Baaghi TV

Tag: بھارتی فوج

  • مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی کاروائیوں سے بھارتی سرکار اور بھارتی فوج پریشان ہو چکی ہے، آئے روز مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیوں نے بھارتی فوج کے حوصلے پست کر دیئے ہیں، بھارتی فوج کشمیری مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے کترا رہی ہے

    کشمیر میں فریڈم فائٹرز جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں M4 اسالٹ رائفلز اور اسٹیل کی گولیاں شامل ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی سازوسامان سے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ امریکی اسلحہ افغانستان سے ایران کے راستے ممکنہ طور پر بھارت پہنچا ،جوممکنہ طور پر سمندری راستوں کے ذریعے اسمگلنگ کے فعال نیٹ ورکس کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ہندوستانی سیکورٹی فورسز کو فریڈم فائٹرز کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے کافی چیلنجز کا سامنا ہے، جو درست حملے کرتے ہیں اور پھر ناہموار پہاڑی علاقے میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔جن کو بھارتی فوج تلاش نہیں کر پاتی او رپھر سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں پر تشدد کیا جاتا ہے، چادرو چاردیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں فریڈم فائٹرز نے بہتر آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار،نقدی سمیت دیگر اشیا مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین تک پہنچائی جا رہی ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں پائی گئی ،کشمیری عسکریت پسند اپنی کارروائیوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال کر رہے ہیں، جس میں ایک بھارتی افسر کا سر قلم کرنے سمیت گھات لگانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گردش کر رہی ہیں، ہندوستانی فوجی حکام ان گروہوں کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں دشواریوں کا اعتراف کرتے ہیں، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ فوج کی کوششوں کے لیے مقامی حمایت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تنازعہ نئے علاقوں میں پھیل رہا ہے، جیسے کہ جموں صوبہ، ایک ہندو اکثریتی علاقہ جس میں مجاہدین کے کم حملے ہوتے تھے تا ہم اب جموں میں مجاہدین کے حملے بڑھ چکے ہیں، مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں میں بدامنی بڑھ رہی ہے، سکھ اور ہندو کمیونٹیز بھی بھارتی سیکورٹی فورسز سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔عسکریت پسند لچکدار حکمت عملی اپنا رہے ہیں،حملہ کرتے ہیں اور پھر تیزی سے غائب ہو رہے ہیں، اور پھر دوسرے مقامات پر حملہ کرنے کے لیے دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں، ہندوستانی فوج کے عہدیداروں نے کشمیری مجاہدین کی بڑھتی ہوئی غیر متوقع کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کچھ لوگوں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر بے چینی اور خوف کے احساس کا اعتراف کیا ہے۔

    جموں کشمیر میں بھارتی مجاہدین کے حملوں پر دی گارڈین نے لکھا کہ انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیا۔ ⁠انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی افواج اور حکومت کا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا ، ⁠ایلس پیٹرسن نے گارڈین میں لکھا کہ حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے۔ کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ⁠ہندوستانی افواج کشمیری مجاہدین کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے حیران ہو گئی ہیں جس میں عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے بڑھتے حملوں‌پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس بھی مودی سرکار پر سیخ پا ہو چکی ہے،کانگریس کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں مجاہدین کے حملوں کو روکنے میں مودی سرکارناکام ہو چکی ہے، کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے سری نگر میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مودی تیسری مدت کے لئے وزیراعظم بنے تب سے مقبوضہ کشمیر میں 98 دونوں میں 25 حملے ہو چکے ہیں،مودی سرکار نے دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر میں امن ہو گا لیکن اب امن کہاں ہے،98 دنوں میں ہونے والے 25 حملوں میں 21 سیکورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوئے ہیں،جموں میں امن تھا لیکن اب وہاں بھی حملے ہو رہے ہیں،

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

  • انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت  پسندوں کے حملوں کی نئی لہر  ،بھارتی افواج حیران

    انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر ،بھارتی افواج حیران

    ہائی ٹیک اور اسٹریٹجک: انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین” کے مطابق ⁠انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی افواج اور حکومت کا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا ⁠ایلس پیٹرسن نے گارڈین میں لکھا کہ حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔

    ⁠گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے،کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ⁠ہندوستانی افواج کشمیری مجاہدین کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے حیران ہو گئی ہیں جس میں عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

    دی گارڈین کے مطابق ⁠کشمیری مجاہدین اب بہت بہتر تربیت یافتہ ہیں اور جنگی ساز و سامان کی ترسیل کے لئے وادی کے اندر ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں مجاہدین باڈی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے گھات لگانے کی فلم بناتے ہیں ہندوستانی فوجی حکام ان عسکریت پسندوں کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں دشواری کا اعتراف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہےنئے علاقوں میں گھات لگا کر حملے ہو رہے ہیں، جیسے کہ ہندو اکثریتی صوبہ جموں، جہاں پہلے حملے بہت کم ہوتے تھے۔

    دی گارڈین کے مطابق ⁠عسکریت پسندوں نے فوجیوں پر حملہ کرنے، غائب ہونے اور پھر دوسری جگہ حملہ کرنے کے لیے دوبارہ ابھرنے کے نئے حربے اپنائے ہیں ⁠حریت پسند جدوجہد پر قابو پانے کے لیے ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی سر توڑ کوششیں دہلی سرکار کے ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے جنکے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد علاقے میں زندگی معمول پر آ گئی ہے۔

    – ⁠گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر عسکریت پسندوں کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں اور وہ بہتر تربیت یافتہ ہیں، اسی لیے ہم حکومت سے اضافی مدد مانگ رہے ہیں ⁠اس بار ہم زیادہ خوفزدہ ہیں۔ بھارتی افواج

  • فوج میں بھرتی کے خواہمشندوں سے بھارت میں دھوکہ،جعلی میجر گرفتار

    فوج میں بھرتی کے خواہمشندوں سے بھارت میں دھوکہ،جعلی میجر گرفتار

    بھارتی فوج کا میجر بن کر شہریوں کو بھرتی کروانے کے بہانے چار کروڑ اکٹھے کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا

    ملٹری انٹیلی جنس اور مہاراشٹرا پولیس نے فوج میں بھرتی کے جعلی اڈے کا پردہ فاش کیا، فوجی میجر کی نقالی کرنے والا شخص بھرتی ٹریننگ کیمپ چلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق ایک مشترکہ آپریشن میں، ملٹری انٹیلی جنس اور مہاراشٹرا پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا جو فوج کے ایک میجر کا روپ دھار رہا تھا، مبینہ طور پر کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر جعلی بھرتی کیمپ جعلی میجر چلا رہاتھا،ملزم نے دہرادون اور اورنگ آباد میں فوج کی بھرتی کا تربیتی کیمپ بنایا ہوا تھا،ایک سینئر افسر کے مطابق، ملٹری انٹیلی جنس، پونے، اور بنگر کیمپ پولیس اسٹیشن، احمد نگر نے بدھ کو ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا اور ایک ملزم ستیہ جیت بارتھ کامبلے کو گرفتار کیا، ملزم کا پیچھا نئی دہلی سے کیا جا رہا تھا،ملزم ایک آرمی میجر کے روپ میں تھا جو مہاراشٹر، تلنگانہ اور کرناٹک میں بڑے پیمانے پربھارتی فوج میں بھرتی کے کیمپ چلا رہا تھا،ملزم نے سینکڑوں امیدواروں کو مسلح افواج (آرمی اور ایم ای ایس) میں ملازمت فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دیا۔

    دوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ ستیہ جیت بارتھ کامبلے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھارت بھر میں چلائے جانے والے جعلی بھرتی کیمپوں کا سرغنہ ہے ،خواتین ٹاؤٹس کی بھی اس ضمن میں خدمات لی جاتی تھی، جو نوجوانوں‌کو فوج میں بھرتی کی طرف راغب کرتی تھیں، اس دوران نوجوانوں کو تربیت دی جاتی، ان سے پیسے لئے جاتے لیکن یہ سب دھوکہ تھا،ملزمان نے دہرادون، اتراکھنڈ اور شری گونڈہ، مہاراشٹر میں ایک فرضی تربیتی کیمپ قائم کیا تھا جس میں سینکڑوں خواہشمند امیدواروں سے فی کس 7-8 لاکھ روپے کا دھوکہ کیا گیا،ملزمان نے آج تک جعلی فوج بھرتی کیمپ سے تقریباً 3-4 کروڑ روپے کمائے، کیونکہ اس کے ساتھیوں کی مدد سے مختلف ریاستوں میں گٹھ جوڑ چلایا جا رہا تھا۔

    ملزم نے انکشاف کیا کہ جعلی بھرتی کیمپ کا طریقہ کار مہاراشٹر، تلنگانہ، کرناٹک، اتر پردیش، بہار، پنجاب، ہریانہ اور نئی دہلی کے امیدواروں کو مختلف ریاستوں میں واقع اکیڈمیوں کی مدد سے راغب کرنا تھا اور بھرتی کے وقت امیدواروں سے براہ راست رابطہ کرنا تھا۔ دہرادون اور شری گونڈہ کے جنگلوں میں تربیتی کیمپ بنایا گیا تھا،سابق سدرن آرمی کمانڈر، چیف انجینئر آفیسر اور فوج کی دیگر تقرریوں کے نام پر جعلی جوائننگ لیٹر بھی جاری کیے گئے۔نئی دہلی اور دہرادون کے مقامی بازاروں سے ملٹری پیٹرن کی طرح کیمپنگ اسٹورز کا انتظام کیا ہے اور تربیت کے دوران خواہشمند امیدواروں کو پناہ فراہم کی ہے اور انہیں زیر تربیت تربیت یافتہ افراد کے طور پر شناختی کارڈ جاری کیے گئے،ایک سینئر افسر نے مزید کہا کہ اس ماڈیول میں مختلف ریاستوں کے کتنے اور لوگ شامل تھے اس بارے میں مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    بھارتی میڈیاباز نہ آیا، پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا،بھارتی صحافی پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے لگے، مودی سرکار کی زبان بولتے ہوئے بھارتی میڈیا نے پاک فوج کے خلاف مہم شروع کر دی ہے،جموں کشمیر میں بھارتی فوج پر بڑھتے حملوں، بھارتی فوج کی ہلاکتوں اور عسکریت پسندوں کے خوف میں مبتلا بھارت نے اپنی قوم کو سچ بتانے کی بجائے ایک بار پھر پروپیگنڈہ کی راہ پکڑ لی ہے.

    بھارتی ٹی وی چینل ری پبلک ٹی وی نے مودی سرکار کی زبان بولتے ہوئے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کیا ہے ،اس دوران آدتیہ راج جو بھارتی صحافی ہیں اس نے پاک فوج کے خلاف پروپینگڈہ کیا اور ایکس پر من گھڑت افواہیں پھیلائیں، مودی سرکار سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرتی ہے، پاکستانیوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس بند کروائے جاتے ہیں، یوٹیوب چینل بند کروائے جاتے ہیں تا ہم پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے بھارتی صحافیوں اور بھارتی میڈیا کو مودی کی شہہ حاصل ہوتی ہے،بھارتی صحافی آدتیہ راج نے سوشل میڈیا پر من گھڑت بات اور جھوٹ بولا،آدتیہ راج بھارتی فوج اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا کارندہ ہے،اسے را کی سرپرستی حاصل ہے.

    ریپبلک ٹی وی کے مطابق، پاکستانی فوج کے ایس ایس جی چیف جنرل عادل رحمانی کو جموں و کشمیر میں ایس ایس جی کی دراندازی کی سازش کے بے نقاب ہونے کے بعد اسپورٹس اینڈ فٹنس ڈائریکٹوریٹ تبادلہ کردیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا نام آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا، اور میجر جنرل احمد جواد اب ایس ایس جی کے سربراہ ہیں۔

    https://x.com/ghulamabbasshah/status/1819313310694621298

    بھارتی میڈیا نے جھوٹا اور من گھڑت الزام لگایا، بھارتی میڈیا جو کہہ رہا ہے اس کے مطابق تو یہ مودی سرکار کی بہت بڑی ناکامی ہے، مودی سرکار جو اپنے آپ کو ایشیا کی سپر پاور سمجھتی ہے اگر انکی بات سچ ہے تو یہ انکی انتہائی نااہلی ہے کہ اربوں روپے لگا کر بھی مودی سرکار کی فوج بارڈر پر لوگوں کو روک نہیں روک سکی،پانچ اگست سے قبل مودی سرکار نے یہ تماشا لگانا تھا کیونکہ مودی سرکار نے پانچ اگست کو کشمیرکی حیثیت بدلی تھی اور 5 اگست کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا.غباروں اور کبوتروں سے ڈرنے والی بھارتی فوج اب کشمیری عسکریت پسندوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی یہی وجہ ہے کہ وہ گھٹیا الزامات پر اتر آئے ہیں.

    صحافی غلام عباس شاہ نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ تاہم، فوجی حکام نے تصدیق کی کہ حقائق مختلف ہیں، جنرل عادل نے اپنا معمول،توسیع شدہ تین سالہ دور مکمل کیا. ایس ایس جی کی روایت نئے اور کم عمر جرنیلوں کو کمانڈ کرنے کے لیے فروغ دیتی ہے۔ جنرل عادل اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور غیر ملکی ساتھیوں اور دہشت گردوں کے خلاف جرات مندانہ کارروائیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، ہندوستانی میڈیا کی طرف سے یہ جعلی پروپیگنڈہ ہمارے قابل فخر ایس ایس جی اور فوج کے درد کو تسلیم کرتا ہے۔ریپبلک ٹی وی، ایک مشہور پروپیگنڈہ آؤٹ لیٹ ہے،

    واضح رہے کہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج پر کشمیری عسکریت پسندوں نے تابڑ توڑ حملے کئے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی فوج انتہائی پریشان ہے، بھارتی آرمی چیف نے بھی جموں کا دورہ کیا لیکن اپنی فوج کے اہلکاروں کے حوصلوں کو نہ بڑھا سکا، بھارتی فوج جموں میں سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں کو شہید کر رہی ہے تو وہیں مقامی عسکریت پسند بھارتی فوج کو اپنے ٹھکانے جہنم تک پہنچا رہے ہیں،گزشتہ دنوں کپواڑہ میں بھارتی فوج کے میجر سمیت چار بھارتی فوجی زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک ہلاک ہوا تھا اس حملے کا الزام بھارت نے فوری پاکستان پر لگا دیا تھا،حالانکہ پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی کاروائی نہیں کی گئی، پاکستا ن کے خلاف الزام تراشی مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کا وطیرہ ہے،

    پچھلے کچھ ماہ سے جموں و کشمیر کے کسی نہ کسی ضلع میں تقریبا روزانہ عسکریت پسند بھارتی فوج پر حملہ کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج کے اہلکار ڈرے ہوئے ہیں کہ معلوم نہیں کب وہ کسی گولی کا نشانہ بن جائیں، جموں کشمیر میں مقامی کشمیری عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد بھارتی فوج نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ہمیشہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا،اور جھوٹے فالس فلیگ آپریشن کئے، بھارتی فوج کی جانب سے مقامی کشمیریوں کی تذلیل، بدسلوکی کے بعد بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور آئے روز بھارتی فوج پر حملے کرتے نظر آتے ہیں،بھارتی فوج جموں کشمیر میں کشمیریوں کے گھروں کو نہ صرف جلاتی ہےبلکہ نوجوانوں‌کو بھی اغوا کر لیتی ہے،

    برسوں پہلے بھارت نے پروپیگنڈہ اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کی مہم شروع کی، معصوم کشمیریوں کو قتل کیا، ان کی شناخت کو چھپایا گیا اور بعد میں پاکستان پر الزام لگا دیا گیا،حالیہ کپواڑہ فالس فلیگ آپریشن بھارت کی طرف سے اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کشمیر میں اپنا کنٹرول کھو رہا ہے، کیونکہ مقامی لوگ ان اقدامات کے خلاف بے خوف ہو کر اٹھ کھڑے ہو رہے ہیں۔

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • کپواڑہ،بھارتی فوج پر حملہ،ایک فوجی ہلاک،میجر سمیت چار زخمی،الزام پاکستان پر لگ گیا

    کپواڑہ،بھارتی فوج پر حملہ،ایک فوجی ہلاک،میجر سمیت چار زخمی،الزام پاکستان پر لگ گیا

    جموں کشمیر، بھارتی فوج کے لئے "جہنم” بن گیا، آئے روز عسکریت پسندوں کے حملوں نے بھارتی فوج کے حوصلے پست کر دیے، فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کی ،حالانکہ جموں میں کشمیری عسکریت پسند ہی بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں

    آج صبح جموں کے علاقے کپواڑہ،کمکاری میں بھارتی فوج پر مقامی عسکریت پسندوں نے حملہ کیا، اس حملے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار جہنم واصل جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے، واقعہ کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، حملے میں‌بھارتی فوج کا میجر بھی زخمی ہوا ہے،اس دوران بھارتی فوج نے ایک عسکریت پسند کو شہید کر دیا، جس کے بعد بھات نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی تھا،

    کپواڑہ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران عسکریت پسندوں کا بھارتی فوج پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے،منگل 23 جولائی کو بھی کپواڑہ میں بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے جموں و کشمیر کے کسی نہ کسی ضلع میں تقریبا روزانہ عسکریت پسند بھارتی فوج پر حملہ کر رہے ہیں، بھارتی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ جموں کشمیر کے پہاڑی اضلاع کے بالائی علاقوں میں 40 سے 50 پاکستانی عسکریت پسندوں کے ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد سیکورٹی فورسز سرچ آپریشن کر رہی ہے

    جموں کشمیر میں مقامی کشمیری عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد بھارتی فوج نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ہمیشہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا،اور جھوٹے فالس فلیگ آپریشن کئے، بھارتی فوج کی جانب سے مقامی کشمیریوں کی تذلیل، بدسلوکی کے بعد بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور آئے روز بھارتی فوج پر حملے کرتے نظر آتے ہیں،بھارتی فوج جموں کشمیر میں کشمیریوں کے گھروں کو نہ صرف جلاتی ہےبلکہ نوجوانوں‌کو بھی اغوا کر لیتی ہے،

    برسوں پہلے بھارت نے پروپیگنڈہ اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کی مہم شروع کی، معصوم کشمیریوں کو قتل کیا، ان کی شناخت کو چھپایا گیا اور بعد میں پاکستان پر الزام لگا دیا گیا،حالیہ کپواڑہ فالس فلیگ آپریشن بھارت کی طرف سے اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کشمیر میں اپنا کنٹرول کھو رہا ہے، کیونکہ مقامی لوگ ان اقدامات کے خلاف بے خوف ہو کر اٹھ کھڑے ہو رہے ہیں۔

    جموں و کشمیر پولیس کے حکام کے مطابق جموں خطہ میں امن تھا لیکن عسکریت پسند پھر متحرک ہو گئے،جموں کے مغربی حصے میں کٹھوعہ سانبہ علاقے میں ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، یہ علاقے جموں کا حصہ ہونے کے باوجود فوج کی مغربی کمان کے تحت آتے ہیں جو انسداد دہشت گردی آپریشن نہیں کرتی،بھارتی میڈیا کے مطابق جموں میں بڑھتے حملوں میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کا نام لیا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق جموں خطے میں تقریباً تمام حملے غیر ملکی عسکریت پسندوں نے کیے ہیں.

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • شیخ حسینہ کی حکومت بچانے کیلئے بھارتی فوج بنگلہ دیش پہنچ گئی

    شیخ حسینہ کی حکومت بچانے کیلئے بھارتی فوج بنگلہ دیش پہنچ گئی

    بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھارت سے مدد مانگ لی، حسینہ کی حکومت بچانے کیلئے بھارتی فوج بنگلہ دیش پہنچ گئی ہے

    بھارتی فوج کی ایک کمپنی مغربی بنگال سے بنگلہ دیش میں داخل ہوئی ہے، جس کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے، حسینہ حکومت نے احتجاج کو کچلنے کے لیے بھارتی حکومت سے مدد طلب کی تھی۔۔ حسینہ حکومت نے کرفیو نافذ کر کے فوج کو طلب کر رکھا ہے اور احتجاج کو کچلنے کے لیے بھارت سے مدد بھی مانگی ہے۔ خون کی پیاسی ہندوتوا حکومت مسلمانوں کو قتل کرے گی اور حسینہ کو اقتدار میں رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ملک کی بدترین صورتحال کے پیش نظر اتوار اور پیر کو تعطیل کا اعلان کردیا ہے، صرف ہنگامی خدمات کے اداروں کو کام کرنے کی اجازت ہے،بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج اور پرتشدد مظاہروں میں فورسز کو امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کےکوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے، احتجاج پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنےکا حکم دے دیا گیا ہے، 5 روز سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 123 ہوگئی ہے

    ہفتے کے روز بنگلہ دیشی شہروں میں فوجی گشت کر رہے تھے تاکہ طلباء کے مظاہروں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی شہری بدامنی کو روکا جا سکے، حکومتی کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی ہے،پولیس اور ہسپتالوں کی طرف سے رپورٹ کیے گئے متاثرین کی اے ایف پی کی گنتی کے مطابق، اس ہفتے کے تشدد میں اب تک کم از کم 123 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور 15 سال کے اقتدار میں رہنے کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے لیے ایک یادگار چیلنج ہے۔

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

    جموں میں‌ عسکریت پسندوں‌کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں نے بھارتی فوج کو پریشان کر دیا،جموں میں حملوں کے بعد فوج کی بریگیڈ تعینات کر دی گئی ہے تو وہیں خصوصی کمانڈوز کا ایک دستہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے

    جموں میں حالیہ چند دنوں میں کشمیری عسکریت پسندوں نے بھارتی فوج پر پے درپے حملے کیے ہیں، ان حملوں میں بھارتی فوج کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے، عسکریت پسند کاروائی کرتے ہیں، اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر روپوش ہو جاتے ہیں، گزشتہ دنوں جموں میں ایک حملے کے دوران کیپٹن سمیت 5 بھارتی فوجی مارے گئے تھے،اس سے قبل ایک حملے میں 5 فوجی ہلاک ہوئے تھے، رواں برس 11 فوجی جموں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بھارتی فضائیہ کا اہلکار بھی شامل ہے،دوسری جانب جموں میں بھارتی فوج عسکریت پسندوں کی تلاش میں ہے تا ہم رواں برس اب تک صرف 5 عسکریت پسندوں کو بھارتی فوج نشانہ بنا چکی ہے،

    پانچ اگست 2019 میں آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد جموں میں عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے 2023 میں کہا تھا کہ جموں میں‌عسکریت پسندی پر قابو پا لیا گیا ہے، 2018 تک اس علاقے میں امن تھا تا ہم ابھی بھی کچھ حالات بہتر نہیں ہیں، 2022 اور 2023 میں جموں کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر تین تین حملے ہوئے ، لیکن رواں برس ان حملوں میں اضافہ ہو چکا ہے، ابھی چھ ماہ میں ہی جموں میں بھارتی فوج پر آٹھ حملے ہو چکے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق جموں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی ایک وجہ 2021 کے بعد وہاں فوجی تعیناتی میں کمی تھی۔

    جموں و کشمیر پولیس کے حکام کے مطابق جموں خطہ میں امن تھا لیکن عسکریت پسند پھر متحرک ہو گئے،جموں کے مغربی حصے میں کٹھوعہ سانبہ علاقے میں ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں، یہ علاقے جموں کا حصہ ہونے کے باوجود فوج کی مغربی کمان کے تحت آتے ہیں جو انسداد دہشت گردی آپریشن نہیں کرتی،بھارتی میڈیا کے مطابق جموں میں بڑھتے حملوں میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کا نام لیا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق جموں خطے میں تقریباً تمام حملے غیر ملکی عسکریت پسندوں نے کیے ہیں.

    جموں میں فوج پر بڑھتے ہوئے حملوں‌پر بھارت کی سیاسی جماعتیں بھی مودی سرکار پر تنقید کر رہی ہیں، کانگریس نے بھی سوال اٹھایا ہے تو وہیں اویسی بھی برہم ہوئے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی مودی سرکار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے،کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک کے بعد ایک ایسے خوفناک واقعات انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہیں یہ مسلسل د حملے جموں و کشمیر کی خستہ حالی کو ظاہر کر رہے ہیں بی جے پی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہمارے فوجی اور ان کے اہل خانہ بھگت رہے ہیں۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ صرف جموں میں گذشتہ 78 دنوں میں 11 حملے ہوئے ہیں یہ بالکل نئی چیز ہے۔ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اس کے خلاف ایک موثر اجتماعی ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لیکن یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ خود ساختہ غیر حیاتیاتی وزیر اعظم اور خود ساختہ چانکیہ (مراد امت شاہ) کے ان تمام بڑے دعوؤں کا کیا ہوا؟

    جموں میں بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد فوج کی ایک بریگیڈ کو تعینات کر دیا گیا ہے، جموں میں 3,000 فوجیوں اور 500 خصوصی دستوں سمیت بریگیڈ سطح کی فورس کو تعینات کی گئی ہے،یہ تعیناتی 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کے بعد سے خطے میں عسکریت پسندی سے متعلق واقعات کی ایک سیریز کے بعد ہوئی،بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی جموں میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں آج وہ جموں کا دورہ کریں گے اور صورتحال کا جائزہ لیں گے،

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • بھارتی فوج شہریوں کی قاتل،وزارت دفاع سے جواب طلب

    بھارتی فوج شہریوں کی قاتل،وزارت دفاع سے جواب طلب

    بھارتی فوج شہریوں کی قاتل،سپریم کورٹ میں درخواست، بھارتی وزرات دفاع سے جواب طلب کر لیا گیا

    نگالینڈ حکومت نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،ناگا لینڈ حکومت نے تین سال پہلے ریاست کے علاقے مون میں 13 شہریوں کے قتل پر بھارتی فوج کے 30 اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی درخواست دی ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ نے وزارت دفاع سے جواب طلب کر لیا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،

    ناگالینڈ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 13 شہریوں کے قتل پر مودی سرکار نے کوئی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر ناگالینڈ سرکار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، 4 دسمبر 2021 کو بھارتی فوجی اہلکاروں نے ناگالینڈ کے ضلع مون میں ایک کاروائی کے دوران 13 شہریوں کو قتل کر دیا گیا، ناگالینڈ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا تھا،

    ناگالینڈ کی ریاستی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت بھارتی سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی،اس آرٹیکل کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایک میجر سمیت فوجی اہلکاروں کے خلاف مضبوط ثبوت موجود ہیں، اس کے باوجود مودی سرکار نے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی، مودی سرکار کی جانب سے مقدمہ چلانے سے انکار پر ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا،ناگالینڈ حکومت کی درخواست پر سماعت 3 ستمبر 2024 کو ہوگی،عدالت نے مرکزی حکومت سے چار ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے

    واضح رہے دسمبر 2021 میں ناگالینڈ واقعے پر بھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،بھارتی فوج کے 21 پیرا اسپیشل فورسز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فوج کی خصوصی یونٹ نےکارروائی پر پولیس کو مطلع کیا اور نہ ہی رہنمائی لی،ایف آئی آر میں کہا گیاکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کا ارادہ شہریوں کو قتل اور زخمی کرنا تھا، آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت 21 پیرا اسپیشل فورس کی آپریشن ٹیم کے تیس ارکان بشمول ایک میجر، دو صوبیدار، آٹھ حوالدار، چار نائک، چھ لانس نائک اور نو پیرا ٹروپرز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا تھا کہ سی آئی ڈی کی رپورٹ جس میں مقدمہ چلانے کی منظوری مانگی گئی تھی،

    واضح رہے کہ ناگا لینڈ میں بھارتی فوج نے 13 کان کنوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا، بدلے میں گاؤں والوں نے بھارتی فوج کی گاڑیوں اور کیمپوں کو آگ لگا دی تھی،بھارتی میڈیا کے مطابق ناگا لینڈ میں کان کن ایک ٹرک پر سوار ہو کر اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کرنے جا رہے تھے اس دوران بھارتی فوج نے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، بھارتی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ ٹرک کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ٹرک نہ رکا اسکے بعد فائرنگ کی گئی تھی.

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • کارگل میں مارے گئے بھارتی فوجیوں کی بیواؤں کے ساتھ افسران نے کی زیادتی

    کارگل میں مارے گئے بھارتی فوجیوں کی بیواؤں کے ساتھ افسران نے کی زیادتی

    کارگل میں مارے جانیوالے بھارتی فوجیوں کی بیواؤں کی عزتیں بھی محفوظ نہ رہیں، افسران بھارتی فوج کے مارے گئے اہلکاروں کی بیویوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے، بھارتی میڈیا نے سب کچھ بے نقاب کر دیا،

    بھارتی خبر رساں ادارے ٹائمز آف انڈیا میں رپورٹ شائع ہوئی جس کی سرخی نکالی گئی کہ "ہم کارگل کی بیوائیں "افسران کی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے آسان ہدف تھیں” جمعرات 27 جون کو ٹائمز آف انڈیا نے رپورٹ شائع کی جس میں یہ کہا گیا کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران مارے گئے بھارتی فوج کے اہلکاروں کی بیواؤں کے ساتھ افسران جنسی ہوس مٹاتے رہے، انہیں ہراساں کرتے رہے، کارگل جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی بیواؤں کو کسی نہ کسی طرح بھارتی فوج کے افسران نے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے شکار بنایا۔

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اندو سنگھ نامی 60 سالہ خاتون کو کئی سالوں تک سرکاری دفاتر میں ہراساں کیے جانے اور ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑا،وہ کارگل جنگ میں مارے جانے والے بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے انسپکٹر اندرجیت سنگھ کی بیوہ ہیں۔ سنگھ نے بتایا کہ میرٹھ میں ایک سرکاری افسر نے جنسی ہوس کی وجہ سے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ،خاتون اندو سنگھ کی درخواست پر اس وقت ایل کے اڈوانی کی مداخلت کے بعد سرکاری افسر کو معطل کر دیا گیا تھا،

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق "افسر کو ان کے متعلقہ گاؤں میں شہداء کی یادگاروں کی تعمیر کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کی نگرانی کا کام دیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ الاٹمنٹ کے سلسلے میں کچھ مدد کے لیے اس کے سامنے بیٹھی تھی تو افسر نے اسے اپنے پیروں سے بھی چھوا،”افسر کے نامناسب اقدامات اور دیگر جنگی بیواؤں سے افسران کی بدتمیزی کے رویے کی کہانیاں سننے کے بعد، اندو کا کہنا ہے کہ اس نے 2001 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ افسر کے خلاف شکایت کی جا سکے۔

    اندو سنگھ نے ایک اور واقعہ بھی سنایا جہاں سرکاری لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے ایک افسر نے اس کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔اندو کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر میں افسران کی طرف سے جنسی خواہش کا اظہار، دوہرے معنی والی باتیں، بیواؤں کو اپنے پاس بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا تھا ،اندو سنگھ کا کہنا تھا کہ میں پڑھی لکھی تھی اور ہر موقع پر اس عمل پر اعتراض کیا گیا تھا، لیکن نوجوان بیواؤں کی اکثریت، جو ناخواندہ تھیں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں،انہیں ہراساں کیا گیا اور انکے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی،اندو سنگھ کے مطابق، سرکاری افسران بیواؤں کو "آسان ہدف” سمجھتے تھے۔ اس نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا، "میں نے بیوہ ہونے کے ابتدائی دنوں میں اخلاقیات کی مکمل گراوٹ دیکھی۔”

    بچے سے بدفعلی،مولانا کی رہائی کیخلاف پولیس کا عدالت جانےکا فیصلہ

    بچے سے بدفعلی کی کوشش، غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،پولیس

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    چکوال،مدرسے کے دو اساتذہ کی 15 طلبا کے ساتھ بدفعلی

    معروف مدرسے کے مہتمم کی طالب علم کے ساتھ زیادتی 

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

  • مودی کی اگنی ویر سکیم،رشتے آنا بند،نوجوانوں نے بھارتی فوج میں جانا چھوڑ دیا

    مودی کی اگنی ویر سکیم،رشتے آنا بند،نوجوانوں نے بھارتی فوج میں جانا چھوڑ دیا

    مودی سرکار کی اگنی ویر سکیم ناکام، نوجوانوں نے تقرر نامہ ملنے کے باوجود بھارتی فوج میں شمولیت سے معذرت کر لی

    جون 2022 میں بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے نوجوانوں کے لئے اگنی پتھ سکیم کا اعلان ہوا جس کا مقصد بھارتی فوج کی تنخواہوں اور پنشن کے بجٹ کو کم کرنا تھا ، اگنی پتھ سکیم کے تحت ساڑھے 17 سال سے 23 سال تک کی عمر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو فوج میں چار سال کے لیے بھرتی کیا جائے گا اور مدت کے اختتام کے بعد ان سب میں سے صرف 25 فیصد افراد کی مدت ملازمت بڑھائی جائے گی، اس سکیم کے تحت فوج میں بھرتی ہونے والے افراد اگنی ویر کہلائیں گے ملازمت کے اختتام پر 11 سے 12 لاکھ روپے دیے جائیں گے لیکن اس کے بعد یہ تمام افراد پینشن وصول کرنے کے اہل نہیں ہوں گے،اگنی ویر سکیم میں بھارتی نوجوان شامل ہوئے، ٹیسٹ انٹرویو دیئے لیکن تقرر نامہ ملنے کے بعد انہیں گھر والوں نے بھارتی فوج میں جانے سے روک دیا،

    فوج میں اب جانے کا کوئی فائدہ نہیں،انوپ
    ایک نوجوان انوپ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج میں جانا میرا اور میرے والدین کا خواب تھا، میں نے ساتویں جماعت سے ہی فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری شروع کر دی تھی لیکن جب سے مودی سرکار اگنی ویر سکیم لائی ہمارے خوابوں پر پانی پھر گیا،والد نے کہا کہ چھ سال کی تیاری کے بعد چار سال کی نوکری کا کوئی مطلب نہیں ہے اسلئے فوج میں اب جانے کا کوئی فائدہ نہیں،بھارتی نوجوان انوپ اب پولیس میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر اگنی ویر سکیم نہ آتی تو میں فوج میں ہوتا کیونکہ دوڑ میں بہت اچھا تھا، میری زندگی بدل گئی ہوتی تا ہم اگنی ویر سکیم نے سب کچھ تباہ کر دیا، میرا مستقبل غیر یقینی ہو گیا،

    انوپ یادو کا تعلق بہار کے ضلع بانکا سے ہے، انکی اگنی ویر سکیم کے تحت بھارتی فوج میں نوکری مل چکی تھی تا ہم انوپ نے بھارتی فوج کو جوائن نہیں کیا، خبر رساں ادارے دی وائر سے انوپ نے کھل کر گفتگو کی اور اگنی ویر سکیم بارے اپنے خدشات کا اظہار کیا،

    نوجوانوں کو بھارتی فوج میں اب مستقبل نظر نہیں آ رہا
    انوپ کے ٹرینر مونو رنجن کا کہنا ہے کہ انوپ اکیلا نہیں بلکہ سینکڑوں نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اگنی ویر سکیم کی وجہ سے بھارتی فوج کی نوکری چھوڑی دی،کئی ایسے امیدوار ہیں جو تقرری حاصل کرنے کے بعد بھی اگنی ویر بننے نہیں گئے اور اب کہیں اور نوکری کی تیاری کر رہے ہیں،ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگنی ویر سکیم کے تحت بھارتی فوج میں جانیوالے پہلے بیچ میں سے 50 نوجوانوں نے دوران ٹریننگ ہی واپسی کی راہ اختیار کر لی تھی کیونکہ انہیں اب بھارتی فوج میں مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا،

    مودی سرکار نے جب اگنی ویر سکیم کا اعلان کیا تھا تو دھرم پورہ گاؤں میں سب سے بڑا مظاہرہ بھارتی سابق فوجیوں نے کیا تھا جس میں قریبی دیہاتوں کے سابق فوجیوں نے بھی شرکت کی تھی،دھرم پورہ جہاں ہر سال پہلے تقریبا دس افراد بھارتی فوج میں جاتے تھے اب انکی تعداد کم ہو گئی ہے اور اب تقریبا تین سے چار جوان ہی بھارتی فوج میں جا رہے ہیں کیونکہ اگنی ویر سکیم آنے کے بعد نوجوان مایوس ہو چکے ہیں،

    اگنی ویر سکیم کی وجہ سے بھارتی نوجوانوں کی شادیوں میں رکاوٹیں،رشتے آنا بند
    مودی کی اگنی ویر سکیم کی وجہ سے بھارتی نوجوانوں کی شادیوں کو لے کر بھی رکاوٹیں آ رہے ہیں، بہار میں شادی کے وقت پوچھا جاتا ہے کہ لڑکا کیا کرتا ہے، اگر لڑکا فوج میں ہو تو رشتہ فوری مل جاتا ہے تا ہم اگنی ویر سکیم آنے کے بعد فوج میں جانے والوں کو رشتے نہیں مل رہے، لڑکی والے کہتے ہیں چار سال کی نوکری کے بعد لڑکا کیا کرے گا، ہماری بیٹی کہاں سے کھائے گی؟دھرم پورہ کے سابق فوجی رمیش کہتے ہیں کہ،اگنی ویر سکیم آنے کے بعد اس سکیم کے تحت بھارتی فوج میں جانیوالے لڑکوں کے رشتے نہیں آ رہے، لڑکی والے کہتے ہیں کہ چار سال کی نوکری والے سے بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے۔

    بھارتی فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو اب عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا
    دھرم پورہ سے ملحق گاؤں بریجا کے یادو برادری کے نوجوانوں نے اگنی پتھ اسکیم پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ 21 سالہ امت کمار یادو گزشتہ چار سالوں سے فوج کے لیے تیاری کر رہے تھے، اس سال ان کی عمر کی حد ختم ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، پہلے جب گاؤں کے نوجوان فوج میں بھرتی ہونے کے بعد واپس آتے تھے تو لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، لیکن اب گاؤں والے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ دیکھو اگنی ویر آرہا ہے،بھارتی فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو اب عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا بلکہ لوگ فوجی ماننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں،اگنی ویر سکیم کی وجہ سے والدین کے حوصلے بھی ٹوٹ چکے ہیں، وہ اب فوج کی تیاری کرنے کی بات کہنے پر خوش نہیں ہوتے

    بہار میں 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگوں میں بے روزگاری کی شرح 18.7 فیصد ہے جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 16.5 فیصد ہے،بہار میں پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریوں کے بہت کم مواقع کی وجہ سے یہاں کے نوجوان سرکاری نوکریوں کی تیاری کرتے ہیں، دی ہندو کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ 2022 تک بہار میں ہر سال فوج میں بھرتی کی ریلی ہوا کرتی تھی اور 2022 سے پہلے کے تین سالوں میں ریاست سے 10000 فوجی بھرتی کیے گئے تھے۔ لہذا، 2022 میں اگنی پتھ اسکیم کی سب سے زیادہ پرتشدد مخالفت صرف بہار میں دیکھی گئی،بکسر، سارن، بھوجپور، مظفر پور، بیگوسرائے، پٹنہ اور دیگر اضلاع کے ہزاروں نوجوانوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ کئی ٹرینوں کو جلا دیا گیا اور ریل اور سڑک جام کر دیے گئے، پولیس نے ان مظاہروں کے حوالے سے 145 ایف آئی آر درج کی تھیں اور 804 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول نے بھی اگنی پتھ کے حوالہ سے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سکیم کو نوجوانوں نے مسترد کردیا ہےمودی نہیں سمجھتے کہ ملک کے لوگ کیا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دوستوں کی آوازوں کے علاوہ کچھ اورسننا نہیں چاہتے ،

    ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ چار سال کی ملازمت کے بعد ایک نوجوان فوجی صلاحیت اور جنگ میں ٹرینڈ ہو جائے گا ایک بار جب وہ بے روزگار ہو جائے گا تو آگے کیا کرے گا؟ وہ دہشت گرد، مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف جائے گا اور یہاں تک کہ پولیس بھی ایسے نوجوانوں کو گرفتار نہیں کر پائے گی وہ پولیس اہلکاروں کے مقابلے میں فوجی جنگ میں زیادہ باصلاحیت ہوں گے۔

    اگنی ویر اسکیم کے آغاز کے بعد نوجوان بھارتی فوج میں شامل ہونے کا جذبہ کھو رہے ہیں،سکھویندر سنگھ سکھو ن
    اگنی ویر اسکیم کے باعث بھارتی عوام کی فوج میں شمولیت میں عدم دلچسپی ،اقتدار کی ہوس میں مودی سرکار نے بھارتی فوج کو بھی نشانے پر رکھ لیا،مودی سرکار کی جانب سے بھارتی فوج میں شمولیت کے لیے انتہائی بے معنی اگنی ویر اسکیم متعارف کروا دی گئی ،ہماچل پردیش کے وزیراعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے بھی مودی سرکار کی جانب سے اگنی ویر اسکیم پر تشویش کا اظہار کیا،سکھویندر سنگھ سکھو کا کہنا ہے کہ اگنی ویر اسکیم کے آغاز کے بعد نوجوان بھارتی فوج میں شامل ہونے کا جذبہ کھو رہے ہیں،اگنی ویر اسکیم سے بھارتی نوجوانوں کی فوج میں شمولیت کے جذبے کی سخت حوصلہ شکنی ہوئی ہے،سکھویندر سنگھ سکھو نے مودی سرکار کو اگنی ویز اسکیم پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اب نوجوانوں میں ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ معدوم ہوتا جا رہا ہے

    اس سے قبل کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی مودی سرکار کی جانب سے بھارتی فوج کے لیے متعارف کرائی گئی اگنی ویر اسکیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ مودی کی جانب سے اگنی ویر اسکیم زبردستی مسلط کی گئی ہے،اگنی ویر اسکیم متعارف کروانے سے مودی سرکار کا بھیا!نک چہرہ کھل کر سامنے آ گیا،اس امر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ مودی سرکار اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملک کے جوانوں کا سودا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی.

    فوج کے بعد اب پولیس میں اگنی ویر سکیم آ رہی،بہار کے سابق نائب وزیر اعلی کا دعویٰ
    دوسری جانب بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے اگنی ویر اسکیم کے حوالہ سے دعویٰ کیا ہے مرکز کی بی جے پی حکومت محکمہ پولیس میں بھی فوج کی طرح اگنی ویر اسکیم لانے کی تیاری کر رہی ہے،بھارت کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ اگنی ویر اسکیم ہے، 2000 میں بی جے پی حکومت نے سب سے پہلے پنشن کو ختم کیا جس کی وجہ سے لوگوں میں کافی غصہ ہے، اب نوجوانوں میں زبردست ناراضگی ہے، خاص کر ان نوجوانوں میں جنہیں چار سال میں ہی باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا،اگر ان جوانوں کی ڈیوٹی کے دوران جان جاتی ہے تو انہیں شہید کا درجہ بھی نہیں دیا جائے گا، ان نوجوانوں کو نہ پنشن کا فائدہ ملے گا اور نہ ہی کینٹین کی سہولت، ملک کے نوجوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب مودی سرکار کی پالیسیوں سے نالاں بھارتی فوجی اپنی جانیں لینے لگے،بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والی مودی سرکار مکافات عمل کی زد میں آ گئی،مودی سرکار میں بھارتی فوجیوں میں خودکشیوں کے رحجان کی شرح میں سنگین حد تک اضافہ ہو چکا ہے،18 مئی کو مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج کے میجر مبارک سنگھ پڈا نے مبینہ طور پر خو دکشی کر لی،بھارتی میجر نے جموں کشمیر کے علاقے اکھنور میں اپنے کمرے میں خود کو گولی ما!ر کر خودکشی کر لی،مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجی کی خود کشی کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی 16 نومبر کو ضلع ادھم پور میں 38 سالہ نائیک ہریش سنگھ نے گولی ما!ر کر اپنی زندگی کا خا!تمہ کر لیا تھا،جنوری 2007 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں تعینات خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 601 تک پہنچ چکی ہے،مودی سرکار کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کے بدولت بھارتی سیکیورٹی فورسز میں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن سنگین حد تک بڑھ چکا ہے جو بعد میں خود کشی کا سبب بننے لگا ہے،اس وقت مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی سیکیورٹی فورسز کے نصف سے زائد اہلکا!ر شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں،دوسرے ممالک کے خلاف پروپگینڈا کرنے اور طاقت کے نشے میں چور مودی سرکار اپنے سیکیورٹی اہلکا روں کی مشکلات سے بے پرواہ ہے

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست