Baaghi TV

Tag: بلدیاتی

  • بلدیاتی انتخابات: بلوچستان کے 13وارڈز میں ری پولنگ مکمل:

    بلدیاتی انتخابات: بلوچستان کے 13وارڈز میں ری پولنگ مکمل:

    کوئٹہ :بلوچستان کے 13 وارڈز میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ری پولنگ مکمل ہوگئی، دکی میں آزاد امیدوار جبکہ نوشکی میں جمعیت علماء اسلام نے میدان مار لیا۔

    بلوچستان کے 8 اضلاع کے 13 وارڈز میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ری پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا، غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع دکی کی یونین کونسل 1 وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار گل محمد 299 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ ضلع نوشکی کی یونین کونسل قادر آباد وارڈ نمبر 7 سے جے یو آئی کے امیدوار نے میدان مار لیا۔

    غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع سبی کی یونین کونسل 8 وارڈ نمبر 3 سے پشتونخوامیپ کے امیدوار نے میدان مار لیا، ضلع لورالائی کے وارڈ نمبر 4 پر مقابلہ 49، 49 ووٹوں سے برابر رہا۔

    صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ ری پولنگ کیلئے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 29 مئی کے بلدیاتی انتخابات میں بلوچستان کے 8 اضلاع کے 15 پولنگ اسٹیشن میں مختلف واقعات کے باعث پولنگ ری شیڈول کی گئی تھی۔

    ادھرسندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کے بیٹے کی خاتون پولنگ افسر سے بد تمیزی کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا۔

    الیکشن کمیشن نے ایم پی اے کے بیٹے کرن ہری رام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 جولائی کو اسلام آباد طلب کرلیا۔پیپلز پارٹی کے ایم پی اے کے بیٹے کی خاتون پولنگ افسر سے تلخ کلامی کی ویڈیو وائرلایم پی اے کے بیٹے کی پولنگ اسٹیشن میں خاتون پریزائیڈنگ افسر سے تلخ کلامی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

    واقعہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں 26 جون کو پولنگ اسٹیشن نمبر 39 میں سامنے آیا تھا۔پولنگ ایجنٹ کو نکالے جانے پر کرن کمار اور خاتون پریزائیڈنگ افسر میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔کرن کمار کا کہنا تھا کہ پولنگ ایجنٹ کو کیوں نکالا گیا جبکہ خاتون پریزائیڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ دھمکائیں نہیں کسی ایجنٹ کو نہیں نکالا گیا۔

  • حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں اپیل کردی

    حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں اپیل کردی

    کراچی :حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم کی سپریم کورٹ میں اپیل،اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتےہوئے استدعا کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرےمرحلے کے انعقاد پر حکم امتناع جاری کیا جائے

    ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کردی ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے 24 جون کو حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لئے ایم کیوایم کی درخواست مسترد کردی تھی۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان نے سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کردی ہے۔

    ایم کیوایم کےکنوینر خالد مقبول و دیگر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سرکاری مشينری استعمال ہوئی، بیلٹ بکس چھین کر نامعلوم مقام پر لے جاکر جعلی ووٹ ڈالےگئے، دھاندلی میں انتظامیہ،پولیس اور الیکشن کمیشن کاعملہ بھی ملوث تھا۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ میں انتخابی اصلاحات کے بغیر شفاف الیکشن ممکن نہیں، اس لئے بلدیاتی انتخابات کے دوسرےمرحلے کے انعقاد پر حکم امتناع جاری کیا جائے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات مں پیپلز پارٹی نے سندھ میں چار ڈویژنز کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

    شہری علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں میں اب تک کل 354 میں سے 309 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جن میں پیپلز پارٹی 244 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے بعد جی ڈی اے 22، آزاد امیدوار 20، پاکستان تحریک انصاف 14 ، جے یو آئی ف 7 جب کہ دیگر جماعتوں نے 2 نشستیں جیتیں۔

  • سندھ میں  بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مین پولنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا تاہم کچھ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل معطل ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت 7 بجے تک بڑھا دیا تھا۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل آئے جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

    اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 14 ڈسٹرکٹ کونسلز کی نشستوں میں 7اضلاع میں پیپلزپارٹی واضح اکثریت کے ساتھ آگے ہے، پی پی مجموعی 2189 نشستوں کےساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جمیعت علما اسلام 64 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے 43 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی 13 امیدوار کامیاب ہوئے۔

     

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

     

    کشمورمین ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ نمبر 7 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار محراب علی مزاری 37 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جماعت اسلامی کے امیدوار عبید اللہ 18 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق ایس یو پی کے امیدوار 50 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی امیدوار زبیر احمد 49 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔کشمور ٹاؤن کے 11وارڈز میں سے 7 امیدوار پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بنا مقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔۔

    کشمور ٹاؤن کے بقیہ 4 وارڈ ز پر بھی پی پی پی نے مکمل طور پر سوئیپ کرلیا۔۔گڈو ٹاؤن کے ایک وارڈ پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی، جبکہ ایک وارڈ پر جماعت اسلامی، 2وارڈز پر آزاد امیدوار غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پر کامیاب قرار پائے۔کشمورمیں بخشاپور ٹاؤن کے 3وارڈز پر تحریک انصاف کےرهنما میر غالب حسین ڈومکی کے بیٹے سالار خان ڈومکی ر غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے پرکامیاب قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف کشمور کے ضلعی صدر حنیف خان ڈومکی بھی وارڈ نمبر3سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے پر کامیاب قرار پائے.
    ٹنڈو جان محمد کے 8 وارڈ میں پپلزپارٹی کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں.وارڈ نمبر 7: پی پی پی امیدوار شہزاد احمد 297 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،وارڈ نمبر 12 : پی پی پی پی کے امیدوار شہزاد حسین 505 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار راجیش کمار 185 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں، وارڈ نمبر 10 سے پی پی پی امیدوار محمد اسماعیل 325 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اللھ رکھیو 87 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر۔وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار صداقت ذوالفقار علی آرائیں 575ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پی پی پی امیدوار 551 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں.

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    خیرپورٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جی ڈی اے امیدوار میر ڈنل تالپور 954 وقار لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید انوار علی شاہ 348 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی خیرپور کی وارڈ نمبر 15 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے غلام حسین مغل 1304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منصور اقبال شیخ 408 لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی وارڈ 17 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار اصغر شیخ 1149 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار مجید شیخ 356 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    شہداد کوٹ میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار طارق حسین بروہی 272 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار دلاور خان کھوسو 147 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    کندھ کوٹ میں جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین لاٹھیاں چل گئیں، تصادم کا واقعہ میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 10 میں پیش آیا جہاں لاٹھیاں لگنے سے 30 کارکن زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جھگڑے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا، ٹھل کی یوسی 28 پر پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے کارکنان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سات افراد زخمی اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

  • کراچی:بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے کا شیڈول جاری

    کراچی:بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے کا شیڈول جاری

    کراچی:شہرقائد میں بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا نظر ثانی شدہ شیڈول جاری کردیا ہے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے اس سلسلے میں تمام ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید…

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 4 دن کی توسیع کردی گئی ہے، اب کاغذات نامزدگی 15 جون تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

    سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کیلئے درخواست جمع

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ امیدواروں کی ابتدائی فہرست 16 جون کو جاری کی جائے گی جبکہ 17 سے 19 جون تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور کرنے کے خلاف 20 سے 22 جون تک اپیل کی جاسکے گی۔علاوہ ازیں 27 جون کو نظرثانی شدہ فہرستیں آویزاں کی جائیں گے جبکہ 28جون کو کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکیں گے اور 29 جون کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے فوج اور رینجرز طلب کرلی گئی ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ کو مراسلہ ارسال کردیا۔مراسلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کے لیے پولنگ 26 جون کو شیڈول ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے 9 ہزار 290 سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے جانے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان

    صوبائی الیکشن کمشنر نے مراسلے میں بتایا کہ فوج اور رینجرز کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہوں گے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حساس ترین پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ 24 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہوگا اور 28 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کے نتائج جاری کیے جائیں گے۔

  • بلدیاتی انتخابات کوکامیابی سےکروانے پرتمام اداروں اوربلوچ عوام کا شکریہ:ترجمان بلوچستان حکومت

    بلدیاتی انتخابات کوکامیابی سےکروانے پرتمام اداروں اوربلوچ عوام کا شکریہ:ترجمان بلوچستان حکومت

    کوئٹہ: ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے 32 اضلاع میں کل ہونے والے بلدیاتی انتخابات کامیابی کے ساتھ پُرامن حالات میں اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں اور آج کا دن بلوچستان کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے جس دن دہشت گردوں کے خلاف بلوچ عوام نے عزم مصمم کے ساتھ اپنا اظہارووٹ استعمال کیا

    فرح عظیم شاہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہےکہ صوبے میں الیکشن کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا اور کوئی بڑے سانحہ کے شکار ہونے سے بچ گیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر وہ بلوچستان حکومت ، بلوچ عوام اور ان سیکورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتی ہیں جنہوں نے انتخابات کو پُر امن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے

     

    b

    یاد رہےکہ کل کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے کہا تھا کہ صوبے کے 32 اضلاع میں کل ہونے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ انتخابات میں حکومت کسی قسم کی مداخلت کر رہی ہے۔

    کوئٹہ کے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں سیکرٹری بلدیات دوستین جمالدینی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور لسبیلہ میں حلقہ بندیوں کا مسئلہ ہے جسے حل کر رہے ہیں۔

    انہوں نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2013 کے بعد صوںے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں، ہماری کوشش ہے زیادہ سے زیادہ عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے آزادانہ گھروں سے پولنگ اسٹیشنوں تک آئے۔

    کل ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ تمام اضلاع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لیں گئیں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ضابطہ اخلاق طے پایا گیا ہے،اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام اضلاع کے قبائلی معتبرین سےملاقاتیں بھی کی گئی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشن پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل ترتیب دے دیا گیا ہے۔ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرائیں گے اور امیدواروں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ اور سی سی پی او آفس میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کنٹرول روم قائم کیا جا چکا ہے۔

    آج انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں تمام اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے آج کے انتخابات کو پُرامن طور پرانجام پانے میں بھرپورکردار ادا کیا

  • پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا

    پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا

    ملتان:پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری کردیا گیا، الیکشن آرڈیننس 2021 کیخلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

    پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہائیکورٹ ملتان بنچ کا بڑا فیصلہ، ہائیکورٹ کے جسٹس شان گل نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں لوکل گورنمنٹ انتخابات روکنے کا سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے، عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے27 اپریل کو جواب طلب کر لیا۔

    عدالت میں خانیوال کے محمد اسلم کمبوہ، وہاڑی کے دلاور خان اور ساہیوال کے غلام عباس ڈوگر نے درخواست دائر کی، درخواست کونسل رانا آصف سعید کے ذریعے الیکشن آرڈیننس 2021ء کے خلاف دائر کی گئی، لوکل گورنمنٹ کے انتخابات آرڈیننس 2021 کے تحت کرائے جانے ہیں جس میں قانونی بے ضابطگیاں ہیں، آرڈیننس کی مدت ختم ہوچکی اور اسے ایکٹ کی شکل نہیں دی گئی۔

    درخواستگزار نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی غیر قانونی ہے، پہلے مرحلے میں لیبر کونسل اور ویلج کونسل کے انتخابات ہونا تھے، بعدازاں ضلع کونسل چیئرمین اور میونسپل کارپوریشن میئر کے ہونا تھے، الیکشن کا ہر اقدام غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا، آرڈینینس میں الیکشن کی ووٹنگ بذریعہ مشین کرائی جانی تھی لیکن ایسا کوئی سسٹم موجود ہی نہیں ہے، انتخابات کو روکا جائے۔

    ایڈووکیٹ رانا آصف سعید نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 25 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع ہونے تھے،27 اپریل سے 9 مئی تک سکروٹنی ہونی تھی، 9 جون کو انتحابات تھے۔

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی

    پشاور:خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات دوسرا مرحلہ:1ہزار318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب:پی ٹی آئی سب پرسبقت لے گئی ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 18 اضلاع سے مجموعی طور پر 1 ہزار 318 کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔

    الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کے مطابق 31 مارچ کو ہونیوالے دوسرے مرحلے کے انتخابات 18 اضلاع میں 65 تحصیل کونسلز میں ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 80 لاکھ 57 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    سٹی میئر اور تحصیل چیئرمین کی نشستوں کے لئے 651 امیدوار، ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں کے لئے 12 ہزار 980، خواتین کی نشستوں کے لئے 2 ہزار 668، مزدور و کسان کی نشستوں کے لئے 6 ہزار451، نوجوانوں کی نشستوں کے لئے 5 ہزار 213 اور اقلیتی نشستوں کے لئے 57 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

    اسی طرح اب تک ویلج و نیبرہڈ کونسلوں میں جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 351، خواتین کی نشستوں پر 533، مزدور و کسان کی نشستوں پر 151، نوجوانوں کی نشستوں پر 233 اور اقلیتی نشستوں پر 50 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

  • ‘حساس علاقوں میں ری پولنگ پر امن طریقے سے کرانے پرسیکورٹی اداروں کا مشکورہوں:چیف الیکشن کمشنر

    ‘حساس علاقوں میں ری پولنگ پر امن طریقے سے کرانے پرسیکورٹی اداروں کا مشکورہوں:چیف الیکشن کمشنر

    اسلام آباد:’حساس علاقوں میں ری پولنگ پر امن طریقے سے کرانے پرسیکورٹی اداروں کا مشکورہیں،اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے 13 اضلاع میں ری پولنگ کا عممل مکمل ہونے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ تمام حساس علاقوں میں ری پولنگ کا عمل پر امن طریقے سے کرانے پر اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے ری پولنگ کا عمل مکمل ہونے پر پاکستان آرمی، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کے تعاون کو سراہا۔

    اعلامیہ کے مطابق سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ اور صوبائی انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہیں، پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل اہمیت کا حامل ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملک میں جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لئے یہ الیکشن انشاللہ اہم ثابت ہوں گے۔

    یاد رہےکہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے 13 اضلاع میں ری پولنگ ہوچکی ہے جس کے لئے پولنگ کا وقت ختم ہوچکا ہے اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔

    پشاور سمیت چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند، مردان، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر اور باجوڑ میں مجموعی طور پر 500 سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ لوکل باڈی الیکشن میں سات لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے، ڈیرہ اسماعیل خان میں میئر کی نشست کا انتخاب مرکز نگاہ ہے، عمر امین گنڈاپور، فیصل کریم کنڈی اور کفیل نظامی میں کڑا مقابلہ متوقع ہے۔ عمر امین گندا پور اس وقت سب سے آگے جارے ہیں

  • خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات:13 اضلاع میں ری پولنگ:ووٹوں کی گنتی شروع:پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری

    خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات:13 اضلاع میں ری پولنگ:ووٹوں کی گنتی شروع:پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری

    پشاور:پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے 13 اضلاع میں ری پولنگ ہورہی ہے جس کے لئے پولنگ کا وقت ختم ہوچکا ہے اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ابھی تک ڈی آئی خان میں 302 میں سے 40 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی نتیجہ ابھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق پی ٹی آئی کے عمر امین گنڈاپور 7 ہزار 770 ووٹ لےکر آگے جے یو آئی(ف)کے کفیل نظامی 5 ہزار 530 ووٹ لے کر پیچھے پیچھے چل رہے ہیں‌

    پشاور سمیت چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند، مردان، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر اور باجوڑ میں مجموعی طور پر 500 سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ لوکل باڈی الیکشن میں سات لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے، ڈیرہ اسماعیل خان میں میئر کی نشست کا انتخاب مرکز نگاہ ہے، عمر امین گنڈاپور، فیصل کریم کنڈی اور کفیل نظامی میں کڑا مقابلہ متوقع ہے۔

    الیکشن کے دوران بعض علاقوں سے دنگا فساد کی رپورٹس بھی ملیں۔ تحصیل کرک میں دبلی لواغر اور شگی لواغر کے خواتین کے بیلٹ باکسز کو آگ لگا دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق برقع پوش نامعلوم خواتین نے ووٹ پول کے بہانے بیلٹ باکس میں آتش گیر مواد ڈال دیا جس سے بیلٹ باکس میں آگ لگ گئی، آگ لگنے کے بعد پولنگ سٹیشنز میں بھگدڑ مچ گئی، سٹاف اور خواتین پولنگ کے احاطے میں محصور ہوگئیں۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر حالات کو قابو کیا۔

    کندہ باجی خیل پولنگ سٹیشن پر مقامی لوگوں نے بائیکاٹ کر دیا اور تمام نشستوں پر ووٹنگ کا مطالبہ کر دیا۔ پشاور کے گل بہار قادر اباد پولنگ سٹیشن میں بھی ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ملیں۔

    ری پولنگ میئرسٹی ، تحصیل چیئرمین، نیبرہڈ اورویلیج کونسل کی نشستوں پر ہو رہی ہے، انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ سٹیشنز پر توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور امیدواروں کی وفات کے باعث پولنگ روک دی گئی تھی۔

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل:لاہور کو”ٹوٹےٹوٹے”کردیا گیا

    لاہور:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل:لاہور کو”ٹوٹےٹوٹے”کردیا گیا،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں اہم پیش رفت سامنے آگئی اور صوبے سمیت لاہور میں ابتدائی طور پر حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

    لاہور میں ابتدائی طور پر 502 نیبر ہوڈ کونسلز بنا دی گئیں، عوام الناس کی سہولت کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشنر آفس میں حلقہ بندیوں کو آویزاں کردیا گیا، ووٹرز 11 فروری سے 25 فروری تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن 22 مارچ کو حتمی لسٹ جاری کرے گا ۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور کینٹ تحصیل میں 28 نیبر ہوڈ، سٹی ڈویثرن کے لیے 183 نیبر ہوڈ، تحصیل ماڈل ٹاؤن میں 135 نیبر ہوڈ، تحصیل رائے ونڈ میں 42 جبکہ شالیمار کی حدود میں 114 نیبر ہوڈ بنائی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق پنجاب بھر کی نیبر ہوڈ اور وارڈز کا مجموعی طور تعداد کل شیئر کی جائے گئی اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل کیا ہے۔