Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • نوابزادہ میرجمال رئیسانی کی ہدایت پرشہداء بلوچستان کےورثاکاڈپٹی کمشنرکےدفترکےسامنے دھرنا

    نوابزادہ میرجمال رئیسانی کی ہدایت پرشہداء بلوچستان کےورثاکاڈپٹی کمشنرکےدفترکےسامنے دھرنا

    کوئٹہ :وزیراعلیٰ کے کورآرڈینیٹر برائے امور نوجوانا ن نوابزادہ میر جمال رئیسانی کی ہدایت پر شہداء بلوچستان کے ورثاء نے میر فرید رئیسانی کی قیادت میں ریلی نکالی اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میر فرید رئیسانی سمیت دیگر کا کہنا تھاکہ زیارت واقعہ کی طرز پر بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور ان میں شہید ہونے والے افراد کے ملزمان کے تعین اور سزا دینے کے لئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے کمیشن اس بات کا تعین کرے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے درینگڑھ سمیت صوبے میں دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات کروائے اور ہزاروں بے گناہ لوگوں کو شہیدکیا

    انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کے مخالف کاروائیوں میں ملوث ہیں انکی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جاسکتا ہے تو صوبے بھر میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے افراد کے لئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے شرکاء کی جانب سے دھرنا رات گئے تک جاری رہا بعدازاں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، میر سکندر عمرانی کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ عبدالحق عمرانی نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کئے ،

     

     

    انہیں یقین دہانی کروائی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے یقین دہانی کروائی ہے کہ زیارت واقع کی طرز پر بلوچستان کے شہداء کی تحقیقات کے لئے بھی کمیشن قائم کیا جائیگا بعدازاں دھرنا کے شرکاء نے حکومتی یقین دہانی پراحتجاج ختم کردیا اور پر امن طور پر منتشر ہوگئے

  • قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    بلوچستان، صوبہ سندھ، پنجاب، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کے گھروں، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کی لاشیں، شہروں میں ان سیلابی ریلوں کی تباہی دیکھ کر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور یہ دل ہلا دینے والے واقعات پہلی بار منظر عام پر نہیں آئے سالوں سے غریب عوام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ نکاسی آب کے محکموں اور حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے نالوں کی صفائی کرنے والے کہاں ہوتے ہیں؟ ہم بحیثیت قوم ماہرین اقتصادیات کے مطابق عملاً دیوالیہ ہو چکے ہیں قرضوں پر چل رہے ہیں قوم سیلاب میں بہہ رہی ہے سیاستدان ایک دوسرے کو چور ڈاکو اور اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ لڑ رہے ہیں ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی نظر آرہی ہے منافق اور دوغلےلوگوں نے اس ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ، کراچی روشنیوں کا شہر، بلوچستان، پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے قیامت برپا ہے اور ملکی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ سیلاب زدگان کی آہ و بکا نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے دیہات اور شہروں کے شہر اجڑ رہے ہیں۔ بھلا ہو پاک فوج کے جوانوں کا جو اس مشکل ترین وقت میں غریب عوام کو بچانے کے لئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ورنہ ان صوبوں کی انتظامیہ صرف عالیشان بنگلوں میں بیٹھ کر تماشا ہی دیکھ رہی ہے۔

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مون سون سیزن کے شروع ہوتے ہی جس طرح محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف علاقوں اور دریائوں میں پانی کے بہائو کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے آگاہ کر دیتا ہے مگر ہمارے فوری امداد اور بحالی کے اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کی کمی کی وجہ سے وارننگ سسٹم کے باوجود بہت بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تو ان دل ہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت سیلاب کی زد میں آنے والے غریب لوگوں کی بحالی کے لئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کرے جس کرسی کے لئے سیاستدان جنگ لڑ رہے ہیں اس کرسی پر انہی عوام نے آ پکو بٹھانا ہے اپنا رخ عوام کی طرف موڑ دیں ورنہ اگر عوام نے رخ موڑ دیا تو پھر عوامی سمندر سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں اوتھل کے 4 دیہات کے 2300 سے زیادہ نفوس کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا متاثرہ آبادی والے علاقوں میں خیمے، راشن اور خوراک فراہم کی جارہی ہے،4 مقامات سے بند ہونے والی این 25 قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا پی ٹی اے کے اشتراک سے بالخصوص لسبیلہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد غیر معمولی بارشیں ہو چکی ہیں بارشوں کے باعث لسبیلہ، کیچ،کوئٹہ، سبی،خضدار اور کوہلو سب سے زیادہ متاثر ہوئے،بلوچستان میں بارشوں سے 3953 مکانات کو نقصان پہنچا، حب،گڈانی،بیلہ،دودار اور جھل مگسی کے متاثرہ علاقوں میں 5 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئی ہیں ،ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن سے آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے پانی نکال دیا جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا پاک فوج نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا،لٹھ ڈیم کے بھرنے سے ایم نائن شاہراہ مختلف مقامات پر زیر آب آگئی ٹیمیں سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ کام کررہی ہیں ،دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،شاہراہ قراقرم اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے کھول دیا گیا ،سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا، مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئی ہیں بارش سے خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے ،چترال ،مستوج اور ٹانک گومل زام ڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    کوئٹہ :پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں حالیہ مون سون میں تیس سالوں سے پانچ سو فیصد زائد بارشوں سے 111 افراد جاں بحق، جب کہ مختلف حادثات میں ایک ہزار افراد زخمی اور 50 ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں۔ضلع لسبیلہ میں سیکڑوں افراد ریلے میں پھنس گئے، صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے حکام نے مشترکا پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں دس اضلاع زیادہ چودہ نارمل متاثر ہوئے ہیں، اس دوران بارشوں اور سیلاب سے 6070 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے،جب کہ 6 ہزار کلو میٹر سڑکیں، 2 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان کے مطابق مختلف حادثات اور سیلاب بارشوں سے 17500 افراد کو ریسکیو کیا گیا، متاثرہ 16ہزار 87 گھروں کے لئے راشن اور 10ہزار سے زائد شیلٹر فراہم کئے گئے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے فضائی ریلیف آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی اور وفاق کی جانب سے متاثرین کیلئے 10،10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا ۔

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے  نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ حب میں نیا بائی پاس بنا رہے ہیں، ایم ایٹ پر کچھ جگہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، جب کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے پلوں کی مرمت بھی کردی گئی ہے، جس کے بعد لائٹ اور ہیوی ٹریفک رواں دواں ہے۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ( PDMA) کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ ( Lasbela ) میں طوفانی بارش کے بعد سیکڑوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں، جب کہ اوڑکی اور دیگر مقامات سے سیلابی ریلے میں پھنسے 250 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ فیصل پانیزئی کے مطابق ریسکیو کیے گیے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ لسبیلہ کے دیگر علاقوں میں بھی متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

     

     

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں، صوبہ بھر میں شدید بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں لندن کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

     

     

    مخدوم صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام سیاسی مصروفیات ترک کرتے ہوئے ضلع لسبیلہ کے دورے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ بلوچستان صوبے میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

     

     

    پی ڈی ایم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان موسلا دھار بارشوں کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 106ہوگئی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 62 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے 6077 گھر منہدم جب کہ 712 مویشی سیلابی پانی کی نظر ہوگئے۔

    بارشوں سے کان مہترزئی خانوزئی کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق ہنہ اوڑک میں چالیس خاندانوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا، کیچ، تربت، گوادر، پنجگور، لسبیلہ بھی بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع واشک میں کھڑی فصلوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث پانی مساجد سمیت گھروں میں داخل ہوگیا۔

    پشین میں جمعرات 28 جولائی کو بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، کلی تراٹہ اور نیو خان اسکیم میں گھروں کی دیواریں گرگئیں، جب کہ متاثرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور حکومتی سطح پر امداد اور مدد کیلئے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    پاک بحریہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ ریلیف آپریشن کے دوران سول انتظامیہ کی مسلسل معاونت کررہا ہے۔

    زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

    بیان کے مطابق بولان، لسبیلہ، اوتھل ،جھل مگسی اور غذر میں سیلاب کے دوران پھنسے 700 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے حب، لسبیلہ، اوتھل، زیروپوائنٹ، دیودر اور غذر جی بی میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جہاں لوگوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں

    بیان کے مطابق لسبیلہ، اوتھل، جھل مگسی، خضدار اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 7.5 ٹن غذائی اشیاء، پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے مختلف مقامات پر اسٹینڈ بائی ریسپانس ٹیمیں تعینات ہیں۔

  • کراچی میں بارش کا سبب بننے والے سسٹم کی بلوچستان میں منتقلی کا امکان

    کراچی میں بارش کا سبب بننے والے سسٹم کی بلوچستان میں منتقلی کا امکان

    محکمہ موسمیات نے کراچی میں موسلا دھار بارش کا سبب بننے والے سسٹم کی بلوچستان منتقلی کا امکان ظاہر کردیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مون سون کے تیسرے اسپیل کے تحت پیر کو شہر کا مطلع کہیں جذوی اور کہیں مکمل ابر آلود رہا، صبح کے وقت مختلف علاقوں قائدآباد، ائرپورٹ، تین تلوارکلفٹن، محمدعلی سوسائٹی، ڈیفنس ویو، شاہراہ فیصل، ڈی ایچ اے، کورنگی، گلشن حدید، سمیت مختلف علاقوں میں کہیں درمیانی اور کہیں ہلکی بارش ہوئی، چند ایک علاقوں میں بوندا باندی اور پھوار پڑی-

    محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کے مون سون رین الرٹ کے مطابق شدید مون سون ہواوں کا باعث بننے والا ہوا کا کم دباؤ وسطی اور مغربی سندھ پر اب بھی برقرار ہے، جو سندھ بھر میں بڑے پیمانے پر موسلا دھار بارش کا باعث بنا، یہ کم دباؤ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں منتقل ہونے کا امکان ہے۔

    اس کے زیراثر تھرپارکر،عمرکوٹ، میرپور خاص، بدین، ٹھٹھ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار، حیدرآباد، مٹیاری، سانگھڑ، نواب شاہ، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، جامشورو، شکارپور، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی اور کشمور جبکہ کراچی میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، کل اور پرسوں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان برقرار رہے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اس موسمی نظام کے زیر اثر کراچی، حیدرآباد، مٹیاری، ٹھٹھ، سجاول، بدین، میرپورخاص،عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ،نواب شاہ،ٹنڈوالہیار،ٹنڈومحمد خان،دادو،جامشورو،قمبرشہدادکوٹ،لاڑکانہ اور سکھرمیں موسلادھار تیز بارش کے نتیجے میں شہری
    علاقوں میں سیلاب جبکہ نشیبی علاقں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے-

    جبکہ خضدار، لسبیلہ، حب اور کیرتھر رینج کے ساتھ مسلسل شدید بارشیں حب ڈیم پر دباو پیدا کرسکتی ہیں، جس کے سبب دادو، جامشورو اور نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلا آنے کا خدشہ ہے، تمام متعلقہ حکام سے گذارش ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور ضروری اقدامات کریں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں کے سسٹم سے ماضی کا کوئی بھی ریکارڈ نہیں ٹوٹا کیونکہ جولائی کے پورے مہینے شہر کے تینوں سرکاری ویدر اسٹیشن جن کا ریکارڈ تاریخ کا حصہ بنتا ہے، اس میں اولڈ ائرپورٹ پر جولائی کے پورے مہینے کی بارشوں کا ریکارڈ 429.3 ملی میٹر ہے جو سن 1967 میں ریکارڈ ہوا۔

    جولائی کے مہینے میں پی اے ایف بیس فیصل پر سب سے زیادہ بارش سن 1967 میں 611 ملی میٹر ریکارڈ ہوچکی ہے، سب سے زیادہ بارش سن 1967میں 611.4ملی میٹر ہے، پی اے ایف بیس مسرور پر جولائی کی زیادہ سے زیادہ بارشوں کا ریکارڈ 509.3 ملی میٹر ہے، جو سن 1967 میں ریکارڈ ہوئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگر ان تینوں سرکاری ویدر اسٹیشن پر بارشوں کے 24 گھنٹے ریکارڈ کی بات کی جائے تو اولڈ ائرپورٹ پر یکم جولائی 1977 کو 207 ملی میٹر، پی اے ایف بیس فیصل پر 30 جولائی 1967 کو 189.2 ملی میٹر جبکہ پی اے ایف بیس مسرور پر 24 گھنٹوں کی بارشوں کا ریکارڈ 211.3 ملی میٹر ہے جو کہ 26 جولائی سن 1967 کو ریکارڈ ہوئی۔

  • بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    باغی ٹی وی: گلستان، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے-

    اس حوالے سے لیویز کنٹرول کا کہنا ہے کہ زلزلے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی میں ہائی الرٹ جاری کر دیاگیا ہے –

    زلزلےکی شدت 4.1 جبکہ گہرائی 11 کلو میٹر زیر زمین تھی، زلزلے کا مرکز چمن سے 11 کلو میٹر جنوب مشرق میں تھا۔

  • بلوچستان : لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا

    بلوچستان : لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق میونسپل کمیٹی ژوب کے تمام وارڈز میں بھی 28 اگست کو الیکشن ہوگا علاوہ ازیں موسیٰ خیل، مستونگ، جعفر آباد اور دکی کی مختلف یونین کونسلوں میں بھی 28 اگست کو پولنگ ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 18جولائی ہے۔

    واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 32 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی-

    دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی جائے۔

    این اے 245 کی انتخابی مہم کے دوران دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کسی یو سی میں 25 ہزار اور کسی میں 90 ہزار ووٹ رکھے گئے ہیں حلقہ بندیاں غلط کی گئیں تاکہ ایم کیو ایم زیادہ نشستیں نہ لے سکے۔

    وسیم اختر کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہوئے معاہدوں پر عمل نہ ہوا تو فیصلہ کریں گے اور این اے 245 کی چھینی ہوئی سیٹ دوبارہ لیں گے۔

  • مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے مختلف حادثات میں اب تک 69 افراد جاں بحق جبکہ 432 مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر حصے میں مون سون کی طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے حکومت بلوچستان نے بارشوں سے متاثرہ 9 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقی بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں رابطہ سڑکیں متاثرہوئی ہیں جبکہ شہریوں کو بارش میں بلوچستان پنجاب بارڈرشاہراہ استعمال کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    کوہ سلیمان اور فورٹ منرو میں بارش کے بعد سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل ہوگئے اور سوناری پل کا ایک حصہ دوبارہ سیلابی ریلےمیں بہہ گیا۔

    اس کے علاوہ کوہلو کا کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ مچھ میں سیلابی صورتحال برقرار ہے اور مچھ پل بہہ جانے سے آمدورفت بھی معطل ہے۔

    دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار لیکن شہر کی بعض سڑکوں اور پلوں پر پانی جمع ہو گیا لاڑکانہ، میرپورخاص اور گرد و نواح میں بھی صبح سویرے ہونے والی بارش کے بعد گرمی کی شدت کچھ حد تک کم ہوگئی۔

    حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں درخت گرنے سے 11 کلو واٹ کی تاریں ٹوٹ گئیں جس کے باعث کئی گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے اور شدید گرم موسم کے باعث شہری دوہری اذیت میں مبتلا ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کے سسٹم کی شدت اب بھی بر قرار ہے، سندھ کے مختلف مقامات پر اس سسٹم نے اچھی بارش برسائی ہے، سسٹم 18 جولائی تک سندھ پر اثر انداز رہے گا۔

    بلوچستان میں سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے امداد کی فراہمی جاری ہے ،این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب زدگان کیلئے مزید ایک ہزار رہائشی خیمے فراہم کر دیئے ہیں ،اس سے قبل پی ڈی ایم اے نے بلوچستان کو 300 رہائشی خیمے مہیا کئے تھے،خیمے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے حوالے کر دئیے گئے-

    محکمہ موسمیات نے آج سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں بارش کی پیشگوئی بھی کی ہے لاہور میں جزوی طور پر مطلع ابرآلود رہے گا –

  • زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری

    زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری

    زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش جاری

    بلوچستان کے ضلع زیارت سے دو سیاحوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا گیا

    سیاح فیملی کے ہمراہ زیارت جارہے تھے ورچوم کے قریب نامعلوم کار سوار فیملی کو چھوڑ کر سیاحوں کو اپنے ہمراہ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ بازیابی کےلئے آپریشن جاری ہے

    وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے زیارت کے علاقے ورچوم سے سیاحوں کے اغواء کے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور وزیراعلئ نے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی وزیراعلئ نے سیاحوں کی باحفاظت بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، وزیراعلی نے زیارت سمیت صوبے کے تمام سیاحتی مقامات پر حفاظتی مزید موثر بنانے کی ہدایت کر دی

    کیا میں نے کوئی قتل کیا کوئی جوا خانہ بنایا؟ احسن اقبال کا عدالت میں بیان

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے سیاحوں کے ورچوم سے اغواء ہونے والے افراد کا نوٹس لے لیا ہے ،مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی ملاقات کر کے پولیس اور متعلقہ اداروں کو سیاحوں کی جلد بازیابی کی ہدایت کی اور کہا کہ معاملے کے حل تک انتظامیہ کوچین سے نہیں بیٹھنے ديں گے۔ اس طرح کے واقعات باعث تشویش ہے ۔صوبے کے امن وامان کو خراب کرنے کی ایک بار پھر کوشش کی گئی ہےبہت جلد اس معاملے کو انشاء اللہ حل کریں گے ۔اغواء کاروں کی تلاش میں آپریشن جاری ہے

    علاوہ ازیں کوئٹہ کے دارالامان سے تین لڑکیاں لاپتہ ہوگئیں ،کوئٹہ بروری کے دارالامان سے تین لڑکیاں لاپتہ ہوگئیں لاپتہ 2 لڑکیوں کا تعلق کوئٹہ اور ایک کی زیارت سے ہے پولیس نے دارالامان کی وارڈان کو حراست میں لے لیا دارالامان محکمہ سماجی بہبود کے زیرنگرانی قائم ہے پولیس کے مطابق لاپتہ لڑکیوں کے تلاش جاری ہے

  • بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں نے تباہی مچادی۔

    باغی ٹی وی : وندر، اوتھل، لاکھڑا اور بیلہ کی ندی نالوں میں طغیانی سے متعدد کچے مکانات گرگئے، وندر ندی سے اونچےدرجےکا ریلا گزرا جس سے 2 دیہات زیر آب آ گئے جب کہ سیلابی پانی سے مزید گو ٹھ ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    ڈپٹی کمشنر کے مطا بق وندرندی کےقریب رہائشیوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا ہے تاہم سیلاب سے5 دیہات متاثر ہوئے ہیں سانول گوٹھ میں 80 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا اور سیلاب متاثرہ 200 گھرانوں کو ہائی اسکول وندر کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

    سیلابی صورتحال سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے جب کہ بیلہ کی پورالی ندی میں طغیانی سے تھرڑا بند اور اوتھل میں آہورہ بند ٹوٹ چکے ہیں۔

    دوسری جانب کراچی میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، دوپہرسے شروع ہونے والی اس موسلا دھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ندیوں میں پانی کا بہاﺅ تیز ہوگیا، ملیر میمن گوٹھ کے بعد گڈاپ ندی میں بھی طغیانی ہے۔

    عوام کے تحفظ اور مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے،وزیر اعظم

    کراچی میں غیر معمولی بارشوں سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں کرا چی، بالخصوص جنوبی علاقوں میں گزشتہ 6-8 گھنٹوں کے دوران شدید بارش ہوئی-

    کراچی کے چند علاقوں میں 106 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی گجر، اورنگی اور محمود آباد سمیت تمام نالوں سے بارش کے پانی کی نکاسی جاری ہے-

    کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے شہر کے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا کام جاری ہے سول انتظامیہ، پاک فوج اور رینجرز کہ 388 ٹیمز مسلسل۔نکاسی آب میں مصروف ہے کراچی کے بڑے برساتی نالوں میں پانی کا بہائو عروج پر ہے برساتی نالوں میں پانی کی انتہائی سطح کے بعد ڈی واٹرنگ سے ہی زیرآب علاقوں کو کلئیر کیا جا سکتا ہے-

    بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم…