Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان میں بدامنی کے اثرات پورے معاشرے پر پڑ رہے ہیں، صدر سپریم کورٹ بار

    بلوچستان میں بدامنی کے اثرات پورے معاشرے پر پڑ رہے ہیں، صدر سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار کے صدر میاں رؤف عطا نےکہاہےکہ،گزشتہ روز بلوچستان میں ہونے والا حملہ ایک انتہائی دردناک واقعہ تھا جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

    سپریم کورٹ بار کے صدر میاں رؤف عطا نے سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے،گزشتہ روز بلوچستان میں ہونے والا حملہ ایک انتہائی دردناک واقعہ تھا جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

    میاں رؤف عطا نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کے اثرات پورے معاشرے پر پڑ رہے ہیں، کاروبار شدید متاثر ہے، زمینی راستے تقریباً بند ہوچکے ہیں جبکہ فضائی سفر اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ ایک ٹکٹ 70 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے،انہوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اس صورتحال پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

    چینی فوج کی تاریخی پریڈ، وزیراعظم شہباز شریف کےسوشل میڈیا پر چر چے

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کرپشن اور مس مینجمنٹ عروج پر ہے، جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں،تربت میں فورسز کے 5 اہلکاروں کی ہلاکت بھی ہمارا ہی نقصان ہے، وزیر داخلہ بلوچستان میں کیمپ آفس قائم کریں اور براہِ راست عوام سے ملاقات کریں تاکہ عوامی مسائل بہتر انداز میں حل کیے جا سکیں،بدامنی کے باعث بلوچستان کا ہر بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہورہا ہے، ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا اور امن و امان پر توجہ دینا ہوگی، بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ مفاہمت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

    میاں رؤف عطا نے کہا کہ ہم مطالبہ کریں گے کہ صوبے میں گڈ گورننس لائی جائے اور سنجیدہ و تجربہ کار لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں، آئین پاکستان انصاف کی فراہمی دہلیز تک پہنچانے کا تقاضا کرتا ہے، اس حوالے سے چیف جسٹس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، انصاف کی عمارت کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہونا چاہیے، پنجاب سی سی ڈی کے انکاؤنٹرز کو ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائیاں خلافِ قانون ہیں، پنجاب کی اعلیٰ عدلیہ کیسز کا ٹرائل سات سے پندرہ دن کے اندر مکمل کرے تاکہ لوگوں کو جلد انصاف مل سکے۔

    بھارت کاایک بار پھر رابطہ،پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کر دیا

    میاں رؤف عطا نے سپریم کورٹ عمارت میں وکلا پر حالیہ پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہےان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی عدالتوں میں لوگوں کو آزادانہ داخلے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ میں پابندیاں لگائی جا رہی ہیں جو ایک نامناسب عمل ہے،دنیا میں عدالتوں میں جانے والوں کو تحفظ اور اعتماد کا احساس دلایا جاتا ہے جبکہ یہاں اندر جاتے ہی تلاشی اور خوف دیا جاتا ہے، جو اچھی صورتحال نہیں ہے، انصاف کے دروازے سب کے لیے کھلے ہونے چاہئیں اور سپریم کورٹ میں لگائی جانے والی پابندیاں انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہیں-

    شادی کا جھانسہ دیکر میٹرک کی طالبہ سے مبینہ جنسی زیادتی ، پرنسپل گرفتار

  • بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم

    بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم کردیا گیا ہے-

    کوئٹہ میں یورپی یونین کے تعاون سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 200 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ سے پاکستان کے 43 فیصد رقبے کی ترقی مشکل عمل ہے، بلوچستان میں عالمی ڈیولپمنٹ پارٹنرز اور وفاقی حکومت کی معاونت کے بغیر ترقیاتی عمل کا تسلسل ناممکن ہے، بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ قائم کردیا گیا ہے۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ بیڈ گورننس اور کرپشن کے باعث نوجوانوں اور ریاست میں دوری آئی، حکومت سے ناراضگی اور گلے شکوے بجا مگر ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا، میرٹ، بہتر طرز حکمرانی اور ڈائیلاگ سے نوجوانوں کو قریب لایا جاسکتا ہے، نوجوانوں کی ترقی کے لیے یوتھ پالیسی، روزگار اور کاروباری مواقع سمیت متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    انہوں نے بلاسود قرضہ پروگرام کے لیے 16 ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں، عالمی سرمایہ کاری سے وسائل میں اضافے کے بعد نوجوانوں پر مزید سرمایہ کاری کریں گےصوبائی دارالحکومت کوئٹہ پر آبادی کا غیر معمولی دباؤ مسائل کو جنم دے رہا ہے، ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں سہولتیں فراہم کرکے کوئٹہ پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی کشادگی کے لیے زمینوں کی مہنگے داموں خرید کے دھندے اب مزید نہیں چلیں گے، کوشش ہے کہ بلوچستان کے عوام کو بہتر اور معیاری زندگی فراہم کریں، گڈ گورننس کے قیام کے لیے کوشاں ہیں، گزشتہ مالی سال کے غیر ترقیاتی بجٹ سے 14 ارب روپے کی بچت کی گئی، نوجوان ہماری حکومت کی توجہ کا مرکز ہیں، بہتر طرز حکمرانی سے اعتماد بحال کریں گے۔

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

  • بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تربت کا دورہ کیا ،تربت آمد پر کور کمانڈر بلوچستان نے ان کا استقبال کیا وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھےجنرل عاصم منیر نے جوانوں کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور خطے میں قیام امن کیلئے فوجی جوانوں کے کردار کی تعریف کی، دورے کا مقصد سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا تھا، فیلڈ مارشل کو فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشن پر بریفنگ دی گئی فیلڈ مارشل نے تربت میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا،کہاکہ،پاک فوج بلوچ عوام کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں۔

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    وزیراعلیٰ بلوچستان اور سول انتظامیہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اچھی حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی ضرورت پر زور دیا،انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سول و ملٹری اداروں کی مشترکہ کاوشیں نہایت اہم ہیں۔ آرمی چیف نے جنوبی بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کے عزم کو دہرایا۔

    سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ بڑھا دی گئی

  • بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    کوئٹہ:حکومت بلوچستان نے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ روانہ کردی ہے-

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند اور ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے امدادی سامان کی روانگی کی تصدیق کی ہےبلوچستان حکومت کی جانب سے 1500 گلگت بلتستان اور 1000 خیبر پختونخوا کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی سامان بھیجا گیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر یہ سامان فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا تاکہ متاثرین کی ضروریات پوری کی جا سکیں،امدادی سامان میں نان فوڈ آئٹمز جیسے خیمے، کمبل، پانی کی بوتلیں، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔

    شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت مشکل کی اس گھڑی میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کرنا بلوچستان حکومت کی انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا عملی اظہار ہے، امدادی سامان متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا ہے۔

    جہانزیب خان نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے متاثرین کے لیے معیاری اور جانچ شدہ ریلیف سامان بھیجا ہے تاکہ اس کی افادیت اور معیار یقینی بنایا جا سکے،انہوں نے کہا کہ امدادی کھیپ میں شامل اشیاء متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کے مطابق منتخب کی گئی ہیں۔

    ادھربارشوں اور فلش فلڈ سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق مختلف حادثات میں 323 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اس کے علاوہ 156افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے مطابق جاں بحق افراد میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں،زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں،بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 336 گھر وں کو نقصان پہنچا،230گھروں کو جزوی اور 106 گھر مکمل منہدم ہوئے،ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 209 افراد جاں بحق ہوئے۔

    حادثات سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے،آج سے 19اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، متاثرہ اضلاع کو 89 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کی فراہمی مکمل ہوچکی ہے ،متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو اب تک امدادی فنڈ کی مد میں 800 ملین روپے جاری ہوئے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کی انتظامیہ کو بھی 500 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کئے گئے ہیں،متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے،موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کیلئےفری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • بلوچستان بھر میں  دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع

    بلوچستان بھر میں دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع

    بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر عائد کی گئی دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع کردی گئی۔

    بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، موٹرسائیکل چلاتے ہوئے چہرہ چھپانے پر بھی پابندی ہوگی،صوبے بھر میں ہر قسم کے اجتماعات، 5 سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی، پابندی کا اطلاق 31 اگست تک ہوگا،حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع کی ہے، جو 16 سے 31 اگست تک نافذالعمل رہے گی۔

    واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے یکم تا 15 اگست تک بھی صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا تھا13 اگست کو حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں رات کے وقت پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

  • بلوچستان: اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان

    بلوچستان: اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان

    بلوچستان حکومت نے زیارت کے علاقے زیزری سے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور ان کے بیٹے کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) زیارت ذکاءاللہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 10 اگست کو دہشت گردوں نے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو زیزری کے مقام سے اغوا کیا تھااس واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے، عوام، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اغوا کاروں سے متعلق مصدقہ معلومات فراہم کریں۔

    حکومت بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کو نقد 5 کروڑ روپے انعام دیا جائے گا، اور ان کا نام مکمل صیغہ راز میں رکھا جائے گا تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے، افسوسناک واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، حکومتی ادارے مغوی اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

    کندھ کوٹ: یومِ آزادی پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی پروقار تقریب

    وزیراعظم کی گلگت میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت

    پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کو ساڑھے 3 کروڑ جرمانہ

  • بلوچستان میں پسند کی شادی کرنیوالاایک اور جوڑا قتل

    بلوچستان میں پسند کی شادی کرنیوالاایک اور جوڑا قتل

    بلوچستان مستونگ کے علاقے لکپاس میں ایک حاملہ خاتون اور اُس کے شوہر کو ان کے اپنے ہی عزیزوں نے بے دردی سے قتل کر دیا۔

    قتل ہونے والی خاتون بینظیر کوئٹہ سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ ان کے شوہر شعیب کا تعلق پنجگور کے علاقے چتکان سے تھا دونوں نے سات برس قبل اپنی مرضی سے کورٹ میرج کی تھی شادی خاندان کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی، مگر پھر کچھ عرصہ پہلے خاندان والوں نے بظاہر صلح کا ہاتھ بڑھایا۔

    شعیب اور بینظیر کے چھ اور تین سالہ دو معصوم بچے ہیں، اور بینظیر اس وقت حاملہ بھی تھیں،صلح کے جھانسے میں آکر شعیب اپنی بیوی اور بھائی کے ساتھ کوئٹہ روانہ ہوا،رات کے اندھیرے میں، جب یہ جوڑا مستونگ کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھا، بینظیر کے بھائیوں نے ٹیلی فون پر ان کی لوکیشن حاصل کی، ملزمان ہوٹل پہنچے اور وہاں، گولیوں سےقتل،کردیا-

    پولیس ذرائع کے مطابق، ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہو چکے ہیں جبکہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے،ایس ایچ او لیویز پیر جان کا کہنا ہے کہ ’دونوں کے دو بچے بھی ہیں جنہیں وہ اپنے ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ انہیں وہ پنجگور میں شعیب کے بھائی کے گھر پر چھوڑ آئے تھے‘۔

    گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران بلوچستان میں رپورٹ ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کوئٹہ شہر میں قمبرانی روڈ کے علاقے میں ایک شخص عبدالطیف نے اپنی بیٹی اور بھانجے کو غیرت کے نام پر ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس سے قبل ضلع کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں ایک خاتون اور مرد کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

  • بلوچستان:مقتولہ  بانو کے والد بھی گرفتار، جیل منتقل

    بلوچستان:مقتولہ بانو کے والد بھی گرفتار، جیل منتقل

    ڈیگاری کے علاقے میں غیرت کے نام پر مرد اور خاتون کے بہیمانہ قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مقتولہ کے والد گل جان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں گرفتار قبائلی شخصیت سردار شیر باز ساتکزئی اور بشیر احمد اس وقت 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں، دونوں ملزمان سے تفتیش جاری ہے،اس واقعے میں مقتولہ بی بی بانو کے والد گل جان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جس کے بعد اب انہیں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقتولہ کی والدہ کو بھی سوشل میڈیا پر قتل کو جائز قرار دینے اور قبائلی سردار کو رہا کرنے کا بیان شیئر کرنے پر پولیس نے گرفتار کیا تھا، پولیس کی جانب سے مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہےانسانی حقوق کے کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین نے اس افسوس ناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہےپولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا-

    اسحاق ڈار سےترک وزیر خارجہ کارابطہ، غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی : غیرت کے نام پر قتل خاتون کی پولیس سکیورٹی میں قبر کشائی

  • بلوچستان میں دہرا قتل:مقتولہ بانو بی بی کی والدہ جیل منتقل

    بلوچستان میں دہرا قتل:مقتولہ بانو بی بی کی والدہ جیل منتقل

    بلوچستان میں دہرے قتل کے واقعے میں سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان شیئر کرنے پر مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ڈی این اے سیمپلنگ کا یہ عمل سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر کیا گیابعدازاں، بانو بی بی کی والدہ کو دو روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے گل جان بی بی کو جیل بھیج دیا۔

    ڈیگاری میں قتل کی گئی بانو بی بی کی والدہ کو 2 دن کا پولیس ریمانڈ ختم ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک میں پیش کیا گیا،عدالت نے بانو بی بی کی والدہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    کچھ روز قبل مقتولہ بانو بی بی کی والدہ نے ویڈیو پیغام میں بانو بی بی کے قتل کو ’جائز‘ قرار دیتے ہوئے گرفتار مرکزی ملزم سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر کو بےگناہ قرار دیا تھا،سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان شیئر کرنے پر پولیس نے مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو حراست میں لے لیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت ون میں پیش کیا گیا تھا،پولیس نے عدالت سے بانو بی بی کی والدہ کے 2 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بانو بی بی کی والدہ کو 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے تصدیق کی ہے کہ گل جان بی بی سے بال، خون اور حلق سے لعاب کے نمونے لیے گئے، جنہیں بعد ازاں سیل کر کے سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔ ان نمونوں کو اب ڈی این اے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 4 جون 2025 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں دہرے قتل کا واقع پیش آیا تھا جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ کچھ مسلح افراد ایک مرد اور خاتون کو بے رحمانہ انداز سے گولیاں مار کر قتل کر دیتے ہیں۔وائرل ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بظاہر ان پر پسند کی شادی کرنے کا الزام تھا۔

    تاہم، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے میں قتل ہونے والے افراد کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی ہیں۔

  • بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں  قتل کیے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں قتل کیے جانے کا انکشاف

    کوئٹہ:بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں مرد اور خواتین کو قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کےمطابق بلوچستان میں گزشتہ 6 برس کےدوران غیرت کےنام پر 232 افراد قتل کیے گئےغیرت کے نام پر قتل کی تفصیلات میں تنظیم کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نصیرآباد میں 73،جعفرآبادمیں 23مردوخواتین غیرت کے نام پر قتل کیے گئےعلاوہ ازیں مستونگ 18،ضلع کچھی میں 17افراد سیاہ کاری کی بھینٹ چڑھے جھل مگسی میں 18اور کوئٹہ میں 11مرد وخواتین کاروکاری کی نذر ہوئے جب کہ 2019 میں 52، 2020میں 51افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔

    وفاقی حکومت کی مہربانی سے سندھ میں بجلی نہیں ہے،شرجیل میمن

    اسی طرح سال 2021میں 24،22میں 28افراد،2023میں 24افراد غیر ت کے نام پر قتل کیے گئے ۔ سال 2024میں 33افرادکو سیاہ کاری کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا گیا،رواں سال اب تک 33افراد غیرت کے نام قتل ہوئے جن میں 19خواتین اور 14مرد شامل ہیں ۔

    وزیراعظم کی ایف بی آر میں جدید اور عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری