Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت میں  10 اور 20 روپے کے کرنسی نوٹ بدلنے کا فیصلہ

    بھارت میں 10 اور 20 روپے کے کرنسی نوٹ بدلنے کا فیصلہ

    بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے پلاسٹک یا پولیمر سے بنے نوٹ متعارف کرانے کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں، امکان ہے کہ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 10 اور 20 روپے کے نوٹوں کی آزمائش کی جائے گی۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق ریزرو بینک نے پولیمر کرنسی نوٹوں کے لیے خام مال فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں سے درخواستیں طلب کی ہیں یہ عمل ایک پائلٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ مستقبل میں مزید مالیت کے نوٹ بھی پولیمر سے بنائے جائیں گے یا نہیں۔

    بھارتی ریزرو بینک نوٹ مدرن پرائیویٹ لمیٹڈ، جو ریزرو بینک کی کرنسی چھاپنے والی ذیلی کمپنی ہے، نے دنیا بھر کے سپلائرز سے پولیمر شیٹس فراہم کرنے کے لیے دلچسپی کا اظہار طلب کیا ہے ان شیٹس میں جدید حفاظتی خصوصیات شامل ہوں گی تاکہ نوٹوں کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکےان پولیمر نوٹوں میں کئی جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جانے کی توقع ہے، جن میں شفاف حصہ، دھاتی نمبر، مقناطیسی حفاظتی دھاگہ، چھپی ہوئی تصویر اور خاص روشنی میں نظر آنے والے ڈیزائن شامل ہوں گے، ان نوٹوں کی تیاری بھارت کے مخصوص کرنسی پرنٹنگ مراکز میں کی جائے گی۔

    ریزرو بینک کی جانب سے جاری کیے گئے عمل کے مطابق، اگر آزمائشی مرحلہ کامیاب رہتا ہے تو مستقبل میں زیادہ مالیت کے نوٹ بھی پولیمر سے تیار کیے جا سکتے ہیں تاہم، ابھی تک ریزرو بینک نے باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ پائلٹ پروجیکٹ میں کون سے نوٹ شامل ہوں گے۔

    پولیمر نوٹ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط سمجھے جاتے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ پانی، نمی اور عام استعمال سے کم خراب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی عمر زیادہ ہو سکتی ہے،اس کے علاوہ ان میں جعل سازی روکنے کے لیے بھی زیادہ جدید حفاظتی خصوصیات شامل کی جا سکتی ہیں۔

    پولیمر نوٹ سب سے پہلے 1988 میں آسٹریلیا میں متعارف کرائے گئے تھے اب دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک میں مختلف شکلوں میں ان کا استعمال کیا جا رہا ہے ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ طویل مدت میں نوٹوں کی چھپائی کے اخراجات کم کر سکتے ہیں اور ماحول پر بھی کم اثر ڈال سکتے ہیں۔

    بھارت میں اس منصوبے کے لیے حفاظتی شرائط بھی سخت رکھی گئی ہیں، بولی دینے والی کمپنیوں کو بعض ممالک سے متعلق سیکیورٹی اصولوں پر عمل کرنا ہوگا اور انہیں پولیمر سبسٹریٹ فراہم کرنے کا تجربہ بھی ثابت کرنا ہوگاابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عام لوگوں کے ہاتھوں میں یہ نئے نوٹ کب تک پہنچیں گے، لیکن اگر آزمائشی مرحلہ کامیاب رہا تو بھارت کے کرنسی نظام میں یہ ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے-

  • بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے 100 سے زائد  سائنسدان مستعفی،مودی سرکار پریشان

    بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے 100 سے زائد سائنسدان مستعفی،مودی سرکار پریشان

    بھارت کے خلائی ادارے اسرو (آئی اس آر او) 120سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں کے قواعد سخت کر دیے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نجی خلائی شعبے کی تیزی سے ترقی اور بہتر معاوضوں کے باعث ماہر سائنسدان سرکاری ادارے چھوڑ کر نجی کمپنیوں کا رخ کر رہے ہیں،اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔

    حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملاز مت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’اسرو‘ سے 120 خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد محکمہ خلا نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں سے متعلق نئی سخت پالیسی نافذ کر دی ہے،دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سائنسدان سرکاری اداروں کے فرسودہ انتظامی نظام، محدود ترقی کے مواقع اور نسبتاً کم تنخواہوں سے نالاں ہو کر زیادہ معاوضہ اور بہتر سہولیات فراہم کرنے والی نجی خلائی کمپنیوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

    اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔

    دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ان اقدامات کا مقصد صرف لوگوں کو روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم منصوبوں کا کام اچانک متاثر نہ ہو، اگر کوئی ملازم جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ماہرین کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

    اگرچہ اسرو میں مجموعی طور پر 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور100 افراد کا استعفیٰ بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن اصل تشویش ان سائنسدانوں کے پاس موجود برسوں کا وہ تجربہ ہے جو انہوں نے پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کر کے حاصل کیا ہے نئے لوگوں کو بھرتی کرنا تو آسان ہے لیکن ان کی جگہ ایسے ماہرین لانا انتہائی مشکل ہے جو حساس منصوبوں کی باریکیوں سے واقف ہوں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 میں بھارت کی جانب سے خلائی شعبہ نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے کے بعد ملک میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جو اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر چکے ہیں،اسرو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانو ں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے

  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان

    بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان

    بھارت کے معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ بھوک ہڑتال کے 19 روز مکمل ہونے پر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث ملک بھر میں تشویش بڑھ گئی ہے –

    59 سالہ وانگچک گزشتہ 19 روز سے صرف نمک ملے پانی پر گزارا کر رہے ہیں ان کے معاونین کے مطابق اس دوران ان کا 9.1 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، وہ شدید جسمانی تکلیف میں مبتلا ہیں اور سہارے کے بغیر کھڑے ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔

    دہلی ہائیکورٹ نے جمعرات کو ایک درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کو ہدایت کی کہ سونم وانگچک کی صحت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی سہولت فراہم کی جائے۔

    سونم وانگچک آن لائن طنزیہ تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی حمایت میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، جو ملک میں تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔،مظاہرین کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ طبی تعلیم میں داخلے کے لیے ہونے والے نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسو خ کیا گیا، جس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

    تاہم دھرمیندر پردھان نے کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کے حامیوں کو ’انتشار پسند عناصر کی بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے ان کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اب تک مظاہرین سے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں کیے،’سونم سر‘ کے نام سے معروف وانگچک لداخ کی نمایا ں عوامی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور بھارت بھر میں خاصی شہرت رکھتے ہیں انہیں 2018 میں ایشیا کے نوبیل انعام کہلانے والے ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 2009 کی سپر ہٹ بالی ووڈ فلم تھری ایڈیٹس کے مرکزی کردار کی تخلیق بھی ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر کی گئی تھی، جبکہ 2017 میں وہ امیتابھ بچن کے مشہور پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں خصوصی مہمان کے طور پر بھی شریک ہوئے تھے۔

    وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت پر اپوزیشن رہنماؤں، سماجی کارکنوں، ادیبوں، فنکاروں اور موسیقاروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ایک مشترکہ بیان پر 1,800 سے زائد فنکاروں، ادیبوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے دستخط کرتے ہوئے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس نہ دل ہے اور نہ ہی ضمیر،سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سونم وانگچک سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی مفاد میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں، ملک کے نوجوانوں کو وانگچک کی اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے، اس لیے وہ صحت یاب ہونے کے بعد نئے جذبے کے ساتھ اپنی جدوجہد دوبارہ شروع کریں۔

    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھی جذباتی انداز میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، یہی کسی بھوک ہڑتال کا مقصد ہوتا ہے بھارت کو آئندہ طویل جدوجہد کے لیے آپ کی آواز کی ضرورت ہے پارلیمنٹ کا اجلاس پیر سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے، جہاں طلبہ کے مسائل مؤثر انداز میں اٹھائے جا سکتے ہیں، اس لیے وانگچک اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں۔

    سونم وانگچک نے اب تک اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کیا ہے انہوں نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میں نے جو جدوجہد شروع کی ہے، اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں،بدھ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انہیں ساتھیوں کے سہارے چلتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم چند لمحوں بعد وہ ٹانگ میں شدید درد کے باعث کرسی پر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔

    وانگچک کی تشویشناک حالت کے بعد دہلی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی کہ انہیں سرکاری اسپتال منتقل کر کے ضرورت پڑ نے پر زبردستی خوراک دی جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے درخواست میں الزام لگایا گیا کہ حکومت سونم وانگچک کیساتھ ایک ’سخت گیر مجرم، دہشت گرد یا ملک دشمن‘ جیسا سلوک کر رہی ہے اور ان کی زندگی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی صحت کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر حالت مزید خراب ہوئی تو فوری مداخلت کی جائے گی، عدا لت نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت پر لازم ہے کہ اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

    دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی مقام ’جنتر منتر‘ پر جاری احتجاج میں شدید گرمی کے باوجود شرکا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ موسم کی شدت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے، تاہم سینکڑوں افراد احتجاج میں شریک ہیں اور ان کی سب سے بڑی تشویش سونم وانگچک کی صحت ہے۔

    وانگچک کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر ستیش لامبا نے بتایا کہ ان کے جسم میں چربی ختم ہونے کے بعد اب پٹھوں کا وزن بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگلے مرحلے میں اگر جسم کے اہم اعضا متاثر ہوئے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کا آغاز ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اپنے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں کیا تھا مظاہرین نے جمعرات کو ملک گیر یومِ بھوک ہڑتال منانے کا اعلان کیا، جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

  • بھارتی ریاست منی پورمیں ایک بار پھر عوام اورسیکیورٹی فورسز آمنے سامنے

    بھارتی ریاست منی پورمیں ایک بار پھر عوام اورسیکیورٹی فورسز آمنے سامنے

    مودی سرکارکی ناکام اورناقص پالیسیوں کے باعث منی پورمیں حالات روزبروزمزید سنگین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

    بھارتی جریدے نےمنی پور میں امن وامان کی خراب صورتحال کوآشکار کردیا، منی پورکے ضلع سیناپتی میں سرچ آپریشن کے بعدہجوم کا آسام رائفلز کیمپ پر حملہ،متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا،مظاہرین نے آسام رائفلز کی عمارت پرپتھراؤکیا،احاطےمیں توڑپھوڑ کی اور3گاڑیوں کو آگ لگائی، ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے سیکیو رٹی فورسزکی جانب سے آنسوگیس کے شیل بھی فائر کیےگئے۔

    بھارتی جریدہ دی اکنامک ٹائمزکے مطابق گزشتہ دس دنوں میں آسام رائفلز پریہ تیسرا حملہ ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کےمطابق بی جے پی حکومت منی پور میں انسانی حقوق کے تحفظ اور تشدد کوروکنے میں مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے منی پورمیں سیکیورٹی فورسز پربڑھتے حملے مودی سرکار اورسیکیورٹی اداروں کیخلاف عوامی بیزاری اور کھلے عدم اعتماد کا عکاس ہیں۔

  • مولانا فضل الرحمان کے بیان کوبھارت میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی،شرجیل میمن

    مولانا فضل الرحمان کے بیان کوبھارت میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی،شرجیل میمن

    سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ معرکہ حق میں بھارت کوعبرتناک شکست دی ،پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا،مولانا فضل الرحمان کے بیان سے ہر پاکستانی کی دل آزاری ہوئی۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بیان کو واپس لیں،الفاظ واپس لینےسےمولانا فضل الرحمان کی عزت کم نہیں ہوگی،معاملےکوانا کا مسئلہ نہ بنائیں مولانا فضل الرحمان کے بیان کوبھارت میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی،وہاں خوشی منائی گئی ،ایسا بیان دینے سے گریز کیاجائے جس سے ہمارا دشمن خوش ہو،مولانا فضل الرحمان کیلئے دل میں بہت احترام ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ ہمارے شہدا ہمارا فخر ہیں،ملک کیلئے لڑنے کے جذبے کی قیمت تنخواہ نہیں ہوتی،جوان گھر سےنکلتےوقت والدین سے شہادت کی دعا کی درخواست کرتے ہیں،شہدا کا رتبہ ہمیشہ بلند رہے گا، بھارت اب پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے،بیان بازی سےشہید کےرتبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ،پاک بھارت جنگ میں پوری قوم متحد تھی،پیپلزپارٹی نےکبھی اپنی افواج کےخلاف بات نہیں کی بھارت کےخلاف ہرمحاذ پر پاکستانی غازی ڈٹے رہے،مولانا فضل الرحمان بیان واپس لیں، ان کےقدوقامت میں اضافہ ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اس بار گندم کی اچھی فصل ہوئی،منافع خوروں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کی ،سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا،17 لاکھ ٹن گندم برآمد کی،سرکاری نوٹس جاری کیےگئے کہ ذخیرہ کی گئی گندم سرکار کےحوالے کی جائےگندم مارکیٹ میں آنے سےقیمت میں 13فیصد کمی ہوئی،گندم کی ذ خیرہ اندوزی کرنے والوں کارروائیاں جاری ہے،حکومت سندھ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل کافوری نوٹس لیا،پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیراعظم کےفیصلےملکی معیشت کومدنظر رکھ کرہوں گے،گندم پرپنجاب اورسندھ نےاپنی اپنی پا لیسی بنائی،پنجاب سے افغا نستان گندم جانےکی اطلاع درست نہیں،سندھ سےپنجاب گندم جانےکےشواہد موجود ہیں آئین کےتحت گندم کی بین الصوبا ئی ترسیل نہیں روکی جا سکتی ،مصطفیٰ کمال پہلے وفاقی وزارت سےمستعفی ہوں،نشست چھوڑکرضمنی انتخاب لڑیں، پتہ چل جائے گا۔

  • بھارت کے ایٹمی پلانٹ کا مبینہ حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

    بھارت کے ایٹمی پلانٹ کا مبینہ حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

    رینسم ویئر گروپ ‘ورلڈ لیکس’ نے بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر ‘کڈانکلم’ (Kudankulum) سے متعلق تقریباً 19,000 حساس فائلیں ڈارک ویب پر لیک کر دی ہیں، لیک ہونے والی دستاویزات میں پلانٹ کے بلیو پرنٹس اور سپلائر کی تفصیلات شامل ہیں، البتہ حکام کے مطابق اس کا تعلق بنیادی جوہری سسٹمز سے نہیں ہے-

    برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر تنصیبات کے کچھ حصوں کے نقشے اور سپلائرز کی تفصیلات شامل ہیں جبکہ ہیکرز کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات ریلائنس گروپ سے حاصل کی گئی ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ بھارت کے 7 جوہری پلانٹس میں سب سے بڑا ہے جبکہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا مرکزی حصہ ہے اس پلانٹ کا ٹھیکہ بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے پاس ہے-

    ریلائنس گروپ نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرور پر ریلائنس کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے اور اس واقعے سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم ریلائنس نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔

    نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا لیک پلانٹ کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر تنصیبات کے کچھ نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس پالیسیز شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ریلائنس کی لیک ہونے والی 8 لاکھ 58 ہزار فائلز میں سے 19 ہزار فائلیں سب سے زیادہ حساس معلوم ہوتی ہیں جو ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر موجود ہیں ریلائنس انفراسٹرکچر، جو اس گروپ کی ذیلی کمپنی ہے نے 2018 میں پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے لیے انفراسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا یہ دونوں یونٹس تاحال زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک فعال ہونے کی توقع ہے، یہ یونٹس مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کر یں گے۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق ورلڈ لیکس رینسم ویئر گروپ ہے اور اس سے قبل Nike اور ٹاٹا گروپ کو نشانہ بنا چکا ہے یہ گروپ عموماً کمپنیوں کی جانب سے تاوان ادا نہ کرنے پر چوری شدہ ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیتا ہے جس تک رسائی خصوصی براؤزر کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔

    جون میں ورلڈ لیکس نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس نے ٹاٹا گروپ کی فائلوں کے بدلے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا تھا، ان فائلز میں ایپل اور ٹیسلا جیسے کلائنٹس کے خفیہ ڈیزائن شامل تھے اور تاوان کا مطالبہ مسترد ہونے پر ڈیٹا ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا تھا۔

    ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات بظاہر جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں تاہم ان میں یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے اور ایک کنٹرول روم کا نقشہ بھی شامل ہے فائلوں میں سپلائرز کی تجاویز، منظور شدہ سپلائرز کی فہرست اور 2024 میں نیوکلیئر پاور کارپو ریشن اور ریلائنس کے مشترکہ معائنے سے متعلق اجلاس کا ریکارڈ بھی شامل ہے جس میں آلات کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

    ایک اور دستاویز کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایک انشورنس پالیسی بھی حاصل کر رکھی ہے جس کے تحت اگر یونٹ 3 یا یونٹ 4 دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو انہیں 112 ملین ڈالر تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو اس سے پلانٹ کے معاون نظاموں کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے، سپلائرز کی شناخت کی جا سکتی ہے اور سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے نکولس روتھ کے مطابق یہ ڈیٹا صرف یہ نہیں دکھاتا کہ کس کو اس منصوبے تک رسائی حاصل ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس رسائی کے ذریعے کن سسٹمز تک پہنچا جاسکتا ہے۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی سرفشارک کے مطابق بھارت دنیا میں ڈیٹا لیک کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے۔

  • روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ ،امریکا نے بھارت اور چین کے لیے پابندیاں کم کردیں

    روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ ،امریکا نے بھارت اور چین کے لیے پابندیاں کم کردیں

    امریکی سینیٹرز نے روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے، جس میں روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، کے لیے مجوزہ سخت ٹیرف میں نرمی کی گئی ہے۔

    امریکی سینیٹ میں منگل کو روس پر نئی پابندیوں کے بل کا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا گیا، جسے آنجہانی لنزے گراہم کی اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے بل کے نئے مسودے میں روسی تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر مجوزہ 500 فیصد یکساں ٹیرف کی تجویز نرم کرتے ہوئے دنیا کے پانچ بڑے خریداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف کی حد مقرر کی گئی ہے بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اس کے تحت روسی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور بھار ت جیسے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کریں۔

    سینیٹر لنزے گراہم نے اپنی وفات سے ایک روز قبل یوکرین کے دورے کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے یہ بل ایک سال سے زائد عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا سینیٹ کے معاونین کے مطابق اس وقت بل کے 26 سینیٹرز شریکِ سرپرست ہیں اور مزید ارکان کی حمایت بھی متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔

    نظرثانی شدہ بل اپریل 2025 میں لنزے گراہم اور ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کی جانب سے پیش کیے گئے اصل مسودے سے مختلف ہےنئے مسود ے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ ممالک جو روس کی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور اپنی درآمدات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں، انہیں پابندیوں سے استثنا دیا جا سکے گا۔ اس رعایت سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم مستفید ہو سکتے ہیں۔

    سینیٹ کے معاونین کے مطابق روسی خام تیل کے پانچ بڑے خریدار چین، بھارت، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان ہیں، جبکہ روسی قدرتی گیس درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بیلجیئم شامل ہیں۔

    بل میں روس کے نام نہاد ”شیڈو فلیٹ“ یعنی ایسے آئل ٹینکروں پر بھی پابندیوں کی تجویز دی گئی ہے جو مغربی بحری خدمات پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ روس کے مرکزی بینک، دیگر مالیاتی اداروں اور یامال ایل این جی اور آرکٹک ایل این جی منصوبوں سمیت بڑے سرکاری توانائی منصوبوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا جائے گا۔

    بل میں ایک شق یہ بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر امریکی صدر اسے قومی مفاد میں سمجھیں تو وہ ان پابندیوں کو معطل کرنے کا اختیار رکھیں گےبل کی بعض شقوں میں نرمی سے متعلق سوال پر سینیٹ کے ایک معاون نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرا ت کے بعد ہی اس مسودے پر اتفاق ممکن ہو سکا یہی وہ بل ہے جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں اور جس کے منظور ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف پابندیاں بھی شامل کی جا سکتی ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بڑا قدم ہوگا،صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ بل کانگریس سے منظور ہو کر قانون بن جائے گا ان کا کہنا تھا کہ یہ آنجہانی لنزے گراہم کا مشن تھا اور وہ اس بل کی منظوری کے لیے سب سے زیادہ پُرعزم تھے۔

  • 14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج  کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

    14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

    بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں گائے کے تحفظ کے نام پر ایک شخص کے قتل کے مقدمے میں 14 افراد کو عمر قید کی سزا سنانے والی مسلمان خاتون جج کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مدھیہ پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے 12 جون 2026 کو ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 2022 میں قتل کیے گئے نذیر احمد کے کیس میں 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق نذیر احمد کو مبینہ طور پر ایک ہجوم نے گائے کی حفاظت کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی، عدالت نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔

    فیصلے کے بعد بعض ہندو قوم پرست حلقوں سے وابستہ افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر جج تبسم خان کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز پیغامات سامنے آئے، رپورٹس کے مطابق ان پیغامات میں خاتون جج کو فرقہ وارانہ الفاظ کا نشانہ بنایا گیا، ان کی تضحیک کی گئی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

    بعض پیغامات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اگر سزا پانے والے افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں بدامنی اور خونریزی ہوگی، تاہم حکام کی جانب سے ان دھمکیو ں کے تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، یہ معاملہ صرف ایک عدالتی فیصلے کے ردعمل تک محدود نہیں بلکہ جج کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    دھمکیوں کے بعد بھارت کے اعلیٰ عدالتی حلقوں نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مذمت کی ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایسوسی ایشن سمیت دیگر قانونی اداروں نے جج کو دھمکیوں کو عدالتی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہےمدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے بھی خاتون جج تبسم خان کی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ ان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔

    یہ واقعہ بھارت میں عدالتی افسران، خصوصاً مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ججز کے تحفظ اور عدالتی فیصلوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کا باعث بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق کسی بھی جج کو اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر دھمکانا عدالتی نظام کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

  • انگلینڈ نے بھی بھارت کو ٹی 20 سیریز میں وائٹ واش کردیا

    انگلینڈ نے بھی بھارت کو ٹی 20 سیریز میں وائٹ واش کردیا

    انگلینڈ نے پانچ میچوں پر مشتمل سیریز کے آخری ٹی 20 میچ میں بھی بھارت کو 56 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر سیریز 0-4 سے اپنے نام کر لی ہے-

    ہفتے کو ساؤتھمپٹن میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹی 20 میچ میں انگلینڈ نے بھارت کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 257 رنز بنائے، انگلینڈ کے 258 رنز کے ہدف تعاقب میں بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز ہی بناسکی۔

    انگلینڈ کی جانب سے فل سالٹ اور جوز بٹلر نے اننگز کا آغاز کیا لیکن 8 رنز کے اسکور پر انگلش ٹیم کو پہلا نقصان اٹھانا پڑا، اوپنر فل سالٹ 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئےپہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد انگلش وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر اور کپتان ہیری بروک نے بھارتی بولرز کی بھرپور دھلائی کی، ہیری بروک اور جوز بٹلر نے 102 گیندوں پر 233 رنز کی پارٹنرشپ بنائی،یہ پارٹنر شپ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں دوسری وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت ہے۔ اس سے قبل یہ عالمی ریکارڈ بھارت کے سنجو سیمسن اور تلک ورما کے پاس تھا، جنہوں نے دوسرے وکٹ کے لیے 210 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔

    241 رنز پرجوز بٹلر آؤٹ ہوگئے، انہوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 64 گیندوں پر 131 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں 8 چھکے اور 12 چوکے شامل تھے، یہ جوز بٹلر کی بھارت کے خلاف ٹی 20 کیریئر کی بہترین اننگز قرار دی جا رہی ہے اس کے علاوہ کپتان ہیری بروک نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور 95 رنز کی ناقابل شکست دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں 8 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے اس کے علاوہ انگلینڈ کے جیکب بیتھل بغیر کوئی رنز نہ بنا سکے جب کہ وِل جیکس 7 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اس طرح انگلینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 257 رنز بنا ئے-

    بھارت کی جانب سے شیوم دوبے نے 2 وکٹیں حاصل کیں جب کہ پراسدھ کرشنا ایک کھلاڑی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔

    انگلینڈ کے 258 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت کی جانب سے سنجو سیمسن اور ابھیشک شرما بیٹنگ کے لیے آئے تاہم ابھیشک شرما 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ سنجو سیمسن 27 رنز بنا سکے اور کپتان شریاس ائیر 28 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے بھارتی وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 35 گیندوں پر 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 56 رنز بنائے، انہیں راشد کی گیند پر فل سالٹ نے کیچ آؤٹ کیا جب کہ شیوم دوبے 14 رنز بنا سکے۔

    بھارت کی چھٹی وکٹ تلک ورما کی گری، انہوں نے 25 گیندوں پر 4 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے۔ سورینش صرف 7 رنز بنا سکے، اکثیر پٹیل 3 رنز بنا کر راشد کی گیند پر وہل جیکس کو کیچ تھما کر پویلین لوٹ گئے اس طرح مقررہ بھارت کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز بنا سکی اور یوں انگلینڈ کی ٹیم یہ میچ 56 رنز سے جیت گئی۔

    اس کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے بھارت کے خلاف ٹی 20 سیریز میں مکمل برتری ثابت کرتے ہوئے سیریز 0-4 سے اپنے نام کرلی اور یوں آئرلینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی بھارت کو ٹی 20 سیریز میں وائٹ وائش کردیا۔

  • ویتنام میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے 15 بھارتی سیاح ہلاک

    ویتنام میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے 15 بھارتی سیاح ہلاک

    ویتنام کے جنوبی جزیرے فو کوک کے قریب سیاحوں کی ایک کشتی الٹنے سے کم از کم 15 بھارتی سیاح ہلاک جبکہ 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

    حادثے کے بعد مقامی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے اور واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے مقامی حکام کے مطابق کشتی میں مجموعی طور پر 36 افراد سوار تھے، جن میں 32 بھارتی سیاح، عملے کے تین ارکان اور ایک معاون شامل تھا، کشتی ہون مے رٹ جزیرے سے این تھوئی بندرگاہ جا رہی تھی کہ ساحل سے تقریباً 400 میٹر دور سمندر میں الٹ گئی۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت سمندر میں بڑی لہریں اٹھ رہی تھیں اور موسم خراب تھا، جس کے باعث کشتی حادثے کا شکار ہوئی، تاہم حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

    ویتنام میں بھارتی سفارت خانے نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہا ہےمتاثرہ خاندانوں کی معاونت کے لیے ہو چی منہ سٹی اور ہنوئی میں ہنگامی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں، جبکہ مقامی حکام کے ساتھ رابطہ بھی جاری ہے حادثے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں کیونکہ مقامی حکام کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