Baaghi TV

Tag: بھارت

  • مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    بھارت ایک بار پھر آپے سے باہر ہوا جا رہا ہے، بھارتی جنگی جنون خطے کے امن کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اگرچہ بھارت کا جنگی جنون ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا ہے مگر بی جے پی اور باالخصوص نریندر مودی کی سیاست پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے.
    مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال اور بالخصوص انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے مودی حکومت کے مکروہ عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، یو این او کی 2018 رپورٹ برائے کشمیر اور انسانی حقوق کی پاسداری نے بھارتی چہرے کو بری طرح مسخ کیا ہے، اسی طرح یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں 19 فروری کو ہونے والے اجلاس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدت سے سوال اٹھایا گیا.
    عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد سے انڈیا سٹپٹا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی دو مرتبہ پیشکش نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے، کشمیر عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، چین، روس اور ترکی جیسے بڑے ممالک کشمیر ایشو پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، ان حالات نے بھارت کو ہڑ بڑا کر رکھ دیا ہے.
    بھارت کو لگتا ہے کہ شاید اب کشمیر کہیں اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے، یہی وجہ ہے کہ بھارت عالمی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے کسی نئے ایڈونچر کی تیاری میں لگا ہوا ہے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنائے جانے سے اب تک کئی معصوم پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، تازہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر میں ایل او سی کے نزدیک سول آبادی کو کلسٹر بمبوں کے زریعے نشانہ بنایا گیا ہے، یاد رہے کلسٹر بم کا استعمال جینوا اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.
    بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں نئے فوجی دستوں کی تعینات کرنا، فوج اور ایئر فورس کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دینا، مقبوضہ کشمیر میں قبل از وقت گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کرنا اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم دینا، مقبوضہ وادی میں سیاحت کے لیے آئے سیاحوں کو فوری طور کشمیر چھوڑنے کا حکم دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، آخر بھارت کی جانب سے ان تمام اقدامات کا مقصد کیا ہے؟ بھارتی اقدامات واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ کسی نئے ایڈوینچر کے موڈ میں ہے.
    پاکستان کی امن کی کوششوں کو پاکستان کی کمزوری سمجھنا مودی قیادت کی احمقانہ سوچ ہے، بھارت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، پاکستان کے پاس جدید ترین جوہری ہتھیار، ایڈوانس میزائل ٹیکنالوجی اور دنیا کی بہترین مسلح افواج ہیں، بھارت کا ہر ایک شہر پاکستان کے نشانے پر ہے، بھارت نے کسی قسم کا کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسا دندان شکن جواب ملے گا کہ بھارت کی آنیوالی نسلیں یاد رکھیں گی، مودی کا جنگی جنون بھارت کو لے ڈوبے گا.
    پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، پاکستان کی جانب سے ہمیشہ مصالحت پسندانہ رویہ اپنا گیا، ہر بار بھارت کو دعوت دی کہ مزاکرات کی میز پر مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں لیکن بھارت کے سر پر تو جنگ کا بھوت سوار ہے، مودی امن کو موقع دینے کو بلکل بھی تیار نظر نہیں آتا، بھارتی حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ جنگیں مزید مسائل کو جنم دیتی ہیں، پاکستان انڈیا کا تصادم پورے حطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دے گا اسلیے مودی کو چاہیے کہ اپنے جنگی جنون سے باہر نکلے اور مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرے، تاکہ اس خطے کو تباہی سے بچایا جا سکے اور امن کو موقع دیا جا سکے.

  • مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں ایک آزاد مسلم ریاست قائم ہوگی، "گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود” یہ اقبال ہی تھے جس نے اس وقت تقدیر مبرم کا مشاہدہ کرلیا تھا جب قائداعظم نے 14 نکات ہی پیش کیے تھے پھر دنیا نے دیکھا کہ قدرت والے نے پاکستان کو رمضان کے مہینے میں نازل فرمایا اور اہم بات یہ کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج پہلے نہ پیدا کیا ہو بالکل اسی طرح اسرائیل کے وجود سے 9 مہینے پہلے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تقسیم ہند اس بنیادی اصول کے تحت طے پائی تھی کہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں، اس حساب سے کشمیر قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتا تھا مگر انگریز کی عیاری اور بدنیتی کے باعث کشمیر کا معاملہ ادھورا رہ گیا جس پر لارڈ ماونٹ بیٹن و نہرو نے غاصبانہ قبضہ جمالیا اس حق تلفی کے سبب پاکستان و بھارت کے مابین کئی خونریز جنگیں بھی ہوئیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوے اور باہمی کشیدگی پر ہر سال ارب ہا ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، معاملہ شروع میں اقوام متحدہ کے احاطے میں گیا مگر اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آج تک حل نہ ہو پایا، اس ضمن میں شملہ معاہدہ کے تحت دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پہ متفق تو ہوے مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا، دانشمندی تو اسی میں تھی کہ دونوں ملک ستر سالہ مخاصمت کو مٹانے کے لیے کوئی عملی کام کرتے، عین ممکن تھا ایسا ہو بھی سکتا تھا مگر ہندوتوا دہشتگرد کبھی بھی ہندو مسلم منافرت کی دیوار برلن کو گرانے کے لیے تیار نہیں بلکہ مودی سرکار میں تو ہندوتوا دہشتگردی سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔ جنوبی ایشیا کو کشیدگی سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے کیا جائے، ماضی میں اس کی راہ میں سوویت یونین کا ویٹو بھی حائل تھا اور امریکی عدم دلچسپی بھی مگر اب امریکہ نے اس مسئلے کے حل میں گہری دلچسپی دکھائی ہے، دورہ عمران خان کے موقع پر امریکہ نے کشمیر پہ ثالثی کا بیان دیا اور اب اس مسئلے کو نمٹانے کا عزم کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بات عالمی حالات کے تناظر میں دیکھی جائے تو ہر ذیشعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کے لیے سر توڑ کوشش کرتا آرہا ہے جیسا کہ اب چین امریکہ کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے تو دوسری طرف روس ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے ایسے میں امریکہ کو اس پورے علاقے میں ایک دوسرے اسرائیل کی بھی ضرورت ہے جو شاید ممکن نظر نہیں آتی البتہ مشکل ضرور ہے، اس ضمن میں بھارتی ڈیفینس ریسرچ ٹیم کے سربراہ کی رپورٹ میں بتایا جاچکا ہے کہ امریکہ کا آزاد خود مختار کشمیر کے قیام کا منصوبہ ہے جوکہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور جموں و لداخ کے علاقوں پہ مشتمل ہے اور آزاد خود مختار کشمیر کا آپشن "آل پارٹیز حریت کانفرنس” کے دستور میں شامل ہے مزید برآں ملک یاسین سے انڈین ٹی وی کے اینکر کا خودمختار ریاست کا سوال جس پہ ملک یاسین کا یہ کہنا کہ آپشن موجود ہے اور حریت پسند تنظیم کے سپریم کمانڈر عمر خالد کا روزنامہ جنگ میں شایع ہونے والا انٹرویو بھی موجود ہے جس میں انہوں نے واضح کہا تھا کہ کشمیر میں خودمختاری کا نظریہ فروغ پانے لگا ہے اور یہ بات سب پہ عیاں ہے کہ جنگ جیو گروپ کو بات متن سے ہٹا کر پیش کرنے میں اولیت حاصل ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 2010 کے بعد سے بالعموم اور 2014 کے بعد سے بالخصوص کشمیری عوام میں نظریہ پاکستان کی جڑیں زیادہ گہری ہورہی ہیں اور اگر کشمیر خودمختار بھی بنتا ہے تو بھی سو فیصد پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ کشمیری بھائیوں سے پاکستان کا رشتہ قیام پاکستان سے پہلے ہی قائم ہوگیا تھا جس کا عملی مظاہرہ 1931 سے شروع ہونے والا آزادی کا جذبہ سامنے آچکا ہے اور قیام پاکستان کے فوری بعد گلگت بلتستان بریگیڈ کے کمانڈر کا سپاہ سمیت پاکستان کے حق میں کھڑا ہوجانا بھی ریکارڈ پہ موجود ہے یہ درحقیقت خالصتاً انڈین رپورٹ تھی جوکہ مسئلہ کشمیر کے حل کو ٹالنے کے لیے ایک ہتھیار بھی تھا مقصد کشمیری اور پاکستانی عوام میں بددلی و بےچینی پیدا کرنا تھا جیسا کہ ماضی میں بھارت کامن ویلتھ ٹروپس یا امریکی ثالثی کو پاکستان کے سیٹو اور سینٹو پیکٹ کو لیکر بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا اور Demilitarize کرنے سے بھاگتا رہا جس کے سبب استصواب رائے نہ ہوسکی لیکن اب شاید بھارتی ہتھکنڈے زیادہ نہ چل سکیں کیونکہ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل کو لیکر بحث جاری ہے 2014 میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ڈبیٹ میں واضح طور پر کہدیا گیا تھا کہ Kashmir is not a forgotten conflict اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی نفی کردی ہے کہ Kashmir is unresolved issue جس سے پاکستانی موقف کی جیت ہوگئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی قریب کی پاکستانی حکومتوں کا کشمیر کے مسئلے پہ عملی کام مایوس کن رہا حتیٰ کہ UNSC کی طرف سے کشمیر کو Unresolved Issue کی فہرست سے نکالنے کے لیے پاکستان سے موقف مانگنے پر حکومت وقت نے کوئی جواب ہی جمع نہیں کروایا لیکن 2014 میں قدرت نے اس وقت دوبارہ زندہ کردیا جب David Ward برطانوی پارلیمینٹیرین سمیت دیگر نے اسے Unresolved issue قرار دیا جسکی جزوی تائید یورپی یونین نے بھی کی لیکن افسوس پاکستانی حکومت اور اینکر مافیا اس وقت کہاں سوئے تھے جس پر کمنٹ کا حق قارئین خود استعمال کریں، اس کے علاوہ فروری 2019 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد یورپی یونین سمیت پوری دنیا نے اس مسئلے کے حل کو دنیا کے امن کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اب امریکہ کے ساتھ ساتھ چین بھی کشمیر کے حل کے لیے سرگرم ہے جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر میں پچاس ہزار مزید فوجی دستے بھیج دیئے ہیں اور کنٹرول لائن پر شدید دراندازی شروع کررکھی ہے مزید برآں امرناتھ یاترا پہ آنیوالوں پہ حملے کا خدشہ قرار دے رہا ہے عین ممکن ہے کہ پارلیمنٹ حملے کی طرح کوئی حملہ کرواکر دنیا میں پاکستان کے خلاف ڈھونگ رچائے دوسری طرف یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سال امرناتھ یاترا پہ جانے والوں کی تعداد ابتک کی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے یقینی ہے کہ ان کی آڑ میں ہزاروں ہندوتوا دہشتگرد خطے میں بھیجے گئے ہوں جن کے مذموم مقاصد مکتی باہنی طرز کے ہوسکتے ہیں جسے بھارت پروپیگنڈے کے تحت حریت پسندوں کے خلاف استعمال کرسکتا ہے لیکن انشاءاللہ اب کی بار بھارت کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
    ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
    اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
    اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے

  • کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    ایک طرف پاکستان کی جانب سے کشمیر پر اٹھنے والی ھر آواز پابند ھے۔۔۔ کشمیریوں کے نعروں کا جواب دینے والا اب کوئی نہیں رھا۔۔۔ سیاسی طور پر چئیرمین کشمیر کمیٹی مشہور زمانہ "شہد والی سرکار” جو شاید زیادہ شہد پی بیٹھے ھیں۔۔۔ اور کشمیر پر بات کرنے کے لئے نہ میڈیا تیار ھے نہ عوام۔۔۔ دو روز قبل بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ھونے والی فائرنگ کی خبر ھمارے میڈیا کی زینت بن سکی، نہ سیاسی ایوانوں میں کہیں اسکا ذکر مناسب سمجھا گیا ھے۔۔۔ اور شاید ستو یا شہد پینا اب راولپنڈی میں بھی عام ھو گیا ھے۔۔۔

    انکل ٹرمپ نے ھمارے خان صاحب کو کشمیر پر ثالثی کی آفر تو کر دی ھے، مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے۔۔۔

    انڈیا کی قومی سلامتی کا مشیر اجیت دووال اور انکا وزیر داخلہ امیت شاہ پچھلے 4 ماہ سے کشمیر کو اپنا دوسرا گھر بنائے ھوئے ھیں۔۔۔ انڈین میڈیا کے مطابق 27 جولائی سے کشمیر میں 10 ھزار تازہ دم فوجیوں کے دستے کشمیر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد کم ازکم 25 ھے۔۔۔ محکمہ ریلوے اور دیگر سرکاری محکموں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ھے۔۔۔ اور اگلے 4 ماہ تک چھٹیاں منسوخ اور راشن سٹور کرنے کی ھدایات جاری کر دی گئی ھیں۔۔۔

    تمام حریت راھمنا نظر بند یا جیلوں میں ھیں۔۔۔ جمون کشمیر کے پانچوں ایس پیز کو فی الفور اپنے علاقوں کی تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ھے۔۔۔
    بھارتی سرکار کے مطابق یہ سب کچھ 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) اور امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے مدنظر کیا جارھا ھے۔۔۔

    درحقیقت 15 اگست پر ھر سال کشمیری سرینگر سمیت پورے جموں کشمیر میں سبز ھلالی پرچم لہرا دیتے ھیں، جبکہ اس سال بڑے پیمانے پر سرکاری سطح پر انڈین پرچم لہرانے کے بندوبست کیے جارھے ھیں۔۔۔

    جموں میں امرناتھ کے مقام پر ہندوؤں کا ایک بڑا اھم مندر ھے، جسکا راستہ ایک بڑے پہاڑی غار سے ھوکر جاتا ھے۔۔۔ جو سارا سال برف کی وجہ سے ڈھکا رھتا ھے اور گرمیوں میں یہ راستہ کھلتا ھے تو ھزاروں ھندو اسکی یاترا کے لئے جمع ھوتے ھیں۔۔۔ 1989 تک اس یاترا میں 10 سے 12 ھزار ھندو آیا کرتے تھے۔۔۔ 1991 سے 1996 تک حرکت المجاھدین کی دھمکی کی وجہ سے یہ یاترا بند رھی اور اسکے بعد مسلسل تقریبا ھر سال یہ یاترا مجاہدین کے نشانے پر رھی۔۔۔ بھارتی سرکاری سرپرستی کے سبب یاتریوں کی تعداد میں ھر سال اضافہ ھوتا رھا اور 2017 میں یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ ویسے تو یکم جولائی سے 15 اگست تک 45 دن اس ایونٹ کے لئے مختص ھیں۔۔۔ مگر اس سال 4 اگست کو امرناتھ یاترا کا سرکاری اعلان کیا گیا ھے۔۔۔

    20 دسمبر 2018 کو 6 ماہ کے لئے جموں کشمیر میں صدارتی حکم یا گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور 3 جولائی کو اسے مزید 6 ماہ کے لئے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جو خلاف قانون بھی ھے۔۔۔ اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی سیٹ اپ نہ ھونے پر دونوں سابق چیف منسٹرز پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ مسلسل الیکشنز کا مطالبہ بھی کررھے ھیں اور موجودہ صورتحال پر احتجاج کناں بھی ھیں۔۔۔

    تقسیم کے وقت سے ھی دونوں اطراف کے کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی، جسکے تحت 4 شعبوں دفاع، خزانہ، خارجہ، اور اطلاعات کے علاوہ کشمیر اپنے لئے قانون سازی میں خود مختار ھوگا۔۔۔
    اسی لئے 1949 میں ایک ترمیم کے تحت انڈین آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا۔۔۔ جس کے تحت بھارت سرکار کو اپنا کوئی بھی قانون کشمیر میں لاگو کرنے کے لئے کشمیری حکومت سے اجازت لینا ھوگی۔۔۔
    آرٹیکل 370 کی ایک شق 35A کے تحت کشمیر میں سوائے کشمیریوں کے کوئی دوسرا شہری مستقل رھائش اختیار نہیں کر سکتا۔۔۔ 2019 کے الیکشن میں بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست اسی آرٹیکل کا خاتمہ تھا۔۔۔ اور کشمیریوں کے بقول اب ساری منصوبہ بندی اسے قانون کے خاتمے کے لئے کی جارھی ھے۔۔۔

    مگر کیوں۔۔۔؟

    امرناتھ یاترا کے بڑے پیمانے پر بندوبست اور 35A کے خاتمے کے پیچھے صرف ایک مقصد ھے کہ کسی طرح اسرائیلی یہودیوں کی طرح پورے بھارت سے ھندوؤں کو لاکر جموں و کشمیر میں بسایا جائے۔۔۔ اور بالخصوص جموں کو ھندو اکثریت کے نام پر ھندو سٹیٹ بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسلمان اپنی ھی زمین پر بے گھر ھو جائیں یا قیدی۔۔۔

    بقول محبوبہ مفتی: "کشمیر میں بارود کو آگ لگائی جا رھی ھے۔۔۔” اب دعاؤں کے سوا اور کوئی ھتھیار بچا بھی نہیں ھے ھمارے پاس۔۔۔!

    اے اللہ۔۔۔! مظلوم کشمیریوں کی مدد و نصرت فرما۔۔۔
    دشمن کی چالوں کو نیست و نابود فرما۔۔۔
    ھمارے حکمرانوں کو عقل و دانش عطا فرما۔۔۔

  • کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں

  • عمران خان کامیاب دورہ امریکہ اور بھارت کا ردعمل — تبریز احمد ممریز ایڈووکیٹ

    قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
    کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
    مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
    مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
    وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
    وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
    مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
    جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
    جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
    مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔

    دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
    میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.

    خدا کرے میرے ارض پاک پر اترے

    وہ فصل گل جسے اندیشہ۶ زوال نہ ہو

    ایڈووکیٹ تبریز احمد ممریز

  • وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟  … رضی طاہر

    وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر

    وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔

    1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب

    2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی

    3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا

    4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔

    5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔


    رضی طاہر

  • بھارت:4عمر رسیدہ افراد کے قتل میں ملوث 8افراد گرفتار

    بھارت:4عمر رسیدہ افراد کے قتل میں ملوث 8افراد گرفتار

    بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں 4عمررسیدہ افراد کے قتل میں ملوث 8افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افرادان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے عمر رسیدہ افراد کو اتوار کے دن قتل کیا تھا۔ قتل میں استعمال ہونے والی لاٹھیوں کو بھی قبضہ میں لے لیا گیا۔
    بھارت، چار عمررسیدہ افراد کو لاٹھی اور ڈنڈے مار مار کر قتل کر دیا

    یادر رہے کہ بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں نامعلوم افراد نے چار عمررسیدہ افراد کو لاٹھی اور ڈنڈوں سے مار مار کر قتل کر دیا تھا۔مرنے والوں میں دو خواتین اور دو مرد شامل تھیں۔

  • بھارت: آگ سے 3کیمیکل گودام تباہ

    بھارت: آگ سے 3کیمیکل گودام تباہ

    مہاراشٹر کے بھیونڈی گاﺅں میں ایک کیمیکل گودام میں زبردست آگ لگ گئی ہے۔ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔موقع پر فائر بریگیڈیر کی کئی گاڑیاں موجود ہیں۔آگ پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔
    آگ سے کم ازکم تین گودام جل کر تباہ ہوگئے، جہاں کیمیکل رکھا گیا تھا۔
    لودھراں : اچانک آگ لگ گئی

    آگ رات1.50 بجے ایک گودام میں لگی جبکہ اس کے بعد دو دیگر گوداموں میں پھیل گئی۔چھ گھنٹے کے بعد آگ پر قابو پایا جا سکا۔
    کولنگ کا آپریشن جاری ہے، آگ لگنے کا سبب ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔

  • فسطائی طاقتیں بھارت کو ہندو ملک میں تبدیل میں مصروف، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا

    فسطائی طاقتیں بھارت کو ہندو ملک میں تبدیل میں مصروف، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (پی پی آئی) کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا ہے کہ بی جے پی اور سنگھ کنبہ فسطائی طاقتیں ہیں اور وہ قوم اور قوم پرستی کو ہندو ملک میں تبدیل کرنے میں مصروف ہیں اس لئے ان کے خلاف پارٹی کی جدوجہد جاری رہے گی۔
    انہوں نے کہا کہ بھارت ایک بحران سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ انتخابات میں بائیں بازوکی ترقی پسند طاقتوں کو شکست ہوئی ہے لیکن ملک میں ابھی بھی لوگوں کو اس پر اعتماد ہے اور عوامی تحریکوں میں اس پارٹی کا اثر ہے۔
    دوسری طرف پارٹی کے سینئر لیڈر اتل کمار انجن نے اعلان کیا کہ اترپردیش کے سون بھدر میں دس قبائلیوں کے فائرنگ میں مارے جانے کے واقعہ کے خلاف 25جولائی سے ضلعی سطح پر دھرنا و مظاہرہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اب تک وزیراعلی اور وزیراعظم اس معاملہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