Baaghi TV

Tag: بھارت

  • 27 فروری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی پر اُمن قوم ہے، آئی ایس پی آر

    27 فروری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی پر اُمن قوم ہے، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے’ا”پریشن سوئفٹ ریٹارٹ "کے 4 سال مکمل ہونے پر پاکستان کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پلواما فالس فلیگ آپریشن کے بعد بزدلانہ حملے کی کوشش کی، پاکستان نے جرات مندی سے بھارتی مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔


    آئی ایس پی آر نے کہا کہ 27 فروری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی پر امن قوم ہے، مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، کسی بھی مہم جوئی کا بھرپورطاقت سے جواب دیا جائے گا۔


    لیکن جنگ کو واپس دشمن پر لے جانے کے لیے، اگر کبھی، ہم پر جارحیت مسلط کی جاتی ہے کسی بھی فریب کے نتیجے میں کسی بھی مہم جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا ہمیشہ پاک فوج کی بھرپور طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا-


    واضح رہے کہ 27 فروری 2019 میں پلوامہ حملے کے جھوٹے پروپیگنڈے اور کنٹرول لائن پار کرنے کی غلطی پر پاکستان نے بھارت کو "آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” کی صورت میں کرارا جواب دیا تھا۔

    چار سال پہلے آج ہی کے دن پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے اور بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کرلیا تھاگرفتاری کے بعد ابھی نندن نے پاک فوج کی رحم دلی کا مظاہرہ بھی دیکھا کے جب بھارتی ونگ کمانڈر کو چائے پلائی گئی-

    ابھی نندن نے تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی چائے بہت اچھی ہے۔ جس کے بعد ” Tea Is Fantastic” بھارتی فضائیہ کی ناکامی کا استعارہ بن گیا۔

  • بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پرجاوید اختر ردعمل

    بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پرجاوید اختر ردعمل

    بھارتی فلم رائٹر جاوید اختر نے بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والے فیض فیسٹول کے دوران جاوید اختر نے پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی،انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ممبئی پر حملے کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اگر کوئی ہندوستانی یہ شکوہ کرے تو پاکستانیوں کو بُرا نہیں ماننا چاہیے جاوید اختر کے اس بیان پر پاکستان کی عوام اور فنکاروں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔

    اب جاوید اختر نے بھارت میں ایک تقریب کے دوران پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کے حوالے سے ردعمل دیا ہے کہا بیان دینے کے بعد مجھے لگا ایسے ایونٹس میں نہیں جانا چاہیے لیکن یہاں (بھارت) آیا تو لگا پتہ نہیں تیسری عالمی جنگ جیت کر آیا ہوں‘۔

    دوسری جانب جہاں شوبز شخصیات نے بھی جاوید اختر کے بیان سے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہیں پاکستان کے معروف ناول نگار اور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ نے بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر کے پاکستان مخالف بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں 10ویں لٹریچر فیسٹیول کا آغاز ہو چکا ہے جس میں گفتگو کرتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ انہیں بھارتی مہمان جاوید اختر کےپاکستان کےخلاف الفاظ سُن کرخود پر شرم محسوس ہوئی انہوں نےکہاکہ وہ جاوید اختر کے فیض فیسٹیول میں کہے الفاظ کو تبصرے کے لائق بھی نہیں سمجھتے۔

    معروف ناول نگار کا کہنا تھا کہ مجھ میں ایسی صفت نہیں ہیں کہ میں نوبل انعام کیلئے اپنے معاشرے کو بُرا کہہ سکوں، ان کا کہنا تھا کہ میرے لئے پاکستان کے پرائیڈ آف پرفارمنس نگار اور کمال فن ایوارڈز کسی نوبل پرائز سے کم نہیں۔

    پاکستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ ہماری قوم پاگل ہوگئی ہے اور برداشت کھو بیٹھی ہے۔

  • بھارت میں زلزلہ سے متاثرہ ترکیہ کے لئے بین المذاہب دعائیہ اجتماع

    بھارت میں زلزلہ سے متاثرہ ترکیہ کے لئے بین المذاہب دعائیہ اجتماع

    نئی دہلی: زلزلہ سے متاثرہ ترکیہ کے لئے بین المذاہب دعائیہ اجتماع

    باغی ٹی وی : بھارت کے مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے دہلی میں ترکیہ کے سفارت خانے میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ اظہار تعزیت کے لئے ایک بین المذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی اور مشکل کی اس گھڑی میں بھارت کی عوام کی جانب سے ترکیہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ دعائیہ جلسہ انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم (آئی ایم سی ایف) کے زیراہتمام منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھارت میں ترکیہ کے سفیر عزت مآب فرات صانل بھی موجود تھے۔

    ترکی کے سفیر عزت مآب فرات صانل نے کہا کہ ترکی اور شام میں تباہ کن زلزلے سے جو تباہی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے بھارت کے کئی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کے یہ 10 متاثرہ علاقے اتنے ہی بڑے ہیں جتنی کہ یہ ریاستیں یا خطہ۔ زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی ہے۔ حکومت ہند اور ب بھارت کی عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے عزت مآب سفیر نے کہا کہ ہم بھارت کی مودی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے "مشن دوستی” کے تحت ترکیہ کو جس طرح کی مدد فراہم کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تمام مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر نہ صرف ترکیہ اور شام کے لئے دعائیں کی جارہی ہیں بلکہ ہر ممکن مدد بھی کی جارہی ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔

    انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم کے جنرل سکریٹری اور اس تعزیتی اجلاس کے آرگنائزر سینئر صحافی انظرالباری نے کہا کہ زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے، اگر انسان بروقت چوکنا ہو جائے تو بڑے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زلزلے سے متاثرہ افراد کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔ ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد مودی حکومت کی طرف سے کی جانے والی مدد کو سراہتے ہوئے انظرالباری نے سبھی سے اپیل کی کہ لوگ دل کھول کر زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے آگے آئیں، تاکہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی زندگیاں واپس پٹری پر آسکیں۔

    اس موقع پربھارتیہ سرو دھرم سنسد کے قومی کنوینر گوسوامی سشیل جی مہاراج نے کہا کہ ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کہیں بھی آ سکتی ہیں، انسانیت ہمارے لئے اہم ہے، یہ بھارت کی پہچان بھی ہے۔ سرو دھرم سنسد متاثرہ لوگوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سنت سماج کے لوگ زلزلہ متاثرین سے اظہار تعزیت کے لئے ترکی جانے پر غور کر رہے ہیں۔

    اس دعائیہ اجلاس میں مسیحی پیشوا فادر سیباسٹین نے انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم اور بھارتیہ سرو دھرم سنسد کا مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا جسے بعد میں آئی ایم سی ایف کے جنرل سکریٹری اور کنوینر نے ترکی کے سفیر کو سونپا۔

    قرآن کریم ایجوکیشن سوسائٹی کے سربراہ مولانا محب اللہ ندوی، مشہور شیعہ اسکالر مولانا سید افروز مجتبیٰ نقوی، جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامیات کے ڈاکٹر ارشد حسین، درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے پیرزادہ صوفی انفال احمد نظامی، آریہ سماج کے سوامی سمپورنانند مہاراج ، دگمبر سماج کے یوگ بھوشن، رویداس پنتھ کے ویر سنگھ ہتکاری جی مہاراج اور سکھ مذہب کے سردار پرمیت سنگھ چڈھا، آئی ایم سی ایف کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر مظفر علی، ہیومن ویلفیئر کونسل کے سید احمد عبداللہ وغیرہ نے شرکت کی اور زلزلہ متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا اور متاثرہ سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔

    اس دوران انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم اور قرآن کریم ایجوکیشن سوسائٹی نے بھی زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے ترکی کے سفیرعزت مآب فرات صانل کو امدادی رقم سونپی۔ مسلم مذہبی رہنما اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کے امام مولانا محب اللہ ندوی نے پروگرام کے اختتام پر خصوصی دعا کی، اسی طرح قومی کنوینر گوسوامی سشیل جی مہاراج نے بھارتیہ سرو دھرم سنسد کی جانب سے خصوصی دعا کی۔ تعزیتی اجلاس کے کنوینر، انڈو مڈل ایسٹ کلچرل فورم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عبدالواحد تھے۔

  • مارک شیٹ  نہ دینے پر طالبعلم نے کالج کی پرنسپل کو آگ لگا دی

    مارک شیٹ نہ دینے پر طالبعلم نے کالج کی پرنسپل کو آگ لگا دی

    اندور: مارک شیٹ نہ دینے پر سابقہ طالبعلم نے پیٹرول چھڑک کر کالج کی پرنسپل کو آگ لگا دی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پیش آیا جہاں فارمیسی کالج کے سابقہ طالبعلم آشوتوش شریواستو نے مارک شیٹ دینے میں تاخیر پر پیر کو کالج کی پرنسپل کو اس وقت آگ لگائی جب وہ گھر لوٹ رہی تھیں۔

    پولیس حکام کے مطابق آگ لگتے ہی پرنسپل کالج کی عمارت کی طرف بھاگیں جس کے بعد عملے نے آگ بجھائی اور انہیں اسپتال پہنچایا۔

    انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ سمرول علاقے میں بی ایم کالج آف فارمیسی نے کہا کہ شریواستو "مجرمانہ رجحانات” رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پرنسپل پر مارک شیٹ کے تنازعہ میں انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر پر چاقو سے حملے کے چار ماہ پرانے کیس کو واپس لینے کے لیے غیر ضروری دباؤ ڈال رہے تھے۔

    اندور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق کالج کی پرنسپل 54 سالہ ویمکتا شرما کا 90 فیصد جسم جھلس چکا ہے اور ان کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ ملزم کے ہاتھ اور سینے پر بھی زخم آئے جائے وقوعہ پر موجود کالج کے چوکیدار نے ملزم کو پکڑا اور پولیس کے حوالے کردیا-

    انہوں نے کہا کہ شریواستو پر تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتویں اور آٹھویں سمیسٹر کے امتحانات دیئے تھے اور نتیجہ جولائی 2022 میں آیا تھاتاہم کئی بار درخواست کرنے کے بعد بھی کالج اسے مارک شیٹ فراہم نہیں کر رہا تھاجس کی وجہ سےاسے پرنسپل پر کافی غصہ تھا تاہم کالج نے ملز م کا مذکورہ الزام مسترد کر دیا ہے-

  • متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان "جامع اقتصادی شراکت داری” معاہدے کو ایک سال مکمل

    متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان "جامع اقتصادی شراکت داری” معاہدے کو ایک سال مکمل

    آج سے ٹھیک ایک سال پہلے، 18 فروری 2022 کو، متحدہ عرب امارات اور بھارت نے ہمارے طویل اور نتیجہ خیز تعلقات کے ایک دلچسپ نئے باب کا آغاز کیا۔

    باغی ٹی وی: "گلف نیوز” کے مطابق اس جمعہ کی شام نئی دہلی میں، عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان، متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران۔ اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نےانڈیا جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جو ہمارے ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے اور علاقائی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے پہلے دوطرفہ تجارتی معاہدے کے طور پر اور MENA خطے کے کسی ملک کے ساتھ ہندوستان کا پہلا، یہ ایک حقیقی سنگ میل تھا لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اقتصادی کشادگی اور انضمام کی طاقت میں ہمارے مشترکہ یقین کا عکاس ہے۔

    مصنوعات کی 80 فیصد سے زیادہ لائنوں پر ٹیرف کو ہٹا کر یا کم کر کے، خدمات کی برآمدات تک مارکیٹ تک رسائی کو بڑھا کر، ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنا کر، اور SMEs کو تعاون اور پیمانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر کے، ہم مواقع کے ایک نئے دور کا تصور کر رہے تھے۔ غیر یقینی دنیا.

    یو اے ای کے لیے، CEPA ہمارے برآمد کنندگان کو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت میں بغیر کسی رکاوٹ کے داخلے کی پیشکش کرے گا، ایک ایسی قوم جس میں تیزی سے ابھرتے ہوئے متوسط ​​طبقے اور ایک بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کا حامل ہے۔

    ہندوستان کے لیے، اس نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک گیٹ وے، اور صنعتوں اور اختراع کاروں کے لیے ایک متحرک، کاروباری دوستانہ پلیٹ فارم کا وعدہ کیا۔

    ہم دونوں کے لیے، یہ سپلائی چینز کو محفوظ بنائے گا اور دہائی کے آخر تک سالانہ غیر تیل تجارت میں $100 بلین کا راستہ پیش کرے گا۔

    یہ قابل ذکر معلوم ہوتا ہے کہ اتنے دور رس اور مہتواکانکشی معاہدے پر تین ماہ سے بھی کم عرصے میں کامیابی سے بات چیت کی گئی۔ تاہم، یہ معاہدہ چند مہینوں میں نہیں بلکہ پانچ دہائیوں سے زیادہ کے اعتماد، تعاون اور تبادلے کے بعد طے پایا تھا۔

    یہ UAE-India CEPA ان دو ممالک کے لیے ایک منطقی اگلا قدم سے کم معاشی انقلاب تھا جن کی تاریخیں اس قدر جڑی ہوئی ہیں۔

    دستخط کے بعد کے سال میں، اور مکمل نفاذ کے بعد نو مہینوں میں، تمام میٹرکس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف خوش آئند تھا بلکہ، ایک چیلنجنگ معاشی ماحول میں، بہت ضروری تھا۔ 2022 میں، غیر تیل کی باہمی تجارت کی مالیت $49 بلین تک پہنچ گئی، جو کہ 2021 کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ اور ہمارے 2030 کے ہدف کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے لیے ہندوستان کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور دوبارہ برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ ایک اہم تجارتی معاون کے طور پر ہماری حیثیت کو واضح کرتا ہے۔

    دبئی چیمبر آف کامرس نے یہ بھی اطلاع دی کہ انہوں نے 2022 میں 11,000 نئی ہندوستانی کمپنیاں رجسٹر کیں، جس سے مجموعی تعداد 83,000 سے زیادہ ہوگئی، جو ہمارے درمیان اقتصادی اور ثقافتی بندھن کو مزید مضبوط کرے گی۔

    بلاشبہ، CEPA کی کامیابی میں اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے وفود کی قیادت ایک دوسرے کے ملک میں کی ہے تاکہ ان دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

    مارچ 2022 میں، جناب پیوش گوئل نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی، جس میں اعلیٰ سرکاری افسران، ہندوستانی برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کے رہنما شامل تھے UAE گئے تاکہ اس وقت کے نئے قائم کردہ CEPA ایکو سسٹم کے تحت ہمارے کاروبار کو زیادہ سے زیادہ تعاون کی طرف راغب کریں۔

    ایک ہفتہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل، ایچ ای الزیودی نے حکام، کاروباری رہنماؤں اور صنعت کاروں کے ایک وفد کی قیادت بھارت کی، جس نے اس تعاون کے اتپریرک ہونے کے کافی ثبوت پیش کیے تھے۔

    بنگلورو میں، مثال کے طور پر، Ducab گروپ نے ایک نیا علاقائی دفتر شروع کیا، جو اسے اپنی مارکیٹ میں معروف کیبلز اور دھاتی مصنوعات کے ساتھ ہندوستانی توانائی اور تعمیراتی شعبوں کی بہتر خدمت کرنے کے قابل بنائے گا۔ پھر، یو اے ای کے وفد کے اتر پردیش میں گلوبل انوسٹر سمٹ کے دورے کے دوران، ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں قابل تجدید توانائی، لاجسٹکس، ریٹیل، اور فوڈ پروسیسنگ کے منصوبوں میں متحدہ عرب امارات کے نجی شعبے کی 2.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔ 20,000 ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت۔

    وہ مئی 2022 سے شروع کی گئی کئی دیگر اہم شراکتوں کی پیروی کرتے ہیں، جیسے کہ گجرات میں 300MW کا ہائبرڈ قابل تجدید توانائی پروجیکٹ اور پورے ہندوستان میں پائیدار فوڈ پارکس جو فضلہ کو کم کرنے اور پانی کو محفوظ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کریں گے۔ پچھلے سال، DP ورلڈ نے دبئی انکیوبیٹر سینٹر کا آغاز کیا، ایک ٹیکنالوجی ایکسلریٹر پلیٹ فارم جو انویسٹ انڈیا اور اسٹارٹ اپ کیرالہ مشن کے ساتھ شراکت میں قائم کیا گیا ہے تاکہ ہندوستان کے لاجسٹکس سیکٹر میں جدت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

    ہمارے تعلقات کی تعریفی نوعیت ابھی تک اپنی حقیقی صلاحیت تک نہیں پہنچی ہے۔ اگر UAE سے ہندوستان میں CEPA کے بعد کی کچھ حالیہ سرمایہ کاری کوئی رہنما ہے، تو آسمان، جیسا کہ وہ کہتے ہیں، ہمارے تعاون کی حد ہے۔ بہت سے ممکنہ طور پر راستے کو توڑنے والے اقدامات ہیں جو ابھرنے پر ہیں، خواہ وہ ‘ورچوئل ٹریڈ’ کوریڈور ہوں یا ہندوستانی ریاست گجرات کے گفٹ سٹی میں ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے دفاتر کا ممکنہ سیٹ اپ۔

    ہم صرف اپنے دونوں ممالک کے درمیان لامحدود امکانات اور جیتنے والے تعاون کے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

    اس قسم کے متحرک مشترکہ منصوبے ہمارے CEPA کی حقیقی صلاحیت کو مجسم بناتے ہیں: تمام قسم کے سرمائے کا امتزاج – انسانی، تکنیکی اور مالیاتی – ایسے حل تیار کرنے اور تعینات کرنے کے لیے جو حقیقی دنیا کو بدلتے ہوئے اثر ڈال سکتے ہیں۔

    تنقیدی طور پر، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کی شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہماری قومیں بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی نقشے سے فائدہ اٹھاسکیں – جو کہ ایشیا کے ساتھ ہمیشہ بدلتا ہوا منظر نامہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ اس سال عالمی ترقی کی قیادت کرے گا، جس میں متوقع جی ڈی پی میں 4.6 فیصد اضافہ ہوگا۔ اگلے پانچ سالوں کے دوران، چین کو چھوڑ کر آسیان اور جنوبی ایشیائی خطے برآمدات اور درآمدی ترقی دونوں میں دنیا کی قیادت کریں گے۔

    ایک سال قبل، مثبتیت اور امکان کے جذبے کے ساتھ، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان ان نئی حقیقتوں کو قبول کرنے اور ہماری قوموں کو زیادہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ UAE-India CEPA کو نہ صرف ہماری اقتصادی کہانیوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا، بلکہ سرحد پار تعاون کے لیے ایک دیرینہ ماڈل کے طور پر دیکھا جائے گا-

  • بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    نئی دہلی: بھارت اب روس سے پیٹرول خریدنے والا ایک بڑا ملک بن گیا ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق بھارت نے گزشتہ ماہ جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے پیٹرول درآمد کیا جو اس کی مجموعی ضرورت کا 27 فیصد تھا جنوری میں روسی تیل کی درآمدات 1.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی جو دسمبر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہے ماسکو اب بھی نئی دہلی کو سب سے زیادہ ماہانہ تیل بیچنے والا ملک ہے، اس کے بعد عراق اور سعودی عرب ہیں-

    بھارت کے روس سے سستا پیٹرول خریدنے کے باعث اب اس کی خلیجی ممالک سے خام تیل کی خریداری میں 84 فیصد تک کمی آئی ہے گزشتہ ماہ بھارت کی طرف سے درآمد کیے گئے 5 ملین بی پی ڈی خام تیل کا تقریباً 27 فیصد حصہ روسی تیل کا تھا،جو کہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا اور صارف ہے۔

    1.4 بلین آبادی والا بھارت اس وقت تیل کی درآمدات میں دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک سمیت پیٹرول برآمد کرنے والے دیگر ممالک بھارت کو خصوصی توجہ بھی دیتے ہیں۔

    بھارت کی تیل کی درآمدات عام طور پر دسمبر اور جنوری میں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ سرکاری ریفائنرز حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اپنے سالانہ پیداواری اہداف کو پورا کرنے کے لیے پہلی سہ ماہی میں دیکھ بھال کے بند ہونے سے گریز کرتے ہیں۔

    بھارت میں ریفائنرز، جو مہنگی لاجسٹکس کی وجہ سے شاذ و نادر ہی روسی تیل خریدتے تھے، روس کے کلیدی آئل کلائنٹ کے طور پر ابھرے ہیں، جس نے گزشتہ فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد سے مغربی ممالک کی طرف سے رعایتی خام تیل کو چھین لیا ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے مہینے روسی سوکول خام تیل کی بھارت کی درآمدات اب تک سب سے زیادہ 100,900 بی پی ڈی تھی، کیونکہ Sakhalin 1 فیلڈ سے پیداوار ایک نئے روسی آپریٹر کے تحت دوبارہ شروع ہوئی، ڈیٹا نے ظاہر کیا۔

    جنوری میں، بھارت کی کینیڈا سے تیل کی درآمدات بڑھ کر 314,000 بی پی ڈی تک پہنچ گئیں کیونکہ ریلائنس انڈسٹریز نےطویل فاصلے کے خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد جنوری میں کینیڈا بھارت کو پانچویں سب سے بڑا سپلائر بن کر ابھرا جنوری میں بھارت کی عراقی تیل کی درآمد 983,000 بی پی ڈی کی سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو دسمبر سے 11 فیصد زیادہ ہے۔

    اپریل سے جنوری کے دوران، اس مالی سال کے پہلے دس مہینوں کے دوران، عراق ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا، جبکہ روس دوسرا سب سے بڑا سپلائر بن گیا، جس نے سعودی عرب کی جگہ لے لی جو اب تیسرے نمبر پر ہے۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی تیل کی زیادہ خریداری نے مشرق وسطیٰ سے بھارتی درآمدات کو 48 فیصد کی اب تک کی کم ترین سطح پر گھسیٹا اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) کے رکن ممالک کی شرح اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی۔

    یوکرین پر حملے کے نتیجے میں عالمی قوتوں نے روس پر اقتصادی اور معاشی پابندیاں عائد کی تھیں جس میں خام تیل کی برآمدات بھی شامل ہے تاہم بھارت نے شروع دن سے ہی پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خام تیل کی خریداری کی۔

    یورپی ممالک میں پابندیوں کے شکار روس کو بھی اپنے تیل کی فروخت کے لیے ایک بڑی مارکیٹ درکار تھی جو اسے بھارت کی شکل میں مل گئی اور بھارت کو قدرے سستا پیٹرول ملنے لگا۔

    خیال رہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت نے بھی روس سے پیٹرول خریدنے کے لیے بات چیت کی ہے تاہم ابھی اس میں مزید لگ سکتا ہے۔

  • بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات

    بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات

    مودی سرکار کی غاصبانہ گرفت سے اب سپریم کورٹ بھی غیر محفوظ ہو گئی-

    باغی ٹی وی : مودی سرکار پسند کا فیصلہ سنانے والے ججوں کو نواز نے لگی،بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات ،فیصلہ سنانے والے 5میں سے 3 ججوں کو ریٹائرمنٹ پر سرکاری عہدوں اور اعزازات سے نواز دیا گیا-

    پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کا مشن،امریکی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا

    کچھ دن قبل ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ جج عبدالنذیر کو آندھرا پردیش کا گورنر نامزد کر دیا گیا قبل ازیں 2020میں چیف جسٹس سپریم کورٹ رانجن گوگوئی کو ریٹائرمنٹ پرعہدے دیئے گئے-

    چیف جسٹس سپریم کورٹ رانجن گوگوئی کو راجیہ سبھامیں خارجہ امور ، اطلاعات اور آئی کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا جبکہ نومبر 2021مین جسٹس اشوک بھوسان کو ریٹائر منٹ کے بعد نیشنل ایپلٹ ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا-

    واضح رہے کہ نومبر 2019میں بابری مسجد کا فیصلہ سنایا گیا تھا،فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے کے واقعے کو درست قرار دیا تھا،بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین پر رام مندر بنانے کا حکم دیا تھا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    متنازعہ فیصلہ سنانے والے 5 میں سے 3 ججوں پر نواز شات فیصلے کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں،عالمی میڈیا پہلے ہی بھارت میں بڑھتی شدت پسندی پر اضطراب کا شکار ہے،کیا انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں گی؟،کیا عالمی انصاف کے ادارے بھارت میں انصاف کے گرتے پیمانوں پر آواز اٹھائیں گے؟-

  • بھارت میں ہر 16منٹ میں ایک خاتون کی عصمت دری  کی جاتی ہے، رپورٹ

    بھارت میں ہر 16منٹ میں ایک خاتون کی عصمت دری کی جاتی ہے، رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت میں ہر 16 منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے جب کہ ہر 30 گھنٹے میں اجتماعی زیادتی کا ایک واقعہ رونما ہوتا ہے، ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔

    باغی ٹی وی : بھارت ہر سال 13 فروری کو خواتین کا قومی دن مناتا ہے لیکن خواتین کو ہر روز ہراساں کیا جاتا ہے، چھیڑاجاتا ہےگرفتارکیا جاتا ہے اور خوف زدہ کیا جاتا ہے اور عصمت دری جیسے سنگین واقعات سمیت زیادہ تر کیسزرپورٹ ہی نہیں ہوتے خواتین کے لیے بھارت دنیا میں بدترین جگہ ہے اور جہاں تک خواتین کے خلاف جرائم کا تعلق ہےتو ہندوتوا آر ایس ایس اوربی جے پی کی زیرقیادت یہ ملک دنیا میں سب سے آگے ہے-

    کشمیر میڈیا سروس میں خواتین کے دن پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا میں خواتین کے لیے بدترین جگہ ہے جہاں ایک گائے کا تو تحفظ ہے لیکن خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں بھارت میں خواتین کو عام طور پر دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے جبکہ اقلیتوں بشمول مسلمان، دلت اور عیسائی خواتین ذہنی طور پر انتہائی ذہنی دباؤ اور ذلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی سب سے زیادہ غیر محفوظ شہروں میں سے ایک ہے۔ یوپی سے لے کر راجستھان اور کیرالہ سے لے کر مدھیہ پردیش تک میں ملک بھر کے مجموعی کیسز میں سے دو تہائی سے زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ کولکتہ میں جنسی زیادتی کے سب سے کم واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے 2020 میں بھارت میں روزانہ 77 جنسی زیادتی کے واقعات کی تصدیق کی ہے جب کہ 2020 میں جنسی زیادتی کے مجموعی 28 ہزار 046 واقعات رونما ہوئے۔ 2019 میں یہ تعداد 32 ہزار، 2018 میں 33 اور 2017 میں 32،559 تھی۔

    بھارت میں مودی سرکار میں جنسی زیادتی کے اتنے کیسز سامنے آئے ہیں کہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کو ریپستان کہا جانے لگا ہے۔

  • پاکستان نے بھارت کو ہرا کر ایشین جونیئر اسکواش چیمپیئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر ایشین جونیئر اسکواش چیمپیئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا

    پاکستان نے میزبان بھارت کو ہرا کر ایشین جونیئر اسکواش چیمپیئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بھارت کےشہرچنئی میں کھیلی جانے والی چیمپئن شپ کےیکطرفہ فائنل میں ٹاپ سیڈ پاکستان نے میزبان ٹیم کو بآسانی شکست دے کر ایک مرتبہ پھر ایشیئن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ کے دونوں اعزازات اپنے نام کرلیے۔


    فائنل کے پہلے میچ میں ایشین جونیئر چیمپئن نورزماں نے اپنے حریف کو 1-3 سے قابو کیا جبکہ دوسرے مقابلے میں محمد حمزہ خان نے مدمقابل کو کسی دقت کے بغیر 0-3 سے ٹھکانے لگا کر پاکستان کو فتح دلوادی۔

    فائنل میں حمزہ خان نے بھارت کے پرت امبانی کو7-11، 5-11، 4-11سے شکست دی جبکہ نور زمان نے بھارتی کےکرشنا مشرا کو 10-12، 11-9، 11-13، 9-11سے ہرایا۔

    پاک افغان ٹی ٹوئنٹی میچز،شارجہ میں دونوں ممالک کےتماشائیوں کیلئےالگ انکلوژربنائےجائیں گے

    اس سے قبل چیمپیئن شپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے ملائیشیا کو 0-2 سے شکست دے کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تھا ،سیمی فائنل میں بھارت نے جنوبی کوریا کو 1-2 سے مات دی تھی۔

    سابق عالمی اسکواش چیمپیئن جہانگیر خان، جان شیر خان اور قمر زمان نے بھارت کو شکست دے کر ایشین جونیئر ٹائٹل حاصل کرنے پر پاکستان اسکواش ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔

    پاکستان سپر لیگ 8 کی ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

  • بھارت میں  ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    ممبئی: بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری (Cow Hug Day) کے طور پر منائیں۔

    باغی ٹی وی:بھارت کے سرکاری ادارے کا خیال ہے کہ گائے سے محبت کرنے والے لوگ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے بجائے "کاؤ ہگ ڈے” کے طور پر مناسکتے ہیں۔ اس سے زندگی مزید خوشگوار ہوگی اوراسے مثبت توانائی سے بھرپور بنایا جاسکے گا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک نوٹیفیکشن جاری کیا ہے جس میں بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے بجائے ’گائے کو گلے لگانے کے دن‘ کے طور پر منائیں۔


    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کے مطابق گائے بھارت کی ثقافت اور دیہی معیشت کا حصہ ہے جبکہ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔

    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کا کہنا ہے کہ 14 فروری گائے کو گلے لگانے کو دن کے طور پر منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت سے ’لڑکا لڑکی کی محبت کے اظہار‘ کے مغربی کلچر کو کم کیا جائے اور لوگوں کو مقامی ثقافت کی جانب راغب کیا جائے۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کی اس اپیل کے خوب چرچے ہورہے ہیں صارفین کی جانب سے طنزو مزاح اور میمز شیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔


    ایک ٹوئٹر صارف نے اینیمل ویلفیئر بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ اس ویلنٹائنز ڈے پر اکیلے ہیں تو بھارتی حکومت آپ کو گائے کو گلے لگانے کا مشورہ دے رہی ہے۔


    https://twitter.com/gsmadhusudan/status/1623330855270903809?s=20&t=vvAkgoHsNPwoc-6qUsweaw


    واضح رہے کہ اینیمل ویلفیئر بورڈ بھارت کی وزارت برائے فشریز کے تحت کام کرتی ہے جس کی ذمہ داریوں میں جانوروں کا تحفظ اور ان کی اہمیت کے بارے میں شعور اُجاگر کرنا بھی شامل ہے۔

    بھارت میں ویلنٹائن ڈے منانا عام ہے لیکن اکثر قدامت پسند اور سخت گیر ہندو تنظیمیں ان مواقع پر ہنگامہ آرائی کرتی ہیں ، ماضی میں مودی بھی اس دن کو منانے کے خلاف کئی بار بیان دے چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، ہندو مذہب میں گائے ایک مقدس جانور تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ بھارت میں گائے کو ذبح کرنا بھی گویا گناہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس پر ذبح کرنے والے کو ہی قتل کردیا جاتا ہے۔

    بھارت میں سال 2015 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں نے بدترین تشدد سے مجموعی طور پر 10 مسلمانوں کو قتل کیا۔

    موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ رہے، ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی تھی-