Baaghi TV

Tag: بنگلہ دیش

  • حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نےبرطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کر دی۔

    بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق حسینہ نے لندن میں سیاسی پناہ مانگی ہے، اطلاعات کے مطابق بھارت نے حسینہ واجد کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا،وہ گزشتہ روز بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پہنچی تھیں، بھارت میں اجیت دوول نے حسینہ واجد سے ملاقات کی تھی،حسینہ واجد کو خفیہ مقام پر بھارت میں رکھا گیا ہے، حسینہ واجد کی سیکورٹی بھی سخت کی گئی ہے،حسینہ واجد دہلی میں ہیں، اجیت دوول سے ملاقات کے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم مودی کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا،حسینہ واجد کو لندن میں سیاسی پناہ کی اجازت مل گئی تو وہ بھارت سے لندن یا پھر فن لینڈ جائیں گی،حسینہ سے نئی دہلی میں اپنی بیٹی صائمہ واجد سے ملاقات کا بھی امکان ہے، حسینہ واجد کا بیٹا امریکا میں ہے،

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد جب بنگلہ دیش سے فرار ہوئیں اس وقت مظاہرین حسینہ واجد کے گھر میں گھس چکے تھے، مظاہرین نے حسینہ واجد کے گھر میں موجود سامان کو مال غنیمت سمجھ کر اٹھایا جس کے ہاتھ میں جو آیا ساتھ لے کر گیا، شہریوں کی تصویریں بھی وائرل ہوئی ہیں جس میں شہریوں کے ہاتھوں میں مختلف سامان نظر آیا ہے، کوئی بکرا، کوئی بطخ، کوئی صوفہ سیٹ، کوئی قرآن مجید، حتیٰ کی حسینہ واجد کی ساڑھیاں بھی مظاہرین لے اڑے.

    حسینہ واجد کے مستعفی ہونے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے، بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوری 2024 کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے،

    حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد مظاہرین نے جیسور میں عوامی لیگ کے ضلعی سیکرٹری جنرل شاہین چکلا دار کے ہوٹل کو بھی آگ لگا دی

    بنگلہ دیشن میں عبوری حکومت بنانی ہے تو اس کا خاکہ ہم دیں گے،طلبا رہنما
    بنگلہ دیش کے طالب علم رہنماؤں نے کہا ہے کہ فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول نہیں، ملک میں عبوری حکومت بنانی ہے تو اس کا خاکہ ہم دیں گے،بنگلہ دیش کے طلباء رہنماؤں ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکر مازوم دار نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عبوری حکومت کا خاکہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں جاری کردیا جائے گا جو کہ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے زیر قیادت ، طلبہ پہلے ہی ڈاکٹر یونس سے بات کرچکے ہیں اور انہوں نے عبوری حکومت میں کردار پر آمادگی ظاہر کردی ہے، دیگر آج دیے جائیں گے،عبوری قومی حکومت میں سول سوسائٹی سمیت سب کی نمائندگی یقینی ہوگی۔دوسری جانب ڈاکٹر محمد یونس کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ شیخ حسینہ واجد نے شیخ مجیب الرحمان کی میراث تباہ کردی تھی، بنگلہ دیش اب آزاد ہوگیا ہے

    بنگلہ دیش کی فوج نے آج سے ملک میں کرفیو اٹھانے اور تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے،بنگلہ دیش میں آج صبح اسکول کھل گئے ہیں تاہم کلاس رومز خالی ہیں،اساتذہ تعلیمی اداروں میں پہنچ گئے لیکن طلبا نہیں پہنچے،

    بنگلہ دیشی عوام اقوام متحدہ کے زیرِ قیادت مکمل اور آزاد تحقیقات کے مستحق ہیں،برطانیہ
    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بنگلہ دیش کے حالات کا اقوام متحدہ کے تحت تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے،برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی عوام اقوام متحدہ کے زیرِ قیادت مکمل اور آزاد تحقیقات کے مستحق ہیں، برطانیہ بنگلہ دیش کا پُرامن اور جمہوری مستقبل یقینی بنانے کیلئے اقدامات دیکھنا چاہتا ہے بنگلہ دیش میں تمام فریقین امن کی بحالی کیلئے، تشدد اور مزید ہلاکتیں روکنے میں تعاون کریں۔

    بنگلہ دیشی آرمی چیف کا چین کی جانب جھکاؤ ہے، حسینہ کو ایک برس قبل بتایا گیا تھا
    دوسری جانب بھارتی اخبار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حسینہ واجد کو اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ بنگلہ دیشی آرمی چیف کا چین کی جانب جھکاؤ ہے، بھارتی نیشنل سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے جون 2023ء میں حسینہ واجد کو آگاہ کیا تھا،بنگلہ ددیشی آرمی چیف نے مظاہرین کو روکنے کے بجائے وزیراعظم کو الٹی میٹم دیا، خالدہ ضیاء کی رہائی سے واضح ہے کہ اسلام پسند سیاست میں آگے آئیں گے۔

    حسینہ واجد سروسز چیف پر برسیں،سروسز چیفس نے "حسینہ” کو کیا کہا تھا؟
    حسینہ واجد بنگلہ دیش سے کیسے فرار ہوئیں اور آخری وقت میں کیا کرنا چاہتی تھیں بنگلہ دیش کے اخبار نے تفصیلات لکھی ہیں،بنگلہ دیش کے اخبار پروتم آلو کے مطابق حسینہ واجد مظاہرین کی خلاف طاقت کا استعمال کرنا چاہتی تھی اور انہوں نے پیر سے کرفیو اس وقت کرنے کے احکامات دیے تھے لیکن 9 بجے کے قریب مظاہرین نے کرفیو توڑنا شروع کر دیا اس پر حسینہ واجد نے تین سروسز چیف اور پولیس کے انسپیکٹر جنرل کو وزیراعظم ہاؤس میں طلب کیا،اجلاس کے دوران حسینہ واجد سروسز چیف پر برس پڑیں اور کہا کہ مظاہرین کے خلاف خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے ، بکتر بند گاڑیوں پر چڑھنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی،اس دوران سروسز چیف اور آئی جی نے حسینہ واجد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں،اجلاس کے دوران حسینہ کا اپنے بیٹے سے بھی رابطہ ہوا اور انہوں نے والدہ کو سمجھایا،حسینہ واجد اقتدار فوج کے حوالے کرنے کو تیار نہیں تھی اور انہوں نے سروس سروسز چیف کو یاد دلایا کہ ان کی تقریریں انہوں نے ہی کی ہیں تاہم خاندان سے صلاح و مشورے کے بعد حسینہ واجد استعفی دینے کو تیار ہو گئیں
    ،اقتدار چھوڑنے سے پہلے وہ ایک تقریر ریکارڈ کرانا چاہتی تھیں لیکن حسینہ کو آگا کیا گیا کہ مظاہرین وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھ رہے ہیں اور انہیں وہاں پہنچنے میں 45 منٹ سے زیادہ نہیں لگیں گے اگر مظاہرین پہنچ گئے تو حسینہ واجد کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے قریبی افسران بھی بھارت جانے کےلیے بیتاب
    حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں ان سرکاری افسروں کی شامت آگئی ہے جو عوامی لیگ کے 15 سالہ اقتدار کے دوران حسینہ واجد کے قریب رہ کر مزے کرتے رہے، بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کے شہری ایسے افسران کو تلاش کر رہے ہیں جو حسینہ واجد کے قریبی تھے،وہ افسران اپنی شناخت چھپا رہے ہیں اور کئی افسران نے حسینہ واجد کی طرح فی الفور بھارت جانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ نہیں جا سکتے کیونکہ بھارت نے سرحد بند کر دی ہے،کئی سرکاری افسران نے ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے استدعا کی ہے کہ پاسپورٹ یا ویزا نہ ہونے کی صورت میں بھی انہیں بھارت میں داخل ہونے دیا جائے کیونکہ اگر وہ اپنے ملک میں کسی ٹولے کے ہتھے چڑھ گئے تو زندہ نہیں بچیں گے،بنگلہ دیش کے اندر ڈھاکہ ایئر پورٹ بند ہے، پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، ریلوے بھی بند ہے،

