Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    گجرات:بھارتی ریاست گجرات کی ہائیکورٹ میں حال ہی میں تقریباً 600 مسلمان ماہی گیروں کی جانب سے قتل رحم کی ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ زندہ رہنا نہیں چاہتے اس لیے اُنہیں مرنے کی اجازت دی جائے۔

    بھارتی ریاست گجرات کے مسلم ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں مذہبی امتیاز کے باعث اس قدر سیاسی ظلم و ستم کا سامنا ہے کہ اب وہ جینا ہی نہیں چاہتے۔ واضح رہے کہ ان مسلمانوں کا تعلق عدم تشدد کی سوچ کے علمبردار مہاتما گاندھی کے آبائی وطن سے ہے۔

    یہ درخواست پوربندر کے ساحلی علاقے گوساباڑا میں رہنے والے سو مسلم ماہی گیروں کے خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے مسلم فشرمین سوسائٹی کے سربراہ اللہ رکھا اسلام نے دائر کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے گجرات ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومت مسلم کمیونٹی کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کرتی جنہیں کام کرنے اور کچھ کمانے کی اجازت نہیں ہے۔ مسلم ماہی گیر خاندانوں کی معاشی صورتحال انتہائی حد تک خراب ہوچکی ہے۔ مسلم ماہی گیروں نے ریاستی وزیراعلیٰ اور گورنر تک بھی اپنی شکایت پہنچائی ہے تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود کسی نے بھی ان کی فریاد نہیں سنی۔

    اسماعیل بھائی کا الزام ہے کہ حکام مذہب کی بنیاد پر ان ماہی گیروں کے خاندانوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو ماہی گیروں کو تمام سہولیات باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہیں لیکن لائسنس ہونے کے باوجود مسلم ماہی گیروں کو کام کرنے کی اجازت تک نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل دھرمیش گورجر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ 2016ء سے گوساباڑی بندرگاہ میں کشتیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور مسلم ماہی گیروں کو لائسنس ہونے کے باوجود کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

  • بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی

    بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی

    لکھنو: بابری مسجد کی طرح ”گیا نواپی مسجد“ کو بھی منہدم کرنے کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق اپنے متنازعہ اور فرقہ وارانہ بیانات اور نفرت پھیلانے کے لیے مشہور بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس میں واقع مغل دور کی ” گیانواپی مسجد“ کو بھی بابراہ مسجد کی طرح منہدم کرنے کی کھلی دھمکی دی گئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سنگیت سوم نے میرٹھ شہر میں ایک تقریب میں گیانواپی مسجد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو 1992 کو یاد رکھنا چاہیے جب بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اب نوجوانوں کی طاقت دوگنی ہو گئی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ ایک اور فیصلہ کیا جائے۔انہوںنے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب جیسے لوگوں نے مندر کو گرا کرنواپی مسجد بنائی ہے اور اب مندر کو واپس لینے کا وقت آگیا ہے۔
    سنگیت سوم نے اپنے فیس بک پیج پر بھی لکھا کہ "اورنگ زیب نے گیانواپی مسجد بنائی۔ 1992 میں بابری منہدم کی گئی اور اب 2022 میں گیانواپی کی باری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس مندر کو واپس لیا جائے جسے مسجد بنانے کے لیے منہدم کیا گیا تھا“۔

    کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے سوم کے متنازعہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل بی جے پی کا گیم پلان ہے کہ معاشرے میں بدامنی اور تقسیم پیدا کی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بی جے پی کو اس طرح کے بیانات سے سماجی تانے بانے کو پہنچنے والے نقصان کا احساس کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ گیانواپی کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے اور اسی طرح تاج محل کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا ہے اور ہم خطرناک وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

  • بھارت: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے

    بھارت: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے

    آگرہ: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما ﺅں نے الہ آباد ہائیکورٹ کے لکھنو بنچ میں ایک عرضداشت دائر کر دی ہے جس میں تاج محل میں بند پڑے 22کمروں کو کھلوانے اور ان کی جانچ کرانے کے حکامات جاری کرنے کی استعدا کی گئی ہے۔عرضداشت پر کل(جمرات ) کو سماعت ہو گی۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عرضداشت داخل کیے جانے جانے بعد ہندﺅں میں خوشی کی لہر ڈوڑ گئی ہے اور ایک ہندو توا رہنما سنجے جاٹ نے پیر کے روز تاج محل پہنچ کر لڈو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں اور انکے ساتھ آئے ہوئے دیگر ہندو جنونیوں کو بیریکیڈنگ سے آگے نہیں بڑھے دیا۔ عرضداشت میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تاج محل میں ان بند کمروں میں دیوی دیوتاﺅں کی مورتیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ہندو توا رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ا ب عدالت کے ذریعے یہ طے ہو جائے گا کہ یہ تاج محل ہے یا تیجومہالیہ۔

    دوسری جانب ہندو تو ا جنونیوں کی قطب مینار کےخلاف بھی سرگرمی بڑھ گئی ہے ۔ ہندو توا تنظیموں کے تقریباًدو درجن کارکنوں نے قطب مینار کے قریب نہ صرف ہنو مان چالیسہ کیابلکہ مینار کا نام بدل کر ”وشنوا ستمبھ“ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطا بق ہندو توا تنظیم مہا کال مانو سیوا اور یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کا کہنا ہے کہ قطب مینار کو مغلوں نے ہم سے چھینا تھا اور اب ہمار امطالبہ ہے کہ اسکا نام بدل کر وشنوا ستھبھ رکھا جائے ۔ ہندو تو جنونیوں نے قطب مینا ر کے باہر مظاہرے کے دوران جے شری رام کے نعرے بلند کیے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے قطب مینار کا نام وشنو استمبھ تھا لیکن مغلوں نے اس کا نام بدل کر قطب مینار کھ دیا۔ ہندو تو ا بریگیڈ کے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے قطب مینا ر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

  • دنیا کی90بندرگاہوں پرچین کا قبضہ

    دنیا کی90بندرگاہوں پرچین کا قبضہ

    نئی دہلی : دنیا کی 90 بندرگاہوں پر چین کا قبضہ:بھارت اوردیگرمخالفین پریشان،اطلاعات کے مطابق چین کے مخالف ملکو‌ں پر اس وقت ایک خوف طاری ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک اب چین کی بالادستی قبول کرنے کےلیے تیار بھی نہیں اور اس بالادستی کوچیلنج کرنے کےلیے خفیہ منصوبے بھی تشکیل پارہےہیں‌،

    اس حوالے سے چین کے مخالف ملکوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس وقت چین ایشیا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں تیزی سے اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے ملک سولومن میں چینی فوجی اڈے کے قیام کی حالیہ خبروں نے امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تناؤ بڑھا دیا ہے۔ جزائر سولومن سے گواڈیلوپ کی ایک نہر بحر الکاہل سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا کے راستے نیوزی لینڈ تک جاتی ہے، اس لیے امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا کو جوہری آبدوزیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا، آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے پیر کو کہا کہ وہ جنوب مغربی بحرالکاہل کے علاقے میں چین کے عزائم سے آگاہ ہیں اور چین کے خطرناک عزائم سے بھی آگاہ ہیں۔

    چین مخالف قوتوں کا کہنا ہے کہ درحقیقت چین اپنے عالمی مفادات کی آڑ میں ایشیا اور امریکی فوجی تسلط کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ دنیا پر حکمرانی کرنے کے ارادے کی وجہ سے چین نے دنیا کی 90 سے زائد بندرگاہوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ جہازوں کی رہائش اور تجارت کے لیے انھیں استعمال کرتا ہے لیکن چین انھیں کسی بھی وقت فوجی اڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ سولومن چین معاہدے کے بعد آسٹریلیا کو خدشہ ہے کہ چین نے جزائر سولومن پر فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جزائر سولومن کی آبادی 6.87 ملین ہے۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس میں افریقہ کے جبوتی میںچین کا ایک اعلان کردہ فوجی اڈہ ہے۔ اسے 2017 میں بحریہ کی سہولت کے طور پر بنایا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ جزائر سولومن میں امن و استحکام اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ چین اپنے عالمی مفادات کے نام پر ایشیا میں امریکی فوجی تسلط کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔

    ارجنٹائن سے سری لنکا تک چین کے یہ ہیں اہم فوجی اڈے ہیں ، جن میں سے چند بڑے یہ ہیں پیٹاگونیا، ارجنٹائن میں فوجی اڈہ افریقہ میں جبوتی بیسمیانمار میں عظیم کوکو جزیرے پر بحری اڈہگورن بدخشاں، تاجکستان میں نیول بیس مالدیپ، میانمار اور کیاوپو بندرگاہوں پر قبضہ کر لیا گیا۔جزائر انڈمان اور نکوبار کے قریب کوکو جزیرہسری لنکا میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ 99 سال کے لیے لیز پر ہے پاکستان کی گوادر بندرگاہ ایک طرح سے چین کی ملکیت ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے آسٹریلیا کے ساحل سے 2000 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر چینی بحری اڈہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم موریسن نے کہا کہ ان کی حکومت بندرگاہ کی فیریز، سب میرین آپٹیکل کیبلز، جہاز رانی اور جہاز کی مرمت سے متعلق مبینہ معاہدے کے مسودے سے حیران نہیں ہے۔

    انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بحرالکاہل میں چینی حکومت کے عزائم کیا ہیں، چاہے وہ ایسی سہولیات کے حوالے سے ہو یا بحری اڈوں یا بحرالکاہل میں فوجی موجودگی کے حوالے سے”۔موریسن نے کہا، "بحرالکاہل کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح، میں بھی ایسے انتظامات میں چینی حکومت کی مداخلت اور دخل اندازی پر گہری تشویش میں ہوں اور اس کا جنوب مغربی بحرالکاہل کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے کیا مطلب ہو سکتا ہے۔

    قبل ازیں آسٹریلوی اخبار نے جزائر سولومن میں گودی، گھاٹ اور پانی کے اندر کیبل بچھانے کے چین کے منصوبوں کی خبر شائع کی تھی۔ آسٹریلوی اخبار نے چین اور جزائر سولومن کے درمیان اس سال کے سمندری تعاون کے معاہدے کو شائع کیا۔ اخبار نے چار صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کی تھی۔ چین اور سولومن نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک علیحدہ سیکورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

  • داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک بار پھر بھارت کے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی تلاش اور اسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن تیز کر دیا ہے

    بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی درجنوں ٹیموں نے ممبئی میں داؤد ابراہیم کے قریبی دوستوں اور جاننے والوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے ہیں، داؤد ابراہیم سے رابطے میں راہنے والے اور انکی زمینوں کی دیکھ بھال کرنے والے سلیم قریشی کو این آئی اے نے گرفتار کر لیا ہے، این آئی اے نے داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی کے گھر سے دستاویزات اور لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لی ہیں، یہ لیپ ٹاپ اور کاغذات داؤد ابراہیم کی بے نامی جائیداداوں کا ریکارڈ بتایا جا رہا ہے،

    این آئی اے نے ممبئی کے دیگر علاقوں میں بھی کاروائی کی ، چھاپے مارے مگر کوئی گرفتاری نہیں کی، ممبئی کے علاقوں ناگپاڑہ، بھنڈی بازار اور گورے گاؤں میں کاروائی کی گئی،

    ممبئی کے چور بازار میں ایک دکان کے مالک کو بھی طلب کیا گیا تھا، ظاہر کیا جا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم کے لئے یہ سرمایہ کاری کرتے ہیں، ای ڈی اس بات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے کہ جس کالے دھن کا استعمال داؤد ابراہیم کے گروپ کی جانب سے کیا گیا اس کا استعمال کیا سیاسی تقاریب میں بھی کیا گیا یا پھر کسی سیاستداں کو اس سے فائدہ حاصل ہوا؟

    ممبئی کے مسلمان آبادی والے علاقے ناگپاڑی میں ایک فلیٹ پر ای ڈی کے حکام نے چھاپہ مارا تھا ، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اس چھاپے کے دوران ای ڈی کو اہم دستاویزات ملیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داؤد ابراہیم منی لانڈرنگ میں ملوث ہے اور اس میں کئی ثبوت ہیں، ای ڈی نے داؤد ابراہیم اور اسکے دوستوں کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے،

    داؤد ابراہیم کو کراچی میں قتل کرنے کی بھارتی حساس اداروں کی سازش کب ہوئی تھی ناکام؟

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    واضح رہے کہ بھارت گزشتہ کئی سالوں سے داؤد ابراھیم کا سراغ لگانے میں مصروف ہے لیکن ممبئی میں اُسکا اثر رسوخ آج تک ختم نہیں کر سکا۔ اب برطانیہ سے مدد مانگی جا رہی ہے داؤد ابراھیم کے ایک قریبی جابر صدیق (موتی والا) پر گھیرا تنگ کرنے کے لئے، بھارت یہی سمجھتا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے۔

    1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً 700 سے زخمی ہوئے تھے. یہ بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن مربوط بم دھماکے تھے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکے داؤد ابراہیم کے حکم سے یا امداد سے اس کے کارندے ٹائیگر میمن نے کیے۔

    بھارت عدالت عظمیٰ نے اس مقدمہ کے 20 سال بعد اپنا فیصلہ 21 مارچ 2013 کو دیا۔ تاہم، مقدمہ کے دو اہم ملزمان داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن ابھی تک گرفتار نہیں کیے گئے۔ مہارشٹرا حکومت نے یعقوب میمن (ٹائیگر میمن کا بھائی) کو اس کی 53 ویں سالگرہ کے دن 30 جولائی 2015ء کو پھانسی دینے کا ارادہ کیا، یعقوب میمن نے رحم کی درخواست دی،مگر اسے رد کر دیا گیا۔ یعقوب کو 30 جولائی 2015 کو مہاراشٹر کے يروڈا جیل میں پھانسی دی گئی تھی

    یہ بم دھماکے سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے بعد ہوئے تھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔فسادات کے رد عمل میں ہونے بم دھماکوں کا مقدمہ تو اپنے انجام کو پہنچا اور لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن ان فسادات کے دوران ایک ہزار افراد کو قتل کرنے والوں میں سے آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے

     

  • شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

    شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

    خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ آپ نے شریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کیوں کہا؟ تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جس طرح تالاب کا ڈو ڈو شور کر تا ہے اُسی طرح شیریں مزاری کی ٹَر ٹَر ٹریکٹر ٹرالی کے شور کا سَماں پیش کرتی ہے۔
    اِقتدار کے آخری دنوں میں جب خان کو اپنی ناؤ ڈوبتی نظر آئی تو شیریں مزاری کی لاٹری نکل آئی۔
    خان نے مخالفین پر حملوں کیلئے شیریں مزاری کا انتخاب کیا۔ جس کی اپنی بیٹی ایمان مزاری بھی اُس کے کنٹرول میں نہیں۔
    اپنے مذہبی پسِ منظر کی وجہ سے شیریں مزاری مغرب اور بالخصوص امریکہ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے رکھی ہیں۔
    شیریں مہر النساء مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی ایک الگ داستان ہے۔
    نیب ملتان شیریں مزاری کے خلاف زمین کی جعلی کمپنیوں کو دینے کے خلاف انکوائری کر رہا ہے۔
    راجن پور میں شیریں مزاری نے129ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔
    وِراثتی جائیداد میں بھی غلط حصے کیلئے شیریں مختلف اِداروں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
    راجن پُور میں ہی شیریں مزاری نے 35138 کنال زمین کے الاٹیز پر زمین کی الاٹمنٹ سے دَست بردار ہونے کیلئے جھُوٹی FIRsکاٹی گئیں۔حتیٰ کہ الاٹیز سے بھتہ بھی وَصول کیا جاتا رہا۔
    اِس رویے کے خلاف شیر محمد، میر محمد، حبیب اللہ وغیرہ نے مزاری خاندان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائرکر رکھا ہے۔
    الاٹیز 1997سے انصاف کے حصول کیلئے دَر بدر پھر رہے ہیں۔
    شیریں مزاری اپنے بھائی جو کہ مُشرف دُور میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے، سے مل کر مخالفین کو پولیس اور دیگر اداروں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان بھر میں تنقید در تنقید کا ایک نہ رکنے والے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ سیاسی وابستگی ایک طرف مگر عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا ہر شے پر بے جا تنقید اور سازش کے بیانیے کو یوں فروغ دینے میں مصروف ہیں کہ عوام میں غیر ضروری بے قراری ابھاری جا سکے۔ دراصل یہی وہ منطق ہے جس کے مسلسل پرچار سے خان اور اس کے ساتھی عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو حکومت اور اداروں کے خلاف کھڑا کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے ذاتی ایجنڈے کی پیروی چاہتے ہیں ۔ اس عمل میں کچھ میڈیا کے عناصر کو بھی اپنے گھناؤنے عزائم میں شامل کررکھا ہے ۔ عمران خان، فواد چوہدری، شیریں مزاری اور شہباز گل تو گویا ایسے چشمے سے پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہیں کہ جیسے آج کے سیاسی و اقتصادی حالات کے لیے سابقہ چار سالوں سے پی ٹی آئی نہیں بلکہ یا تو موجودہ حکومت، ادارے یا امریکا ذمہ دار ہیں۔

    اپنے سازشی بیانیے کی پیروی ایک طرف پھر اپنے ہی بیانات میں افواج پاکستان کو ذاتی سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش کے اعتراف سے اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ تمام حکومتی سرگرمیوں کے ناقد ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی صورت بھی موجودہ حکومت انہی کی خراب کردہ معیشت کو ایک بہتر ڈگر پر چلا سکے۔ ایک طرف تو یہ نسرین جلیل کے بطور گورنر سندھ تعیناتی کی تجویز پر تنقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اس بات سے لاعلم ہیں کہ شیریں مزاری کا یونائیٹڈ نیشنز کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی دعوت دینا انہی کے بیرونی سازش کے بیانیے کی نفی کرتا ہے۔

    کیا یہ یونائیٹڈ نیشنز میں امریکی اثر و رسوخ سے انجان ہیں؟ کیا یہ اس بات سے لاتعلق ہیں کہ جس توہین رسالت کے قانون کا یہ دفاع کرتے آئے ہیں، شیریں مزاری کے خط سے اسی کی تنقید کا سامان کر رہے ہیں؟ یو ٹرن ماسٹر تو یہ شروع سے ہی رہے ہیں مگر کیا آج اقتدار کی بھوک نے ان کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ یہ ایک جھوٹا اعلامیہ جاری کر کے خود ہی اس کی انجانے میں نفی بھی کرتے ہیں اوراس احساس سے عاری بھی ہیں۔ کیا یہ خود داری کی بات کرنے والے منافقت تو نہیں کر رہے اور پاکستان اور اس کی عوام کو اپنے اقتدار کی ہوس سے نیچا سمجھتے ہیں کہ ان کا استعمال کر رہے ہیں؟ آج یہ نسرین جلیل کو بھارت کو خط لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو کوئی عہدہ نہیں دیا جانا چاہئیے تو شیریں مزاری کا خط بھی ایسی ہی کارگزاری ہے۔ کیا یہ اپنے گریبان میں جھانکیں گے؟ اگر وہ غلط ہے تو پھر یہ بھی غلط ہے ۔ اور شیریں مزاری کو بھی مستقبل میں کسی بھی عہدے کے لیے ناموزوں سمجھا جائے ۔

  • بھارت: قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

    بھارت: قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

    شملہ: بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈالہرایاگیا اوربیرونی دیواروں پر خالصتان کے حق میں نعرے درج کئے گئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کو اتوار کی صبح قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کے جھنڈوں کی موجودگی کی اطلاع ملی ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نپن جندال نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھرم شالہ کے مضافات میں واقع اسمبلی کمپلیکس کی دیواروں پر خالصتان کے حق میں نعرے بھی درج تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نےکہا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کےلیےقریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو چیک کر رہی ہے کچھ شرپسندوں نے ریاستی قانون ساز اسمبلی کےبیرونی گیٹ پر پانچ سےچھ خالصتانی جھنڈے لگائےتھےاور دیوار پر خالصتان زندہ باد کے نعرے لکھے تھے جھنڈوں کو ہٹا دیا گیا ہے ،تحریروں کو صاف کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اورمزید تحقیقات جاری ہے۔

    پولیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پنجاب کے کچھ سیاحوں کی کارروائی ہے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایک الرٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکھز فار جسٹس کے سربراہ گروپتونت سنگھ پنوں نے ہماچل پردیش کے وزیر اعلی کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شملہ میں بھندرانوالہ اور خالصتان کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔

    سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل،اسپتال منتقل

    اس سے قبل ہماچل پردیش نے بھنڈرانوالہ اور خالصتانی جھنڈے والی گاڑیوں پر پابندی لگا دی تھی جس نے سکھز فار جسٹس کو مشتعل کیا تھا تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ 29 مارچ کو خالصتانی پرچم لہرائے گی لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور پنجاب اسمبلی کے رکن سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ سکھوں کیلئے الگ وطن خالصتان کے لیے جاری ریفرنڈم کا ردعمل زبردست رہا ہے تارکین وطن سکھ ریفرنڈم میں بھاری اکثریت سے حصہ لے رہے ہیں جو ابتدائی طور پر گزشتہ سال 31 اکتوبر کو لندن سے شروع ہوا تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں کورونا وبا کی وجہ سے اس کی رفتار کچھ کم ہوگئی تھی تاہم ریفرنڈم کا یہ عمل اب دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور لوگ اس میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں خالصتان ریفرنڈم اقوام متحدہ کی توجہ بھارتی پنجاب میں سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کی طرف مبذول کرائے گا بھارت سکھوں کو ان کا پیدائشی حق آزادی حاصل کرنے سے ہرگز نہیں روک سکتا۔

  • پاکستان اور بھارت کیلئے وارننگ جاری

    پاکستان اور بھارت کیلئے وارننگ جاری

    محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو آئندہ دنوں میں بدترین ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سال کے گرم ترین مہینے آنا ابھی باقی ہیں ، ممکنہ ہیٹ ویو سے ہزاروں افراد کی جانیں جاسکتی ہیں، خاص طور پر بزرگ افراد نشانہ بن سکتے ہیں ہیٹ ویو کا دورانیہ طویل ہوسکتا ہے۔

    ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    موسمیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت میں مارچ اور اپریل کے مہینے میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت رہا جس سے تقریباً ایک ارب لوگ متاثر ہوئے-

    قبل ازیں ماہرین موسمیات کا کہنا تھا کہ رواں سال مون سون معمول کے مطابق ہوگا، تاہم درجہ حرارت بڑھا تو مون سون کی بارشوں میں بھی شدت آسکتی ہے پاکستان مارچ کے بعد اب اپریل میں بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، گرمی میں اضافے سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اپریل میں آم افزائش کے عمل سے گزرتا ہے، گرمی کی شدید لہر آم کی فصل کو متاثر کرسکتی ہے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ فصل وقت سے پہلے تیار ہوسکتی ہے اور زائد درجہ حرارت سے آم جلد پک جائیں گے، جلدی پکنے کی وجہ سے آم زیادہ رسیلے نہیں ہوں گے اور ان کا سائز بھی چھوٹا ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ زمین ماحولیاتی تبدیلی کے دوسرے دور میں داخل ہوچکی ہے، 1980 کے بعد دنیا کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوا تھا 2020 کے بعد سے موسمیاتی تبدیلی میں مزید شدت آئی ہے اور درجہ حرارت 6 سے 7 ڈگری معمول سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ہنزہ: شیشپر گلیشیرمیں پانی کا اخراج تیز،پاکستان، چین کو ملانے والا مین پل دریا برد

    پاکستان میں 2015 میں آنے والی شدید ہیٹ ویو کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد چل بسے تھے اسی طرح 2010 کے بعد سے بھارت میں بھی چھ ہزار 500 سے زیادہ افراد ہیٹ ویو کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

    پاکستانی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال مارچ کا مہینہ 1961 کے بعد گرم ترین مارچ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح بھارت میں بھی رواں برس مارچ کا مہینہ گذشتہ 122 سالوں میں سب سے زیادہ گرم ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اس سال انتہائی درجہ حرارت کی وجہ سے ملک میں صحت عامہ اور زراعت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پاک بھارت آبی تنازعہ:بھارت پاکستان کونیچا دکھانے کےلیے سرگرم

    دوسری جانب کئی بھارتی ریاستیں شدید گرمی کے باعث بجلی کی طویل بندش کا سامنا کر رہی ہیں جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے بھارتی حکومت نے خبردار کیا تھا کہ جنوبی ایشیا کے بڑے حصوں کو متاثر کرنے والی ہیٹ ویو میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ریاستی حکومتوں کے سربراہوں کو ایک آن لائن کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ملک میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور معمول سے بہت پہلے بڑھ رہا ہے۔

    شرجیل میمن کا اورنج لائن کو ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم

  • بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بھارتی شہر جودھ پور میں ہندو مسلم فسادات، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چاند رات کو مسلمانوں کی جانب سے عید کی مناسبت سے اپنا جھنڈا لگانا تھا جب کہ اسی جگہ ہندو تہوار پرشورام جینتی کے سلسلے میں ہندئووں نے بھی اپنا جھنڈا لگانے کی ضدکی، جس پر دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیااورعید کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔گذشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔

    مقامی مسلمان رہنمائوں کا کہنا ہےکہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اورپولیس انتہا پسندہندوئوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔کچھ روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔جہانگیر پوری میں ہندوئوں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئیں۔

    اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمان شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دبائو میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔جس پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور تھانے کے سامنے احتجاج کیا، پولیس کی لاٹھی چارج پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میںکئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

    ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوئوں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ ادھر دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے 16مسلمان طلبا پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلباء کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد یا برا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن نریندرمودی کی حکومت میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اورزندگی گذارنامشکل ہوگئی ،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔ کیونکہ بھارت میں ایک ہندوتواکی متعصب حکومت ہے ایک ایسی حکومت جو سرکاری سطح پر ہندوئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ آئے دن ہندوئوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیںاورمسلمان خاص نشانہ ہیں۔ جنونی ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کی کئی ویڈیوزسوشل میڈیاکی وجہ سے دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ،17ویں صدی سے لے کر آج تک لاکھوں فسادات ہوچکے ہیں 18مئی 2001کو شائع شدہ مضمون کے مطابق اگر کرائم ریکارڈ کے اعدادو شما ر کو سچ مانا جائے تو 1947سے لیکر اب تک بھارت میں 20لاکھ سے زائد فسادات تھانوں میں درج ہوئے ،ان میں اتر پردیش میں 4لاکھ 25ہزار،بہار میں 3لاکھ75ہزار، ہریانہ میں 1لاکھ 50ہزار ،پنجاب میں 2لاکھ،مہاراشٹر میں 3لاکھ50ہزار ،راجستھان میں 1لاکھ25 ہزار مقدمات درج ہیں ۔ 1947میں بٹوارے کے فوراََ بعد نوا کھالی سے شروع ہونے والے فسادات ،خانپور،علی گڑھ،مرادآباد،حیدرآباد،بہارشریف،بھاگلپور، جمشیدپور وغیرہ سے ہوتے ہوئے گجرات پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچ گئے ،جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تمام حدیں پارکر دی گئیں۔

    عزیزبرنی کی لکھی کتاب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کے مطابق بھارت میں فسادات کی شروعات 1713 میں شروع ہو چکی تھی،1713میں گائے ذبح کرنے پر ہندو دہشت گردوں نے پہلا فساد برپا کیا ،20-1719میں کشمیر میں ایک مسلمان اور ہندو کی آپسی لڑائی فسادات کا باعث بنی،اسی طرح کئی چھوٹے بڑے نسلی فسادات ہوئے ۔1782میں سلہٹ ،آسام میں محرم کے موقع پرہندوؤں کو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں مذہبی جلسے کرنے سے روکنے پر فسادات بھڑکائے گئے جس میں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا-

    1809 میں بنارس میں اورنگزیب کے ہاتھوں بنائی گئی مسجد پر ہندوؤں کے قبضہ کرنے کی کوشش پر فسادات بھڑک اٹھے، 1840 میں مرادآباد میں فسادات ہوئے ،1851میں ممبئی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کے خلاف ایک گجراتی اخبار میں شائع مضمون فسادات کی وجہ بنا، 1857میں بجنو ر اور مرادآبادمیں فسادات ہوئے ۔1871میں بریلی میں محرم اور رام نومی کے ایک دن ہونے سے فسادات ہوئے-

    1874میںممبئی میںآر۔ایچ جلمئے کی ایک کتاب”گریٹ پروفیٹ آف دی ورلڈ”کے خلاف فساد بھڑکا یہ کتاب انگریزی میں تھی اس میں حضرت محمد ۖ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ۔1890میں علی گڑھ میں ایک مسجد میں سور کا گوشت اور ہندو ؤں کے ایک کنویں میں گائے کا گوشت ڈالنے پر فساد بھڑکایا گیا ۔1892میں بھاش پٹم ،اگست 1893میںممبئی۔ستمبر 1893میں قلابہ اور 1893میں گئو رکشا کے نام پر اتر پردیش کے بلیا میں فسادات ہوئے ۔1894میں مدراس،ناسک کے یلالہ، 1895میں پوربندراورچھلیا میں بھی فسادات ہوئے ،1907میں مورگھٹ میں بنگال کی تقسیم پر، 1912میں ایودھیہ میں بقر عید پر گائے کی قربانی کرنے سے روکنے پر، 1913میں نیلور میں ایک مسجد شہیدکرنے پر، 1916میں پٹنہ میں بقر عید پرہندوؤں کا قربانی روکنے پر، 1921میں گیا اور شاہ آباد میںبھی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے قربانی سےروکنے پرفسادات بھڑکے،1921میں مالےگاؤں میںانڈین کونسل ایکٹ1919کےسوال پرفسادات ہوئےاسی طرح بنگلور میں تحریک عدم تعاون کے دوران فسادات ہوئے ،24-1923 میں امرتسر،لاہور،سہارنپور، الٰہ آباد،کلکتہ اور دوسرے شہروں میں راجہ رام موہن رائے کی شدھی تحریک فسادات کاسبب بنی ۔

    1923میں ممبئی، 1932میںالور،1933 میں کلکتہ ،1935میں ہزاری باغ میں محرم کا جلوس اور رام نوی ایک ساتھ ہونے کے باعث فسادات پھوٹ پڑے اور ساتھ میں چمپارن اور سکندرآباد میں بھی مسلمانوں کو بے دردی سے تہ و تیغ کیا گیا ،1937میں گئو کشی کے مسئلے پر فسادات بھڑکائے گئے ،1939میں اترپردیش اور کلکتہ میں ہولی کے موقع پر مسجد کے سامنے میوزک بجانے سے روکنے پر مسلمانوں کو تختہ مشق بنا یا گیا ،اسی طرح اسی سال خانپور میں ایک جلوس پر حملے کے سبب جھگڑا ہوا جس سے فسادات بھڑکا دیے گئے ۔1941میں کلکتہ میں محرم کے موقع پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔1950میں کالی کٹ ،دہلی ،پیلی بھیت،علی گڑھ اور ممبئی میں آر ۔ایس۔ایس کے دہشت گردوں کے ذریعے مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنے پر فسادات ہوئے ۔1953میں ہندومہاسبھا کے ایک جلوس پر پتھر پھینکنے کا بہا نہ بنا کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے فسادات برپا کئے گئے،اسی سال احمدآباد،ناسک اور پونے میں گن پتی اور محرم ایک ساتھ ہونے پر فساد بھڑکا یا گیا-

    1956 میں اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ بدیہ بھون کے ذریعے حضرت محمدۖ کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے پر فسادات ہوئے ، اسی طرح کوئی سال ایسا نہیں گیا جس میں مسلمانوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے بہانوں سے فسادات نہ بھڑکائے گئے ہوں۔1962میں مالدہ میںحضرت محمد ۖ کی شبیہ مبارک شائع کرنے پر فساد برپا ہوا ،1963میں ندیا،کلکتہ میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہونے پر فسادات ہوئے ،1966میں رانچی میں اردو کے خلاف نکالا گیا جلوس فسادات کا سبب بنا ۔1974میں شیوسینا کے ذریعے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جوگیشوری میں فسادات ہوئے 1975میں جوگیشوری میں شیوسینا کے دہشتگردوں کے مسلمانوں پر حملے فسادات کا باعث بنے ۔

    1987میں میرٹھ،ہاشم پور ملیانہ،پھرشیلاپوجن اور رام جنم بھومی تنازع نے زور پکڑنے کے بعد بھارت میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھم نہ سکا۔1990میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم و تشددکو نقطہ عروج پر پہنچا دیا جو 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئیں ان کی دکانیں اور جائیدادیں زبردستی چھین لی گئیں اور مسلمانوں کا سنگینوں اور تلواروں کے ذریعے قتل عام کیا گیا ، جس میں شیو سینا، آر ایس ایس اور بجرنگ دل و دیگر ہندو دہشتگرد تنظیموں کو سرکاری آشیرباد اور پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔

    مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک سازش کے تحت ہندوانتہاپسندوں کے مفروضوں پرمبنی محبت جہاد(love jehad)،، کرونا جہاد اور سول سروسز جہاد ، ریڑھی جہاد، لینڈ جہادتوکبھی گئورکشاکے نام پرمسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں پولیس نے کبھی بھی مسلمانوں کوتحفظ نہیں دیا،ہمیشہ ہی آر ایس ایس اور دیگر ہندوانتہاپسند دہشت گردتنظیموں کی آلہ کاربن کر مسلمانوں پر ظلم وجبر کے علاوہ سیدھی گولیاں مار کر انہیں قتل کرتی رہی ہے ،جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،بھارت میں ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی توکب سے شروع کی ہوئی ہے لیکن اب یہ نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،حکومت کی جانب سے اس نفرت کو عام کیا جارہا ہے،انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں قوانین بنوائے جارہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اب ا دارہ جاتی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور نازی مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں ۔

  • ستر سالہ معذور خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزم گرفتار

    ستر سالہ معذور خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزم گرفتار

    ستر سالہ معذور خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    بھارت میں خواتین کا گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے، آئے روز خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، مودی سرکار خواتین کی عزت کے تحفظ کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی، ابھی حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے ، بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ستر سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ مرزا پور ضلع کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک گاؤں میں ملزمان نے ایک ستر اسالہ خاتون کو اغوا کیا جو ذہنی طور پر معذور تھی، اغوا کرنے کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں خاتون کو ملزمان بیہوشی کی حالت میں کھیتوں میں چھوڑ کر بھاگ گئے

    خاتون کے گھر میں نہ ہونے پر اسکے گھر والوں نے کافی تلاش کیا نہ ملنے پر پولیس کو اطلاع دی اور لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروائی، پولیس نے کاروائی شروع کی تو انہیں کھیتوں سے بیہوشی کی حالت میں خون سے لت پت خاتون ملی جس کو فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ،ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو واجپئی کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں نے ملزم کے کپڑوں پر خون کے دھبے دیکھے تو اسے فوراً پکڑ لیا جب اس سے سختی کے ساتھ پوچھا گیا تو اس نے اپنا جرم قبول کر لیا باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا،

    قبل ازیں بھارتی ریاست اڈیشہ کے ضلع کٹیک میں واقع چوپاڈا نامی گاوں میں دلت برادری کی ایک 10 سالہ نابالغ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، متاثرہ لڑکی کو بسنت سوین عرف بابو نے اس وقت آبروریزی کا نشانہ بنایا جب اسکے والدین گھر پر نہیں تھے بابو نے گھر کے احاطے میں داخل ہو کر لڑکی سے پانی مانگا اور جب وہ گھر کے اندر پانی لینے گئی تو وہ بھی کمرے میں جا پہنچا اور اسکے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کیا، متاثرہ لڑکی کے والدین نے بابو کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام