکومت سنبھالی تو تمام 10نکات پر عمل کروں گا ،ان لوگوں نے90 کی دہائی میں جو کیا سب جانتے ہیں، آپ ان کی نفرت اور تقسیم کی سیاست سے واقف ہیں، ہمارے مخالفین تشدد، نفرت اور تقسیم کی سیاست جانتے ہیں میری والدہ دنیا میں نہیں، میں بیٹے کی طرح خدمت کرنا چاہتا ہوں، ہم بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کریں گے، خواتین کو بلاسود قرض دیا جائے گا، بےروزگار نوجوانوں کیلئے نوجوان کارڈ لائیں گے، ملک بھر میں 30 لاکھ گھربنا کر دیں گے۔
کرک میں پی ٹی آئی کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ
پیپلز پارٹی غریبوں کے دل کی آواز محسوس کرتی ہے،آصف زرداری
-

ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا تو ہم ساتھ ملکر الیکشن کمیشن جاکر نتائج چھینیں گے،بلاول
میر پور خاص: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سہولت کار سُن لیں اگر چوتھی بار نواز شریف کو وزیراعظم بنایا گیا تو دھاندلی برداشت نہیں کریں گے۔
باغی ٹی وی : میرپور خاص میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام سے ووٹ مانگ رہا ہوں جبکہ دوسرے سیاست دان ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں، میں نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور جنوبی پنجاب کے دورے کیے، یہ سارے علاقے ن لیگ کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اس لیے اب سارا ٹبر لاہور میں اپنا گھر بچانے کی کوشش کررہا ہے،باقی سیاسی جماعتیں ذاتی انتقام لے رہی ہیں، جو میاں صاحب اپنے آپ کو چوتھی بار مسلط کرنا چارہا ہے اُس کو وفاق، عوام اور جمہوریت کی نہیں بس اپنی کرسی کی فکر ہے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کی باقی تمام سیاسی جماعتیں نام نہاد ہیں، کوئی مذہب، کوئی فرقہ واریت اور کوئی لسانیت کے نام پر تقسیم کرنا چاہتا ہے، ہم ان سب کو عوام کی حمایت سے 8 فروری کو جواب دیں گے، سندھ اور پورا پاکستان ان کی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کردے گا اور 8 فروری کو تیروں کی بارش ہوگی-
پی ٹی آئی کی لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کی درخواست مسترد
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نواز شریف اب نگراں حکومت کے لوگوں کو استعمال کررہے ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رائیونڈ میں فارم 45 اور فارم 47 پہنچائے جائیں تاکہ وہ پہلے سے دھاندلی کرسکیں، وہ ابھی سے ووٹوں پر ڈاکا مارنے کیلئے سازشیں کررے ہیں، عوام ایسے بزدل گیدڑ کا ساتھ نہیں دیں گے یہ ن لیگ کی بھول ہے کہ وہ دھاندلی کرلے اور ہم خاموش بیٹھ جائیں، یہ پی پی کے جیالے ممی ڈیڈی نہیں بلکہ ضیا کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں، انہوں نے جنرل مشرف کا مقابلہ کیا تھا، دھاندلی کی سازشیں کرنے والا شیر نہیں بلکہ بلی ہے اور اس کا ہم بندوبست کریں گے۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اتحادی جماعتوں نے سر …
بلاول کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا تو ہم ساتھ مل کر الیکشن کمیشن جاکر نتائج چھینیں گے، یہ اپنے سہولت کار کو کہہ رہے ہیں دھاندلی کرو مگر نواز شریف کے سہولت کار سُن لیں دھاندلی برداشت نہیں کریں گےہم حکومت میں آنے کے بعد غریبوں کیلیے 300 یونٹ بجلی فری کریں گے، ہر بچے کو مفت تعلیم دیں گے جبکہ نوجوانوں کو روزگاراور کسانوں کو حقوق دیں گے، میرپور خاص نے بھٹو شہید اور بی بی شہید کا بھرپور ساتھ دیا اور آج یہاں لے لوگ بلاول کے ساتھ کھڑے ہیں-
نواز شریف کی کوشش ہے وہ پاکستان پر مسلط ہوں،بلاول بھٹو زرداری
-

اگر میاں صاحب نے پرانی سیاست کرنی ہے تو میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتا،بلاول
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ مخلوط حکومت بنی تو پی ٹی آئی یا ن لیگ میں سے کسی کا ساتھ نہیں دوں گا۔
باغی ٹی وی: برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے کردار سے پہلے سے مایوس تھا، میاں صاحب کے کردار سے سخت مایوس ہوں، اس لیے آج کل ہمارے فاصلے کافی واضح ہیں، اگر میاں صاحب نے پرانی سیاست کرنی ہے تو میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتا، ہم انتخابات اور جمہوریت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
بلاول کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کی اکثریت پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر نہیں ہیں، انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو آزاد امیدواروں کا ساتھ مل سکتا ہے، ہم ایک نئی سوچ اور جذبےکے ساتھ ملکی نظام کو بہتری کی جانب لے جانا چاہتے ہیں، حکومت ملی تو میری حکومت میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ہوگا۔
بانی پی ٹی آئی کی سزاؤں کے بعد انتخابات کی شفافیت پر بلاول کا کہنا تھا کہ 2018 اور 2013 میں بھی بہت سے سیاستدان الیکشن نہیں لڑ سکے تھے اور اس وقت سب سے زیادہ خوش بانی پی ٹی آئی تھے، ان کی سزا مکافات عمل ہے، ہمارے معاشرے میں پھیلی نفرت اور تقسیم کی سیاست بانی پی ٹی آئی یا نواز شریف نہیں صرف پیپلز پارٹی ختم کرسکتی ہے۔
غیر شرعی نکاح کیس: دوران سماعت عمران خان، بشریٰ اور خاور مانیکا کے درمیان …
دوسری جانب نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگومیں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دینا مشکل ہو گا، کسی کو اپنا ووٹ دینے کی بجائے ہم اپنی حکومت بنائیں گے،ایم کیو ایم پاکستان والے انتشار اور تشدد کے بغیر الیکشن لڑ نہیں سکتے ،عوام تشدد کی سیاست کو رد کرتی ہے، تشدد کی سیاست کو اب برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بلا تفریق عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے ، میں کراچی کے چپے چپے میں خدمت کرنا چاہتا ہوں، میں کراچی میں پیدا ہوا ، کراچی میرا اپنا شہر ہے ،ان شاء اللہ ہم کراچی کی عوام کی قسمت تبدیل کریں گے ، بلدیاتی انتخابات میں کراچی سے تاریخی کامیابی ملی، اب عام انتخابات میں بھی کامیابی ملے گی اورعوام تیر کو ووٹ دے کر کامیاب کرائیں گے۔
ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ گئی تھی ۔ معاشی، سفارتی بحران تھے اس لیے میں شہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت میں شامل ہوا تھا ، پاکستان کو کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے حکومت میں شامل ہوا تھا ۔ ہماری اتحادی حکومت کو قومی معاملات میں دلچسپی نہیں تھی، یہ غلط فہمی ہے کہ تمام آزاد امیدوار پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ہیں ،چند پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرآزاد امیدوار ہیں، ہم وزارت عظمی ، صدر سمیت تمام عہدوں کے لیے الیکشن میں حصہ لیں گے۔
اوچ شریف:غوث الاعظم چوک پل عباسیہ لنک کینال تجاوزات کی لپیٹ میں,حادثات معمول بن گئے
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں پرانی روایتی نفرت اور تقسیم کی سیاست سے مایوس ہوں، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے یہی سیاست کرنی ہے تو میرے لیے مشکل ہو گا کہ ان کے ساتھ کام کروں اگر وہی 90 کی دہائی کی سیاست کرنی ہے تو میں اس میں شامل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا ہے،بانی پی ٹی آئی کی سیاست کیا رہی ہے ؟ بانی پی ٹی آئی کی سیاست یہ رہی کہ مخالفین کے خلاف کیسز ڈالو ،انتقامی سیاست نہ میں نے ماضی میں کی نہ آگے جا کر کروں گا۔
بلاول نے مزید کہا کہ بلے کے نشان سے متعلق اہم کیس کے فیصلے کے وقت پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے آکر شدید تنقید کی، بلے کے نشان کا کیس چل رہا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے تنقید کی ، پلانٹڈ قیادت نے کہا کہ میں ابھی بانی پی ٹی آئی سے مل کرآیا ہوں ،اگلے دن انہوں نے سخت زبان استعمال شروع کر دی، میری اطلاعات کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے خود وکلا کی تیاری پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے بانی پی ٹی آئی کے پاس درست ٹیم موجود نہیں ، عرصے سے سیاست کر رہے ہیں ، دال میں کچھ کالا ہو تو ہمیں نظر آ جاتا ہے ،پی ٹی آئی میں انٹرا پارٹی الیکشن پر کافی عرصے سے اختلافات چل رہے تھے۔
پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے قواعد وضوابط جاری کردیئے
-

نواز شریف کو چوتھی بار چننے سے انتخابی منشور پر عمل نہیں ہوگا،بلاول زرداری
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہےکہ ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست عروج پر ہے، نواز شریف کو چوتھی بار چننے سے بھی منشور پر عمل درآمد نہیں ہوگا، نئی سوچ کے بغیر آپ اپنے منشور پر عمل نہیں کرسکتے-
باغی ٹی وی :راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت میں 18 ماہ گزارے، جانتے ہیں کہ اسلام آباد بیوروکریسی کی کیا ذہنیت ہے، بیورو کریسی نہ خودکچھ کرنا چاہتی ہے اور نہ کسی کو کچھ کرنے دیتی ہے،نفرت اور تقسیم کی سیاست کی وجہ سے بھائی بھائی سے لڑرہا ہے، ملک میں تقسیم کی سیاست کی جارہی ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست کی وجہ سے پاکستان کونقصان ہورہا، اتحادی حکومت سے پہلے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے نکالا گیا، ہم نیک نیت کے ساتھ اکٹھے ہوئے تھے، میری نیت تھی کہ تمام سیاسی پارٹیاں مل کر پاکستان میں کام کریں، معاشی، سیاسی بحران تھا، پاکستان دنیا میں اکیلا ہوگیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں لوگوں کا بہت اچھا رسپانس ہے، باقی عوام کی طرح میں بھی میاں صاحب کی تقریریں نہیں سنتا، باقی ممالک میں بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار دنیا کے سامنے مباحثہ کرتے ہیں، میں نے ان کا چیلنج قبول کیا ، میں نے چیلنج دیا تو چھوٹے میاں صاحب نے سندھ آنے کو کہا، میں نے چیلنج قبول کیا،یہ میرے چیلنج سے کیوں ڈر رہے ہیں؟ میاں صاحب کو اپنی پالیسیوں کا پتا ہےتو آئیں مجھ سے مباحثہ کریں،تھرپارکر،کراچی یا گمبٹ کہیں بھی آکر مباحثہ کرلیں،کیا کبھی پنجاب میں بزدل لوگوں کو منتخب کرایا ہے، پنجاب کے لوگ ہمیشہ بہادر اور دلیر لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک جماعت کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کردیا پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی ایسا کریں گے، یہ جانتے ہیں کہ عوام کی اکثریت نہیں چاہتی کہ میاں صاحب چوتھی بار وزیراعظم بنیں، ہمیں جو بھی جوائن کرتا ہے اس کے لیے مسائل ہوتے ہیں، ن لیگ کھلا میدان چاہتی ہے، پیپلز پارٹی کے خلاف بھی غیر جمہوری رویہ جاری ہے، حکومت پنجاب سے پوچھتا ہوں کیا ہم نے 9 مئی کیا، ن لیگ کو ڈرکیا ہے؟ جیالوں کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں۔
اسلام آبادکی نجی یونیورسٹی میں طلبا سے مکالمہ کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک کی اشرافیہ، بجلی گھروں اور فرٹیلائزر انڈسٹری کو 1500 ارب روپے سالانہ سبسڈی ملتی ہے، اشرافیہ کی تمام سبسڈی کو ختم کریں گے، پسماندہ طبقات کو ریلیف دینےکے لیے رقم خرچ کریں گے، حکومت ملی تو وفاق کی 17 وزارتیں ختم کریں گے، عوام کو 300 یونٹ تک مفت بجلی، دیگر سہولتیں دیں گے تو پالیسیز کے ساتھ کھڑے ہوں گے،طاقت ور لابیز مسائل کا باعث بنتی ہیں، نواز شریف کو چوتھی بار چننے سے انتخابی منشور پر عمل نہیں ہوگا، چاہتا ہں نفرت کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو، ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست عروج پر ہے-
سابق وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے 3 ماہ آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی، جو الیکشن جیتے انتقامی سیاست نہ کرے، اپوزیشن بھی حکومت چلنے دے، سیاست کے لیے غلط معاشی فیصلوں کا نقصان عوام اٹھا رہے ہیں، نیت ٹھیک ہو تو آئی ایم ایف کے ساتھ غریبوں کا خیال رکھا جاسکتا ہے،بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام خواتین کو بھکاری نہیں بااختیار بناتا ہے، غریب کو ریلیف کی فراہمی ترجیح ہے، سیلاب متاثرین کے لیے کچھ کرنا میری ترجیح ہے، گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دلوارہے ہیں، ایسے گھربنا رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابل کرسکیں، سیلاب سے تباہ ہونے والے 20 لاکھ گھربنارہے ہیں، اسی ماڈل کو دیکھتے ہوئے ملک میں 30 لاکھ گھر بنائیں گے۔
-

اس ملک کو صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہی بچا سکتی ہے،بلاول
راولپنڈی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جوسمجھتے ہیں کہ وہ چوتھی بار وزیراعظم بن رہے ہیں ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی وزیراعظم نہیں بن سکتے۔
باغی ٹی وی : راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک جماعت نے وہی پرانی سیاست اپنائی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید چوتھی بار وزیراعظم بن سکتے ہیں، یہ ان کی غلط فہمی ہے طاقت کا سر چشمہ عوام ہے، آپ نے 8 فروری کو ووٹ دینا ہے تیر کومہرلگانا ہے، وہ آپ کو تقسیم اور گمراہ کرنا چاہتے ہیں، ووٹ کے صحیح استعمال سےآپ چوتھی بار کی سازش ناکام بناسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اس شہر میں موجود ہوں جہاں ذوالفقاربھٹو کوشہید کیا گیا، میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں بےنظیر بھٹو نے اپنی آخر سانسیں لی تھیں، میں آج یہاں موجود ہوں کیونکہ پاکستان خطرے میں ہے، اس ملک کو صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہی بچا سکتی ہے،قائد عوام نے ہمیں روٹی کپڑا کا نعرہ دیا، ہم نے عوامی معاشی معاہدہ پیش کیا ہےہمارا دس نکاتی عوامی معاشی معاہدہ بےروزگاری کو کم کرےگا۔
جمہوریت پر چلنے سے مسائل حل ہوں گے اور بلوچستان کی بقا اسی میں ہے …
بلاول نے کہا کہ ایک بار پھر یہ دھرتی مجھے اور آپ کو پکار رہی ہے، ہماری جماعت سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے، پیپلزپارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ہمیشہ کےلیےختم کرنا چاہتی ہے، پاکستان میں کوئی اچھے یا بُرے طالبان نہیں ہوں گے، اگرکوئی ملک کےخلاف ہتھیار اٹھائے گا تو منہ توڑ جواب دیں گے۔
الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں،بیر سٹر …
