Baaghi TV

Tag: بلدیاتی

  • ترکیہ ،بلدیاتی انتخابات، حکمران جماعت کو شکست، ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے،ترک صدر

    ترکیہ ،بلدیاتی انتخابات، حکمران جماعت کو شکست، ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے،ترک صدر

    ترکیہ کے بلدیاتی انتخابات میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی جماعت کو بڑا دھچکا لگ گیا

    ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ملک کے 9 شہروں میں میئر کی نشستوں پر حزبِ اختلاف کے امیدوار آگے ہیں، استنبول کے میئر امام اوغلو کو تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے،انقرہ میں موجودہ اپوزیشن میئر منصور یاواش کی جیت کا جشن منانے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے،مجموعی طور پر بلدیاتی انتخابات میں حکمران اے کے پارٹی کو 340 اور اپوزیشن کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی کو 240 اضلاع میں برتری ہے

    تک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی اپنا احتساب کرےگی،31 مارچ ہمارےلیےاختتام نہیں ٹرننگ پوائنٹ ہے، ترک عوام نے ووٹ کے ذریعےسیاست دانوں کواپنا پیغام پہنچادیا، مئی الیکشن میں جیت کے 9ماہ بعد ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے، اے کے پارٹی اور پیپلز الائنس نے الیکشن کی بھرپور تیاری کی تھی، ہم انتخابات کے نتائج کا پارٹی میں جائزہ لیں گےاور اپنا احتساب کریں گے۔

  • کے پی کے خالی نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے  کاغذات نامزدگی کی  فہرست  جاری کردی گئ،

    کے پی کے خالی نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی کی فہرست جاری کردی گئ،

    الیکشن کمیشن کے مطابق چئیرمین تحصیل کونسل حویلیاں، ایبٹ ٓباد اور تحصیل کونسل متھرا، پشاور کی خالی نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانیوالے امیدواروں کی فہرست جاری کردی گئ،
    الیکشن کمیشن کے مطابق پشاور متھرا تحصیل چئیرمین کی نشست کے لئے 15 اور حویلیاں کی چئیرمین کی نشست کے لئے 10 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے۔
    کاغذات نامزدگیوں کی جانچ پڑتال 14جولائی سے 16جولائی 2023 کو ہوگی۔کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 17جولائی سے 18جولائی 2023 تک داخل کی جاسکیں گی۔ ان اپیلوں پر فیصلہ 20جولائی 2023 تک کیا جائیگا
    الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 21جولائی 2023کو جاری کی جائیگی، اور امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 22جولائی 2023 تک واپس لے سکیں گے۔ اسکے علاوہ 23جولائی 2023 کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرکے ان کو انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں گے۔
    جبکہ پولنگ 6 اگست کو ہوگی۔ جسکے بعد 8اگست 2023 کو ریٹرننگ افسران کی جانب سے ختمی نتیجے کا اعلان کیا جائے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق ان اضلاع میں سرکاری ملازمین کی ترقیوں اور تبادلوں پر پابندی عائدکی گئی ہے۔
    وزیراعظم، سپیکر/ڈپٹی سپیکر قومی و صوبائی اسمبلی، وفاقی اور صوبائی وزراء سمیت عوامی نمائیندوں کا ان کونسلوں میں انتخابات تک جانے اور وہاں ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات پر پابندی ہوگی۔

  • پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت لوکل گورنمینٹ کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی میئر سلمان مراد، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ اور دیگر شریک تھے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس میئر اور ڈپٹی میئر کے ساتھ بات چیت کیلئے بلایا گیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میئر اور ڈپٹی میئر کراچی کی بھرپور خدمت کریں، شہر کراچی نے ماضی میں ترقیاتی کاموں، صفائی ستھرائی اور عوام کے مسائل کے حوالے سے تفریق دیکھی ہے، میں چاہتا ہوں کہ اب بلا تفریق سے شہر اور اس کے عوام کی خدمت ہونی چاہئے، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن امان بحال کیا ہے، ہماری حکومت نے شہر میں ترقیاتی کام کروائے جس کی وجہ سے عوام نے پیپلز پارٹی کو کامیاب کیا پیپلز پارٹی قیادت کا حکم ہے کہ بلدیاتی نمائندے شہر میں عوام کے مسائل حل رکتے ہوئے دکھائی دیں

    وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں واٹر بورڈ کا کام بہتر کرنے کی ضرورت ہے، سندھ سولڈ ویسٹ کے کام کو مزید بہتر کرنا ہے، میئر کراچی کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام اداروں کو بہتر اور مضبوط کرنے کیلئے کام کرینگے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر کی ٹرانسپورٹ، سڑکوں، نکاسی آب کو مزید بہتر کیا جائے، * کے ایم سی اپنے مالی وسائل کو بڑھائے اور بہتر کرے، وزیراعلیٰ سندھ نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ تمام ٹائونز کے نمائندوں کو ساتھ لے کر چلیں، کے ایم سی ٹائونز اور کنٹونمینٹس کے ساتھ کوآرڈینیشن میں کام کرے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات کو ہدایت دی کہ وہ نئے بلدیاتی اداروں کو فعال کریں نئے ٹائونز کے جو مسائل ہیں ان کو فوری طور پر حل کریں، محرم الحرام آ رہا ہے تمام بلدیاتی ادارے اپنے متعلقہ علاقوں میں نکاسی آب، اسٹریٹ لائیٹس اور سڑکوں کو بہتر بنائیں،

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

  • پشاور ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کر دیا

    بلدیاتی نمائندوں کی معطلی کیخلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کردیا، عدالت نے کیس نمٹا دیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنے کے اختیارات ہیں، یہ پہلی دفعہ ہوئے، 2018 میں بھی بلدیاتی نمائندوں کو معطل کیا گیا تھا، انتخابات کے دوران اسے پھر معطل کیا جائے گا، جسٹس روح الامین نے استفسار کیا کہ کن بلدیاتی انتخابات کے دوران صوبائی اسمبلیوں کو معطل کیا گیا تھا، کیاصرف بلدیانی نمائندے ہی معطل ہوں گے؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اعلامیہ معطل، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا،

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، گزشتہ سماعت پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے تو یہاں پر وفاق کے نمائندے بھی بیٹھے ہیں،گورنر، چیف سیکرٹری ، آئی جی وفاقی نمائندہ، کیا ان کو بھی معطل کرینگے؟ اگر کسی پر ٹرسٹ نہیں ہے تو پھر ان کے خلاف کاروائی کریں اور ہٹا دیں چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھ سکتے تو ریزائن کریں کہ ہمارے بس کی بات نہیں،بلدیاتی نمائندوں کے پاس تو 30 فیصد فنڈ تھا،ان کو معطل کیا؟ ترقیاتی کام جس کے پاس ہے وہ تو ابھی کام کررہے ہیں ،قومی اسمبلی ممبرز پر تحفظات آئے تو آپ قومی اسمبلی کو بھی معطل کرینگے؟نگران حکومت بلدیاتی نمائندوں پر کنٹرول رکھ سکتی ہے،عدالت نے کہا کہ جو خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ والی آنٹیاں ایسے نعرے کہیں اور لگا کر دکھائیں …تو کیا ہوگا ؟

    باغی ٹی وی”عوام کو”عورت مارچ” کےفوائد نہیں بتاتا:ہمیں یہ منظورنہیں:”عورت مارچ "کی آرگنائزرکاموقف دینے سے انکار،

    میرے ساتھ ایک عورت کی موجودگی میں اس کے خاوند نے جنسی زیادتی کی:وہی عورت اب عورت مارچ کی روح رواں

    عورت مارچ کے لیے فنڈریزنگ شروع:حکومت مخالف قوتیں دل کھول کرفنڈدینے لگیں‌

  • بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے. ترجمان الیکشن کمیشن سندھ

    بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے. ترجمان الیکشن کمیشن سندھ

    بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے، ترجمان الیکشن کمیشن سندھ

    ترجمان الیکشن کمیشن سندھ علی اصغر سیال کا کہنا ہے کہ فوج اور رینجرز کی خدمات حساس پولنگ اسٹیشنز کے لئے ہوں گی، کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔ ایک بیان میں ترجمان الیکشن کمیشن سندھ نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد دڈویژن میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں مکمل اور عملےکی تربیت ہوچکی ہیں،پولنگ کا سامان ڈی آر او کی نگرانی میں رکھاگیاہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 4 ہزار 990 اور حیدرآباد ڈویژن میں 3 ہزار 864 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، پولیس نے سیکیورٹی پلان فائنل کردیا ہے، حساس پولنگ اسٹیشنز میں فوج،رینجرزکی خدمات حاصل ہوں گی، بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے نامکمل کورم اور اقدامات کی قانونی حیثیت سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست جسٹس جنید غفار نے درخواست پرسماعت سے انکار کردیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ
    چھٹیوں کے دوران ملازمین کو تنگ کرنے پر ہوگا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ
    درخواست دوسرے بینچ کو بھیجنے کے لئے معاملہ چیف جسٹس سندھ ھائیکورٹ کو ارسال کردیا ۔ طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کے فوری سماعت سے متعلق دوبارہ درخواست آج ہی دائر کریں گے۔ درخواست گزار کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کے الیکشن کمیشن نامکمل ہونے باعث ان کے فیصلے قانونی حیثیت نہیں رکھتے حلقہ بندیوں کے متعلق بھی الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے جب نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس وقت کمیشن میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نمائندے نہیں تھے ۔

  • بلدیاتی الیکشن؛ تقرر و تبادلوں پر چیف سیکرٹری سندھ کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

    بلدیاتی الیکشن؛ تقرر و تبادلوں پر چیف سیکرٹری سندھ کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

    بلدیاتی الیکشن؛ تقرر و تبادلوں پر چیف سیکرٹری سندھ کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم
     سندھ ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے قبل صوبے میں افسران کے تقرر و تبادلوں اور سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی سے متعلق درخواستوں پر چیف سیکرٹری کو بیان حلفی رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو بلدیاتی انتخابات سے قبل سندھ میں افسران کی تقرریاں، تبادلوں اور سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی سے متعلق پی ٹی آئی رہنماؤں اور شہری خادم حسین کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    وکلا نے مؤقف دیا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد تقرریاں غیر قانونی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کے 2 سیکرٹریز نے عدالت کو بتایا تھا کہ کسی کے کہنے پر تقرری تبادلے کردیے گئے تھے۔ اے جی صاحب عدالت کو بتایا تھا کہ تبادلے واپس لے لیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ابھی تک کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کو نہیں ہٹایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ناظر کو مقرر کردیں؟ اب ناظر کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری چیک کرے گا؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات واپس لے لیے گئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ چیف سیکرٹری بیان حلفی جمع کرائیں کہ الیکشن شیڈول کے بعد کتنے تقرر و تبادلے ہوئے؟ عدالت نے تبادلے اور تقرریوں سے متعلق رپورٹ بیان حلفی کے ساتھ 11 جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

  • وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی قانون کا ترمیمی مسودہ منظور کرلیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی قانون کا ترمیمی مسودہ منظور کرلیا

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بلدیاتی ترمیمی مسودہ منظور کر لیا ہے۔ترامیم بلدیاتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ ہوں گی۔ بل کی ترامیم فوری طور پر نافذ کرنے کے لیے آرڈیننس بھیجنے کا فیصلہ کر ليا گيا ہے۔

    مجوزہ ترمیم کے مطابق کراچی کا میئر شہر کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین ہو گا۔ اسی طرح حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ کے میئر ان شہروں کی ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے چیئرمین ہوں گے۔ بل میں مزید ترامیم کر کے مسودہ اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے کراچی کے 7 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کردیے۔الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی درخواست منظور کرلی، کراچی میں بلدیاتی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    سندھ حکومت کا بلدیاتی انتخابات کے التوا کے لیے الیکشن کمیشن کو تیسرا خط

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے غور کیا گیا۔

    الیکشن کمیشن نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا جب کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی بلدیاتی انتخابات کے لیے گزشتہ روز سیکرٹری وزارت داخلہ سے میٹنگ کی گئی، وزارت داخلہ سے انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے فوج اور رینجرز کی فراہمی یقینی بنانے کا کہا تھا، وزارت داخلہ نے مطلع کیا کہ پولیس نفری کی کمی کے پیش نظر فوج اور رینجرز پولنگ سٹیشنز پر ڈیوٹی نہیں دے سکتے۔

    ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں ،آرمی چیف

    الیکشن کمیشن کے مطابق تحریری طور پر بتایا گیا کہ فوج اور رینجرز بطور کوئیک ریسپانس فورسز دستیاب ہوں گے، سندھ حکومت نے بتایا تھا کہ کراچی کے اکثر پولنگ سٹیشنز یا تو حساس یا اننتہائی حساس ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ فل الحال انتخابات ملتوی کردئیےجائیں۔

    قبل ازیں سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات 3 ماہ کے لیے ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو 3 مراسلے بھی بھجوا چکی ہے جبکہ کراچی کے 7 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو شیڈول تھے۔

  • سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے 4 اگست تک سندھ حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو جواب جمع کرا دے،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت کو تحریری جواب جمع کرانے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جائے ،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی.

    فروغ نسیم نے کہا کہ 27 اگست کو الیکشن ہے، دو ہفتے کا وقت دیا گیا سندھ حکومت کہے گی پولنگ قریب ہے

    گزشتہ سماعت پر وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا تھا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا،

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

  • سندھ  بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سندھ بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کردیئے ،وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا، سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے التواء کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو چیف سیکرٹری سندھ یا وزیر اعلیٰ سندھ نے یا کسی اور ادارے کو کوئی خط نہیں لکھا کہ الیکشن کو آگے بڑھایا جائے یہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری ایک ویڈیو بیان میں کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا ہے اس کا الزام کچھ سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر لگا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سب کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اس کا خاتمہ ہوسکے۔

    سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن اور بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کو جواز بنا کر انتخابات کو موخر کرنے کی جو درخواست دائر کی تھی اس میں بھی پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو درخواست جمع کروائی گئی تھی اس کے جواب میں سندھ حکومت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایک سلیکٹ کمیٹی سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کی بنائی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی شامل ہیں۔

    اس سلیکٹ کمیٹی میں سوائے جماعت اسلامی کے تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم تک انتخابات موخر کرنے کا کہا اور پیپلز پارٹی نے بطور سندھ حکومت ان تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہائی کورٹ کے سامنے رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی مرتبہ میں نے، سید ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب اور دیگر نے بھی اپنی پریس کانفرنسز میں واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انتخابات کو آگے کرنے کی بات نہیں کی ہے اور آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔

    سعید غنی نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے بعد صوبائی الیکشن کمیشن کا ایک خط سامنے آیا، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی چیف سیکرٹری سندھ، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز و دیگر سے مٹینگز ہوئی اور انہوں نے ان سے تفصیلات لی اور اس خط میں انہوں نے اپنے ڈسٹرکٹ کے فیلڈ آفیسرز کا بھی تذکرہ کیا ہے،۔ سعید غنی نے کہا کہ میری خود چیف سیکرٹری سندھ سے اس سلسلے میں بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کی صوبائی الیکشن کمیشن سے ریگولر مٹینگز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ الیکشن میں  الیکشن کمیشن ساری لاجسٹک اور سپورٹ  ایڈمنسٹریشن کو فراہم کرنی پڑتی ہے۔اس 15 جولائی کو چیف سیکرٹری کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ہونے والی مٹینگز میں بارشوں کے حوالے سے تو زیادہ بات نہیں ہوئی  تاہم 18 جولائی کے اجلاس میں بارشوں کا تذکورہ ضرور ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ ہمارے فیلڈ آفیسرز کی جانب سے جو رپورٹ ملی ہے، اس میں انہوں نے بارشوں کے باعث کچھ پولنگ اسٹیشن اور کچھ راستے خراب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں الیکشن کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس رپورٹ میں ڈی سی دادو کی رپورٹ کا ذکر ہوا تھا، جس میں انہوں نے 9 یوسیز میں الیکشن کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد بھی سیکرٹری الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمیشن کا رابطہ چیف سیکرٹری سندھ سے رہا، لیکن چیف سیکرٹری نے کسی اور قطعی طور پر ان سے یہ درخواست نہیں کی کہ انتخابات کو آگے کردیا جائے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ الیکشن کمشنر نے جاری خط میں خود اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے میٹ آفس سے موسم کی رپورٹ لی اور اپنے فیلڈ آفیسرز سے رپورٹ لی،متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے جو رپورٹ دی ان تمام کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ جو فیز ون ہوا ہے اس میں ہم نے تمام اضلاع میں کلین سوئپ کیا ہے  اور ان علاقوں اور شہروں میں بھی جہاں پیپلز پارٹی روائتی طور پر کمزوررہی ہے وہاں بھی ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکھر، نوابشاہ، میر پورخاص  کے شہری علاقوں میں کلین سوئپ کیا ہے اور اب فیز ٹو میں بھی اور جہاں انتخابات ہونا ہیں وہاں بھی حیدرآباد میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے، جس کے 25 سے زائد چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوچکیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک جماعت جو پہلا فیز کلین سوئپ اور دوسرا فیز بھی کامیابیوں کو سامنے دیکھ رہی ہو تو وہ کیوں انتخابات سے بھاگے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی 2015 کے مقابلے میں ہم اس سے بہتر پوزیشن میں ہیں اور ہم اس کے مقابلے کئی گنا زیادہ نشستیں جیت جانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاری بھرپور تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے کارکن اور امیدواروں میں انتخابات کے التواء سے مایوسی پھیلی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ ہم اس فیصلہ پر عدالت میں جائیں، جبکہ خود سلیکٹ کمیٹی میں پی ٹی آئی نے انتخابات کو موخر کرنے کا کہا تھا۔ اسی طرح ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور دوسری جماعتوں نے بھی انتخابات آگے کرنے کا کہا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے التواء کی وجوہات اپنے نوٹیفیکشن میں درج کردی ہیں، اب اس کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ انتخابات 24 جولائی کو ہی ہوتے تاہم اگر الیکشن کمیشن نے اس کو موخر کرکے آگے کیا ہے تو اس کا جواب وہ الیکشن کمیشن سے ہی لیں۔

    سعید غنی نے کہا کہ نہ ہی چیف سیکرٹری سندھ نے، نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے الیکشن کمیشن کو کوئی خط نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کسی اور ادارے کو کہ انتخابات کو آگے کروا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوسرے فیز کو مکمل طور پر موخر کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے اور یہ پیپلز پارٹی کے حق میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ایک ماہ کی تاخیر سے امیدواروں پر مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کو مایوسی بھی ہوگی اور ووٹرز بھی اس فیصلے سے مایوس نظر آرہے ہیں۔