Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • کوئٹہ ،  کوئلہ کان پر حملہ، قبائلی رہنما بھائی سمیت جاں بحق، 11 افراد زخمی

    کوئٹہ ، کوئلہ کان پر حملہ، قبائلی رہنما بھائی سمیت جاں بحق، 11 افراد زخمی

    کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ہنہ اوڑک کلی منگل میں مسلح افراد نے کوئلہ کان پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں قبائلی رہنما اپنے بھائی سمیت جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنہ اوڑک تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نوید اختر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے سے دو سگے بھائی جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔حملہ آوروں نے کان میں موجود سامان کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ان کے مطابق حملے کا نشانہ قبائلی رہنما سردار عبدالسلام تھے، جو کوئلہ کان کے مالک اور معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ انہیں مبینہ طور پر ایک کالعدم گروہ کی جانب سے بھتے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، جس پر انہوں نے متعلقہ پولیس تھانے میں رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔

    بھتہ نہ دینے کی صورت میں ان کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے۔ایس ایچ او نوید اختر کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد 100 سے زائد تھی اور وہ جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ قبائلی شخصیت کے پہنچنے پر دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جب کہ حملہ آوروں نے کوئلہ کان کے اردگرد بم بھی نصب کیے تھے، جن کے پھٹنے سے جانی نقصان ہوا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    بلوچستان میں دہشت گرد حملے، بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد

  • سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛موسیٰ خیل میں  کالعدم تنظیم کے 4  دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛موسیٰ خیل میں کالعدم تنظیم کے 4 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ:بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے 4 مسلح دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کی، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے 4 مسلح دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہلاک دہشت گرد راڑہ شم میں ہائی وے پر بم نصب کررہے تھے ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں اسلحہ اور بم بھی برآمد ہوئے ہیں، ہلاک دہشت گرد راڑہ شم اور رڑکن کے علاقوں میں مسافر بسوں پر حملوں میں ملوث تھے ، سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چاروں ہلاک دہشت گرد مختلف واقعات میں ملوث تھے۔

  • خضدارحملے میں زخمی مزید دو طالبات دم توڑ گئیں

    خضدارحملے میں زخمی مزید دو طالبات دم توڑ گئیں

    بلوچستان کے ضلع خضدار میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگردوں کی اسکول بس پر سفاکانہ فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے طلباء و طالبات کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 14 سالہ شیما ابراہیم اور 15 سالہ مسکان، جو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کی گئی تھیں، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں حملے میں شہید ہونے والوں میں 7 طالبات اور ایک طالب علم شامل ہے۔

    ایک روز قبل حیدر نامی طالب علم جو شدید زخمی تھا، دورانِ علاج چل بسا تھا اسی طرح شدید زخمی ہونے والی طالبہ ملائکہ بھی بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئی اور اس نے اسی روز اسپتال میں جام شہادت نوش کرلیا۔

    دیگر شہدا میں چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر، آٹھویں جماعت کی سحر سلیم اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شامل ہیں، حملے میں متعدد بچے بھی زخمی ہیں جو اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بے امنی پھیلانے کے لیے بھارت اپنی پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے ان معصوم بچوں کے خون کا حساب فتنۃ الہندوستان اور ان کے بھارتی آقاؤں سے لیا جائے گا۔

  • سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وکیل کے مبینہ اغوا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سابق نگراں وزیراعظم و سینیٹر انوارالحق کاکڑ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ 18 مئی کی رات بلوچستان بار کونسل کے جنرل سیکرٹری عطا اللہ بلوچ کو اغوا کر لیا گیا، اور اس واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے، اور اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف اس پیشے کی توہین ہوتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

    اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کامران مرتضیٰ پر شدید تنقید کی اور کہا، ’’آپ خود ہی جج بن کر فیصلہ سنا رہے ہیں کہ اغوا میں سیکیورٹی فورسز ملوث ہیں، میں اس الزام کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔اس پر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا، ’’کیا آپ یہاں سیکیورٹی فورسز کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ جس پر انوارالحق کاکڑ نے جواب دیا، ’’جی ہاں، میں نمائندگی کرتا ہوں۔

    دونوں سینیٹرز کے درمیان گرما گرم جملوں کا تبادلہ اتنا شدید ہو گیا کہ دیگر ارکان کو مداخلت کرکے دونوں کو بٹھانا پڑا۔ ڈپٹی چیئرمین نے مداخلت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ارکان صرف چیئر کو مخاطب کر کے بات کریں۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا، ’’کسی پر بغیر ثبوت الزام لگانا مناسب نہیں، ہماری سیکیورٹی فورسز اس وقت ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ دے رہی ہیں۔ تنقید حق ہے، لیکن ذمہ داری کے ساتھ۔‘‘

    آخر میں ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر نے "سیکیورٹی فورسز” کے ذکر کو ایوان کی کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت جاری کی۔

    چین کی پاک بھارت کشیدگی پر تشویش، تحمل کا مشورہ

    روس کا یوکرین پر سب سے بڑا ڈرون حملہ، متعدد مکانات تباہ، خاتون ہلاک

    بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشت گرد ہلاک

  • بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دو مختلف خفیہ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ کارروائیاں 17 اور 18 مئی کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کا مقصد ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا خاتمہ تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ضلع کیچ کے شہر تربت میں کی گئی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں دہشت گرد گروہ کا سرغنہ صبراللہ اور اس کا ساتھی امجد عرف بچو شامل ہیں۔ ان دونوں دہشت گردوں کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ سے تھا۔

    دوسری کارروائی ضلع آواران کے علاقے گِشکور میں عمل میں لائی گئی، جہاں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد یونس مارا گیا، جبکہ دو دیگر دہشت گرد زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    کم عمری کی شادی کو جرم قرار دینے سے متعلق سینیٹ میں پیش کیا گیا بل منظور

  • بلوچستان ،قلعہ عبداللہ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بلوچستان ،قلعہ عبداللہ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان بازار میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    لیویز ذرائع کے مطابق دھماکا جبار مارکیٹ کے قریب ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد دکانیں منہدم ہو گئیں جبکہ کچھ دکانوں میں آگ لگ گئی۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ ریاض خان کے مطابق، دھماکے کے فوراً بعد مسلح افراد اور ایف سی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
    انہوں نے بتایا کہ ایف سی قلعہ کی عقبی دیوار سے متصل مارکیٹ میں دھماکا ہوا۔ریسکیو اور سیکیورٹی اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ کر دی گئی ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے دھماکے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    بھارت نے پانی روکا تو ردعمل دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کے خلاف کامیابی نواز شریف کی ہدایت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے: ایاز صادق

    پی ایس ایل 10: بارش کے باعث لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کا میچ 13 اوورز تک محدود

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 214 گھنٹوں میں شہداء کی تعداد 125 ہوگئی

    افغان ٹرانزٹ پر ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد

  • بلوچستان کے علاقے مچھ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، سات جوان شہید

    بلوچستان کے علاقے مچھ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، سات جوان شہید

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بی ایل اے کا حملہ، ریموٹ کنٹرول بم حملے میں پاک فوج کے 7 جوان شہید-

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شہداء میں 42 سالہ صوبیدار عمر فاروق (کراچی)، 28 سالہ نائیک آصف خان (کرک) اور 28 سالہ نائیک مشکور علی (اورکزئی) شامل ہیں شہداء میں 26 سالہ سپاہی طارق نواز (لکی مروت)، 28 سالہ سپاہی واجد احمد فیض (باغ)، 22 سالہ سپاہی محمد عاصم (کرک) اور 28 سالہ سپاہی محمد کاشف خان (کوہاٹ) شامل ہیں بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے ناپاک عزائم کو انشاءاللہ پاکستان کی بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور غیور قوم شکست دے گی-

  • قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، شاہد خاقان

    قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، شاہد خاقان

    کوئٹہ: سابق وزیراعظم اور سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے جب تک سیاسی انتشار کو ختم اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا۔

    کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بلوچستان 10، 15 سالوں سے سانحات کا شکار ہے، آج بلوچستان کی شاہراہیں محفوظ نہیں، بلوچستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوان مایوس ہو رہےہیں، سوچنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں یہ معاملات کیوں ہیں؟

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی انتشار کو ختم نہیں کیا جائےگا معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ملک کے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، آئین میں رہ کر وسائل کی تقسیم کرنی ہے اور معاملات کو چلانا ہے، اس سے باہر جائیں گے تو معاملات خراب ہوں گے۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    انہوں نے کہا یہ ممکن نہیں کہ پاکستان امیر ہو اور بلوچستان غریب رہ جائے، بلوچستان کو پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان کے وسائل جب تک یہاں کے نوجوانوں کو نہیں ملیں گے، امن نہیں آئے گا دہشت گردی کا مقابلہ ہم پر لازم ہے لیکن یہ معاملات کیوں پیدا ہو رہےہیں اس کی جڑ تک جاناہوگا-

    بھارتی گیدڑبھپکیوں پر خاموشی،مشی خان پاکستانی اداکاروں پر پھٹ پڑیں

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں لوگ اغوا ہو رہےہوں، قتل ہو رہےہوں اورملک کے معاملات درست چل رہے ہوں، عوام کو حقیقی نمائندگی اور وسائل دینے سے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے یہ ہمارا رسمی دورہ نہیں، آج پاکستان کی ضرورت ہے کہ لوگ جانیں کہ بلوچستان کےلوگ کیاسوچ رہےہیں۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

  • وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کو ہمیشہ ترجیح دی ہے،سرفراز بگٹی

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کو ہمیشہ ترجیح دی ہے،سرفراز بگٹی

    اسلام آباد: وزیراعلٰی سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی رقم بلوچستان کی ترقی پر خرچ کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گذار ہیں۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کو ہمیشہ ترجیح دی ہے، اور اب پیٹرولیم سے ہونے والی بچت بھی بلوچستان کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔

    سرفراز بگٹی نے آر سی ڈی شاہراہ اور موٹروے N-25 کے منصوبوں کو بلوچستان کے لیے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبو ں سے عوام کو براہ راست فائدہ ہوگا کچھی کینال بلوچستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو اب مکمل ہونے کے قریب ہے، اور اس سے صوبے میں زرعی انقلاب آئے گا۔

    وزیرعلٰی بلوچستان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کے تحت بلوچستان میں روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، اور ہر مسئلے کا حل صرف پارلیمنٹ اور سیاست کے اندر ہے بلوچستان میں استحکام آئے گا تو پاکستان ترقی کرے گا بلوچستان اور پاکستان کے کئی دشمن ہیں جو ترقی ہضم نہیں کر پا رہے۔

    وفاقی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب بھی بلوچستان کی ترقی پر توجہ دی، اور اب بھی وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر صوبے کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں وفاق کی جا نب سے بلوچستان کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اہم سنگ میل ہیں، جن کا مقصد ملک میں یکساں ترقی کو یقینی بنانا ہے۔

    وفاقی وزیر خالد مگسی نے کچھی کینال منصوبے کو بلوچستان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے چھ سے سا ت لاکھ ایکڑ زمین کو پانی دستیاب ہوگاانہوں نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو ایک وژنری رہنما قرار دیا اور بتایا کہ صوبے میں شمسی توانا ئی کے منصوبے بھی جاری ہیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے، ریاست آئین کے تحت چلتی ہے اور اہم قومی معا ملا ت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جلد امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ،2 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ،2 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ہلاک ہونے والے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے خلاف علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں فعال طور پر ملوث رہے۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، قوم کے شانہ بشانہ، بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    کراچی شہر سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، آفاق احمد

    مشاورت کے بغیر بنے بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

    بجلی کی قیمت مزید 6 روپے کم کروا لیں گے،فاروق ستار

    میکسیکو کے سیوریج سسٹم نے امریکہ کو پریشان کر دیا

    رضوان کی کپتانی اور ٹیم سلیکشن پر سوالات اٹھ گئے