دوسری جانب آصفہ بھٹو کا کراچی میں انتخابی مہم کے دوران خطاب میں کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آ کر غربت کا خاتمہ کرے گی، خواتین اور نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کریں گے،بے نظیر بھٹو مزدوروں اور طلبہ کی آواز تھیں، میں اور بلاول عوام کی آواز بنیں گے، 8 فروری کو عوام اور پیپلز پارٹی کی جیت ہو گی۔
ہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں،بیر سٹر …
-

شکار کا موسم ہے، اب ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے،بلاول بھٹو
بہاولپور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہمارے مخالفین اشرافیہ کے ساتھ ہیں جبکہ پیپلزپارٹی عوام کی نمائندگی کرتی ہے-
باغی ٹی وی : بہاولپور میں پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ شکار کا موسم ہے اور ہمیں شیر کا شکار کروانا ہے، اب ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے، ہمارے مخالفین اشرافیہ کے ساتھ ہیں جبکہ پیپلزپارٹی عوام کی نمائندگی کرتی ہے، عوام 8 فروری کو تیر پر ٹھپا لگا کر بتا دیں کہ بھٹو آج بھی زندہ ہے،حکومت میں آنے کے بعد غریبوں کیلیے 300 یونٹ تک بجلی بالکل مفت کردیں گے، ملک بھر میں مفت اور معیاری تعلیمی ادارے اور آئی ٹی یونیورسٹی قائم کریں گے‘۔
پی ٹی آئی رہنما آئی پی پی میں شامل
قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے سنا تھا لاہور ن لیگ کا شہر ہے مگر یہاں تو مسلم لیگ ن نظر ہی نہیں آرہی، عوام اب ن لیگ والوں کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے، انتخابات سے بھاگنا مسلم لیگ ن کی عادت بن چکی ہے، ن لیگ چاہیے یا نہیں مگر آٹھ فروری کو ہر صورت انتخابات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ (ن)لیگ کی عادت بن چکی ہے اب وہ ہر الیکشن سے بھاگتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کارروائیوں میں 4 دہشت گرد ہلاک
انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو ہر صورت الیکشن ہوں گے اور عوام ذاتی دشمنی و سیاسی انتقام کی سیاست کو 8 فروری کو دفن کر کے نئے سفر کا آغاز کریں گے پاکستان پیپلزپارٹی کا مقابلہ کسی سیاست دان اور سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے، ہم دس نکاتی عوامی معاشی معاہدے سےغربت، مہنگائی اور بےروزگاری کا مقابلہ کریں گے۔
16 جنوری سے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-

کچھ قوتوں نےسوچاتھاکہ وہ پیپلزپارٹی کوختم کردیں گے،بلاول
فیصل آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ گھر گھر جاکر بتائیں آپ کی تنخواہ اور آمدنی کوڈبل کریں گے، پی پی کی حکومت بنے گی تو 300 یونٹ بجلی غریبوں کو مفت ملےگی –
باغی ٹی وی: تاندلیانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خوشی محسوس ہورہی ہے پنجاب میں موجود ہوں وہ سمجھتے تھے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو شہید کرکےغریب کی آواز بند کردیں گے، سب کو پیغام دینا چاہتا ہوں ہم ڈرنے والے نہیں، پورے پاکستان کو بتائیں گے کہ پنجاب میں جیالے زندہ ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ہم پنجاب میں سیاسی جماعتوں کامقابلہ کرکے دکھائیں گے، ان سے اپنا حق چھینیں گےاشرافیہ کی جماعتوں کو اس صوبے اور ملک پرمسلط کیا گیا، جب بھی یہ حکومت میں آتے ہیں ظلم کرتے ہیں، ملکی معاشی ابتر حالات تاریخی سطح پر پہنچ چکے ہیں، کوئی جیل سے بچنے اور کوئی جیل سے نکلنے کیلئے الیکشن لڑرہا ہے، پیپلز پارٹی عوام کیلئے الیکشن لڑرہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب کے سیاستدان جب بھی بیمار ہوتے ہیں لندن جاکےعلاج کراتے ہیں، اب آپ میری حکومت بنائیں تو ان سیاستدانوں کو دور نہیں جانا پڑے گا، ہم ان سیاستدانوں کیلئے دل کے علاج کا بندوبست کرلیں گے۔