Baaghi TV

Tag: بورس جانسن

  • بریگزٹ ڈیل: سنیئر وزیر امبر رُڈ احتجاجاً مستعفی ، بورس جانس سخت مشکلات میں

    بریگزٹ ڈیل: سنیئر وزیر امبر رُڈ احتجاجاً مستعفی ، بورس جانس سخت مشکلات میں

    لندن: ایک اور برطانوی وزیراعظم بریگزیٹ ڈیل کی نزر ہونے کے لیے تیار ، اطلاعات کے مطابق بریگزٹ ڈیل ایک اور برطانوی وزیر اعظم کے لیے خطرہ بن گئی ہے، سنیئر وزیر امبر رُڈ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، پارٹی بھی چھوڑ دی۔تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے بھی بریگزٹ ڈیل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، سینئر وزیر امبر رُڈ نے استعفیٰ دے کر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    افغان طالبان باتوں باتوں میں‌ بہت مارتے ہیں‌، ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان ، باغی ٹی وی کا دعویٰ سچ نکلا

    بورس جانسن کی ساتھی سنیر وزیر امبر رُڈ نے کہا کہ پارٹی سے وفادار لوگوں کو نکالنے پر میں خاموش نہیں رہ سکتی، نہ بورس جانسن کی سیاسی غارت گری کی حمایت کر سکتی ہوں۔سینئر وزیر نے وزیر اعظم کو بھیجے اپنے استعفے میں کہا کہ وہ کنزرویٹو پارٹی ارکان کے ساتھ ان کے برتاؤ اور بریگزٹ کے طریقہ کار کو سپورٹ نہیں کر سکتی، یہ سیاسی غارت گری کا ایک عمل ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بورس جانسن نے پارلیمنٹ میں ناکامی پر 21 باغی اراکین کو پارٹی سے نکال دیا تھا، جن کے بارے میں امبر رُڈ کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی کے وفادار اراکین تھے۔امبر رڈ کا استعفیٰ وزیر اعظم کے بھائی جو جانسن کے استعفے کے بعد آیا ہے، جنھوں نے پارلیمنٹ سے مستعفی ہوتے ہوئے کہا کہ وہ خاندان کی وفاداری اور قومی مفاد کے درمیان بٹ گئے ہیں۔

  • بریگزٹ میں توسیع مانگنے سے بہتر ہے کہ میں کھائی میں کود کر مرجاؤں’ ، بورس جانسن نے تو حد کردی

    بریگزٹ میں توسیع مانگنے سے بہتر ہے کہ میں کھائی میں کود کر مرجاؤں’ ، بورس جانسن نے تو حد کردی

    لندن : برطانوی وزیراعظم مشکل میں پھنس گئے ، دوسری طرف برطانوی وزیراعظم بورس جانسن یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر ڈٹ گئے، کہا کہ بریگزٹ میں توسیع مانگنے سے بہتر ہے کہ میں کھائی میں کود کر مرجاؤں۔بورس جانسن نے پولیس ریکروٹس کی بھرتیوں کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ برسلز جا کر بریگزٹ میں توسیع مانگنے سے بہتر ہوگا کہ میں کسی کھائی میں کود کر مر جاؤں۔

    بورس جانسن نے انکشاف کیا کہ یورپی یونین کا حصہ رہنے سے ماہانہ ایک ارب پاؤنڈز کا نقصان ہوتا ہے، یورپ سے مذاکرات کرنے کی صلاحیت کو پارلیمانی ووٹ سے بڑا دھچکا لگا ہے، بریگزٹ کا مسئلہ 3 برس سے جاری ہے، وقت آگیا ہے کہ عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے۔برطانوی وزیراعظم کی تقریر کے دوران خاتون پولیس ریکروٹ کی طبیعت ناساز ہوگئی جس کے بعد وزیراعظم نے میڈیا سیشن ختم کر دیا۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر آپ کا بھائی ہی آپ کے ساتھ نہیں تو پھر عوام کیوں ساتھ دیں ؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جو جانسن یورپی یونین کے بارے میں میرے خیالات سے متفق نہیں اس لیے وہ مستعفی ہوئے۔

    یاد رہے کہ بورس جانسن 31 اکتوبر کو ہر حال میں یورپی یونین سے علیحدگی چاہتے ہیں چاہے یورپی یونین سے انخلاء سے متعلق معاہدہ طے پائے یا نہ پائے جبکہ اپوزیشن بغیر معاہدہ بریگزٹ کی مخالف ہے اور تاریخ میں توسیع چاہتی ہے۔

  • برطانوی وزیر اعطم نے پارٹی کے 21 ارکان کو نکال دیا

    برطانوی وزیر اعطم نے پارٹی کے 21 ارکان کو نکال دیا

    لندن : بریکزٹ نو منتخب برطانوی وزیراعظم کو لے ڈوبا ، برطانوی وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کے اکیس ارکان کو بیک وقت پارٹی سے نکال دیا ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق بورس جانسن نے یہ فیصلہ، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نوڈیل بریگزٹ کی شدید مخالفت کے بعد کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے نوڈیل بریگزٹ کی مخالفت کرنے والے کنزرویٹو ارکان نے پارلیمنٹ میں اپنا الگ دھڑا بنالیا ہے جس پر بورس جانسن چراغ پا ہوگئے ہیں۔کہا جارہا ہے بوریس جانسن کا یہ اقدام ملک میں قبل از وقت انتخابات کی صورت میں خود ان کی ناکامی پر منتج ہوگا جو پہلے ہی ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن نے اکیس ارکان کو پارٹی نکالنے کے علاوہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کرانے کی بھی دھمکی دی ہے۔برطانوی پارلیمنٹ نے گزشتہ روز تین سو ایک کے مقابلے میں تین سو اٹھائیس ووٹوں سے ایک بل پاس کیا تھا جس کی رو سے ایک اور بل پارلیمنٹ میں لایا جائے جس میں وزیراعظم بورس جانسن کو بریگزٹ کے لیے مزید مذاکرات کا پابند بنایا جائے گا۔

  • جیرمی کوربن نے بورس جانس کو گرانے کا منصوبہ بنا لیا ،

    جیرمی کوربن نے بورس جانس کو گرانے کا منصوبہ بنا لیا ،

    لندن : برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن کو آتے ہی مشکلات کا سامنا، برطانیہ میں حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے وزیراعظم بورس جانسن کے مواخذے کا مطالبہ کردیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کے معاملے میں حزب اختلاف پر یورپی یونین کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق لیبر پارٹی کے رہنما اور قائد حزب اختلاف جیرمی کوربن نے ایوان نمائندگان کے نام ایک خط میں اپیل کی ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کا مواخذہ کیا جائے۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر معاہدے کے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے منصوبے کی مخالفت کریں۔جیرمی کوربن نے کہا کہ وہ جلد ہی ایوان میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دیں گے۔

  • برطانیہ:نئے وزیراعظم کے انتخاب پر کئی وزراء مستعفی بورس جانسن کی مشکلات میں اضافہ

    برطانیہ:نئے وزیراعظم کے انتخاب پر کئی وزراء مستعفی بورس جانسن کی مشکلات میں اضافہ

    لندن :برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کو آتے ہی مشکلات کا سامنا ،وزرا کو بورس جانسن کی تعیناتی پر اعتراض، رپورٹ کے مطابق کچھ وزراء نے بورس جانسن کی نامزدگی پر اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے ان میں فارن آفس منسٹر سر الان ڈنکین، وزیر تعلیم اینی ملٹن، چانسلر پلپ ہموند اور جسٹس سیکرٹری ڈیوڈ گوئیکے شامل ہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیرخارجہ بورس جانسن نے 92 ہزار سے زائد ووٹ لے کر اپنے مدمقابل وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کو شکست دے دی، جیرمی ہنٹ کو 47 ہزار ووٹ پڑے۔ بورس جانسن آج اپنا عہدہ سنبھال لیں گے جب کہ تھریسامے کا بطور وزیراعظم کل آخری دن تھا۔ 10 امیدوار میدان میں تھے تاہم مختلف مراحل میں ہونے والے اس انتخاب کے آخر تک پہنچتے پہنچتے صرف 2 امیدوار جیرمی ہنٹ اور بورس جانسن میدان میں رہ گئے۔ یوں یہ مقابلہ موجودہ اور سابق وزرائے خارجہ کے درمیان ہوا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم تھریسامے کی بریگزٹ ڈیل کو شدید عوامی مخالفت کے علاوہ اپوزیشن اور اپنی کابینہ کے وزراء کی ناراضگی کا سامنا بھی تھا اور بار بار پیدا ہونے والے بحران پر تھریسامے نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔دوسری طرف بورس جانس برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے کٹر حامی رہے ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اکتیس اکتوبر تک حتی بغیر معاہدے کے بھی یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر لی جائے گی۔55 سالہ بورس جانسن 2016 سے 2018 کے درمیان بطور وزیر خارجہ خدمات انجام دیتے آئے ہیں تاہم وزیراعظم تھریسامے کی ’بریگزٹ ڈیل‘ سے اختلافات کے باعث مستعفی ہوگئے تھے جب کہ وہ 2008 سے 2016 تک لندن کے میئر بھی رہے۔