Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان میں مغربی ہواؤں کا دوسرا سلسلہ داخل ہونے کا امکان

    بلوچستان میں مغربی ہواؤں کا دوسرا سلسلہ داخل ہونے کا امکان

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج شام سے بلوچستان میں مغربی ہواؤں کا دوسرا سلسلہ داخل ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں تیز بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بلوچستان میں مغربی ہواؤں کا دوسرا سلسلہ داخل ہونے کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان میں موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری ہوگی، ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کی نئی وارننگ بھی جاری کردی ہے۔

    طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال

    رپورٹس کے مطابق وادی کوئٹہ اور گرد ونواح میں موسلادھار بارش کے بعد شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہوگیا ہے کیسکو حکام کے مطابق بارش سے شہر میں بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے اور 15 فیڈر ٹرپ کرگئے ہیں۔

    بلوچستان کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ضلع کیچ کے علاقے مند میں سیلابی ریلے کے باعث بند ٹوٹ جانے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا، طوفانی بارشوں کے سبب تربت اور مند کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ گوادر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور کئی کچے مکانات منہدم ہو گئے۔

    دوسری جانب لاہور میں آج دن بھر وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا امکان ہے حیدرآباد، نواب شاہ ، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، اوباڑو، رحیم یار خان، ملتان، راجن پور میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اسلام آباد میں بارش کے بعد موسم حسین ہوگیا جبکہ پشاور میں بارش سے سردی بڑھ گئی ہے۔

    ملک کے بالائی علاقوں میں برف باری اور بارش کا سلسلہ جاری

    کراچی میں رات بھر وقفے وقفے سے بارش ہوئی تاہم صبح ہونے پر بارش کا سلسلہ رک گیا، شہر بھر میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش سے موسم سرد ہو گیا کئی سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے، تاہم ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار ہے۔

    کراچی: بارش کے ساتھ اولے پڑنے کا امکان

    دوسری جانب لیاقت آباد انڈر پاس میں اور حیدری مارکیٹ کے روڈ پر چند مقامات پر پانی جمع ہے ایم اے جناح روڈ پر بھی چند مقامات پر اور نیپا پل پر بھی پانی جمع ہے، تاہم ٹریفک کی روانی برقرار ہے شہر کی مصروف ترین شارعِ فیصل پر بھی ٹریفک رواں دواں ہے۔

    لاہو:مختلف علاقوں میں بوندا باندی،مسلسل 4 روز تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا،محکمہ…

    ادھر نارتھ کراچی، نیو کراچی، ناگن چورنگی کے علاقے میں سڑکوں پر کہیں کہیں پانی جمع ہے جبکہ کئی گلیوں میں پانی جمع ہونے سے مکینوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔

  • ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشوں اورسیلاب میں گھبرانانہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:ترجمان پاک فوج

    ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشوں اورسیلاب میں گھبرانانہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:ترجمان پاک فوج

    کوئٹہ:ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشیں اورسیلاب گھبرانا نہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے کی طرف سے اہل بلوچستان کو پیغام دیا گیاہے کہ سخت سردی بھی ہے اورپھربارشیں اس قدر ہورہی ہیں‌ کہ سیلابی صورتحال ہے لیکن گھبرانا نہیں ہم حاضرخدمت ہیں ،

      

     

    اس حوالے سے پیغام جاری کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد پاک فوج کا امدادی کام جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کا امدادی کام جاری ہے، پسنی، جیوانی، سربندر، نگور میں خوراک اور شیلٹرز کی فراہمی بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔

  • بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات،سب حیران رہ گئے

    بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات،سب حیران رہ گئے

    کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی کےکس رکن نےکتنا ٹیکس دیا،حیران کُن تفصیلات سامنے آگئیں ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 2019 میں اراکین بلوچستان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    بلوچستان اسمبلی ایف بی آر کی 2019 کی ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق صوبائی مشیر اکبر اسکانی ایک کروڑ 33لاکھ روپے ٹیکس ادا کرکے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے رکن اسمبلی ہیں، سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے 1 کروڑ 17 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا اور وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے دس لاکھ 61 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

    رکن اسمبلی عارف جان محمد حسنی نے سب سے کم دو لاکھ 69 ہزار، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے 8 لاکھ 78 ہزار روپے کا ٹیکس دیا ، سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے 3 لاکھ 43ہزار روپے، سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے پانچ لاکھ 81 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی حمل کلمتی نے 28 لاکھ 84 ہزار روپے، سکندر عمرانی نے 21 لاکھ 10 ہزار روپے، سردار عبدالرحمان کھیتران نے 12 لاکھ 43ہزار روپے ، مٹھا خان کاکڑ نے گیارہ لاکھ 57 ہزار روپے، نواب زادہ طارق مگسی نے دس لاکھ 99 ہزار روپے ، عبدالخالق ہزارہ نے دس لاکھ 42 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی نے چھ لاکھ 46 ہزار روپے، احمد نواز نے چھ لاکھ 53 ہزار روپے ، اختر حسین لانگو نے چھ لاکھ 62 ہزار روپے ، اسد اللہ بلوچ نے سات لاکھ 60 ہزار روپے ، اصغر علی ترین نے سات لاکھ 81ہزار روپے، بشرٰی رند نے سات لاکھ 92 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے چھ لاکھ 73 ہزار روپے ، نوابزادہ گہرام بگٹی نے پانچ لاکھ 94 ہزار روپے ،،اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے چھ لاکھ 40 ہزار روپے ، ماہ جبین شیران نے چار لاکھ بیس ہزار روپے ، مستورہ بی بی نے پانچ لاکھ 39 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    میر نعمت اللہ زہری نے پانچ لاکھ 68 ہزار روپے ، میر ضیاء اللہ لانگو نے چھ لاکھ 39 ہزار روپے ، مبین خان خلجی نے پانچ لاکھ44ہزار روپے ، محمد نواز نےپانچ لاکھ66ہزار روپے ،سردار صالح محمد بھوتانی نے سات لاکھ 86 ہزار روپے ،نصر اللہ زیرے نے چھ لاکھ 52 ہزار روپے ، نور محمد دومڑ نے نو لاکھ 13 ہزار روپے، مولوی نور اللہ نے پانچ لاکھ 99 ہزار روپے ، سلیم احمد کھوسہ نے 8 لاکھ 26 ہزار روپے، سردار یار محمد رند نے پانچ لاکھ 96 ہزار روپے، سردار سرفراز چاکر ڈومکی نے سات لاکھ 29 ہزار روپے، شام لعل لاسی نے 6 لاکھ 24 ہزار روپے ،سید احسان شاہ نے 7 لاکھ 81 ہزار روپے ، ٹائٹس جانسن نے6 لاکھ 36 ہزار روپے اور عمر خان جمالی نے 8 لاکھ95 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا ۔

    رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے چھ لاکھ 57 ہزار روپے ، زابد علی ریکی نے پانچ لاکھ 14 ہزار روپے ،ظہور احمد بلیدی نے چھ لاکھ 54 ہزار روپے ،زمرک خان اچکزئی نے 8 لاکھ 89 ہزار روپے کا ٹیکس ادا کیا۔

    بلوچستان اسمبلی کے 44 اراکین اسمبلی کے نام ٹیکس ڈائریکٹر ی میں شامل ہیں جب کہ 21 اراکین اسمبلی کے نام ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرنے کے باعث ٹیکس ڈائریکٹری میں شامل نہیں کیے گئے۔

  • پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا

    پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا

    پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق گوادر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو صوبہ نہیں کالونی سمجھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، بلوچستان کے شہریوں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والی سوئی گیس پورے ملک میں پہنچی، بلوچستان میں آج بھی لکڑیاں جلا کر کھانا بنایا جاتا ہے، بلوچستان کو صوبہ ہی نہیں سمجھا جا رہا ہے، جو حق کلبھوشن کو دیا گیا ہے، اگر اس کا 50 فیصد بلوچستان کو حق دیں تو مسائل حل ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے، بلوچستان میں معدنیات سب سے زیادہ ہے، پوری دنیا کے سونے کا تیسرا بڑا ذخیرہ بلوچستان میں ہے، گوادر کے رہائشی بخار کا علاج بھی کراچی سے کراتے ہیں، ہم بنیادی سہولیات کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو کیا یہ تعصب کی بات ہے، بلوچستان کی سوئی، سونے اور گوادر کے پورٹ پر پہلا حق وہاں کے رہائشیوں کا ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جب ہم نے دھرنا دیا تو کہا گیا کہ ہم سیپیک کے خلاف ہے، بلوچستان میں سی پیک کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، بلوچستان میں ایک کلو میٹر بھی سی پیک کی سڑک نہیں بنی، کسی ایک چیز کی نشاندہی کر دیں کہ بلوچستان میں سی پیک منصوبے کے تحت ترقیاتی کام ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اعلان کے بعد نہ اسکول ملا، نہ اسپتال ملا، نہ روڈ ملا، نہ بس چیک پوسٹیں ملی ہے، وزیر اعظم جن کو ناراض بلوچ سمجھتے ہیں وہ بیرون ملک بہترین زندگی گزار رہے ہیں، ادھر جو ناراض بلوچ ہیں ان کی فکر کریں۔

    انہوں نے کہا کہ سوا کروڑ بلوچ ناراض ہے، ترقی کون نہیں چاہتا؟ صاف پانی کون نہیں چاہتا؟ تعلیم کون نہیں چاہتا؟ ہمیں ترقی چاہیے لیکن تذلیل برداشت نہیں کر سکتے، کسی کے ماں باپ کو گالی دینا اگر کلچر ہے تو ہمارے لیے بلوچ والدین کو گالی دینا، آگ لگانے کے برابر ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے دھرنے کو کوریج نہیں ملی کیونکہ کترینہ باجی کی شادی ہو رہی ہے، کترینہ باجی کو شادی کی کوریج ملی، گوادر حق دو تحریک کے دھرنے کو کوریج نہیں ملی، تین ماہ بعد کوئٹہ دھرنا دینے جا رہے ہیں جس میں ہماری ایک ہی بات ہوگی کہ کیا ہمیں پاکستانی سمجھتے ہیں؟

    گوادر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے مزید کہا کہ اگر ہمیں پاکستانی سمجھتے ہیں تو ہم اس زبان میں بات کریں گے، اگر ہمیں پاکستانی نہیں سمجھتے تو اس زبان میں بات کریں گے، کم از کم ہم کلبھوشن سے زیادہ پاکستانی ہے۔

  • وزیراعلیٰ‌ کی دہشت گردانہ دھماکے کی مذمت:زخمیوں اورجانبحق افراد کی تفصیلات جاری کردی گئیں

    وزیراعلیٰ‌ کی دہشت گردانہ دھماکے کی مذمت:زخمیوں اورجانبحق افراد کی تفصیلات جاری کردی گئیں

    کوئٹہ:وزیراعلیٰ‌ بلوچستان کی دہشت گردانہ دھماکے کی مذمت:زخمیوں اورجانبحق افراد کی تفصیلات بھی جاری کردی گئیں،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ دھماکے کی مزمت کی ہے اور دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

    انہوں نے کوئٹہ کے سکیورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات اور واقعہ سے متعلق آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہےوزیراعلیٰ نے صوبائی مشیر داخلہ کو شہر کے سکیورٹی پلان کا جائزہ لیکر مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے سخت سزا کے مستحق ہیں،عوام کے جان ومال کا تحفظ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی زمہ داری ہے۔

    دھماکے کے مقام کا دورہ کرتے ہوئے مشیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ دھماکے میں انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے۔ دھماکے میں قوم کو نشانہ بنایا گیا، دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا ، سائنس کالج میں سیاسی جماعت کی سرگرمی ہو رہی تھی، امن کے دشمن مزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے،دہشت اور وحشت پھیلانے والے باہمت قوم کے حصلے پست نہیں کرسکتے،سال نو پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔

    دوسری طرف چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو جلد طبی امداد فراہم کرنے ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، دھماکا ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کاروائی ہے، ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پرامن فضا کو خراب کرناچاہتے ہیں جو ہمیشہ ناکام رہیں گے۔

    اس سے قبل 18 دسمبر کو کوئٹہ میں دھماکا ہوا تھا جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا اور 10 افراد زخمی ہو گئے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا، واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ 4 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    صوبائی حکومت کی طرف سے کچھ اس طرح تفصیلات جاری کی گئی ہیں‌
    ساٸنس کالج کے سامنے بم دھماکہ کے 15 زخمی افراد کے نام
    1. محمد ادریس ولد زربت خان
    2. مصور ولد ولی جان
    3.نور محمد ولد فدا خان
    4.ثنا۶ اللہ ولد محمد اکرم
    5.حبیب اللہ ولد محمد
    6.محمد رمضان ولد محمد صادق
    7.ظہور احمد ولد دوست محمد
    8.محمد فاروق ولد عبدالمنان
    9.بلال محمدولد زعفران
    10.نقیب اللہ ولد محمد عالم
    11.نجیب اللہ ولد کریم خان
    12.عزیز اللہ ولدرحیم اللہ
    13.نادر ولد حیدر
    14.جمیل احمد ولد سرور
    15.عبدالہادی ولد گل محمد

    ساٸنس کالج کے سامنے بم دھماکہ میں شہید افراد کا نام
    1. محمد اکرم ولد خان محمد
    2. شرف الدین ولد نیاز محمد
    3.یونس آغا ولد آغا جان
    4.نا معلوم

    جاری کردہ
    ڈاکٹر وسیم بیگ
    میڈیا کوارڈنیٹر
    محکمہ صحت بلوچستان

  • بلوچستان پھر لہولہان ہوگیا:کوئٹہ میں جناح روڈ پر دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    بلوچستان پھر لہولہان ہوگیا:کوئٹہ میں جناح روڈ پر دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    کوئٹہ:بلوچستان پھر لہولہان ہوگیا:کوئٹہ میں جناح روڈ پر دھماکا، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 14 افراد زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں جناح روڈ پر سلیم کمپلیکس کے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ایدھی ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد 4 افراد جاں بحق جبکہ 14افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے دھماکے والی جگہ کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ دھماکے کی مزمت کی ہے اور دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کوئٹہ کے سکیورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات اور واقعہ سے متعلق آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے

    وزیراعلیٰ نے صوبائی مشیر داخلہ کو شہر کے سکیورٹی پلان کا جائزہ لیکر مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ بزنجو کا کہنا تھا کہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے سخت سزا کے مستحق ہیں،عوام کے جان ومال کا تحفظ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی زمہ داری ہے۔

    دوسری طرف چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو جلد طبی امداد فراہم کرنے ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، دھماکا ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کاروائی ہے، ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پرامن فضا کو خراب کرناچاہتے ہیں جو ہمیشہ ناکام رہیں گے۔

    اس سے قبل 18 دسمبر کو کوئٹہ میں دھماکا ہوا تھا جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا اور 10 افراد زخمی ہو گئے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا، واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ 4 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملازمت کے نام پر خواتین سے زیادتی،تحقیقات میں اہم پیشرفت

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملازمت کے نام پر خواتین سے زیادتی،تحقیقات میں اہم پیشرفت

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملازمت کے نام پر خواتین سے زیادتی،تحقیقات میں اہم پیشرفت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ فدا حسین نے کہا ہے کہ رواں سال پولیس کی کارکردگی بہتر رہی،

    ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ فدا حسین کا کہنا تھا کہ رواں سال 83 فیصد کرائم کی شرح رہی رواں سال کیسز میں 20 فیصد کیسز میں اضافہ ہوا ،ہوائی فائرنگ کیخلاف مہم میں بہت سی کارروائیا ں کی گئیں گزشتہ 6 ماہ سے اشتہاری ملزمان کیخلاف کارروائی کی گئی 785 افراد گرفتار کیے،رواں سال اغوامیں ملوث 162 گرفتاراور121 مغوی بازیاب کیے،چوری ڈکیتی سمیت دیگر وارداتوں میں ملوث 306 ملازمان گرفتار کیے گئے ملزمان سے3 کروڑ سے زائد کیش، موبائل فون، موٹرسائیکل گاڑیاں برآمد کی گئیں رواں سال مختلف واقعات میں 52 کلاشنکوف، 60 رائفل، 481 پستول برآمد کیے گئے، منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی میں 356 ملزمان گرفتار کیے گئے ہوائی فائرنگ میں ملوث 162 افراد کو گرفتار کیا گیا،نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیخلاف کارروائی میں 1105 گاڑیاں قبضے میں لی گئیں،رواں سال ٹریفک پولیس نے 13 کروڑں روپے کے قریب جرمانے کیے،

    ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ فدا حسین کا کہنا تھا کہ ویڈیو اسکینڈل کی تمام تحقیقات مکمل لرلی گئی ہیں،ویڈیو اسکینڈل میں ملوث تیسرا ملزم تاحال فرار ہے،ویڈیو اسکینڈل میں ملوث تیسرا ملزم کو جلد گرفتار کیا جائے گا،

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، مجلس وحدت المسلمین کے علاوہ سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں نے کوئٹہ میں خواتین کے نئی ویڈیو سکینڈل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے اور اس میں ملوث تمام افراد کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے مطالبے کے علاوہ کوئٹہ شہر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ان میں سے بعض جماعتوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار بھی کیا گیا کہ اگر یونیورسٹی میں رونما ہونے والی ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو شاید یہ دوسرا واقعہ پیش نہیں آتا

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور پولیس حکام سے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں اورعہدیداروں نے ملاقاتیں بھی کیں اورانہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ۔ وزیراعلیٰ اوردیگر حکومتی عہدیداروں کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ملزمان سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملزمان جنسی زیادتی کے ساتھ اور کیا گھناؤنا دھندہ کرتے تھے؟ اہم انکشاف

  • ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی:     خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

    ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی: خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

    لاہور:ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائے گی:بلوچستان کی خوشحالی پاکستانی کی خوشحالی ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چھوٹے صوبوں کی ترقی کے لیے اپنے حکومتی وژن کے مطابق میں نے فیصلہ کیا کہ ہماری وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی اور حکومت بلوچستان کی جانب سے اس کی ترقی کا بوجھ اٹھائے گی۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ اس سے بلوچستان کے عوام اور صوبے کے لیے خوشحالی کے دور کا آغاز ہو گا۔

     

     

     

     

    خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوری 2013ء میں ریکوڈک کے ذخائر استعمال کرنے کے آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) اور بلوچستان حکومت کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ جولائی 1993ء میں ہونے والا یہ معاہدہ ملکی قوانین کے خلاف ہے اور اس کے بعد اس میں کی گئی تمام بھی ترامیم غیر قانونی اور معاہدے کے منافی ہیں۔

    2011 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت نے کمپنی کی جانب سے کان کنی کے لیے لائسنس کی درخواست مسترد کی تھی۔ بلوچستان حکومت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے جنوری 2012ء میں ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) سے رجوع کیا۔

    سرمایہ کاری سے متعلق اس عالمی ثالثی عدالت نے 7 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جولائی 2019ء میں پاکستان پر تقریبا 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا جو ملکی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر رقم ہے۔ اس کے فوری بعد ٹی سی سی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے دسمبر 2020 میں پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں ہوٹل سمیت پاکستانی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا تاہم بعد میں یہ فیصلہ منسوخ ہوا اور پاکستان نے عالمی عدالت سے مئی 2021 تک مشروط حکم امتناع بھی حاصل کر لیا۔

    گزشتہ کئی ماہ سے ٹیتھیان کاپر کمپنی اور پاکستانی حکومت کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کی کوششوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ماہ قبل 30 نومبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے قرارداد کے ذریعے ریکوڈک سے متعلق نئے مجوزہ معاہدے پر بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔

    یاد رہے کہ ریکوڈک ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں ٹیتھیان کی اراضیاتی پٹی پر واقع ہے۔ یہ پاکستان میں سونے، چاندی اور تانبے کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے اور اس کا شمار دنیا کے چند بڑے قیمتی زیر زمین ذخائر میں ہوتا ہے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک میں ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر اور دو کروڑ 30 لاکھ اونس سونا موجود ہے۔

    ٹھیتان کاپر کمپنی کی ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کا اقتصادی طور پر قابلِ کان کن حصہ 2.2 ارب ٹن جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق چار ارب ٹن سے زائد ہے، جس میں اوسطاً تانبا 0.53 فیصد ہے جبکہ سونے کی مقدار 0.3 گرام فی ٹن ہے۔ اس منصوبے کی کل عمر کا تخمینہ 56 سال لگایا گیا ہے۔

  • اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :ڈپٹی کمشنر گوادر

    اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :ڈپٹی کمشنر گوادر

    گوادر:اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ نے کہا ھے کہ طلبا و طالبات کے تعلیمی تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا کسی بھی طلبا و طالبات کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور تمام تصدیقی عمل میرٹ کی بنیاد پر ھونگے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع گوادر سے میڈیکل کالجز کے لیے نامزد امیدوارں کا لوکل سرٹیفکیٹ کی تصدیقی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ھے اجلاس میں لوکل سرٹیفکیٹ کمیٹی کے ممبران میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ راجہ طہر عباس،ضلعی افسر صحت ڈاکٹر موسیٰ بلوچ اے ڈی ایچ ڈاکٹر شاہنواز بلوچ اور ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر عبدالیظف دشتی نے شرکت کی

    اجلاس میں ضلع گوادر کے مقررہ کردہ کوٹہ میڈیکل کالجز کی نشستوں پر مختلف میڈیکل کالجز کے تمام نامزد امیدوارں نے ڈپٹی کمشنر اور بنائی گئی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے لوکل سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرائی اجلاس میں ضلع گوادر کے 18 نامزد امیدوارں کے لوکل سرٹیفکیٹ کی جانچ پڑتال اور تصدیقی عمل کا صاف شفاف طریقے سے جائرہ لیا گیا اس سلسلے میں ضلع گوادر کے میڈیکل کالجز کے نامزد 18امیدوارشامل تھے جن میں چار فیمل امیدوار تھے ان 18 امیدوارں میں سے 15 امیدوار جن میں چار فیمل امیدوار شامل تھے

    ڈپٹی کمشنر گوادر کے سامنے پیش ہوئے اور لوکل سرٹیفکیٹ سمیت اپنے تعلیمی کوائف صدیق کے لیے پیش کیے جبکہ تین امیدوار غیر حاضر رہے جن میں مدید خالد ولد محمد خالد،ماریہ بنت عبدالقادر اور باسط علی ولد شیر محمد کے نام شامل ہیں اجلاس میں بتایا گیا کہ میڈیکل کالجز کے تمام نامزد امیدوارں کے تصدیق عمل انتہائی صاف وشفاف طریقے سے انجام دی جائے گی کس بھی امیدوار کی حق تلفی ہرگز نہیں کی جائے گی جن میداورں پر اعتراضات اور خدشات ظاہر کیے گئے ہیں ان امیدوارں کے کوائف چیک کیے جائیں گے اگر کوئی بھی لوکل سرٹیفکیٹ جعلی نکلا تو اس امیدوار کا لوکل سرٹیفکیٹ منسوخ کرکے اس کے خلاف قانون کاروائی عمل لائی جائے گی

  • بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت   ماما محمد خان مینگل  گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے

    بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت ماما محمد خان مینگل گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے

    کوئٹہ :بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت ماما محمد خان مینگل گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت اور سابق ایکس ای این محکمہ بی اینڈ آر انجینئر ماما محمد خان مینگل طویل علالت کے بعد گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے.

    مرحوم ماما محمد خان مینگل سابق انجینئر بی اینڈ آر احمد خان مینگل، ٹھیکیدار نور مینگل اور چیف انجنیئر بی اینڈ آر علی احمد مینگل کے بڑے بھائی جبکہ میٹروپولٹین کے چیف آرکیٹیکٹ حاجی محمد اسحاق مینگل، ایکس ای این ایریگیشن حاجی محمد ابراہیم ، ڈاکٹر محمد اسمٰعیل مینگل اور آصف مینگل کے والد تھے جبکہ ٹھیکیدار عبدالغنی مینگل، غلام مصطفی مینگل، اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر ٹو گورنر بلوچستان محمد عارف مینگل، حبیب اللہ مینگل، ماسٹر ناصر مینگل اور انسپکٹر سی آئی اے عامر مینگل کے ماموں تھے. اور عبدالمجید مینگل، عبدالعزیز مینگل اور کامریڈ عبدالواحد مینگل کے کزن تھے۔

    مرحوم انجنیئر ماما محمد خان مینگل کا نماز جنازہ کل بروز جمعرات صبح 10 بجے مدرسہ مطلع العلوم وحدت کالونی پہلا اسٹاپ بروری روڈ کوئٹہ میں ادا کی جائےگی. بعدازاں مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی مدرسہ مطلع العلوم مسجد میں ہی جاری رہے گی.