Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خاتون تھانہ ایس ایچ او تعینات

    بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خاتون تھانہ ایس ایچ او تعینات

    کوئٹہ: بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پولیس تھانے میں خاتون ایس ایچ او کو تعینات کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سب انسپکٹر ثوبیہ خانم کو ریگولر تھانہ کینٹ کوئٹہ میں بحیثیت ایس او تعینات کیا گیا ہے۔ وہ صوبے کی تاریخ میں کسی بھی تھانے کی پہلی خاتون ایس ایچ او تعینات ہوئی ہیں۔

    ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی تعداد 650 ہو گئی

    ایس ایچ او تعینات کیے جانے پر ثوبیہ خانم نے آئی جی بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے بلوچستان پولیس کا ماحول بہت اچھا ہے اور ہم قوم کی بیٹاں، بہنیں اور مائیں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان بھی دینا پڑی تو پیچھے نہیں ہٹوں گی اور ہر مشکل گھڑی کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گی۔

    انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) بلوچستان عبدالخالق شیخ نے کہا کہ خواتین ہر شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں وطن عزیز پاکستان کے اداروں میں خواتین اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں ان کی قابلیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

    آئی جی بلوچستان عبدالخالق شیخ نے کہا کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے اپنی قابلیت کو اجاگر کر رہی ہیں بلوچستان پولیس میں بھی خواتین کو بلا خوف وخطر ایسا ماحول دینا ہماری اولین ترجیح ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے ملک وقوم کا نام روشن کر سکیں-

    وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا

  • بلدیاتی انتخابات: بلوچستان کے 13وارڈز میں ری پولنگ مکمل:

    بلدیاتی انتخابات: بلوچستان کے 13وارڈز میں ری پولنگ مکمل:

    کوئٹہ :بلوچستان کے 13 وارڈز میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ری پولنگ مکمل ہوگئی، دکی میں آزاد امیدوار جبکہ نوشکی میں جمعیت علماء اسلام نے میدان مار لیا۔

    بلوچستان کے 8 اضلاع کے 13 وارڈز میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ری پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا، غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع دکی کی یونین کونسل 1 وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار گل محمد 299 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ ضلع نوشکی کی یونین کونسل قادر آباد وارڈ نمبر 7 سے جے یو آئی کے امیدوار نے میدان مار لیا۔

    غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع سبی کی یونین کونسل 8 وارڈ نمبر 3 سے پشتونخوامیپ کے امیدوار نے میدان مار لیا، ضلع لورالائی کے وارڈ نمبر 4 پر مقابلہ 49، 49 ووٹوں سے برابر رہا۔

    صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ ری پولنگ کیلئے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 29 مئی کے بلدیاتی انتخابات میں بلوچستان کے 8 اضلاع کے 15 پولنگ اسٹیشن میں مختلف واقعات کے باعث پولنگ ری شیڈول کی گئی تھی۔

    ادھرسندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کے بیٹے کی خاتون پولنگ افسر سے بد تمیزی کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا۔

    الیکشن کمیشن نے ایم پی اے کے بیٹے کرن ہری رام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 جولائی کو اسلام آباد طلب کرلیا۔پیپلز پارٹی کے ایم پی اے کے بیٹے کی خاتون پولنگ افسر سے تلخ کلامی کی ویڈیو وائرلایم پی اے کے بیٹے کی پولنگ اسٹیشن میں خاتون پریزائیڈنگ افسر سے تلخ کلامی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

    واقعہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں 26 جون کو پولنگ اسٹیشن نمبر 39 میں سامنے آیا تھا۔پولنگ ایجنٹ کو نکالے جانے پر کرن کمار اور خاتون پریزائیڈنگ افسر میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔کرن کمار کا کہنا تھا کہ پولنگ ایجنٹ کو کیوں نکالا گیا جبکہ خاتون پریزائیڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ دھمکائیں نہیں کسی ایجنٹ کو نہیں نکالا گیا۔

  • بلوچستان بلدیاتی انتخابات:خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی،چیف الیکشن کمشنر

    بلوچستان بلدیاتی انتخابات:خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی،چیف الیکشن کمشنر

    بلوچستان کے 8 اضلاع کی 13 یوسیز اور وارڈز میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ری پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری ہے –

    باغی ٹی وی : چیف الیکشن کمشنر کے مطابق الیکشن کمیشن کے سینئر افسران مرکزی کنٹرول روم سے پولنگ کی مانیٹرنگ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا،عوام بے خوف و خطرحق رائے دہی کا استعمال کریں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی-

    انسانیت کی خدمت کرنے والے10 پاکستانیوں کیلئے ڈیانا ایوارڈ

    الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان کے ضلع دکی،قلعہ عبداللہ سمیت 8اضلاع میں پولنگ جاری ہے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی شام پانچ بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہے گی-

    ریٹرننگ افسر ( آر او) کے مطابق میونسپل کمیٹی قلعہ عبداللّٰہ کی وارڈ نمبر7 میں پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے، یہاں ووٹرز کیلئے 2 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور دونوں پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے وارڈ نمبر 7 میں 1646 ووٹرز میں 1061 مرد اور 585 خواتین ووٹرز ہیں۔

    نوشکی کے بلدیاتی انتخابات میں یو سی8 کے وارڈ نمبر 7 میں پولنگ کاعمل جاری ہے، یہاں ووٹرز کی تعداد 528 ہے جن میں سے 295 مرد اور 233 خواتین ووٹرز شامل ہیں نوشکی میں ری پولنگ کےموقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، یہاں 2 امیدواروں میں مقابلہ ہے، علاقے میں 29 مئی کو پولنگ امیدوار کو غلط نشان الاٹ ہونے پر ملتوی کی گئی تھی۔

    کل سے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی پیشگوئی

    لورالائی کی میونسپل کمیٹی کے 2 وارڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ری پولنگ کا عمل آج جاری ہے، وارڈ نمبر4 اور 5 میں کُل ووٹرز کی تعداد 817 ہے،یہاں 29 مئی کو لڑائی جھگڑے پر پولنگ ملتوی کردی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 29 مئی کو بلوچستان کے 8 اضلاع میں جھگڑے، بیلٹ پیپرز کی غلط چھپائی اور دیگر وجوہات پر الیکشن ملتوی ہوا تھا، ان میں ضلع دکی، قلعہ عبداللّٰہ، زیارت، لورالائی، ضلع پنجگور، سبی، نوشکی اور کیچ کے یوسیز اور وارڈز شامل ہیں۔

    لاہورانتظامیہ کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

  • کل سے سندھ اور بلوچستان میں  بارشوں کی پیشگوئی

    کل سے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے کل سے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیا ت نے سندھ اور بلوچستان میں آئندہ 3 دن کے دوران موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے پی ڈی ایم اے نے اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے مون سون ہوائیں آج سے شدت کے ساتھ جنوب مشرقی سندھ اوربلوچستان میں داخل ہوں گی-

    ملک میں مون سون بارشوں کا آغاز،اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات کے مطابق یہ مون سون کے اس مرحلے میں بارشیں برسانےوالا سسٹم مضبوط ہوگا اور شدید بارشوں کا امکان ہے جس میں جمعہ سے 2 جولائی سے 5 جولائی تک تھر پارکر، بدین، عمرکوٹ میں بادل برسیں گے سندھ اور بلوچستان میں موسلادھار بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے

    کراچی میں 2جولائی سے 5 جولائی تک بارش ہوگی۔ کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص ،عمرکوٹ اور دادو میں اربن فلڈنگ کاخدشہ ہے –

    ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی گئی ہےپی ڈی ایم اے نے بلوچستان کے تیرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے سے متعلق مراسلےجاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہےکہ بارشوں سےندی نالوں میں طغیانی آنےکا خطرہ ہے مشرقی پنجاب ،کشمیر اورخیبر پختونخوا میں مون سون کا آغاز ہو گیا ہے-

    سینیئر صحافی ایاز امیر پر حملے کا مقدمہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درج

  • سابق وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری باغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوگئے

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری باغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوگئے

    لاہور:ڈیجٹل دنیا میں بڑا نام رکھنے والے باغی ٹی وی کے ساتھ اب پاکستان کی بڑی بڑی شخصیات منسلک ہورہی ہیں‌،اس سلسلے میں باغی ٹی وی کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین مری نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا گروپ باغی ٹی وی میں بطور تجزیہ کار شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    اس اہم موقع پرباغی ٹی وی اپنے پلیٹ فارم پر تجزیہ کار کے طور پر علاؤالدین مری کا خیر مقدم کرتا ہے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے۔

    باغی ٹی وی کو بلوچستان کی آواز کو مین اسٹریم میڈیا میں شامل کرنے کے لیے بلوچستان کی اہم شخصیت کواپنی ٹیم کا حصہ بنانے پرفخرہے

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معزز تجزیہ کار باغی ٹی وی کے پروگراموں میں دکھائی دیں گے اور اپنے ٹیلی ویژن کے ناظرین اور ڈیجیٹل سامعین کے لیے صوبے کے دیرینہ مسائل کو اجاگر کریں گے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ماہرین اوردیگراسٹیک ہولڈرز کو بھی صونے کی ترقی کے لیے اپنے پروگرام کا حصہ بنائیں گے

    باغی ٹی وی ہرممکن کوریج اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متحرک ڈیجیٹل میڈیا سامعین کی موجودگی کے ذریعے بلوچستان کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل کو اب عوام کی بڑی حد تک پہنچایا جائے گا۔یاد رہے کہ علاؤالدین مری نے 8 جون 2018 سے 19 اگست 2018 تک بلوچستان کے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کیا۔

  • گوادر میں ہاتھ سے تیار ہونے والی کشتیاں اپنی مثال آپ ایک کشتی کیسےتیار ہوتی ہےاور کن مراحل سے گزرتی ہے؟

    گوادر میں ہاتھ سے تیار ہونے والی کشتیاں اپنی مثال آپ ایک کشتی کیسےتیار ہوتی ہےاور کن مراحل سے گزرتی ہے؟

    بلوچستان کا شہر گوادر کشتی سازی کے حوالے سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ ساحلی شہر ہونے کے ناطے کشتی سازی یہاں کے باسیوں کا ایک قدیم ذریعہ روزگار رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: گوادر میں ہاتھ سے تیار ہونے والی یہ کشتیاں اپنی مثال آپ ہیں ایک کشتی کیسےتیار ہوتی ہےاور کن مراحل سے گزرتی ہے جانیے عبدالغنی کی زبانی جو نہ صرف خود کشتی سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں بلکہ ان کا خاندان کئی دہائیوں سے اسی ہنر سے وابستہ رہا ہے۔

    عبدالغنی کا کہنا ہے کہ وہ 15 سال کی عمر سے کشتی سازی کا کام کرتے آ رہے ہیں اور ان کے باپ دادا بھی یہی کام کیا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اس سے ہماری روزی روٹی بی بنتی ہے اور ہنر بھی سیکھ لیا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ چھوٹی کشتیوں سے لے کر بڑے جہاز بھی بناتے ہیں-


    عبدالغنی نے کہا کہ ایک کشتی 15 لاکھ میں بنتی ہے انہوں نے بتایا کہ کشتی بنانے سے پہلے اس کا بنیاد رکھا جاتا ہے جس کو ہم بڑوں کی زبان میں "دیڑہ” بولتے ہیں اور سندھ میں اس کو پٹان بولتے ہیں اس کو ہم رکھتے ہیں اور اس کا ڈیزائن کھڑا کر دیتے ہیں پھر اس پر تختے بچھاتے ہیں پھر اس پر اندر سے پسلیاں ڈالتے ہیں جس کے بعد ان تختوں کو بٹھا کے کیل وغیرہ لگاتے ہیں-

    عبدالغنی نے بتایا کہ پھر اس ڈاھنچے کو رندا وغیرہ مار کر فریش کیا جاتا ہے اس کا زیادہ سازو سامان باہر سے خریدا جاتا ہے لیکن اسپیکر مقامی مارکیٹ سے ہی خریدا جاتا ہے یہاں مارکیٹ سے بھی آسانی سے مل جاتا ہے اور کراچی شہر میں بھی مل جاتا ہے اور سندھ سرحد سے بھی آسانی سے مل جاتی ہے ایک کشتی تقریباً 5 مہینے میں تیار ہوتی ہے ایک کشتی 20 سال تک چل جاتی ہے اس کے بعد اسے تیار کر کے اسے 10 سال مزید چلایا جا سکتا ہے-

  • ایران سے بجلی کا معاہدہ ہوگیا ،گوادر میں وزیراعظم نے دی ماہی گیروں کو خوشخبری

    ایران سے بجلی کا معاہدہ ہوگیا ،گوادر میں وزیراعظم نے دی ماہی گیروں کو خوشخبری

    وزیراعظم شہبازشریف کی گواد رآمد ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کو گوادر آمد پر اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان پر بریفنگ دی گئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ گوادرکی ترقی بلوچستان اورپاکستان کی ترقی ہے،گوادرکے مسائل کے حل اور منصوبوں کی تکمیل ہماراعزم ہے،صوبائی بجٹ میں گوادرکیلئے 1652 ملین رکھے گئے ہیں، گوادر کو پانی کی فراہمی کیلئے بھی بجٹ میں حصہ رکھا گیا ہے ،سرحدی علاقوں میں کمرشل مارکیٹس کاقیام عمل میں لایا جائیگا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گوادرکی ترقی بلوچستان کی ترقی ہے میرایہ گوادر کا دوسرا دورہ ہے ،گوادرکے مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی خواہاں ہے ،خواہش ہے گوادر اور بلوچستان کے عوام کو منصوبوں سے فائدہ ہو ،حکمرانوں کا فرض ہے بلوچستان کے عوام کے مسائل اور تکالیف کم کریں ،بلوچستان اور گوادرکےبسنے والوں کے مسائل دل سے حل کریں گے جب تک گوادر کے مسائل حل نہیں ہوتے ترقی بے معنی ہوگی بلوچستان اورگوادر کے منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا

    گوادر کے ماہی گیروں کو کشتیوں کے لیے انجن دیں گے ماہی گیروں نے مسائل بتائیں جن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا،انجن کی تقسیم کے بعد مین ٹننس کی ذمہ داری کمپنی کی ہوگی،2ہزار کشتیوں کے انجن کی تقسیم میرٹ پر ہوگی ،ایران سے بجلی کا معاہدہ ہوگیا ہے ،منگل کو کابینہ میں سامنے لائیں گے،گوادر کے پانی کے پرانے پائپس تبدیل کردیئے جائیں گے 3ماہ میں انجن فراہمی کا عمل مکمل ہوجائے گا ،وفاقی وزیرترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے گوادر کی ترقی کا پلان منگوایا ہے،پائپ لائنز کا کام رواں سال ستمبر میں مکمل ہوجائے گا ایران نے کہا پاکستان کی جانب سے منصوبے پر معاہدے میں تاخیر کی گئی 100میگاواٹ بجلی کا کام جلد مکمل کرلیا جائے گا،ستمبر میں پانی کی فراہمی شروع ہوجائے گی،بلوچستان کے لیے بجٹ میں 100ارب روپے رکھے گئے ،گوادریونیورسٹی پی ایس ڈی پی میں آچکی ہے ،جلد تعمیر مکمل کریں گے گوادر میں 100فیصد شفاف بڈنگ ہوگی ،بولی کے تحت سب اچھی کمپنیوں کو کام دیاجائے گا،

    قبل ازیں گوادر دورے کے حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج گوادرہ کا ایک روزہ دورہ کرنے جا رہاہوں گوادر میں ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان پر بریفنگ لوں گا،ترقی بے معنی ہے اگر مقامی لوگوں کی زندگی میں بہتری نہ لاسکے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے گوادر اسپتال کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے،

    گوادر،غیر قانونی ماہی گیری بارے اجلاس میں ہوا بڑا فیصلہ

     بلاول بھٹو نے گوادر میں چینی شہریوں پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے

    وزیراعظم کے دورہ گوادر سے قبل چیئرمین سی پیلک اتھارٹی کا خصوصی پیغام

    دوسری جانب حکومت بلوچستان کے آفیشیل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمّد شہباز شریف کے ویژن اور وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں گوادر کی ترقی کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تیز تر عملدرآمد جاری ہے.

  • بلوچستان کا بجٹ عوام کی خواہشات کے مطابق بنایا گیا،پہلا موقع ہے کہ سب مطمئن ہیں، عبدالقدوس بزنجو

    بلوچستان کا بجٹ عوام کی خواہشات کے مطابق بنایا گیا،پہلا موقع ہے کہ سب مطمئن ہیں، عبدالقدوس بزنجو

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کا مالی سال 2022-23 کا بجٹ عوام کی خواہشات کے مطابق ہے، اور یہ پہلی بار ہے کہ بجٹ سے ’سب مطمئن‘ ہیں-

    باغی ٹی وی : بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بجٹ میں صوبے کی ضرورت کے مطابق میگا منصوبے بھی رکھے گئے ہیں، وفاقی حکومت کو بلوچستان کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں اور کہا کہ وہ امید کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان میں میگاپراجیکٹس کےلیے فنڈز فراہم کریں گے کیونکہ بلوچستان دیگر صوبوں سے 200 سال پیچھے ہے۔

    بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں،وزیر اعظم

    انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام علاقوں کے لیے یکساں فنڈز رکھے گئے ہیں چاہے وہ اپوزیشن کا ہو یا حکومت کا اور پہلا موقع ہے کہ اس بجٹ سے سب مطمئن ہیں، نہ اسمبلی میں کسی نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑیں اور نہ کسی نے اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہر بجٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج اسمبلی کے اندر ہوتا تھا اور اسمبلی کے باہر سیکڑوں لوگ اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کررہے ہوتے تھے ، اس مرتبہ ایسا بجٹ بنایا ہے کہ حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اراکین بھی مطمئن ہیں لہٰذا بجٹ کے حوالے سے صوبائی وزرا کی ناراضی کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے صوبے میں بارش کی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہا کہ صوبائی حکومت نگرانی کر رہی ہے بارش کی صورتحال اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    عامر لیاقت کی خالی نشست پرضمنی انتخابات کے شیڈول پر عملدرآمد شروع

    واضح رہے کہ گزشتہ روز صوبہ بلوچستان کا آئندہ مالی سال612 ارب روپے کا بجٹ بالآخر پیش کردیا گیا صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران نے بجٹ پیش کیا جن کے پاس مواصلات و تعمیرات کی اہم وزارت ہے اور چند روز قبل ہی وزارت خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا۔

    عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ چھ کھرب 12 ارب 70 کروڑ روپے کے بجٹ میں 72 ارب 80 کروڑ روپے کاخسارہ بھی شامل ہے۔ غیر ترقیاتی مد میں 366 ارب، جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 191 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں 3470 نئے ترقیاتی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں جن پر 59 ارب روپے لاگت آئے گی۔

    وزیر خزانہ نے ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرز پر 15 فیصد اضافہ کرنے اور آئندہ مالی سال میں 2851 نئی ملازمتیں دینے کا بھی اعلان کیا بجٹ میں امن وامان کے لیے 44 ارب روپے، صحت کے لیے 38 ارب روپے، بلدیاتی کے لیے 28 ارب، زراعت کے لیے 21 ارب 70 کروڑ روپے ،تعلیم کیلئے 19 ارب روپے جبکہ 75 ارب روپے تنخواہوں اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں رکھے گئے ہیں۔103 نئے پرائمری سکول تعمیر جبکہ 60 سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائےگا حالیہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو 4 ارب 30 کروڑ روپے رکھے گئے-

    بھارت میں گستاخانہ بیانات: پاکستان نےمعاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا

    پنجگور میں 2 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے مکران یونیورسٹی اور زیارت میں قائداعظم کیڈٹ کالج قائم کرنے کا اعلان کیا گیا کوئٹہ وگردونواح میں نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے زمینداروں کو بجلی کی مد میں 4 ارب، کھاد کی مد میں 61 کروڑ روپے سبسڈی دینے اور زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 2 ارب روپے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا-

    معدنیات کی ترقی کے لیے 74 کروڑ روپے، ماہی گیری کے لیے 3 ارب روپے ،مواصلات و تعمیرات کے 62 ارب روپےجس میں 19 ارب78 سڑکوں کی تعمیر پر کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے جس میں وفاقی حکومت بھی بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر پر 11 ارب روپے خرچ کرے گی۔

    یاد رہے کہ پچھلے سال جام کمال خان کی حکومت میں بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہنگامہ خیز رہا جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل حزب اختلاف نے بجٹ میں نظر انداز کرنے پر دھرنا دے رکھا تھا اور اسمبلی کے دروازوں کو تالے لگا دیئے تھے پولیس وزیراعلیٰ اور حکومتی اراکین کو اسمبلی کے اندر لے جانے میں کامیاب ہوئی۔

    منی لانڈرنگ کیس: مونس الہی کی عبوری ضمانت منظور

  • بلوچستان کےآئندہ مالی سال  کا بجٹ آج  پیش کیاجائے گا

    بلوچستان کےآئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیاجائے گا

    وزیرخزانہ بلوچستان عبدالرحمان کھیتران صوبے کےآئندہ مالی سال 2022 -23 کا بجٹ آج پیش کریں گے-

    باغی ٹی وی : وزیر خزانہ عبدالرحمان کھیتران کے مطابق بلوچستان کےآئندہ مالی سال کا بجٹ580 ارب روپے سے زائد کا ہوگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے195ارب ،غیرترقیاتی منصوبوں کے لیے 385ارب روپے مختص کئے گئے-

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

    وزیر خزانہ عبدالرحمان کھیتران کے مطابق بجٹ عوام دوست ہوگا ،کوئی نیاٹیکس نہیں ہوگا ، بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی،بلوچستان کی محدود وسائل کی وجہ سے آئندہ مالی سال کابجٹ خسارے کاہوگا،حکومت تمام حلقوں کو یکساں بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی یقینی بنائے گی-

    فافن کی حلقہ این اے 240 کے حوالے سے جاری رپورٹ میں حیران کن انکشافات

    حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان کےآئندہ مالی سال کےبجٹ میں 100 ارب روپے خسارے کا امکان ہے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں بجٹ کی منظوری لی جائے گی-