Baaghi TV

Tag: بورس جانسن

  • برطانوی عوام سے بدعہدی نے بورس جانسن کوکہیں کا نہیں چھوڑا:طنز،رسوائی اورندامت کا سامنا

    برطانوی عوام سے بدعہدی نے بورس جانسن کوکہیں کا نہیں چھوڑا:طنز،رسوائی اورندامت کا سامنا

    لندن :برطانوی عوام سے بدعہدی نے بورس جانسن کوکہیں کا نہیں چھوڑا:طنز،رسوائی اورندامت کا سامنا،اطلاعات ہیں کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس وقت سخت مشکل میں ہیں اور ان کوشدید پریشانی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا ملکہ برطانیہ کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پرسابق وزرائے اعظم خدمت میں پہنچنےتو استقبال میں ہلکی تالیاں وصول کیں،اس کےبرعکس جب جانسن اور ان کی اہلیہ کیری پہنچے تو استقبال کرنے والے شاہی مداحوں کے ایک بڑے ہجوم کی طرف سے قہقہوں اور طنز کا سامنا کرنا پڑا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کل جب ملکہ برطانیہ ملکہ الزبتھ سے ملاقات کے لیے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پہنچے تو اس وقت بورس جانسن کو بہت زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب وہاں موجود لوگوں نے برطانوی وزیراعظم پر جملے کسے اور طنزا بڑے زور زور سے قہقے لگائے کہ یہ وہ وزیراعظم ہے جواپنی عوام سے غلط بیانی کرتا ہے ،یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس دوران جب ہال میں ایک طرف ملکہ برطانیہ بھی تشریف فرما تھیں اور وہاں سابق وزرائے اعظم بھی موجود تھے بورس جانسن کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب عوام نے ان کو ان کی اوقات یاد کرادی

    یاد رہے کہ اس کے باوجود کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو کئی مرتبہ معافی بھی مانگی پڑی لیکن عوامی غصے اور ردعمل میں کوئی کمی دیکھنے کو نہیں مل رہی. بورس جانسن کےعملے نے قومی COVID-19 لاک ڈاؤن کے دوران قاعدہ توڑنے والی پارٹیوں کا انعقاد کیا ، اور اسے خود ایک تقریب میں شرکت کرنے پر پولیس جرمانہ بھی ہوا۔

    ان کی اپنی پارٹی میں قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جانسن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، قیاس آرائیوں کے ساتھ کہ انہیں قائدانہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔لیکن ابھی تک بورس جانسن ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے وہ اپنے مخالفین کی باتوں کوٹال مٹول سے نبھا رہے ہیں ، لیکن کل کے عمل نے بورس جانسن کوبہت زیادہ پریشان کیا ہے جب ملکہ برطانیہ کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پرسابق وزرائے اعظم اور برطانوی شاہی خاندان کے علاوہ دنیا کے بڑے بڑے مہمان مدعو تھے ، کل کی صورت حال کو دیکھ کریہ کہا جارہا ہےکہ ہوسکتا ہے کہ بورس جانسن اب استعفیٰ دے کراپنے کھوئی ہوئی پزیرائی دوبارہ حاصل کرلریں‌

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    روس دو لاکھ یوکرینی بچے جبری اٹھاکرلے گیا ہے:یوکرین

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان

    طوفانی بادل بورس جانسن کے لیے جمع ہو رہے ہیں کیونکہ ٹوری ایم پیز جوبلی ویک اینڈ پر ان کی قسمت پر غور کر رہے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو کنزرویٹو پارٹی کے سینیئر عہدے داران نے خبردار کیا ہے کے ان کے لاک ڈاؤن کی قانون شکنی پر مبنی پارٹی گیٹ سکینڈل کی وجہ سے ان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

    اس حوالے سے برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ لارڈ ہے ووڈ نے ویسٹ منسٹر میں اپنی ٹوری پارٹی کے ساتھیوں سے بات چیت کے بعد میڈیا کو ایک انٹرویو میں بتایا ، کہ برطانوی“وزیراعظم بورس جانسن کی حمایت میں واضح کمی آئی ہے مجھے توقع ہے کہ ان کی قیادت کو چیلنج درپیش ہوگا

    ۔ انہوں نے مزید کہا یہ کہانی ختم ہونے والی نہیں ہےاب تو بورس جانسن کو گھر جانا ہی ہوگا اور ویسے بھی اپوزیشن صرف اس کے بارے میں تنقید کرتی رہے گی اس صورتحال سے لیبر پارٹی کے رہنما سر کیئر اسٹارمر کو اور ان کی پارٹی کو الیکشن میں فائدہ پہنچے گا ٹوری پارٹی کے ایک رہنما ڈاکٹر انتھونی مولن نے کہا، ” مسٹر جانسن پارٹی کے لئے شرمندگی بن گئے ہیں لہذا نیا لیڈر ناگزیر ہے کیونکہ اب برطانوی عوام کے پاس قانون شکن وزیراعظم نہیں ہو سکتا۔”

    اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کو متحرک کرنے کے لیۓ 54 خطوط جو کنزرویٹو پارٹی کے بیک بینچرز کمیٹی کے ارکان کو بھیجے جائیں گے، جو کہ کنزرویٹو پارٹی کے کل 180 پارلیمنٹ ممبران کی اکثریت ہیں، ان بیک بینچرز ممبران کو مسٹر جانسن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف ووٹ کو متحرک کریں گے ۔ سابق ٹوری چیف وہپ مارک ہارپر جنہوں نے بورس کو استعفٰی دینے کا مطالبہ کیا ہے ،

    شاید یہی وجہ ہے کہ ویسٹ منسٹر میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ ملکہ کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات ختم ہونے کے بعد بہت جلد یعنی اگلے ہفتے عدم اعتماد کا ووٹ ہو سکتا ہے۔ڈپٹی پی ایم ڈومینک رااب نے آج اصرار کیا کہ کرنچ بیلٹ نہیں ہوگا اور مسٹر جانسن اگلے انتخابات میں ٹوریز کی قیادت کریں گے۔

    بورس جانسن کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اب بھی اقتدار پر قائم رہ سکتے ہیں یہاں تک کہ اگر عدم اعتماد کا ووٹ بھی لیا جائے۔

    کنزرویٹو عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے قرار داد پیش کرسکتے ہیں اگر 15% ایم پیز ٹوری بیک بینچرز کی 1922 کی کمیٹی کے چیئرمین سر گراہم بریڈی کو خط لکھیں۔کنزرویٹو ارکان کی تعداد 359 ہے، یعنی صرف 54 کو خط بھیجنے کی ضرورت ہے۔

    1922 کمیٹی کا باس اس وقت ایک اعلان کرے گا جب خطوط دہلیز پر پہنچیں گے، جس سے اراکین پارلیمنٹ کی خفیہ رائے شماری ہو گی۔جس کے بعد بورس جانسن کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کیا وہ اپنا اعتماد کھو چکےہیں یا وہ اپوزیشن کوشکست دینے میں کامیاب ہوتے ہیں ، لیکن امکان یہی ہے کہ بورس جانسن کو اپنی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے گا

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • بھارت: بورس جانسن کو بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی:اپنے ہی ناراض ہوگئے

    بھارت: بورس جانسن کو بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی:اپنے ہی ناراض ہوگئے

    لندن: بھارت: بورس جانسن کو بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی:انسانی حقوق کی تنظیموں کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو بھارت میں جے سی بی بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کی کارروائی سرخیوں میں ہے وہاں برطانیہ میں بھی بلڈوزر کے چرچے ہونے لگے ہیں۔

     

    گزشتہ دنوں جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھارت کے دورے کے دوران جے سی بی کی سواری کی تو ان کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں، جس پر برطانیہ میں اپوزیشن پارٹی نے اس عمل کے لیے وزیر اعظم بورس جانسن سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

     

    بورس جانسن کو برطانیہ میں 2 خواتین ممبران پارلیمنٹ نے ایسے دنوں میں گجرات میں ایک جے سی بی فیکٹری کے دورے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جب فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کرایا گیا۔

     

     

    لیبر پارٹی کی ایم پیز نادیہ وہٹوم اور زارا سلطانہ نے سوال کیا کہ کیا برطانوی وزیر اعظم نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ گھروں اور دکانوں کی مسماری کا معاملہ اٹھایا؟

    خیال رہے کہ جے سی بی برطانیہ کے جے سی بیمفورڈ ایکسکیویٹر کی مکمل ملکیت والی کمپنی ہے۔ جانسن کے جے سی بی کی سواری کرنے پر سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کیوں کہ اس کمپنی کے بلڈوزر کا استعمال جہانگیر پورا میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے لیے کیا گیا تھا، حالاں کہ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو فوراً روکنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔

    واضح رہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت حکومتوں اور شہری اداروں کا اصرار تھا کہ یہ مسماری تجاوزات کو ہٹانے کے لیے کی گئی تھی، تاہم اپوزیشن اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پر پابندی عائد کردی گئی

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پر پابندی عائد کردی گئی

    ماسکو: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پر پابندی عائد کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق صدر پوٹن کے حکم پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور متعدد اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے روس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین پر حملے کے بعد برطانیہ نے روس پر اقتصادی اور معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جس کے جواب میں روس نے بھی برطانیہ پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش میں برطانیہ جھوٹی معلومات اور غلط سیاسی مہم چلا رہا ہے جس کے باعث برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور متعدد اعلیٰ برطانوی حکومتی عہدیداروں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    خیال رہے کہ 9 اپریل کو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے یوکرین کا دورہ کیا تھا اور صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ہمراہ یوکرین کی سڑکوں پر گشت کیا تھا اور عوام سے بھی ملاقات کی تھی۔

    روس نے امریکا سمیت عالمی قوتوں کے دباؤ کے باوجود فروری کے آخر میں یوکرین پر حملہ کردیا تھا اور مبینہ طور پر جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قصبوں سے اجتماعی قبریں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

    یوکرینی صدر نے روسی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی قوتوں سے جنگی اسلحہ اور ساز و سامان کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کوجرمانہ:پاکستانی نظام عدل کوپیغام:ایک نہیں دوپاکستان؟:غلامی زندہ باد

    برطانوی وزیراعظم کوجرمانہ:پاکستانی نظام عدل کوپیغام:ایک نہیں دوپاکستان؟:غلامی زندہ باد

    لندن:(امین طاہرسے)برطانوی وزیراعظم کوجرمانہ:پاکستان کی عدالت عظمیٰ اوراداروں کے لیے پیغام،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن اور چانسلر رشی سنک کو لاک ڈاؤن کے دوران پارٹیوں میں شرکت کرنے پرقانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت جرمانہ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے

    میٹروپولیٹن پولیس ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وائٹ ہال میں ہونے والے 12 اجتماعات کی تحقیقات کر رہی ہے جس نے مبینہ طور پر کوویڈ کے قوانین کو توڑا ہے۔

    برطانیہ جہاں قانون سب کے لیے ایک ہے وہان برطانوی وزیراعظم کے والد کو بھی سخت جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی ورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے والد سٹینلے جانسن کو43 ہزار روپے کا جرمانہ کر دیا گیا۔

     

    برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کے والد سٹینلے جانسن کو بغیر ماسک پہنے خریداری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    اناسی سالہ سٹینلے جانسن نے چند ماہ قبل بھی سفر کے دوران کورونا ایس او پیز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا۔ وزیر اعظم بورس جانسن کے والد نے اپنی غلطی مانتے ہوئے معذرت کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 3 ہفتے انگلینڈ سے باہر گزار کے آئے ہیں، واپسی کے فوراً بعد ان سے نئے قوانین کو سمجھنے میں بھول چوک ہوئی اور وہ خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔

    اب تک، سرکاری عمارتوں میں کووڈ قانون کی خلاف ورزی پر کل 50 سے زائد جرمانے کیے جا چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا جس میں ایک سینئر معاون نے 100 سے زیادہ ساتھیوں کو 20 مئی 2020 کو ہونے والے پروگرام میں مدعو کیا تھا اور انہیں اپنی شراب ساتھ لانے کی ترغیب دی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا تھا جب حکومت عوام کو کھلے مقامات پر بھی ملاقاتیں نہ کرنے کا حکم دے رہی تھی، اور جنازوں سمیت سماجی میل جول پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔

    یہ پارٹی کورونا سے متاثر بورس جانسن کے انتہائی نگہداشت سے باہر آنے کے صرف ایک ماہ بعد منعقد کی گئی تھی، اور کچھ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ اس پارٹی کا انعقاد ان کی واپسی پر ’ویلکم بیک‘ ایونٹ کے طور پر کیا گیا تھا۔

    اس وقت پولیس کورونا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کر رہی تھی اور ان کے پاس بار بار قانون توڑنے یا سنگین خلاف وزریوں میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا بھی اختیار تھا۔

     

    دوسری طرف پاکستان کی عدالت عظمی اور دیگرماتحت نظام عدل کے منہ پرطمانچہ ہے جہاں انصاف اور ریلیف صرف طاقتور کے لیے ہے اورسزا غریب اوربے سہارا شخص کےلیے ، اس کی تازہ مثال نومنتخب ہونےوالے وزیراعظم شہبازشریف پر16 ارب کی منی لانڈرنگ کے ثبوت ملنے کے باوجود عدالت عظمیٰ نے سب کچھ معاف اور استثنیٰ دیتے ہوئے معصوم عن الخطا قراردیتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایک نہیں دو پاکستان

  • سعودی عرب اور برطانیہ میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام کا سمجھوتہ

    سعودی عرب اور برطانیہ میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام کا سمجھوتہ

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جانسن نے یوکرین میں جاری جنگ سمیت تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے الریاض میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اوراسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پردستخط کیے ۔

    سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد اور جانسن نے یوکرین میں جاری جنگ سمیت تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پرگفتگو کی ۔

    ملاقات میں سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان،برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندربن سلطان سمیت سعودی حکام اور برطانیہ کے الریاض میں سفیر نیل کرمپٹن سمیت برطانوی حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کو سرکاری دورے پر الریاض پہنچے تو ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر الریاض ریجن کے ڈپٹی گورنرشہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن اور مملکت میں برطانیہ کے سفیر نیل کرمپٹن اور دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔


    قبل ازیں بورس جانسن نے ابوظبی میں یو اے ای کے حقیقی حکمران شیخ محمد بن زاید سے یوکرین جنگ کے تناظر میں توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام پرتبادلہ خیال کیا تھا۔ان کے دورے کا مقصد یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی تیل اور گیس کی برآمدات پرامریکا اور یورپ کی پابندیوں کے نفاذ کےبعد تیل کے عرب برآمد کنندگان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانا ہے۔

  • پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے

    پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے

    لندن:پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے ،اطلاعات کے مطابق بورس جانسن اس وقت سخت مشکل میں ہیں،بورس جانسن کے پرائیویٹ سیکرٹری اس وقت پولیس کی گرفت میں‌ آنے والے اور بورس جانسن کے متعلق خاص خاص اہم ایشوز کے حوالے سے جوباتیں افشاں کرچکے تھے اب اسے پولیس کی تحقیقات کے خطرے کا سامنا ہے

    اس حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ بورس جانسن کے پرائیویٹ سیکرٹری نے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران 100افراد کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ‘BYOB’ میں مدعو کیا تھا

    یاد رہے کہ پچھلے سال 20 مئی 2020 کوبورس جانسن کے حوالے سے پرائیویٹ سیکرٹری نے یہ خبربریک کی تھی کہ وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ اکٹھ کیا تھا

    دوسری طرف یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ اس تقریب سے متعلق ای میل بورس جانسن کے لیے بدنامی اور بیڈ گورننس کا سبب بنی تھی ،ان خبروں کے بعد یہ بھی کہا جارہا تھا کہ بورس جانسن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیں اور پھرآج وہ دن بھی بورس جانسن نے دیکھ لیا جب لندن پولیس نے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے

    یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب اس وقت صرف دو افراد کو باہر سماجی رابطے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ انگلینڈ کے کوویڈ کی روک تھام کے تحت کم از کم دو میٹر کے فاصلے پر۔ ‘ضروری کام کے مقاصد’ کے لیے ایک چھوٹ تھی،

    یہ بھی ایک پریشانی کی بات ہے کہ جب کل بورس جانسن اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے سلسلے میں پہنچے تو لوگوں نے سوال کیا کہ جناب کیا ایس او پیز صرف ہمارے لیے ہی ہیں‌، لوگوں نےیہ بھی سوالات کئے کہ بورس جانسن کی اہلیہ کیری اور 30-40 عملے کے ساتھ اس اجتماع میں شریک ہوئے جنہوں نے مشروبات، کرسپس اور ساسیج رولز پر کھانا کھایا –

    اب پولیس انہیں الزامات کی تحقیقات کرنے جارہی ہے اور یہ امکان ہے کہ بورس جانسن کو خفگی اٹھانا پڑسکتی ہے

    دوسری طرف بورس جانسن کے وکلاء نے مشورہ دیا ہے کہ وزیر اعظم نے اس وقت قانون نہیں توڑا تھا ،کیونکہ یہ بورس جانسن نے کورونا سے بچاو کے حوالے سے ہی کیا تھا جو کہ ان کا استحقاق تھا

    وزیراعظم کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ہاوس آف کامنز میں ایک فوری سوال کرنے کی اجازت دی گئی ہے – حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم ذاتی طور پر جواب نہیں دیں گے۔

    وزیر صحت ایڈورڈ آرگر نے آج صبح انٹرویو کے ایک دور میں کہا کہ وہ ان الزامات پر عوام کے ‘غصے’ کو سمجھتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ذاتی طور پر مئی 2020 میں کسی بھی مجلس میں موجود نہیں تھے البتہ زوم کے ذریعے لنک تھے جو کہ درست ہے

    دوسری طرف سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ وزیراعظم کی طرف سے دی گئی ضیافت کے پروگرام کی رپورٹس پر اب ‘کیبنٹ آفس سے رابطے میں ہیں’۔ دوسری طرف یہ بھی سُننے کو مل رہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کر رہی ہے کہ آیا مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں

    میٹ کے ترجمان نے کہا: ‘میٹرو پولیٹن پولیس سروس 20 مئی 2020 کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہیلتھ پروٹیکشن ریگولیشنز کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق وسیع پیمانے پر رپورٹنگ سے آگاہ ہے اور کیبنٹ آفس سے رابطے میں ہے۔’اور اگریہ ثابت ہوگیا کہ بورس جانسن نے غلط بیانی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے توبورس کا اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑسکتا ہے

  • وزیر اعظم  کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    وزیر اعظم کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    لندن :وزیر اعظم کے ہاں بیٹی کی پیدائش،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن بیٹی کے باپ بن گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور ان کی اہلیہ کیری نے بیٹی کی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بیٹی کی پیدائش جمعرات کی صبح میں ہوئی ہے اور ماں اور بیٹی دونوں بالکل صحت مند ہیں۔

    بورس جانسن کے وزیر اعظم بننے کے بعد یہ ان کا دوسرا بچہ ہے۔ اس سے قبل اپریل 2020 میں ان کے ہاں بیٹے (ولفریڈ) کی پیدائش ہوئی تھی۔

    بورس جانسن کے 2019 میں وزیر اعظم بننے کے بعد 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں منتقل ہونے والا یہ پہلا غیر شادی شدہ جوڑا تھا جو برطانوی وزیر اعظم کی لندن کی سرکاری رہائش گاہ پر اکٹھے رہنے لگا۔

    57 برس کے بورس جانسن اور 33 برس کی کیری نے مئی 2021 میں شادی کی تھی جو بورس کی تیسری جبکہ کیری کی پہلی شادی تھی۔

    بورس جانسن کے دوسری شادیوں سے کم از کم پانچ دیگر بچے بھی ہیں۔رواں صدی میں پیدا ہونے والا یہ چوتھا بچہ ہےجس کے والد موجودہ برطانوی وزیر اعظم ہیں۔

    اس سے قبل ٹونی بلیئر اور ڈیوڈ کیمرون کی بیویوں نے بھی اس وقت بچوں کو جنم دیا جب ان کے شوہر وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔

  • برطانوی پارلیمان میں‌ کوکین استعمال ہونے کا انکشاف:برطانوی وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    برطانوی پارلیمان میں‌ کوکین استعمال ہونے کا انکشاف:برطانوی وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    لندن : برطانوی پارلیمنٹ میں منشیات استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے پارلیمان کے 11 مقامات پر شواہد بھی ملے ہیں۔

    کیا برطانوی اراکین پارلیمنٹ یا پارلیمان عملہ ایوان کی عمارت میں منشیات کا استعمال کررہا ہے، برطانوی خبر رساں ادارے سنڈے ٹائمز نے چونکا دینے والے انکشاف کردئیے۔

    برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی پارلیمان کی عمارت میں ٹیسٹ کی گئی بارہ میں سے گیارہ جگہوں پر کوکین کے شواہد ملے، جن میں وزیر اعظم کے دفتر کے قریب واش روم بھی شامل ہیں۔

    اخبار نے پارلیمان میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اراکین پارلیمان اور اسٹاف میں منشیات کا استعمال عام ہے۔برطانوی حکومت نے ملک میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے 10 سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ملک میں کام کرنے والے 2 ہزار منشیات فروش گروہ کے خاتمے کی تیاری شروع کردی ہے، اس سلسلے میں 10 سالہ حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے، جس کے تحت پولیس شہر اور مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے منشیات فروش گروہ کے درمیان رابطوں کو توڑے گی۔

    برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے جو ملک میں ہونے والے جرائم کی وجہ ہیں، ان جرائم میں لوٹ مار اور قتل کے واقعات بھی شامل ہیں۔ جرائم کی ان وارداتوں سے ملک کو سالانہ 20 ارب پاوّنڈز کا نقصان ہوتا ہے۔

    10 سالہ حکمت عملی کے تحت پولیس کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ گرفتار افراد کے ٹیسٹ کرائیں، منشایت کے عادی افراد کو اس لعنت سے چھٹکارہ دلانے کے لئے انہیں خصوصی کورس کرائیں اور اگر وہ منشیات کا استعمال جاری رکھیں تو انہیں سزائیں دلوائیں۔

    نئی حکمت عملی کے تحت پولیس گرفتار کئے گئے منشیات فروش کا موبائل فون قبضے میں لے سکے گی، اس کے علاوہ پولیس کو اختیار بھی ہوگا کہ وہ اس موبائل فون کے ذریعے اس کے گاہکوں اور گروہ کے دیگر افراد سے رابطہ کرسکیں۔

    برطانوی وزیر اعظم نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملزمان کے ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ بھی ضبط کئے جاسکتے ہیں۔

    بورس جانسن کے لئے اس وقت ایک بڑا چیلنج برطانوی پارلیمنٹ میں منشیات فروشوں کی رسائی کو روکنا ہے، اس سلسلے میں انہوں نے چند روز قبل پارلیمنٹ میں خصوصی سراغ رساں کتے تعینات کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

    برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر سر لنڈسے ہوئلے نے اس حوالے سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے احاطے میں منشیات اور دیگر ممنوعہ چیزیں استعمال کی جارہی ہیں، پارلیمنٹ کے ان حصوں سے بھی منشیات کے استعمال کے آثار ملے ہیں جہاں صرف خصوصی اجازت کے حامل افراد ہی داخل ہوسکتے ہیں، وہ پارلیمنٹ میں اس منشیات کلچر کی چھان بین کریں گے، پولیس کو شواہد اکٹھے کرنے بلایا جائے گا۔

  • برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    لندن :برطانیہ میں اومی کرون بے قابوہونے لگا:برطانوی حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ہرآنے والا لمحہ بڑا خطرناک ثابت ہورہا ہے اورلندن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ برطانیہ میں نئے خطرناک ویئرنٹ جسے اومی کرون کا نام دیا گیا ہے کے 437 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ،

    ادھر اومی کرون کیے حملوں سے بچنے کےلیے برطانوی وزیرصحت نے حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ پابندیاں نافذ کرنے کا عندیہ دیا تھا ، جبکہ دوسری طرف برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے کہا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا

    برطانیہ کے وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ اب انگلینڈ کے تمام خطوں میں کورونا وائرس کے اومی کرون (Omicron) ویرینٹ کی کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوچکی ہے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا اس سے متاثر ہونے والے جلد صحت یاب ہوجائیں گے یا انھیں شدید خطرہ لاحق ہوگا۔

    وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانے کا دفاع کرتے ہوئے ساجد جاوید نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت ہمیشہ مستعد ہے۔ ہمارے سائنسدانوں نے اس قسم کا اندازہ لگایا، جس کی رپورٹ گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں پہلی بار سامنے آئی تھی۔

    برطانوی وزیرصحت ساجد جاوید نے کہا کہ ’’اب انگلینڈ میں اومی کرون کے437 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں‌۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں ایسے کیس بھی شامل ہیں جن کا بین الاقوامی سفر سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اب انگلینڈ کے متعدد خطوں میں کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوا ہے‘‘۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن (Boris Johnson) نے پیر کے روز کہا کہ اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے فی الحال مزید پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انہوں نے کرسمس سے قبل اس طرح کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آنے جانے والے تمام مسافروں کو روانگی سے قبل کورونا COVID-19 ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوگی جبکہ نائیجیریا، جنوبی افریقہ اور نو دیگر افریقی ممالک سے آنے والوں کو نئے ویرینٹ کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہوٹلوں میں قرنطینہ کرنا پڑے گا۔

    ادھر ساجد جاوید نے کہا کہ بین الاقوامی قرنطینہ کے لیے دستیاب ہوٹل کے کمروں کی تعداد اس ہفتے دگنی کر دی جائے گی اور حکومت جلد سے جلد اس صلاحیت کو بڑھا رہی ہے۔ جاوید نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت یقینی طور پر نہیں کہہ سکتی کہ آیا اومی کرون کووڈ ویکسین سے بچ جائے گا یا نہیں، یا یہ زیادہ شدید بیماری کا سبب بنتا ہے۔

    ادھر تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پہلے بورس جانسن سخت پابندیوں کو نافذ کرنے سے ہچکچا رہے تھےلیکن اس عزم کے تھوڑی دیربعد ہی اپنے فیصلے پر قائم نہ رہے اور نئی پابندیاں‌عائد کردیں جنہں پلان بی کا نام دیا گیا ہے

    اس پلان کے تحت

    حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اب تمام سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین اپنے اپنے گھروں سے کام کریں گے
    انگلینڈ پلان بی کے اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    چہرے کے ماسک لازمی ہو جائیں گے۔ان میں تھیٹر اور سینما گھر شامل ہیں،

    NHS COVID پاس نائٹ کلبوں اور جگہوں میں داخلے کے لیے بھی ضروری ہو گا جہاں لوگوں کے بڑے گروپ جمع ہوتے ہیں۔

    یہ 500 سے زیادہ افراد کے ساتھ غیر بیٹھنے والے اندرونی مقامات، 4,000 سے زیادہ افراد کے ساتھ غیر نشست شدہ بیرونی مقامات، اور 10,000 سے زیادہ افراد کے ساتھ کوئی بھی مقام پر درکار ہوگا

    پاس اب بھی ان لوگوں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے COVID ویکسین کی صرف دو خوراکیں لی ہیں، حالانکہ اس کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ تازہ ترین اقدام ایک ہفتے کے اندر متعارف کرایا جائے گا۔