Baaghi TV

Tag: بورس جانسن

  • برطانیہ :مزید دو اراکین پارلیمنٹ رکنیت سے مستعفی

    برطانیہ :مزید دو اراکین پارلیمنٹ رکنیت سے مستعفی

    برطانیہ میں سابق وزیراعظم بورس جانسن کے بعد مزید دو اراکین پارلیمنٹ اپنی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کے مطابق سابق وزیر ثقافت ناڈین ڈوریس اور نائجل ایڈمز کے استعفوں بعد حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کو اب تین نشستوں پر ضمنی الیکشنز کا سامنا کرنا پڑے گا سابق وزیر اعظم کے دوستوں نے پیش گوئی کی کہ مزید استعفے آنے والے ہیں، کنز رویٹو وہپس اور بیک بینچ ایم پیز کے درمیان بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

    بورس جانسن پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی

    تاہم، جانسن کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے فوری طور پر کسی بھی مربوط استعفیٰ کی سازش کو مسترد کردیا پریتی پٹیل، سابق ہوم سکریٹری، اگلا الیکشن لڑیں گی۔ جوناتھن گلس، برینڈن کلارک سمتھ اور ڈیہنا ڈیوسن سمیت ارکان پارلیمنٹ کو برطرف کر دیا گیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق لیبر رکن پارلیمنٹ افضل خان نے کنزرویٹو پارٹی سے نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے دوسری جانب لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر انجیلا رینر نے سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو ’بزدل‘ قرار دے دیا۔

    چیٹ جی پی ٹی کی طرف سے بوگس قانونی حوالے دیکر بہکانے پر امریکی عدالت …

    سابق کابینہ کے وزیر جیکب ریس موگ نے ​​کنزرویٹو کو خبردار کیا ہے کہ اگر بورس جانسن کسی اور پارلیمانی حلقے میں کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں روکنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف نہیں مسٹر ریز موگ نے ​​اتوار کو میل کو بتایا کہ ایسا کرنے سے پارٹی "خانہ جنگی میں” ڈوب سکتی ہے۔

    جانسن نے پارٹی گیٹ کی تحقیقات پر جمعہ کو اکسبرج اور ساؤتھ روئسلپ کے ایم پی کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیاجانسن نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا جب انہوں نے کامنز کی استحقاق کمیٹی کی ایک رپورٹ پہلے سے دیکھی جس کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا انہوں نے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں پر کامنز کو جان بوجھ کر گمراہ کیا۔

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری

  • لز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب:آج منصب سنبھال لیں‌گی

    لز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب:آج منصب سنبھال لیں‌گی

    لندن:برطانیہ میں لز ٹرس آج نئی وزیراعظم کا منصب سنبھال لیں گی۔اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی وزارت عظمی کے لیے کنزرویٹو پارٹی میں لز ٹرس اوررشی سونک کے درمیان مقابلہ تھا۔

    لز پہلی مرتبہ 2010 میں نارفوک سے رکن پارلیمٹ منتخب ہوئی تھیں۔اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون، ٹریزا مے اور بورس جانسن کی کابینہ میں لز ٹرس مختلف ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔

    لز ٹرس نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ انرجی بلوں کے معاملے کو جلد نمٹادیں گے۔لز ٹرس نے چند ماہ میں ٹیکس میں کمی کا حکومتی منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لز ٹرس انشورنس سمیت کئی معاملات طے کریں گی۔لز ٹرس متحدہ یورپ کی حامی تھیں اور موجودہ صورتحال میں سیاسی رہنما انھیں بہترین آپشن قرار دے رہے ہیں۔

    نومنتخب وزیراعظم لِز ٹرس کو 81 ہزار 326 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف رشی سونک کو 60 ہزار 399 ووٹ ملے۔
    پیر کو برطانیہ کے اگلے وزیراعظم اور حکمران کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کے نام کا اعلان ہوا۔ حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے سیکریٹری خارجہ لِز ٹرس کو نامزد کیا گیا تھا۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لِز ٹرس ایسے وقت میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں جب ملک کو معاشی بحران اور کساد بازاری کا سامنا ہے۔

    لز ٹرس کے وزیراعظم بنتے ہی ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ برطانوی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کے امکانات ہیں۔

    مختلف اسکینڈلز سامنے آنے کے بعد بورس جانسن نے 7 جولائی کو وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وزارت عظمی کی دوڈ کیلئے 11 امیدوار سامنے آئے تھے۔

    ٹوری اراکین پارلیمنٹ کے ووٹنگ کے مختلف مراحل کے بعد لز ٹرس اور رشی سونک میدان میں رہ گئے تھے۔ملک میں متوقع طور پر 23 جنوری 2025 کو انتخابات کے سبب وزیراعظم کو ڈاوئنگ اسٹریٹ میں 870 دن ملیں گے۔

  • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن استعفی نہیں دیں گے:قریبی ساتھی کا دعویٰ

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن استعفی نہیں دیں گے:قریبی ساتھی کا دعویٰ

    لندن:برطانوی وزیراعظم بورس جانسن استعفی نہیں دیں گے:قریبی ساتھی کا دعویٰ ،اطلاعات ہیں کہ بورس جانسن نے ایک ساتھی کو بتایا کہ وہ بطور وزیر اعظم ‘استعفیٰ نہیں دینا چاہتے’ اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے استعفنے والے معاملے کو دبا دیں

    بورس جانسن کے قریبی ساتھی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم نے لارڈ کرڈاس آف شورڈچ جو کہ کنزرویٹو پارٹی کے سابق خزانچی ہیں جو انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کی مہم چلا رہے تھے کو بھی بتایا کہ وہ "کنزرویٹو پارٹی کے رہنما کے طور پر اگلے عام انتخابات لڑنا چاہتے ہیں”،

    لارڈ کرڈاس کی "بورس کو واپس لائیں” مہم کے متعلق بورس کا کہنا تھا کہ ان کی یہ مہم موثرثابت ہوئی ہے،بورس جانسن کے ساتھ نے کہا کہ جانسن نے اسے بتایا تھا کہ وہ "آپ کی مہم کی کامیابی کے لیے جڑیں پکڑ رہا ہے”۔اور صرف سات دنوں میں، پارٹی کے 10,000 سے زیادہ ارکان نے لارڈ کرڈاس کی پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔

    انہوں نے کہا، "وہ یقینی طور پر استعفیٰ نہیں دینا چاہتے۔ وہ جاری رکھنا چاہتا ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ پارٹی اراکین کی حمایت سے یہ سب کچھ کرسکتےہیں

    لارڈ کرڈاس نے مزید کہا، "انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کل عام انتخابات ہوتے ہیں اور وہ کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ہوتے ہیں، تو وہ عام انتخابات جیت جائیں گے، اور میں نے ان سے اتفاق کیا۔”ان کا کہنا تھا کہ ٹوری ایم پیز کے خلاف پارٹی کی رکنیت میں نمایاں حمایت دکھائی دیتی ہے جنہوں نے اس مہینے کے شروع میں انہیں زبردستی نکال دیا تھا۔

    پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کے نام کنزرویٹو کمپین ہیڈ کوارٹر کے چیئرمین اینڈریو سٹیفنسن کو بھیجے جا رہے ہیں۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بورس جانسن سے جب پوچھا گیا کہ کیسے یہ ممکن ہے کہ اب پھر سے ایسا ماحول بن جائے کہ ہرکوئی یہ مطالبہ کرے کہ بورس جانسن کو نہیں جانا چاہیے تو بورس نے جواب دیا کہ میں ایسا ماحول پیدا کرسکتا ہوں

  • رشی سنک وزارت عظمیٰ‌ کی دوڑ میں‌ پیچھے:پینی مورڈانٹ اگلی برطانوی وزیراعطم ہوسکتی ہیں‌

    رشی سنک وزارت عظمیٰ‌ کی دوڑ میں‌ پیچھے:پینی مورڈانٹ اگلی برطانوی وزیراعطم ہوسکتی ہیں‌

    لندن:بھارتی نژاد برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک کے لیے مشکلات پیدا ہونے لگیں ،اطلاعات کے مطابق بھارتی نژاد رشی سنک کو آج اس وقت دھچکا لگا جب ایک پول میں‌ اکثریت نے کہا کہ ویسٹ منسٹر کے فرنٹ رنر ٹوری ممبران کے رن آف بیلٹ میں پینی مورڈانٹ سے ہار جائیں گے۔

    یہ بھی معلوم ہو اہے کہ ایم پیز نے قیادت کے مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں ووٹنگ مکمل کر لی ہے – جس کا نتیجہ شام 5 بجے آنا تھا ، ان ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینی مورڈانٹ برطانیہ کی اگلی وزیراعظم بن سکتی ہیں

    اس سے پہلے برطانوی میڈیا کا کہناتھا کہ اس وقت پینی مورڈانٹ یا لِز ٹرس بہت آگے ہیں اورجن کے بارے میں پیشن گوئی کی جارہی تھی وہ بظاہر پیچھے نظرآرہےہیں ،

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ بھارتی نژاد سابق وزیرخزانہ رشی سنک برطانیہ کے نئے وزیراعظم ہوں گے ، اسی عزم کے ساتھ بھارتی نژاد برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک نے اعلان کیا تھا کہ وہ بورس جانسن کی جگہ لینے کے لئے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع بین ویلیس کے انکار کے بعد بھارتی نژاد سابق وزیر خزانہ رشی سنک نے برطانوی وزیر اعظم کیلئے مہم کا آغاز کر دیا ہے ۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق رشی سنک کو متعدد سینئر پارٹی ارکان کی مکمل حمایت حاصل ہے جن میں اولیور ڈاوڈن ، مارک سپنسر اور لیام فاکس کے نام نمایاں ہیں ۔

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بین ویلیس سروے رپورٹس اور بک میکرز کی نظر میں کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کیلئے مضبوط ترین امیدوار تھے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں ۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ رشی سنک کے اتحادی پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو قائل کرنے کی کوشش میں ہیں کہ وہ اُن کا ساتھ دیں تاکہ رشی سنک کی کامیابی کی راہ ہموار ہوں سکے

    لیکن ابھی جو پری سروے ہوا اس نے رشی سنک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اوراگرصورت حال یہی رہی تو پھراس بات کا قوی امکان ہےکہ برطانیہ کی اگلی وزیراعظم مورڈانٹ یا لِز ٹرس ہوں گے

  • برطانوی وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دونوں پاکستانی نژاد باہر

    برطانوی وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دونوں پاکستانی نژاد باہر

    لندن:برطانوی وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دونوں پاکستانی نژاد باہر،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دونوں پاکستانی نژاد باہر ہوگئے، ساجد جاوید اور رحمٰن چشتی نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں ، ادھر اس حوالے سے ابھی تک ان کی طرف سے کاغذات واپس لینے کی وجوہات سامنے نہیں آئیں‌

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار دونوں پاکستانی نژاد ساجد جاوید اور رحمٰن چشتی نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔

    رپورٹ کےمطابق کمیٹی کےچیئرپرسن آج امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کریں گےاوران کے درمیان ووٹنگ بدھ کے روز ہوگی۔برطانیہ کی وزارت عظمیٰ کا تاج کس کے سر سجے گا اس کا اعلان 5 ستمبر کو ہوگا۔

    واضح رہے کہ شدید مخالف اور اپنی کابینہ کے وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔بورس جانسن کے مستعفیٰ ہونے کے بعد ان کے متبادل کے طور پر متعدد نام سامنے آئے جن میں پاکستانی نژاد ساجد جاوید اور رحمان چشتی سمیت 11 امیدوار شامل تھے۔

    واضح رہے کہ ساجد جاوید بورس جانسن کی کابینہ کے پہلے وزیر تھے جنھوں نے وزیر اعظم سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی وزارت سے استعفی دیا، ان کے بعد استعفوں کی لائن لگ گئی جس کا نتیجہ وزیر اعظم کے استعفے کی صورت میں نکلا۔

    وزیر صحت کا عہدہ چھوڑتے ہوئے ساجد جاوید نے کہا کہ عوام سمجھتے ہیں کہ نہ ہم قومی مفاد میں کام کر رہے ہیں اور نہ ہی اس قابل ہیں، بورس جانسن بطور وزیر اعظم میرا اعتماد کھو چکے ہیں۔پاکستانی نژاد ساجد جاوید 2019 میں بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے مگر بورس جانسن کے مقابلے میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔جبکہ رحمان چشتی کا آبائی تعلق پاکستانی علاقے آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد سے ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کا 17 ارکان پارلیمنٹ کے استعفے کے باوجود کام جاری رکھنے کاعہد

    برطانوی وزیراعظم کا 17 ارکان پارلیمنٹ کے استعفے کے باوجود کام جاری رکھنے کاعہد

    لندن:برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی حکومت سے 17 ارکان پارلیمنٹ کے مستعفی ہونے کے باوجود بطور وزیر اعظم "جاری رکھنے” کا عہد کیا ہے۔

    بورس جانسن نےاپنے ساتھیون کو حوصلہ دیتے ہوئے کہاکہ ایسی کوئی پریشانی کی بات نہیں جب تک سمجھتا ہوں کہ امورمملکت اچھے انداز سےچل رہے ہیں تو مستعفیی نہیں ہوں اور حکومت کرتے رہیں‌ گے ،

    بورس جانسن نے ایک موقع پر کہا ک "مشکل حالات میں وزیر اعظم کوجب ساتھیون کی طرف سے حوصلہ دیا جائے اورپھرا سکے ساتھ ساتھ زبردست مینڈیٹ دیا جاتا ہے تو اسے جاری رکھنا ہی بہتر ہے اور میں حکومت کا معاملات جو احسن انداز سے جاری رکھوں‌ گا

    برطانوی کابینہ کے دو سینیئر وزرا ساجد جاوید اور رشی سونک کے مستعفی ہونے کے بعد دیگر وزرا بھی بورس جانسن کی حکومت کے خلاف ہوگئے۔

    مستعفی وزرا کے استعفے وزیرِاعظم کی جانب سے ایم پی کرس پنچر کو ایک حکومتی عہدے پر لگانے پر معافی مانگنے کے چند منٹ بعد سامنے آئے۔

    یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس وقت مشکل میں گھرے نظرآئے جب کل برطانوی وزیرصحت ساجد جاوید اور وزیرخزانہ رِشی سوناک نے گزشتہ روز وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ سے استعفیٰ دیا ۔جبکہ پاکستانی نژاد ساجدجاوید نے اپنا استعفی ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘میں نے وزیر اعظم سے بات کی ہے کہ میں وزیرصحت اور سماجی نگہداشت کی حیثیت سے اپنے عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں’’۔

    انھوں نے کہا کہ ‘‘برطانیہ کے وزیرصحت کی حیثیت خدمات انجام دینا میرے لیے ایک بڑا اعزازرہا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں اب اپنے ضمیر کے ساتھ اس کردارکو جاری نہیں رکھ سکتا’’۔رشی سونک نے اپنے استعفے میں لکھا کہ ’میں آپ کا وفادار رہا ہوں۔ میں نے آپ کی پارٹی کا سربراہ بننے میں حمایت کی اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کیا۔

    ٹوری وائس چیئر بیم افولامی نے ٹی وی پر لائیو استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں وزیراعظم کو سپورٹ کرنا چاہیے برطانوی رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ بورس جانسن کو اپنے عہدے مستعفی ہو جانا چاہیے۔جبکہ سولیکٹر جنرل انگلیڈ اینڈ ویلز ایلکس چاک ، ثاقب بھٹی ، جوناتھن گولیز، سمیت مزید پالیمانی رکن نے بھی استعفیٰ دیا۔اس طرح مستعفی ہونے والے کل ممبرپارلیمان کی تعداد 17 تک جاپہنچی ہے

    ایک کے بعد ایک استعفیٰ سے برطانوی سیاست میں ہلچل ہے ۔ ان استعفوں سے وزیر اعظم بورس جانسن کا مستقبل مشکوک ہو گیا ہے۔ تاہم اب بھی بورس جانسن کے پاس سیکریٹری خارجہ، داخلہ، دفاع اور سیکریٹری کاروباری امور کی حمایت موجود ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان مضبوط وزارتوں کی بنیاد پر بورس جانسن نے مستعفی نہ ہونے اور حکومت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

    ادھردوسری طرف بورس جانسن پر مسلسل بڑھتا سیاسی دباؤ لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیئرسٹارمر کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں فوری انتخابات کو خوش آمدید کہیں گے اور یہ کہ ملک میں حکومت کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔

    لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی بھی بورس جانسن کے خلاف کہتے ہیں کہ انہیں کو فوری مستعفی ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کی بے ہنگم حکومت نے ملک کو ناکام کر دیا ہے۔

    سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر اور ایس این پی رہنما نکولا سٹرجن نے بھی بورس جانسن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا نکولا سٹرجن نے الزام لگایا کہ بورس جانسن نے وزرا پر عوام سے جھوٹ بولنے کے لئے دباؤ ڈالا۔

  • بورس جانسن نے ندیم زہاوی کو وزیر خزانہ اور اسٹیو بارکلے کو ہیلتھ سیکرٹری مقرر کر دیا

    بورس جانسن نے ندیم زہاوی کو وزیر خزانہ اور اسٹیو بارکلے کو ہیلتھ سیکرٹری مقرر کر دیا

    رشی سنک اور ساجد جاوید دونوں کنزرویٹو ڈیمو کریٹک پارٹی سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں جس کے بعد بورس جانسن نے عراقی نژاد سیکریٹری تعلیم ندیم زہاوی کو نیا وزیر خزانہ اور برطانیہ کی کابینہ کے چیف آف اسٹاف اسٹیو بارکلے کو سیکریٹری صحت مقرر کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کے مطابق وزیر اعظم اب کے سابق چانسلر اور ہیلتھ سکریٹری کی طرف سے استعفوں کے تناظر میں نقصانات کو محدود کرنے کی ایک مایوس کن جنگ میں مصروف ہیں، جو اپنی ‘دیانتداری’ اور قابلیت کی کمی پر ایک دوسرے کے منٹوں میں واک آؤٹ کر گئے۔

    پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ ثاقب بھٹی بھی حکومتی عہدے سے مستعفٰی

    ایگزٹ اس وقت ہوا جب بورس جانسن نے شرمندہ ایم پی کرس پنچر کو ڈپٹی چیف وہپ کے طور پر اپنی تقرری پر سخت معذرت کے ساتھ بحران سے نکلنے کی کوشش کی اس گھبراہٹ کے درمیان کہ کابینہ کے مزید وزراء اس کی پیروی کر سکتے ہیں، وزیر اعظم بور س جانسن نے اپنےموجودہ چیف آف اسٹاف اسٹیو بارکلے کو مسٹر جاوید کی جگہ صحت اور سماجی نگہداشت کے محکمے میں کی ذمہ داری سونپ دی ہے-

    5 جولائی بروز منگل، برطانیہ کے وزیر خزانہ رشی سنک اور سیکرٹری صحت ساجد جاوید کے مستعفی ہونے کے بعد رات کو حیران کن، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نےخود کو بچانے کے لیے منگل کو دیر گئے، ایک نیا وزیر خزانہ اور نیا صحت سیکرٹری مقرر کیا۔

    رپورٹ کے مطابق عراقی نژاد سیکریٹری تعلیم، ندیم زہاوی کو نیا وزیر خزانہ اور برطانیہ کی کابینہ کے چیف آف اسٹاف اسٹیو بارکلے کو سیکریٹری صحت مقرر کیا گیا ہے۔

    بعد میں، انہوں نے اعلان کیا کہ ندیم زاہاوی ٹریژری میں مسٹر سنک کی جگہ لیں گے، مشیل ڈونیلن کو زاہاوی کی جگہ پر ترقی دے کر سیکرٹری ایجوکیشن بنا دیا گیا ہے ڈاؤننگ اسٹریٹ نے بتایا کہ زہاوی کی تقرری کی منظوری ملکہ الزبتھ دوم نے دی تھی۔

    سٹیو بارکلے نے کہا کہ ہیلتھ سیکرٹری کا کردار ادا کرنا ایک اعزاز کی بات ہے یہ حکومت ہماری NHS اور نگہداشت کی خدمات میں پہلے سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ کووِڈ بیک لاگ کو شکست دی جا سکے، مزید 50,000 نرسوں کی بھرتی ہو، سماجی نگہداشت میں اصلاحات کی جائیں اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملک بھر کے مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سپولیات فراہم کی جا سکیں-

    پاکستانی نژاد برطانوی وزیرصحت نے استعفیٰ دے دیا

    جانسن کے فوری طور پر بچنے کے امکانات نائب وزیر اعظم ڈومینک راب، خارجہ سکریٹری لز ٹرس، ہوم سکریٹری پریتی پٹیل، ڈیفنس سیکریٹری بین والیس اور ورک اینڈ پنشن سیکریٹری تھریس کوفی نے یہ اعلان کرتے ہوئے بڑھا دیے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔

    ٹوری کے وائس چیئر بِم افولامی نے لائیو ٹی وی پر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا، جب کہ سابق وفادار جوناتھن گلس، ثاقب بھٹی، نکولا رچرڈز اور ورجینیا کراسبی نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ تھیو کلارک اور اینڈریو موریسن نے بھی کینیا اور مراکش کے تجارتی ایلچی کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔

    لارڈ فراسٹ، جو پہلے مسٹر جانسن کے بریگزٹ کے اہم ایلچی تھے، نے کہا کہ مسٹر سنک اور مسٹر جاوید نے ‘صحیح کام’ کیا ہے اور وزیر اعظم تبدیل نہیں ہو سکتے۔

    یہاں تک کہ کابینہ کے وزراء بھی جگہ جگہ ٹھہرے ہوئے تھے،ایک پارٹی کارکن نے میل آن لائن کو بتایا کہ ان کے کچھ قریبی ساتھیوں کی ‘پی ایم کے ساتھ ہمدردی ختم ہوگئی ہے’۔

    ایران چند ہفتوں میں جوہری بم بنا سکتا ہے،امریکی ایلچی

    ٹوری بیک بینچر اینڈریو برجن نے بورس جانسن کو خبردار کیا کہ بیک بینچ 1922 کمیٹی ان کی قیادت کے ساتھ ‘ڈیل’ کرے گی۔

    وزیر اعظم کے ناقد مسٹر برجن نے کہا پورٹکلس ہماری پارلیمنٹ کا نشان ہے، یہ ہماری جمہوریت کا آخری دفاع ہے۔ ‘1922 کی کمیٹی وزیر اعظم سے نمٹے گی، یہ اسی کے لیے بنائی گئی تھی۔’

    وزیر اعظم کو کنزرویٹو ایم پیز کی چالوں کا سامنا ہے، جو ان کے خلاف اعتماد کا ووٹ دوبارہ چلانے کے لیے 1922 کی کمیٹی کے قوانین کو تبدیل کرنے کی امید کر رہے ہیں۔

    بریگزٹ منسٹر جیکب ریس موگ کو آج رات براڈکاسٹ اسٹوڈیوز میں بھیجا گیا، اس بات پر اصرار کیا گیا کہ وزیر اعظم کے جانے کی کوئی ‘آئینی’ وجہ نہیں ہے۔

    مسٹر ریزموگ نے ​​کہا کہ استعفوں کے بعد مسٹر جانسن کا موڈ ‘معمول کے مطابق’ تھا اور انہیں اب بھی امید ہے کہ وہ نمبر 10 میں رابرٹ والپول کے 21 سال کے ریکارڈ کو شکست دیں گے۔

    اپنے استعفیٰ خط میں مسٹر سنک نے خبردار کیا کہ ہم اس طرح کام جاری نہیں رہ سکتے’ اور وہ اپنا سیاسی کیریئر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں عوام بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ حکومت مناسب طریقے سے، قابلیت اور سنجیدگی سے چلائی جائے-

    دریں اثنا، مسٹر جاوید نے مسٹر جانسن کی دیانتداری، قابلیت اور قومی مفاد میں کام کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔

    مصر کو نہر سویز کی وجہ سے 7 بلین ڈالر سے زائد کی ریکارڈ سالانہ آمدنی

    دوسری اہم پیش رفتوں میں جب حکومت آج رات افراتفری میں اتر رہی ہے Keir Starmer نے فوری طور پر عام انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘آئیے برطانیہ کے لیے ایک نئی شروعات کریں۔

    بکیز نے مسٹر جانسن کے اس سال نمبر 10 سے باہر ہونے کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

    ڈیلی میل نے رپورٹ میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ رشی سنک اور مسٹر جاوید نے ٹوری باغی ایم پیز کی کالوں پر فیصلہ کیا جو مسٹر جانسن کی حکومت کو گرانے والے تازہ ترین سلیز اسکینڈل پر کابینہ کے وزراء سے کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    جاوید نے وزیر اعظم کو بتایا کہ یہ بہت افسوس کے ساتھ ہے کہ مجھے آپ کو بتانا ضروری ہے کہ میں اب اس حکومت میں خدمات جاری نہیں رکھ سکتا ‘میں فطری طور پر ٹیم کا کھلاڑی ہوں لیکن برطانوی عوام بھی اپنی حکومت سے دیانتداری کی توقع رکھتے ہیں۔’

    یہ دوسرا موقع تھا جب مسٹر جاوید نے جانسن کی حکومت سے استعفیٰ دیا تھا، 2020 میں اصولی طور پر چانسلر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا جب انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے خصوصی مشیروں کا انتخاب نہیں کر سکتے۔

    باغی جوڑے کے استعفیٰ کے خطوط کا جواب خود سے دے کر بورس نے اپنی خاموشی توڑ دی بورس جانسن نے ساجد جاوید کو بتایا کہ انہیں صحت کے سیکریٹری کے طور پر اپنا استعفیٰ خط موصول ہونے پر ‘افسوس’ ہے اور تجویز کیا کہ ان کی حکومت NHS کے لیے منصوبے ‘ڈیلیور کرنا جاری رکھے گی’۔

    ایک مختصر خط میں، وزیر اعظم نے لکھا: ‘محترم ساجد، آج شام آپ کا استعفیٰ پیش کرنے والے خط کے لیے آپ کا شکریہ۔ مجھے اسے حاصل کرنے پر بہت افسوس ہوا ‘آپ نے اس حکومت اور برطانیہ کے لوگوں کی امتیازی خدمت کی ہے۔’

    بورس جانسن نے رشی سنک کی بطور چانسلر رخصتی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسٹر سنک کا استعفیٰ خط موصول ہونے اور ان کی ‘شاندار خدمات’ کی تعریف کرنے پر ‘افسوس’ ہے۔

    ایک خط میں، وزیر اعظم نے لکھا: ‘پیارے رشی، مجھے حکومت سے استعفی دینے کا آپ کا خط موصول ہونے پر افسوس ہوا ‘آپ نے امن کے زمانے کی تاریخ میں ہماری معیشت کے لیے سب سے مشکل دور میں ملک کو شاندار خدمات فراہم کی ہیں’۔

    دوہرے استعفیٰ نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ کابینہ کے دیگر اراکین جلد ہی مسٹر جانسن کی حکومت کو چھوڑنے کے لیے اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔

    روس ، یوکرین تنازعہ:جنگ عظیم دوم کے پہلی مرتبہ جرمنی کا تجارتی خسارہ 3کھرب روپے تک…

    لیکن مسٹر راب، مسٹر والیس، محترمہ پٹیل اور محترمہ ٹرس نے اشارہ کیا ہے کہ وہ واک آؤٹ نہیں کر رہے ہیں جبکہ سیکرٹری ماحولیات جارج یوسٹیس نے ابھی تک اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے۔

    کنزرویٹو ایم پی ثاقب بھٹی نے بھی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے ٹویٹر پر اپنا استعفیٰ پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا: ‘کنزرویٹو اور یونین پارٹی ہمیشہ دیانت اور عزت کی جماعت رہی ہےمیں محسوس کرتا ہوں کہ عوامی زندگی میں معیارات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور گزشتہ چند مہینوں کے واقعات نے ہم سب پر عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے میں کچھ عرصے سے ان مسائل سے دوچار ہوں اور میرا ضمیر مجھے اس انتظامیہ کی حمایت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا اس وجہ سے مجھے اپنا استعفیٰ دینا پڑے گا۔’

    وزیر اعظم کو ایک اور سخت دھچکا لگا جب ان کے ایک انتہائی وفادار حامی مسٹر گلس نے کہا کہ وہ ‘بھاری دل کے ساتھ’ استعفیٰ دے رہے ہیں انہوں نے لکھا: ‘میں اپنی پوری بالغ زندگی کنزرویٹو پارٹی کا رکن رہا ہوں، ایک ایسی پارٹی جو میرے خیال میں سب کے لیے مواقع کی نمائندگی کرتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بہت عرصے سے ہم اس ملک کے لوگوں کے لیے ڈیلیور کرنے کے بجائے اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان سے نمٹنے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں،’یہی وجہ ہے کہ میں اب آپ کی حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتا۔’

    کنزرویٹو ایم پی نکولا رچرڈز محکمہ ٹرانسپورٹ میں پی پی ایس کے طور پراپنے عہدے سے مستعفیٰ پو گئے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ‘موجودہ حالات میں’ خدمات انجام نہیں دے سکتیں۔

    82 ملین ٹن تیل:روس کی موجیں ہوگئیں

    ویسٹ برومویچ ایسٹ کے ایم پی نے ٹویٹ کیا: ‘ایک ایسے وقت میں جہاں میرے حلقے زندگی گزارنے کے اخراجات سے پریشان ہیں اور میں ان کی مدد کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں، میں موجودہ حالات میں خود کو پی پی ایس کے طور پر کام کرنے کے لیے نہیں لا سکتا، جہاں توجہ کم ہے۔ ناقص فیصلے جس سے میں وابستہ نہیں ہونا چاہتا میں اپنے حلقوں کے ساتھ وفادار ہوں اور انہیں ہمیشہ اولیت دوں گا میں کنزرویٹو پارٹی کا بھی وفادار ہوں، جن میں سے فی الحال میرے لیے ناقابل شناخت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کچھ بدلنا چاہیے۔

    چیلٹنہم کے ایم پی ایلکس چاک نے بھی منگل کی شام سالیسٹر جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی تصدیق کی بورس جانسن کو لکھے گئے خط میں مسٹر چاک نے کہا کہ یہ ‘انتہائی دکھ کے ساتھ’ ہے کہ وہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ ‘ناقابل دفاع’ کا دفاع نہیں کر سکتےحکومت میں رہنا مشکل یا غیر مقبول پالیسی عہدوں کے لیے بحث کرنے کا فرض قبول کرنا ہے جہاں یہ وسیع تر قومی مفاد کو پورا کرتا ہے۔ لیکن یہ ناقابل دفاع کے دفاع تک نہیں بڑھ سکتا۔

    ‘اوون پیٹرسن کی شکست، پارٹی گیٹ اور اب سابق ڈپٹی چیف وہپ کے استعفیٰ کو سنبھالنے کا مجموعی اثر یہ ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے توقع کی گئی صاف گوئی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے نمبر 10 کی اہلیت پر عوام کا اعتماد ناقابل تلافی طور پر ٹوٹ گیا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اس فیصلے کا اشتراک کرتا ہوں۔

    ‘یہ ہمارے ملک کے لیے ایک شدید چیلنج کے لمحے میں آیا ہے، جب حکومت پر بھروسہ شاید ہی زیادہ اہم ہو سکے۔ مجھے ڈر ہے کہ اب نئی قیادت کا وقت آگیا ہے۔’

    مسجد الحرام میں دنیا کا سب سے بڑا کولنگ سسٹم نصب

    ٹوری ایم پی برائے ہیسٹنگز اور رائی سیلی این ہارٹ، جنہوں نے پہلے مسٹر جانسن کو گزشتہ ماہ اعتماد کے ووٹ کی حمایت کی تھی، نے کہا کہ وہ اب ان کی حمایت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

    انہوں نے ٹویٹ کیا: ‘مزید انکشافات کو دیکھتے ہوئے جو سامنے آئے ہیں، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پارلیمنٹ کی سالمیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے، ہیسٹنگز اور رائی کے اپنے حلقوں کی جانب سے میں اب بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما کے طور پر حمایت کرنے کے قابل نہیں ہوں -‘

    دوسری جانب وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ انہیں مسٹر پنچر کو برطرف کر دینا چاہیے تھا جب انہیں 2019 میں وزارت خارجہ ہونے پر ان کے خلاف دعووں کے بارے میں بتایا گیا تھا، لیکن اس کے بجائے مسٹر جانسن نے انہیں دیگر حکومتی کرداروں پر مقرر کیا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ ایک غلطی تھی،بورس جانسن نے کہا: ‘میرے خیال میں یہ ایک غلطی تھی اور میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ پچھلی نظر میں یہ کرنا غلط کام تھا۔

    ‘میں ہر اس شخص سے معذرت خواہ ہوں جو اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ میں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس حکومت میں کسی ایسے شخص کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جو شکاری ہے یا جو اپنے اقتدار کا غلط استعمال کرتا ہے۔’

    70 برس قبل لی گئی مسجد الحرام کی پہلی رنگین تصویر جاری

    مسٹر ریزموگ نے ​​کہا کہ ‘چانسلروں کو کھونا کچھ ایسا ہوتا ہے انہوں نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ اس طرح کے اقدامات سے وزیر اعظم کے استعفیٰ کی تجویز پیش کرنا کابینہ کی حکومت کا ’18ویں صدی’ کا نظریہ تھا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم ہیں جو کابینہ کے وزراء کی تقرری کرتے ہیں اور ‘وہ ایسا نہیں ہے جسے کابینہ کے وزرا نے نیچے لایا ہو’۔

    سر کیر سٹارمر نے فوری انتخابات کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا وہ وزیراعظم بننے کے لیے نااہل ہیں۔ وہ ملک پر حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے ۔

    ‘یہ کنزرویٹو پارٹی کے بہت سے لوگوں کے ذہن میں آ رہا ہے، لیکن انہیں اس پر غور کرنا ہوگا، کہ انہوں نے مہینوں، تک اس کی حمایت کی ہے آج مستعفی ہونے کا مطلب ان تمام مہینوں میں ان کی مداخلت کے خلاف کوئی نہیں ہے جب انہیں اسے اس کے لیے دیکھنا چاہیے تھا، وہ جانتے تھے کہ وہ کون ہے ہمیں حکومت کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔’

    الجزیرہ کی خاتون صحافی پر فائرنگ غیر ارادی طور پر ہوئی، امریکا

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ انتخابات کی حمایت کریں گے اگر اگلے چند ہفتوں میں کسی کو بلایا جائے تو سر کیر نے کہا: ‘ہاں۔ ہمیں برطانیہ کے لیے ایک نئی شروعات کی ضرورت ہے۔ ہمیں حکومت کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔’

    لیبر لیڈر نے یہ بھی تجویز کیا کہ حکومت کی تبدیلی سے ‘بڑے مسائل’ جیسے قیمتی زندگی کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور ‘سیاسی استحکام’ مل سکتا ہے۔

    لیبر لیڈر نے کہا کہ جو لوگ کابینہ میں رہ گئے ہیں اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ وفادار نہیں ہیں رشی سنک کے استعفیٰ کی خبر بریک ہونے سے کچھ دیر پہلے سر کیر نے صحافیوں سے بات کی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مسٹر جانسن ‘پیتھولوجیکل جھوٹا’ تھا، اس نے کہا: ‘ہاں، وہ جھوٹا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ کیسا ہے وہ نفسیاتی طور پر تبدیل کرنے کے قابل نہیں ہے، اور اس لیے انہیں وہی کرنا ہوگا جو قومی مفاد میں ہو اور اسے ہٹانا پڑے۔’

    گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

  • پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ ثاقب بھٹی بھی حکومتی عہدے سے مستعفٰی

    پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ ثاقب بھٹی بھی حکومتی عہدے سے مستعفٰی

    برطانیہ : بورس جانسن کو ایک اور دھچکا، پاکستانی نژاد کنزر ویٹو رکن پارلیمنٹ ثاقب بھٹی بھی حکومتی عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کےمطابق ثاقب بھٹی سابق سیکرٹری ہیلتھ ساجد جاوید کےپرائیویٹ پارلیمنٹری سیکرٹری کے عہدے پر فائض تھے جبکہ وہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ہمراہ بریگزٹ کے حق میں مہم چلانے میں بھی پیش،پیش رہے۔

    پاکستانی نژاد برطانوی وزیرصحت نے استعفیٰ دے دیا

    ثاقب بھٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کنزر ویٹو پارٹی ہمیشہ دیانت اور عزت کا نشان رہی ہے،بدقسمتی سے گزشتہ چند ماہ میں پیش آئے واقعات پارٹی پر عوامی اعتماد میں کمی کا باعث بنے۔

    اس کے علاوہ کنزر ویٹو پارٹی کے وائس چیئرمین بین ایفلومی بھی عہدے سے مستعفی ہوگئے جبکہ جوناتھن گولیس اور نکولا رچرڈسن نے بھی پرائیویٹ پارلیمنٹری سیکرٹری کے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ بین ایفلومی نے وزیراعظم بورس جانسن سے بھی استعفے کا مطالبہ کردیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ کے دو اہم وزراء نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا۔ ہیلتھ سیکرٹری ساجد جاوید اور برطانوی وزیر خزانہ رشی سونک اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ان استعفوں کے بعد بورس جانسن کی حکومت بہت زیادہ کمزور دکھائی دیتی ہے-

    روس ، یوکرین تنازعہ:جنگ عظیم دوم کے پہلی مرتبہ جرمنی کا تجارتی خسارہ 3کھرب روپے تک پہنچ گیا

    برطانوی میڈیاکا کہنا ہے کہ اس معاملہ اس وقت شدت اختیارکرگیاجب ایک وزیر پر جنسی بد سلوکی کی شکایت سے متعلق تازہ ترین اسکینڈل کے لیے معافی مانگنے کی کوشش کی تھی استعفے اس وقت سامنے آئے جب جانسن اس بات پر معافی مانگ رہے تھے کہ ان کے خلاف جنسی بدتمیزی کی شکایات سامنے آنے کے بعد یہ نہ سمجھ کر کہ سابق وہپ کرس پنچر حکومت میں ملازمت کے لیے نا مناسب تھے۔

    بورس جانسن کا کہنا تھا کہ یہ کرنا غلط کام تھا۔ جانسن نے براڈکاسٹروں کو بتایا کہ میں ہر اس شخص سے معذرت خواہ ہوں جو اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں-

  • حنا ربانی کھر کی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات

    حنا ربانی کھر کی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات

    روانڈآ:دولت مشترکہ سربراہانِ مملکت اجلاس کے موقع پر وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی افریقی ملک روانڈا میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات ہوئی ہے۔

    حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیراعظم سے ملاقات خوشگوار رہی، ملاقات میں پاک برطانیہ تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور دونوں ملکوں کے ہمہ جہت عوامی رابطوں کے پُل کو مزید استحکام دینے پر اتفاق ہوا۔انہوں نے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم سے افغانستان اور دیگر مشترکہ امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    پاکستان اور برطانیہ نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ مفاہمت وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر اور برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے درمیان کیگالی، روانڈا میں 26ویں دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس (سی ایچ او جی ایم) کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں طے پائی۔

    ٹویٹر پر ایک مختصر بیان میں، کھر نے CHOGM میں کہا، دونوں رہنماؤں نے "پاک-برطانیہ تجارت، اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور ڈائنامک ڈائیسپورا پل سے مزید فائدہ اٹھانے” پر اتفاق کیا۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ "…افغانستان اور مشترکہ تشویش کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔”

     

    حناربانی کھر نے کامن ویلتھ فارن افیئرز منسٹریل میٹنگ (سی ایف اے ایم ایم) میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، جہاں انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے خاندان کے طور پر، دولت مشترکہ کو اقوام متحدہ کی مرکزیت کی تصدیق کرنی چاہیے، اور جمہوریت، قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اور اقوام کے اندر اور ان کے درمیان استحکام، امن اور خوشحالی کی بنیاد کے طور پر انسانی حقوق کا احترام لازمی قراردیا

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدار، خاص طور پر انسانی حقوق کا احترام، بشمول حق خود ارادیت، تب ہی اپنے مقصد کو حاصل کریں گے جب ان کا اطلاق عالمی سطح پر اور بلا امتیاز کیا جائے۔

    جانسن کے ساتھ ملاقات کےعلاوہ وزیر مملکت نے برطانیہ کے وزیر برائے جنوبی ایشیا، دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ کے لارڈ طارق احمد، جمیکا کی وزیر خارجہ کمینا جانسن اسمتھ، ڈومینیکا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر کینتھ ڈیروکس اور خارجہ کے ساتھ مفید دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ سیرا لیون کے وزیر پروفیسر ڈیوڈ جے فرانسس۔

    دولت مشترکہ 54 ریاستوں کی ایک تنظیم ہے جو مشترکہ اقدار کے ساتھ مل کر شامل ہیں۔ حکومتی سربراہان کا اجلاس تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے، جس سے یہ وبائی امراض کے بعد کی مدت میں دولت مشترکہ کا پہلا اجتماع ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    اپنے دفتر میں سالگرہ کی بے تکلفانہ تقریب کرکے اپنی ہی عائد کی گئی کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملے کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ ہاؤس آف کامنز میں ہوئی اور ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے شروع ہوا جو 12 بجے تک جاری رہا عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجے سامنے آیا جس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

    برطانوی میڈیا کے مطابق 211 ارکان بورس جانسن کے حق میں جبکہ 148 نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکارتھے عدم اعتماد میں 59 فیصد کنزرویٹو ایم پیز نے جانسن کے حق میں جبکہ 41 فیصد نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔

    اس سے قبل برطانوی ‘ 1922کمیٹی’ کے سربراہ سر گراہم بریڈی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے انہیں بورس جانسن کیخلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے لکھے خطوں کی حد درکار 15 فیصد تک پہنچ گئی دوسری جانب لیڈر آف اسکاٹش کنزرویٹیو ڈگلس روز نے بورس جانسن کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کردیا تھا۔

    امریکا میں فائرنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ،مزید دو واقعات میں 6 افراد ہلاک متعدد زخمی

    قبل ازیں کنزرویٹو قانون سازوں کی ایک کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی کے ذریعہ اعلان کردہ اس اقدام کا اعلان کئی مہینوں کے بحران کے بعد کیا گیا اور ان دعوؤں کے درمیان سامنے آیا کہ مسٹر جانسن نےکورونا وائرس کی وبا کے عروج پرڈاؤننگ سٹریٹ میں منعقدہ لاک ڈاؤن توڑنے والی جماعتوں کے بارے میں پارلیمنٹ کو گمراہ کیا۔

    مسٹر جانسن اس سال پہلے حاضر سروس وزیراعظم بنے جنہیں اپنی سالگرہ منانے کے لیے ایک اجتماع میں شرکت کرکے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے جرمانہ کی اور پچھلے مہینے ایک سینئر سرکاری ملازم، سیو گرے کی ایک رپورٹ نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں قانون شکنی کرنے والی پارٹیوں کی ایک دلفریب تصویر پینٹ کی تھی جہاں عملے کے ارکان نے بہت زیادہ شراب نوشی کی، املاک کو نقصان پہنچایا اور ایک موقع پر آپس میں لڑ پڑے۔

    بڑھتی ہوئی مہنگائی سمیت شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، مسٹر جانسن کی ذاتی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور جب وہ گزشتہ جمعہ کو ملکہ الزبتھ کی پلاٹینم جوبلی کے لیے تشکر کی خدمت میں پہنچے تو اس میں کچھ اضافہ ہوا۔

    مسٹر بریڈی نے ایک بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کے 15 فیصد سے زیادہ کنزرویٹو ممبران نے اعتماد کا ووٹ طلب کیا تھا، جس نے ووٹ ڈالنے کے لیے ضروری حد کو عبور کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ووٹنگ پیر کی شام 6 سے 8 بجے کے درمیان ہوگی۔

    وزیرِ اعظم نے جاپانی کمپنیوں کےمسائل حل کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی

    مسٹر جانسن کو اب اپنا قائد رہنے کے لیے اپنی کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کے ووٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ اس کا اب بھی مطلب ہے کہ اس کے پاس جیتنے کا اچھا موقع ہے کیونکہ اس کے مخالفین کو اسے گرانے کے لیے تقریباً 180 ووٹ اکٹھے کرنے ہوں گے، اور اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔

    ووٹ خفیہ ہو گا، یہاں تک کہ وہ لوگ جو عوامی طور پر وفاداری کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر وہ چاہیں تو خاموشی سے اپنی حمایت واپس لے سکتے ہیں۔ اگر وہ ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کی جگہ پارٹی سربراہ اور وزیر اعظم کے لیے مقابلہ ہو گا۔

    اپنے استعفیٰ کے مطالبات اور رائے شماری کی درجہ بندی میں کمی کے باوجود، مسٹر جانسن نے اپنے رویے پر اندرونی تنقید کو روکنے اور اعتماد کا ووٹ لینے سے روکنے کے لیے سخت جدوجہد کی تھی۔

    عدم اعتماد سے پہلے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اراکین پارلیمنٹ کے سامنے اپنا کیس پیش کرنے کے موقع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ عدم اعتماد کی ووٹنگ سے وزیراعظم کی قیادت سے متعلق قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔

    اچانک امریکی صدر بائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل ملتوی

    برطانوی وزیر خارجہ اور وزیر صحت سمیت کئی ارکان نے پہلے ہی اپنے وزیر اعظم کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ کورونا کے بعد بحالی اور روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت پر کئی ارکان بورس جانسن کے حق میں ہیں۔

    تاہم اپوزیشن سمیت حکمراں جماعت کےکچھ ارکان بورس جانسن کے رویے سےکچھ زیادہ خوش نہیں بالخصوص کورونا پابندیوں کےدوران ملکہ برطانیہ کے شوہر کے انتقال کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے اپنے دفتر میں بے تکلفانہ تقریب پر سب ناراض ہیں۔

    اس معاملے کو اس لیے بھی ہوا ملی کہ وزیر اعظم بورس جانسن اپنی غلطی منانے میں تاخیر سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ انھیں اپوزیشن کی جانب سے مواخذے کی دھمکی بھی ملی تب کہیں جاکر بورس جانسن نے معافی مانگی۔

    برطانیہ میں تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اراکین اس بات پر ووٹ دیتے ہیں کہ آیا وہ موجودہ لیڈر کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    بنگلہ دیش: کمپنی میں آتشزدگی اور دھماکا،5 افراد ہلاک 100 سے زائد زخمی

    کنزرویٹو پارٹی کے قوانین کے تحت، اگر اراکین پارلیمنٹ اپنے لیڈر سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو 1922 کی کمیٹی کے سربراہ کو عدم اعتماد کا ایک خفیہ خط جمع کراتے ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے والوں کا نام صیغہ راز میں رہتا ہے۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف تحریک اعتماد ان کی پارٹی کے 15 فیصد ارکان کی حمایت سے پیش ہوئی ہے۔ جس کے لیے 54 عدم اعتماد کے خطوط حاصل 1922 کی کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی کو پیش کیے گئے تھے۔

    بورس جانسن نے 2019 میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا اور انھیں عہدے سے ہٹانے کے لیے 180 کنزرویٹو اراکان کے ووٹ درکار ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بورس جانسن اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب بھی ہوگئے تو وہ کمزور وزیراعظم ثابت ہوں گے-

    یوکرین پر حملہ:پوتن نے تاریخی غلطی کی: فرانسیسی صدرمیکروں