Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • سابق وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا

    سابق وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا

    کوئٹہ :بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی کے قافلے کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں گارڈ زخمی ہوگیا، جبکہ سینیٹر سرفراز بگٹی دھماکے میں محفوظ رہے۔

    ذرائع کے مطابق کشمور ڈیرہ بگٹی روڈ پرسینیٹر سرفراز بگٹی کے قافلے کے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں سینیٹر سرفراز بگٹی دھماکے میں محفوظ رہے، دھماکا سرفراز بگٹی کی گاڑی گزرنے کے بعد ہوا، جس کے باعث قافلے میں شامل دوسری گاڑی کو نقصان پہنچا اور ایک گارڈ زخمی ہوگیا ہے۔

    ڈی سی ڈیرہ بگٹی ممتاز کھیتران کا کہنا ہے کہ جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ روجھان پور کا علاقہ ہے، ڈیرہ بگٹی کی انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ رہی ہے۔بتایا گیا ہے سینیٹر سرفراز بگٹی عید منانے ڈیرہ بگٹی جا رہے تھے

    یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بھی سرفرازبگٹی پرقاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے،یہ جنوری 2022 کا واقعہ ہے جب بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں موندرانی مٹ کے قریب دہشت گرد وں نے حملہ کیا ہے، بم دھماکے کے نتیجے میں 4 لیویز اہلکار شہید اور 9 افراد زخمی ہو گئے۔

    سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان و سینیٹر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ شہید افراد میں ان کے کزن بھی شامل ہیں، بلوچ ریپبلکن آرمی کے دہشت گرد اس حملے میں ملوث ہیں۔

    سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان، سینیٹر سرفراز بگٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر مذاق کر رہی ہے حالانکہ لوگوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔

    ایسے ہی 2016 میں بھی سرفرازبگٹی پرحملہ ہوا تھا جس میں‌ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے قافلے پر دوبارہ قاتلانہ حملہ کیا گیا،جس میں سرفراز بگٹی محافظوں سمیت حملے میں محفوظ رہے۔ اس وقت صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سوئی سے ڈیرہ بگٹی جا رہے تھے کہ گھات لگائے دہشت گردوں نے ان کے قافلے پر حملہ کردیا، خوش قسمتی سے صوبائی وزیر داخلہ محافظوں سمیت قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، لیویز اور فورسز کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

  • کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب اوربارشوں سے متاثرین کی مدد کوپہنچ گئے،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ

    کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب اوربارشوں سے متاثرین کی مدد کوپہنچ گئے،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ

    کوئٹہ :کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب کی صورتحال کومسلسل مانیٹرکررہےہیں،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں‌ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کیے لیے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے آج PDMA بلوچستان کا دورہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق کور کمانڈر کو صوبے میں سیلاب کی صورتحال اور مختلف اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیاگیا ۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ/پی ڈی ایم اے، چیف سیکرٹری بلوچستان اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور آبادی کو زیادہ سے زیادہ اور بروقت ریلیف فراہم کرنے پر سول انتظامیہ کو سیکورٹی فورسز کی مدد کو سراہا۔

    کور کمانڈرجنرل سرفراز علی نےاس موقع پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور جاری امدادی کارروائیوں میں صوبائی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    انہوں نے صوبے بھر میں ریلیف آپریشن کرنے والے تمام محکموں کی کوششوں کو بھی سراہا اور حوصلہ افزائی کی۔

     

    یاد رہےپی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق، 78 افراد زخمی، 676مکانات اور 5 برج تباہ ہوئے۔بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 400 سولر پلیٹس، الیکٹرک پول اور زرعی اراضی کو نقصان ہوا جبکہ برساتی نالوں، کاریزات اور آبی گزرگاہوں پر آباد کاری نقصان کی بڑی وجہ ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں، اقدامات کے حوالے سے صرف بلند وبانگ اعلانات ہی ہورہے ہیں۔

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    دوسری جانب شمالی بلوچستان میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوژک ٹاپ اور شیلا باغ میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی اور چمن کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    توبہ اچکزئی میں سیلابی ریلے تین ڈیم بہا لے گئے جبکہ قلعہ عبداللّٰہ کے چار چھوٹے ڈیمز میں بھی شگاف پڑگئے جس کے باعث پانی مکانوں میں داخل ہوگیا اور فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔

  • سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد:پاکستان کے صوبے سندھ اور بلوچستان میں جولائی کے مہینے میں مون سون کی بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    وزارت موسمياتى تبدیلی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش سندھ میں ہوئی جو معمول سے 61 ملی میٹر زیادہ تھی، جب کہ بلوچستان میں 39 ملی میٹر زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

     

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں 10.5 ملی میٹر، اور بلوچستان میں 6.9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر میں معمول سے تقریباً 10 ملی میٹر زیادہ بارشیں ہوئیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر میں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ ہوئیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ملک میں معمول سے 28 ملی میٹر زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آج بروز ہفتہ 9 جولائی سے 12 جولائی کے دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    میٹ آفس کے مطابق آج اور کل اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جب کہ گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد اور لاہور ڈویژن میں بارش متوقع ہے۔ موسلا دھار بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، مسافر اور سیاح محتاط رہیں، دریاؤں اور نہروں میں نہانے اور نشیبی علاقوں میں گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کریں۔

     

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ آج خضدار، قلات، چمن، دالبندین، مسلم باغ، لسبیلہ، پنجگور، آواران، خاران، ژوب، بارکھان میں بھی بارش کا امکان ہے۔دوسری جانب بدین کے مختلف دیہی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے شہر حب میں ریلے میں پھنسنے والی خواتین اور بچوں سمیت 29 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، نورانی کراس پر ریلے گزرنے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی ہے۔

    شہر قائد میں تیز بارش کے باعث بدھ سے اب تک مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق گارڈن شو مارکیٹ میں کرنٹ لگنے سے 20 سالہ رحمان نوجوان کی ہلاکت ہوئی جبکہ منگھوپیر میں کرنٹ لگنے 23 سالہ رقیب جاں بحق ہوگیا۔

    لانڈھی مانسہرہ کالونی میں گھر میں کرنٹ لگنے سے 38 سالہ خاتون جاں بحق جبکہ کورنگی مہران ٹاؤن میں کام کے دوران 25 سالہ عبدالخالق جاں بحق ہوا۔

    اس کے علاوہ نارتھ کراچی ارسلان ہومز میں ایک گھر کے اندر کرنٹ لگنے سے ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا جس کی شناخت 13 سالہ مذمل ولد مظفر کے نام سے ہوئی ہے۔

    کورنگی میں 100 کواٹرز کے قریب گھر کے اندر پانی کی موٹر سے کرنٹ لگنے سے بزرگ شہری جان بحق ہوگیا جبکہ محمد علی سوسائٹی میں پی ایس او پمپ کے قریب بجلی کا کرنٹ لگنے سے 15 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔

    ادھربلوچستان میں اب تک بارش سے 60 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ پی ڈی ایم اے نے مزید بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارش کا اسپیل 10 جولائی کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ عوام حکومتی سرگرمیوں سے نالاں ہیں۔

    کرونا وائرس: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7 مریض انتقال کرگئے

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق، 78 افراد زخمی، 676مکانات اور 5 برج تباہ ہوئے۔بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 400 سولر پلیٹس، الیکٹرک پول اور زرعی اراضی کو نقصان ہوا جبکہ برساتی نالوں، کاریزات اور آبی گزرگاہوں پر آباد کاری نقصان کی بڑی وجہ ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں، اقدامات کے حوالے سے صرف بلند وبانگ اعلانات ہی ہورہے ہیں۔

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    دوسری جانب شمالی بلوچستان میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوژک ٹاپ اور شیلا باغ میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی اور چمن کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    توبہ اچکزئی میں سیلابی ریلے تین ڈیم بہا لے گئے جبکہ قلعہ عبداللّٰہ کے چار چھوٹے ڈیمز میں بھی شگاف پڑگئے جس کے باعث پانی مکانوں میں داخل ہوگیا اور فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔

  • بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670  مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے بڑی تباہی کئی افراد جان کی بازی ہار گئے بلوچستان میں پچھلے تین ہفتوں سے مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے

    بلوچستان 24 گھنٹے کے دوران مزید 7 افراد بارشوں سے جاں بحق ہو گئے ہیں ،اموات کی مجموعی تعداد 56 ہو گئی ہے، گزشتہ روز تک جاں بحق افراد میں 10 مرد، 22 خواتین اور 24 بچے شامل ہیں،بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 48 افراد زخمی ہوئے، بارشوں سے 670 مکانات کو نقصان پہنچا،بارش سے کوئٹہ، لورالائی، سبی، ہرنائی، دکی، کوہلو، بارکھان اور ژوب زیادہ متاثر ہوئے ہیں بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بارش کے ںاعث کچے دیوار گرنے سے ملبے تلے تب کر چار بچے جانبحق ہوگئے۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے حالیہ بارشوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں ڈیمزاور کینالز کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ایم آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثر ہونے والے بندات کی فوری طور پر تحقیقات کریں اور بتایا جائے کہ نقصانات محض بارشوں کی وجہ سے ہوا ہے یا ان ڈیموں کی تعمیر میں نقائص موجود تھے انہوں نے کہا کہ نقائص کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا

    بلوچستان پنجاب شاہراہ مختلف مقامات پر بند ہوگئی ہے رابطہ پل بہہ جانے سے کوہلو سے کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور لیویز کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مارگلہ ہلز میں آگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے 3 ساتھی گرفتار کر لئے گئے ہیں

  • ہرنائی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ ،پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند

    ہرنائی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ ،پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند

    بلوچستان :مون سون بارشیں، ہرنائی میں سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : ہرنائی میں بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند کر دی گئی۔سیلابی ریلوں سے ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کے دوبڑے رابطہ پل متاثر ہوئے۔

    لاہور،کراچی اوراسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے

    ہرنائی کےلیے بنائے گئے حفاظتی بند بھی سیلاب ریلوں سے متاثر ہوئے ہرنائی کے مرزا کلی ،لعل خان حفاظتی بند سیلاب میں بہہ گئے چھوٹے حفظاطتی بند کی ٹوٹنے سے سیلابی پانی ہرنائی میں داخل ہو گیا۔

    ہرنائی میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی تباہ کر دیا۔ سیلابی ریلے بجلی کے کھمبے بھی بہا کر لے گئے۔سیلابی پانی کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے ہرنائی کے کچے مکانات متاثر ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نثار احمد مستوئی ،اسسٹنٹ کمشنر لیویز فورس نےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی جانب سے ضلع میں بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

    قبل ازیں کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی تھی پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا بارشوں سےاب تک 39 افراد جاں بحق ہوئے،جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 16 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 47 افراد زخمی ہوئے بارشوں سے سب سے زیادہ کوئٹہ، لسبیلہ، سبی،ہرنائی،دکی متاثر کوہلو ،بار کھان ،ژوب اور ڈیرہ بگٹی بھی بارشوں سے متاثر ہوئے مجموعی طور پر صوبے بھر میں 241 مکانات منہدم ہوئے ۔

    واضح رہے کہ خلیج بنگال سے ملک میں داخل ہونے والا مون سون سسٹم پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشوں کا باعث بن رہا ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشیں ہورہی ہیں اور یہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہے گا۔

    حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر) کی 23 ویں برسی

  • بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،حکومت نے کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی۔

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ روز کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کے باعث صوبے کے ندی نالے بھر گئے پی ڈی ایم بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہےکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں۔

    شہروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سے واپسی پر لاپتہ

    جاں بحق افراد میں سے 6 کا تعلق کوئٹہ 3 کا تربت جبکہ خضدار اور قلعہ سیف اللہ میں مرنے والوں کی تعداد ایک ایک ہے سریاب مشرقی بائی پاس نواں کلی میں درجنوں مکانات زیر اب آگئے۔چالیس سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔

    بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمطابق بارشوں کےباعث قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، ہرنائی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسلم باغ، قمرالدین اور خشنوب میں سیلابی صورتحال ہے خشنوب میں متعدد دیہات میں رات کو سیلابی ریلے داخل ہوئے جبکہ خشنوب میں رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ریسکیو اہلکاروں کو متا ثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    پاکستان میں موسم کیسا رہے گا؟

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ایک ہفتے تک مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا پی ڈی ایم کے اعداد وشمار کے مطابق اس سال جون اور جولائی میں ہونے والے بارشوں سے اب تک صوبہ بھر میں 31 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں-

    اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق مسلم باغ سول اسپتال کے وارڈز اور ایمرجنسی میں پانی بھر گیا جبکہ مسلم باغ کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے 100سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ کان مہترزئی، لوئی بند اور راغہ سلطان زئی میں رابطہ سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔

    چمن انتظامیہ کے مطابق بادی زئی اور تورخیل میں سیلابی ریلے سے 70 سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ طوفانی بارشوں کے باعث ہرنائی-پنجاب-لورالائی شاہراہ آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

    لیویز حکام کے مطابق افغان سرحدی علاقےقمرالدین میں والین ڈیم کاایک حصہ ٹوٹ جانے کے باعث ڈیم کا پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہوا اور 11 گھر بہا لےگیا، قمرالدین کے متاثرین کو محفوظ مقامات پرمنتقل کردیا گیا ہےجبکہ لورا لا ئی کی پٹھان کوٹ ندی سے دو بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔

    لیویز حکام کا کہنا ہے کہ قلعہ سیف اللہ، ژوب اور ہرنائی کے دور افتادہ علاقوں کی اکثر رابطہ سڑکیں متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں ریسکیو سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب غذر کے گاؤں شیر قلعہ میں آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہو گئی ڈپٹی کمشنر غذر کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے دوران لاپتہ ہونے والے محکمہ برقیات کے 6 ملازمین محفوظ ہیں۔

    ڈی سی غذر کا بتانا ہے کہ گزشتہ روز گاؤں شیر قلعہ میں لینڈسلائیڈنگ سے متعدد مکانات اور 2 بجلی گھر سیلابی ریلے کی زد میں آگئے تھے لینڈ سلائیڈنگ سے محکمہ برقیات کے 6 ملازمین بھی لاپتہ ہو گئے تھے۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریزکا انعقاد تین شہروں میں ہونے کا امکان

  • بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق اور 20 سے زاید زخمی ہوئے ہو گئے۔ مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں طوفانی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، نواحی علاقوں میں درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے.کوئٹہ کے علاقے سریاب میں چھت اور دیواریں گرنے سے 3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے، مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں جن کی تلاش جاری ہے،، شہر کے مختلف علاقوں میں 20 سے زاید افراد زخمی بھی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    کیسکو حکام کے مطابق شہر میں بجلی مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے جبکہ شہر کا بڑا حصہ صبح سے بجلی سے محروم ہے۔ مشیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میرضیا لانگو نے حالیہ بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مون سون کی بارشیں گزشتہ روز سے شروع ہوچکی ہیں، بارشوں سےاب تک کوئٹہ میں 6 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارشوں سے متاثر ہونیوالے اضلاع میں امدادی سامان بھجوایا جا رہا ہے۔

    مشیر داخلہ نے بتایا کہ بارشوں کے بعد حکومت بلوچستان، پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں جہاں جس چیز کی ضرورت ہوگی وہاں پہنچائی جائے گی تاہم ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں پی ڈی ایم اے کے آفس بنائے جائیں گے۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں داخل ہونے کے نتیجے میں ملک میں گزشتہ کئی دنوں سے مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے،پیر کو سندھ، کشمیر اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارشیں ہوئیں۔ سب سے زیادہ بارش بالا کوٹ میں40 ملی میٹر ہوئی۔ سرجانی کراچیاور سکھر میں 23 جبکہ جیکب آباد میں 19ملی میٹر بارش ہوئی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش لسبیلہ میں 33 ملی میٹر، جبکہ کوئٹہ اور پنجگور میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ آئندہ دو دنوں تک بلوچستان، پنجاب، سندھ اور کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی ملاقات،اہم معاملات پر مشاورت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے ملاقات کی ہے۔ بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات میں صوبائی وزیر آبپاشی محمد خان لہری بھی موجود تھے۔

    پیپلز پارٹی کے مطابق عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ آئے وفد نے آصف علی زرداری سے بلوچستان میں پانی کی قلت کے مسائل سے آگاہ کیا۔سابق صدر آصف زرداری نے بلوچستان میں پانی کے بحران پر تشویش ظاہر کی اور وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ذرائع کے مطابق اصف زرداری اورعبدالقدوس بزنجو کے درمیان ملاقات میں سیاسی معاملات پر بھی کفتگو ہوئی. دونوں رہنماوں نے اہم معاملات پر مشاورت بھی کی.

    سابق صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرتی رہے گی، ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ہم کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    دوسری طرف مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگونے بلوچستان میں بارشوں کے پیش نظر محکمہ پی ڈی ایم اےاور ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے.کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ،محکمہ مومسیات کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں مون سون بارشوں کے غیر معمولی ہونے کی وجہ سے تباہی کا خدشہ ہے۔ مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو  نے ،  ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

    مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں سے نکاسی آب مقرر کردہ وقت میں مکمل کیا جائے،افسران خود فیلڈ میں نکلیں اور نکاسی آب کے کام کی نگرانی کریں۔ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے موثر ٹریفک منیجمنٹ کو یقینی بنایا جائے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں متعلقہ ادارے بروقت موقع پر پہنچیں اور فی الفور امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔

  • بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    بلوچستان حکومت حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کرے،مصطفیٰ کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال اور مرکزی وائس چیئرمین عطاء الله کرد نے راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس کے حادثے کے نتیجے میں طالب علموں سمیت متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان ہاؤس سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں شاہراہیں خستہ حال اور یک رویہ ہونے کے باعث ٹریفک حادثات اور انکے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے لیکن بے حس حکمرانوں کے جان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ جب تک شاہراہوں کی معیاری تعمیر اور ڈبل کیرج یقینی نہیں بنایا جاتا بلوچستان کے لوگ لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

    بارش کے بعد پھسلن کے باعث حادثات پیش آنا معمول بن چکا ہے حکومت اس پہاڑی علاقے میں سڑک کو سفر کے قابل بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدمات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات سے بچا جاسکے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی بلوچستان سے محبت اخباری بیانات تک محدود ہے۔ اس المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ ہے اور غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    مصطفی کمال نے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاونت اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر نے مطالبہ کیا ۔ سید مصطفی کمال اور عطاء الله کرد نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے افراد کی مغفرت اور زخمی افراد کے لیے جلد و مکمل صحتیابی کے لئے دعا کی۔

  • باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    لاہور:باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سے گرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟اس حوالے سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ علاؤالدین مری جو کہ آج کل باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اوربلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ایک ماہرانہ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آج انہوں نے بلوچستان کےمسائل کے حل نہ ہونے کا ذمہ دارقوتوں اورافراد کی نشاندہی کی ہے

    علاوالدین مری نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام موسم اور دنیا کی قیمتی ترین معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ ابھی بھی پسماندگی کا شکار ہے ،

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے ذمہ داربلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ہیں اور وفاق بھی اس کاذمہ دار ہے، عفیفہ راو کے ایک سوال کے جواب میں علاوالدین مری نے کہا کہ شہبازشریف کا صوبے کا تھوڑے ہی عرصے میں تین مرتبہ دورہ ایک اچھی بات ہے لیکن صرف دورے ہی کافی نہیں ، سابق حکومت کے دور میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت زیادہ فنڈز رکھے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اسلم بھوتانی ,خالد مگسی اور دیگررہنماوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بلوچستان کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈزدیئے گئے لیکن ہمیں عزت نہیں دی گئی ، اوراگرموجودہ حکومت کو دیکھا جائے توہمیں اگرعزت دیتے ہیں تو بلوچستان کے لیے اس قدرفنڈز نہیں دے رہے ہیں بلوچستان ہردوراورہرحکومت میں ایسے ہی پسماندہ رہا ہے ، گوادر کے حالات سب کے سامنے ہیں ، چین کے بھی کچھ ایسے ہی کنسرن ہیں

     

     

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان بھرمیں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے جائیں ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ،اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، نوجوان طبقے کوفنی تعلیم دلوا کرمعاشی سرگرمیوں کے لیےتیار کیا جائے نہ کہ گورنمنٹ جاب کی طرف دھکیل دیا جائے جس میں کم تنخواہوں سے کیسے گزارہ ہوسکتا ہے

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں‌، ٹیکس فری زون بنائیں جائیں تاکہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹیں اورصوبے میں ایک بہتردور کاآغاز ہوسکے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کے ہرعلاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں ، لوگوں‌کوتعلیم صحت اورروزگار فراہم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں روزگارمل سکے

    علاوالدین مری کہتےہیں‌کہ اس سلسلے میں حکومتوں کوعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ بیانات کے ذریعے سہارا لیکرعوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور احساس محرومی ختم کرنے کےلیے کوشش کرے