Baaghi TV

Tag: بھارت

  • 15 برس سے سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی واقعہ کے لواحقین انصاف کے منتظر

    15 برس سے سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی واقعہ کے لواحقین انصاف کے منتظر

    15 برس سے سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی واقعہ کے لواحقین انصاف کے منتظر

    پاکستان کا بھارت سے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ ،ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی 15ویں برسی پر کہا ہے کہ اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی کی گئی،

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ متاثرین کو انصاف کی عدم فراہمی اور ہندوستانی حکومت کی بے حسی پر تحفظات سے آگاہ کیا آج سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشت گردانہ حملے کی 15ویں برسی ہے،واقعہ میں 44 پاکستانیوں سمیت 68 مسافروں کی جانیں گئیں، بھارتی حکومت سمجھوتہ ایکسپریس کےذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے،

    بھارتی حکومت 15 سال گزرنے کے بعد بھی واضح ثبوتوں کی دستیابی کے باوجود سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے متاثرین کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے

    18 فروری 2007 کو ہریانہ میں پانی پت کے مقام پر سمجھوتہ ٹرین – جو نئی دہلی اور لاہور کے درمیان چلتی تھی ، میں ایک دیسی ساختہ بارودی مواد سے دھماکہ کیا گیا,اس واقعے میں 43 پاکستانی، 10 بھارتی شہری اور 15 نامعلوم افراد سمیت 68 افراد مارے گئے تھے۔ حملے میں 10 پاکستانیوں اور دو بھارتیوں سمیت 12 افراد زخمی بھی ہوئے ،

    اس واقعے کا الزام ایک مسلم گروپ پر عائد کیا گیا تھا لیکن بعد میں نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی (این آئی اے) نے نئی دہلی میں ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کمل چوہان کو گرفتار کر لیا۔ چوہان دھماکہ خیز مواد کا ماہر تھا اور اس نے اسی ٹرین میں بم نصب کیا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ ہندو کارکن اور کئی دوسرے افراد اجمیر درگاہ، حیدرآباد کی مکہ مسجد اور مالیگاؤں میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث تھے ہندو شاونسٹوں نے بھی دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔.مہاراشٹر کے پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل ہیمنت کرکرےاور کئی سیاسی مبصرین نے اسے ’’ہندوتوا دہشت گردی‘‘ یا ’’زعفرانی دہشت گردی‘‘ قرار دیا ۔ بعد ازاں ہیمنت کرکرے کو ممبئی 2008 کے آپریشن کے دوران نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا

    یہ بھی بتایا گیا کہ آر ایس ایس کے رہنما سوامی اسیمانند کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے سمجھوتہ ایکسپریس حملے،ریاست مہاراشٹر کے مالیگاؤں اور ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کے علاوہ راجستھان میں اجمیر میں مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔بھارتی فوج کے کرنل پروہت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح تصادم شروع کرنے کے لیے ہندو دہشت گردوں کو تربیت دینے کا خوداعتراف کیا تھا۔بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے صحیح معنوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کی افزائش بھارت کے لیے مسلمانوں سے زیادہ خطر ناک ہے۔

    پاکستان نے بھارت پر زور دیا تھا کہ سمجھوتہ ٹرین دھماکوں کے لیے کی گئی تحقیقات کے نتائج کو شیئر کرے جس میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ فروری 2007 میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے ہندو انتہا پسند تنظیموں کا ہاتھ تھا۔یہ بات عیاں ہے کہ بھارت کا بالعموم پاکستان مخالف تاریخی موقف اور خاص طور پر بی جے پی حکومت کا ہندوتوا نقطہ نظر کہ بھارت نے 26/11 کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، واضح ثبوتوں کی دستیابی کے باوجود، اس خوفناک واقعے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں بھارت کی مسلسل ناکامی اس استثنیٰ کے کلچر کی تصدیق ہے جس سے دہشت گردانہ حملوں کے مجرم بھارت میں لطف اندوز ہوتے ہیں

    ہریانہ کے سابق پولیس افسر وکاش نارائن رائے، جنہوں نے 2007 سے 2010 کے اوائل تک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی سربراہی کی، کہا کہ پولیس نے ٹرین سے ایک غیر پھٹا ہوا بم برآمد کیا۔ پتہ چلا کہ اس ’آگ لگانے والے آلے کے تمام پرزے آر ایس ایس اور اس کے ساتھی گروپوں سے منسلک لوگوں نے خریدے تھے

    بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے 20 مارچ 2019 کو سوامی اسیمانند اور تین دیگر کو اس معاملے میں بری کر دیا۔ این آئی اے کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ نے ایک پاکستانی خاتون کی اپنے ملک کے عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کرنے کی درخواست کو بھی خارج کر دیا۔

    پاکستان کا ماننا ہے کہ مجرموں کو بتدریج بری کرنے اور بالآخر بری کرنے کا بھارتی فیصلہ نہ صرف مقتول پاکستانیوں کے خاندانوں کے باے میں بھارت کی بے حسی کا عکاس ہے بلکہ ہندو دہشت گردوں کو فروغ دینے اور انہیں تحفظ دینے کی بھارتی ریاستی پالیسی کا بھی عکاس ہے۔

    درحقیقت، بھارت اسی طرح کے واقعات کو پاکستان کے خلاف جھوٹے فلیگ آپریشن کی بنیاد ڈالنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے جو کہ کئی دیگر واقعات میں بھی ثابت ہو چکا ہے تاکہ عوام کومجرموں کے بارے میں گمراہ کیا جا سکے۔1971 کے ہوائی جہاز کے ہائی جیکنگ کے واقعات، 1999 میں انڈین ایئر لائن کی پرواز 814 کابل ہائی جیکنگ، 2000 کا چٹی سنگھ پورہ قتل عام، 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملہ، 2001 میں بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کار بم دھماکے، مکہ مسجد میں بم دھماکے، احمد آباد میں بم دھماکے، 2001 میں مکہ مسجد میں بم دھماکے 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ، 2016 میں پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ اوربھارت کے زیر قبضہ مقبوبضہ جموں و کشمیر کے علاقے اڑی میں حملہ 2016 میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی مثالیں تھیں جن میں ان کے اپنے حکام نے پاکستان کے ملوث ہونے سے انکار کیا

    ہندوستانی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے صحیح معنوں میں اس بات کی تصدیق کی کہ ہندو انتہا پسندوں کی افزائش ہندوستان کے لیے مسلمانوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ ہندو قوم پرست گروپ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سابق رکن سوامی اسیمانند کو اس سازش کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا گیا تھا۔ اس مقدمے میں آٹھ ملزمان تھے لیکن صرف چار کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ کیس کے مرکزی ملزم سوامی اسیمانند عرف نبا کمار سرکار کو 2015 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی۔ تین ملزمین – کمل چوہان، راجندر چودھری اور لوکیش شرما سنٹرل جیل امبالہ میں عدالتی تحویل میں تھے۔

    ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کی گئی NIA کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اسیمانند اور اس کے ساتھیوں نے پوری مسلم کمیونٹی کے خلاف "انتقام پیدا کیا”، این آئی اے نے اپنی ابتدائی چارج شیٹ میں کہا کہ اس نے ‘بم کا بدلہ بم’ نامی نظریہ پیش کیا۔ملزمان نے ملک بھر میں مختلف افراد سے ملاقات کی تاکہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں، مسلمانوں کی رہائش گاہوں اور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین جو کہ ہندوستانی اور پاکستانی مسلمان استعمال کرتے ہیں، پر یا اس کے آس پاس بم دھماکوں کی سازش، منصوبہ بندی اور حکمت عملی تیار کریں۔ ملزم راجندر چودھری کے ساتھ سنیل جوشی، رام چندر کلسانگرا، لوکیش شرما، کمل چوہان، امیت اور دیگر نے جنوری 2006 میں مدھیہ پردیش کے دیواس کے باگلی جنگل میں تربیت حاصل کی تھی جس کے دوران "زیادہ دھماکہ خیز مواد والا ٹائمر بم” تیار کیا گیا تھا۔ ملزم نے اپریل 2006 میں فرید آباد کے کارنی شوٹنگ رینج میں فائرنگ کی مشق میں بھی حصہ لیا تھا۔

    راحیلہ وکیل جس کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد کے گاؤں ڈھینگراوالی سے ہے، نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد محمد وکیل ٹرین دھماکے میں مارے گئے، ایک بھارتی وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ کہ پاکستان میں مقیم عینی شاہدین اور گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے طلب کیا جائے۔راحیلہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ تمام عینی شاہدین کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ اپنے ثبوت کے لیے عدالت میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں اور ان کے ثبوت کے بغیر اس مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر نہیں کیا جا سکتا۔

    بدھ (20 مارچ 2019) کو ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ٹرین دھماکہ کیس میں سوامی اسیمانند اور تین دیگر کو بری کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی اپنا جرم ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ این آئی اے کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ نے ایک پاکستانی خاتون کی اپنے ملک کے عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا،

    سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکا 2006 اور 2007 میں اسی طرح کے حملوں کا ایک حصہ تھا جہاں اہداف ظاہری طور پر مسلمان تھے اور این آئی اے کی تحقیقات نے ہندو گروپوں کے کردار کی طرف اشارہ کیا۔پہلا واقعہ ستمبر 2006 میں تھا جب ریاست مہاراشٹر کے ایک قصبے مالیگاؤں میں ایک مسلم قبرستان میں دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    مئی 2007 میں، حیدرآباد شہر کی 400 سال پرانی مکہ مسجد میں ہونے والے ایک دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور پانچ مزید اس وقت مارے گئے جب پولیس نے ان لوگوں پر گولی چلائی جنہوں نے اس جگہ پر احتجاج شروع کیا۔2007 میں شمالی ریاست راجستھان میں اجمیر کی درگاہ میں بم دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سوامی اسیمانند، جنہوں نے تحقیقات کے دوران نمایاں طور پر کام کیا، نے 2014 میں ہندوستانی میگزین دی کاروان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک میں ہونے والے کچھ حملوں کی منظوری آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت نے دی تھی۔

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم سادھوی پرگیہ ٹھاکر سنگھ ہندوستانی پارلیمنٹ کا حصہ بن گئی

    وقت آ گیا ہے ہمیں بھارت سے حساب لینا ہے، اسلام آباد میں ہندو کونسل کا دھرنا،ڈاکٹر رمیش کمار کا اقوام متحدہ جانے کا اعلان

    بھارت کی ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات  میں مداخلت، پاکستان نے ردعمل دے دیا

    پاکستان سے سفارتی سطح پر بھارت کی ایک اور سازش ناکام بنا دی

    مودی سرکار نے بنایا بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے خلاف خطرناک منصوبہ

    بھارتی جیلوں میں کتنے پاکستانی قید، اسمبلی میں رپورٹ پیش

    پاکستانی پارلیمنٹ کے باہر مودی قاتل کے نعرے

  • بھارتی حکمران جماعت کے رہنماؤں کے کویت داخلے پر پابندی کا مطالبہ

    بھارتی حکمران جماعت کے رہنماؤں کے کویت داخلے پر پابندی کا مطالبہ

    بھارتی حکمران جماعت کے رہنماؤں کے کویت داخلے پر پابندی کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں پر تشدد ، حجاب سے روکے جانے کا معاملہ کویت میں بھی پہنچ گیا

    کویت کے اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کو ایک خط لکھا ہے جس میں کویت حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے کسی بھی رہنما یا رکن کے کویت میں داخلے پر پابندی لگائی جائے، کویتی اراکین پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ ہم بھارت میں مسلمان خواتین پر ہوتا ظلم بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے، یہ امت کے متحد ہونے کا وقت ہے،

    دوسری جانب بھارت میں باپردہ حجابی خواتین کے حق میں کویت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک گروپ نے الارادہ اسکوائر میں ایک اجتماع کیا ،اس دوران اس اجتماع کے شرکا نے بھارتی مسلم خواتین کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے، شرکا کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلم خواتین کو انکی مرضی کے مطابق جینے کا حق ملنا چاہئے، اگر وہ حجاب کرتی ہیں تو حکومت کو نہیں روکنا چاہئے،

    کویت میں بھارتی سفارتخانے بھی خواتین نے احتجاج کیا جس میں انہوں نے بھارت کی باحجاب خواتین کے ساتھ یکجہتی کی اور مطالبہ کیا کہ بھارت میں مسلم خواتین کو حجاب پہننے سے روکا نہ جائے بلکہ انہیں حجاب پہننے کی اجازت دی جائے

    https://twitter.com/MediaDnow/status/1494605752404688896

    قبل ازیں کویت کی پارلیمنٹ کی جانب سے بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظورکی گئی ہے، بھارت سے حجاب پر پابندی ختم کرنے اور مسلمان طالبات کو پڑھائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ بھارت میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکا جا رہا ہے اور حجاب پہننے والی طالبات کو تعلیمی اداروں سے نکالا جا رہا ہے، کئی طالبات نے حجاب اتارنے سے انکار کیا تو انہوں سکولوں سے نکال دیا گیا،

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

  • بھارت:کسانوں کے حقوق کیلئے احتجاج کرنیوالےمعروف اداکارحادثے میں جانبحق:معاملات پھربگڑگئے

    بھارت:کسانوں کے حقوق کیلئے احتجاج کرنیوالےمعروف اداکارحادثے میں جانبحق:معاملات پھربگڑگئے

    نئی دہلی :بھارت:کسانوں کے حقوق کیلئے احتجاج کرنیوالےمعروف اداکارحادثے میں ہلاک ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں کسانوں کے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن اور بھارتی اداکار ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پنجابی فلموں کے37 سالہ معروف اداکار دیپ سدھو بدھ کے روز بھارتی ریاست پنجاب سے نئی دہلی جاتے ہوئے ایک کار حادثے میں چل بسے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ہائی وے پر ہونے والے حادثے میں دیپ سدھو کی کار ایک ٹرک سے ٹکراگئی تھی جس میں وہ شدید زخمی ہوئے، انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کرگئے۔ان کے انتقال کی خبرجنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور اس وقت سوشل میڈیا پرایک ہنگامہ برپا ہے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دیپ سدھو مودی سرکار کی جانب سے کی گئی متنازع زرعی اصلاحات کے خلاف کسانوں کی تحریک میں پیش پیش تھے اور ان پر الزام تھا کہ وہ گذشتہ سال26 جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر ہونے والےکسانوں کے پرتشدد احتجاج کی قیادت کرنے والوں میں سے ایک تھے۔

    خیال رہےکہ گذشتہ سال 26 جنوری کے روز کسانوں اور پولیس کے درمیان شدید تصادم بھی ہوا تھا جس میں پولیس نے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا تھا، احتجاج کے بعد کسانوں کو اکسانے کے الزام میں دیپ سدھو کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور انہیں 2 ماہ بعد ضمانت پر رہائی ملی تھی۔

    دیپ سدھو کے انتقال پر بھارتی اداکاراؤں اور سیاستدانوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دیپ سدھو نے متعدد پنجابی فلموں میں کام کیا تھا اور انہیں پنجابی فلم فیئر سمیت مختلف ایوارڈ بھی ملے تھے۔

    دوسری طرف کسانوں نے مرنے والے اداکار کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عہد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے

  • داؤد ابراہیم، ایک بار پھرچھاپے، گرفتاریاں، تحقیقات،معاملہ کیا

    داؤد ابراہیم، ایک بار پھرچھاپے، گرفتاریاں، تحقیقات،معاملہ کیا

    داؤد ابراہیم، ایک بار پھرچھاپے، گرفتاریاں، تحقیقات،معاملہ کیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ایک بار پھر بھارت کے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی تلاش اور اسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن تیز کر دیا ہے

    ای ڈی نے داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کی رہائشگاہ جو ممبئی میں ہے پر چھاپہ مارا، ای ڈی نے داؤد ابراہیم سے رابطے میں رہنے والے یا انکے رشتے داروں کے گھروں ٔپر بھی دس سے زائد چھاپے مارے، ای ڈی داؤد ابراہیم کے کالے دھن کی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں، ای ڈی نے گینگیسٹر چھوٹا شکیل کے قریبی رشتے داروں سلیم قریشی سے بھی نو گھنٹے تک طویل تحقیقات کی ہیں

    بھارتی تحقیقاتی ایجنسی ای ڈی نے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کر کے داؤدابراہیم کے قریبی افراد کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق سلیم قریشی سے تحقیقات کے بعد ایک بلڈر کو بھی طلب کیا گیا تھا جس سے تحقیقات کی گئیں، ممبئی کے چور بازار میں ایک دکان کے مالک کو بھی طلب کیا گیا تھا، ظاہر کیا جا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم کے لئے یہ سرمایہ کاری کرتے ہیں، ای ڈی اس بات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے کہ جس کالے دھن کا استعمال داؤد ابراہیم کے گروپ کی جانب سے کیا گیا اس کا استعمال کیا سیاسی تقاریب میں بھی کیا گیا یا پھر کسی سیاستداں کو اس سے فائدہ حاصل ہوا؟

    گزشتہ روز ممبئی کے مسلمان آبادی والے علاقے ناگپاڑی میں ایک فلیٹ پر ای ڈی کے حکام نے چھاپہ مارا تھا ، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اس چھاپے کے دوران ای ڈی کو اہم دستاویزات ملیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داؤد ابراہیم منی لانڈرنگ میں ملوث ہے اور اس میں کئی ثبوت ہیں، ای ڈی نے داؤد ابراہیم اور اسکے دوستوں کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے،

    داؤد ابراہیم کو کراچی میں قتل کرنے کی بھارتی حساس اداروں کی سازش کب ہوئی تھی ناکام؟

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    واضح رہے کہ بھارت گزشتہ کئی سالوں سے داؤد ابراھیم کا سراغ لگانے میں مصروف ہے لیکن ممبئی میں اُسکا اثر رسوخ آج تک ختم نہیں کر سکا۔ اب برطانیہ سے مدد مانگی جا رہی ہے داؤد ابراھیم کے ایک قریبی جابر صدیق (موتی والا) پر گھیرا تنگ کرنے کے لئے، بھارت یہی سمجھتا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے۔

    1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً 700 سے زخمی ہوئے تھے. یہ بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن مربوط بم دھماکے تھے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکے داؤد ابراہیم کے حکم سے یا امداد سے اس کے کارندے ٹائیگر میمن نے کیے۔

    بھارت عدالت عظمیٰ نے اس مقدمہ کے 20 سال بعد اپنا فیصلہ 21 مارچ 2013 کو دیا۔ تاہم، مقدمہ کے دو اہم ملزمان داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن ابھی تک گرفتار نہیں کیے گئے۔ مہارشٹرا حکومت نے یعقوب میمن (ٹائیگر میمن کا بھائی) کو اس کی 53 ویں سالگرہ کے دن 30 جولائی 2015ء کو پھانسی دینے کا ارادہ کیا، یعقوب میمن نے رحم کی درخواست دی،مگر اسے رد کر دیا گیا۔ یعقوب کو 30 جولائی 2015 کو مہاراشٹر کے يروڈا جیل میں پھانسی دی گئی تھی

    یہ بم دھماکے سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے بعد ہوئے تھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔فسادات کے رد عمل میں ہونے بم دھماکوں کا مقدمہ تو اپنے انجام کو پہنچا اور لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن ان فسادات کے دوران ایک ہزار افراد کو قتل کرنے والوں میں سے آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

  • بھارت: پولیس نے باحجاب خواتین پر ڈنڈے برسادیے، ویڈیو وائرل:حجاب ممنوع قراردینے کی سازشیں

    بھارت: پولیس نے باحجاب خواتین پر ڈنڈے برسادیے، ویڈیو وائرل:حجاب ممنوع قراردینے کی سازشیں

    بھارت: پولیس نے باحجاب خواتین پر ڈنڈے برسادیے، ویڈیو وائرل:حجاب ممنوع قراردینے کی سازشیں ،اطلاعات ہیں‌ کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں کمی کی بجائے شدت آرہی ہے اور اب تو مودی سرکاری براہ راست مسلمان خواتین پر تشدد کرتے ہوئے نظرآتی ہیں‌،

    بھارت میں مسلم طالبات کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک نہتی مسلم لڑکی کو کالج میں ہراساں کیے جانے کے واقعے کے بعد اب بھارتی پولیس کی جانب سے باحجاب خواتین پر ڈنڈے برسانے کی ویڈیو سامنے آ ئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے حجاب پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کرتی خواتین پر تشدد کا واقعہ اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں پیش آیا۔پولیس کی طرف سے مسلمان خواتین پر پولیس نے ڈنڈے برسائے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی پولیس گالیاں بھی بکتی رہی ،ادھربھارتی میڈیا نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ واقعی بھارتی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے

     

     

     

    ادھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار سڑک پر حجاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والی خواتین کے پاس آتے ہیں اور بغیر کچھ بات کیے ان پر لاٹھیوں سے تشدد شروع کر دیتے ہیں۔

    بھارتی پولیس کے ظلم و تشدد کے خلاف مسلمان خواتین کی مزاحمت جاری ہے ، اس سلسلے میں ویڈیو میں چند ایک خواتین کو بہادری کے ساتھ بھارتی پولیس اہلکاروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس موقع پر سڑک پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

    بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(پی جے پی) کی رکن اسمبلی بھی حجاب کیخلاف زہراگلنے لگی۔ پریگیا ٹھاکرکا کہنا ہے کہ بھارت میں کسی کوحجاب پہننے کی ضرورت نہیں۔

    بھوپال میں بی جے پی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی پریگیا ٹھاکرکا کہنا تھا کہ جنہیں گھرکے اندرخطرہ ہے وہ گھرمیں رہتے ہوئے حجاب پہنیں۔ بھارت میں کسی کوحجاب پہننے کی ضرورت نہیں۔

    ہندو انتہاپسند رکن اسمبلی کامزید کہنا تھا کہ بھارت میں ہندومعاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت کی جاتی ہے اس لئے گھرسے باہرکسی کوحجاب نہیں پہننا چاہئیے۔جوگھریا مدرسے کے اندرحجاب پہنتا ہے اس پرہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن باہراس کی اجازت نہیں ہونا چاہئے۔

    کرناٹک اوردیگربھارتی ریاستوں میں تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی عائد کی گئی جس کیخلاف مسلمان طالبات کا مقدمہ کرناٹک ہائیکورٹ میں مقدمہ زیرسماعت ہے۔

  • بھارت میں مسلمانوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ:عالمی ادارے خاموش تماشائی

    بھارت میں مسلمانوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ:عالمی ادارے خاموش تماشائی

    نئی دہلی :بھارت میں مسلمانوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ:عالمی ادارے خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں2014میں مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں پرمظالم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ ہندوتواغنڈے مسلسل بھارت بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے دور میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو تیزی سے بڑھکایا گیاہے اور بھارت میں مسلمانوں کو دھمکیاں دینے ، ہراساں کئے جانے اور ان پر حملوں کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے ۔

    رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت بھارت میں ہندو بالادستی کو فروغ دے رہی ہے اورمسلمانوں کو د گھر واپسی کی پرتشدد مہم کے ذریعے ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔گھر واپسی دراصل لوگوں کو اسلام، عیسائیت اور دیگر مذاہب سے زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی مہم ہے جو انتہا پسند ہندو تنظیمیں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد ، بجرنگ دل اور دیگر کی طرف سے شروع کی گئی ہے ۔

    ہندوتوانظریہ کے مطابق بھارت کے تمام لوگ آبائی طور پر ہندو ہیں اور اس لیے دوبارہ ہندو مذہب اختیارکرنا گھر واپسی ہی ہے ۔ ہندوانتہا پسند تنظیموں نے 2014میں نریندر مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس پروگرام پر عمل درآمد تیز کر دیاہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے تمام شعبہ زندگی میں امتیازی سلوک روارکھاجا رہا ہے۔

    رپورٹ میں ممتاز سکالر نوم چومسکی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہاگیا ہے کہ اسلامو فوبیا نے ہندوستان میں سب سے زیادہ مہلک شکل اختیار کر لی ہے اور مسلمانوں کو ایک مظلوم اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔رپورٹ میں افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی اور ہتھیاروں کے استعمال کا مطالبہ کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بارے میں خبردار کیا ہے اور مسلمانوں پر حملوں کو عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔

  • ووٹروں کو دھمکانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی لیڈر کو نوٹس جاری

    ووٹروں کو دھمکانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی لیڈر کو نوٹس جاری

    تلنگانہ :ووٹروں کو دھمکانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی لیڈر کو نوٹس جاری ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں الیکشن کمیشن نے ریاست تلنگانہ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اے ٹی راجہ سنگھ کو اتر پردیش کے انتخابات میں ووٹروں کو دھمکانے پر نوٹس جاری کر دیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اے ٹی راجہ سنگھ نے یوگی اادتیہ ناتھ کو ووٹ نہ دینے والے ووٹروں کے گھروں پر بلڈوزر چلوانے کی دھمکی دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اے ٹی راجہ سنگھ کے مبینہ ویڈیو بیان جس میں وہ ووٹروں کو یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کو ووٹ دینے کیلئے دھمکا رہے ہیں کا حولہ دیتے ہوئے کہاہے کہ بی جے پی لیڈر نے انتخابی ضابطہ اخلاق،تعزیرات ہند اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔ کمیشن نے اے ٹی راجہ سنگھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24گھنٹے میں اپنے بیان کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے بصور ت دیگر مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

    واضح رہے کہ اے ٹی راجہ سنگھ نے گزشتہ روز ایک ویڈیو بیان میںووٹروں سے اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھاکہ اترپردیش میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہوگا، نہیں تو ریاست چھوڑ کر بھاگنا ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے، ان سے کہوں گا کہ یوگی نے ہزاروں بلڈوزر منگوا لئے ہیںجو ان کے گھروں پر چلوائے جائیں گے ۔

  • ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    ہندو انتہا پسندوں کا اذان پر بھی اعتراض،کہا اذان ہو گی تو لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کبھی اذان، کبھی نماز اور کبھی حجاب کو لے کر مسلمانوں کا جینا محال کر دیا گیا ہے

    اب خبر آئی ہے کہ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے اذان پر اعتراض عائد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب اذان ہو گی تو ہم لاؤڈ سپیکر پر میوزک بجائیں گے،ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک ویڈیو بنائی گئی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو انتہا پسند جمع ہیں اور ان میں سے ایک لڑکا کہہ رہا ہے کہ اس نے مسجد کے بالمقابل عمارت پر لاؤڈ اسپیکر لگا رکھے ہیں جب بھی اذان ہوگی ہم لاؤڈ اسپیکر پر اونچی آواز میں گانے بجائیں گے، ہندو انتہا پسند کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو کو پورے بھارت میں وائرل کیا جائے

    دوسری جانب پولیس نے انتہا پسند ہندووں کی جانب سے نصب لاؤڈ اسپیکر کو اتار دیا لیکن کسی انتہا پسند کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ مسجد انتظامیہ کو فی الحال اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے روک دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ بھارت میں اذان پر اعتراض کا یہ پہلا کیس نہیں بلکہ اس سے قبل بھی مسلمانوں کو کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور اذان پر پابندی مقامی طور پر عائد کی جا چکی ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو انتہاپسند سوچ کے حامل وکلا نے صوتی آلودگی کو بہانہ بناتے ہوئے لاؤڈ اسپیکروں سے اذانوں کی آوازوں پرپابندی کا مطالبہ کیا اس کیلئے وکلاء نے اندور کے ڈویژن کمشنر اور وزیر داخلہ نروتم مشرا کو میمورنڈم بھی ارسال کردیا ہے وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے مسلم مذہبی رہنماؤں نے اسے مذہبی تعصب سے تعبیرکیا ہے مدھیہ پردیش کی جمعیت علماء نے بیان دیا جس میں کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنی تقریبات میں استعمال کرتے ہیں۔

    بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی طرف سے مسلمانوں پرہونے والے مظالم اس قدرزیادہ ہیں کہ ہندووں کی ہی جماعتیں اس پرخوف زدہ اورپریشان ہیں ،قبل ازیں اتر پردیش کے غازی پور کے ضلع مجسٹریٹ نے زبانی احکامات جاری کرتے ہوئے مسجدوں میں اذان دینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے خلاف بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جس پر سماعت کے بعد عدالت نے مسلمانوں کو لاؤڈ سپیکر پر اذان اور بغیر لاؤڈ سپیکر کے بھی اذان دینے کی اجازت دے دی تھی

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    لاؤڈ سپیکر پر اذان دینا جرم کر گیا، ہندو انتہا پسندوں نے مسجد میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور مؤذن کو ذخمی کر دیا ,واقعہ بھارت کے علاقے گورکھپور مین پیش آیا جہاں ایک مسجد میں مؤذن نے لاؤڈ سپیکر پر اذان دی تو ہندو انتہا پسند مسجد میں گھس گئے اور انہوں نے مؤذن پر حملہ کر دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا، شرپسندوں نے مسجد میں توڑ پھوڑ بھی کی، ہندو انتہا پسندوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مسجد میں اذان نہ دی جائے لیکن مؤذن نے اذان دی اور اس پر حملہ کر دیا گیا

    مؤذن کے پاس اذان دینے کا حکومتی اجازت نامہ بھی تھا اسکے باوجود ہندو انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا ،35 سالہ مؤذن عبدالرحمان اس حملے میں شدید زخمی ہوا جس کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا، انتہا پسندوں نے مسجد کی بے حرمتی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی.اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور مقامی مسلمان بھی مسجد میں پہنچ گئے ،اس دوران ہندو انتہا پسندوں نے مقامی افراد پر بھی تشدد کیا ،پولیس کے آنے سے قبل ہندو انتہا پسند مسجد سے فرار ہو گئے تھے واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے مسلمانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ انتہا پسندوں کے ساتھ صلح کر لیں

    بھارت کی ریاست کرناٹک میں حجاب کے حوالہ سے بحث جاری ہے، رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ بھارت میں حجاب پہننے کی ضرورت نہیں ہے، مدرسوں کے علاوہ اگر کسی دیگر تعلیمی ادارے میں حجاب پہنا جاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آپ کے پاس مدرسے ہیں، اگر آپ وہاں حجاب پہنتے ہیں یا خضاب لگاتے ہیں تو ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ وہاں کا ضروری لباس پہنتے ہیں اور وہاں کے نظم و نسق پر عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن اگر آپ ملک کے اسکولوں اور کالجوں میں نظم و نسق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور حجاب پہننا اور خضاب لگانا شروع کر دیتے ہیں تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا خضاب کا استعمال بالوں کی سفیدی کو چھپانے کے لئے کیا جاتا ہے لیکن حجاب کا استعمال چہرہ ٹھانپنے کے لئے کیا جاتا ہے

  • سعودی فوج کے کمانڈر کا پہلی بار دورہ بھارت

    سعودی فوج کے کمانڈر کا پہلی بار دورہ بھارت

    سعودی فوج کے کمانڈر کا پہلی بار دورہ بھارت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ محمد المطیر بھارت پہنچے ہیں اور انہوں نے بھارتی آرمی چیف سے ملاقات کی ہے

    خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی کمانڈر کی بھارتی آرمی چیف سے ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی،سعودی عرب کی فوج کے کسی کمانڈر کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے، اس دورے کو اس حوالہ سے بھارت میں اہمیت دی جا رہی ہے کہ سعودی فوج کا کوئی کمانڈر پہلی بار بھارت آیا، اس سے سعودی عرب اور بھارت کے مابین دفاعی تعلقات بہتر ہونے کے امکان ظاہر کئے جا رہے ہیں، سعودی فوج کے کمانڈر تین روزہ دورے پر گزشتہ روز دہلی پہنچے تو انکا بھر پور استقبال کیا گیا،

    قبل جنرل نروانے نے سال 2020 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اس سے پہلے بھارت کے کسی آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ نہیں کیا تھا دونوں ممالک کے درمیان ان دوروں کا مقصد دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے

    خارجہ پالیسی کے ماہرین نے کہا ہے کہ شاہی سعودی زمینی افواج کے سربراہ کا اس ہفتے بھارت کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کے "مستحکم ارتقاء” کا حصہ تھا، جن کے تعلقات کئی دہائیوں سے زیادہ تر توانائی کے تعاون کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    چند سال پہلے تک، سعودی عرب کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بنیادی طور پر تجارت اور مشرق وسطیٰ میں ہندوستانی تارکین وطن کی وجہ سے چل رہے تھے۔ سعودی عرب ہندوستان کو توانائی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور 3.5 ملین سے زیادہ ہندوستانی تارکین وطن کا گھر ہے۔پچھلے کچھ سالوں کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی کے حوالے سے کچھ تعاون ہوا ہے، ریاض نے چار انتہائی مطلوب مفروروں کو ہندوستان ڈی پورٹ کیا۔لیکن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان تعلقات کو وسعت دینے کے لیے کام کیا ہے، اور دونوں حکومتوں نے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں گزشتہ سال اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد اضافہ ہوا ،دونوں ممالک کے درمیان تجارت 25 بلین ڈالر کے قریب ہے اور بھارت گزشتہ سال تک مملکت کا دوسرا سب سے بڑا شراکت دار تھا۔ بہت سے لوگ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید بہتر کرنے کو مودی کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی سفارتی کوشش کے حصے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

  • 14 خواتین سے شادی کرنے والا جعلی ڈاکٹر

    14 خواتین سے شادی کرنے والا جعلی ڈاکٹر

    بھارتی ریاست اڑیسہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سات مختلف ریاستوں میں کم سے کم 14 خواتین کو ڈاکٹر بن کے ان سے شادی کرنے اور پھر فراڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انڈیا ٹوڈے کے مطابق ملزم کی شناخت 54 سالہ بدھو پرکاش سوین عرف رمیش سوین کے نام سے کی گئی ہے جو کیندر پاڑہ ضلع کا رہنے والا ہے تاہم وہ زیادہ تر وقت اڑیسہ سے باہر ہی رہتا تھا۔

    سوین پنجاب، دہلی، آسام، جھاڑکھنڈ اور اوڑیسہ کی خواتین کو نشانہ بناتا تھا۔ اس کا ہدف زیادہ تر درمیانی عمر اور طلاق یافتہ خواتین تھیں۔ وہ رشتے کی ویب سائٹس کے ذریعے ان سے رابطہ قائم کرتا تھا اور خود کو وفاقی وزارت صحت میں کام کرنے والا ڈاکٹر بتاتا تھا۔

    کرناٹک میں ایک اورکالج نے باحجاب طالبات پر پابندی لگا دی گئی

    بھونیشور کے ڈی سی پی اوماشنکر داش نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ اس کا ٹارگٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے جو مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ سوین کی نظر ان کے پیسوں پر تھی سوین کے متاثرین میں سپریم کورٹ کی ایک وکیل اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورس کی ایک سینئر اہلکار بھی شامل ہیں۔

    اس نے 2018 میں پنجاب کی CAPF اہلکار سے شادی کی اور اسے تقریباً 10 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا بعد میں، اس نے گوردوارہ کو، جہاں شادی کی تھی، ہسپتال کی منظوری کے وعدے پر 11 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا-

    رپورٹس کے مطابق سوین پانچ بچوں کا باپ ہے اور اس نے پہلی بار 1982 میں اور پھر 2002 میں شادی کی تھی۔ 2002 سے 2020 کے درمیان اس نے کئی خواتین سے دوستی کی اور ان سے شادی کی اور ایک کے بعد ایک کو چھوڑتا رہا-

    نیپال: بھارت سازشوں سے باز نہ آیا: یورینیم نما مادہ رکھنے کے الزام میں 2 بھارتیوں سمیت 8 گرفتار

    شادی کے بعد وہ کچھ دن ان کے ساتھ رہتا تھا اور کسی کام سے شمال مشرقی یا بھونیشور جانے کے بہانے عورتوں کو ان کے والدین کے پاس چھوڑ دیتا تھا۔

    ڈیش نے کہا کہ سوین کو جولائی 2021 میں دہلی کے ایک ٹیچر کی شکایت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا متاثرہ لڑکی نے اپنی شکایت میں کہا کہ سوین نے اس سے نئی دہلی کے آریہ سماج مندر میں شادی کی تھی شکایت کے بعد، اسے بھونیشور کے کھنداگیری علاقے میں کرائے کے مکان سے گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف انڈین پیمنل کوڈ کی دفعہ 498 (A)، 419، 468، 471 اور 494 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اس نے مزید 13 خواتین کو دھوکہ دیا ہے جن سے وہ مختلف ازدواجی سائٹس اور سوشل میڈیا پر ملا تھا پولیس نے ملزم کے قبضے سے 11 عدد اے ٹی ایم کارڈ اور بہار سے ایک اسکول سرٹیفکیٹ اور دیگر تفصیلات بھی برآمد کی ہیں۔

    امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی…

    سوین کو اس سے قبل حیدرآباد میں بیروزگار نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنے یا ایم بی بی ایس کورسز میں داخلہ دلانے کے بہانے دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اس نے سینٹرل ہیلتھ ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کا روپ دھار کر ہندوستان بھر میں کئی لوگوں سے 2 کروڑ روپے اکٹھے کئے اسے کیرالہ کے ایرناکولم میں قرض فراڈ کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

    ڈی سی پی نے کہا کہ پولیس سوین کا ریمانڈ حاصل کرے گی اگر ضرورت پڑی تو مزید تحقیقات کے لیے تمام خواتین کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ایک پیشہ ور کونسلر کو بھی اس ٹیم میں شامل کیا جائے گا جو اپنے متاثرین کی مشاورت کرے گا ۔

    ڈی سی پی اوماشنکر داش نے کہا کہ ہم فراڈ کی تفصیلی مالی تحقیقات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ہم تفصیلی جانچ کے لیے ملزم کا طویل ریمانڈ طلب کریں گے-

    یہودی اداکارہ کی فلم پرلبنان اور کویت سمیت دیگرعرب ممالک میں پابندی، سعودی عرب میں…