امریکی فوڈ چین میکڈونلڈز نے شمالی اور مشرقی بھارت میں اپنے بیشتر آؤٹ لیٹس پر کھانے کی تیاری میں ٹماٹر کا استعمال بند کر دیا ہے۔
باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی فوڈ چین نے فاسٹ فوڈ کے شوقین افراد کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی آئٹم میں ٹماٹر استعمال نہیں ہو گا اس کی وجہ ٹماٹر کی قیمتوں میں ہونے والا پانچ گنا اضافہ بتایاگیا ہے کیونکہ خراب موسمی حالات کی بنا پر فصل کی پیداوار متأثر ہوئی ہے، بھارت کے شمالی اور مشرقی علاقوں کے امریکی فاسٹ فوڈ سینٹرز میں کھانوں میں ٹماٹر نہیں دیئے جا رہے عالمی فاسٹ فوڈ چین نے کہا ہے کہ ٹماٹر کا استعمال بند کر دینے کی وجوہات میں معیاری مصنوعات کی عدم دستیابی اور قیمت میں تیزی سے اضافہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت کے کچھ علاقوں میں ٹماٹر کی قیمت 250 روپے فی کلو سے بھی اوپر چلی گئی ہےٹماٹر پورے بھارت کے کھانوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں اور ان کی قیمت میں اضافہ وسیع پیمانے پر مظاہروں کا باعث بن سکتا ہے، جیسے پہلے پیاز کی قیمت میں اضافے کے خلاف کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں نے جنوبی ایشیا کے ملک میں حکومتوں کو واقعی گرا دیا ہے۔
6 جولائی کو شائع ہونے والے ریزرو بینک آف انڈیا کے محققین کے ایک مطالعہ کے مطابق، لاگت میں کمی بیشی سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مرکزی بینک کی کوششیں بھی متأثر ہوسکتی ہیں۔ اور مالی طور پر کمزور طبقات پر اس کے غیر متناسب اثرات ہوں گے ٹماٹر، پیاز، اور آلو ملک کے کنزیومر پرائس انڈیکس کمبائنڈ باسکٹ کا ایک چھوٹا حصہ ہیں لیکن ہیڈ لائن افراط زر کے اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ دیگر سبزیوں اور اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے مہنگائی اور غذائی تحفظ پر منفی اثر ہو سکتا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے بھارت جائے گی یا نہیں اس حوالہ سے فیصلہ کرنے کے لئے ایک ہائی پروفائل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،
وزیر خارجہ بلاول زرداری کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی میں وفاقی وزرا رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ، احسان مزاری، مریم اورنگزیب، اسعد محمود، امین الحق، قمر زمان کائرہ اور طارق فاطمی شامل ہیں ،قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہ اور سیکرٹری خارجہ بھی ہائی پروفائل کمیٹی میں شامل ہیں ،
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی بھارت میں ہونیوالے ورلڈ کپ میچز میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے حوالہ سے سفارشات مرتب کرے گی، حتمی سفارشات وزیراعظم کو بھجوائی جائیں گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ ہو گا، پی سی بی نے ورلڈ کپ میں شرکت حکومت کی اجازت کے ساتھ مشروط کی ہے،
ورلڈکپ 12 وینیوز پر کھیلا جائے گا ،ورلڈکپ میں شامل 10 ٹیمیں 9، 9 میچ کھیلیں گی ،پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ 6 اکتوبر کو کوالیفائر 1 کے خلاف حیدر آباد میں کھیلے گی ،پاکستانی ٹیم کا دوسرا میچ 12 اکتوبر کو کوالیفائر2 کے خلاف حیدرآباد میں ہوگا ،پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑا مقابلہ 15 اکتوبرکواحمد آباد میں کھیلا جائے گا پاکستان ٹیم 20 اکتوبر کو آسٹریلیا کے خلاف بنگلورو،23 اکتوبرکوافغانستان کےخلاف چنئی میں میدان میں اترے گی ،قو می ٹیم 27 اکتوبر کو جنوبی افریقہ،31 اکتوبر کو بنگلہ دیش کےخلاف میچ کھیلے گی پاکستان ٹیم 4نومبر کونیوزی لینڈاور 12 نومبر کو انگلینڈ کےخلاف آخری لیگ میچ کھیلے گی
کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن پرثالثی عدالت نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کرلیا
اٹارنی جنرل آفس کے ذرائع کے مطابق کشن گنگا ڈیم کے تنازع پر المی ثالثی عدالت نے بھارت کا پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کردیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے کشن گنگا ڈیم پرپاکستان کا کیس قابل سماعت قرار دے دیا پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے دائرہ اختیار پر پاکستان کے مؤقف کی توثیق کردی،بین الاقوامی فورم پی اے سی نے کشن گنگا ڈیم کے معاملے میں بھارتی اعتراضات کو مسترد کر دیے
واضح رہے کہ بھارت دریائے جہلم پر 330 میگا واٹ کا کشن گنکا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، اس ڈیم میں بھارت 7 لاکھ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرے گا، جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈیم میں ایک لاکھ کیوبک میٹر سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ پاکستان نے ڈیم کے اسپل ویز کی چوڑائی پر بھی اعتراض کر رکھا ہے۔
متنازع کشن گنگا ہائیڈرو پاور اسٹیشن پر کام کا آغاز 2009 میں ہوا تھا ، پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے عالمی بینک نے کشن گنگا منصوبے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو مرتبہ مذاکرات کرائے تا ہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا
خیال رہے کہ پاکستان کے باوزن موقف اور طویل کوششوں کے بعد ورلڈ بنک نے مارچ 2022 میں عدالتی تشکیل کا عمل شروع کیا اور330 میگا واٹ کے کشن گنگا منصوبے کو ماہرین ہر اعتبار سے محض اسٹریٹجک منصوبہ قرار دے رہے جبکہ کشن گنگا اور راتلے آبی منصوبے نریندر مودی کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے عکاس ہیں اور کشن گنگا منصوبے کے ڈیزائن سے پاکستان کا ایک ہزار میگا واٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ شدید متاثر ہو سکتا ہے عالمی بنک کی ثالثی عدالت سے بھارت کے بھاگنے کی ہر کوشش ناکام بنانے کے لیے پاکستان کا کیس ٹھوس نکات پر مبنی ہے
بھارت میں اتر پردیش حکومت کی ایک اعلیٰ بیوروکریٹ جیوتی موریہ کی چونکا دینے والی کہانی سوشل میڈیا پرٹرینڈ کررہی ہے ۔
بریلی کی سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) پر بدعنوانی کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر آلوک ورما کو دھوکہ دینے کا الزام ہے جو ریاست کے پنچایت راج میں درجہ چہارم کے ملازم ہیں۔ آلوک ورما نے اپنی بیوی کی تعلیم کے لیے مالی اعانت کے علاوہ بھرپور تعاون کیا جس سے جیوتی کو سول سروس کا امتحان پاس کرنے میں مدد ملی۔
اسکینڈل کیا ہے؟
جیوتی موریہ کی شادی بریلی ضلع کے رہنے والے آلوک ورما کے ساتھ 2010 ہوئی جو ریاست کے پنچایت راج ڈیپارٹمنٹ میں صفائی ملازم ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اجیوتی اپنی تعلیم کو آگے بڑھانا چاہتی تھی اور ریاستی سول سروس کا امتحان پاس کرکے سول سرونٹ بننے کا خواب دیکھتی تھی جیوتی کے شوہر اور سسرال والوں نے اس کے خوابوں کی حمایت کرتے ہوئے پڑھائی کا خرچ اٹھایا اور آخر کار اس نے2015 میں پی سی ایس کا امتحان پاس کیا اور ایس ڈی ایم بریلی تعینات ہوگئی۔
جیوتی نے 2015 میں جڑواں بچیوں کو جنم دیا تھا اور ان کے شوہر کے مطابق یہ جوڑا 2020 تک خوشی خوشی زندگی گزار رہا تھا لیکن جلد ہی حالات بدترین ہو گئے جب آلوک کو علم ہوا کہ جیوتی کی کسی افسرکے ساتھ دوستی ہے اور وہ اسے دھوکہ دے رہی ہے۔
اس انکشاف نے آلوک کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ وہ اپنی بیوی کی اعلٰی تعلیم مکمل کرنے اور سرکاری ملازم بننے کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے سالوں سے شدید محنت کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے پڑھائی کیلئے جیوتی کو پریاگ راج کے ایک اہم کوچنگ سینٹر میں بھی داخل کرایا تھا ، لیکن کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد جیوتی نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو دھوکہ دیا۔
آلوک ورما نے اپنی اہلیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی تعلقات کو ختم کرے تاکہ وہ پھر سے ایک ہوجائیں تاہم ایس ڈی ایم نے مبینہ طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور شوہر اور سسرال والوں پر جہیز کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے آلوک کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
In Bihar, husband stopped wife's #studies, and said that there is no need to become another Jyoti Maurya!
After the Maurya husband-wife dispute in UP, there is a lot of panic among the husbands of the country.!
آلوک ورما نے اپنی اہلیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی تعلقات کو ختم کرے تاکہ وہ پھر سے ایک ہوجائیں تاہم ایس ڈی ایم نے مبینہ طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور شوہر اور سسرال والوں پر جہیز کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے آلوک کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
https://twitter.com/onlyrajnish/status/1675702150691713024?s=20
ایک حالیہ بیان میں، جیوتی موریہ نے دعویٰ کیا کہ آلوک سے شادی کرنے کے لیے اسے دھوکہ دیا گیا تھا جس نے اس وقت پنچایت راج محکمہ میں گرام پنچایت افسر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد میں، جب یہ محسوس ہوا کہ اس کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے اور الوک درحقیقت 4ویں کلاس کا ملازم ہے، جو مذکورہ محکمے میں جھاڑو دینے والا کام کر رہا ہے، اس نے اپنے فیصلے پر افسوس کیا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
دریں اثنا، آلوک ورما نے الزام لگایا ہے کہ جب سے وہ جیوتی کی بے وفائی اور بدعنوانی کے بارے میں منظر عام پر آیا تھا تب سے بیوی اسے قتل کرنے کی سازش کر رہی تھی۔
ورما نے اپنی بیوی کے مبینہ عاشق کے خلاف پریاگ راج اور نیشنل گارڈ ہیڈ کوارٹر میں شکایت درج کروائی تھی لیکن مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے اس شخص کو عوام میں جانے پر مجبور کیا گیا۔
کرپشن کی ’ڈائری‘
آلوک ورما نے اپنی بیوی کا دعویٰ کیا ہےجیوتی موریا کرپٹ افسر ہیں اور کمیشن کی شکل میں رشوت لیتی ہیں۔ ورما نے جیوتی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ میڈیا سے رابطہ کیا اور ثبوت کے طور پر، ایک ڈائری فراہم کی جس میں ایس ڈی ایم کی غیر قانونی کمائی کے بارے میں مکمل تفصیلات موجود تھیں جو ماہانہ وصولیوں میں 6 لاکھ روپے بنتی ہیں۔
ورما کی فراہم کردہ ڈائری میں بیان کردہ تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جیوتی کی بدعنوانی کی کہانی 2019 کے اوائل میں شروع ہوئی جب وہ کوشامبی ٹی سب ڈویژن میں پروبیشنری آفیسر کے طور پر تعینات تھیں اور ماہانہ بنیادوں پر کمیشن کی شکل میں رشوت وصول کرتی تھیں۔
مبینہ نوٹ بک میں درج تفصیلات کے مطابق، جیوتی موریہ نے مبینہ طور پر اکتوبر 2021 میں رشوت کے طور پر 604,000 روپے وصول کیے۔ ڈائری میں ہر ماہ سپلائی انسپکٹر اور مارکیٹنگ انسپکٹر کو بالترتیب 15,000 اور 16,000 روپے کی ادائیگیاں بھی دکھائی گئیں ریاستی حکومت نے خاتون کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
آلوک ورما نے الزام لگایا ہے کہ جیوتی نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اسے نہیں چھوڑتی تو وہ اسے جان سے مار دے گی، جب کہ ایس ڈی ایم نے اس کے شوہر اور اس کے سسرال والوں پر جہیز کے لیے اس کا ذہنی استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔
جیوتی موریہ کون ہیں؟
1987 میں پیدا ہونے والی جیوتی اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں پیدا ہوئی اور پرورش پائی۔ اس نے اپنی ابتدائی تعلیم ضلع کے ایک مقامی اسکول سے مکمل کی اور گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ریاست کے پی سی ایس امتحان کی تیاری شروع کی۔
2015 میں، جیوتی نے آخر کار اپنا خواب پورا کیا اور فلائنگ کلرز کے ساتھ PCS ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی، ریاست بھر میں 16 ویں رینک اور خواتین میں تیسرا رینک حاصل کیا۔ بعد میں انہیں ایس ڈی ایم بریلی کے طور پر تعینات کیا گیا جیوتی موریا نے 2010 میں آلوک ورما سے شادی کی اور 2015 میں پی سی ایس کے امتحانات کی تیاری شروع کر دی اس کے شوہر اور سسرال والوں نے جذباتی اور مالی طور پر ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا۔
یہ تنازع سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہے کہ یہاں تک کہ بھوجپوری سنیما جو بنیادی طور پر اپنی بہترین موسیقی کے لئے جانا جاتا ہے ، نے صورتحال پر ایک گانا بنا ڈالا،اس گانے کا نام جیوتی کے عہدے سے مطابقت کے ساتھ ’بیوفا ایس ڈی ایم جیوتی موریہ‘ رکھا گیا ہے۔ گانا بھوجپوری گلوکار موہت بلوا نے گایا ہے جنہوں نے اس کے بول بھی لکھے ہیں۔ موسیقی سنیل راج نے دی ہے۔گانے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عہدہ ملنے کے بعد لوگ بے وفا ہو جاتے ہیں گانے میں مزید پیغام دیا گیا ہے کہ خود کو کسی کے لیے اتنا وقف نہ کریں کہ وہ آپ کو تنہا کردے، آپ کے خاندان کو تباہ کرتے ہوئے معاشرے میں آپ کی ساکھ تباہ کردے۔
آئی سی سی نے تازہ ٹیسٹ پلیئر رینکنگ جاری کر دی، انجری کا شکار کیوی کپتان کین ولیمسن بغیر کھیلے نمبر ون گئے ، بابر اعظم کی ایک درجہ تنزلی ہو گئی ، شاہین آفریدی ترقی کر کے چھٹے نمبر پر آ گئے ۔دبئی سے جاری رینکنگ میں تبدیلیاں سامنے آئیں ، انجری کے باعث کرکٹ سے آؤٹ کین ولیمسن ایک درجے بہتری کے بعد نمبر ون پوزیشن پر آگئے ہیں، آسٹریلیا کے اسٹیو اسمتھ کو ٹیسٹ چیمپئن شپ اور ایشز میں سنچریز کی بدولت چار درجے ترقی سے دوسرا نمبر مل گیا، مارنس لبوشین تیسرے اور ٹریوس ہیڈ چوتھے نمبر پر براجمان ہو گئے، جو روٹ 4 درجے تنزلی کے بعد پہلی سے پانچویں پوزیشن پر آگئے ہیں جب کہ پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو ایک درجہ تنزلی کے بعد پانچویں سے چھٹے نمبر پر جانا پڑا بولنگ میں بھارت کے روی چندرن ایشو ن بدستور پہلے نمبر پر موجود ہیں ، آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز 2 درجے بہتری کے بعد دوسرے نمبر پر آگئے ہیں، شاہین آفریدی کو ایک درجے بہتری کے بعد چھٹا نمبر مل گیا
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے
ڈائریکٹر جنرل پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب فلائیٹ لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) عمران قریشی نے کہا ہے کہ 9 جولائی سے دریائے جہلم، چناب اور راوی سے منسلک ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے جاری کردہ الرٹ بارے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ 8 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا جبکہ آج اور کل کے دوران لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، جہلم، اٹک، چکوال، میانوالی، گوجرانوالہ،ساہیوال،جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولنگر، نارووال، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، ملتان، ڈی جی خان، بھکر، لیہ اور تونسہ میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اسی طرح لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال، گجرات، جہلم، اٹک، چکوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور منڈی بہاؤالدین میں موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ 06 سے 08 جولائی کے دوران ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب کا امکان ہے جبکہ آج سے 07 جولائی کے دوران لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے نشیبی علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی دوران مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
انہوں نے متعلقہ اداروں سمیت پنجاب بھر کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں اور ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار رہیں۔ ضلعی انتظامیہ، واسا، میونسپل کمیٹیز اور محکمہ ایریگیشن سمیت دیگر ادارے مشینری اور عملہ کو ہمہ وقت تیار رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے قریب آبادیوں میں بسنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور پانی کی گزرگاہوں سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز سمیت دیگر ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی رپورٹنگ کو بروقت یقینی بنائیں تاکہ فوری ریسکیو کاروائیوں کا آغاز کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مسافر حضرات موسمی صورتحال سے آگاہ رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ تیز آندھی اور بارشوں کے باعث کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نقصانات سے بچنے کے لیے شہری حکومت کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی تدابیر پر من و عن عمل کریں۔
پب جی کا کمال،کراچی کی "سیما”چار بچوں کے ہمراہ پارٹنر سے ملنے بھارت پہنچ گئی
پولیس نے خاتون کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق گوتم بدھ نگر کی پولیس نے پاکستانی خاتون سیما کو گرفتار کیا ہے جو اپنے چار بچوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھی اور ایک ماہ قبل نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوئی تھی اور غیر قانونی طور پر گریٹر نوئیڈا میں مقیم تھی، خاتون کی گرفتاری کے حوالہ سے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس شخص نے خاتون کو ٹھہرایا ہوا تھا اسکو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، پاکستانی خاتون پب جی پر گیم کھیلتی تھی اور اپنے پارٹنر کوملنے آ گئی، خاتون کا پپ جی پارٹنر کے ساتھ شادی کا پروگرام تھا
خاتون خود شادی شدہ تھی اور اسکے چار بچے ہیں، سیما کراچی کی رہائشی ہے، سیما کے شوہر دبئی میں کام کرتے ہیں اور چار پانچ برسوں بعد گھر آتا ہے،سیما نے بھارت آنے سے قبل اپنا کراچی کا گھر بھی فروخت کر ڈالا،پولیس حکام کے مطابق سیما کی عمر 27 برس ہے جبکہ جس شخص سچن کو وہ ملنے آئی اور ٹھہری ہوئی تھی اسکی عمر 22 برس ہے،دونوں میں دوستی پب جی کھیلتے ہوئے ہوئی، پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد مناسب کاروائی کی جائے گی،سچن کرائے کی دکان میں کام کرتا ہے ،دونوں کی جنوری میں نیپال میں ملاقات ہو چکی تھی،سیما نے سچن کے ساتھ شادی کی ضد کی تو دونوں نے وکیل سے رابطہ کیا اور پھر بات پولیس تک چلی گئی،
ایشیا کپ 2023 کا شیڈول جاری نہ کیے جانے کی وجہ سامنے آ گئی جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر میں سری لنکا میں مون سون بارشوں کے باعث ایشیا کپ 2023 کے شیڈول کا اعلان تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایشیاکپ کے شیڈول کا اعلان رواں ہفتے کیا جائے گا۔ جبکہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں مون سون بارشوں کے باعث کولمبو ایشیاکپ کی میزبانی نہیں کرےگا لہٰذا پاکستان اور بھارت کا میچ کولمبو میں نہیں کھیلا جائے گا۔
اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان سال 2008 کے معاہدے کے تحت قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوگیا۔
باغی ٹی وی: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے 308 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کو دے دی، جن میں 266 ماہی گیر اور 42 دیگر افراد شامل ہیں اس وقت بھارت کی جیلوں میں 417 پاکستانی قید ہیں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سزا پوری کرنے والے پاکستانیوں کو رہا کر کے وطن واپس بھیجے-
دوسری طرف بھارتی حکومت نے پاکستانی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو دی ہے جن میں 343 عام شہری اور 74 ماہی گیر شامل ہیں پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ قونصلر رسائی سے متعلق 2008ء کے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرست کے تبادلےکےمعاہدےکے تحت دونوں ملکوں کو سال میں دو مرتبہ فہرستوں کا تبادلہ کرنا ہوتا ہے جبکہ یہ تبادلہ یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جانا ضروری ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے
2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت حکومت پاکستان نے 308 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی ،42 شہریوں اور266 ماہی گیروں سمیت 308 قیدیوں کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو سونپی گئی
بھارت نے بھی اپنی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کر دی ،بھارت نے 417 قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی بھارتی فہرست کے مطابق بھارتی جیلوں میں 343 عام شہری اور 74 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں ،پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت ان تمام پاکستانی سویلینز اورشہریوں کو رہا کرے جو قید کی مدت پوری کر چکے ہیں، پاکستان اور بھارت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اپنی جیلوں سے ماہی گیروں کو رہا کرتے ہیں، پاکستان نے چند دن قبل ماہی گیروں کو رہا کیا تھا جس پر پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان 200 بھارتی ماہی گیروں اور 3 سویلین قیدیوں کو رہا کر رہا ہے۔ اس سے قبل 198 ہندوستانی ماہی گیروں کو 12 مئی 2023 کو وطن واپس بھیجا گیا تھا۔ یہ پاکستان کی انسانی ہمدردی کے معاملات پر سیاست نہ کرنے کی پالیسی کے مطابق ہے۔ ہمدردی کو سیاست پر ترجیح دینی چاہیے۔