    نیویارک میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے سے شیخ مجیب کی تصاویر مظاہرین نے ہٹا دیں
    شیخ حسینہ واجد کے خلاف بنگلہ دیش سے شروع ہونے والے مظاہرے امریکہ پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے حامیوں نے نیویارک میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین نے عمارت سے شیخ مجیب الرحمان کی تصاویر ہٹا دیں۔ قونصل خانے کا عملہ مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہا۔

    بنگلہ دیش کے سابق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملک سے فرار کی ناکام کوشش ،گرفتار کر لیا گیا
    ڈھاکا:بنگلہ دیش کے سابق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملک سے فرار کی ناکام کوشش ہو گئی ہے،سابق وزیر کو ڈھاکا ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا،محمد حسن محمود کو بنگلہ دیش کی فوج نے پرواز میں ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ، وہ دوسرے ہائی پروفائل وزیر ہیں جنہیں آج گرفتار کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش پولیس کے ایک متنازعہ ڈی آئی جی کو بھی آج پہلے فوج نے حراست میں لے لیا تھا۔

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا 

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

  • بنگلہ دیش،طلبا کی سول نافرمانی تحریک،100 ہلاکتیں،ہزاروں گرفتار

    بنگلہ دیش،طلبا کی سول نافرمانی تحریک،100 ہلاکتیں،ہزاروں گرفتار

    بنگلہ دیش میں کوٹی سسٹم مخالف طلبا کی جانب سے سول نافرمانی تحریک کے اعلان کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے والے طلبا نے بنگلہ وزیراعظم حسینہ واجد سے مستعفی‌ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور سخت ترین کرفیو ہونے کے باوجود ڈھاکہ کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے،طلباکے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ڈاکٹرز اور پولیس نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے،پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں پولیس نے آنسو گیس اور دیگر ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، حکام نے کرفیو والے علاقوں میں انٹرنیٹ بھی بند کردیا ہے اور ایک ہفتے میں کم ازکم 11 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے

    اتوار کے روز دارالحکومت ڈھاکا اور شمالی اضلاع میں ہلاکتیں ہوئیں جب کہ پولیس حکام کا بتانا ہےکہ مظاہرین نے سراج گنج کے علاقے میں پولیس پر بھی حملہ کیا کوٹہ سسٹم کے خلاف جولائی سے شروع ہونے والے احتجاج میں پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

    ملکی صورتحال پر بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ جو لوگ احتجاج کے نام پر یہ سب تباہی کررہے ہیں وہ طالب علم نہیں جرائم پیشہ افراد ہیں، عوام کو ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے ،

    بھارت کا پڑوسی ملک شیخ حسینہ حکومت کے استعفے کے مطالبے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ جب حکمران عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں استحکام بحال کرنے کے لیے مظاہرین کو دبانے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس میں ایک کے بعد ایک ہلاکتیں ہوئیں۔ بنگلہ دیش میں آخری اطلاعات تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں 14 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اتوار کو مرنے والوں کی تعداد 98 سے بڑھ کر پیر کی صبح 100 سے زیادہ ہو گئی۔ کئی زخمی بھی ہوئے۔

    مظاہروں کو روکنے کے لیے پیر سے بدھ تک ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ عوامی حکومت نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے عوام کے تحفظ کے لیے ہے۔طلبہ کی اس تحریک کو ’’مارچ ٹو ڈھاکہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان کا واحد مطالبہ شیخ حسینہ حکومت کا استعفیٰ ہے۔اتفاق سے بنگلہ دیش یونیورسٹی ٹیچرز یونین بھی شیخ حسینہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرے گی۔ یونیورسٹی ٹیچرز یونین کا مطالبہ ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت مستعفی ہو کر ذمہ داری داخلی حکومت کو سونپے۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش میں امن وامان کی ابتر صورتحال کے حوالے سے بنگلادیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف کا کہنا ہے کہ بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستانی شہریوں کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے، اپنے شہریوں خصوصاً زیر تعلیم طلبہ سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہائی کمیشن کے حکام بنگلا دیش کی انتظامیہ سے بھی رابطے میں ہیں، بدلتی صورتحال سے طلبہ و طالبات کو بھی مسلسل آگاہ رکھا جارہا ہے، صورتحال خراب ہونا شروع ہوئی تو طلبا کو فوری ہائی کمیشن پہنچنےکا کہا ہےجو طلبہ ہائی کمیشن نہیں پہنچ سکے ان کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ ہے، پاکستانی طلبہ سے کہا ہےکہ اپنے کمروں تک محدود رہیں، پاکستانی طلبہ موجودہ صورتحال سے اپنے آپ کو الگ رکھیں بنگلہ دیش میں زیر تعلیم 144 طلبہ میں سے ایک تہائی پہلے ہی وطن واپس پہنچ چکے ہیں،

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • بنگلہ دیش،طلبا کا احتجاج رنگ لایا،حسینہ نے گھٹنے ٹیک دیئے

    بنگلہ دیش،طلبا کا احتجاج رنگ لایا،حسینہ نے گھٹنے ٹیک دیئے

    بنگلہ دیش، طلبا کا احتجاج رنگ لے آیا، حسینہ واجد نے گھٹنے ٹیک دیئے

    بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کر لیا اور سرکاری ملازمتوں میں 93 فیصد اوپن میرٹ کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کا اعلان کر دیا،بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں کے کوٹے کو 7 فیصد تک محدود کردیا ہے

    بنگلہ دیش کی حکومت نے انٹرنیٹ سروسز آج رات سے بحال کرنے، بدھ کو کرفیو میں صبح 10 سے شام 5 بجے تک نرمی کرنے اور دفاتر صبح 11 سے 3 بجے تک کھولنے کا بھی اعلان کردیا،

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سے بنگلہ دیش میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 174 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی اور ڈھائی ہزار سے زیادہ گرفتاریاں ہوئی ہیں،مرنے والوں میں صحافی بھی شامل ہیں، احتجاج کے دوران مظاہرین نے سرکاری ٹی وی کا دفتر بھی جلا دیا تھا،

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش میں کرفیو،احتجاج، کشیدہ صورتحال، پاکستانی طلبا بھی پھنس گئے، پاکستانی طلبا کے اہلخانہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مدد کی اپیل کی ہے

    بنگلہ دیش میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے پاکستان طلبا کے والدین پریشان ہیں، بنگلہ دیش میں کرفیو نافذ ہے، موبائل، انٹرنیٹ سروس بند ہے، رابطے نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کے اہلخانہ پریشانی میں مبتلا ہیں، طلبا کے والدین نے پاکستانی وزیراعظم سے مدد کی اپیل کی ہے ،وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں‌والدین کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے سارک کوٹہ کے تحت بنگلہ دیش کےکالجوں میں زیر تعلیم ہیں، بنگلہ دیش بالخصوص ڈھاکا اور ملحقہ شہروں میں کرفیو نافذ ہے، بنگلہ دیشی حکومت نے تمام طلباء کو ہاسٹلز سے نکال دیا ہے، ہمارے بچے بنگلا دیش میں ہاسٹلز کے احاطے میں محصور ہیں ،پاکستانی طلبہ کی محفوظ اور جلد از جلد واپسی کو یقینی بنایا جائے، پاکستانی طلبہ کے لیےکھانے پینےکی اشیاء کا بندوبست کیا جائے، طلبہ سے رابطہ نہ ہونا اہلخانہ کے لیے افسوسناک اور تشویشناک ہے، طلبہ سے رابطہ یقینی بنایا جائے۔

    دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ بنگلہ دیش میں تمام پاکستانی طلبہ محفوظ ہیں،ڈھاکا میں ہمارا مشن تمام طلبہ سے رابطے میں ہے، ہمارے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے چٹاگانگ کا دورہ کرکے طلبہ سے ملاقات کی ہے، ہائی کمیشن نے طلبہ کو محفوظ مقامات پر جگہ دی ہے، محفوظ مقامات میں سفیر کی رہائش گاہ اور کچھ دیگر مقامات شامل ہیں

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کےکوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے، احتجاج پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنےکا حکم دے دیا گیا ہے، 5 روز سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 123 ہوگئی ہے

    ہفتے کے روز بنگلہ دیشی شہروں میں فوجی گشت کر رہے تھے تاکہ طلباء کے مظاہروں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی شہری بدامنی کو روکا جا سکے، حکومتی کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی ہے،پولیس اور ہسپتالوں کی طرف سے رپورٹ کیے گئے متاثرین کی اے ایف پی کی گنتی کے مطابق، اس ہفتے کے تشدد میں اب تک کم از کم 123 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور 15 سال کے اقتدار میں رہنے کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے لیے ایک یادگار چیلنج ہے۔

    بنگلہ دیش میں ایک سرکاری کرفیو آدھی رات کو نافذ ہوا اور وزیر اعظم کے دفتر نے اس وقت فوج تعینات کرنے کو کہا جب پولیس مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہی،بنگلہ دیشن کی مسلح افواج کے ترجمان شہادت حسین نے اے ایف پی کو بتایا، "امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو ملک بھر میں تعینات کیا گیا ہے۔”نجی نشریاتی ادارے چینل 24 نے رپورٹ کیا کہ کرفیو اتوار کی صبح 10:00 بجے (0400 GMT) تک نافذ رہے گا۔

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکیں صبح کے وقت تقریباً سنسان ہو چکی تھیں، فوجی دستے پیدل اور بکتر بند گاڑیوں میں وسیع شہر میں گشت کر رہے تھے۔لیکن دن کے آخر میں رام پورہ کے رہائشی محلے میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر لوٹ آئے، پولیس نے ہجوم پر فائرنگ کی اور کم از کم ایک شخص کو زخمی کر دیا۔52 سالہ مظاہرین نذر اسلام نے جائے وقوعہ پر اے ایف پی کو بتایا، "ہماری پیٹھ دیوار کی طرف ہے۔” "ملک میں انارکی چل رہی ہے… وہ لوگوں پر پرندوں کی طرح گولی چلا رہے ہیں۔”

    پولیس کے ترجمان فاروق حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ "لاکھوں افراد” نے جمعے کو دارالحکومت بھر میں پولیس سے لڑائی کی تھی۔ "کم از کم 150 پولیس افسران کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔”مظاہرین نے کئی پولیس بوتھوں کو نذر آتش کر دیا بہت سے سرکاری دفاتر کو نذر آتش کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔”

    ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال کے عملے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز مزید دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ انتہائی نگہداشت میں داخل چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ڈھاکہ کے مضافات میں واقع صنعتی قصبے ساور میں دو اور مظاہرین مارے گئے، جو بنگلہ دیش کی ملبوسات کی برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے۔انعام میڈیکل کالج ہسپتال کے ترجمان زاہد الرحمان نے اے ایف پی کو بعد میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے مزید کہا کہ "نو افراد گولیوں کے زخموں کے ساتھ یہاں آئے”۔

    مظاہروں کو منظم کرنے والے مرکزی گروپ اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمیشن کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے سے اس کے دو رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ نے اتوار کو ایک سفارتی دورے کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن تشدد میں اضافے کی وجہ سے انہوں نے ایک ہفتے کے لئے منصوبہ موخر کر دیا، ان کے پریس سیکرٹری نعیم الاسلام خان نے اے ایف پی کو بتایا، "حسینہ نے موجودہ صورتحال کی وجہ سے اپنے اسپین اور برازیل کے دورے منسوخ کر دیے ہیں۔”

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • شیخ حسینہ کی حکومت بچانے کیلئے بھارتی فوج بنگلہ دیش پہنچ گئی

    شیخ حسینہ کی حکومت بچانے کیلئے بھارتی فوج بنگلہ دیش پہنچ گئی

    بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھارت سے مدد مانگ لی، حسینہ کی حکومت بچانے کیلئے بھارتی فوج بنگلہ دیش پہنچ گئی ہے

    بھارتی فوج کی ایک کمپنی مغربی بنگال سے بنگلہ دیش میں داخل ہوئی ہے، جس کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے، حسینہ حکومت نے احتجاج کو کچلنے کے لیے بھارتی حکومت سے مدد طلب کی تھی۔۔ حسینہ حکومت نے کرفیو نافذ کر کے فوج کو طلب کر رکھا ہے اور احتجاج کو کچلنے کے لیے بھارت سے مدد بھی مانگی ہے۔ خون کی پیاسی ہندوتوا حکومت مسلمانوں کو قتل کرے گی اور حسینہ کو اقتدار میں رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ملک کی بدترین صورتحال کے پیش نظر اتوار اور پیر کو تعطیل کا اعلان کردیا ہے، صرف ہنگامی خدمات کے اداروں کو کام کرنے کی اجازت ہے،بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج اور پرتشدد مظاہروں میں فورسز کو امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کےکوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے، احتجاج پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنےکا حکم دے دیا گیا ہے، 5 روز سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 123 ہوگئی ہے

    ہفتے کے روز بنگلہ دیشی شہروں میں فوجی گشت کر رہے تھے تاکہ طلباء کے مظاہروں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی شہری بدامنی کو روکا جا سکے، حکومتی کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی ہے،پولیس اور ہسپتالوں کی طرف سے رپورٹ کیے گئے متاثرین کی اے ایف پی کی گنتی کے مطابق، اس ہفتے کے تشدد میں اب تک کم از کم 123 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور 15 سال کے اقتدار میں رہنے کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے لیے ایک یادگار چیلنج ہے۔

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • بنگلہ دیش، پرتشدد احتجاج،39 ہلاکتیں،25سو زخمی،ایک صحافی بھی مارا گیا

    بنگلہ دیش، پرتشدد احتجاج،39 ہلاکتیں،25سو زخمی،ایک صحافی بھی مارا گیا

    بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہرے،جھڑپیں جاری،39افرادجاں بحق ہو گئے

    پولیس نےمظاہرین پر لاٹھی چارج اورشیلنگ کی ،25 سو سےزائد افرادزخمی ہو گئے ہیں، جاں بحق افراد میں ڈھاکہ ٹائمز کا صحافی بھی شامل ہے، مشتعل مظاہرین نے سرکاری ٹی وی کی عمارت کو آگ لگادی ،بنگلہ دیش میں تمام نیوز چینلز کی نشریات بند ، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کر دیا گیا،بنگلادیش میں تاحکم ثانی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی،تعلیمی ادارے بند، بنگلہ دیش بھر میں سڑکیں اور ریلوے ٹریک بلاک کر دیئے گئے،مظاہرین نے ملازمتوں میں فوجی خاندانوں کے لیے 30 فیصد کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کیا، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا،بنگلہ دیش میں 3 کروڑ سے زائد نوجوان بیروزگار ہیں،

    170 ملین کی آبادی والے ملک بنگلہ دیش کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہوئے 8 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حکام نے سیکورٹی فورسز اور طلباء کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد پورے ملک میں سیلولر نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، بنگلہ دیش میں سڑکوں پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں کے ساتھ مظاہرین گھوم رہے ہیں،ریلوے، گاڑیاں بند کر دی گئی ہیں،

    بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کیا تو مظاہرین اور مشتعل ہو گئے، مظاہرین نے سرکاری ٹی وی کے دفتر کو جلا دیا، ڈھاکہ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان کا ایک رپورٹر مہندی حسن ڈھاکہ میں جھڑپوں کی کوریج کے دوران جاں بحق ہو گیا ہے، مظاہرین نے ڈھاکہ میں کینیڈا یونیورسٹی کے کیمپس میں بھی پرتشدد مظاہرہ کیا، یونیورسٹی کی چھت پر 60 پولیس اہلکار پھنسے ہوئے تھے جنہیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچا یا گیا،

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے خطرے یا تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرے،پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا اہل ہونا ایک بنیادی انسانی حق ہے اور حکومت کو ان حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

  • بنگلہ دیش،پر تشدد مظاہروں میں چھ طلبا ہلاک،تعلیمی ادارے بندے

    بنگلہ دیش،پر تشدد مظاہروں میں چھ طلبا ہلاک،تعلیمی ادارے بندے

    بنگلہ دیش میں طلبا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا،پرتشدد جھڑپوں کے دوران چھ طلبا ہلاک ہو گئے ہیں جنکی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے، طلبا کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا ہے

    پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر ہونے والے احتجاج کے درمیان حریف طلباء گروپوں میں پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 6 مظاہرین ہلاک ہو گئے،جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں،یونیورسٹی کے طلباء کی حکمران عوامی لیگ کی حمایت کرنے والےاحتجاج مخالف مظاہرین کے ساتھ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑائی کے درمیان پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور اور ربڑ کی گولیاں چلائیں ، طلبہ نے اپنے ساتھیوں ہلاکت پر ریلوے اور بڑی شاہراہیں بلاک کر دی ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،طلباء کا مطالبہ ہے کہ سرکاری نوکریاں میرٹ پر دی جائیں اور صرف 6 فیصد کوٹہ جو اقلیتوں اور معذور افراد کے لئے مختص ہے اسے برقرار رکھا جائے۔

    بنگلہ دیش میں مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک جن 6 چھ افراد کی موت ہوئی، ان کا تعلق ڈھاکہ، چٹاگانگ اور شمال مغربی رنگ پور سے ہے ،ہلاک ہونے والوں میں 3 طلبا بھی شامل ہیں۔ ریزرویشن کے خلاف زیادہ تر تحریکیں یونیورسٹی کیمپس میں چل رہی ہیں،یونیورسٹیوں کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے خطرے یا تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرے،پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا اہل ہونا ایک بنیادی انسانی حق ہے اور حکومت کو ان حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

    بنگلہ دیش میں اس ماہ تقریبأ روزانہ ہونے والےمظاہروں میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہاہے جس میں سول سروس کی نصف سے زیادہ پوسٹیں مخصوص گروپوں کے لیے ریزروڈ ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف 1971 کی جنگ آزادی کے ہیروز کے بچے بھی شامل ہیں،

    چٹاگانگ میڈیکل کالج اسپتال کے ڈائریکٹر محمد تسلیم الدین نے اے ایف پی کو بتایا، تینوں کو گولیوں کے زخم آئے تھے، 35 زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں،

    انسپکٹر بچو میا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈھاکہ کالج کے باہر ایک طالب علم کو ہلاک کر دیا گیا اور کم از کم 60 افراد زخمی ہوئے،منگل کو کچھ اہم شاہراہوں کو مظاہرین نے بلاک کر دیا، حکام نے ڈھاکہ اور چٹاگانگ سمیت پانچ بڑے شہروں میں نیم فوجی بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) فورس کو تعینات کر دیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے حکومت کے حامی گروپوں کے بچوں کو فائدہ ہوتا ہے جو 76 سالہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پشت پناہی کرتے ہیں

    بدھ کو ڈھاکہ یونیورسٹی اور ملک کے دیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے کیمپس میں پولیس تعینات تھی، جبکہ نیم فوجی سرحدی دستے ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے،کوٹہ سسٹم کو 2018 میں عارضی طور پر عدالتی حکم کے بعد روک دیا گیا تھا، جس کے بعد 2018 میں بڑے پیمانے پر طلباء کے احتجاج کی ایک لہر سامنے آئی تھی لیکن پچھلے مہینے، بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا،

    بنگلہ دیش میں پاکستانی طلبا کو اپنی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت
    دوسری جانب بنگلہ دیش میں احتجاج کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا ہے جس میں بنگلہ دیش میں مقیم طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں اور اپنے کمرو‌ں سے باہر نہ نکلیں،دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے طلبہ کو اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاط برتنےاور احتجاج سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کیمپس میں رہنے والوں کو اپنے ہاسٹل کے کمروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے،وہیں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش میں پاکستانیوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید معروف سے ٹیلی فون پر بات کی اور وہاں مقیم پاکستانیوں بالخصوص ڈھاکہ کے کیمپس میں مقیم طلبہ کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے کی ہدایت کی،سفیر سید معروف نے وزیر خارجہ کو سیکیورٹی کی صورتحال اور بنگلہ دیش میں پاکستانیوں کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہائی کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ سفارت خانے نے مصیبت میں مبتلا افراد کی سہولت کے لیے ایک ہیلپ لائن کھولی ہے،اسحاق ڈار نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بنگلہ دیش میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص ڈھاکہ کے کیمپس میں مقیم طلبہ کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے کی ہدایت کی، انہوں نے سفیر سید معروف کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستانی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں۔

  • بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ کا دورہ بھارت،مودی سے ملاقات

    بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ کا دورہ بھارت،مودی سے ملاقات

    بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بھارتی وزیراعظم مودی سے ملاقات ہوئی ہے
    بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کل جمعہ کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچی تھیں، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے انکی ملاقات ہوئی تھی، آج حسینہ کی بھارتی وزیراعظم مودی سے ملاقات ہوئی ہے، حسینہ کی آمد پر مودی نے راشٹرپتی بھون کے صحن میں استقبال کیا۔

    بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے دوراے کے دوران بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین مختلف امور پر بات چیت ہو گی، انفراسٹرکچر، بجلی اور توانائی اور پانی کی تقسیم پر بھی بات ہو گی، شیخ حسینہ کا دو ہفتوں میں بھارت کا دوسرا دورہ ہے، وہ مودی کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شریک ہوئی تھیں

    بھارت نے گنگا ندی پر فرکا ڈیم 1975 میں بنایا تھا، جس پر بنگلہ دیش نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش نے 1996 میں گنگا کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ صرف 30 سال کے لیے تھا جو کہ اگلے سال ختم ہونے والا ہے،شیخ حسینہ کے اس دورے کے دوران اس معاہدے کی تجدید نو پر بھی بات چیت ہو گی.

  • بھارت  اور بنگلہ دیش میں تیز بارشوں اور سائیکلون سے  38 افراد ہلاک

    بھارت اور بنگلہ دیش میں تیز بارشوں اور سائیکلون سے 38 افراد ہلاک

    بھارت اور بنگلہ دیش میں تیز بارشوں اور سائیکلون سے مجموعی طور پر 38 افراد ہلاک ہوگئے –

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ادارے ” اے ایف پی "کی رپورٹ کے مطابق میزورام کے ضلع ایزول کے ڈپٹی کمشنر نازک کمار نے بتایا کہ بدترین سائیکلون کے نتیجے میں کان گرنے سے 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اب تک 12 لاشیں نکال لی گئی ہیں اور مزید کی تلاش جاری ہے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق پولیس ڈائریکٹر جنرل انیل شکلا کا کہنا تھا کہ کان میں امدادی کام موسلادھار بارش کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا ہے میزورام کے وزیراعلیٰ لالدوہوما نے سائیکلون ریمل کے نتیجے میں ہونے والی لینڈسلائیڈ سے ہلاک افراد کے لواحقین کے لیے امدادی رقوم دینے کا بھی اعلان کیا۔

    رپورٹ کے مطابق میزورام میں کئی ہائی ویز اور اہم شاہراہیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے معطل ہوگئی ہیں، تمام اسکول بند کردئیےگئے ہیں اور سرکاری ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے،بھارت کے محکمہ موسمیات نے پورے میزورام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں شدید ترین موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے عمل کو انتہائی شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا …

    ادھر آسام کے وزیراعلیٰ بسوا سرما نے بیان میں کہا کہ تیز بارش سے ایک شہری ہلاک اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے، بنگلہ دیش میں بھی سائیکلون سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 38 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں 8 شہری ہلاک ہوگئے، جس کے بعد بھارت میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہوچکی ہے،بنگلہ دیش کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور پولیس کے مطابق سائیکلون اور بارش سے 17 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ایم کیو ایم کو نیب ترامیم پر اعتراضات

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے بنگلہ دیش کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے بنگلہ دیش کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ڈھاکا: بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے نجم الحسین ہی کپتان ہوں گے،جب کہ تسکین احمد نائب کپتان ہوں گے،اس کے علاوہ اسکواڈ میں شکیب الحسن، لٹن داس، سومیا سرکار، تنزید حسن، توحید ہردوئے، محمود اللہ ریاض، جاکرعلی، تنویراسلام ، شک مہدی حسن، ارشاد حسین، مستفیض الرحمان، شرف الاسلام اور تنظیم حسن شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2 جون سے امریکا اور ویسٹ انڈیز میں شروع ہوگا۔

     

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں خرابیوں پر تشویش کا …

    آج سچ بولنے کا وقت ہے، آج وقت ہے کہ سب سچ بولیں،علی محمد خان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2024 کیلئے کِٹ کی رونمائی کر دی گئی